Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خاکہ

سازِ بوالعجبی کا تارِ حیات – (شوکت حیات کا خاکہ) – پروفیسر غضنفر

by adbimiras اپریل 22, 2021
by adbimiras اپریل 22, 2021 0 comment

بوڑھاپا جب بچپن میں جانے لگے یا بچپن بوڑھاپے میں آنے لگے،یعنی حالتِ ضعیفی میں کودکی جب کود پھاند کرنے لگے تو اسے دیکھ کر کسی بھی آنکھ کا آئینہ حیرتی ہوسکتاہے۔ میرا آئینہ بھی اس وقت حیرت سے تاک رہا ہے کہ سامنے ایک عجیب و غریب شخص آکھڑا ہوا ہے۔ایسا شخص جس نے اپنا عقیقہ اکسٹھ سال کی عمر میں کیا اور وہ بھی ایسے شور شرابے کے ساتھ جیسے ایک بارپھر سے گھوڑی چڑھ رہا ہو۔ پیری میں پوری کی گئی اس رسم کا سبب اس نے یہ بتایا کہ کثرتِ اولاد کی کفالت اور خراب معاشی حالت کے باعث والدین بروقت اس طرف توجہ نہ کرسکے اور اب اس کی ادائگی کا فیصلہ بیوی نے اس لیے لیا تا کہ وہ اپنے شوہر کو بلاؤں سے بچا سکے۔ تاویل سن کر فون پر جب میں نے کہا کہ کیا بھابی کو یہ پتا نہیں تھا کہ اس عمر کے جسم و جان میں بچتا ہی کیاہے جو بلائیں چمٹیں گی تو اس شخص کے ہونٹوں سے قہقہہ پھوٹ پڑا اور دیر تک زیر وبم کے ساتھ جاری رہا، جیسے سچ امڈ امڈ کر باہر آرہا ہو۔ ہنسی کے فوّاروں کا زور تھما تو میں نے شرارتاً سوال کیاکہ اس صورتِ حال میں تو اس قبیل کی ایک دوسری رسم بھی رہ گئی ہوگی تو تھما ہوا فوّراہ اس بار اور زور وشور اور شدّومد کے ساتھ ابل پڑا۔ بڑی مشکل سے وہ ہنسی روک کر بولا۔”میری جان کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا اس لیے اس رسم کو اسپتال میں ہی نمٹا دیا گیا۔ میرے جی میں آیا کہ ایک اور سوال کروں کہ خطرہ آپ کی جان کو تھا یا آگے چل کر آپ سے جڑنے والی جان کو مگر میری سماعت میں ایک اور فلک شگاف قہقہے کی جگہ نہیں بچی تھی، سو خاموش رہ گیا۔

یہ جانتے ہوئے بھی کہ پروفیسری یعنی لیکچراری کے لیے دریائے تقرّری میں ڈالی گئی درخواست کی کشتی تنظیمی بہاؤ کی ٹھوس اور مضبوط روایت سے ذرا بھی اِدھر اُدھر نہیں ہٹتی اور سات آٹھ برس سے قبل کبھی کنارے نہیں لگتی، اس نے پچپن سال کی عمر میں ایم۔اے کیا، ستاون سال میں نیٹ نکالا اور اس کے لیے حالتِ علالت میں بھی رات رات بھر جاگ کر ان کتابوں کا بھی رٹّا لگایا جن کے مصنّفوں کے علم و دانش کے پرزے آئے دن وہ محفلوں میں اڑاتا رہا اور اپنی بوڑھی آنکھو ں میں اس نے بوسیدہ تحریروں کی زنگ آلود سوئیاں چبھوئیں جن کی کند نوکوں سے اس کی پتلیاں زخمی ہو ہو اٹھیں اور دیدے خون سے بھر گئے اور اس حقیقت کے ادراک کے باوجود کہ کسی انقلاب کے چلتے اس کی عرضی دو تین سال پہلے یعنی چار پانچ برسوں میں ہی کنارے لگ جاتی ہے (جس کا امکان بہت کم ہے) اور رٹائرمینٹ کی عمر ساٹھ سے بڑھ کر باسٹھ تک پہنچ جاتی ہے، تب بھی اسے پروفیسری کا موقع ایک سوا سال سے زیادہ نہیں مل پائے گا، اس عمر میں یہ سب کچھ کرنا بوالعجبی نہیں تو کیا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ اس بہانے سے آپ کو اپنے تعلیمی سسٹم کی بولعجبی بھی دکھاتا چلوں کہ جس نے ایک طرف تو زبان و ادب کے کسی شعبے میں ایک ایسے آدمی کو ایک سال کے لیے بھی نہیں رکھا جو ادب کے امتحان میں گولڈ مڈل حاصل کرنے کے علاوہ ایک سچّا ادیب بھی تھا۔ جس نے ساری عمر ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ ادب کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا۔ معاشرے کے درد و کرب کو اپنے اندر جذب کیا۔ خونِ جگر صرف کر کے کہانیاں لکھیں تاکہ انسانوں کی چھٹپٹاہٹ دنیا کے سامنے آسکے اور ان کے درد کا مداوا ہوسکے اور دوسری جانب ایسے ایسے لوگوں کو تیس تیس برسوں تک کے لیے پروفیسری کے عہدے پر فائز کیا جنھوں نے زبان و ادب کے لیے کچھ نہیں کیا۔ نہ دل کا خون کیا، نہ کوئی درد سہا، نہ آنکھیں جلائیں، سوائے دوسروں کی تحریروں کے تراشوں کو گوند سے چپکا کر مضمون بنانے کے۔ہے نا یہ بھی بوالعجبی! اس بوالعجبی کے تو اور بھی کئی روپ ہیں مگر چوں کہ آج مجھے اس شخص کی بوالعجبیت دکھانی ہے جو میرے سامنے کھڑا ہے۔ اس لیے اس جانب پھر کبھی۔

اس شخص کی شخصیت کی حیرت انگیزی اور اس کی سرشت کی تعجب خیزی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے یہاں بیک وقت عجلت پسندی بھی نظر آتی ہے اور اطمینان قلبی بھی۔

اس کی عجلت پسندی کا یہ عالم ہے کہ اس کے کسی کام میں ذرا سی بھی تاخیر اسے غضب ناک کردیتی ہے۔ ہتھّے سے اکھاڑ دیتی ہے، جامے سے باہر کردیتی ہے۔ آن اور ا نا کے نام پر راجپوتی تلوار کی طرح آنِ واحد میں میان سے باہر کردیتی ہے۔ مثلاً کسی محفل کے تعارفی جملوں میں اس کا نام لینے میں ذرا دیر ہوئی کہ اس کا پارہ چڑھ گیا۔ اس کا سراپا شمشیرِ برہنہ کی طرح لہرا اٹھا اور مشتعل لہجے میں اس کی زبان سے مثلِ تیرِ زہر آلود سنسناتا ہوا یہ جملہ نکل گیا ”میرا نام ابھی تک نہیں آیا“ اور دوسری جانب اطمینان ِ قلبی کا یہ حال ہے کہ اس کے بعد آنے والے ادیبوں کا بھی مجموعہ چھپ گیا۔ کم لکھنے والے بھی صاحبِ کتاب بن بیٹھے۔ ہمعصر تخلیق کار اپنی تصنیف کی بدولت ساہتیہ اکادمی جیسے بڑے ایوارڈ سے سرفراز ہوچکے مگر وہ ہے کہ سینئر ہونے اور زیادہ لکھنے کے باوجود اب تک کوئی کتاب نہ لاسکا۔ مجموعہ تیار ہے مگر اس کی شانِ بے نیازی کا شکار ہے۔ احباب مصر ہیں، بے قرار بھی اور ہر طرح کا صرفہ اٹھانے کو تیار بھی لیکن وہ ہے کہ دل میں قرار لے بیٹھا ہے۔

اس کی شخصیت میں شعلہ صفتی اور شبنم مزاجی کا امتزاج بھی اسے بوالعجب بناتا ہے اور اس کی بوالعجبی موقع بہ موقع عجب عجب تماشے دکھاتی رہتی ہے۔ ایک تماشہ آپ بھی دیکھیے:

علی گڑھ مسلم یونیو رسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں میں نے اپنے کچھ دوستو ں جن میں وہ بھی شامل تھا کی ایک مخصوص محفل میں پروفیسر گوپی چند نارنگ پر اپنا خاکا ”نارنگ کے نورنگ“ پیش کیا۔ خاکا کے ختم ہوتے ہی وہ شخص نہایت مضطربانہ لہجے میں بول پڑا۔

”باپ رے باپ! اتنی مبالغہ آمیز تعریف! تم تو بدنام ہوجاؤگے۔“ لیکن جواب میں جیسے ہی اس نے میرا یہ جملہ سنا“ میں نے سوچا تھا کہ نارنگ صاحب کے بعداسی اسٹائل میں آپ کا بھی خاکا قلم بند کروں گا مگر اب جب کہ آپ کو میرا یہ انداز ہی پسند نہیں تو نہیں لکھوں گا۔“ تو اس کا اضطراب یکایک پرسکون ہوگیا اور وہ جھٹ سے بول پڑا۔ ”نہیں نہیں بابو! تمھارا یہ انداز بہت اچھا ہے۔ بہت ہی پیارا ہے، بہت ہی سچّا ہے۔ پہلے والا جملہ تو میرے منہ سے حسد میں نکل گیا تھا مگر اب جو میں بول رہا ہوں یہ سب کچھ رشک میں باہر آرہا ہے۔ خدا کی قسم کھا کے کہو کہ میرے خاکے تک تم اس انداز کو ترک نہیں کروگے۔“

ایک تماشہ اور ملاحظہ کرلیجیے:  میرے سنٹر کی جانب سے پٹنہ میں منعقدہ فِکشن کے ایک فنکشن میں بہار کے افسانہ نگاروں کا میں تعارف کرا رہا تھا۔ابھی چند ہی نام میری زبان پر آئے ہوں گے کہ وہ شخص اپنی عجلت پسندی کو روک نہ سکا۔ غصّے میں کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اور نہایت ہی کرخت لہجے میں بولا کہ آپ نے میرا ذکر نہیں کیا مگر جواب میں جیسے ہی میں نے یہ کہاکہ میرے نزدیک آپ بڑے اور منفرد تخلیق کار ہیں، میں نہیں چاہتا کہ بھیڑ میں آپ کو شامل کروں۔ آپ کا تعارف تو مجھے آپ کے شایانِ شان الگ سے کرانا تھا، تو فوراً بول پڑا، ”اگر یہ بات ہے تو آپ اپنا بیان جاری رکھیے۔ فی الحال میں اپنے کان اور منہ دونوں بند کرلیتا ہوں۔ ایک لمحے میں شعلے کی مانند بھڑکا ہوا شخص دوسرے لمحے میں راکھ کی طرح بجھ گیا۔ جیسے کسی درد سے چھٹپٹاتے ہوئے مریض کو بے ہوشی کا انجکشن دے دیا گیا ہو۔

اس کی بوالعجبی کا ایک منظر اس کے رشتہئ ازدواج میں بھی نظر آتا ہے۔ غور سے دیکھیے تو اس رشتے میں دو ایسے قالب ایک جان بنے ہوئے ہیں جو دو مخالف قطبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ دونوں متضاد مزاجی اوصاف کے حامل ہیں۔ اک شعلہ خو، دوسرا شبنم صفت، ایک آشفتہ سر، دوسرا ہوش مند و باخبر، ایک پریشاں خاطر، دوسرا سنجیدہ طبع، ایک تنک مزاج اور دوسرا مستقل مزاج، ایک اوگھڑ، دوسرا سُگھڑ،ایک مضمحل و بیمار، دوسرا توانا و طرح دار، ایک سنگ، دوسرا موم، ایک خار، دوسرا گل۔

شمالی قطب کے اس گرم مزاج شوہر سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنی بیوی کے ناز اٹھاتا ہوگا، پھول کو پھولوں میں رکھتا ہوگا۔ ہمہ وقت اس کے ساتھ حلیمی سے پیش آتا ہوگا۔ اس کے ارشاد پر عمل کرتا ہوگا۔ یقینا گھر میں بھی وہ اپنی شررفشانی دکھاتا ہوگا، اپنی شعلگی برساتا ہوگا، اس کے باوجود بیوی کا اسے ٹوٹ کر چاہنا، اس کے ناز نخرے اٹھانا، اس کے علاج کے لیے ستی ساوتری کی طرح اسے یہاں وہاں لیے پھرنا، سیتا کی طرح ہردم اس کے نام کی مالا جپنا، اور مانندِ طرف دارِ غالب، حالی، مثلِ پرستارِ ذوق، آزاد اور مثالِ علم بردارِ سخنِ انیس، شبلیؔ، اس کی تحریروں کی تعریف کرنا، اس کی پبلسٹی کرنا اور اس بات کی سعی کرنا کہ اس کی ایک ایک کہانی ایک ایک سماعت تک پہنچ جائے۔ ایک ایک دل سے داد نکل کر اس کی جھولی میں پڑجائے، ایک ایک قلم اس کی ثناخوانی اور رطب اللسانی میں مصرو ف ہوجائے، دنیا کے ایک ایک گوشے میں اس کے نام کا ڈنکا بج جائے، اس کے سینے پر بھی انعام و اکرام کے تمغے جَڑ جائیں، اسے بھی ادبی شان و شوکت حاصل ہوجائے، اس کی حیات بھی جاویداں ہو جائے، بیوی کو تو عجوبہ بناتا ہی ہے، خود اس شخص کی حیرت انگیزی اور ہماری تعجب خیزی میں بھی اضافہ کرتاہے۔ اس لیے کہ کسی ادیب کی بیوی کا اپنے ادیب شوہر کی، آگے اور پیچھے بھی، اس حد تک تعریف کرنا ایک ایسا عمل ہے  جو ادیبوں کی بیویوں سے میل نہیں کھاتا۔ عموماً ادیبوں کی بیویوں کا رویّہ تو اپنے شوہروں کے ساتھ اس بزرگ کی بیوی کی طرح ہوتاہے جس نے شوہر کے پوچھنے پر کہ رات آسمان پر جو آدمی اڑ رہا تھا، کیسا لگا؟ تو بیوی نے کافی تعریف کی مگر جیسے ہی بزرگ نے بتایا کہ وہ میں تھا تو بیوی جھٹ سے بول پڑی ”جبھی ٹیڑے ٹیڑھے اڑ رہے تھے۔‘ پتا نہیں اس فِکشن نگار نے اپنی بیوی کے کان میں کون سا فسوں پھونکا ہے یا اسے کس الّو کا ’گوشت‘ کھلایاہے کہ شوہر سے محبت کرنے میں اس نے میدانِ عاشقی میں اترنے والے نوخیز عاشقوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور شوہر پریم اور پتی بھکتی میں ارشاد پروین سے میرا بائی بن گئی ہے۔

اس کی شخصیت کے انوکھے پن کا ایک منظر اس کے دسترخوان پر بھی نظر آتا ہے۔ اقتصادی بدحالی کے آنگن میں خوش حالی کا بچھنے والا دسترخوان اور اس پر آئے دن چنے جانے والے انواع و اقسام کے مرغّن پکوان اور درجنوں کی تعداد میں ماحضرتناول فرمانے والے معزّز مہمان اور اس بے ملازمت تہی دست انسان کو حاتم طائی بنانے والے منظرِ پُرفیضان بھی اسے حیرت انگیز ثابت کرتے ہیں اور علّت و معلول والے اذہان کو تعجب میں ڈالتے ہیں۔ ساتھ ہی ثروت مندانِ عظیم آباد اور منصبِ جاہ و حشمت پر براجمان افسران کو منہ بھی چڑھاتے ہیں۔ واقعی یہ حیران کردینے والی بات ہے کہ ایک آدمی جس کے پاس برسوں سے کوئی وسیلہئ آزوقہ نہیں، اولاد بھی برسرِ روزگار نہیں، کوئی موروثی جائداد بھی نہیں، اس کے باوجود اس کی شاہ خرچی اور دریا دلی کا یہ عالم ہے کہ وہ عالم  ایک عالم کو حاتم طائی اور بادشاہ نواب رضوی کی یاد دلاتاہے۔ عقلِ دوستاں حیران ہے‘ اور تفتیشِ دشمناں پریشان کہ یہ کرشمہ کیسے ہوتا ہے کہ بن سواتی کی بوند پائے کوئی صدف موتی بناتاہے؟ بنا آب و گِل کے کوئی گل کھلاتا ہے۔قیاس آرائیاں اپنے گھوڑے دوڑانے میں مصروف ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اسے کوئی ایسا ’مرشد‘ مل گیا ہو جس کے قبضے میں کوئی ’رانی باغ‘ ہو اور اس ’مرشد‘ کے حکم سے ’رانی باغ‘ کے نگہبان رحمت صاحب خاموشی سے اس کی جیب میں اشرفیاں ڈال جاتے ہوں یا اس کے ’شکنجے‘ میں کوئی ایسا گھڑیال آگیا ہو جو مثلِ ناگ لعل اگلتا ہو اور اس کے بے رنگ گھر کو ’سرخ اپارٹمنٹ‘ میں بدل دیتا ہو، یا کوئی ایسا وظیفہ ہاتھ آگیا ہو جس کے ورد سے کسی سعودی شیخ کی بوتل سے جن نکل کر بلّی کے بچّے کی طرح دبے ’پاؤں گھر‘  میں داخل ہوتا ہو اور ریال کی جھنکار سے تنگی کے سکوت کو توڑکر اسے ایسی وسعتِ قلبی عطا کردیتا ہو جس کا لمس پاتے ہی جنابِ ایس مسٹر گلیڈ بن جاتے ہوں، یا کسی شاہی یا خانقاہی گنبد کے کبوتر آکر چپکے سے اس کے ’گھونسلے‘ میں سونے کے انڈے دے جاتے ہوں۔ ممکن ہے قیاس آرائیوں کے گھوڑے یقین کی کسی منزل تک نہ پہنچیں لیکن یہ بات تو ماننی پڑے گی کہ ان کے پاؤں ہوا میں کم اور زمین پر زیادہ ہیں ورنہ اس شخص کے ’ڈھلان پر رکے ہوئے قدم‘ اتنی تیزی سے نہیں بھاگتے اور میرا بڑا ’بھائی‘ شوکت حیات اور میری بھابی ارشاد پروین کا ’مادھو‘ اس طرح ’پاؤں‘ نہیں پھیلا تاکہ ایک جست میں دہلی، ممبئی، کلکتہ، حیدرآباد، لکھنؤ اور علی گڑھ کی ادبی زمینیں اس کے قدموں کے نیچے آجائیں اور ان زمینوں کے مکین ایک ساتھ اس کے دسترخوان پر چنی گئی خشک و تر نعمتوں کا لُطف لیں، اس کے سکوتِ دل کی ’چیخیں‘ سنیں، بانگِ جرسِ دلِ گداز بھی سماعت فرمائیں وار اپنی حیات کے رگ و پے میں سوزِ حیاتِ شوکت سموکر واپس لوٹیں۔

کچھ اور پہلوؤں سے بھی شوکت حیات نرالے نظرآتے ہیں۔ عام طور پر ٹیلی فون اور موبائل استعمال کرنے والوں کے ذہن میں کچھ دیر بعد ہی میٹرگھومنے لگتاہے۔ اعداد بظاہر نظرنہ آتے ہوں مگر ان کے خوف کے خدوخال ضرور روپ لینے لگتے ہیں اور آن کی آن میں نقوش اتنے گاڑھے ہوجاتے ہیں کہ بات کو مکمل کیے بنا ہی منہ بندکر لینا پڑتا ہے۔ یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ یہ عمل کنجوسی پر محمول کیا جائے گا یا بداخلاقی تصور کیا جائے گا مگر کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنھیں اپنی بات کے سامنے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ میٹر چاہے جتنا بھی گھوم جائے۔ گھومتا ہوا چاہے جس چھور پر پہنچ جائے، وہ اپنی بات کو لگام نہیں دیتے۔ سننے والے کے کان بھلے ہی دُکھ جائیں، ان کا منہ نہیں دکھتا۔ شوکت حیات دوسرے قبیل کے آدمیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ شروع ہوتے ہیں تو اختتام تک پہنچے بنا دم نہیں لیتے۔ جیسے فون پر بات نہ ہو رہی ہو بلکہ وہ کہانی سنا رہے ہوں اور وہ بھی طویل کہانی، اس پر مستزاد یہ کہ ان کی قصہ گوئی سے پوز غالب ہوتا ہے۔ رموزِ اوقاف کو بھی جگہ نہیں ملتی۔ کبھی کبھی تو یہ سوچ کر دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ بلا وجہ ان کا میٹر بڑھ رہا ہے مگر ان کی گفتگو کی رفتا رکا میٹر کی رفتار پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کبھی کبھی تو ان کے نقصان کا سوچ کر میں فون کاٹ دیتا ہوں مگر اکثر انکا دوبارہ فون آجاتاہے، وہ بھی معذرت کے ساتھ جیسے اس میں بھی انھیں کی غلطی ہو۔ ان کا یہ رویّہ بھی انھیں انوکھا بناتا ہے اور ان کے معاشی صورتِ حال کے تناظر میں دیکھنے پر یہ انوکھا پن اور بھی گاڑھا جاتاہے۔

جس شوکت حیات کے دل و دماغ میں لوہار کی بھٹی سے نکلے اسپات پر پڑی ہتھوڑے کی چوٹ سے چھٹکے شراروں کی مانند سرخ چنگاریاں اڑتی رہتی ہیں، اسی شوکت حیات کے لباس میں ہرے، نیلے پیلے رنگ بھی دکھائی دیتے ہیں۔ کپڑوں کی زمینوں پر رنگوں کے گل بوٹے دیکھ کر کوئی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اندر کی زمین پر غم و غصّے اور نفسیاتی پیچیدگیوں کے کتنے انگارے بچھے ہوئے ہیں۔ اندر باہر کے متضاد رنگوں کایہ انوکھا سنگم بھی شوکت حیات کی بوالعجبی میں چار چاند لگاتا ہے اور کچھ ستارے بھی ٹانکتا ہے۔

میڈیکل کی پڑھائی جس کے سوتے جاگتے سپنے دیکھے جاتے ہیں اور داخلے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے، ماں باپ اپنی تجوریوں کے منہ کھول دیتے ہیں، اپنی جائدادیں بیچ دیتے ہیں، اپنے مکان تک رہن رکھ دیتے ہیں، اس کورس میں اپنی لیاقت کے بل بوتے پر داخلہ لے کر اور ایک سال تک پڑھائی کرنے کے بعد صرف اس سلوگن کو سن کر:

High technical education makes a man slave of Bourgeois  Society

اسے چھوڑ دینا بھی شوکت حیات کو ایک منفرد شخصیت کا کردار بناتا ہے۔ ممکن ہے شوکت حیات کا یہ عمل بعض نگاہوں میں نادانی کا یا احمقانہ عمل لگتا ہو لیکن یہ بے مثال عمل اسی سے سرزد ہوسکتاہے جس کی سرشت انسانی محبت کے خمیر سے گندھی ہو اور جس کا دل ایسا گداز ہو جو ایک مٹّی سے پیدا ہونے والے انسانوں کے درمیان تفریق کے تصور سے کانپ اٹھتا ہو۔

متضاد معانی سے مزیّن ذات، متلون مزاجی صفات، سرد و گرم کیفیات اور پیچیدگیوں سے پُر نفسیات والا یہ شوکت حیات اپنے لیے چاہے جو ثابت ہو، ہمارے لیے تو باعثِ لطف و انبساط ہے کہ اسے دیکھ کر، سن کر اور پڑھ کر ہمارے سازِ حیات اور تارِ احساسات جھنجھنا اور گنگنا اٹھتے ہیں۔

 

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

شوکت حیاتغضنفر
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اکیسویں صدی کی دہلیز پر بنگال میں نِسائی ادب (شاعرات کے حوالے سے)  – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی
اگلی پوسٹ
پیام تعلیم والے شاہد علی خان – مالک اشتر

یہ بھی پڑھیں

اسحاق وردگ:کھیلن کو مانگے چاند – پروفیسر خالد...

دسمبر 12, 2023

کلکتے کا جو ذکر کیا – پروفیسر غضنفر

اگست 9, 2023

اجتماعیت میں انفرادیت: دبیر احمد – نسیم اشک

مئی 26, 2023

زندگی کے طوفان میں پرواز کناں: ڈاکٹر محمد...

اپریل 1, 2023

اخلاق،محبت اور جنون کی تثلیث : ڈاکٹر تسلیم...

فروری 16, 2023

خاقانیٔ جامعہ پروفیسر خالد محمود – پروفیسر ابن...

نومبر 15, 2022

خاتون مشرق: پروفیسر شمیم نکہت – پروفیسر ابن...

اگست 1, 2022

ماہراقبالیات پروفیسر عبدالحق – پروفیسر ابن کنول  

جولائی 21, 2022

مولانا ابو االبقا ندوی – ڈاکٹر عمیر منظر

جولائی 11, 2022

سدا بہار پروفیسر اختر الواسع – پروفیسرابن کنول  

اپریل 25, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (601)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (203)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (144)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,053)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (538)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (206)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (480)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,139)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (900)
    • خصوصی مضامین (127)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (229)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں