Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

اکیسویں صدی کی دہلیز پر بنگال میں نِسائی ادب (شاعرات کے حوالے سے)  – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی

by adbimiras اپریل 22, 2021
by adbimiras اپریل 22, 2021 0 comment

روئے زمین پرآدم کی بائیں پسلی سے نکلنے والی مخلوق تمدن کی جڑ ہے۔اس کائنات میں ماں،بیٹی،بہن اوربیوی اسکے چار روپ ہیں۔اس کے وجو د سے زندگی کاحسن اور اس کے سوز و ساز سے گھر کی نیرنگیاں قائم و دائم ہیں۔اسکا وجودجنت میں آدم کی تنہائی کو دور کرنے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔لیکن خلد سے روئے زمیں پر آنے کے بعد اس صنف کی سرگرمیوں میں رفتہ رفتہ اضافہ ہوا۔ابتداء آفرنیش سے اکیسویں صدی کی دہلیزتک آتے آتے زندگی کے ہر شعبے میں مذکورہ مخلوق کی جڑیں کافی گہرائی تک پھیل گئی ہیں۔ چونکہ ادب زندگی کا  ایک ناقابل ِ گریز حصہ اور اس کاترجمان ہوتا ہے اس لئے اردو شاعری کی رگوں میں بھی خواتین کا لہوکلانچیں بھرتا ہے۔اکیسویں صدی کی دہلیز پربنگال کے گلشنِ ادب میں خواتین کے نئے اور پرانے پود کی غزلوں اور نظموں کو پڑھکر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شاعرات کھلے ذہن سے سوچتی ہیں اور آزادانہ طور پر اپنی فکر کا اظہار قرطاس ادب پر غزل اور نظم کی صورت میں کررہی ہیں۔وہ اپنے اظہار میں پر اعتماد ہیں۔وہ اپنے نسائی جذبات اور احساسات کا اظہار پھر پور طریقے سے بغیر مصلحت کوشی کے کررہی ہیں۔ان کا نسائی لہجہ نکھر کر سامنے آیا ہے۔بنگال کے ادبی افق پر شاعرات کے نام کا جو کہکشاں جگمگا رہا ہے اس میں شہنازنبی،ریحانہ نواب، کوثر پروین کوثر،شگفتہ طلعت سیما،زرینہ زریں،شگفتہ یاسمین غزل، نغمہ نور،صابرہ خاتون حنا،عروشہ عرشی،مہنازوارثی،نسیم منان،نگار سلطانہ،سلمٰی سحر،فاطمی داؤد سحر، بشریٰ سحر،سعدیہ صدف،فردوس انجم،نادرہ ناز پرویز،شہنور حسین شبنم،شاہدہ صدف،شوکت جہاں،فرحت مشتاق،فریدہ حشمت،شاہدہ بانو قاسمی،فوزیہ ا ختر،نگار بانو ناز،نازنین انجم،رقیہ آسی،سیدہ رفعت ترنم،سیدہ ساجدہ ناز،اور طلعت فاطمہ وغیرہ وہ قابلِ ذکر نام ہیں جن کی فکر کی دودھیا روشنی سے بنگال کانسائی گلشن ِادب منور ہے۔اب آئیے یہ دیکھا جائے کہ یہ شاعرات کس انداز میں سوچتی ہیں۔؟ ان کے کلام کا رنگ اور آہنگ کیسا ہے۔؟ ان کے اسلوب اور نسائی لہجے کاا ٹھان کیسا ہے۔؟

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں بنگال کے نسائی ادب میں شہناز نبی کا شمار ممتاز شاعرات میں ہوتا ہے۔ان کو راکھ میں سنے برتن دھوتے ہاتھ،دیواروں سے جھڑتا پلسٹر، کائی زدہ آنگن،کدو کی بیلیں،ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کی زنجیر،شہر کے اوبڑکھابڑ راستے،جلسے جلوس،نعرے،دیواروں پر لکھی تحریر یں،بے حس سائے،زینوں پر رکھے نقوش ِپا،سمتوں میں بٹتی آہٹیں،سستی آسائش کا مہنگا سامان،بکتا ہوا انسان یہ سب کچوکے لگاتے رہتے ہیں۔ان سے سوال کرتے ہیں۔ان سے جواب طلب کرتے ہیں۔کبھی کبھی انہیں رونے سسکنے اور کبھی کبھی رونے چلانے پر مجبور کرتے ہیں۔ جس وقت موصوفہ اس کرب سے دوچار ہوتی ہیں ان کے اندر کی شاعرہ کے جذبات ادبی فنپارے میں ڈھلتے ہیں۔موصوفہ کی شاعری ان کے سکھ دکھ،ان کی جلوت و خلوت،ان کی سودو زیاں اور ان کے مزاج و ماحول کا بیان ہے جس میں کہیں بھر پور رفاقت کا احساس ہے تو کہیں اکیلا پن،کہیں بچپن کی میٹھی یادیں ہیں تو کہیں ان یادوں کو گلے سے لگائے رکھنے کی خواہش،کہیں لہجے میں نرمی تو کہیں جھنجھلاہٹ اور غصہ۔!ان کی شاعری میں محبت بھی ہے نفرت بھی یقین بھی ہے اور گمان بھی طنز و استہزا بھی ہے تو کہیں دلجوئی و دل آسائی بھی کبھی جڑنے کی خواہش تو کبھی ٹوٹنے کی خواہش،اعتماد و حوصلہ بھی ہے تو کبھی خوف تذبزب بھی ہے۔اب تک ان کے پانچ شعری مجموعے بھیگی رتوں کی کتھا،مجھے مت چھوؤ،اگلے پڑاؤ سے پہلے،پسِ دیوارگریہ،شرارِجستہ منظر عام پر آکر دادِ تحسین حاصل کرچکے ہیں۔ ان مجموعوں میں نسائی لب و لہجہ اپنے شباب پر ہے۔ملاحظہ فرمائیں ان کے چند اشعار۔

میں نے چاہا تھا کہ پلکو ں سے تراشوں مہتاب

دل کا آنگن ہی مگر یاد کی خوشبو مانگے

 

برسات کا تحفہ لئے موسم کا مسافر

دروازے پہ ٹھہرا رہااندر نہیں آیا

 

چانپ زینے پر تیرے قدموں کی تھی یا پھر ہوا

رات بھر کانو ں میں میرے ایک صدا بنتی رہی

 

کیاری کیاری یاد تمہاری خوشبو بنکر پھیلے گی

نرم بہت ہے دل کی مٹی بس ایک بیج دبائے جاؤ

شہناز نبی نے اپنی شاعری میں جس دوشیزہ کا پیکر تراشا ہے اس کے جذبے پاک صدف اور الفاظ موتی کی طرح ہیں جو فنپارے کے میٹھے جھیل کی تہہ میں نمو پذیر ہیں۔اس پیکر کی نگاہوں کے جواں ساحل پر ایک ننھا سا خواب جب ادھورا رہ جاتا ہے اور سمندر کے تھپیڑے ریت کے گھروندے کو زمین بوس کردیتے ہیں اس وقت اس کو یہ احساس ستاتا ہے کہ:

کچھ آدھے ادھورے خط مٹتی ہوئی تحریریں

ماضی کی پرستش میں دل یوں بھی بہلتا ہے

 

میری بے نم دھرتی پر تم نور بھرا آکاش رہے

جانے والے  میرے سکھ کے سورج کو کفنائے جاؤ

ریحانہ نواب کا نام محتاج تعارف نہیں ہے۔”گیسو سنوار دو“موصوفہ کا متوقع غزلوں کے مجموعے کانام ہے۔ ان کی غزلوں میں جو لوچ اور لچک ہے وہ قاری کے جمالیاتی حس کو متاثر کرتے ہیں۔اشعار میں جذبات زیادہ ہویدا ہو ئے ہیں۔لیکن کہیں بھی اپنی سطح سے نیچے آتے دکھائی نہیں دیتے ہیں جس سے ان کے اشعاروں میں نسائی لب و لہجہ کو ایک وقار وتمکنت حا صل ہے۔ان کے یہاں محبوب کا جو تصور ہے وہ روایتی ہے۔ہجر کا Agonyان کے یہاں بھی ہے۔دردِہجر کا Agony جب شباب پر آتا ہے اس وقت ذِہن کے اوراق پر محبوب کی بے وفائی کی تصویر نمایاں ہوتی ہے اور خوابوں کے پردے پر ایک دھندلاسا عکس جھلملا نے لگتا ہے جو اسے زندگی کے حاشیئے پرزندہ رہنے کے لئے مجبور کر تاہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دستِ ہجر میں آبلہ پائی کا سفراس کامقدر بن جاتا ہے۔داستانِ محبت میں وفائی اور بے وفائی کا ذکر اکثر ہوتا ہے۔ موصوفہ کے نسائی لب و لہجے کی سلگتی میٹھی میٹھی آنچ قاری کے دل کے نرم گوشے کو گرمادیتی ہے۔انکی شاعری کے کینوس پر دیار ِیار سے جب دھوکہ،دغااور فریب ملتا ہے تو محبو ب کا دل بیٹھ جاتا ہے۔ ایسے میں چتون آبدیدہ ضرور ہوتا ہے لیکن اصولِ وفا سے دستبردار ی اس کا سیوا نہیں ہے۔عام سروے کے مطابق کم و بیش ۰۲فیصد خواتین کے آنگن میں ہی خوشیوں اور امنگوں کی شاخیں ہمیشہ سر سبز و شاداب رہتی ہیں۔باقی کے آنگن میں یہ کلیاں بن کھلی مرجھاگیئں۔!نتیجتا شگوفوں کے موسم میں بھی ان خواتین کی زندگی کے سائبان میں خواہشوں کی زرد پنکھڑیاں زیادہ بکھرتی ہیں۔ غزل کے آنگن میں ریحانہ نواب ایسے ہی۰۸ فیصد خواتین کے درد بھرے جذبات کا ترجمان بنکر سامنے آئی ہیں جن کی غزلوں میں نسائی لب و لہجہ کے واضع نقوش مرتب ہوئے ہیں۔نسائی لب ولہجہ کے یہ تابندہ نقوش افق ادب پر انکی شناخت کو مضبوط کرنے میں معاون ہیں۔

وہ ایک مقام جہاں سے بہار لوٹ گئی

اسی مقام پہ ہم کو کسی سے ملنا ہے

 

وہ رنگ ہے سحر میں نہ وہ کیف شام میں

ہونے کو ہو رہی ہے گز ر تیرے بعد بھی

 

تو یہ سمجھ رہا تھا کہ میں ٹوٹ جاؤں گی

جاری ہے زندگی کا سفر تیرے بعد بھی

بنگا ل کے شعرو ادب میں شگفتہ طلعت سیما کا شمار نسائی ادب کو پروان چڑھانے والوں میں ہوتا ہے۔انہوں نے لفظوں کی مدد سے وارداتِ قلب اور عصری نیرنگیوں کا شیڈ بڑے خوبصورتی کے ساتھ قرطاس ادب پر اتارا ہے۔موصوفہ نسائی ادب کے زلف خمدار کی آراستگی میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ان کے اشعار مفاہم کی وسعت کو بوند بوند اپنے اندر پیہم کرتے ہیں جس میں دل کے ارتعاش مدغم ہوتے ہیں۔جنکے پنہائیوں میں زندگی کے کرب کی شدتیں سمٹ آئی ہیں۔جو اپنی وسعت اور گہرائی کا احساس قاری کو دلاتے ہیں۔شگفتہ طلعت سیما کے نسائی جذبات میں دل کے جذبے یوں پیہم ہیں جیسے سیپ میں موتی۔عاشقانہ خیالات کی نرم نرم پرچھائیاں بھی ان کی شاعری کے سائبان میں دکھائی دیتی ہیں جو تیز دلنوازی کے آداب سکھاتے ہیں۔

اسے ایک زمانہ گذر گیا میری زندگی سے گئے ہوئے

میرے پاس اب بھی وہ پھول ہے مری زلف میں جو سجا گیا

 

میں بتاؤں کیا تجھے جانِ دل بے نوا پہ جو گزر گئی

مرے شہر سے تو چلا گیا مجھے آنسوؤں سے رُلا گیا

 

جس شخص سے ملتے ہی بچھڑنا پڑا مجھکو

سیما میرے دل کو وہی منظور بہت ہے

شگفتہ طلعت سیما کی شاعری صرف دل کی شاعری نہیں ہے بلکہ اس سے کبھی کبھی بنگال کی مٹی کی خوشبو بھی آتی ہے۔بہتر مستقبل کی للک بھی دیکھائی دیتی ہے۔بیدار خوابوں کی انگڑائیا ں بھی دیکھائی دیتی ہیں۔ان انگڑائیوں میں حوصلے کی جو توانائی ہوتی ہے اس میں فصیل ِوقت کو ڈھادینے کی صلاحیت پیہم ہے۔

سلگتے آنسوؤں سے دور اور آگے کراہوں سے

بہت آگے چلیں ان سسکیوں سے اور آہوں سے

چلو دامن بچا کر بڑھ چلیں دنیا کی راہوں سے

کہ اب انگڑائیاں لیتی ہیں خوابیدہ تمنا ئیں

خوش فکر شاعرہ کوثر پروین کوثربنگال کے نسائی ادب میں ایک اچھی آواز ہے۔”آئینہ خانہ“ ان کا شعری مجموعہ ہے۔ان کے یہاں تخیل کے خوش پوش پرندے اپنی پوری توانائی کے ساتھ شاہین کے حدِ پرواز کو عبور کرنا چاہتے ہیں۔ معاصر نسائی ادب میں انہوں نے اپنے وجود کا احساس دلایا ہے۔موصوفہ متحرک ذہن کی شاعری کرتی ہیں۔اشعار میں تہہ داری ہے۔لہجہ اور تیور ان کا اپنا ہے۔ شگفتہ لفظوں کا خوبصورت استعمال کرکے موصوفہ اپنے جذبات کا اظہار اس نہج سے کرتی ہیں کہ قاری کا دل موہ لیتی ہیں۔

انا پر ناز تھا تم کو ہمیں پیاری تھی خود داری

”حصار ذات سے باہر نہ تم نکلے نہ ہم نکلے“

 

مشقت کے تصور سے پڑے ہیں ہاتھ میں چھالے

تہ افلاس سے اوپر نہ تم نکلے نہ ہم نکلے

 

کبھی تم دار پر پہنچے،کبھی ہم نوک نیزہ پر

کسی بھی بزم سے جھک کر نہ تم نکلے نہ ہم نکلے

کبھی کبھی دوہے بھی کہتی ہیں جس میں اظہار و بیان کی وارفتگی دیدنی ہے۔ملاحظہ فرمائیں ان کے دوہے کے چند اشعار۔

اشکوں سے دریا بنے بنے زخم سے پھول

خواہش سے پربت بنے مایوسی سے دھول

 

من کا پنچھی اڑ گیا تری دیکھ کے شان

روپ محل میں دیکھئے کالا تل دربان

زرینہ زریں بنگال کے نسائی ادب میں ایک قابلِ ذکر نام ہے۔ان کے لہجے میں وہی نرمی ہے جوغزل کی میراث ہوتی ہے۔الفاظ کا انتخاب ان کے یہاں بہت خوب ہے۔ موصوفہ کی شعر گوئی اپنا ایک الگ انداز رکھتی ہے۔یہ نسوانی جذبات،احساس اور آواز کی اچھی ترجمانی کرتی ہے۔ان کااظہار بڑا سہل ہے۔ترسیل کاکوئی مسئلہ ان کے یہاں نہیں ہے۔خوش فکرشاعرہ ہیں۔ان کے کلام کا رنگ مانند قوس قزح ہے۔کلام میں غزل کا مزاج خوب ہے۔ زرینہ کی آمد گلشن سخن کے لئے ایک اچھی نوید ہے۔ان کے کلام میں تازگئی فکر کا احساس ہوتا ہے۔اسلوب متاثر کن اور دلکش ہے۔عجیب عجیب لفظوں کی گل کاری کرتی ہیں۔ارضِ بنگالہ کی نسائی شاعری میں اپنا ایک مقام رکھتی ہیں۔ان کی شاعری میں انسانیت کے ارزاں ہونے کا ماتم ہے۔

شاخِ اخلاق ہوئے جائے ہے زردی مائل

اف یہ مکاری!کہ نفرت کا سماں باندھے ہے

 

برکھا رت میں بادل لے کرکس کا سندیسہ آیا ہے

آنکھیں ایسے شرمائی کیوں،آنچل کیوں لہرایا ہے

 

چاہ کی شدت شبنم بن کر قطرہ قطرہ پھیل گئی!

کیوں تم نے آئینہ دیکھا؟بیچارہ شرمایا ہے

شگفتہ یاسمین غزل کی آواز ایک بہترین نسائی آواز ہے۔ چاہے وہ ٹی وی کا سیلولائڈ اسکرین ہو یا قرطاسِ ادب۔!! موصوفہ کی اپنی ایک شناخت ہے۔ان کا شمار اس نسل میں ہوتا ہے جو 1990  کے بعد ابھر کر بنگال کے ادبی افق پر آئی ہے اور اپنی شناخت کو منوانے میں کامیا ب رہی ہے۔ احساسِ خود سپردگی،زیست کا ماتم،زندگی جینے کا ہنر اشعار میں پیش کرتی ہیں۔شاعری میں شگفتہ یاسمین کا علوئے تخیل نے جس نسائی پیکر کو تراشاہے وہ اپنے بیتے ماضی کو شدّت سے یاد کر تا ہے۔ خواتین کا دل کانچ جیسا ہوتا ہے۔جو ایک جھٹکے سے ٹوٹ کر پاش پاش ہوجاتا ہے۔عورت کے اس جذبے کو غزل جب غزل کے پیمانے میں ڈھالتی ہیں تو قاری کے دل کے آبگینے بیٹھنے لگتے ہیں۔کیونکہ اس میں ایسا دردہوتا ہے کہ لفظوں میں بیان نہیں کیاجا سکتا ہے بلکہ صرف محسوس کیا جاسکتا ہے۔

دل کو ٹھیس لگا کر اس نے

ہنس کر پوچھا ٹوٹا کیا ہے

 

دن کا چین اور رات کی نیندیں

لوٹ کے پوچھا لوٹا کیا ہے

 

سارے شکوے چھوڑ کے تیری چوکھٹ تک آپہنچی ہوں

لازم ہے ایسے موقع پر تیرا ہاتھ بڑھانابھی

 

گھر سے باہر اوڑھ لے تو مسکراہٹ کی ردا

آنسوؤں سے بھیگے تکئے چاردیواری میں رکھ

 

مسئلہ تیری انا کا کچھ تو حل ہوجائے گا

بخش دے مجھ کو کنیزی خود کو سرداری میں رکھ

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں مغربی بنگال کے نسائی ادب میں دھوم مچانے والاایک قابل ذکر نام نغمہ نور کا ہے۔شعری مجموعہ ”خوشبوؤں کا سفر“ سے انہوں نے اردو کی بستیوں میں اپنی آواز پہنچائی ہے۔ نغمہ نورنے غزل کے کینوس پر نسائی جذبے کے رخ زیبا سے ریشمی آنچل بڑی سبک روی سے ہٹایا ہے۔جب یہ ریشمی آنچل آہستہ آہستہ سرکتا ہے تو قاری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ موصوفہ نے جن پیچیدہ اور نا گفتہ بہہ صورت حال کو شاعری کے پیمانے میں ڈھا لا ہے ان لمحوں میں انسانی جذبات کے تموج بے قابو رہتے ہیں جس کے باعث ان جاں گسل لمحوں کی ترجمانی کے دوران قلمرو کے ضبط تحریر میں جو فن پارہ آتاہے اس میں جھنجھلاہٹ اور بغاوت کے عنصر زیادہ ہوتے ہیں لیکن نغمہ کے یہاں نسائی لب و لہجہ ان مضطرب لمحوں کے دوران بصورت بند حائل ہوجاتا ہے جسکے باعث ان مضطرب لمحوں کی کھٹاس کا زور کچھ ٹوٹ سا جاتا ہے۔شعر کا حسن تخیل کے محور پرگردش کرتا ہے جس پر نغمہ کو عبور حاصل ہے۔

کبھی ساون بجھائے پیاس اپنی میرے اشکوں سے

کبھی دریا مری آنکھوں میں اترے اور شرمائے

 

کبھی رنگین بارش سرخ کردے اوڑھنی میری

کبھی قوسِ قزح کا رنگ چہرے پر نکھر جائے

 

شا م سورج کا گلا گھونٹ رہی تھی اس پار

دیکھتا رہ گیا اس پار تماشا کوئی

خوبصورت کلام،خوبصورت آواز،خوبصورت فکر کا نام صابرہ خاتون حنا ہے۔حنا کے باطن کا خوش رنگ تب اپنے نکھار کا جلوہ  بکھرتاہے جب اس کی نبردآزمائی سنگ سے ہوتی ہے۔جس کے دوران اپنے لہو کا ایک ایک قطرہ نچوڑ کر کسی کی ہتھیلوں کو سرخ گلنار کردیتی ہے۔ایسا ہی کچھ تاثر صابرہ خاتون حنا کی شاعری سے ملتا ہے۔ موصوفہ چھوٹی بحر میں خوب شاعری کرتی ہیں۔نرم و شگفتہ لفظوں کااستعمال سنجیدگی سے کرتی ہیں۔اشعار دامنِ دل کو کھینچتے ہیں۔کھینچتے ہی نہیں مسوستے ہیں۔موصوفہ کی شاعری میں غزل کے تمام عناصر بدرجہ اتم موجود ہیں۔ انکی شاعری میں نوخیز لڑکیوں کے کومل جذبات کی ترجمانی پائی جاتی ہے جن کے گلستانِ محبت میں بسنتی رت میں یادوں کی قندیل جل اٹھتی ہے جسکے اجالوں میں پلکوں پر شبنمی قطرے جھلملا اٹھتے ہیں۔انکی شاعری میں ہجر کی راتوں میں یادوں کے شجر سرسبز و شاداب ہوجائے ہیں۔دل کی ویران حویلی آباد ہوجاتی ہے۔دوستی کا تیر جب سینے میں پیوست ہوتا ہے اور اس کی تڑپ کااظہارقرطاس ادب پر ہوتا ہے تب حنا کی غزل کے رنگ ونکھار پر شباب آتا ہے۔ ایسے میں اس قسم کے اشعار قرطاسِ ادب پر رخشندہ ہوتے ہیں۔

مِرے حبیب نے سمجھا نہیں مجھے ورنہ

انا کا تیر نہ آتا کمان کی حد تک

 

کل رات اس سے خواب میں یوں سامنا ہوا

نظریں ملیں تو مجھ سے مرا دل جدا ہوا

 

تم بھی یادوں کے شہر میں رہنا

ہے ابھی میرا حافظہ باقی

 

یاد کی دیمک چاٹ رہی ہے سینے میں

ہر لمحہ مشکل ہے اب تو جینے میں

دل دے کے درد کی شوغات لینے اور پت جھڑ میں دامانِ تار تار سینے کا ہنر مہناز وارثی کی شاعری کے عناصر ہیں۔”جاگتی آنکھوں کا سپنا“ انکازیر ترتیب شعری مجموعے کا نام ہے۔ان کی غزلوں میں ناامید ی کے چراغ نہیں جلتے ہیں بلکہ امید کے دیئے روشن ہیں کیونکہ ان کو اس حقیقت کا تیقن ہے کہ ملنا اور بچھڑنا تو عاشق و معشوق کے مقدر کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے۔ایسے میں ان کے یہاں بیتی باتوں کی یاد زلیخا کی طرح پیچھے سے دامن گیر ہوتی ہے جس میں کڑواہٹ نہیں ایک اپنائیت کا احساس جاگزیں ہوتا ہے۔یہ اپنائیت جب شدّت کے اوجِ ثرّیا پر پہنچتی ہے اسوقت یہ ناگن کی پھنکار نہیں بلکہ جوگن کی چاہت بن جاتی ہے۔غزل میں مہناز وارثی کے تیور کا اپنا ایک انفرادی گلابی رنگ ہے۔ اس رنگ سے جو شعری آہنگ بلند ہوتا ہے اس میں ایک خفیف سا ٹھہراؤ ہے جو یاسیت کو ہوا نہیں دیتا ہے بلکہ ساجن کا جوتصوّر قدیم مائتھولوجی میں ہے اسکی بازیافت کرتا ہے۔ عہد ِ ستم میں بھی معشوق سے رسمِ وفاداری نبھائی جاتی ہے۔اس کارِزار میں وارثی کے یہاں معشوقہ کا ظرف بہت اونچا دِکھائی دیتا ہے کیونکہ یہاں دل کے حرم میں پاکیزہ محبت کا چراغ سبک روی کے ساتھ جلتا رہتاہے۔

تھک گئے تکتے  تکتے دیوانے

کب بہار آئے گی خدا جانے

 

شاید کہ زندگی کے کسی موڑ پر ملوں

یہ سوچتی ہوں اور جئے جارہی ہوں میں

نگار سلطانہ بنگال کے ادبی افق پر تب چھاگیں جب نغمہ نوراور عروسہ عرشی کے ساتھ 2011 کا گلدستہ ایوارڈ انہوں نے بھی جیتا۔انکی شاعری کا لہجہ دھیما ہے۔آواز میں ایک کرب ہے۔ لہجے میں ایک لوچ ہے اور جذبے میں صداقت ہے۔یادِماضی ان کے یہاں بھی ہے۔عہد حاضر کی ستم انگیزیاں وہ بھی جھیلتی ہیں۔ لیکن حوصلے کا بادباں بے ہوا نہیں ہوتا۔!بہتے آنسو،بھیگتے رخسار،وصل کی شب اور پیار میں کاغذ کے پھول کا تحفہ نگار سلطانہ کی شاعری کے جز خاص ہیں۔

سرد موسم کی ہوا جب بھی صدا دیتی ہے

کتنے سوئے ہوئے خوابوں کو جگا دیتی ہے

 

میں تو سمجھی تھی کہ میں بھول گئی ہوں اس کو

فون کی گھنٹی مگر دل کو ہلا دیتی ہے

اکیسوں صدی کی پہلی دہائی میں بنگال کے اُفق ِادب پر عروسہ عرشی کے نام کا ستارہ نمودار ہوا ہے جس نے اپنی دودھیا روشنی سے گلشن ادب کے پروانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔اس دودھیا روشنی میں جذبات کی رنگا رنگی قوس قزح کی مانند بکھری ہے جسکے ست رنگی جلو میں دل آشفتگی کے لطیف محسو سات نمایاں ہیں۔بنگال کے نسائی ادب میں عروسہ عرشی ایک ایسا نام ہے جو مطلع ادب پر نمودار ہوکر بہت جلد اپنی روشنی کو پھیلا یا ہے۔ عرو سہ اپنی غزلوں میں ایک دوشیزہ کے امنگوں کے دنوں کے کورے جذبے کی خوشبو کو لفظوں کا فرغل عطاکرتی ہیں۔اس عمل سے قرطاس ادب پر جس غزل کا نزول ہوتا ہے اس میں وصل کی خوشیاں کم اور فراق کی کسک زیادہ  محسوس ہوتا ہے۔ غزل کا رنگ انکی شاعری میں بھی عود کر آرہا ہے۔ساون کا مہینہ،کوئل کی کوکوہر پریمی جوڑے کو بے چین کرتے ہیں۔ایسے میں محبوب کا انتظار بڑا صبرآزما ہوتا ہے۔ اس جاں گسل لمحے کا imagery عروسہ کے یہاں ملاحظہ فرمائیں۔

چلے آؤ کہ ساون رُت سہانی ہے مرے ہمدم

تمہاری منتظر سپنوں کی رانی ہے مرے ہمدم

 

دعا بھول جاتی اثر بھول جاتی

میں دنیا تجھے چھوڑ کر بھول جاتی

 

تجھے بھول جانے کی کوشش میں شاید

میں اپنی گلی اپنا گھر بھول جاتی

نسیم منان کی شاعری کا سرمایہ درد ِاشک ہے۔ان کی شاعری میں عکسِ حیات کا یہ رنگ نمایاں ہوتا ہے کہ قربت کا طلسم جب ٹوٹتا ہے تو بے گانگی کی شاخیں ہری ہوجاتی ہیں جس پر نفرت،عداوت کے برگ و بار آتے ہیں لیکن نسیم منان کے تراشیدہ شعری پیکر کے یہاں محبت کے مکتب میں وفائی کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔جس سے معشوق کا قد بہت اونچا ہوجاتا ہے۔وہ درِہجر میں تڑپتی ہے اور نازک احساس کا تار رات بھر ٹوٹتا رہتا ہے اورجذبوں کے گھنیرے پیڑ مرجھا جاتے ہیں۔

اک آس فصلِ گل کی لئے اجڑے باغ میں

کیا پوچھتے ہو کیسے بسر کررہی تھی میں

 

کسی کی آنکھ کا کاجل نہ پھیل جائے کہیں

اسی خیال سے میں اشک بھی بہانہ سکی

یاد کا طلسم ہر دور میں قلم کاروں کے اعصاب پر اپنی حکمرانی جاری رکھا ہے۔اس کے سحر سے نہ کوئی فنکار بچا ہے نہ ہی کوئی بچے گا۔اس تلازمے کو سلمیٰ سحر نے بھی اپنی شاعری میں برتنے کی کوشش کی ہیں۔فرق یہ ہے کہ موصوفہ یاد کے موسم میں یاسیت کی پناہ گاہوں میں نہیں آتی ہیں بلکہ افق پر جب اپنی نظر اٹھاتی ہیں اس وقت موصوفہ دھنک رنگ دیکھتی ہیں۔

تری یاد میں جب فلک دیکھتی ہوں

ہو موسم کوئی میں دھنک دیکھتی ہوں

ان کے تراشیدہ پیکرماضی کی یادیں بطور امانت دل کے نہاخانوں میں اس امید سے رکھتی ہے کہ مرنے کے بعد بھی روحوں کا ملن ہوگاکہ موت روحوں کے سفر پرشکنجہ کسنے میں ناکام ہوتی ہے۔یادوں کے ضبط کا یہ حصار جب ٹوٹتا ہے تو ندی کی طرح پانی کا ریلا ہر سمت پھیلتا ہے۔ لمس،جگنو،آنچل،اور چمک کے مجموعے سے سلمیٰ سحر کے یہاں خیالات کا جو ریلا آتا ہے اس کے نظارے بڑے دلکش ہوتے ہیں۔

ابھر آئے پھر لمس کے سارے جگنو

میں آنچل میں ان کی چمک دیکھتی ہوں

 

رات پُرکیف شرابوں کا اثر رکھتی ہے

ہوش رکھتے نہیں جذبات چلو سوجائیں

فاطمی داؤد سحر کے یہاں مایوسیوں،اداسیوں کے سائے لہراتے ہیں۔انا قلانچیں بھرتا ہے۔محبوب سے وصل کی خواہش انگڑائیاں لیتی ہے نیزغم حیات زندگی کا سرمایہ ہے کا احساس جاگزیں ہے لیکن حوصلے کی ڈوری ہاتھ سے نہیں چھوٹتی ہے۔ان کی شاعری میں حوصلے کا بادباں کھلا ہے۔انہوں نے اپنی تہذیبی روایت کو ہاتھ سے نہیں چھوڑاہے۔

مجھ سے ہی منسوب کر دو اسکی سب رسوائیاں

وہ اکیلا کب تلک بھگتے گا خمیازہ مرا

 

تیری بساط ہے کیا جانتی ہوں میں پھر بھی

غم حیات ترا دل بڑھارہی ہوں میں

بشریٰ سحر،فریدہ حشمت،سعدیہ صدف،فردوس انجم،نادرہ ناز پرویز،شہنور حسین شبنم،شاہدہ صدف،شوکت جہاں،فرحت مشتاق،فریدہ حشمت،شاہدہ بانو قاسمی،فوزیہ اختر،نگار بانو ناز،نازنین انجم،رقیہ آسی،سیدہ رفعت ترنم،سیدہ ساجدہ ناز،طلعت فاطمہ۔اکیسویں صدی کی دہلیز پر ہمارے بنگال کے نسائی ادب کے پُرنور ستارے ہیں جن کے مقدر کا ستارہ برق رفتاری سے چمکا ہے۔ان ہی ناموں سے بنگال کے نسائی ادب کا مستقبل وابستہ ہے۔ملاحظہ فرمائیں ان کے چنندہ اشعار۔

بن گئی شاخ ثمر دار مری ہستی جب

لالچی ہاتھوں سے پھینکے گئے پتھر کتنے

(بشریٰ سحر)

 

درد گیتی سمیٹ کر دل میں

اک نئی کربلا بناتی ہوں

(فریدہ حشمت)

 

ہجر کی رت آئی تو جانا

شب یہ قیامت سے بھی بڑی ہے

(سعدیہ صدف)

 

نجم یہ مقدر ہے کہ ملاح کی سازش

ساحل پہ سفینہ جو مرا ڈوب رہا ہے

(فردوس انجم)

 

دل میں ہیں ہمارے بھی دنیا کے ہزاروں غم

ہونٹوں سے مگر اپنے اظہار نہیں کرتے

(نادرہ ناز پرویز)

 

تیرے وعدوں کی ندی تو خشک ہوکر رہ گئی

میری امیدوں کا دریا عمر بھر جل تھل رہا

(شہنور حسین شبنم)

 

اداس دل کی تجوری میں قید ہیں خوشیاں

وہ چاہتوں کی گیا جب سے کنجیاں لے کر

(شاہدہ صدف)

 

گھر میں شیشہ ہے نہ کنگھی نہ سہیلی نہ بہن

میری زلفیں تو ہواؤں سے سنور جاتی ہیں

(شوکت جہاں)

 

تیری آمد جو نہیں اس میں تو بیکار ہے سب

آج کل دل کا محل بھوت کا گھر لگتا ہے

(فرحت مشتاق)

 

پھول پتھر کے درمیاں رہ کر

جذبہ دل کو آزماتی ہوں

(فرید ہ حشمت)

 

زخم دھوتا نہیں ہے اب کوئی

زخم سب کو دکھاکے دیکھ لیا

(شاہدہ بانو قاسمی)

 

غربت تڑپ اٹھی تھی کھلونوں کو دیکھ کر

بچپن کو آج پھر سے بھلانا پڑا مجھے

(فوزیہ اختر)

 

سنتے ہیں ہاتھ میں تقدیر ہوا کرتی ہے

ہاتھ پر میں نے ترا نام لکھا دیر تلک

(نگار بانو ناز)

 

آتا ہے چمن میں جب وہ بادِ صبا بن کر

یادوں کی ہواؤ ں سے اڑ تا ہے مرا آنچل

(رقیہ آسی)

 

اس سے مل کر اداس ہوں رفعت

بات کرتا ہے بے وفا کی طرح

(سیدہ رفعت ترنم)

 

ٹوٹی کشتی میں بھی اک نام خدا نے مجھکو

زورِامواجِ بل سے کبھی ڈرنے نہ دیا

(سیدہ ساجدہ ناز)

 

مسرور بہت ہوتا ہے تو مجھ کو ستا کر

دلبر مرے تجھ سا کوئی دلبر نہیں دیکھ

(نازنین انجم)

اکیسویں صدی کی دہلیز پران تمام شاعرات کے تذکرے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مغربی بنگال میں نسائی جذبات کی ترجمانی عمدہ طریقے سے ہورہی ہے۔خواتین کی شاعری معیار اور مقدار کے لحاظ سے تشفی بخش ہے۔جن کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بنگال کے نسائی ادب میں خوابوں کی بارش سے اردو شاعری کے پیمانے لبریز نہیں ہوئے ہیں بلکہ دکھ کے بادل ہی ہر جگہ برسے ہیں۔ان کی سرگرمیوں کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مغربی بنگال کے ادبی افق پر نسائی ادب کے ستارے روشن ہیں۔جہاں تک میری نظر پہنچ پائی میں نے ان  ستاروں کا ذکرمختصر ا سہی ان کے شعر کے حوالے سے کیا ہے تاکہ ان پُر نور ستاروں کی چمک اردو دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل جائے ۔بحر حال اکیسویں صدی کی دہلیز پر مغربی بنگال کے نسائی ادب کی زرخیز مٹی میں لب و لہجہ اورموضوعات کی یہ آخری تخم ریزی نہیں ہے کیونکہ اکیسویں صدی کی پگڈنڈی پرنسائی ادب کا عَلم اُٹھا ہوا ہے اورسفر جاری ہے۔صدی کے اختتام پریہ قافلہ کہاں جا کر رُکے گا اس کی قیاس آرائی قبل از وقت ہوگی۔ تب تک کے لئے یہی کہاجاسکتا ہے کہ:

شعر پہلے پڑھے یا کوئی بعد میں

فرق اس سے مگر کچھ بھی پڑتا نہیں

جس کا جو مرتبہ ہے رہے گا وہی

کوئی گھٹتا نہیں،کوئی بڑھتا نہیں

 

ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی

 mob:9339327323 ای میل:mail.com ahashmi3012@g

HNO:1/A,BL.NO:23,KELA BAGAN,

JAGATDAL,NORTH 24 PARGANAS,W.B,PIN:743125

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

اردو شاعراتعظیم اللہ ہاشمیمغربی بنگالنسائی ادبنسائی شاعری
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
وحیدالدین ، وحیدِ عصر – نایاب حسن
اگلی پوسٹ
سازِ بوالعجبی کا تارِ حیات – (شوکت حیات کا خاکہ) – پروفیسر غضنفر

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں