بیسویں صدی کے نصف اول میں ہی جبکہ مختصر افسانے کے نین و نقش ابھر رہے تھے اور مختصر افسانہ رومانی حکایات اور خواب آگیں فضا کے سایے میں اپنی صنفی پہچان قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ترقی پسند تحریک نے اسے حقیقت پسندی اور سماجی صداقت نگاری کے اثر انگیز لطف سے آشنا کرایا۔ یہ زمانہ عالمی سطح پر تغیر و تبدل کا تھا۔زندگی تلخ حقائق سے روبرو ہو رہی تھی۔لہٰذا ترقی پسند تحریک کے زیر اثر ادب میں در آنے والی حقیقت نگاری کو قاری کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔افسانے کی سطح پر بات کی جائے تو بے شمار افسانے اس عہد کی یادگار اور ارتقائے تاریخ کا اہم حصہ بنے۔لیکن ہر تحریک و رجحان کی طرح یہاں بھی افراط و تفریط نے جگہ بنا لی۔رفتہ رفتہ مختصر افسانے میں خارجیت پسندی کا تناسب بڑھتا گیا اور افسانہ سپاٹ بیانیہ کی شکل میں مختلف افکار و نظریات کا پروپیگنڈہ بن کر رہ گیا۔آزادی کے حصول اور اس کے حوصلہ شکن نتائج نے فرد کو داخلیت پسند بنا دیا تھا۔ہر زمانے کا ادب اپنے عہد کا آئینہ دار ہوتا ہے۔لہٰذا سیدھی سادی حقیقت نگاری اور سپاٹ بیانیہ کو یکسر رد کرتے ہوئے ادیبوں کی نئی نسل نے کہا نی کو جدیدیت اور تجریدیت کے ذائقے سے روشناس کرایا۔مختصر افسانے میں موضوعاتی،ہیئتی،اسلوبیاتی اور تکنیکی سطح پر گوناگوں تجربات ہونے لگے۔اشاروں،کنایوں،استعاروں اور علامتوں کے وسیلے سے کہانی بیان کرنا افسانوی فن کا منتہا ٹھہرا۔لیکن نت نئے تجربات نے رفتہ رفتہ افسانے سے کہانی پن کو ہی ختم کردیا اور بے چہرگی کرداروں کا وصف قرار پایا۔ افسانہ محض کنایوں اور علامتوں کا پشتارہ بن کر رہ گیاجن کی گرہ کشائی میں قاری کو پسینے آنے لگے اور کہانی لطف اندوزی کا ذریعہ نہ رہ کر ذہنی ورزش کا استعارہ بن گئی۔نتیجتاً ادب اور قاری کے درمیان ترسیل کی ناکامی کا المیہ پیدا ہو گیا۔
1970 کا وہ عہد،جب ترقی پسندی اور جدیدیت دونوں اپنے وجود کی بقا کی جنگ پر آمادہ تھیں،شوکت حیات نے
’باشعور طریقے سے افسانے کی تاریخ کے تسلسل میں رہتے ہوئے تخلیقی سطح پر لکھنا شروع کیا۔‘شوکت حیات نے ترقی پسندوں کی کھردری خارجیت اور جدیدیوں کی شدید داخلیت کے بین بین ایک نئی،متوازن اور صحت مند راہ اپنائی۔انہوں نے سپاٹ بیانیہ سے بھی پرہیز کیااور کہانی میں کہانی پن کے بنیادی عنصر کی بھی باز یافت کی۔انہیں اس حقیقت کا بھی ادراک تھا کہ علم و آگہی نے انسانی ذہن کو زیادہ حساس،باریک بیں،فعال اور زر خیز بنا دیا ہے۔معاشرتی مسابقت، افراط زر،سیاسی ہتھکنڈوں،مذہبی و تہذیبی رشتوں،قومی و بین ا لا قوامی تبدیلیوں نے انسان اور انسانی رشتوں کو بیش از پیش متاثر کیا ہے۔ایک مکمل مشینی نظام ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کوظاہری و باطنی طور پر ہر لحظہ متاثر کر رہا ہے۔آج مسائل کی نوعیت پہلے سے زیادہ گنجلک ہو چکی ہے۔ایسی صورت حال میں آج کا قاری نہ تو سیدھی سادی حقیقت بیانی سے لطف اندوز ہو سکتا ہے اور نہ ہی پُر پیچ علائم و ابہام سے کیف کشید کر سکتا ہے۔لہٰذا،شوکت حیات نے زندگی اور اس کے نشیب و فرازکو سادہ اور عام فہم انداز میں پیش کیا۔یہ الگ سی بات ہے کہ ان کے یہاں معانی کی پرتیں اکہری نہیں ہیں بلکہ ان کے افسانوں میں ذوق قصہ گوئی کی تسکین کے ساتھ ساتھ اہلِ بصیرت اور صاحب شعور کے لئے دعوت غور و فکر کا ایک بسیط جہان بھی آباد ملتا ہے۔شوکت حیات نے شعوری طور پر اپنے افسانوی پیشکش میں اس امر کا ہر لحظہ خیال رکھا کہ ان کے افسانے اور قاری کے درمیان ترسیل کا رشتہ قائم رہے۔انہوں نے اپنے افسانوں میں قاری کو اپنے مسائل،اپنی فکر،اپنی خوشیوں، اپنی ترجیحات،اپنی الجھنوں،اپنا خوف،اپنے اندیشوں سے قدرے واضح،قدرے مبہم انداز میں روبرو کرایا۔انہوں نے زندگی سے فرار یا گریز کی راہ اختیار کرنے کی بجائے زندگی سے متصادم ہونے کو مقدم جانا اور عرفان ذات کی ابدی جستجو کو اپنے نقطۂ نظر سے پیش کیا۔
شوکت حیات نے انسان کے باطن کی بیکرانی کو دراصل اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔انسان کا اندرونی اضطراب
……خواہ وہ رشتوں کی شکستگی کی وجہ سے ہو یامحبتوں کی صارفیت کی وجہ سے،سیاسی اتھل پتھل کی وجہ سے ہو یا معاشرتی کشاکش کی وجہ سے،اجتماعی نظام اس کا سبب ہو یاانفرادی گھٹن اس کی وجہ……مختلف اور متنوع اسباب یا حالات کی وجہ سے انسان کا اندرون جن کیفیات کا اسیر ہوتا ہے،ان کیفیات کو متشکل کرناشوکت حیات کا امتیازی وصف ہے۔ان کی ابتدائی کہانیوں میں عصری علامتی رنگ گہرا رہا،لیکن رفتہ رفتہ انہوں نے اپنی الگ راہ خود متعین کر لی۔بقول وارث علوی:
”شوکت حیات ان جیالے لوگوں میں سے ہیں جو نہ تو کسی نقادکی توجہ کی پرواہ کرتے ہیں نہ
دوسروں کی بخشی ہوئی بیساکھیوں پر راہ ادب طئے کرتے ہیں۔وہ اپنا راستہ خود بناتے ہیں اور
اپنے اظہار و بیان کے طریقے آپ ہی ایجاد کرتے ہیں۔“
اپنے فکری و فنی روئیے کے متعلق خود شوکت حیات رقمطراز ہیں:
”میرے افسانے اس تناظر میں دیکھیں جائیں کہ یہ وہ نئے جدید اور مابعد جدید افسانے ہیں جودراصل نامیاتی اور امکانی ہیں اور انامیت،نامیاتیت اور امکانیت پسندی کے سرمدی اوصاف سے مملو ہیں۔ان افسانوں میں آج کے عہد اور آج کے انسان،اس کے مسائل کو نئے ڈھنگ،لہجے،تکنیک،ٹریٹمنٹ،موضوع،فکری بصیرت اور تیور کے ساتھ دریافت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔“
یہ واقعہ ہے کہ شوکت حیات کے افسانوں کا فکری محور انسان ہے۔وہ فرد کے داخلی اور خارجی بحران کا مطالعہ اس کے سماجی منسلکات کے ساتھ کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے بعض کرداروں کے توسط سے سماج کے کھوکھلے نظام اور دوغلے رویوں کے خلاف پرزور آواز احتجاج بلندکی ہے۔اخلاقی و جذباتی بحران،سماجی و سیاسی ظلم و جبر،مسابقتی عہد میں زندگی کی بے مقصدیت اوربے معنویت،عالمی دہشت گردی کے نتیجے میں پنپنے والی بے یقینی اور بے نام خوف،طبقاتی استحصال کے منطقی نتائج وغیرہ کو انہوں اپنے افسانوں کے وسیلے سے پیش کیا ہے اور ان تمام مراحل میں تخلیقی ضبط کے دامن کو خوش اسلوبی سے تھامے رکھنا ہی ان کا فنی امتیاز ہے۔شوکت حیات کی فکری اور فنی رچاؤ کے متعلق وہاب اشرفی کا یہ خیال درست ہے:
”وہ پختہ ذہن فنکار کی طرح آہستہ آہستہ اپنے ذہن کی تصویر کو مکمل کرتے ہیں اور اس کی تکمیل میں مناسب رنگ بھرتے ہیں جو ہر طرح متوازن بھی ہوتا ہے…..اب جو تصویر سامنے آتی ہے وہ حقیقت واقعہ کا عکس محض نہیں ہوتی بلکہ اس کے اندر ایک ایسی تخلیقی جوت ہوتی ہے جو اس کی شدت کو سر تا سر بڑھا دیتی ہے….ایک انقلابی ذہن میں کیسی کیسی تخلیقی روشنی پیدا ہو سکتی ہے۔اس کا ایک مکمل منظر نامہ شوکت حیات کے افسانے ہیں۔اردو افسانے کی مجموعی تاریخ میں ان کی جگہ معتبربھی ہے اور محفوظ بھی۔“
شوکت حیات نے 70 کی دہائی سے افسانہ نگاری کی ابتدا کی اور اب تک سو سے زائد افسانے معتبر و مؤقر رسائل وجرائد میں شائع ہو چکے ہیں،لیکن ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ”گنبد کے کبوتر“2010 میں منظر عام پر آیا۔تقریباً چالیس سالہ افسانوی سفر کے دوران مجموعہ شائع نہ کرانے کا سبب خواہ جو بھی ہو لیکن ابرار رحمانی کے لفظوں میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگاکہ…کتاب گردی کے اس دور میں بھی شوکت حیات کا اس طرف دھیان نہ دینا ان کے جینوئن فنکار ہونے پر دال ہے۔ ’گنبد کے کبوتر‘ ان کی پچیس کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ان کہانیوں میں سے بہترین،اوسط یا کمزور کہانیوں کی درجہ بندی مشکل ہے،کیونکہ ہر افسانہ زندگی کے نئے افق، معاشرے کے نئے پہلو کو پیش کر رہا ہے۔کوئی افسانہ کردار کا افسانہ ہے تو کوئی واقعات کا،کوئی احساس کے پیچ و خم کھول رہا ہے تو کوئی تاریخی لمحے کی خطا کو گرفت میں لے رہا ہے،کہیں عشق کا ترفع ہے تو کہیں دبی کچلی نفرت کا ترشح۔ہر افسانے کی قرأت ایک جہان دگر کی سیر کراتی ہے۔
اس مجموعے کا پہلا افسانہ ’کوبڑ‘ ہے۔کوبڑ علامت ہے مجبوری،بے کسی،بد صورتی،کم مائیگی اور بے چارگی کی۔افسانے کے مرکزی کردار واحد غائب کو بغیر رزرویشن کے بذریعہ ٹرین دلی جانا پڑتا ہے تاکہ اگلے دن جب اس کا چھوٹا بھائی بذریعہ ہوائی جہاز دلی پہنچ جائے،تو اسے وہ امریکہ کے لئے سی آف کر سکے۔ایر پورٹ پہنچنے تک اس کی جیب بھی کٹ چکی ہے اوروہ اپنی واحد قیمتی چیزگھڑی بھی لٹا چکا ہے۔ اس کابھائی اپنے امریکن دوستوں کے لئے ہزاروں کے تحائف خریدتا ہے اور اس کے پاس دلی سے پٹنہ واپسی کا کرایہ تک نہیں ہے۔یہ افسانہ دراصل کردار پر مبنی افسانہ ہے۔چھوٹے موٹے واقعات اور سیدھے سادے مکالمات کے ذریعے مرکزی کردار کی شخصیت اور نفسیات کو اجاگر کیا گیا ہے۔کردار نگاری کے توسط سے ہی کردار کی زندگی،اس کے حالات اور کہانی کا پس منظر واضح ہوا ہے۔
(۱)وہ محنت کش،ذمہ دار اور با مروت ہے۔شادی کے ہنگاموں میں اسے سونے تک کی مہلت نہیں ہے۔گھر کے تمام افراد کو ایرپورٹ پہنچانے کا اہتمام کرنا ہے۔لیکن اماں کے اچانک دلی جانے کے حکم پر بھاگم بھاگ اسٹیشن پہنچنا پڑتا ہے،ورنہ ذرا سی تاخیر سے ٹرین چھوٹ جاتی۔
(۲)وہ کمزور صحت کا ناتواں شخص ہے۔وہ حالات سے مزاحمت کرنے کی قوت سے محروم ہے لیکن اس نے اپنی کمزوری کو ہی اپنی طاقت بنا لیا ہے۔یہ الگ سی بات ہے کہ خود کو بے جان اشیاء میں تبدیل کرنے کے جاں گسل مرحلے سے گذرنا ا س کی ذہنی توانائی کا ہی مظہر ہے۔
(۳)بھائی امریکہ میں لاکھوں کماتا ہو لیکن اس کی اپنی آمدنی اور حیثیت نے اس کی خودداری کو مجروح نہیں کیا،البتہ اس کی جانفشانی اور قوت برداشت میں اضافہ کیا ہے۔وہ ٹرین کے ایک کونے میں دبک کر دلی تک کا طویل سفر طے کر سکتا ہے۔
(۴)وہ شریف اور خوددار ہے۔اس لئے تمام اثاثوں کے لٹ جانے کے باوجود اس کی حمیت یہ گوارا نہیں کرتی کہ بظاہر معمولی سی ضرورت کے لئے بھائی کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔
اس کہانی کے ٹریٹمنٹ میں افسانہ نگار کا کمال یہ ہے کہ کہانی کی واقعہ نگاری میں بغیر لفظوں کو خرچ کئے ہوئے قاری کے سامنے حالات و واقعات کی پوری تفصیل منتقل ہو جاتی ہے۔والد کے انتقال کے بعد بڑا بھائی مزدوری و محنت کشی کے ذریعے اپنی اور اپنے خاندان کی گاڑی کھینچتا ہے۔زندگی نے اسے کبھی بھی خود کے متعلق سوچنے یا کوئی رنگین خواب دیکھنے کا موقع نہیں دیا۔ محنت کشی نے پیٹھ پر کوبڑ نکال دیا اور حالات کی دھکا مکی نے اسے گٹھری میں تبدیل کر دیا۔عورتوں کے شباب آور جسم سے لطف اندوزی کی بجائے کچلے جانے کا خوف اس کے ذہن میں جا گزیں ہے۔چھوٹا بھائی بہت ہشیار اور دنیا دار ہے۔اپنی ہشیاری کی بدولت امریکہ پہنچ چکا ہے۔لیکن بڑے بھائی اور ماں کی زندگی اب بھی کرائے کے ٹوٹے پھوٹے گھر میں بسر ہو رہی ہے۔چھوٹے بھائی کو اپنی شادی اور اپنی اولاد کی فکر ہے۔اسے بھائی کی عمر بھر کی د وڑ دھوپ اور جدوجہد نظر نہیں آتی،صرف اس کی غیر متاثر کن شخصیت دکھائی دیتی ہے۔اس کی پیٹھ کا خبیث کوبڑ دکھائی دیتا ہے،جسے اب مزید بڑھ جانا ہے کیونکہ بڑے بھائی کو ابھی بے رحم زندگی کے راستے پر سفر کا پہاڑ ڈھونا ہے اور اس کے پاس حتٰی کہ دہلی سے واپسی کا ٹرین کا کرایہ بھی نہیں ہے۔
یہ کہانی رشتوں کی ایثار پسندی اور خود غرضی دونوں کو پیش کرتی ہے۔اس کہانی میں شوکت حیات نے نہایت دل سوزی اور دردمندانہ لا تعلقی سے کرداروں کے نین و نقش ابھارنے کی کوشش کی ہے،کچھ اس طرح کہ قاری تمام اَن کہے حالات و واقعات سے خود روبرو ہوتا ہے۔روبرو ہونے کا یہ خود ساختہ عمل ہی کہانی کی اثر انگیزی کو شدید کرتا ہے۔یہاں پر میں جوگندر پال کے اس خیال سے متفق ہوں:
”شوکت حیات کی واضح تر خوبی بھی اس امر میں مضمر ہے کہ اس کی کہانی بھی اپنے پاؤں
خود آپ چل چل کے عین اختتامیہ پر آ پہنچتی ہے۔مانو کہانی نے اپنے آپ کو عین بہ عین
پورا کر دیا ہو، اب جو کہنا سننا ہے قاری آپ ہی سمجھ سمجھا لے۔“
’گھونسلہ‘بے نشان منزل کا المیہ ہے۔ایک گم کردہ منزل کی باطنی کیفیات کا بیان ہے۔عرصۂ دراز کے بعد صعوبتوں بھرے سفر سے نجات حاصل کرکے اپنے گھونسلے کے قریب پہنچ کر نامراد رہنے والے پرندے کی داستان ہے۔درپردہ یہ جدید صنعتی تہذیب اور قدیم روایتی تہذیب کے تصادم کا افسانہ ہے جس میں بالآخر روایتی تہذیب کی شکست اور جدید تہذیب کی فتح ہوتی ہے۔لیکن یہاں پر المیہ یہ ہے کہ جدید تہذیب اپنے جلو میں مردنی،بے حسی،بے سمتی اور لا تعلقی کے عذاب بھی لے کر آئی ہے۔ اس افسانے کو کیفیات اور ان کے اثرات پر مبنی افسانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔شوکت حیات کے زیادہ تر افسانوں میں ایک قدر مشترک یہ نظر آتی ہے کہ ان کے یہاں واقعات کی ترسیل کے لئے تسلسل آمیز بیانیہ شرط نہیں ہے بلکہ مختلف مناظر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بنٹے ہوئے نظر آتے ہیں،مختلف استعاروں اور کنایوں کے حوالے سے مختصر اور بظاہر غیر متعلق تبصرے ملتے ہیں لیکن کہانی کے اختتام پر یہ تمام اشیاء مربوط ہو کر قاری کو حالات و واقعات کی تفہیم کی منزل تک پہنچا دیتی ہیں اور معانی کی تمام پرتیں روشن ہو جاتی ہیں۔ اس کہانی میں بھی یہی ٹریٹمنٹ نظر آتا ہے۔
’میت‘ مقابلے اور مسابقت کی دوڑ میں شامل آدمی کی خود غرضی اور خود نمائی کی کہانی ہے۔آج کا وہ انسان، جو اچیومنٹ کے لئے کسی حد تک جا سکتا ہے اور جس کے لئے موت کا واقعہ بھی ایک ’موقع‘ کی حیثیت رکھتا ہے، اس کہانی کا کردار ہے۔
’گنبد کے کبوتر‘ کا شمار شوکت حیات کے نمائندہ افسانوں میں ہی نہیں بلکہ اردو کے بہترین افسانوں میں ہوتا ہے۔بابری مسجد انہدام کے پس منظر میں بہت سے افسانے لکھے گئے لیکن جو اثر انگیزی اور اس کے نتیجے میں جو مقبولیت ’گنبد کے کبوتر‘ کو حاصل ہوئی وہ اور کسی کے حصے میں نہیں آئی۔ واقعات تو جو بھی ہیں،سب کے سامنے ہیں لیکن شوکت حیات نے اپنے ٹریٹمنٹ، جاندار کرداروں،با معنی محاوروں اور یاس انگیز فضا آفرینی کے ذریعے اس کہانی کو ایک یادگار مرقع بنا دیا ہے۔ ’گنبد کے کبوتر‘ کے سلسلے میں ادیبوں اور ناقدوں کی یہ مشترکہ رائے ہے کہ بابری مسجد سانحے پر اردو ادب میں اور کچھ بھی نہ لکھا جائے تو اکیلی یہ کہانی کافی ہے۔بابری مسجد انہدام کے پس منظر میں اس افسانے کے عنوان کی معنویت پروارث علوی لکھتے ہیں:
”گنبد جب تک تھا،علامت تھا ہماری تاریخ تہذیب اورمذہب کی۔اب نہیں رہا تو ایسا روحانی خلا پیدا ہو چکا ہے جس کی ماہیت کا بھی ہمیں شعور نہیں۔اس خلا میں ان کبوتروں کے پروں کی پھرپھڑاہٹ کی آواز گونجتی ہے جو گنبد کے نہ ہونے سے بے سہارا ہو گئے ہیں۔کبوتروں سے قطع نظر آدمی کا بے سہارا پن ایسے دور دراز اندیشوں کو جنم دیتا ہے کہ وقت کے بہاؤ میں اس کی شکستہ کشتی کو کوئی کنارہ مل سکے گا یانہیں۔یا پھر یہ ہولناک انجام کا آغاز ہے۔“
اقلیتی طبقے کا یہی احساس بے یقینی اور حالات کے نئے آغاز کا اندیشہ پورے افسانے میں روح کی طرح جاری و ساری ہے۔بات صرف ایک گنبد کے ٹوٹ جانے کی نہیں ہے بلکہ مشترکہ تہذیب کی عمارت میں دراڑ پڑی ہے۔بھائی چارے اور مذہبی رواداری کے خاتمے کا نقطۂ آغاز ہے۔وہ جو ایک بے نام اندیشہ بابری مسجد کے انہدام کی شروعا ت کے ساتھ اقلیتی طبقے کے شعور میں جاگزیں ہوا،وہ آج بیش از پیش قوی تر ہوتا جا رہا ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار واحد متکلم استعارہ ہے اقلیتی طبقے کا۔
معاشرے کا سب سے زیادہ قناعت پسند اور امن پسند حصہ۔یہ قناعت پسندی اس کی جبلت بھی ہے اور اس کی مجبوری بھی،کہ جو مٹھی بھر راحت اس کے حصے میں آئی ہے اسی پر قناعت کر امن و سکون کی زندگی جیے جانا ہے۔’بالکونی‘ استعارہ ہے آزادی کے اس احساس کا جس میں پھولوں کی تازگی و شادابی اور چڑیوں کی چہچہاہٹیں ہیں۔واحد متکلم کا اپنی بالکونی،اپنے پودوں اور گملوں کے تحفظ کے لئے بے چین ہونا اپنی آزادی کی بقا کے لئے بے چین ہونا ہے۔ایک طبقے کے لئے گنبد تحفظ اور بقا کی علامت ہے تو دوسرے طبقے کے لئے لذت کشید کرنے کی۔گنبد کی مسماری کے نتیجے میں بے ٹھکانہ کبوتروں کا غول دراصل اقلیتی طبقے کا وہ کمزور کردار ہے،جو بے امانی جھیل رہا ہے اور جس کی آنکھوں میں اترتا خون،بے چارگی اور کچھ کر گذرنے کی تڑپتی آرزو نظر آرہی ہے۔اپارٹمنٹ میں نظر آنے والاسانپ مذہبی شدت پسندوں کی زہر ناکیوں کی علامت ہے۔واحد متکلم کو سانپ کے ڈسے جانے کا خوف نہیں ہے بلکہ اسے اندیشہ ہے کہ گلہری اور چڑیوں کا جھنڈ یعنی احساس آزادی نہ متوحش ہو جائے۔رنگ برنگے پھولوں، گملوں،گلہری اور گوریوں سے جو تہذیبی کولاژ بنتا ہے،اس پر نہ سیاہ بادل منڈلانے لگیں۔بے آسرا ہونے کا احساس،اس پر مستزاد پڑوسی کے دلاسے….ایک عجیب جذباتی شکستگی سے دوچار کرتے ہیں۔
”تم ینگ مین….پازیٹو ہو کر سوچوتو ہر جگہ ٹھکانہ ہی ٹھکانہ ہے….گنبد،پہاڑوں کی سفاک چوٹیاں، پتھریلے غار اور گھنے جنگل کے درختوں کی ڈالیاں……موسموں کے سرد و گرم جھیلنے کے لئے تیار رہو ……یار…..یار،اپنی کھال تھوڑی کھری کھری بناؤ۔“ (یہ بھی پڑھیں سازِ بوالعجبی کا تارِ حیات – (شوکت حیات کا خاکہ) – پروفیسر غضنفر )
پوری کہانی میں خارجی و باطنی دونوں سطح پر تناؤ کی کیفیت ہے جسے علامتوں کے توسط سے واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مسٹر تھامسن کے کچن میں کبوتر کا گھس آنا،بلّی کا جھپٹنا،بوڑھے ہاتھوں کی سنسناہٹ دور کرنے کے لئے کبوتر کا خون کرنا، بالکونی کا منتشر حال ز ار پھولوں و گملوں کی بربادی،پرندوں کی موت،بچوں کا سانپ سے کھیلنے کا خطرناک عمل اور ان کا زہریلا پن گویا کہانی کا ہر منظر علامتی پیرائے میں وسیع پس منظر رکھتا ہے۔آغاز سے انجام تک یہ کہانی علامتی رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے لیکن معانی کی تفہیم و ترسیل میں کوئی ابہام اور پیچیدگی نہیں ہے۔اس افسانے کا شمارشوکت حیات کے ان افسانوں میں کیا جا سکتا ہے جن کا حسن اور معنویت اجاگر کرنے کے لئے بقول وارث علوی جز رس مطالعے اور تجزیے کی ضرورت ہے۔یہ افسانہ ختم ہوکر بھی ختم نہیں ہوتا اور قاری کا ذہن یاس انگیز تاثر میں ڈوبا انگنت سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے کی سعی کرتا رہتا ہے۔بلا شبہ،یہ افسانہ تہذیبی تاریخ کے ایک المناک عہد کا شناخت نامہ ہے۔
’اپنا گوشت‘ ایک مختصراورسیدھی سادی کہانی ہے۔یہ رشتوں کی ٹوٹتی قدروں او ر پامال اخلاقی قدروں کی کہانی ہے۔اس کہانی کے مرکزی کردار بڑے ابو والد کی موت کے بعد بھائی بہنوں کی ذمہ داریوں کو ادا کرتے کرتے اپنی بڑھتی عمر اور اس کے تقاضوں سے بے نیاز ہو کر بڑھاپے کی سرحد میں داخل ہو جاتے ہیں۔ان کی شادی نہ ہونے کو جواز بنا کر ان کی جائداد بھی دیگر بھائی بہن آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں۔اب وہ گھر والوں کے لئے ایک عضو معطل ہیں جن سے گھر کا ماحول بگڑنے کا اندیشہ انہیں ستانے لگتا ہے۔ شکستہ جذبات لئے ہوئے وہ گھر چھوڑ جاتے ہیں اور انجام کار،انتہائی کسمپرسی کی حالت میں دنیا بھی چھوڑ جاتے ہیں لیکن گھر کے معمولات میں انکی موت کی خبر کوئی رخنہ نہیں ڈالتی۔دنیاوی آسائشات کو ترجیح دینے والے خود غرض رشتوں کی یہ کہانی معاشرے کی بے حسی پر ایک تازیانہ محسوس ہوتی ہے۔
’رانی باغ‘ شوکت حیات کے ایک مختلف انداز تحریر کا شاہکار ہے۔یہ وسیع کینوس میں لکھا گیا ایک زبردست رومانی افسانہ ہے جس میں محبت آب حیات کی صورت نظر آئی ہے۔کہانی کی ابتدا خاک اور خمیر کی نسبت کے نکتے سے ہوتی ہے اور ایک وسیع پس منظر کی تخلیق کرتی ہوئی ذہن کو مبہوت کرتی جاتی ہے۔رحمت صاحب مہلک مرض میں مبتلا ہونے کے بعداپنے بیٹوں سے وطن لوٹنے کی ضد کرتے ہیں تاکہ خاک اپنے خمیر کے پاس پہنچ جائے۔دراصل اس ضدکے پس پشت عنفوان شباب کی ایک گم صم سی تمنا ہلکورے لے رہی تھی۔لڑکپن اور جوانی کی سرحدوں والی عمر میں آزاد باغ میں کھیل کے دوران رانیؔ کے نسائی لمس نے دونوں کو نئے اور انوکھے احساسات و کیفیات سے آشنا ہی نہیں کرایا بلکہ شام کی پراسراریت نے جذبوں کی ساری مسافت طے کرادی تھی۔ رحمت صاحب ساری عمر انہیں لمحات کے اسیر رہے اور زندگی کی تمام شکستگیوں میں انہوں نے یادوں کے اسی گہوارے میں جا کر سکون حاصل کیا۔اپنے گاؤں واپس آنے پر ان کی ملاقات رانی سے ہوتی ہے جو اب ودھوا ہو چکی ہے۔ رانی سے ملنے پر انکشاف ہوتا ہے کہ انہیں جاں گسل لمحات نے اس کے قلب پر بھی عشق کی وحی نازل کی تھی اور اس کی عمر بھی اب تک اسی پراسرار شام میں جھاڑیوں تلے ٹھٹھک کر رہ گئی ہے۔پیار کے دونوں البیلے پنچھی باغ میں جاکر لمحہئ گذراں پر یادوں کا پانی چھڑک کر جذبوں کی تازہ کاری کا عمل انجام دیتے ہیں۔باغ میں پوشیدہ انقلابی گروہ کو اس بوڑھے جوڑے کی دلچسپ اور دلربا ادائیں متاثر کرتی ہیں اور وہ ان کی پذیرائی کرتے ہیں۔رحمت صاحب انقلابی سرگرمیوں میں اپنی جانب سے ایندھن کا حصہ ڈالنے کے لئے اپنی جائداد گروہ کو سونپ دیتے ہیں۔رحمت صاحب اور رانی کی رفاقتوں کے درمیان اب کوئی رکاوٹ نہیں تھی اور وہ دونوں البیلے پنچھی بن کر ایک دوسرے کے لئے سکون کا گہوارہ بنے ہوئے تھے۔
اس افسانے میں افسانہ نگار نے رومان کے الوہی کیف کو احساسات کی تمام گہرائی کے ساتھ پیش کیا ہے اور اس حقیقت کا ادراک کرایا ہے کہ عشق ماوریٰ ہے تمام حد بندیوں سے….خواہ وہ مذہب اور ذات پات کی ہوں یا عمر کی۔شوکت حیات نے قاری کونئے اسرار و رموز سے آشنا کرایا ہے کہ عشق عہد شباب کا مرہون منت نہیں بلکہ خود شباب آور ہے، لمس اگر عشق کا زائیدہ ہوتو ذہنوں میں تقدس جگاتا ہے اورنوجوانی کے عشق میں اگر بلا خیزی ہوتی ہے، توڈھلتی عمر میں عشق رگ و پے میں پیوست ہو کرسانس کی سرگم میں شامل ہو جاتا ہے۔’رانی باغ‘کی پوری افسانوی فضا عشق کی شعلگی کی تاثیر سے جگمگا رہی ہے۔اس افسانے میں شوکت حیات کے فنکارانہ برتاؤ کا کمال یہ ہے کہ قاری کی روح بھی بالیدگی کی اسی منزل پر پہنچ جاتی ہے،جہاں ان اسیرانِ عشق کے لمس کا ارتعاش محسوس کر سکے۔
’مادھو‘ پریم چند کے افسانے ’کفن‘ کا سیکوئل ہے۔کفن کی کہانی جہاں ختم ہوتی ہے،وہی مادھو کا نقطۂ آغاز ہے۔پریم چند نے اپنے افسانے میں گھیسو،مادھو اور بدھیا کی کہانی کو حقیقت نگاری کی سطح پر پیش کیا تھا لیکن شوکت حیات نے ان کرداروں کے باطن کا سفر کیا ہے،ان کے عمل و فعل کا تحلیل و تجزیہ کیا ہے اور معانی کی زیریں پرتوں کو اجاگر کیا ہے۔جاگیردارانہ ماحول کے پروردہ مادھو اور آج کے مادھو کے شخصی امتیاز کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ابتدا سے ہی پریم چند کے رنگ میں تحریر کی جانے والی یہ کہانی
اچانک انجام کے قریب پہنچ کر قاری کو ایک نئے تناظر میں کہانی کی قرأت کے لئے مجبور کر دیتی ہے…..دراصل یہی شوکت حیات کا فن ہے۔مادھو کو انہوں نے صدیوں سے دبے کچلے طبقے کے فرد کی علامت کے طور پرپیش کیا ہے جو معاشرے کے تسلیم شدہ نظام اور اس کے آلہ کاروں کو اپنے ہی جیسے ایک مظلوم کردار جلیل نداف کی مدد سے شکست یاب کرتا ہے۔کتوں کے بھونکنے کی آواز، نگاڑوں کی آوازیں،مغرب کی اذان کی آواز،مادھو کی پر اسرار مسکراہٹ اور اس کا جنگل کی طرف کوچ کر جانا…..یہ ساری غیر مربوط تصویریں قاری کی سوچ کو گذشتہ دہائیوں کی سیاسی،سماجی،معاشی اور تہذیبی تبدیلیوں کی جانب منتقل کر دیتی ہے۔
’مرشد‘میں افسانہ نگار نے نہایت دلکش پیرایے میں انسانی نفسیات کا تجزیہ پیش کیا ہے اور اس نکتے کی اثر انگیزی کو تصویر کیا ہے کہ زندگی پر موت کی پرچھائیں بے داغ زندگی کی ضامن بن جاتی ہے۔افسانہ دراصل اشاریت کا فن ہے۔ اس لئے افسانے میں جتنی باتیں کہہ دی جاتی،اس سے زیادہ معانی ان کہی کے ذریعے واضح ہوتی ہیں۔مذکورہ افسانے میں سوالی کے ذریعے اٹھانے والے سوال کی بہ نسبت مرشد کی کیفیات اور تاثرات زیادہ معنی خیز ہیں جنہیں ابھار کر شوکت حیات نے اپنی بے پناہ خلاقانہ صلاحیت کا ثبوت دیا ہے۔ مرشد سے سوالی کا یہ سوال…..”اپنی بے داغ اور پاک و صاف زندگی کا راز بتانے کی مہربانی کریں“…….مرشد کے لئے ایک تازیانہ ثابت ہوتا ہے۔کیفیتوں کا ایک متلاطم دریا ان کے اندر مؤجزن ہو جاتا ہے، عرفان ذات کی منزل ان کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور ان کا باطن ان کے ظاہری بزرگانہ شان و شکوہ کو جھنجھوڑنے لگتا ہے۔ ماہیئت قلب کے لئے صدیاں درکار نہیں ہوتیں…..ایک لمحہ، ایک اشارہ،ندامت کا ایک آنسو وجود کے باطنی تعفن کو دھو ڈالتا ہے۔مرشد سوالی سے جواب کے لئے مہلت طلب کرتے ہیں۔ ایک خاطر خواہ مدت کے بعد مرشد رحمت خداوندی کے طفیل خود کو جواب دینے کے لائق سمجھتے ہوئے سوالی کو تشفی بخش جواب دے دیتے ہیں۔ جواب سوالی کی سمجھ میں آ جاتا ہے لیکن مرشد کے آبدیدہ ہونے کا سبب وہ سمجھ نہیں پاتا۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ ستارا لعیوب کے شکرانے کا اظہار بے اختیار امڈ آنے والے آنسوؤں کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ شوکت حیات کے اسی فکری و فنی روئیے کے پیش نظر شمس الرحمٰن فاروقی کہتے ہیں:
”دوسری باتوں کے علاوہ ان کے یہاں جو خاص بات مجھے نظر آئی ہے وہ یہ کہ ان کی کہانیاں صرف سماجی شعور کا ہی پتہ نہیں دیتیں بلکہ ان کے یہاں ’سماجی ضمیر‘کو پوری گہرائی کے ساتھ گرفت میں لینے کا رجحان بھی ملتا ہے۔“
’سانپوں سے نہ ڈرنے والا بچہ‘ فرقہ وارانہ فسادات کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ہے۔ مرکزی کردار عبد ا لمنان مزدور طبقے کا ایک فرد ہے جو ہمہ وقت انقلاب کی باتیں کرتا ہے۔سوویت یونین کے انہدام نے بھی اس کی انقلابی توانائی کو متاثر نہیں کیا ہے لیکن اس کی معاشی مجبوریاں اور اس کی گھریلو ذمہ داریاں اسے اضطراب میں مبتلا کرنے لگتی ہیں۔اس کے بیوی بچے دوسرے شہر میں رہتے ہیں۔اس کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے اس کا دوست کہانی کا راوی اس کے لئے قرض کا بندوبست کرا دیتا ہے۔ قرض کی فراہمی کے بعد یوں لگتا ہے کہ اس کے سارے دکھ دور ہو گئے۔وہ اپنی فیملی کے لئے تحائف خریدتا ہے اور دوست کے ساتھ ہوٹل میں بہترین کھانا کھاتا ہے۔رزرویشن کرانے اور چھٹی کی درخواست دینے کے بعد وہ راوی کے ساتھ بوٹینیکل گارڈن جاتا ہے جہاں پہلے وہ کبھی بیوی بچوں کے ساتھ گیا تھا۔وہ قدم قدم پر بیوی بچوں کو یاد کرتا ہے۔وہ بتاتا ہے کہ وہ خود سانپوں سے ڈرتا ہے لیکن اس کے بچے سانپوں سے نہیں ڈرتے۔اس کے لئے یہ تصور اطمینان بخش ہے کہ مستقبل میں بچوں کے لئے سانپ مسئلہ نہیں رہیں گے۔گارڈن میں گھومنے کے دوران انہیں ایک سراسیمگی کی کیفیت محسوس ہوتی ہے اور گیٹ مین انہیں بتاتا ہے کہ شہر میں کشیدگی کی کیفیت ہے۔دونوں دوست کسی طرح اپنے علاقے میں پہنچ جاتے ہیں۔خوف و دہشت کا ایک نادیدہ احسا س
پو ری فضا پر حاوی تھا۔راوی کے نہ چاہنے کے باوجود عبد ا لمنان اپنے بیوی بچوں کے علاقے کی جانب روانہ ہو جاتا ہے،جہاں انسانی اجسام پھول گوبھیوں میں تبدیل کئے جا رہے تھے۔عبد ا لمنان سے راوی کی وہ آخری ملاقات تھی۔اس کے کانپتے ہاتھ اور خوف سے زرد چہرہ راوی کی یادداشت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
کہانی کا آخری حصہ شوکت حیات کے مخصوص فنی روئیے اوران کے تخیلی اڑان کا اصل مظہر ہے۔ راوی کو یہ یقین ہے کہ عبد المنان کا سانپوں سے نہ ڈرنے والا بچہ یقیناًزندہ بچ گیا ہوگا۔راوی کے چشم تصور میں وہ بچہ جوان ہوتا ہے۔اس کے ہاتھوں میں ہتھیار ہے اور دور کہیں دھماکوں کے درمیان اونچی اونچی بلڈنگوں کے زمین دوز ہونے کی آوازیں آ رہی ہیں۔فرقہ وارانہ فسادات میں جبر و استحصال کا شکار ہونے والی نسل ا ور میٹرو پولیٹن سیٹیز میں سیریل بم دھماکوں کے ربط کا یہ اشاریہ ہے۔ ایک امن پسند انسان کے لئے دونوں صورت حال تکلیف دہ اور اذیت ناک ہے۔ شوکت حیات نے تمام صورت حال کی اذیت کو نہایت فن کاری کے ساتھ تجسیم کیا ہے۔
’پاؤں‘شوکت حیات کی خالص علامتی کہانی ہے۔جب ذہنی اذیت حد سے تجاوز کر جائے اور روح پر بے شمار مسائل کا بوجھ پڑ جائے تو ایسی تمام اذیتوں کی یکدم نکاسی کے لئے علامتی پیرایہ زیادہ معاون ہوتا ہے۔یہی کام اس افسانے میں افسانہ نگار نے کیا ہے۔بے زمینی کا احساس، شناخت کا مسئلہ،بے حسی اور خود غرضی کا عفریت،طبقاتی تفریق کی اذیت، مسائل کا انبوہ، سرحد کی حد بندیاں،ہم وطنوں کی نفرتوں کا سیلاب غرضیکہ ذہنی کشاکش کی ایک طویل داستان ہے جس کا آغاز تقسیم ملک کے المناک سانحے سے ہوا اور آج تک اقلیتی فرقہ اس سے نبرد آزما ہے۔اپنی وفاداری اور جاں نثاری کے بے شمار ثبوت فراہم کرنے کے باوجود احتجاج کا ایک قابل رحم پیکر بن کر کھڑا ہے:
”…..یہ مٹی میری ہے اس لئے کہ اس کے تخم سے اگا ہوں۔
…..میں اب اور معلق نہیں رہ سکتا۔
…..کھڑا ہونے کے لئے مٹھی بھر زمین میرا ازلی حق ہے۔
پرکھوں نے جو کچھ کیا،شمشانون اور قبرستانوں میں جل سڑ رہا ہے۔ اگر اس مٹی سے مجھے دستبردار
ہونے کا اشارہ بھی کیا تو تم سب کے نرخرے چبا جاؤں گا….مجھے دکھاؤ وہ بے جان دستاویز….بتاؤ
اس پر کہیں میرا بھی دستخط ہے….اس دستاویز سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے……..میں صرف اس
مٹی کو جانتا ہوں جہاں سے مجھے کوئی نہیں ہٹا سکتا……..میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اس مٹی کی گود
میں میں نے جنم لیا اور یہ مٹی میری ماں ہے۔“
اس افسانے میں شوکت حیات نے لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں کے باطنی کرب کو کمال خوبی سے منعکس کیا ہے۔ برسوں سے فضا میں معلق پاؤں کے نیچے مٹی کے جانے پہچانے لیکن نا یافتہ لمس کو محسوس کرانے کی کوشش کی ہے۔
’ڈھلان پر رکے قدم‘اسطوری فضا میں بنی گئی ایک علامتی کہانی ہے۔انسان کی محدود سی حیات میں خواہشات کے لا محدود سلسلے ہیں۔ہر خواہش کی تکمیل ایک پہاڑ سر کرنے کے مساوی ہوتی ہے۔ہر پہاڑ سر کرنے کے بعد انسان امیدوں آرزوؤں کے نئے چراغ روشن کر لیتا ہے کہ شاید اب اس کے متحرک وجود کو سکون و سکوت کی راحت نصیب ہو۔زندگی کا سفر یونہی رواں دواں رہتا ہے۔راستے کی مشکلات قدم تھامتی ہیں،وجود کو دیدہ نا دیدہ زخم دیتی ہیں،لیکن امید…خوش رنگ امید اس کے دریدہ حوصلوں کو تازہ دم بھی کرتی رہتی ہے۔لیکن سکون و سکوت کی منزل اس کی جبلی بے اطمینانی کے باعث پھر سے متحرک ہونے کا جواز پیدا کر دیتی ہے۔
اس افسانے کی فلسفیانہ اور غیر مرئی تشریح کے متوازی و مساوی ایک ٹھوس اور زمینی تعبیر بھی سامنے آ سکتی ہے،اگر کہانی کے تمام مراحل کوتقسیم ملک اور ایک نئے خطے کی تشکیل سے جوڑ کر دیکھا جائے۔تقسیم ملک اور قیام پاکستان کے پس پشت یہی سراب آسا امید تھی کہ آزادانہ طرزِ حکومت میں سکون و راحت کی وہ منزل ملے گی جس کے خواب بینائی کے پردے پر نقش ہو چکے تھے۔لیکن ان جاں گسل مرحلوں کے جو حوصلہ شکن نتائج سامنے آئے،وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔اس افسانے کی فضا بندی نے فیضؔ کی نظم ”چلے چلو کہ منزل وہ ابھی نہیں آئی“ کو مجسم کر دیا ہے۔شوکت حیات کی تخلیقی توانائی کا مظہر،یہ افسانہ جدیدیت کے زائیدہ افسانوں میں ایک ممتاز مقام کا حامل ہے۔
’بھائی‘ فرقہ وارانہ فساد ات کے پس منظر میں لکھی گئی کہانی ہے جس میں انسانی نفسیات کا نہایت ماہرانہ اور فنکارانہ جائزہ لیا گیا ہے کہ کس طرح بگڑے ہوئے ماحول میں ایک انسان کا دوسرے انسان سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور ایک دوسرے کی کوئی بھی حرکت مشتبہ اور مشکوک نظر آتی ہے۔شوکت حیات کا یہ افسانہ انسانیت کے زوال کے منظر نامے میں اعلیٰ انسانی قدروں پر ٹوٹتے بکھرتے یقین کو از سر نو بحال کرتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کبھی کہیں اجالے کی کوئی کرن بھی مل جاتی ہے۔
’مسٹر گلیڈ‘خاکہ کی طرز پرلکھا ہوا ایک جذباتی افسانہ ہے۔ نہال صاحب ایک شریف، با مروت ایثار پسنداور دوست نواز انسان تھے۔ان کی فطرت کا یہ پہلو قابل ستائش سہی،لیکن اہل و عیال کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے کافی نہیں تھا۔بد حالی سے تنگ آکر بیوی بچوں سمیت میکے جا بیٹھتی ہے۔یہ واقعہ ان کے لئے ایک بڑا سانحہ ثابت ہوتا ہے اور بالآخر ان کا ذہن ماؤف ہو جاتا ہے۔یہ محبتوں کے خمار اور عذاب کی کہانی ہے جسے افسانہ نگار نے نہایت دلسوزی سے بیان کیا ہے۔انسانی رشتوں کی مادہ پرستی اس کی جبلت بھی ہے اور مجبوری بھی کہ بیشتر مسائل کی جڑیں معاش کی کوکھ میں پیوست ہیں۔شوکت حیات نہایت باریک بینی سے انسانی نفسیات کو گرفت میں لیتے ہیں۔مذکورہ افسانے میں انہوں نے وصل یار کے خمار اور ہجر یار کے انتشار….دونوں کیفیتوں کا ماہرانہ تجزیہ پیش کیا ہے۔
’تفتیش‘فرقہ وارانہ فساد کے پس منظر میں لکھی گئی ایک سیکولر کردار کی کہانی ہے جو زندگی کے تئیں مثبت نقطئ نظر رکھتا ہے لیکن حالات کی آندھی میں اسکے نظریات تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتے ہیں۔آفتاب صاحب فرقہ واریت کے زہر کو محبتوں کے تریاق سے ختم کرنا چاہتے ہیں۔بھائی چارگی،رواداری اور اخوت ان کا ایمان ہے۔انہیں اس بات کا یقین ہے کہ مستقل امن انسان کی فطری اور جبلی ضرورت ہے،لہٰذا شر کی مٹھی بھر قوتیں خیر کی قوتوں کو تادیر شکست نہیں دے سکتیں۔آفتاب صاحب کو اپنے اعلیٰ و ارفع خیالات و نظریات کے باوجود مخلوط محلے سے ہجرت کر اقلیتی محلے میں پناہ گزیں ہونا پڑتا ہے۔
شوکت حیات نے فرقہ وارانہ پس منظر میں متعدد افسانے تحریر کئے ہیں لیکن انہوں نے کہیں بھی خود کو دہرایا نہیں ہے بلکہ فسادا ت کے مختلف پہلوؤں،مختلف نتائج،مختلف کیفیات اور مختلف اثرات کو الگ الگ پیرایے میں بیان کیا ہے اور کمال یہ ہے کہ کہیں بھی ان کا تخلیقی شعور مجروح نہیں ہوا ہے۔واقعات کی پیشکش کے دوران تخلیقی ضبط کا دامن انہوں نے مضبوطی سے تھامے رکھا ہے۔دراصل یہی فنکارانہ ضبط ان کی شناخت ہے۔ شوکت حیات کے فکرو فن کے تجزیئے کے ذیل میں گوپی چند نارنگ رقمطراز ہیں:
”شوکت حیات ہمارے ان افسانہ نگارو ں میں ہیں جو تخلیق کار کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کوسمجھتے ہیں….. وہ اپنے افسانوں میں ادبیت اور سماجی احساس و شعور دونوں پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے طئے شدہ نتائج اور سیاہ و سفید میں بٹے ہوئے افسانے کی روایت سے گریز کرتے ہوئے سچائی کی تلاش اپنے طور پر جاری رکھی اور نئی کہانی کا رشتہ نئی سماجی حقیقتوں سے جوڑا۔“
’سرخ اپارٹمنٹ‘مزدوروں کی مارکسوادی تحریک کے پس منظر میں لکھی ہوئی کہانی ہے جس میں انقلاب کی ظاہری صورت اور اندرونی کرب کو نمایاں کیا گیا ہے۔کوئی بھی تحریک یا انقلاب حالا ت کے افراط و تفریط کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتا ہے اور جد و جہد زندگی کا حصہ بنتا ہوا کبھی فتح یاب ہوتا ہے تو کبھی چند گام چل کر ہی بے سمتی اس کا مقدر بنتی ہے۔انقلابی عمارت کی تعمیر فرد کی جانفشانیوں اور قربانیوں کے مٹی گارے سے ہوتی ہے۔اجتماعی مفاد اور انفرادی لا غرضی جس انسان کی اولین ترجیح ہوگی،وہی اس عمارت کے لئے نیو کی اینٹ ثابت ہو سکتا ہے۔لیکن ایسے لوگوں کی تعداد مٹھی بھر ہوتی ہے۔ بیشتر افراد جانکاہی کے اس عمل سے برگشتہ ہو کر اپنی زندگی کا چلن درست کرنے لگتے ہیں۔ایسی صورت حال میں انقلابی عمارت کی بنیاد لرزنے لگتی ہے اوربا لآخر وہ زمین بوس ہو جاتی ہے۔شوکت حیات نے اس افسانے میں عبد ا لمنان اور عامر کے کرداروں کے توسط سے انقلاب کی اسی صورت حال کو واضح کیا ہے۔
’بانگ‘آغاز تا انجام علامتی پیرایے میں بیان کی گئی کہانی ہے۔اس افسانے کی معنویت کئی سطحوں پر اجاگر کی جاسکتی ہے۔ اگر ’مرغ‘ کواقلیتی طبقے کا کردار مان لیں تو پوری کہانی یوں روشن ہوتی ہے کہ طاقتور طبقے کو مظلوم کردار پر وار کرنے کے لئے کسی تسلیم شدہ جواز کی حاجت نہیں۔جواز تو سینکڑوں پیدا کئے جا سکتے ہیں۔اہم ترین جواز تعداد میں اضافہ اور کارکردگی میں بہتری بھی ہو سکتی ہے۔اس علامتی کردار کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہانی کی قرأت کی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ…جب بھی ان(مرغ) کے چونچ مضبوط ہوئے انہیں ذبح کر دیا گیا…یعنی ہر وہ جگہ جہاں اقلیتی طبقے مضبوط و مستحکم معیشت کے حامل رہے، وہیں ان کی سرکوبی کی گئی۔ مسلسل استحصال کے نتیجے میں اقلیتی فرقے میں پیدا ہونے والی شدت پسندی اور انتہا پسندانہ حملے مرغ،مرغیوں اور چوزوں کے حملے کی صورت میں نظر آتے ہیں۔شدت پسندی کی روک تھام کے لئے صحیح اقدامات کا مشورہ مرغ فروش کے ذریعے انہیں ملتا ہے لیکن وہ انہیں کمزور اور ناتواں سمجھ کر نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ دوسری سطح پر مرغ کو اگر مزدور اور محنت کش طبقے سے تعبیر کیا جائے تو بدلتے ہوئے صنعتی نظام،مشینوں کی ترقی،محنت کش طبقے کی خود آگہی اور توانائی،گلوبلائزیشن،طبقاتی احتجاج وغیرہ کا مکمل منظر نامہ واضح ہو جاتا ہے۔معانی کی دونوں لہروں کو متوازی و مساوی بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔کہانی کے خاتمے پر سرخ اور زرد رنگ کا حوالہ یوں بھی ذہن کو مزدوروں کی انقلابی تحریک اور بھگوا دہشت گردی دونوں کی جانب مبذول کرتی ہے۔شوکت حیات کے اس افسانے پر Reception Theory کااطلاق کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے اپنے تخیل کے کسی خاص فکری موڑ کو نہایت فنکاری سے پیش کر دیا ہے۔اب قاری اور ناقد اسے کون سا معنی پہنائیں،یہ ان کی اپنی صلاحیت پر منحصر ہے۔
’شکنجہ‘ ایک قلی کی کہانی ہے جس میں نہایت درد مندی سے اس کی زندگی کی تشنہ خواہشوں،نا مرادیوں اور اس کی غربت کو پیش کیا گیا ہے۔غریب آدمی کی غربت اس کی پوری ذات کوبے اعتبار ٹھہراتی ہے،اس المیہ کی جانب افسانہ نگار نے اشارہ کیا ہے۔قلی جب اپنی استطاعت سے زیادہ بوجھ اٹھاتا ہے تو لا شعوری طور پراس کی خواہش ہوتی ہے کہ منزل پر جلد از جلد پہنچ کر اپنے ناتواں وجود کو ہلکا کر لے۔اسی لئے عموماً قلی کی رفتار تیز ہوتی ہے۔وہ سامان لے کر کہیں فرار نہ ہو جائے،یہی اندیشہ صاحب مال کو ہانپتے کانپتے قلی کی رفتار کا ساتھ دینے پر مجبور کرتا ہے۔راوی اخلاقی طور پر اس عمومی رویے کو نا پسند کرتا ہے اور عملی طور پر اختلاف کرتا ہے۔اسے انسان کی اعلیٰ اخلاقی قدروں پر یقین ہے اور اس کا یہ یقین سلامت رہتا ہے۔اس کہانی میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ زندگی کی کشاکش اور زاد حیات کی تگ و دو نے غریب انسان کو اپنے فطری جذبات سے بھی تہی دامن کر دیا ہے۔اس لئے حادثے کے بعد اپنے بچے کو صحیح سلامت پاکر قلی جب اسے بے اختیار لپٹاکر چومنے لگتا ہے تو بچے کے لئے باپ کی شفقت و محبت کا یہ بے ساختہ مظاہرہ نا مانوس اور اجنبی محسوس ہوتا ہے۔شوکت حیات کی بیشتر کہانیوں کی طرح اس افسانے میں بھی تفریح محض سے گریزپائی ملتی ہے اور انسانی رشتوں،قدروں اور مجبوریوں کے حوالے سے غور و فکر کا ایک بے کراں جہاں ملتا ہے۔ان کی پیشکش کا کمال یہ ہے کہ ان کے کردار اپنی خوشی نا خوشی سمیت قاری کے دل و دماغ میں رچ بس جاتے ہیں۔
’فرشتے‘ سیدھے سادے پلاٹ میں بیان کی گئی ہلکی پھلکی کہانی ہے۔شاعر،افسانہ نگار اور نقاد کے تین کردار تخلیق کر کے شوکت حیات نے موجودہ ادبی صورت حال،دنیائے ادب کی صارفیت اور موقع پرستی پر لطیف طنز کیا ہے۔دیگر میدان کار کی مانند ادبی پلیٹ فارم کے بھی ایمان داری، خلوص اور صداقت سے عاری ہوکر کرپٹ ہونے کے موضوع پر نہایت احتیاط کے ساتھ خیال آرائی کی گئی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اقبال مجید کا’خاموش مکالمہ‘ – ڈاکٹر محمد غالب نشتر )
’بلی کا بچہ‘ پراسراریت سے لبریز کہانی ہے۔کہانی کی ابتدا میں گھر کے بچے پڑوس سے ایک بلی کا بچہ لے آتے ہیں۔باپ اور دادی کی شدید مخالفت کے ردعمل میں ماں کی پرزور حمایت بچوں کو مل جاتی ہے۔دادی کے لئے یہ صورتحال اذیت ناک ہے۔ انہیں بلی کے بچے سے اپنی طہارت کے تئیں خدشہ اورعبادت میں خلل محسوس ہوتا ہے۔علاوہ ازیں،بلی کے بچے سے انہیں یک گونہ نفرت بھی محسوس ہوتی ہے کیونکہ جوانی کے زمانے میں ان کے شوہر مولوی برہان الدین کو ایک بلے سے جذباتی لگاؤ تھا جس کی وجہ سے ایک عرصہ تک دادی کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔مولوی برہان الدین مجموعی طور پر اپنی زندگی میں ایک ناکام شخص تھے، وہ تقسیم ملک کے خلاف تقریریں کرتے،تعویز گنڈہ کرتے یا بلے کے ساتھ سرگوشیاں کرتے۔تین بیٹے فکری گمراہی کا شکار ہو گئے،
اور بیٹیوں کو تشنہ کام جوانی نے گمراہ کر دیا۔چوتھا متوسط ذہن کا لڑکا زندگی میں متوسط کامیابی حاصل کر پایا جس کے ساتھ دادی رہ رہی تھیں۔بلی کا بچہ دادی کی نفرت سے بے نیاز اکثر نماز کے دوران دادی کے کندھوں پر جھول جاتا۔ایک دن اچانک بلی کا بچہ غائب ہو جاتا ہے۔گھروالوں کے ساتھ ساتھ دادی بھی اسے ڈھونڈتی ہیں لیکن ناکامی ہاتھ آتی ہے۔کچھ دنوں بعد دادی کا انتقال ہو جاتا ہے۔ایک دن بلی کا بچہ دادی کے مصلے پر نظر آتا ہے۔بیٹے نے دادی اور بلی کے بچے کے گتھم گتھا ہیولے کو نماز ادا کرتے دیکھا،پھر اس کی یادداشت چلی جاتی ہے۔ بلی کا بچہ پھر نظر نہیں آیا۔ شروع سے آخر تک یہ افسانہ رمز و اسرار کے رنگ میں رنگا ہوا ہے۔بچوں کا بلی کا بچہ پالنے کا شوق،گھر والوں کی مخالفت،ساس بہو کا ازلی معاندانہ رویہ،بلی کے بچے کا غائب ہو جانا اور دادی کا مر جانا….یہ تمام واقعات ایک عام سی کہانی کا خاکہ پیش کرتے ہیں لیکن دادی کا نگوڑا نامراد کہنااور اس کے تعلق سے مولوی برہان
الدین کی عجیب و غریب شخصیت کو پیش کرنا،ان کی زندگی کی پراسراریت،نامرادیو ں و ناکامیوں کا کرب،بیٹوں کی بے اعتدالیاں اور بیٹیوں کی فریب خوردگی،بلے کے ساتھ مولوی صاحب کا ارتباط و اختلاط اور دادی کا اضطراب،بلی کے بچے کے غائب ہو جانے کے بعد دادی کی مضطربانہ کیفیت،دادی کے انتقال کے بعد بلی کے بچے کا آنا اور دادی کے لئے بے چین ہونا، بیٹے کا عجیب منظر دیکھ کر یادداشت کا غائب ہو جانا وغیرہ بعض ان کہے بھید ہیں جو کہانی کو عام کہانی کے زمرے سے الگ کر کے فنٹاسی کی شکل عطا کرتے ہیں۔ایک ایسی علامت کی شبیہہ پیدا کرتے ہیں جس کی ان کہی میں قاری ڈوبتا ابھرتا رہتا ہے۔شوکت حیات کی بعض کہانیوں کے طلسمات قرأت مکرر سے بھی نہیں کھلتے۔’بلی کا بچہ‘ بھی ایسی ہی کہانیوں میں سے ایک ہے۔
موجودہ سماجی ڈھانچے،مسائل کے انبوہ، حالات کی کشاکش اور وقت کی ستم ظریفی میں جذبات کے پل اس طرح کھو جاتے ہیں جیسے مٹھی میں بند پھسلتی ریت۔حالات کے بے رحم شکنجے رومان کی از خودرفتگی کو کس طرح چکناچور کر دیتے ہیں،اسی کرب کو شوکت حیات نے ’گھڑیال‘ کا موضوع بنایا ہے۔قدرت کے رنگین نظارے،کائنات کے رومانی اشارے اور ماضی کی سنگین یادیں سب وقت کے جبر کا شکار ہو جاتی ہیں۔عام انسان حالات کے جبر پر رو لیتا ہے لیکن حساس اور ذی شعور آدمی درد سے لبریز کھوکھلا قہقہہ لگا کر جینے کو آسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔افسانہ نگار نے بڑی گداختگی سے اس افسانے کا تانابانا بنا ہے جو دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔
’رحمت صاحب‘ انسان کے آخری پڑاؤ کی کہانی ہے۔ایک آفاقی سوال کی کہانی ہے کہ والدین جن بچوں کے لئے اپنے حال اورمستقبل کو قربان کر دیتے ہیں،وہی بچے والدین کی کفالت نہیں کر پاتے۔رحمت صاحب ساری زندگی جد و جہد کر اپنے بچوں کو آسودگی بھرا حال اور خوش آئند مستقبل کا انتظام کردیتے ہیں لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا وجود ایک نا خواندہ مہمان کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔بیٹوں کے بیگانہ رویے اور بہوؤں کے حقارت آمیز برتاؤ نے ان کی عزت نفس کو ذلت سے ہمکنار کر دیا لیکن زندگی ہر آن خوش رنگ امید کے جلوے دکھاتی ہے۔وہ نئی توانائی کے ساتھ پوتے کو گود میں اٹھاتے ہیں کہ وہ ارتقا کی تاریخ میں مذموم روایات کے گرد آلود چہرے کی تطہیر کرے گا۔عام انسان کی عمومی کہانی کو شوکت حیات نے احساسات کی دبازت سے لمحہئ فکریہ بنا دیا ہے۔
’کوا‘ ہجرت وطن کی کہانی ہے۔افسانہ نگار نے کوا کو معاشی کشاکش،مہنگائی کے عفریت اور رزق کی نافراہمی کی علامت بنایا ہے۔کوا جو بڑی دیدہ دلیری سے بچوں کی پلیٹ سے روٹی اچک لے جاتا ہے۔اب کوا نظر بھی نہیں آتا اور تھالی سے رزق غائب ہو رہا ہے۔وافر رزق اور آسائش کی تلاش میں لوگ ہجرت وطن کر رہے ہیں لیکن بہ ہزار دقتوں اور زخمی مسافتوں کو طے کر کے سرحد پار کی وہ خواب آسا منزل مل جائے گی جہاں نئے سرے سے آسائش بھری زندگی کی ابتدا ہو سکے یا سرحد پار کے مکیں بھی انہیں سرابوں کی تلاش میں ہجرت آمادہ ہو چکے ہیں؟ایسے ہی سلگتے سوالوں کو اس کہانی میں افسانہ نگار نے اٹھایا ہے۔علاوہ ازیں، امید کے سنگلاخ راستوں پر لہولہان ہوتے وجود کا المیہ اس کہانی میں بیان کیا گیا ہے ساتھ ہی ساتھ بے یقین مسافتوں کے منفی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کہانی میں واقعات بھی ہیں،کردار بھی اور مکالمہ بھی لیکن بنیادی طور پر محض حوادث زمانہ کی صعوبتوں سے مجروح ہوتے ہوئے احساسات کی کہانی ہے۔اس افسانے میں تقسیم ملک کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی عدم استحکام اور ہجرت وطن کے کرب کو تخلیقی سطح پر نمایاں کیا گیا ہے۔یہ کہانی شوکت حیات کی نمائندہ کہانیوں میں شمار ہوتی ہے۔
موجودہ تعلیمی نظام کے نقائص کو ’چیخیں‘ میں پیش کیا گیا ہے۔پرائیوٹ انگلش اسکولوں میں بچوں کو تعلیم دلانا آج اسٹیٹس سمبل سمجھا جاتا ہے۔ایجوکیشن مافیا والدین کی اسی دکھتی رگ کا استحصال کرتے ہیں۔مختلف مد کے نام پر سیکڑوں ہزاروں کی فیس طلب کی جاتی ہے،بطور فیشن بچوں کا ہی نہیں والدین کا بھی انٹرویو لیا جاتا ہے،سلیکشن ہونے نہ ہونے کا آسیب سر پر سوار رہتا ہے۔ہوم ورک کے باعث بچوں کے حواس مختل ہو جاتے ہیں۔روح سے کربناک چیخیں بلند ہوتی رہتی ہیں لیکن مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کا خوف مہر بہ لب رکھتا ہے۔بچے اپنا بچپن بھی نہیں جی پاتے اور نا قابل برداشت ذمہ داریوں کے بوجھ سے بڑھاپے کی سرحد میں داخل ہو جاتے ہیں۔سارے تلخ حقائق سے واقف ہونے کے باوجود ایک اندھی دوڑ ہے جس میں چیختی ہوئی روحوں کے ساتھ لوگ دوڑے جا رہے ہیں۔شوکت حیات نے اس افسانے کے وسیلے سے معاشرے کے ایک اہم مسئلے کی جانب نہ صرف توجہ مبذول کرائی ہے بلکہ ہیبت ناک انجام کار کو بھی علامتی پیرائے میں پیش کیا ہے کہ آندھیوں کے زور میں جب ہمارے پاؤں اکھڑنے لگے ہیں تو ان ننھے منے مخملی پیروں کا کیا ہوگا؟کیا خرگوشوں کی معصومیت درندگی کا پیرہن اوڑھ لے گی؟؟
’کہ‘ فسادات اور دہشت گردی کے نتیجے میں تشکیل پانے والے ذہنی افتاد کی کہانی ہے۔حادثوں کے شہر میں آج کا انسان بے یقینی کی جس منزل سے گذر رہا ہے،ان کیفیات کو شوکت حیات نے انوکھے اور اثر انگیز پیرایے میں بیان کیا ہے۔ دہشت گردی کے دھوئیں سے محیط شہر کی سڑکیں تقریباًسنسان ہیں۔وہؔ آدمی جو گھر والوں کی زندہ سانسوں کی بقا کی خاطر تپتی سڑک پر تلاش رزق میں نکل آیا ہے لیکن اس کی روح کی شگافوں میں خوف و دہشت کی لرزتی ہوئی کیفیتیں ہیں۔ہر آہٹ اسے چوکنا اور لرزیدہ کئے ہوئی ہے۔ اس کے تعاقب میں دو لڑکے ہیں جو تھیلے میں ہاتھ ڈال کر کچھ نکالتے ہیں۔اسؔ کا سراسیمہ ذہن تخیلی ہیولے تیار کر لیتا ہے کہ بس وہ اب چند ساعتوں کا مہمان ہے۔خوف نے اس کے قدموں میں تیزی لادی ہے لیکن لڑکے بھی اسی رفتار میں متعاقب ہیں۔لڑکے اپنی بند مٹھی والے ہاتھ کو بلند کئے ہوئے اس کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ہر لحظہ قریب آتی فنا کی منزل کو دیکھ کر وہؔ دوڑنے لگتا ہے۔دوڑتا ہوا لڑکا انتہائی سرعت سے بازو گھماتے ہوئے کچھ پھینکتا ہے۔وہ آدمی دہشت کی انتہا پر پہنچ کر زمین پر لڑھک جاتا ہے۔اس سے پہلے کہ اس کا وجود دھماکے کی زد میں آکر خاک و خون میں تبدیل ہو جاتا کہ لڑکے نعرہ بلند کرتے ہیں…..گڈ بالنگ…گڈ بالنگ!لڑھکے ہوئے آدمی کے قدموں پر ایک چیتھڑوں والی گیند لڑھکی ہوئی تھی اور لڑکے حیرت و استعجاب کے عالم میں آدمی کی آنکھوں اور اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔شوکت حیات نے اس افسانے میں شدت خوف اور شدت رفتار کو ہم آمیز کر کے احساسات کی جو امیجری بنائی ہے،اس کی نظیر مشکل ہے۔آدمی کی دہشت کو مجسم اور متشکل کر دینا انہیں کا کمال ہے۔
شوکت حیات کی بیشتر کہانیوں کی طرح اس کہانی میں بھی کرداروں کا کوئی نام نہیں ہے۔دراصل وہ کرداروں کی کہانیاں کہتے بھی نہیں بلکہ ان کے افسانے حالات،واقعات اور کیفیات کے منظر نامے ہیں۔وہ خود اپنے افسانوں کو انام افسانے کہتے ہیں جن میں سارا زور قوت نامیہ پر رہتا ہے۔یعنی نام اور لیبل سے آزاد افسانے جو ہر دور میں زندہ رہیں۔ہر عہد میں فکری و فنی سطح پر عہد کے تقاضوں کے مطابق معنیاتی نظام قائم کر سکیں۔ان کے افسانے عصری مسائل اور آفاقی صداقتوں کے افسانے ہیں۔لہٰذا کرداروں کا کوئی بھی نام ہو یا نہ ہو،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ان کے افسانوں کے کردار میں ؔ،وہ یا تم کے صیغے میں ہوتے ہیں۔البتہ جن افسانوں کے ذریعے انہیں مذہبی یا علاقائی مسائل پیش کرنا ہوتا ہے،ان میں مذہبی،لسانی یا علاقائی تفریق قائم کرنے کے لئے کرداروں کو نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔مثلاً ”گنبد کے کبوتر“ کے سین صاحب اور مسٹر تھامسن،’’رانی باغ“ کے رحمت صاحب اور رانی، ”مادھو“ کا مادھو اور جلیل نداف، ”سانپوں سے نہ ڈرنے والا بچہ“ کا عبد ا لمنان، ”تفتیش“ کے آفتاب صاحب وغیرہ۔تقریباً یہی صورت حال پلاٹ کے سلسلے میں بھی ان کے یہاں پائی جاتی ہے۔افسانوں کی پلاٹ سازی میں بھی وہ بندھے ٹکے فارمولے کی بندش سے خود کو آزاد رکھتے ہیں۔واقعات،کیفیات اور احساسات کی جزئیات نگاری ان کے فکر و فن کا منتہائے مقصود ہے۔انہیں جو کہنا ہے،پُر تاثیر کہنا ہے۔اس کے لئے کبھی وہ روایتی پلاٹ کی تکنیک استعمال کرتے ہیں تو کبھی اینٹی پلاٹ کی تکنیک۔بوقت ضرورت وہ مختلف طریقہ کار اپناتے ہیں لیکن پوری صداقت اور ایمانداری سے اس طریقہ کار کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
شوکت حیات نے اپنے افسانوں کے وسیلے سے عصری کرب کو پیش کیا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا عنصر ہے جو انہیں اپنے ہمعصروں سے ممیز کرتا ہے۔دراصل وہ ہے ان کی تخلیقی نثر اور ان کا اسلوب۔شوکت حیات کے یہاں اختصار میں جامعیت کا فن درجہ کمال پر ہے۔ان کے یہاں کہانی میں برتا جانے والا ہر لفظ اپنے اندر جہانِ معنی رکھتا ہے۔ان کی کہانیاں با لعموم مختصر ہوتی ہیں لیکن معانی ومفاہیم کی ایک وسیع کائنات ان کے یہاں ملتی ہے۔لمبے چوڑے پس منظر کو اکثر وہ ایک یا دوجملے میں پیش کر دینے کے ہنر سے وہ متصف ہیں۔دراصل یہ کوزے میں سمندر کو سمونے کا فن ہے جو فن شاعری کا وصف ہے۔ ان کے افسانوں سے چند جملے ملاحظہ ہوں جن سے کہانی یا کردار کا پورا پس منظر روشن ہو جاتا ہے…..
۱۔”یہ ہنر اسے معلوم تھا کہ بچپن سے اب تک اکثر اوقات سنگین حالات کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے اسے خود کو بے جان اشیاء میں تبدیل کر دینا پڑتا تھا۔“ (کوبڑ)
۲۔ ”بے ٹھکانہ کبوتروں کا غول آسمان میں پرواز کر رہا تھا۔“ (گنبد کے کبوتر)
۳۔”گنگا میں کتنا سارا پانی بہا لیکن بڑے ابو کی زندگی اسی پڑاؤ پر کھڑی رہی،جہاں انہوں نے اپنے والد کو اپنے بچپن میں سپرد خاک کیا تھا۔“ (اپنا گوشت)
۴۔’وہ جس علاقے میں گیا تھا وہاں انسانی اجسام پھول گوبھیوں میں تبدیل ہو گئے تھے۔‘(سانپوں سے نہ ڈرنے والا بچہ)
۵۔”بہت دیر بعد لڑکھڑاتے ہوئے سرخ پانی سے وہ باہر نکلے تو زرد ہو چکے تھے۔“ (بانگ)
۶۔”دودھیا اسکرین پر تاریخ کی طویل صدیاں لمحوں کی نوک پر خود بخود آخری ہچکی لے رہی تھیں۔‘‘(گنبد کے کبوتر)
شوکت حیات کے تمام افسانوں میں ایسے مقامات ملتے ہیں جن کی جانب میں نے اشارہ کیا ہے۔لفظی کفایت شعاری میں کہیں کہیں ان کا فن منٹو کے فنی رویے کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔کہانی کی روداد میں ان کی نکتہ آفرینی بھی ذہن کے تاریک گوشوں کو منور کرنے کی کاریگری انجام دیتی ہے۔مثلاً…….
۱۔’دراصل پڑھائی لکھائی اور تہذیب و تمدن کہتے ہی اس کو ہیں کہ انسان اپنی حد بندیوں سے بالا تر ہو جائے۔‘ (بھائی)
۲۔”دنیا میں فکرِ معاش سے بڑا کوئی غم نہیں….بیشتر مسائل کی جڑیں اس کی کوکھ میں پیوست ہیں۔“(مسٹر گلیڈ)
۳۔”شاید سماجی ارتقا کے پیچیدہ عمل کا یہ لازمی نتیجہ ہے،آگے بڑھتے ہوئے چکے کے پیچھے گرد اڑتی ہی ہے۔“
(رحمت صاحب)
۴۔”زندگی پر موت کی پرچھائیں بے داغ زندگی کی ضامن بن جاتی ہے۔“(مرشد)
معانی کی ترسیل کے لئے لفظوں کے انتخاب میں انہیں خاصی مہارت حاصل ہے۔نازک سے نازک سچویئشن کو وہ فنکارانہ اور ماہرانہ انداز پیش کرنے پر قادر ہیں۔انہوں نے کئی افسانوں میں جنسی مراحل کو بھی پیش کیا ہے لیکن کہیں پر فحاشی یا ابتذال کی صورت نہیں پیدا ہونے دی۔”رانی باغ“ میں رحمت صاحب اور رانی کے جنسی اتصال کی عکاسی انہوں نے یوں کی:
”شام کی نیم تاریکی میں باغ کے کونے کی گھنی جھاڑیوں سے اٹکھیلیاں کرتی ہوئی ہوا ہلتی ہوئی شاخوں کو چھوتی ہوئی ان دونوں کی سر گوشیوں سے لپٹی ہوئی پراسرار گونج پیدا کر رہی تھی۔دور آسمان میں غروب ہوتے ہوئے سورج کی لال ٹکیہ اور گھنے کالے بادل کے درمیان زبردست دھینگا مشتی جاری تھی۔اچانک گھنے کالے بادل کادبیز ٹکڑا بھاری پڑا اور سورج کا سرقلم کرتے ہوئے نیچے کی طرف گرا۔سورج کی گردن سے لہو کا فوارہ ابلنے لگا۔شفق کی تیز سرخی سے افق کاایک کونا لہو لہان ہو گیا…شفق کی سرخی کے کچھ چھینٹے چھٹک کر زمین میں جذب ہو گئے۔“
اس طرح کی عکس بندی وہی فنکار کر سکتا ہے جس کا مشاہدہ گہرا،جسے انسانی کیفیات کا صحیح ادراک اور جو زبان و بیان پر دسترس رکھتا ہو۔مختلف صورت حال میں انسان کی باطنی کیفیات کے موہوم ارتعاشات کو شوکت حیات کی نگاہیں نہایت باریک بینی سے گرفت میں لیتی ہیں۔
۱۔”کسی نے اس کے اندر اس کے پھیپھڑے کو بے دردی کے ساتھ اپنی گرفت میں لے لیا۔ دباؤ بڑھتا گیا۔ اس کی سانس اکھڑنے لگی۔“ (گھونسلہ)
۲۔”ٹھنڈک کے باوجوداس کے بدن میں حرارت کی ایک لہر دوڑ گئی….پیشانی پر خوف کے پسینے کی بوندیں جھلملانے لگیں۔“ (بھائی)
۳۔”پل دو پل کے لئے بھی آدمی جہاں اپنی سانسیں درست کرنے کے لئے رک جاتا ہے وہ جگہ اس کے وجود میں پیوست کر جاتی ہے۔“ (کوا)
۴۔”مسلسل دوڑتے ہوئے آخری بار سہمی سہمی نگاہوں سے پیچھے کی جانب دیکھتے ہی وہ ”دھماکہ….. دھماکہ….. بچاؤ…..بچاؤ“چیخنے لگا…لیکن اس کی آوازوں کی مچھلیاں خشک گلے میں تڑپ کر رہ گئیں۔“ (کہ)
تشبیہیں اور مماثلتیں پیش کرنے کے معاملے میں بھی شوکت حیات خود کفیل ہیں۔وہ اپنے گہرے مشاہدے کی بناء پرمماثلتیں تراش لیتے ہیں:
۱۔”بیوی شرم سے پانی پانی ہو گئی۔سر بازار رکشہ الٹ جانے سے جیسے کپڑے اوپر اٹھ آئے ہوں۔“(مسٹر گلیڈ)
۲۔’آنکھیں ڈبڈبانے لگیں۔سمندر اچھل اچھل کر اس کے وجود کے کناروں کو ریزہ ریزہ کرنے کے درپے تھا۔ (کوبڑ)
۳۔”بڑے ابو قبروں کے درمیان جیتے جی سینڈوچ بن گئے۔“(اپنا گوشت)
۴۔”جاڑا لمبی راتوں اور چھوٹے دنوں کے لئے لوک کتھاؤں کی طرح شہرت رکھتا ہے۔“(بھائی)
۵۔”اسے لگا کہ وہ رات کے سناٹے میں کسی مرگھٹ میں بیٹھا ہے۔دور کہیں سے کتوں کے رونے کی آواز آرہی ہے…. چاروں طرف گہرا اندھیرا ہے۔بجز اس روشنی کے جو ایک جلتی ہوئی لاش سے برآمد ہو رہی ہے۔“(کوبڑ)
شوکت حیات کی زبان،ان کا اسلوب بیان، ان کی نکتہ سنجی،ان کی رمزیت،ان کی قادر ا لکلامی اور ان کی معنی آفرینی کی بے شمار مثالیں ہیں جو ان کے افسانوں سے فراہم کی جا سکتی ہیں۔یہ واقعہ ہے کہ شوکت حیات کی طرز ادا ان کی امتیازی شناخت ہے۔فکشن کے ماہر نقاد وارث علوی نے بھی ان کی اس امتیازی خوبی کا اعتراف کیا ہے:
”شوکت حیات کو زبان اور بیان پر غیر معمولی عبور حاصل ہے۔ان کے معمولی افسانوں میں بھی یہ حسن برقرار رہتا ہے۔ان کی نثر بڑی ہموار ہے۔ایک کے بعد دوسرا جملہ سمندر کی لہروں کی مانند سبک ساری سے آتا ہے۔بہت سے لکھنے والوں کی زبان مین جو ہکلا پن ملتا ہے۔اس سے وہ صاف بچ گئے ہیں۔ان کے یہاں پیچیدگی ہے لیکن الجھاؤ نہیں۔اشارے،کنائے اور اجمال ہے جو اہمال سے بارہ پتھر دور رہتا ہے۔“
ایسا نہیں ہے کہ شوکت حیات کے افسانوں میں کمزور علاقے نہیں ہیں۔ان کے لہجے کی بلند آہنگی کہیں کہیں کہانی کی تاثیر میں اضافہ کرنے کی بجا ئے ان کے افکار و نظریات کا پرو پیگنڈہ محسوس ہونے لگتی ہے۔”سرخ اپارٹمنٹ“ کا تعلق اسی قبیل سے ہے۔بعض اوقات وہ اپنے سیاسی،سماجی اور اخلاقی نظریات کو یکدم پیش کر دینے کے اضطراب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ افسانہ ”تفتیش“ کا شمار اسی زمرے میں کیا جا سکتا ہے،جس کو انہوں نے اپنے افکار و خیالات کے اظہار محض کاوسیلہ بنایا ہے۔ شوکت حیات کے بعض افسانوں میں فطری انجام کے بعد بھی اضافی جملے لطیف احساسات پر گراں گذرتے ہیں۔’چیخیں‘ ، ’شکنجہ‘ ، ’سرخ اپارٹمنٹ‘ وغیرہ افسانوں کی آخری سطروں کو اس تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔بہر کیف! مذکورہ چند موہوم کمزوریوں سے قطع نظر ان افسانوی عمارت نہایت ٹھوس اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔
مجموعی طور پرشوکت حیات کے فکری و فنی رویے کو چند جملوں میں سمیٹا جائے تو بلا مبالغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک ایسے دور میں جب مختصر افسانہ ترسیل کے المیے کا شکار ہو رہا تھا،انہوں نے اکہری خارجیت اور شدید داخلیت کے درمیان ایک نئی متوازن راہ اپنائی۔مختصر افسانے کو کہانی کی گمشدگی کے کرب سے آزاد کرایا،سپاٹ بیانیہ کو تہہ داری اور معنی خیزی عطا کی،افسانے کو
نامیاتیت اور امکانیت کے آفاقی عناصر سے متعارف کرایا،انسان کے باطن کی بیکرانی کو تخلیقی و ترسیلی سطح پر پیش کیا،عصری مسائل کی پیشکش کے ساتھ ساتھ انسان کے اندرونی اضطراب و کیفیات،اس کے ردعمل اور نتائج کو بھی اپنے افسانوں کا موضوع بنایا، انسانی کردار کی تعمیر و تشکیل اور اس کی شکستگی کے عناصر پر روشنی ڈالی اور ان تمام مراحل میں انہوں نے زبان کے خلاقانہ استعمال سے کہیں بھی صرف نظر نہیں کیا۔ان کے افسانوں کے توسط سے زبان نے نئی تخلیقی توانائی حاصل کی ہے۔گویا شوکت حیات نے مختصر افسانے کو موضوعاتی،تکنیکی،ہیئتی اور اسلوبیاتی سطح پر نئی منزلوں سے آشنا کرایا ہے۔بلا شبہ،وہ افسانے کی ارتقائی تاریخ میں ایک سنگ ِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ٌٌٌٌ(اشاعت: سہ ماہی اردو ”آمد“ پٹنہ، کتابی سلسلہ ۱، اکتوبر تا دسمبر ۱۱۰۲ء)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
وصیہ باجی کے اس طویل مضمون میں جہاں ایک طرف شوکت حیات کی فنی کاوشوں کے محاسن جلوہ ساماں نظر آتے ہیں وہیں خود وصیہ باجی کے اسلوب اور قدرت بیان کی خوبیاں بھی محسوس کی جارہی ہیں. عموماً تجزیاتی مضامین کی خشکی قراتِ مضمون دشوار بنا دیتی ہے لیکن اس مضمون کو پڑھتے وقت طبیعت زرا بھی بوجھل نہیں ہوئی. آپ کو مبارکباد کہ آپنے رویئہ اظہار کی اس روات کو جو آپ تک آئی ہے، مزید جلا بخشی.