Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

”پوکے مان کی دنیا “ (معاصر عہدکے چیلنجز کا اِظہار) – ڈاکٹرمظہر عباس

by adbimiras اپریل 25, 2021
by adbimiras اپریل 25, 2021 0 comment

نواستعماریت،صارفیت، میڈیا، گلوبلائزیشن، انٹرنیٹ، چیٹنگ، جنک فوڈ کے اثرات صرف معاشی سطح پر نہیں ہیں۔سماجی سطح پر نوجوان نسل اور کم عمر بچے بہت تیزی کے ساتھ اس منظرنامے کو نہ صرف قبول کر رہے ہیں بلکہ ان کے مضر اثرات سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ کم عمر بچے اور نوجوان نسل اپنے بزرگوں کی اخلاقیات، روایات کو فرسودہ سمجھنے لگے ہیں۔والدین کی مداخلت کو قبول نہیں کررہے بلکہ اسے جنریشن گیپ کا نام دے رہے ہیں۔ خاندان،رشتے،محبتیں اور سماجی اقدار جو اگلی نسل کی آبیاری کیا کرتی تھیں،اُس نسل کے کردار کو ایک خاص نہج عطا کرتی تھیں،سیکڑوں سالہ اقدار،رویے اور اخلاقیات کا بیج اگلی نسل میں بویا کرتی تھیں وہ نہ رہیں۔ہم آنے والی تبدیلیوں کو قبول کرنے سے اِنکاری ہیں، لیکن آنکھ بند کر لینے سے حقائق بدل تو نہیں جاتے۔ بدلتے ہوئے سماجی منظرنامے میں خاندانی نظام سب سے زیادہ شکست و ریخت کا شکار ہے۔ ہمارا سماج اِس حقیقت کو قبول کرنا تو ایک طرف رہا،اِس پر مکالمہ کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔میڈیائی یلغار نے خبر دینے کے بجائے ذہین سازی کا عمل شروع کر رکھا ہے۔نوجوان نسل سب سے زیادہ اِس یلغار سے متاثر ہو رہی ہے۔آخر اِنٹر نیٹ پر اتنازیادہ مواد ’پورن‘کیوں ہے؟کون لوگ ہیں جو فری یہ سروس مہیا کر رہے ہیں؟ہم اِس کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہے،یا تبدیل ہوتی اِس اخلاقیات کو زیرِبحث لاتے ہوئے گھبراتے ہیں۔اِن کی ایک بڑی وجہ ہمارا مشرقی مزاج اور مذہبی تشخص ہے جو تبدیلی کو ناپسند کرتا ہے۔ایک اور وجہ اڈھاک ازم ہے جسے ہم ڈنگ ٹپاؤ پالیسی بھی کہ سکتے ہیں۔اِنفرادی اور اجتماعی رویوں کے ساتھ ساتھ ملکی پالیسیوں میں،سلیبس میں یہاں تک کہ دانش میں بھی یہی پالیسی کارفرما نظر آتی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں مشرف کے ناول’نالۂ   شب گیر‘ کا تنقیدی جائزہ – ڈاکٹر پرویز شہریار )

اِنڈیا اِس حوالے سے ہم سے آگے ہے۔وہاں سوشل میڈیا،الیکٹرانک میڈیا،فکشن،اور فلم میں ایسے موضوعات کو چھیڑا جا رہا ہے جن پر ہمارے ہاں لکھنا تو دور کی بات ہے گفتگو کرنا بھی ممنوع ہے۔ہماری نوجوان نسل عطائی حکیموں کے اِشتہارات کو پڑھ پڑھ کر جنسی مریض اور علاج کے نام پر گردے فیل کراتی جارہی ہے اور ہم اُن سے مکالمہ نہیں کر سکتے کیونکہ ہماری اخلاقیات میں جنس پر بات کرنے کی اِجازت نہیں۔مغرب میں یہ مسئلہ نہیں ہے۔اُس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کے سماج میں بتدریج اور تسلسل کے ساتھ تبدیلی آئی ہے۔مغرب میں پیداواری ارتقاء، سماجی ارتقاء اورفکری ارتقاء میں تسلسل اور ہم آہنگی رہی۔اِس لیے وہاں کے سماج کو اس نوع کے مسائل کا سامنا نہیں ہے(اُن کے سماجی مسائل اور نوعیت کے ہیں)۔

ہمارے ہاں پیداواری نظام اور بدلتی سماجی اقدار میں کوئی ربط ہی نہیں ہے۔ہم مابعدجدید عہدمیں رہتے ہوئے نیم جاگیردارانہ،نیم سرمایہ دارانہ اور نیم قبائلی نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ہماری سماجی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کا تعلق ہمارے اپنے تناظر سے نہیں بلکہ عالمگیریت کے اثرات سے ہے۔یہ تبدیلیاں بظاہر مصنوعی اور غیر اہم نظر آتی ہیں،شاید اِس لیے ان پر سنجیدہ مکالمے کا آغاز نہیں ہوا،لیکن یہ اِتنی غیر اِہم نہیں کہ اِنہیں نظر انداز کیا جائے۔نوجوان حیران ہوتے ہیں کہ بزرگ انٹر نیٹ،کیبل،ٹی وی اور کلب جیسی سہولیات کے بغیر زندہ کیسے تھے؟ یعنی اب زندگی میں رشتوں،محبتوں،روایات اور اخلاقیات سے زیادہ اہمیت میڈیا اور کلب کی ہو گئی ہے۔بزرگ تنگ سلیولیس لباس میں بیٹی کودیکھ نہیں سکتے۔نوجوان اسے دقیانوسیت اور جنریشن گیپ کہتے ہیں۔بات صرف جنریشن گیپ کی نہیں ہے،جنریشن گیپ تو ہر دور میں،ہر نسل کا مسئلہ رہا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ نئی نسل اور پرانی نسل میں یہ گیپ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔اسے سمجھنا ضروری ہو گیا ہے کیونکہ اسے سمجھے بغیر سماج میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنا ممکن نہیں ہو گا۔ اس سارے منظرنامے کی موثر اور بھرپور عکاسی مشرف عالم ذوقی کے ناول ”پوکے مان کی دنیا“ میں کی گئی ہے۔ ناول میں ہندوستانی معاشرے کے اندر آنے والی تبدیلیوں کو موضوع بنایا گیا ہے اور خاص طو رپر نوجوان نسل کی جنسی زندگی پر جواثرات پڑے ہیں ان کو پیش کیا گیا ہے۔

ناول کو پڑھتے جائیں خودبخود انڈیا اور پاکستانی سماج کا تقابل ہوتا جاتا ہے۔کیونکہ یہ دونوں ممالک ثقافتی مماثلت کے ساتھ ساتھ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بہت بڑی مارکیٹ ہیں۔ انہیں اپنی مصنوعات کو فروخت کرنا ہے۔۔۔کسی بھی قیمت پر۔۔۔ تہذیب،سنسکرتی،اخلاقیات کی قیمت پر ہی سہی۔۔۔مصنوعات کا بِکنا ضروری ہے۔اِشتہار بازی میں حقیقت اور فنٹسی کواتنا گڈمڈ کر دیاگیا ہے کہ حقیقت کی حیثیت ثانوی ہو کر رہ گئی ہے۔ویسے بھی ہر نسل کی اپنی حقیقت اور اپنی فنٹسی ہوتی ہے۔مابعد جدید نسل کی حقیقت فینٹسی اور لمحہِ موجود سے عبارت ہے۔

ناول پر مزید بات کرنے سے پہلے مختصر طور پر ناول کی کہانی پیش کرنا ضروری ہے۔ناول کی کہانی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے کچھ ادھڑ عمر خواتین و حضرات، نئی نسل کے نمائندہ کچھ لڑکے لڑکیاں،عالمی استعماری معاشی قوتیں،بکاؤ میڈیا،مفاد پرست سیاستدان اوراحمق سوسائٹی (جو عقل کا اِستعمال کرنا معیوب خیال کرتے ہیں) کے گرد گومتی ہے۔ناول کا مرکزی کردار سنیل کمار رائے  پس ماندہ علاقے گوپال گنج سے تعلق رکھتا ہے۔اپنی محنت کے سہارے جج بن جاتا ہے۔ایک مقدمہ اس کی پرسکون زندگی میں ہلچل مچاتا ہے۔وہ اِرد گرد کی زندگی کو روایتی اقداری سانچوں میں دیکھتا ہے،سب غلط نظر آتا ہے۔اب کہانی کا کچھ حصہ اقتباسات کے ذریعے۔۔۔

”میری نظر نے ایک مرتبہ پھر اس کا تعاقب کرنا چاہا۔مگر ہر بار بیٹی کی جگہ جسم آڑے آتا رہا۔۔۔وہی تنگ کپڑوں میں سمٹا ہوا ایک کھلا جسم۔۔۔جسے دیکھتے ہوئے باپ اپنی ہی نظر میں ننگا ہو جاتا ہے۔۔۔“]ٍ1[

”یعنی بس تھوڑے سے لمحے۔جب رات میں ایک میز کے گرد۔۔۔تھوڑی دیر کے لیے تم لوگ سمٹ جاتے ہو۔ایک بیوی ہوتی ہے۔ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔۔۔اور۔۔۔تنہائیوں کا مرثیہ ہوتا ہے۔۔۔“]2[

ریا زور سے چیختی ہے۔۔۔یہ ہے جنریشن گیپ۔۔۔آپ کے اور ہمارے بیچ کا ڈیڈ۔اونلی جنریشن گیپ۔آپ صرف ہماری جنریشن میں بیکٹیریا ڈھونڈو گے۔۔۔غلط باتوں کا بیکٹیریا۔۔۔یو آسو کنزرویٹواینڈ اولڈ فیشنڈ۔۔۔بدلے ہوئے زمانے میں آپ کبھی ہمیں Accept کرو گے ہی نہیں۔۔۔“]3[

میری بیٹی اگر چھوٹے کپڑے پہنتی ہے تو پہنا کرے۔۔۔اُس کے دوست اُس کے کمرے میں ’بے کھٹک‘داخل ہو کر دروازہ بند کر لیتے ہوں۔۔۔تو بند کر لیا کریں۔۔۔نتن اپنی گرل فرینڈ کو آزادانہ سب کے سامنے چوم سکتا ہے،تو۔۔۔بڑے بننے کے طفیل میں آنکھوں کا بند رکھنا ضروری ہے۔لیکن سنیل کمار رائے سے یہی نہ ہو سکا۔۔۔وہ گوپال گنج کے ’چھوٹے آدمی‘ہی بنے رہے۔شاید۔۔۔پرانے سنسکاروں سے لپٹے ہوئے اور بچے اُڑتے رہے۔۔۔اسنیہ نئی باتوں سے سمجھوتا کرتی رہی۔۔۔“]4[

اسنیہ کا سمجھوتا اور سنیل کمار کا فرارجاری رہتا اور زندگی اسی طرح گزر جاتی،بچے اپنی پسند اور اپنے انداز سے شادی بیاہ کر کے اُڑ جاتے۔۔۔کہانی ختم۔۔۔ہیپیلی اینڈ۔۔۔ناول کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔شاید ایسا ہی ہوتامگر ایسا ہوا نہیں۔ کہانی میں ایک دھماکہ دار انٹری ہوئی،پرانی روایات اور تبدیل ہوتی نئی اخلاقیات کا ٹکراؤ کھل کر سامنے آ گیا۔ایک بارہ سالہ بچے نے اپنی ہم عمر کلاس فیلو کے ساتھ جنسی عمل کیا۔گھٹیا سیاست کے علمبرداروں نے اسے ’دلت ایشو‘،’دلت بالکا بلاتکار‘ بنا دیا۔سنیل کمار رائے پر سیاسی دباؤ ہے کہ وہ سزا سنائے،اور وہ جاننا چاہتا ہے کہ آخر یہ کیسے ممکن ہے؟اس کا ذمہ دار کون ہے؟والدین؟میڈیا؟انٹرنیٹ؟جینک فوڈ؟یا ہارمونز میں کوئی تبدیلی؟جاننے کے اِس عمل میں وہ ہندوستانی  معاشرے  اورعالمی سطح پر تبدیل ہوتی سماجی اور جنسی اخلاقیات خصوصاََ بچوں میں آنے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کرتا ہے۔اُس کا یہ مطالعہ قارئین کے لیے معلومات کا باعث بنتا ہے۔اسی عمل کے دوران اُس کا اپنی بیٹی ریا، بیٹے نتن اور بیوی اسنیہ سے مکالمہ اِحساس دلاتا ہے کہ نئی نسل اور پرانی نسل کے درمیان بڑھتی خلیج کو صرف جنریشن گیپ کہ دینے سے معاملات کو سمجھا نہیں جا سکتا۔اِس بڑھتی ہوئی خلیج کو سمجھنے کے لیے روایتی اخلاقیات اورتبدیل ہوتی نئی اقدار کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

روایتی اخلاقیات میں اپنی ’ذات‘کو ہی سب سے زیادہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔نام سے لے کر مذہب، عقائد، رویے، روایات، لباس، طرزِزندگی،مستقبل کے فیصلے دوسرے کرتے ہیں۔میں کیا چاہتا ہوں سے زیادہ فکر معاشرے،والدین،بہن بھائی،ہمسائے، اور لوگوں کی ہوتی ہے۔سب سے زیادہ خوف ان دیکھی قوتوں کا ہوتا ہے۔ماضی یا مستقبل میں زندگی گزاری جاتی ہے۔لمحہِ موجود کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔ جزا اور سزا کی ان دیکھی آنے والی زندگی پر،حقیقی اور موجودہ زندگی کو قربان کر دیا جاتا ہے۔ جزا اور سزا کے روایتی تصورات کی وجہ سے’خوف‘اور’لالچ‘ فرد کی شخصیت کے غالب عناصر بن جاتے ہیں،جو آزاد ی،خود مختاری اور خود اختیاری جیسے بنیادی وجودی اختیارات کو ختم کر دیتے ہیں۔

نئی نسل یہ سب جان چکی ہے،اِس لیے وہ روایتی اقداری سانچوں سے باغی ہے۔وہ ہر اُس قدر کو نظر انداز کر رہی ہے جو اُس کی آزادی، اختیاراورقوتِ فیصلہ کو چیلنج کرتی ہے۔اُسے سنہرے ماضی،عظیم شخصییات سے کوئی دلچسپی نہیں، اور نہ ہی وہ مستقبل کی لمبی منصوبہ بندی کے قائل ہیں۔  نئی اخلاقیات میں لمحہِ موجود اور ’ذات‘ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ہمارے روایتی ہیروز سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔اُن کے اپنے ہیروز ہیں۔۔۔ لمحاتی نوعیت کے۔۔۔  آگے کی کہانی کے لیے کچھ اقتباسات۔۔۔

”۔۔۔جو وقت بدل رہا ہے۔اس کی آواز بھیانک ہے۔۔۔ایک بھیانک طوفان ہے۔جس کی صدا کم لوگ سن رہے ہیں۔لیکن یہ طوفان آچکا ہے۔مختلف شکلوں میں۔۔۔نئی ٹکنالوجی اور نئے’سیسموگراف کے طور پر۔۔۔طوفان آ چکاہے۔اور سچی بات یہ ہے کہ یہ طوفان سب کچھ بہا کر لے جائے گا۔۔۔“]5[

”سامنے والا،ہر دوسرا آدمی دھوکا ہے۔۔۔illusion ہے۔۔۔فریب ہے۔۔۔کسی کے ہنسنے پر کبھی دکھی نہیں ہوتا۔۔۔ہم کس کے لیے جیتے ہیں۔۔۔اپنے لیے ریا۔کس کے لیے خوش ہوتے ہیں۔۔۔اپنے لیے۔۔۔کس کے لیے کھاتے پیتے ہیں۔۔۔عمر کی گاڑی آگے بڑھاتے ہیں۔۔۔اپنے لیے۔۔۔اِس لیے جینے کا سارا فلسفہ اپنے لیے،صرف اپنے لیے سے جڑا ہے۔۔۔“]6[

”آج میں جیو۔کیونکہ۔۔۔ہم تو ہمیشہ سے ایسے ہیں۔۔۔ہم ایسے ہی رہیں گے۔۔۔پیچھے مڑ کے مت دیکھو۔ہمیشہ ورتمان پر نظر رکھو۔۔۔جو ہو رہا ہے اچھا ہے۔۔۔آگے جو ہو گا اچھا ہو گا۔۔۔یہی اِس پوسٹ ماڈرن ایج کا فلسفہ ہے۔“]7[

”۔۔۔یو نو۔یہ پروگرام ہم Afro Asian Society کے contributionسے کر رہے ہیں۔ہم سب کا راستہ ایک ہے۔۔۔ایک دوسرے کی ’دھنوں‘کو پہچاننا۔دراصل سنگیت کے بہانے ہم دیس،ریلیجین،ہر طرح کی باؤنڈری،سرحد اور دیواروں سے پار نکل جانا چاہتے ہیں۔۔۔“]8[

یہ ہے پوسٹ ماڈرن عہد،اس کی زندگی اور فلاسفی جو نہ ماضی پر یقین رکھتی ہے نہ مستقبل کی فکر،جو نہ رشتوں پر یقین کرتی ہے نہ روایات پر،لفظ کا اعتبار کرتی نہ ہی معنی کا۔ہر قسم کی حدود کا انکار۔۔۔کوئی اِقرار بھی تو ہونا چاہیے۔۔۔چاہے binery oppositeکے طور پر سہی۔۔۔ ہو تو۔۔۔ بس لمحہ ِموجوداور میں،میری persiption، جوعدم تیقن،بے معنویت،لایعنیت سے عبارت ہے۔۔۔اِس ساری فلاسفی کا فائدہ کس کو ہے؟سنیل کمار کو؟اسنیہ کو؟نکھل کو؟اب ذرا نکھل کا قصہ بھی سن لیں۔۔۔سنیل کمار کا دوست،سپریم کورٹ کا دھانسو وکیل،’نکھل‘ زندہ دل، ہنس مکھ، ملنسار اور فلرٹ انسان ہے وہ بھی ایک دن پھپھک پھپھک کر رونے لگا۔ اس کی بیوی ’لالی‘ اپنے کالج کے ایک نوجوان کے ساتھ افیئر چلا رہی ہے اور اس کی بیٹی ’رَتو‘ نے فرنچ ایمبیسی کے ایک نوجوان کے ساتھ رہنا شروع کر دیا ہے۔ نہ شادی، نہ نکاح نہ کوئی جھنجھٹ، اس لیے سنیل کمار رائے سے کہتا ہے:

”سالے تہذیب کے محافظ___ اپنا گھر بچائے گا___ میرا گھر بچائے گا___ کس کس کا گھر بچائے گا___ اور کیوں بچائے گا___ مجھے لگا ’دتہ‘ ٹھیک کہتا ہے___ یہ بچے کچھ بھی کر سکتے ہیں ___ سارے گناہ، سارے غلط، ناجائز دھندے___ یہ بچے اگر پیدا ہونے کے ساتھ ہی ریپ کرنے لگیں تو مجھے حیرت نہیں ہوگی۔“]9[

سوال وہی ہے کہ آخر اِس عہد اور اِس فلاسفی کا فائدہ کس کو ہے؟عام آدمی؟تیسری دنیا کو؟ یاملٹی نیشنلز کو؟عام آدمی کے لیے تو حدود اور بھی سخت ہو گئے ہیں۔کوئی نظریہ نہیں۔۔۔کوئی آئیڈیل نہیں۔۔۔کوئی ضابطہ نہیں۔۔۔کوئی ماضی نہیں۔۔۔ آگے کی فکر نہیں۔۔۔کوئی اخلاقیات نہیں۔۔۔ دنیا کو گلوبل ولیج بنا دیا۔ایک ڈیوائس کے سہارے پوری دنیا سے جوڑ دیا۔۔۔لیکن ماں،باپ،بہن، بھائی،عزیز و اقارب،دوست اور ساتھیوں سے کاٹ کر ایک کمرے کا قیدی بنا دیا۔حققت سے زیادہ فنٹسی کی دنیا میں زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا۔۔۔’اسپائیڈر مین‘،’ہیری پوٹر‘،’نی یو‘ جیسے خوابوں میں رہنے والے کرداروں کو آئیڈیل بنا دیاگیا۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ بچوں کو یہ آئیڈیل،یہ خواب، یہ طرزِفکر و نظر کون دے رہا ہے؟فائدہ کس کو ہوا؟ترقی یافتہ ممالک۔۔۔جہاں پوری دنیا کا سرمایہ جمع ہو رہا ہے۔۔۔جو پوری دنیا پر اپنی اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہیں۔۔۔اس سارے منظرنامے میں عالمی معاشی قوتیں اور ترقی یافتہ ممالک اپنی ذمہ داریوں کو قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی بے حسی کے حوالے سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

”مارس پر پانی ہے تو سائنس دان، وہاں پائی جانے والی زندگی کے بارے میں مطمئن ہو جاتے ہیں اور یہاں زمین پر___ یہ اُجلا شفاف پانی___ جو ہر دن گزرنے کے ساتھ، سرخ پانی میں تبدیل ہوتا جارہا ہے وہ___“]10[

اگر مارس پر پانی دریافت ہو بھی جائے یا زندگی کے آثار مل بھی جائیں تو اس سے کیا فرق پڑے گا؟یہاں زمین پر موجود انسانی زندگی قابلِ توجہ کیوں نہیں۔زمیں پر موجود انسانی آبادی کابیشتر حصہ زندگی کی بنیادی سہولیات کو ترس رہا ہے۔ زمین پر موجود وسائل پر چند ملک،چندسو کمپنیاں اور چند ہزار لوگ قابض ہیں،جواِشتراکیت جیسے کسی بھی فتنے سے بچنے کی خاطر اجتماعیت کے ہر نظرے اور فکر کی نفی کر رہے ہیں۔کسی شاعر کا ایک شعر یاد آرہا ہے

بستیاں چاند ستاروں پہ بسانے والو

قرۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ

ناول کا اختتام بہت معنی خیز ہے۔ سنیل کمار رائے پر سیاسی پریشر ہے کہ بچے کی عمر پر نہ جائے اور اسے بلاتکار کرنے کی سزا دے۔ سنیل کمار رائے اس فعل کو بچوں کا ایڈونچر قرار دیتا ہے اور نئی تہذیب کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سزا کا حکم سناتا ہے کہ تعزیراتِ ہند، دفعہ 302کے تحت،اس جدید ٹیکنالوجی، ملٹی نیشنل کمپنیز، کنزیومرورلڈاور گلوبلائزیشن کو سزائے موت ___ ہنگ ٹل ڈیتھ۔“]۱۱[ یہ فیصلہ وہ خود کلامی میں سناتا ہے۔۔۔یا سنانا چاہتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ فیصلہ سنانے سے پہلے ہی اُس سے یہ مقدمہ لے لیا جاتا ہے۔”پوکے مان کی دنیا“ کے موضوع کے حوالے سے انور پاشا کی رائے قابلِ توجہ ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

”پوکے مان کی دنیا، گلوبلائزیشن کے طوفانِ بلاخیز میں پیروں تلے سے کھسکتی تہذیبی و اخلاقی بنیادوں کا  ادراک عطا کرتا ہے۔ یہ ناول مشرقی تہذیب و کلچر پر مغربی یلغار اور کلچرل امپیریلزم کے مُضر اثرات کو بخوبی اپنی گرفت میں لاتا ہے۔ وہ اثرات جو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ ہمارے ڈرائنگ روم اور بیڈروم میں داخل ہو کر بالخصوص نئی نسل کے ذہنوں کو آلودہ کرنے میں مصروف ہیں، ذوقی کا یہ ناول قاری کو کلچرل شاک دیتا ہے۔“]12[

(یہ بھی پڑھیں اکیسویں صدی میں اردو ناول۔ ایک تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی )

انور پاشا کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے اِتنا کہنا چاہوں گا کہ بات اتنی سادہ نہیں ہے کہ اسے کلچرل شاک کہہ کر گزر جایا جائے۔۔۔ یہ ناول ایلون ٹافلر کے ”فیوچر شاک“ کے مباحث کو تخلیقی سطح پر سامنے لاتا ہے۔یہ سچ ہے کہ دنیا کی سب قوموں اور تہذیبوں کا وقت مختلف ہوتا ہے۔ 2016 ء کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب قومیں 2016 ء میں رہ رہی ہیں۔تیسری دنیا کی بیشتر اقوام معاشی، تہذیبی اور سماجی سطح پر آج بھی اٹھارویں اور انیسویں صدی میں رہ رہے ہیں۔اُن کی پس ماندگی کے اسباب سے صرفِ نظر کرتے ہوے…آپ سے سوال کرتا ہوں۔۔۔کیا بلوچستان، اندرون سندھ، سرائیکی بیلٹ،ہزارہ اور کے پی کے، کا وقت؛لاہور،کراچی اور اسلام آبادکا وقت ایک ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں… یہی صور ت ِحال اقوام ِعالم میں دیکھنے کو ملتی ہے۔کچھ تہذیبیں علوم،فنون،سائنس وٹیکنالوجی میں پس ماندہ رہ جانے کی وجہ سے اپنی معاصر تہذیبوں سے پیچھے رہ جاتی ہیں۔اُن کا ترقی یافتہ معاصر تہذیبوں کے ساتھ جڑنا یا مقابلہ کرنا تقریباََناممکن ہوتا ہے لیکن آزاد عالمی معاشی نظام، گلوبلائیزیشن،میڈیا،اور صارفیت کے جبر کے تحت انہیں جڑنا پڑتا ہے۔ جڑت کایہ تعلق علمی، پیداواری اور ثقافتی کے بجائے صارفیت کے جبر اور میڈیا کے توسط سے ہوتا ہے،جس کی نوعیت مصنوعی ہوتی ہے اِس لیے پس ماندہ اقوام،تہذیبیں یہاں تک کہ افراد بھی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔اسے فیوچر شاک یا ٹائم شاک کا نام دیا گیا ہے۔پس ماندہ قومیں اور افراد وقتاََفوقتاََیہ شاک سہتے رہتے ہیں،نظر انداز کرتے رہتے ہیں،تا وقت کہ کسی شدید جزباتی صدمے سے دوچار نہ ہوں۔جیسا کہ سنیل کمار رائے،نکہل،اومارائے… ’پوکے مان کے دنیا‘  کے دیگر کردار اور قارئین….

یہ تو ناول کا موضوع ہوا اب ذرا بات ناول کی کراٖفٹ کے حوالے سے ہو جائے۔ناول میں شعور کی رو، خود کلامی، ہم کلامی اور آزاد تلازمہِ خیال کی تکنیکوں کو برتا گیا ہے۔ انہی تکنیکوں کی وجہ سے ناول کو فنی استحکام حاصل ہوا ہے ورنہ یہ کوئی کیس ہسٹری، کوئی رپورتاژ تو ہو تی ناول نہیں۔سنیل کما ر لاک اپ (اپنے کمرے۔۔دفتر) میں بیٹھا انٹر نیٹ پر دنیا جہاں کی چیزیں سرچ کر رہا ہے اور یہ سب معلومات،کیس کے حوالے سے حقائق،گھریلواور سماجی معاملات (جو کہ اس کے موضوع کو اِستحکام دے رہی ہیں) کبھی شعور کی رو، خود کلامی، ہم کلامی اور آزاد تلازمہِ خیال کی  صورت قاری تک پہنچ رہی ہیں۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ناول نگار اپنے نقطہ نظر کو پیش کرنے میں کامیاب ہوا کہ نہیں؟اُس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ نقطہ نظر ہے کیا؟اس جدید ٹیکنالوجی، ملٹی نیشنل کمپنیز، کنزیومرورلڈاور گلوبلائزیشن کو سزائے موت ___ ہنگ ٹل ڈیتھ۔یہ نقطہ نظر تو فرار ی رویہ کا حامل ہے،مسئلے کا حل تو نہیں ہے۔سائنس و ٹکنالوجی سے فرار ممکن نہیں،اور یہی فرار یا محرومی ہی پس ماندگی کا سبب بنی ہے۔ناول نگار کے اس فیصلے سے اختلاف کی گنجائش ضرور ہے لیکن انہوں نے جس خلوص اور سچائی کے ساتھ تیسری دنیا کی اقوام کو آنے والے دور میں ’فیوچر شاک‘کے لیے تیار کیا ہے،اس کے لیے انہیں داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔

یہ بھی سچ ہے کہ انڈین سماج اور تہذیب کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ ابھی کھل کر پاکستانی سماج میں سامنے نہیں آئے،لیکن کیا نہیں آئیں گے؟یقیناََآئیں گے اور زیادہ تباہ کُن طریقے سے آئیں گے۔اُنہوں نے تو پھر بھی کچھ حفاظتی بند باندھنے شروع کے ہوئے ہیں مگر ہم تو ہمیشہ کی طرح سوئے ہوئے ہیں۔انہوں نے امریکن،جاپانی اور چینی کہانیوں اور کارٹونز سے جان چھڑانے کے لیے اپنے بچوں کوبھیم،ارجن اور اس نوع کے کارٹون بنا لیے ہیں۔اور ہم نے ابھی تک طے نہیں کیا کہ امریکن،جاپانی،چینی کارٹونز کے ساتھ ساتھ ہندی دیو مالا پر مبنی کارٹونز کے اثرات سے اپنے بچوں کو کیسے بچائیں گے۔ انٹرنیٹ پر موجود ویب سائیٹس میں سے کس کس کو بلاک کریں گے۔یہ مسائل سے فرار تو ہو سکتا ہے۔۔۔مسائل کا حل نہیں۔

 

حوالہ جات

 

1       مشرف عالم ذوقی:”پوکے مان کی دنیا“ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی(انڈیا)، 2004، ص18

2۔      ایضاََ،ص20

3۔      ایضاََ،ص28

4۔      ایضاََ،ص32

5۔      ایضاََ،ص27

6۔      ایضاََ،ص129

7۔      ایضاََ،ص135

8۔      ایضاََ،ص138

9۔      ایضاََ،ص128

10۔    ایضاََ، ص35

11۔    ایضاً، ص330

12۔    انور پاشا:”معاصر ناول کے تہذیبی و سماجی سروکار(ہندوستانی ناولوں کے حوالے سے)، (مضمون)، مشولہ ”ہم عصر اُردو ناول ایک مطالعہ“، قمر رئیس: علی احمد فاطمی(مرتبین)، کتابی سلسلہ نیا سفر نمبر7، ایم آر پبلی کیشنز، نئی دہلی، 2007، ص25

 

ڈاکٹرمظہر عباس
گورنمنٹ ولایت ِحسین اِسلامیہ کالج ملتان
mazharabbas001@yahoo.com
03007378145

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

ڈاکٹرمظہر عباسمشرف عالم ذوقی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مکتبہ جامعہ شاہد علی خاں لمٹیڈ – پروفیسر خالد محمود
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں