دو ڈھائی مہینے پہلے بیٹھے بٹھائے خیال آیا کہ مکتبہ جامعہ والے شاہد علی خان سے ایک بار ملاقات کی جائے۔ دوست کو فون کیا اور کہا کہ تکونہ پارک پہنچو، اوکھلا مارکیٹ میں شاہد صاحب کے ادارے نئی کتاب کا دفتر ہے وہاں چلنا ہے۔ دو گھنٹے بعد ہم ان کی دکان کے سامنے کھڑے تھے۔ دکان کا شٹر مقفل تھا اور دھول کی موٹی تہہ بتا رہی تھی کہ یہ دکان مہینوں سے بند ہے۔ وہاں موجود ایک شخص سے استفسار کیا تو اس نے تصدیق کی کہ یہ دفتر بہت دن سے خاموش ہے۔ اس دن نامراد گھر واپسی کرتے ہوئے کیا پتہ تھا کہ میں ان سے کبھی نہیں مل سکوں گا۔
شاہد علی خان سے میرا تعلق کم و بیش بیس-بائیس برس رہا لیکن نہ میں ان سے کبھی ملا اور نہ ہی انہیں کہیں دیکھا۔ اگر مجھ میں لفظوں کے لئے عشق کا کوئی جذبہ پیدا ہو سکا ہے تو اس کا کچھ کریڈٹ شاہد علی خان کو بھی جاتا ہے جن کی ادارت میں نکلنے والا رسالہ پیام تعلیم میرے لکھنے پڑھنے کی تربیت کا گہوارہ ثابت ہوا۔
اردو میں بچوں کے لئے نکلنے والے رسالوں میں پیام تعلیم کو ایک غیر معمولی جگہ حاصل رہی ہے۔ شروع میں یہ رسالہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا علمی ترجمان اور اس کی تعلیمی سرگرمیوں کا خبرنامہ ہوا کرتا تھا لیکن بعد میں اسے بچوں کے لئے وقف کر دیا گیا۔ میں نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے بڑوں کو اس رسالے کا اسیر پایا۔ جیسے ہی مہدی بھائی ڈاک والے یہ رسالہ لاتے ایک اودھم سا مچ جاتا اور ہر بھائی بہن کی ضد ہوتی ہے کہ رسالہ پہلے اسے پڑھنا ہے۔ جب پڑھنے لائق ہوا تو میں بھی سبقت لے جانے کے اس جھگڑے کا فریق ٹھہرا۔
پیام تعلیم ڈائجسٹ سائز میں نکلا کرتا تھا اور اس میں غالبا 98 صفحات ہوتے تھے۔ رسالے کے اندر پہلے صفحہ پر لکھا ہوتا تھا ‘اڈیٹر شاہد علی خان’۔ رسالے کے لئے ہمارا کریز اس قدر تھا کہ یہ ‘شاہد علی خان’ نامی آدمی کوئی آسمانی مخلوق معلوم ہوتا۔ جس رسالے سے ہمارا جنون کی حد تک لگاؤ ہو اس کا اڈیٹر ہونا بھلا کوئی مذاق کی بات ہے؟۔ پیام تعلیم کی ترتیب بھی پکار پکار کر کہتی تھی کہ اس کا اڈیٹر کتنا قابل اور محنتی ہے۔ آپ کو رسالے کی مقبولیت کے بارے میں بہت سی باتیں بتانے کے بجائے بس اتنا بتانا کافی ہوگا کہ اس کے ہر شمارے میں مختلف عناوین سے تقریبا پانچ سات سو نگارشات شامل ہوتی تھیں۔ ان میں بچوں کی طرف سے بھیجے گئے اشعار، اقوال زریں، معلوماتی حقائق، کہانیاں، خطوط اور قلمی دوستی کے پیغامات ہوتے تھے۔ اب آپ اندازہ کیجئے کہ جہاں اتنی بڑی تعداد میں نگارشات آتی ہوں اس رسالے کے قارئین کا حلقہ کتنا بڑا ہوگا؟۔ اس پر بھی شاہد علی خان ہر دو چار شماروں بعد ننہے قارئین کو یاد دلایا کرتے تھے کہ ایک بار کچھ چھپنے کے بعد اسی قلمکار کی نگارش چھ ماہ بعد ہی شائع کی جا سکے گی۔
چونکہ نگارشات بہت تھیں اور صفحات محدود اس لئے شاہد علی خان نے اپنے حصے کی جگہ کم کر دی۔ وہ اداریہ کے لئے ایک صفحہ بھی لینے کے روادار نہیں تھے اور ایک ہی صفحے پر فہرست، ادارے کی تفصیلات، چندے کی جانکاری وغیرہ لکھنے کے بعد جو کونہ بچ جاتا اس میں چند سطری اداریہ ‘بچوں سے باتیں’ کے عنوان سے لکھ دیتے۔ یہ اداریہ کتنا جامع ہوتا ہوگا آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اپنے معاملے میں ان کا بھلے ہی یہ ایثار ہو لیکن وہ اخلاقی تربیت کے پیغامات بڑی اہمیت سے شائع کرتے۔ انہوں نے رسالے کا دوسرا صفحہ جاگو اور جگاؤ عنوان سے حکیم محمد سعید کو وقف کر دیا تھا۔ اس میں حکیم صاحب کی بچوں کے لئے اخلاقی نصیحتیں شامل ہوتیں۔ حکیم صاحب کے قتل کے بعد بھی ان کے قلمی آثار کی بنیاد پر یہ کالم چلتا رہا۔
شاہد علی خان نے پیام تعلیم کو بچوں کی تفریح کا ذریعہ بنایا لیکن اس کے ہر جزو کو تعلیم و تربیت سے مشروط کیا۔ رفیع الزماں زبیری اور سید نظر زیدی کے مضامین کے ذریعہ وہ علم و اخلاق کی سیکھ دینے کی کوشش کرتے۔ بچوں میں علمی ذہن پیدا کرنے کا ان کا ویژن کتنا بڑا تھا اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ وہ ایک مدت تک ڈاکٹر سید حامد حسین کے مضامین کا سلسلہ ‘عقل کا امتحان’ عنوان سے شائع کرتے رہے۔ ان میں بچوں سے دلچسپ سوالات شامل ہوتے جنہیں آج کل ہم ریزنگ کے سوال کہتے ہیں۔
ان کی کوشش تھی کہ اردو پڑھنے والے بچوں کو سائنسی کہانیاں سناکر ان میں سائنس کا ذوق و شوق پیدا کیا جائے۔ اس نیت سے انہوں نے اے حمید کا ناول ‘خلائی ایڈوینچر سیریز’ قسط وار شائع کرنا شروع کیا۔ یہ ناول کئی سال تک چھپتا رہا اور اپنے زمانے میں رسالے کی جان بن گیا۔ ہربار قسط ایسے موڑ پر ختم ہوتی کہ جان لیوا سسپینس قاری کو جکڑ لیتا اور وہ اسی عذاب میں اگلے شمارے کا انتظار کرتا تھا۔
شاہد علی خان نے ہی صحافی نصرت ظہیر کو بچوں کے مزاحیہ ادیب کے طور پر متعارف کرایا۔ تقریبا ہر ماہ نصرت ظہیر کے طنزیہ مضامین پیام تعلیم میں شامل ہوتے تھے۔ شاہد علی خان نے بعد میں مکتبہ جامعہ سے ہی ان مضامین کا مجموعہ خراٹوں کا مشاعرہ نام سے شائع کیا جو بہت مقبول ہوا۔
شاہد علی خان نے بطور اڈیٹر اس بات کا اہتمام کیا کہ پیام تعلیم نئے لکھنے والوں کی درسگاہ بنے اس کے لئے انہوں نے تقریبا آدھے صفحات بچوں کی تحریروں کے لئے وقف کر دیئے۔ جو لکھ سکتے تھے ان کے لئے بچوں کی کوششیں جیسے کالم بنائے اور جو اپنے مطالعے کو شیئر کرنا چاہتے تھے ان کے لئے میرے پسندیدہ اشعار، معلومات، اقوال زریں اور گدگدیاں جیسے کالموں میں جگہ بنائی گئی۔ آدھی ملاقات کے تحت بچوں کے فیڈ بیک کو شائع کیا گیا اور قلمی دوستی کے ذریعہ علمی ذوق رکھنے والے بچوں کو قریب لانے کی کوشش ہوئی۔ انہوں نے ‘پیامی ادبی معمہ’ نام سے ہر ماہ معمے شائع کئے اور درست جواب دینے والوں کو پیسوں کے بجائے بہترین کتابیں انعام میں دیں۔ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ وہ شخص صرف ایک میگزین نہیں نکال رہا تھا بلکہ اس بہانے ملک بھر میں پھیلے اپنے ننہے قارئین کی علمی و اخلاقی تربیت کرنا چاہتا تھا۔
پیام تعلیم میں شائع نگارشات کے پتے پڑھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ اس کے قارئین کا بہت بڑا حلقہ مہاراشٹر میں پھیلا ہوا تھا۔ یوپی اور کرناٹک کے بچوں کی نگارشات کی کثرت بھی بتاتی تھی کہ ان صوبوں میں بھی رسالہ خوب پڑھا جا رہا ہے۔ پیام تعلیم کی زیادہ سے زیادہ پہنچ کو یقینی بنانے کے لئے اس کی قیمت میں برسوں میں کبھی کبھار ہی معمولی سا اضافہ ہوتا تھا۔ مجھے یہ رسالہ پانچ سے آٹھ روپئے فی شمارہ تک یاد ہے۔
رسالے کو محدود لاگت میں دیدہ زیب بنانا ایک اور امتحان تھا جس سے شاہد علی خان ہر ماہ گذرے۔ وہ عام طور پر سروق پر چھوٹے بچوں کی خوبصورت رنگین تصویریں چھاپتے تھے۔ ایک بار انہوں نے اندرونی صفحات کی تصاویر رنگین شائع کرنے کا تجربہ کیا۔ چونکہ آرٹ پیپر کے بجائے عام پیپر پر ہی تصاویر رنگین کی گئیں اس لئے بات نہیں بنی اور اگلی بار سے تصاویر پھر سے سفید و سیاہ کر دی گئیں۔
پیام تعلیم کا معیار دیکھ کر صاف پتہ چلتا تھا کہ اس کے اڈیٹر نے پورے ماہ جان کھپائی ہوگی تب یہ شمارہ تیار ہوا ہے۔ حیرت یہ ہے کہ وہی شاہد علی خان اتنی ہی مغز ماری کرکے ایک اور ادبی رسالہ کتاب نما بھی نکال رہے تھے۔ یہی نہیں وہ مکتبہ جامعہ کے جنرل منیجر کے طور پر ایک تاریخی اشاعتی ادارے کو بھی سنبھال رہے تھے۔ اتنی ساری ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے محنت کے ساتھ بہت سا ایثار بھی چاہئے جو ان میں خوب تھا۔
اپنی فرمانروائی کے زعم میں کارآمد لوگوں کو رعیت ہونے کا احساس کرانا اور ان کی خودداری کو ٹھڈے مارنا ہماری اشرافیہ کا خاص وصف ہے۔ ایسا ہی کچھ ہوا ہوگا کہ ایسے بہترین منتظم اور اتنے کامیاب اڈیٹر کو وہ ادارہ چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑا جس کے لئے اس نے واقعی پوری جوانی کھپا دی تھی۔
شاہد علی خان پر ان کی زندگی میں ایک کتاب ترتیب دی گئی تھی جس میں بہت سے لوگوں کے مضامین شامل تھے۔ ان میں سے کچھ مضامین میں ایک بات کہی گئی کہ شاہد علی خان صاحب نہ تو شاعر ہیں نہ ادیب البتہ وہ ایک اشاعتی ادارے کے کامیاب منتظم رہے (گویا یہی ان کی اکلوتی خوبی ہو)۔ خود شاہد علی خان نے بھی کہیں یہ بات کہی تھی۔ میرے خیال میں انہیں صرف ایک کامیاب منیجر یا منتظم ماننا ان کے ساتھ نا انصافی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ ہمارے دور میں بچوں کے رسائل کے سب سے کامیاب مدیروں میں تھے۔ میرے آس پاس کی نسل میں بہت سے لوگوں کے اندر تعلیم اور قلم کا ذوق و شوق پیدا کرنے کی وجہ سے وہ ملک بھر میں پھیلے ہزاروں بچوں کے استاد تھے۔ ہمارے بچپن کا یہ بہت کامیاب استاد کل صبح جب دنیا سے اٹھا تو یقین مانئے ہم سب کے دل بجھ گئے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] فکر و عمل […]