Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خاکہ

مکتبہ جامعہ شاہد علی خاں لمٹیڈ – پروفیسر خالد محمود

by adbimiras اپریل 25, 2021
by adbimiras اپریل 25, 2021 0 comment

یہ ان دنوں کی با ت ہے جب شاہد علی خاں صاحب مکتبہ جامعہ لمٹیڈ کے جنرل مینیجر ہوا کرتے تھے۔ ان دنوں مکتبہ جامعۂ قدیم طرز کی اس چھوٹی سی دو منزلہ عمارت کا نام تھا، جو جامعہ ٹیچرس کالج اور ”سیدین منزل“ کے درمیان جلوہ گہِ خاص و عام بنی ہوئی تھی۔ یہ عمارت اپنے اندر اس قدر جذب و کشش رکھتی تھی کہ اس کے نزدیک سے گزرنے والا ہر شخص اس کی سادگی میں پوشیدہ آن بان اور شان کے آگے سر عقیدت خم کردیتا اور اس کے بڑے سے بورڈ پر مکتبہ جامعہ لمٹیڈ لکھا ہوا دیکھ کر سرِ مسرت بلند کرتا ہوا گزرتا۔ اس عمارت کی نچلی منزل کے تین کمروں میں کتابیں آباد تھیں اور اوپری منزل کے دو کمروں میں شاہد صاحب کی فیملی قید تھی۔اوپر ایک بڑا سا ہال بھی تھا۔ (بڑے ہال سے میرا مطلب ہے دوسرے کمروں سے بڑا) جس نے ایک چھوٹی سی کوٹھری اپنی بغل میں دبا رکھی تھی۔ یہ ہال زیادہ بڑا نہ سہی  مگر پورا کا پورا مکتبہ اسی میں سمٹ کر آگیا تھا۔ اس ہال کے ایک کونے میں مکتبہ جامعہ کے جنرل مینیجر شاہد علی خاں ایک ایسی ٹیبل کے پیچھے بیٹھتے تھے جو عمر و عیار کی زنبیل سے کسی طور کم نہ تھی۔ اس پر کیا نہ تھا؟کتابیں، رسائل، مسودے، فائلیں، کتابت شدہ اور غیر کتابت تخلیقات، ٹائیٹل، تصاویر، کھلے خط، بے کھلے خط، موصول شدہ خطوں کے جوابات اور ان خطوں کے جوابات بھی جو ابھی موصول نہیں ہوئے تھے۔ کتاب نما اور پیام تعلیم کے مطبوعہ اور غیر مطبوعہ نسخے، قلموں کا ہجوم سب اسی پر تھا۔ اس کے علاوہ سگریٹ کے اتنے پیکٹ، جن کی تعداد ہمارے آپ کے گناہوں سے کسی طرح کم نہ ہو گی، ہمہ وقت پڑے رہتے تھے۔ اسی ٹیبل پر ایک ایش ٹرے بھی تھی جو ہر وقت ایش (سگریٹ کی راکھ) کی منتظر رہتی مگر ایش کے بدلے عیش کرتی۔ شاہد صاحب سگریٹ کی راکھ ایش ٹرے میں جھاڑنے کے قائل ہی نہ تھے۔ راکھ آزاد تھی۔ اس کا جب جہاں اورجس وقت جی چاہتا از خود گرجاتی۔ مکتبہ کی تمام برانچوں کے ضروری اور غیر ضروری کاغذات بھی اسی ٹیبل پر باہم دست و گریباں رہتے تھے۔ اس کے باوجود جس کاغذ کی ضرورت ہوتی شاہدصاحب چشم زدن میں اسی بھیڑ سے صاف نکال لیتے۔ اس ٹیبل کی قدامت کے بارے میں (دروغ برگردن راوی) جامعہ کے سب سے معتبر اور مستند محقق جناب عبداللطیف اعظمی صاحب کا خیال تھا کہ یہ اماں حوّا کے جہیز میں جنت سے آئی تھی۔ اولاد آدم کی میراث تھی، اس پر سب کا حق تھا مگر شاہد صاحب کے خوف سے کوئی زبان نہیں کھولتا (واللہ اعلم بالصواب) اسی ٹیبل پر ہڑپّاموہنجوداڑو کی کھدائی سے نکلے ہوئے چائے کے ایک طویل القامت کپ نے بھی اپنی مستقل جگہ بنا رکھی تھی۔ اس کپ میں ایک سیال سی کریہہ المنظرکالی کلونٹی شے ہر وقت انڈیلی جاتی تھی۔ جسے مکتبہ والے خدا انھیں سچ بولنے کی توفیق دے، چائے کہتے تھے، اس ”غارت گرِ خوش گوار موڈ“ کو دیکھتے ہی ہم میں سے بعضوں کے منھ کا مزا اور بعضوں کا پورا منھ بگڑ جاتا، پھر جب وہ شے سرد ہوتے ہوتے برف کے ہم رتبہ ہوجاتی تو شاہدصاحب اس میں سگریٹ کا دھواں گھول کر سارادن خشوع و خضوع کے ساتھ پیتے رہتے تھے۔ شاہدصاحب کے بارے میں ہمارا آبزرویشن یہ ہے کہ وہ جب مکتبہ کے کاموں میں مصروف ہوتے تو ان کا استغراق، انھیں عشق کی اس منزل تک لے جاتا جہاں ہستی اور نیستی میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔اس  عالم میں انھیں یہ خبر ہی نہیں ہوتی تھی کہ چائے کے نام پر انھیں کیا پلایا جا رہا ہے۔ یوں بھی مکتبہ کے ذائقے نے ان کے ہر ذائقے کو اپنے اثر میں لے رکھا تھا۔ یہی حال سگریٹ نوشی کا تھا دھواں منھ میں جاتا اور اپنا سا منھ لے کر پلٹ آتا۔ حلق سے اترنے کی ہمت ہی نہ ہوتی۔ بعض اوقات انگلیاں یا ہونٹ جل جاتے تب انھیں اطلاع ملتی کہ سگریٹ کی شرارت ہے۔ ان کا دایاں ہاتھ، سگریٹ، قلم اور چائے کی دست گیری کرتا اور ان کا دل، دماغ اور آنکھیں اوراق مکتبہ کی ورق گردانی۔ کبھی دیکھا تو نہیں مگر شاید ایسا بھی ضرور ہوا ہوگا کہ قلم منھ میں دبا کر سگریٹ سے لکھنے لگے ہوں۔ مکتبہ جامعہ کے جس ہال میں شاہد صاحب کی ٹیبل یا میز تھی اسی ہال میں اللہ کے بنائے ہوئے کچھ اور لوگ بھی بحیثیت کارکنان بیٹھتے تھے۔ اس ہال کی ایک انفرادیت یہ تھی کہ یہاں بلند آواز سے بھی سازش ممکن تھی۔ شاہد صاحب سننے کے قائل ہی نہ تھے۔ آلہئ سماعت ہوتے ہوئے اس کا احسان اٹھانا ان کی غیور طبیعت کو گوارا نہ تھا۔ پٹھانوں کی غیرت سے کون واقف نہیں۔ کبھی کبھی ہم جیسے مستقل حاضر باشوں کو اس دلچسپ صورت حال سے بھی سابقہ پڑتا جب مکتبہ کا اسٹاف ہر نووارد کی اس خواہش پر کہ شاہد صاحب سے ملاقات کرنی ہے بیک جنبش زبان یہ کہتے ہوئے پانی پھیر دیتا کہ شاہد صاحب موجود نہیں۔ اور شاہد صاحب سر جھکائے ہوئے اطمینان سے اپنے کام میں مصروف رہتے۔ ایک بار انھوں نے ہمارے استفسار کے منھ پر اس جملے کا سیلوٹیپ چپکا دیا تھا کہ اگر میں دن بھر لوگوں سے ملتا رہا تو مکتبہ کا کام کون کرے گا۔ (یہ بھی پڑھیں پیام تعلیم والے شاہد علی خان – مالک اشتر )

محل وقوع کے اعتبار سے شاہد علی خاں کے مکتبہ کا جغرافیہ کچھ یوں بنتا ہے کہ اس کی عمارت کے عقب میں جانب مغرب جامعہ کے مکانات تھے۔ تین اطراف میں عمارت سے بھی بڑا سرسبز لان تھا۔ چاروں طرف قد آدم دیوار تھی اور صدر دروازہ اس کشادہ گلی میں کھلتا تھا جسے گل مہر انکلیو کہتے ہیں۔ اسی انکلیو میں ڈاکٹر عابد حسین، صالحہ عابد حسین، اور پروفیسر صغرا مہدی کی رہائش گاہ ”عابد ولا“ ہے۔ اسی میں محترمہ سیدہ سیدین حمید ”سیدین منزل“ میں رہتی ہیں اور اسی میں مکتبہ کے بالمقابل سابق صدر جمہوریہئ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین مرحوم کا دولت کدہ واقع ہے۔ گل مہر انکلیو کی اسی بارونق گلی میں شاہد صاحب نے مکتبہ جامعہ کا وہ رنگ جما رکھا تھا کہ اردو والوں کی آنکھیں ہمیشہ ادھر ہی لگی رہتیں۔ اُس عہد کا کون سا اہل قلم ہوگا جس نے مکتبہ کے دیدار کی سعادت حاصل نہ کی ہو۔ مکتبہ کے دیدار کا مطلب شاہد صاحب کا دیدار بھی تھا۔

کہنے کو تو شاہد علی خاں مکتبہ کے جنرل مینیجر ہی تھے مگر وہ منصب و نصب کی پروا کیے بغیر ضرورت کے مطابق مکتبہ کے سارے کام خود کرلیتے۔ چنانچہ وہ مکتبہ کی سر براہی بھی کرتے اور بوقت ضرورت دفتری بھی بن جاتے۔ کتاب نما اور پیام تعلیم کے ایڈیٹر بھی تھے اور ریکارڈ کیپر بھی۔ صفائی کرم چاری اور چپراسی کا کام کرنے میں بھی انھیں کوئی قباحت نہ تھی۔ جب مکتبہ کے پاس ایمبسیڈر کار تھی تو اس کے ڈرائیور بھی خود ہی ہوا کرتے تھے۔ چوبیس گھنٹے کے پاسبان بھی وہی تھے۔ انھیں ہر وقت مکتبہ کا خرچ بچانے اور آمدنی بڑھانے کی دھن سوار رہتی تھی۔ دراصل سارا معاملہ عشق کا تھا۔ عشق فطرتاً اذیت پسند اور صبر طلب ہوتا ہے مگر عاشق کو اسی میں لذت محسوس ہوتی ہے۔ شاہد صاحب نے صبر بھی کیا اور صعوبیتں بھی اٹھائیں جیسا کہ اس راہ میں ہوتا آیا ہے مگر چوں کہ وہ فنا فی المکتبہ تھے اس لیے انھیں اپنی صعوبتوں سے کبھی کوئی گلہ نہ ہوا۔ البتہ مکتبہ کو چوٹ پہنچتی تو وہ تلملا اٹھتے اور چوٹ پہنچانے والے کی شامت آجاتی۔

شاہد صاحب فطرتاً مجلسی آدمی ہیں مگر جب مکتبہ کے کسی کام میں مصروف ہوں یا خصوصاً پیام تعلیم مرتب کر رہے ہوں اس وقت دخل در معقولات پسند نہیں کرتے تھے اس موقع پر یکسوئی قائم رکھنے کی وجہ سے کسی غیر سے ملاقات یا فون پر بات کرنا انھیں گراں گزرتا۔ اگر کوئی فون ان کے نام آتا اشارے سے منع کردیتے۔ اگرچہ کتاب نما کو فہرست کتب سے ادبی رسالہ انھوں نے ہی بنایاتھا، مگر انھیں پیام تعلیم زیادہ عزیز تھا۔ پیام تعلیم میں بغرض اشاعت آنے والے مضامین اور خصوصاً بچوں کی تخلیقات نہایت غور سے دیکھتے تھے۔ حرف حرف پڑھتے اور سرخ روشنائی سے اصلاح کرتے جاتے۔ بچوں کو برابر خط لکھتے ان کی حوصلہ افزائی کرتے۔ بہت زیادہ کاٹ چھانٹ پر کوئی کہہ اٹھتا کہ یہ مضمون تو بالکل سرخ ہوگیا ہے تو فوراً جواب دیتے ہر بڑا ادیب بچپن میں ایسی ہی غلطیاں کرتا ہے۔ میں نے کئی بڑے ادیبوں کی ابتدائی تحریریں دیکھی ہیں۔ یہی بچے اردو کا مستقبل ہیں۔ انھیں میں سے سردار جعفری، کیفی اعظمی، مجروح سلطان پوری، ساحر لدھیانوی اور ظ۔ انصاری پید اہوں گے۔ شاہد علی خاں کی دو بیویاں تھیں ایک میمونہ شاہد دوسری مکتبہ شاہد۔ ایک سے نکاح کیا تھا دوسری سے عشق۔ دونوں سے پانچ اولادیں ہیں۔ عابد، تسنیم، ماجد، کتاب نما، پیام تعلیم، آخرالذکر دو اولادیں مکتبہ سے ہیں۔

شاہد علی خاں نہایت خوبصورت، خوش وضع، خوش مزاج، خوش اخلاق، دراز قامت، سادہ لوح، جامہ زیب اور مضطرب شخصیت کے مالک ہیں۔ پینٹ شرٹ، ٹی شرٹ اور ٹائی کوٹ ہر لباس ان پرخوب سجتا ہے۔ جب پٹھانی سوٹ پہن لیتے ہیں تو سوٹ کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ بہت سی خواتین کتابوں کے بہانے انھیں دیکھنے مکتبہ آتیں مگر میمونہ بھابی پر نظر پڑتے ہی فوراً کتابیں خرید کر نامراد چلی جاتیں۔

1976میں آج سے ٹھیک چالیس سال پہلے جامعہ ہائرسیکنڈری اسکول میں بحیثیت اردو پی جی ٹی میرا تقرر عمل میں آیا تو سب سے پہلے مظفر حنفی صاحب، حنیف کیفی صاحب اور صغرا مہدی صاحبہ سے ملاقات ہوئی۔ میری طرح ان تینوں کا بھی بھوپال سے تعلق رہ چکا تھا اس لیے ذاتی طور پر میں ان سے واقف تھا۔ ملازمت جوائن کرنے کے بعد سب سے پہلے شاہد علی خاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے ملاقات کی۔  وہ دن اور آج کا دن شاہد صاحب کے خلوص و محبت میں کبھی کمی نہیں آئی۔ میں نے بھی ان کے احترام میں کوئی کسر اٹھا کر نہیں رکھی۔ پہلی ملاقات کا پودا بڑھتے بڑھتے تناور درخت بن گیا، اور اس کے سائے میں دیکھتے ہی دیکھتے چالیس برس گزر گئے۔ اس دوران یہ تو ضرور ہوا کہ مختلف مصروفیات کے باعث کئی بار ملاقاتوں کا وقفہ طویل ہوگیا، اور اس میں پہلے جیسی شدت باقی نہیں رہی، مگر حدت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ شاہد صاحب نے جب مکتبہ چھوڑا تو وہاں میری آمد و رفت بھی سرد پڑگئی، اُدھر پاؤں ہی نہیں اٹھتے تھے اور پھر رفتہ رفتہ یہ سلسلہ بالکل ہی منقطع ہوگیا۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ مکتبہ کی ساری کشش کا راز شاہد صاحب کے وجود میں پنہاں تھا۔ گویا ایک طلسم تھا جو ٹوٹ گیا۔ تاہم ان سے جو تعلق تھا وہ قائم رہا اور انشااللہ قائم رہے گا۔

شاہد صاحب کے عہد میں مکتبہ جامعہ شاعروں، ادیبوں، طالب علموں اور اساتذہ کے لیے ایک زیارت گاہ سے کم نہ تھا۔ بہت لوگ آتے جاتے رہتے کچھ ہم جیسے مستقل حاضر باش بھی تھے جو اکثر آتے اور خوب دل لگا کر بیٹھتے شاہد صاحب خود بھی ہمارے منتظر رہتے۔ ہم نہیں پہنچتے تو بلوالیے جاتے اور پھر شاہد صاحب کے قہقہوں اور حاضر باشوں کے جوابی قہقہوں کا دور چلتا۔ ساری محفل دیر تک زعفران کا کھیت بنی رہتی۔ ان دنوں مکتبہ میں ادبی ہنگامہ آرائیاں اپنے عرج پر تھیں چھوٹا سا ایک غیر رسمی گروپ بن گیا تھا، جس میں شاہد صاحب کے علاوہ پروفیسر شمیم حنفی، پروفیسر مظفر حنفی، پروفیسر صغرا مہدی اور یہ خاکسار شامل تھے۔ کچھ اور بھی لوگ گھٹتے بڑھتے رہتے۔ کبھی کبھی جناب مالک رام، جناب کرنل بشیر حسین زیدی، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی پروفیسر مشیر الحق، جناب عبدالحق خاں، جناب معظم جیراجپوری، پروفیسر ضیاالحسن فاروقی،پروفیسر اختر الواسع، پروفیسر حنیف کیفی، جناب عبداللطیف اعظمی وغیرہ تشریف لے آتے۔ جے این یو سے اقبال مسعود آجاتے۔ جناب سردار جعفری جب بمبئی سے آتے یا جناب عابد رضا بیدار پٹنہ سے تشریف لاتے تو وقت نکال کر شاہد صاحب سے ملاقات کرتے اور مکتبہ میں کافی وقت گزارتے۔ ہمیشہ ایک خوش گوار سی فضا قائم رہتی تھی۔ ان دنوں مکتبہ کے پاس ایک ایمبیسڈر کار ہوا کرتی تھی۔ عمر میں شاہدصاحب سے چند سال بڑی ہوگی۔ شاہد صاحب اسے خود ڈرائیو کرتے اور بڑے احترام سے چلاتے۔ اسی کی رفاقت میں لبرٹی آرٹ پریس جاتے۔ وہ بھی شاہد صاحب کی بہت عزت کرتی تھی۔ کبھی ان کے سامنے بے لگام نہیں ہوئی۔ اس کی رفتار شاہد صاحب کی رفتار سے تھوڑی سی کم تھی۔ شاہد صاحب کی رفتار کا مقابلہ صرف ان کی زبان ہی کرتی رہی کسی غیر کو جرأت نہ ہوسکی۔ اس کار میں ازراہ دوراندیشی دو صحت مند آدمی بٹھائے جاتے تھے جس کے نتیجے میں یہ خاکسار اور عبداللطیف اعظمی اکثر بیٹھے نظرآتے۔ اپنے بٹھائے جانے کی مصلحت تو میں سمجھ گیا کہ ہٹّا کٹّا تھا، مگر عبداللطیف اعظمی صاحب جیسے نحیف و نزار کا مصرف میری سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ انجمن ترقی اردو سے لے کر غالب اکیڈمی اور غالب انسٹی ٹیوٹ تک ہر پروگرام میں لازماً شریک ہوتے اور اسی گاڑی میں ہمیشہ اگلی سیٹ پر بیٹھ کر جاتے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں وائس چانسلر کے خود مختار پی اے تھے۔ پروفیسر محمدمجیب صاحب کے زمانے میں بحیثیت پی اے ان کے خود اختیاری اختیارات وائس چانسلر سے بھی زیادہ ہوا کرتے تھے۔ انھوں نے جامعہ کے شعبہئ اردو میں بیس سال تک پی ایچ۔ ڈی کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ وہ ایک بہت ہی پیاری اور باغ وبہار شخصیت کے مالک تھے۔ اصول پسند، سخت گیر اور تحقیق سے بھی بڑے محقق۔ انھوں نے اپنے تحقیقی اصول خود وضع کیے تھے۔ چنانچہ ایک شاعر کے انتقال کے بعد اس کی تاریخ وفات طے کرتے ہوئے انھوں نے ملک الموت کی گواہی کو بھی یہ کہتے ہوئے ازروئے تحقیق رد کردیا تھا کہ اول تو شاعر مرتا ہی نہیں، مرتا بھی ہے تو بے موت مرجاتا ہے، ملک الموت کا احسان نہیں لیتا۔ اب جب کہ اس کی موت میں ملک الموت کا کوئی یوگدان ہی نہیں تو اس کی گواہی کا بھی کیا اعتبار۔ وہ خوش رفتار، خود گفتار، ظرافت شعار، اضطراب شکار، معصوم صفت اور چھیڑ چھاڑ پسند انسان تھے۔ اپنی بات پر ڈٹے رہنا انھیں عزیز تھا۔ جس کپڑے کی ٹوپی پہنتے اسی کی شیروانی سلواتے اور ہمیشہ ٹوپی اور شیروانی میں مبتلارہتے۔ ان کے ان تمام داخلی اور خارجی اوصاف کے باوجود میں نے شاہد صاحب سے پوچھ ہی لیا کہ اگر آپ لطیف صاحب کو اسی مقصد سے اپنی کار میں بٹھاتے ہیں جس مقصد سے مجھے بٹھایا جاتا ہے تو یہ سمجھ لیجیے کہ مکتبہ کی کار شاعرہ یا ادیبہ نہیں ہے جو لطیف صاحب کے تحقیقی عزائم سے مرعوب یا خوف زدہ ہوجائے۔ بلکہ مجھے ڈر ہے کہ ایمبیسڈر نے اگر لطیف صاحب کو دیکھ لیا تو وہ راہ میں کہیں بھی دیدہ و دانستہ کھڑی ہوسکتی ہے۔ ان نامساعد حالات میں لطیف صاحب یا ان کے تحقیقی وسائل کسی کام نہیں آئیں گے، چنانچہ یہ اَن فِٹ ہیں۔میں نے شاہد صاحب کو یہ بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ راہ میں بند ہوجانے کی صورت میں اگر لطیف صاحب نے  اس نامحرم کو آگے پش کرنے کی کوشش کی تو وہ غیرت مند ضد میں پیچھے چلنا شروع کرسکتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ میں نے یہ ساری باتیں لطیف صاحب کی موجودگی میں انھیں کو گواہ بنا کر شاہد صاحب کے گوش گزار کی تھیں اور انھیں یہ بھی اطلاع دی تھی کہ میرے علم کے مطابق آپ کی ایمبیسڈر لطیف صاحب کا پیکر خاکی ملاحظہ کرچکی ہے۔ جواباًشاہد صاحب نے ہنس کر فرمایا تھا تم مطمئن رہو ایمبیسڈر اور لطیف صاحب میں معاہدہ ہو چکا ہے جس کی رو سے لطیف صاحب اس میں بیٹھ کر تحقیقی باتیں نہیں کریں گے اور ایمبیسڈر راہ میں بند ہونے کا خیال بھی دل میں نہیں لائے گی۔ (”معاہدہ ہو چکا ہے“ شاہد صاحب نے اس انداز سے کہا تھا جیسے ”نکاح ہوچکا ہے“ کہنا کیا چاہتے ہوں) میں چپ ہوگیا اور وہ دونوں اپنے عہد پر قائم رہے۔ کار بڑی وضعدار نکلی ایک دو بار تو پٹرول ختم ہونے کے بعد بھی مروتاً چلتی رہی۔ کار کی آخری عمر میں لطیف صاحب بھی کافی ضعیف ہوچکے تھے۔ ان کی بیگم نفیسہ بھابی انھیں باہر جانے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتیں مگر وہ باز نہ آتے اور ہر پروگرام میں جانے کی ضد کرتے۔ ان کی شوخی میں آخر وقت تک کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ ایک بار ان کی ضد کے آگے پھر سپر انداز ہو کر بھابی نے میرے اور شاہد صاحب کے ساتھ انجمن کے پروگرام میں انھیں بادل ناخواستہ بھیج دیا۔ واپسی پر شاہد صاحب نے اپنی گاڑی ان کے گھر کے نزدیک کھڑی کی اور مجھے حکم دیا کہ میں لطیف صاحب کو ان کی بیگم کے سپرد کرنے کے بعد ان سے رسید لے لوں۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور نفیسہ بھابی سے یہ رسید رکھوا لی۔

”ایک عدد عبداللطیف اعظمی ثابت و سالم وصول پائے اور باہوش و حواس یہ رسید لکھ دی۔ تاکہ سند رہے اور وقت بے وقت کام آئے۔“

لطیف صاحب نے اس پر بحیثیت گواہ اپنے دستخط ثبت کیے۔ ان تمام لطائف کے ساتھ ساتھ لطیف صاحب نے جو تحقیقی کارنامے نجام دیے ہیں سنجیدہ حلقوں میں کھلے دل سے ان کا اعتراف کیا جاتا ہے۔

۵۸۹۱ء کا واقعہ ہے شاہد صاحب اور ان کے رفقا کی ٹیم نے جس میں بڑے بڑے نام شامل تھے پروفیسر محمد مجیب صاحب پر ایک ضخیم کتاب ”محمد مجیب احوال و افکار“ رات دن لگ کر مرتب کی، اور ایک بڑے جلسے میں یہ کتاب مجیب صاحب کی خدمت میں پیش کی گئی۔ بڑی شاندار کتاب تھی اور بڑا یادگار جلسہ ہوا۔ جلسے سے فراغت کے فوراً بعد جب تمام لوگ جلسے کی کامیابی سے سرشار تھے اور کتاب کی اشاعت پر مسرور، مطمئن اور شاداں و فرحاں نظر آرہے تھے میں نے شاہد صاحب سے عرض کیا کہ مجیب صاحب کے بعد ان کے اور جامعہ کے عاشق صادق لطیف صاحب کا جشن بھی ہونا چاہیے۔ شاہد صاحب نے میری اس تجویز کو نہایت خوش دلی کے ساتھ قبول کیا۔ اسی وقت ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے صدر پروفیسر انور صدیقی مقرر ہوئے اور مجھے کنوینر بنایا گیا۔ ممبران میں شاہد صاحب کے علاوہ جناب معظم جیراجپوری، جناب عبدالحق خاں، جناب پروفیسر مشیر الحق، جناب پروفیسر شمیم حنفی، جناب پروفیسر مظفر حنفی اور جناب محمد انس شامل تھے۔ تمام ممبران جشن کی تاریخ لینے لطیف صاحب کے گھر پہنچے۔ پُر تکلف کھانا کھایا اور ہنستے ہنساتے واپس آئے۔ ۸/مارچ ۵۸۹۱ء کو ٹیچرس کالج کے سمینار ہال میں ”جشن در بیان لطیف“ کے عنوان سے یہ قہقہہ بردوش جشن، پروفیسر ضیاالحسن فاروقی صاحب کی صدارت میں منعقدہوا۔ اس میں جامعہ کے بے شمار اساتذہ اور کارکنان کے علاوہ کرنل بشیر حسین زیدی، جناب انور جمال قدوائی، پروفیسر مشیر الحق، پروفیسر محمد اکرام خاں اور ڈاکٹر سلامت اللہ جیسے کئی سابق موجودہ اورمستقبل کے وائس چانسلرس نے نہ صرف شرکت فرمائی بلکہ خوبصورت تقریریں بھی کیں۔ کئی دلچسپ مضامین پڑھے گئے۔ مظفر حنفی صاحب نے روایتی انداز کا ایک شاندار قصیدہ پڑھا جس میں قصیدے کے تمام اجزائے ترکیبی کا لحاظ رکھا گیاتھا۔ میں نے بھی لطیف صاحب کا ایک خاکہ ”ذکر اس پری وش کا“ سنایا۔ شاہد صاحب نے جشن کے مضامین اور منظوم تہنیت ناموں پر مشتمل کتاب چھاپ کر اسی جشن کے موقع پر لطیف صاحب کی خدمت میں پیش کی۔اس جشن کی بے مثال کامیابی سے شہ پا کر دو انجمنیں قائم ہوئیں ایک ”انجمن تحسین باہمی“ اور دوسری ”انجمن جشن کروالو“ کیا اچھے دن تھے جو گزر گئے اور کیا لوگ تھے جو رخصت ہوئے۔ شاہد صاحب کے زمانے میں مکتبہ میں ایک زندگی تھی ایک رونق تھی اورمکتبہ ایک اردو تحریک کی شکل اختیار کرچکا تھا۔

میں نے شاہد صاحب سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اردو سے محبت تو خیر ہماری بھی گھٹی میں شامل تھی۔ احسان شناسی، ایثار پسندی، ایمانداری، بے نیازی اور رزق حلال پر اصرار جیسی نعمتیں الحمداللہ وراثت میں مل گئی تھیں۔ مگر کام سے غیر معمولی رغبت، حوصلہ مندی، عزم و استقلال اور ذاتی نفع و نقصان سے بے پروا ہو کر مکتبہ کی خدمت اور اس کے فائدے کے لیے دوستوں سے ایثار و تعاون کا بے جھجھک مطالبہ، شاہد صاحب کی وہ صفات عالیہ ہیں جو انھیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ شاہد صاحب کے زمانے میں مکتبہ سے میری تین کتابیں شائع ہوئیں۔ ”سمندرآشنا“، ”ادب کی تعبیر“، اور ”اردو سفرناموں کا تنقیدی مطالعہ“ ان تینوں کے مصارف میں نے خود اپنے پاس سے ادا کیے تھے (مکتبہ نے میری کبھی کوئی کتاب اپنی گرہ سے نہیں چھاپی) مگر میری بیشتر کتابیں وہیں رہتیں تھیں۔ ضرورت ہوتی تو وہیں سے لے آتا۔ سفرنامہ چوں کہ اعلیٰ تعلیم کے نصاب میں شامل تھا اس لیے یہ کتاب خوب فروخت ہوئی۔ ایک مرتبہ جب دوسرے کچھ لوگ اپنی کتابوں کی فروخت کا حساب کر رہے تھے، میں نے بھی مکتبہ کے اکاؤنٹنٹ سے تذکرۃً کہہ دیا کہ ہماری کتابوں کا حساب بھی دیکھ لیں۔ اس سے پہلے کہ اکاؤنٹنٹ صاحب کوئی جواب دیں شاہد صاحب نے بڑے حق سے فرمایا ”تمہیں پیسوں کی ضرورت نہیں مکتبہ کو زیادہ ضرورت ہے۔“ مکتبہ سے شاہد صاحب کا یہ پیار، یہ فکرمندی، یہ دردمندی، دیکھ کر میں بہت متاثر ہوا۔ ان کی یہ صاف گوئی بھی مجھے بھلی معلوم ہوئی۔ بات نہایت معقول اور صد فیصد درست تھی۔ شاہد صاحب کا یہ جواب مجھ پر ان کے اعتماد اور اپنائیت کی دلیل تھا۔ ایک پیغام تھا جو مجھے اچھا لگا،اور اس نے مجھے اس درجہ متاثر کیا کہ میں نے اس پیغام کو اپنی گرہ میں باندھ لیا۔ میں نے سوچا مجھے واقعی پیسوں کی اتنی ضرورت کہاں ہے جتنی مکتبہ کو ہے۔ میں نے شاہدصاحب کا پڑھایا ہوا یہ سبق ہمیشہ یاد رکھا۔ یہ سبق مجھے اس وقت بھی یاد تھا جب میں 2010 سے کر 2014 تک تقریباً پانچ سال مکتبہ جامعہ کا اعزازی مینیجنگ ڈائریکٹر رہا اور اسی حیثیت سے کتاب نما کا مدیر اعلیٰ بنایا گیا۔ مدیر بننے کے بعد بھی میں نے کتاب نما کی خریداری ترک نہیں کی اور حسب معمول زر سالانہ ادا کرتا رہا۔ اسی طرح جب میں نے مکتبہ کے کیلنڈر کی سالانہ اشاعت کا آغاز کیا تو اپنے احباب اور جامعہ کے ارباب حل وعقد کو بھی کیلنڈر قیمتاً ہی پیش کیا۔ خود بھی ہر سال سو پچاس کاپیاں خرید کر تقسیم کرتا رہا۔ اسی دوران بحیثیت مینیجنگ ڈائریکٹر جب میں مکتبہ کی ممبئی برانچ کا معائنہ کرنے اور دوسری مرتبہ قومی کونسل کے کتاب میلے میں شرکت کی غرض سے بہ حکم شیخ الجامعہ ممبئی گیا تو وہاں اپنے قیام و طعام اور جہاز سے آمد و رفت کے تمام اخراجات دونوں مرتبہ خود اپنی جیب سے ادا کیے۔ مکتبہ کو زیر بار نہیں ہونے دیا۔ حالاں کہ ٹی۔ اے اور ڈی۔ اے وصول کرنے کا مجھے اخلاقی و قانونی حق حاصل تھا۔ مگر شاہد صاحب کی پر خلوص آواز میرے کانوں میں گونجتی رہی ”تمہیں پیسوں کی ضرورت نہیں مکتبہ کو زیادہ ضرورت ہے۔“ مجھے خوشی ہے کہ میری کاوش اور اس وقت کے اردو دوست وائس چانسلر جناب نجیب جنگ صاحب کی خصوصی دلچسپی کی وجہ سے مکتبہ جامعہ کی چار سو قیمتی کتابیں جو دیمک کی غذا بنتی جارہی تھیں۔ قومی کونسل کے اشتراک سے شائع ہو کر مکتبہ جامعہ کی چاروں برانچوں میں پہنچ گئیں۔ کونسل نے ہر کتاب کی گیارہ سو کاپیاں چھاپی تھیں اس حساب سے کل تعداد چار لاکھ چالیس ہزار ہوتی ہے جو بڑی حصولیابی تھی۔ میری ہی کوشش سے ”بوانا“ کا پلاٹ بھی مکتبہ نے خرید لیا۔ مزید برآں مکتبہ کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ایس۔ آر۔ کے بلڈنگ کے عقب میں پوشیدہ دو چھوٹی چھوٹی کوٹھریوں سے نکال کر مین روڈ کی دو منزلہ وسیع و عریض عمارت میں لانے کا اعزاز بھی مجھے حاصل ہوا۔

شاہد صاحب کے اس سبق نے مجھ سے بڑے بڑے کام لیے ہیں۔ میں ان کا شکر گزار ہوں۔ ساتھ ہی شعبۂ اردو کے رفقا اور طلبا کا بھی شکریہ ادا کرتاہوں جن کے سرگرم عملی تعاون نے میرے عزائم اور حوصلے کو بحال رکھا اور میرے جوش و جذبے کو سرد نہیں ہونے دیا۔ مکتبہ کے تمام کارکنان بھی میرے شکریے کے مستحق ہیں، جو نہایت قلیل تنخواہ پر صبح سے شام تک محنت کرتے ہیں اور جنھوں نے مکتبہ کی از سر نو تعمیر و ترقی میں قدم قدم پر میرا ساتھ دیا تھا۔ مجھے احساس ہے کہ مکتبہ کی ان غیر معمولی کامیابیوں اور کامرانیوں کے حصول کی جدو جہد میں ان کی محنتوں کا عرق شامل ہے۔ اللہ انھیں جزائے خیر دے (آمین)۔

آخر میں یہ عرض کرنا ہے کہ میرے مربیّ اور محبی شاہد علی خاں صاحب کے مکتبہ جامعہ سے عشق کا آغاز ممبئی برانچ سے ہوا تھا۔ مگرمیں وہاں کا گواہ نہ بن سکا۔ دلی میں اسے پھلتا پھولتا ضرور دیکھا ہے اور خوب دیکھا ہے یہاں جو دیکھا ہے اور جو محسوس کیا ہے انھیں تاثرات کو اپنے انداز میں لکھنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم مجھے اعتراف ہے کہ یہ ان کی داستان عشق کا عشر عشیر بھی نہیں۔ ان کے کارنامے مربوط و مبسوط کتاب کے متقاضی ہیں۔ وہ اپنے رنگ میں تنہا ہیں ان کا کوئی حریف نہیں اور ہو بھی نہیں سکتا۔ بقول غالبؔ  ؎

کون ہوتا ہے حریف مئے مرد افگن عشق

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

jamia maktabakhalid mahmoodshahid ali khanجامعہ مکتبہخالد محمودشاہد علی خان
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مولانا وحید الدین خاں: کچھ یادیں، کچھ باتیں – محمد ابراہیم سجاد تیمی
اگلی پوسٹ
”پوکے مان کی دنیا “ (معاصر عہدکے چیلنجز کا اِظہار) – ڈاکٹرمظہر عباس

یہ بھی پڑھیں

اسحاق وردگ:کھیلن کو مانگے چاند – پروفیسر خالد...

دسمبر 12, 2023

کلکتے کا جو ذکر کیا – پروفیسر غضنفر

اگست 9, 2023

اجتماعیت میں انفرادیت: دبیر احمد – نسیم اشک

مئی 26, 2023

زندگی کے طوفان میں پرواز کناں: ڈاکٹر محمد...

اپریل 1, 2023

اخلاق،محبت اور جنون کی تثلیث : ڈاکٹر تسلیم...

فروری 16, 2023

خاقانیٔ جامعہ پروفیسر خالد محمود – پروفیسر ابن...

نومبر 15, 2022

خاتون مشرق: پروفیسر شمیم نکہت – پروفیسر ابن...

اگست 1, 2022

ماہراقبالیات پروفیسر عبدالحق – پروفیسر ابن کنول  

جولائی 21, 2022

مولانا ابو االبقا ندوی – ڈاکٹر عمیر منظر

جولائی 11, 2022

سدا بہار پروفیسر اختر الواسع – پروفیسرابن کنول  

اپریل 25, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں