Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

بہارکی یونی ورسٹیوں میں اردو کی تدریس :مسائل اور امکانات – ڈاکٹر صفدر امام قادری

by adbimiras اپریل 27, 2021
by adbimiras اپریل 27, 2021 0 comment

گفتگو اس تلخ حقیقت سے شروع کی جائے تو شاید کچھ نا مناسب نہ ہو کہ ہندستان کے علمی نقشے پر بہار کی یونیورسٹیوں میں اردو تدریس معیار اور مجموعی اثر کے اعتبار سے شاید ہی کوئی نشان قائم کر پا رہی ہو گی۔اساتذہ اور طلبہ دونوں نے مل کر اپنے صوبے میں جس معیارِتعلیم کی بنیاد گذشتہ تین دہائیوں میں رکھی ہے،اسے اوسط درجے سے کم معیار کا حامل قرار دینے میں ہمیںجھجک نہیں ہو نی چاہیے ۔قومی سطح پراردو کے جو دو، چار، دس شعبہ ہاے اردو اپنی کارکردگی سے روشن مستقبل کی فضا قائم کر تے ہو ئے نظر آتے ہیں،ان کے مقا بلے میں بہار کی یونی ورسٹیوں کے اردو شعبے منجمد تعلیمی اکائی، مسمارایوانِ تعلیم اور بے روح کھنڈر سے زیادہ حیثیت کے حامل نہیں معلوم ہوتے ۔حکومت کا اپنا قصور،یونی ورسٹیوں کا لحظہ بہ لحظہ عمومی زوال، اردو اساتذہ کی اسامیوں کا طویل مدت سے پُر نہیں ہو نا، بڑی تعداد میں اردو اساتذہ کا اپنے فرائض سے غفلت شعار ہونا ،طلبہ اور ان کے سر پرستوں کا اردو زبان و ادب کے تئیں بے رخی سے برتاوکرنا اور اساتذۂ کرام سے استفادہ کر نے کے لیے ایک خوشگوار ماحول یا علامتی جبر پیدا کرنے جیسے ہر مورچے پر ہم روز بہ روز ہارتے ہی چلے جا رہے ہیں۔تیس برس میں نصاب کی تبدیلی کے نا م پر جو علمی کو تاہیاںہوئی ہیں،ان کا تدارک کما حقہٗ شاید ہی ہماری زندگی میں ممکن ہوسکے ۔اس لیے حالات کا تجزیہ سنتے ہو ئے مایوس کُن فضا کی پیش کش سے آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں اورغالب کی زبان میں مجھے کہنے کی اجازت دیجیے :

رکھیوغالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف

آج کچھ درد مرے دل میں سو ا ہو تا ہے

تاریخ میں بہا ر کبھی قومی تعلیم کے معیار کا ضامن رہاہے مگر وہ عہدِ قدیم کی بات تھی۔نالندہ اور وکرم شلا جیسے بین الاقوامی علمی سطح کے تعلیمی اداروں کی جو ٹھوس بنیاد بودھوں نے قائم کی ،اسے عہدِ سلطنت اور مغلوں کے دور میں تقریباً پامال کر کے چھوڑا گیا۔مسلمان حکمرانوں نے عمومی تعلیم اور اسلا می تعلیم کے حوالے سے صوبۂ بہار میں قابلِ ذکر ایک بھی ایسا ادارہ قا ئم نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ یہ طَلَبُ العِلم فَریضۃ کے داعی ہیں۔تھوڑے بہت صوفیۂ کرام، غربا و مساکین نے کچھ جھونپڑیاں بنائیں اور اسلامی تعلیم کا بندوبست کر کے بہار کے لوگو ں بالخصوص مسلمانوں کی تعلیم کا انتظام کیا۔۱۸۵۷ء کے بعد سرسیداحمد خاں او ر ان کی تحریک سے جو مخصوص بیداری پیدا ہوئی، اس کے نتائج کا یہ حال رہا کہ اگلے سو برس تک اقلیتی طبقے نے معمولی سطح کا بھی ایک کا لج قائم نہیں کیا۔دو چار دس اسکول اور کچھ نئے مدرسوں تک ہی اپنی دنیا محدود رکھی۔جاگیردارانہ طبقے اور بااثر حلقے کے نو نہالوں کے لیے علی گڑھ جنّت نشاں بنتا گیا۔انیسویں صدی کے اواخر کا نقشہ دیکھیے تو اڑیسا اورمغربی بنگال کی سرحدوں سے لے کر نیپال کی ترائی، اترپردیش کے مشرقی حصّے اور مدھیہ پردیش کے پھیلاو کے درمیان جو متحدہ بہار تھا،اس میں اقلیتی تعلیم بالخصوص مسلمانوں کی تعلیم کے چھوٹے بڑے جتنے بھی ادارے کام کررہے ہو ں،ان کے سا لا نہ فارغین کی تعداد، چاہے وہ کسی جماعت کے ہوں،مجموعی طور پر ایک ہزار بھی نہیں رہی ہو گی ورنہ اُسی وقت اقلیتی تعلیم کے شعبے میں بہار میں انقلا ب آجاتا۔جب مسلم بادشاہوں کی سرپرستی میں ہماری تعلیم کا نیا خاکا تیار نہیں ہوپایاتو کیا یہ ممکن ہو سکتا تھا کہ انگریزوں کے زمانے اور خاص طورپرجمہوری نظامِ حکومت میں کسی جہت سے قابلِ اعتبار نتیجہ برآمد ہو سکتا تھا؟ہر گزنہیں۔

آج بہار میں اردو کی تعلیم و تدریس کی بے پناہی ،زبوں حالی اور غیر معیاری نتائج کی پشت پر اسلاف کی عاقبت نا اندیشی ،بداندیشی اور مستقبل کی فصیل پر لکھی عبارتوں کو اَن دیکھا کرنے کی وجہ سے ہی رسوا سرِبازار ہونے کی نوبت آ گئی۔آزادی کے بعد متحدہ بہارمیں گنتی کے کا لجز قائم ہو ئے جن کے بنا نے والے اقلیتی طبقے سے تعلق  رکھتے تھے۔پٹنہ میں اورینٹل کالج ،دربھنگا میں ملّت کالج،گیا میں مرزا غالب کالج،جمشید پور میں کریم سٹی کا لج،سیوان میں زیڈ۔اے اسلامیہ کالج،بہار شریف میں صغرا کالج اور علامہ اقبال کالج۔اس فہرست سے ملّت کا لج الگ ہو کر سرکا رکے عمومی تعلیمی اداروں میں کئی دہائیاں قبل شامل ہو چکا ہے۔پہلا سوال یہی ہے کہ ان کالجوں میں بہار کا کو ن ایسا باشندہ ہے جو اپنی اولاد کا داخلہ پہلی پسند کے طور پرکرانا چاہتا ہے۔کیا ان کالجوں کے کارپرداز یہ ا علان کر سکتے ہیں کہ ہماری تعلیم کا معیاراور ہمارے کیمپس کے احوال صوبے کے اعلا اداروں کے متوازی ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں؟کیا اس بات سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ قومی خدمت کے مقابلے اقربا پروری، لین دین ،سازشیں،مقدمہ بازی اور سیاسی اکھاڑا بنانے کی مہم میں یہ ادارے صوبے کے تمام دوسرے تعلیمی اداروں سے بڑھ کر نہیں ثابت ہوئے۔اب ایسے میں کوئی یہ توقع کرتا رہے کہ ان اداروں سے اقلیتی آبادی کی تعلیمی ترقی ممکن ہو سکے گی تو یہ جاگتے میں خواب دیکھنایا بے وقوفوں کی جنّت بنانے کے مترادف ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ اقلیتی تعلیم کے نام پر قائم کر دہ ایسے ادارے بہار کے مسلمان بچوں کے روشن مستقبل کے ہر گز ہر گز ضامن نہیں ہو سکتے اور اگر ان پر قناعت کر کے ہم آپ بیٹھ گئے توایک نہیں سو سچّر کمیٹیاں بن جائیں گی مگر بہار کی اقلیت آبادی کی تعلیم کا حال ویسا ہی ہو گا۔

جب بہار میں ایک یونی ورسٹی ہو ا کرتی تھی اور تمام بہار کے لوگ شعبۂ اردو، عربی اور فارسی، پٹنہ یونی ورسٹی کے دروازے پر دستک دیتے تھے،اس زمانے میں اقلیتی تعلیم کے کچھ ابتدائی نمونوں کو آموختہ کے طور پر یا د کرلینا ضروری ہے۔صرف پروفیسر عظیم الدین احمد کو مت یاد کیجیے جو جرمنی اور لاہور ہوتے ہوئے پٹنہ یونی ورسٹی میں تدریس کے لیے مامور کیے گئے۔سید حسن جو بعد میں پروفیسر سید حسن سر مد کے نام سے پہچانے گئے،وہ میٹرک اور انٹر میڈیٹ دونوں سطحوں پر موجودہ بہا،ر جھارکھنڈ ،اڑیسا ،مغربی بنگال،آسام اور بنگلہ دیش کے ٹاپر تھے۔ تب ایسے طالبِ علم آنرس میں فارسی زبان وادب پڑھنے کے لیے آتے تھے۔ اُس زمانے کے اساتذہ میں سید اقبال حسین کو کیوں نہ یاد رکھا جائے جنھیں یہ عزت حاصل ہے کہ پٹنہ یونی ورسٹی کے تمام شعبوں میں سب سے پہلے پی ایچ۔ڈی کی ڈگری انھیں حاصل ہو ئی تھی۔کلیم الدین احمد کی خودنوشت ’اپنی تلاش میں‘کا وہ حصّہ ضرور ملاحظہ کر نا چاہیے جس میں تقسیمِ ملک اور فسادات کے تعلق سے ان کی یاد داشتیں درج ہوئی ہیں۔ انھوں نے اس زمانے کے اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد کو سامنے رکھتے ہو ئے بعض صبر آزمامشاہدات درج کیے ہیں۔انھوں نے دکھا یا ہے کہ ۱۹۴۶ء تک آدھے سے زیادہ شعبوں کے ٹاپرس یا دوسرے نمبر پر آنے والے بچے اکثر و بیشتر مسلمان ہوتے تھے۔اسپورٹس سوسائٹی،ڈی بیٹنگ سوسائٹی،سنیمیٹک سوسائٹی اور متعدد ہم نصابی سر گرمیوں میں اقلیتی طبقے کے بچے  نمایاں ہو تے تھے۔مسلم اساتذہ کی کھیپ بھی ایسی تھی کہ ٹرینگ کالج ،کبھی سائنس کالج ،لاء کالج اورکبھی پٹنہ کالج میں کہیں نہ کہیں مسلمان پرنسپل یا متعدد شعبوں میں مسلم صدر شعبہ نظر آتے تھے مگر کلیم الدین احمد نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ پٹنہ یونی ورسٹی جو بہار میں اعلا تعلیم کا واحد مرکز تھی اور تمام چھوٹے بڑے کالجزاسی سے ملحق تھے،وہاں اقلیتی طبقے کے افراد کی موثر کارکردگی کے سب ہم نوا تھے، مگر اخترالایمان کے لفظوں میں کہیں:

یک بہ یک شور اٹھا، ملک نیا ملک بنا

اور اک آن میں محفل ہوئی درہم برہم

کلیم الدین احمد نے تقسیمِ ملک کے بعد اشارے اشارے میں جو تفصیلات درج کی ہیں،ان میں اقلیتی طبقے کے لیے پٹنہ یونیورسٹی ایک اجڑے دیار کی طرح ہو گئی اور ہونہار اور روشن مستقبل کی توقع میں طلبہ اور اساتذہ کی ایک پوری نسل پاکستان نکل گئی جس کی وجہ سے پھر کبھی اس یونیورسٹی میں اقلیتی تعلیم کے روشن باغ نہ دیکھے جا سکے۔

پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کا سنہرا دور

آزادی کے بعد شعبۂ اردو ، پٹنہ یونی ورسٹی کی نگرانی ممتاز ادیب اختر اورینوی کے حصّے میں آئی اور کم و بیش تین دہائیوں تک انھوں نے اس شعبے کو اپنی ادبی، علمی اور تنظیمی  صلاحیت سے استحکام بخشا۔ ان کے ہم عصروں میں اختر قادری نے جب مظفر پور میں بہار یونی ورسٹی کا قیام عمل میں آیا تو وہاں کی قیادت سنبھالی۔ عطا کاکوی، شمس منیری، سید حسن ، علی حیدر نیراور فیاض الدین حیدر وغیرہ نے بھی بہار میں اردو فارسی شعبوں کی اُس زمانے میں آبیاری کی مگر اختر اورینوی کو بہر حال یہ امتیاز حاصل ہے کہ انھوںنے پٹنہ یونی ورسٹی کو ہندستان کے اہم شعبہ ہاے اردو میں پہچان دلانے میں کامیابی پائی۔ کہا جاتا ہے کہ آزادی کے بعد کے زمانے میں اختر اورینوی، آل احمد سرور، خواجہ احمد فاروقی اور سیّد احتشام حسین شعبہ ہاے اردو کے ایسے سرخیل تھے جنھیں دنیاوی خدا کا درجہ حاصل تھا۔ اختر اورینوی نے اپنی تدریس سے پٹنہ یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو کو مثالی شعبہ بنانے کی کوشش کی۔بے شک انھیں جمیل مظہری جیسے رفیقِ کار اور ایک مدت تک باہر سے کلیم الدین احمد کی تدریس کا تعاون حاصل ہوا ۔ اختر اورینوی نے اپنے شاگردوں کے لیے ان کی استعداد کے مطابق تحقیق کے ایسے موضوعات مقرر کیے جن کی بنیاد پر بعض ایسی تحقیقات سامنے آئیں جنھیں اب بھی مثالی تحقیق کا نمونہ کہا جاسکتا ہے۔ جہاں تک اختر اورینوی کی تدریس کے معیار پر غور کریں تو اب بھی ایسے سیکڑوں کی تعداد میں غیر اردو داں مل جائیں گے جو اختر اورینوی کے طریقۂ تدریس کو ملاحظہ کرنے کے لیے پٹنہ کالج میں خصوصی اجازت لے کر فیض یاب ہوتے تھے۔ جمیل مظہری سے جن طلبہ نے اس زمانے میں مرثیہ نگاری کی تاریخ اور اس کے فن کے بارے میں پڑھ لیا، ان کے لیے وہ حرفِ آخر ثابت ہوا۔

پٹنہ یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو کو معیار بخشنے کے لیے اختر اورینوی نے تحقیق کے لیے غور و فکر کرکے ایک خوش گوار ماحول بنایا۔ بہار کی ادبی تاریخ نویسی پر تحقیق کا آغاز خود اختر اورینوی نے کردیا تھا اور اپنے ڈی لٹ کا مقالہ ابتدا سے ۱۸۵۷ء تک کے زمانے کو سامنے رکھ کر مکمل کیا تھا۔ قاضی عبدالودود کے تبصرے کے مندرجات بے شک درست تھے مگر اس سے اختر اورینوی کی تحقیق کی افادیت کم نہیں ہوتی۔ اختر اورینوی نے ۱۸۵۷ء سے ۱۹۱۴ء تک کے عرصے کو سامنے رکھ کر نثر کے لیے مظفر اقبال، شاعری کے لیے کلیم عاجز کو منتخب کیا۔ مظفر اقبال کی کتاب آج ہمارے سامنے ہے: ’’بہار میں اردو نثر کا ارتقا‘‘ ۔مجھے یہ کہنے میں کسی طرح کا تحفظِ ذہنی نہیں کہ اس سے بہتر شعبۂ اردو، پٹنہ یونی ورسٹی میں شاید ہی کوئی تحقیقی مقالہ لکھا گیا ہو۔ یہی نہیں، ہند و پاک کی تمام بڑی یونی ورسٹیوں میں جو اعلا پاے کے تحقیقی مقالے لکھے گئے ، ان میں ہم فخر کے ساتھ مظفر اقبال کے اس مقالے کو پیش کرسکتے ہیں۔

اختر اورینوی نے یہ ماحول بھی بنایا تھاکہ دوسرے اساتذہ بھی دبستانِ عظیم آباد کے مختلف موضوعات پر کام کریں اور اپنے شاگردوں کو اس جانب متوجّہ کریں۔ بعض اساتذہ اور تحقیق کاروں نے اس موضوع کے تحت انفرادی مطالعات پر بھی توجہ کی۔ آصفہ واسع نے بہار میں اردو ناول نگاری پر تحقیقی مقالہ لکھا اور بعض گم شدہ کڑیوں کو جوڑنے میں کامیاب ہوئیں۔ انفرادی مطالعے کے تحت شاہ آیت اللہ جوہری، رکن الدین عشق، راسخ عظیم آبادی، مرزا محمد فدوی، رنجور عظیم آبادی، حسرت عظیم آبادی وغیرہ شعرا کے سلسلے سے کئی تحقیقی مقالے لکھے گئے۔ الگ الگ صنفوں کا انتخاب شروع ہوا اور دبستانِ عظیم آباد کے چھوٹے چھوٹے حصوں کوبھی تحقیق کا موضوع بنانے کی کوششیں بار آور ہوئیں۔

پٹنہ یونی ورسٹی کے فارغین اب بہار کے مختلف کالجوں میں پھیلنے لگے اور یہی نہیں، بہار سے باہر بھی وہ نکلنے لگے تھے۔ کچھ فارغین تو پہلے ہی اختر اورینوی کی تربیت پاکر پاکستان پہنچ گئے تھے اور وہاں بھی درس و تدریس کے فرائض میں منہمک ہوگئے تھے۔ مظفر پورمیں اختر قادری نے بھی بہت حد تک اس سلسلے کو آگے بڑھایا ۔ سوانح نگاری اور مثنوی نگاری جیسی اصناف پر بہار کے حوالے سے اور قومی سطح سے دونوں انداز کی تحقیقات سامنے آئیں۔ شادؔ کی نثر نگاری پر وہاب اشرفی نے بہار یونی ورسٹی سے ہی ڈگری حاصل کی۔ رانچی میں جب نئی یونی ورسٹی بنی اوراختر قادری اور اختر اورینوی کے شاگرد وہاں پہنچے تو پھرنئے سرے سے یہ فیضانِ جاریہ شروع ہوا۔ کہتے ہیں، بزرگوں کی نسل کے بعد سب سے طاقت ور شعبہ شعبۂ اردو، رانچی یونی ورسٹی ہی میں بن گیا تھا جہاں وہاب اشرفی، ابوذر عثمانی،احمد سجاد، ش۔اختر، سمیع الحق، صدیق مجیبی دیر سویر جمع ہوتے چلے گئے۔ابتدائی دور میں تحقیق کے سلسلے سے معقول پیش رفت ہوئی۔ پٹنہ یونی ورسٹی کے سنہرے دور کو تو دہرایا نہیں جاسکا مگر جمشید قمر، حسن رضا اور قیصر زماں کے تحقیقی مقالوں کو معیار کے اعتبار سے کم تر نہیں قرار دیا جاسکتا۔

تحقیق میں زوال

مگر اسّی کی دہائی کے بعد بہار کے تمام شعبہ ہاے اردو کی تعلیم و تدریس کا کام جن اساتذہ کے سپرد ہوا اور جن کے کاندھے پر اپنے اساتذہ کے اچھے کاموں کو آگے لے جانے کی ذمہ داری عاید ہوئیـ؛ان میں سے کچھ تعلیم سے بےرخ ہوئے، کچھ تدریس سے بےرغبتی میں مبتلا ہوئے،کچھ بازار کے مدوجزر کے اعتبار سے اپنے مفاد میں الجھتے چلے گئے، کچھ سست اور کاہل ہوگئے اور کچھ اپنی آبرو سے بے فکر سرپٹ بھاگتے رہے، کچھ نے نقل نویسی کو شعار بنایا، کچھ نے اسے صنعت کے طور پر فروغ دیا؛ مگر اس دوران شاید ہی کسی کو یہ خیال آیا ہو کہ یہ اجتماعی طور پر بہار میں اردو کی اعلا تعلیم کی قبر کھودنے کا کام تھا اور بے شک اس کام کا سہرا بھی اختر اورینوی اور اختر قادری کے بعض شاگردوں کے ہی سر بندھے گا۔ مقدار کے اعتبار سے تو اتنی ترقی ہوئی کہ ہر یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو میں تحقیق کے فارغین کی بھیڑ کھڑی ہوگئی۔ پچاس پچاس مقالوں کی نگرانی کرنے والے کئی اساتذہ بھی سامنے آئے مگر معیار کا حال اتنا دگرگوں رہا کہ ہر بار یہی احساس ہوتا ہے کہ ہم سب نے مل کر اپنے اسلاف کے بہتر کاموں پر کالکھ پوتنے کا کام خوب جی لگا کر کیا۔ موضوعات کا دہراو، لفظوں کے معمولی ہیر پھیر سے نئے عنوانات مقرر کرنے کارواج، کتابوں سے نقل، ایک جیسے موضوعات کے اگلے پچھلے مقالوں سے نقل اور پھر متعلق اور غیر متعلق اندراجات کی یکجائی نے ایسا ظلم ڈھایا کہ بہار کی ہر یونی ورسٹی کے ہر شعبۂ اردو سے صرف یہ طلب کیا جائے کہ سال بھر میں جتنی بھی ڈگریاں تقسیم ہوئیں ہوں، ان میں سے ہر سال ایک معیاری تحقیقی مقالے کی پہچان کرکے عوام کے سامنے پیش کردے تو ہم سمجھتے ہیں کہ اکثر یونی ورسٹیوں کو سال میں ایک صحیح مقالے کی تلاش کے لالے پڑ جائیں گے۔

تحقیق کا کام عبادت، ریاضت، مشقت، انہماک، یکسوئی، ہمہ جہت توجہ، مکمل ایمانداری اور علمی گہرائی سے مکمل ہوتا ہے اور اسی لیے اسے اعلا تعلیمی اداروں کے لیے تاج و افسر قرار دیا جاتا ہے۔ اسی سہارے مستقبل کا تعلیمی نظام کھڑا ہوتا ہے اور ہمارے نظامِ تعلیم کی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں۔ بہار میں شعبۂ اردو میں تحقیق کا زوال ایک دن میں نہیں ہوا۔ پالیسی کی سطح پر گڑبڑیاں اپنی جگہ مگر پچھلے تیس چالیس برسوں میں تحقیق کے لیے موضوعات کے تعیّن میں کن اساتذہ نے اختر اورینوی یا اختر قادری کی طرح منصوبہ بندی سے کام لیا؟ وہ کون سے لوگ تھے جنھوں نے اپنے طلبہ کو ان کی علمی دلچسپی کے پیش نظر موضوعات متعین کرنے میں تعاون دیا؟ وہ کون سا استاد تھا جس نے اپنے تحقیق کاروں کو باضابطہ روزانہ یا ہفتہ وار حاضر ہوکر اپنی تحقیق سے متعلق صلاح و مشورہ کرنے اور اس دوران طالب علم کی طرف سے ہوئی تحریری پیش رفت کا جائزہ لینے کے کام کو ضروری سمجھا؟ کس نگراں نے اپنے تحقیق کار کے مقالے کے ہر باب کو لفظ بہ لفظ دیکھا، اس میں اصلاحیں کیں، ترمیم و اضافے کی گنجایشیں دیکھیں یا ضرورت ہوئی تو پورا باب نئے خطوط پر دوبارہ لکھنے کے لیے ہدایت نامہ جاری کرنا ضروری سمجھا؟ کس استاد نے اس بات کی نگرانی رکھی کہ اس کا طالب علم تحقیق کے بازاری کاموں سے الگ رہے اور اپنے علم میں اضافے کی کوشش کرے۔ کتب خانوں میں مواد کی تلاش اور آزادانہ طور پر مقالے کے ابواب تیار کرنے کے بنیادی خطوط کس نگراں نے اپنے طلبہ سے مرتّب کرائے۔ ہمارے بیچ وہ کون سا استاد ہے جس نے اپنے طلبہ کے لکھے مقالوں کے بنیادی اور ثانوی ماخذ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر طلبہ کے کام کی جانچ کی اور اسے اس کی غلطیوں پر متنبہ کیا؟ کس شعبۂ اردو نے اس سطح پر طالب علم کی نگرانی کی کہ وہ کہیں بھٹکے نہیں اور صرف اپنے تحقیقی کام پر ارتکاز قائم رکھے؟

چار پانچ برسوں سے یوجی سی کی ہدایت پر ہر یونی ورسٹی میں پی ایچ۔ ڈی۔ میں داخلہ لینے سے پہلے کورس ورک کا باضابطہ سلسلہ شروع ہواہے۔ پٹنہ یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو میں یہ کام نصف دہائی سے جاری ہے۔ چھوٹی بڑی تمام یونی ورسٹیوں نے بھی اس لازمی کام کے لیے تقریباً ایک جیسے نصاب بنائے اور تعلیم ، تدریس، امتحانات اور پھر پی ایچ۔ڈی۔ کے لیے داخلہ جیسی تمام خانہ پُریاں مکمل کرلیں مگر یہ صلائے عام ہے کہ کسی ایک یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو کے کورس ورک سے فارغ کسی طالب علم کے چھے مہینے کی تدریس کا جائزہ لے لیا جائے تو ہماری آنکھیں کھُل جائیں اور ہوش ٹھکانے لگ جائیں۔ خاص طور سے بچوں کی کاپیوں کی جانچ کی جائے کہ انھیں ان کے اساتذہ نے کن کن موضوعات پر کتنے لکچرس دیے یا اس سے بھی آسان یہ نسخہ ہوگا کہ چھے مہینے کے کورس ورک کی مکمل ویڈیو گرافی کرالی جائے اور ہندستان کے بڑے پروفیسران کو اس کے جائزے کے لیے بھیج دیا جائے تب یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ہم نے کس انہماک سے ایک اچھے کام کو غارت کرنے میں اپنی مہارت ثابت کردی ہے۔ کہنا یہ ہے کہ اگر اساتذہ نئے نئے موضوعات پر کام کرنے کے لیے خود کو تیار نہ کرنا چاہیں تو یوجی سی سر پیٹتی رہے، یونی ورسٹیاں چلّاتی رہیں اور قوم آہ و بکا کرتی رہے؛ ہمارے اساتذہ کا کیا بگڑتا ہے۔ شاعر پہلے ہی کہہ چکا ہے: وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی ،وہ اب بھی ہے۔

کچھ نصابِ تعلیم کے بارے میں

تحقیق کی بات تو بعد کی ہے۔ طالب علم بی۔اے۔ اور ایم۔اے۔ کے درجات مکمل کرکے جب ہمارے پاس آئے گا تب تحقیق کے ٹیڑھے میڑھے راستوں پر الجھے گا او ر اس قدم ڈگمگائیں گے۔ یونی ورسٹیوں میں ایم۔اے۔ کی تعلیم و تدریس کے وسیع منظرنامے پر توجہ دی جا ئے اور خاص طور سے اسی کے ساتھ مختلف کالجوں میں الگ الگ یونی ورسٹیوں کے زیرِ انتظام بی۔اے۔ آنرس کے نصابِ تعلیم پر غور کریں تو ایسا محسوس ہوگا ہے کہ ہم کسی ایسے زمانے میں سرگرمِ عمل ہیں جہاں اردو تعلیم و تدریس نے تازہ ہوائوں کے لیے اپنی کھڑکیاں اور دروازے بند کر رکھے ہیں۔ اردو کے تعلق سے بہار کی تمام یونی ورسٹیوں میں موجود نصابِ تعلیم کو اگر درسیات اور نصابِ تعلیم کے بنیادی اصولوں کو سامنے رکھ کر ملاحظہ کیا جائے تو یہ بات سب سے افسوس ناک معلوم ہوتی ہے کہ نصابِ تعلیم یا درسیات کا کسی شخص کے پاس کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ سب کے سب ایک معمولی سے خاکۂ نصاب پر منحصر نظر آتے ہیں۔ جب آپ نے تعلیم و تدریس کے معیار ، اس کی ضرورت ، اس کی سطحِ تعلیم جیسے مسائل پر غور و فکر کرنے کی زحمت ہی نہیں اٹھائی اور انھیں اپنے نصابِ تعلیم کا حصہ ہی نہیں بنایا تو آخر کس طرح کوئی پڑھنے والا یہ سمجھ سکے گا کہ پچھلی جماعت سے اگلی جماعت تک پہنچنے کے مرحلے میں اسے کس موضوع کی کن کن منزلوں سے گزرنا پڑے گا؟ (یہ بھی پڑھیں بہار میں اردو کی صورت حال – ڈاکٹر ریحان غنی)

آخر غالب، میر، پریم چند، اقبال، میر امن جیسے مصنّفین اسکول ، کالج اور یونی ورسٹی تینوں سطح پر ہماری تدریس کا حصہ ہو تے ہیں۔ ہمارے کس استاد یا کس صدر شعبۂ اردو کو یہ بات یاد رہی کہ وہ اس سطح کا نصاب تیار کرتے ہوئے یہ بتائے کہ اسکول میں غالب کا کوئی کلام بچے کی سطحِ معلومات میں کس بات کی شمولیت کے لیے پڑھا رہاتھا اور کالج میں کسی دوسری غزل سے بچے کو کیا حاصل کرنا تھا اور یونی ورسٹی میں دیوانِ غالب کی منتخب غزلیں اگر پڑھائی گئیں تو اس کے مقاصد کس حد تک مختلف تھے؟ اگر یہ باتیں صاف صاف نصاب تیار کرنے والے کے ذہن میں نہ ہو ں تو وہ کلاس روم کی تدریس میں کون سی چیزیں بچوں کو دے رہا ہے، یہ نہ ہمارے بچے سمجھ سکیں گے اور اگر استاد سمجھتا تو اس کا ضرور اندراج کرتا۔ یہ غلط فہمی ذہن سے نکال دینی چاہیے کہ نصابِ تعلیم کے واضح نشانات اعلا تعلیم میں مقرر نہیں کیے جاسکتے۔ آپ کی جماعت میں اگر غالب، میر بھی درس لینے آتے ہیں اور ان کے لیے بھی کوئی کورس مرتب کرنا ہے تو یہ ہمارے لیے ایک چیلنج کی طرح ہے کہ ہم وہاں بھی واضح درسی نشانہ متعین کریں اور اس کے مطابق نصاب ، خاکۂ نصاب اور پھر درسی کتاب یا درسی مواد تیار کریں۔

بہار کی تقریباً ہر یونی ورسٹی کے نصاب میں پچیس فی صد حصہ سفارشی اور تعلّقاتی ہے۔ میری کتاب تم شامل کرو، تمھاری کتاب میں شامل کروں گا۔ اسی کے ساتھ اگلی منزل یہ بھی آتی ہے کہ میں اپنی کتاب اور اپنے دوست کی کتاب اپنے یہاں شامل کروں اور دوسری یونی ورسٹیوں میں بھی اپنے اثر کا استعمال کرتے ہوئے وہاں لگوائوں۔ ظاہر ہے کہ ایسے موضوعات یا ایسی کتابوں کی شمولیت کا درسی جواز کون شخص پکی روشنائی میں لکھ سکتا ہے؟ یہ ایسی کتابیں ہیں جنھیں نہ کبھی طالب علم نے دیکھیں، نہ پڑھیں اورنہ کسی استاد کو اس بات کی توفیق ہوئی کہ کتاب جب شاملِ نصاب ہے تو کلاس روم میں اس کی رونمائی ہونی ہی چاہیے۔ ایک طرح سے اس سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ ان میں سے جو بُری کتابیں تھیں، ان کے اثرات سے بچّے محفوظ رہے۔ اسی طرح سے ہماری یونی ورسٹیوں میں پچیس فی صد ایسی کتابوں کو نصاب میں شامل کیا جاتا ہے جو کہیں دستیاب نہیں ہیں۔ انھیں حاصل کرنے کے لیے کتب خانوں میں جائیے اور وہ بھی بڑے کتب خانوں میں۔ پٹنہ کے بچے تو خدا بخش لائبریری یا گورنمنٹ اردو لائبریری سے ان نایاب کتابوں کی زیراکس حاصل کرکے گزارہ کرسکتے ہیں مگر مدھے پورہ میں بیٹھے طالب علم سے اگر آپ یہ توقع کرتے ہیں کہ تین سو کیلو میٹر کی مسافت طے کرکے اپنے کسی پرچے کی ایک کتاب کے لیے یہاں آئے تو یہ صد فی صد ظلم اور زیادتی ہے۔ ہر یونی ورسٹی کے نصاب میں چار کتابوں کے نام آسانی سے غلط مل جائیں گے۔ دو چار لفظ کا ہیر پھیر نظر آئے گا۔ غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ ان کتابوں کے نام درجِ نصاب کرتے ہوئے کبھی اساتذۂ کرام نے الماریوں سے انھیں نکال کر ایک بار پھر سے دیکھنے کی زحمت نہیں کی۔ فہرستِ کتب سے نام منتخب کرنے کا ایک خاص رواج ہے ۔ ناول کا پرچہ ہے اور بڑا اچھا معلوم ہوا کہ’ اردو ناول کا ارتقا‘ کتاب کہیں نظر آگئی، اسے شامل کرلیا گیا۔ کتاب نکال کر دیکھتے تو معلوم ہوتا کہ ناول نگاری پر محض دس صفحے کا ایک مضمون ہے اور باقی تحریریں دوسرے موضوعات سے متعلق ہیں۔ یہ عمل بتاتا ہے کہ ہم میں اتنی تن آسانی ہے کہ نصاب کے لیے مواد متعین کرتے ہوئے ایک بار بھی اس بات پر غور نہیں کرپاتے کہ ان کی دستیابی طلبا کے لیے کہیں مشکلوں کا سامان نہ ہو جائے۔ ( یہ بھی پڑھیں مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت – ڈاکٹر محمد بہلول )

بہار کی ہر یونی ورسٹی میں مکمل کتابیں شامل کرنے کا رواج ہے۔ ’’آگ کا دریاک‘‘، ’’کارِ جہاں دراز ہے‘‘، ’’اداس نسلیں‘‘ جیسی ضخیم کتابیں شاملِ نصاب ہوتی ہیں۔ نصاب کے بنیادی ڈھانچے میں شامل کتاب کے بارے میں یہ تصور ہوتا ہے کہ اس کا لفظ بہ لفظ پڑھایا جائے۔ یہ سچائی بھی ہے کہ بنیادی کتب بچے استاد کی نگرانی میں اگر لفظ بہ لفظ نہ پڑھ سکیں تو کاہے کی تعلیم۔ پہلے دو سال کا کورس ہوتا تھا، پھر ایک سال کا ہوا اور اب چھے مہینے کا۔ نذیر احمد نے یونی ورسٹیوں پر پھبتی کستے ہوئے اپنے ایک خط میں لکھا کہ یونی ورسٹیوں میں پڑھائی کم اور تعطیلیں زیادہ ہیں ۔ دوسری بات یہ کہی کہ اساتذہ نامہربان ہیں۔ پھر یہ بات بھی درج کی کہ تعلیم میں گہرائی نہیں ہے۔ لفظ بہ لفظ تدریس کے عربی انداز کو انھوں نے فوقیت دی تھی۔ سمسٹر سسٹم میں ایمانداری سے نوّے دن بھی اگر کلاسس ہوں تو یہی کرشمہ ہے۔ ایک کتاب کے حصے میں چاہے آپ کچھ بھی کرلیجیے جو ایمانداری سے پڑھاتے ہیں، انھیں بھی دس کلاس سے زیادہ مہلت نہیں مل سکتی ۔ اب استاد کے پاس علی بابا کا چراغ نہیں کہ جادو سے کوئی ایسا کھیل کردے کہ آٹھ دس گھنٹے میں ’’آگ کا دریا‘‘ پڑھا دے، ’’گئودان‘‘ کے متن کو واشگاف کردے یا ’’باغ و بہار‘‘ اور ’’سحر البیان‘‘ کے جادو سے ہمارے طالب علم کو باخبر کرسکے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے خود کبھی غور نہیں کیا کہ جو کام اس مخصوص مدّت میں ہم نہیں کرسکتے ، وہ ہمارے طالب علم کیسے کر پائیںگے اور اگر تدریس مکمل نہیں ہوگی تو آدھی ادھوری تعلیم سے جو ہماری نسلِ نو تیار ہوگی، اسے دنیا مذاق کا نشانہ آخر کیوں نہیں بنائے؟ قصور استاد کا تھا مگر زندگی خراب طالب علم کی ہوئی اور نقصان ہماری زبان، تہذیب اور سماج کا ہوا۔

نصابِ تعلیم کے سلسلے سے ایک پُرمزاح مثال مختلف سسٹم کے بدلنے کے دوران نظر آئی۔ جب دو سال کا ایم۔اے۔ ہوتا تھا اور آٹھ پرچے ہوتے تھے، اس وقت عام طور سے دس یا بارہ کتابیں ہر پرچے میں شامل ہوتی تھیں۔ جیسے ہی یہ طے ہوا کہ اب ہر سال آٹھ پرچے ہوںگے تو نئے سرے سے نصاب تیار کرنے کے بجاے ہر پرچے کو آدھا آدھا تقسیم کرکے آٹھ کی جگہ پر سولہ پرچے تیار ہوگئے اور ان سے کام چلنے لگا۔ پھر سمسٹر سسٹم میں یہ آسانی ہوگئی کہ انھی آٹھ کو چار چار کے دو حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ کہیں کہیں یکسانیت لانے کے لیے کچھ کتابوں کو کم یا زیادہ کرکے اپنا کام انجام تک پہنچا دیا گیا۔ کسی کو یہ بات یاد ہی نہیں رہی کہ دو سال میں ایک امتحان، دو سال میں دو امتحان اور دو سال میں چار امتحان لینے کے لیے نظامِ امتحان میں جو بنیادی تبدیلی لائی گئی، اس کے کچھ مقاصد تھے یا یہ یوںہی یہ نِرے انتظامی فیصلے تھے۔ مگر اردو میں کم از کم کسی کو غور کرنے کے لیے شاید اب تک یہ موقع نہیں ملا۔ کسی یونی ورسٹی کے نصاب میں اس بات کے لیے پانچ لفظ کا ایک جملہ بھی کہیں نظر نہیں آئے گا۔ اس دوران امتحانوں میں معروضی سوالات کی شمولیت اور داخلی امتحانات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوامگر نصابِ تعلیم میں اس کے لیے کوئی اصولی یا عملی کام متعین نہیں کیا گیا۔ مختصر اور مختصر تر سوالات کے لیے مختلف یونی ورسٹیوں میں گنجائشیں پیدا کی گئیں مگر نصابِ تعلیم اس سلسلے سے کوئی اصولی بحث نہیں کرتا کہ ان کی ضرورت کیوں پیدا ہوئی؟

نصابِ تعلیم کا کھوکھلا پن ملاحظہ کرنا ہو تو اس کے ظاہری ڈھانچے پر نظر کرنی چاہیے۔ کچھ یونی ورسٹیوں میں اصناف کے اعتبارسے پرچے قائم کیے گئے ہیں اور کچھ یونی ورسٹیوں میں عہد کے اعتبار سے۔ کہیں کہیں ان دونوں کے بیچ ضرورت کے مطابق راہ بدلنے کی کوشش ہوئی۔ عہد بہ عہدنصاب میں جب مصنفین اور کتابوں کے داخل میں اتریے تو کئی بار زیرِ لب مسکرانا پڑتا ہے۔ آخر ’’حیاتِ جاوید‘‘ اور ’’آنگن‘‘ ایک ہی پرچے کا حصہ کس طرح بنا دیے گئے ہوںگے؟ایک یونی ورسٹی کے نصاب میں سلیقے کے ساتھ عہد کے اعتبار سے شعرا کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر یگانہ اور فراق کے ساتھ آتش کی تدریس کے کیا معنیٰ ہیں، جب کہ اس سے پہلے یونٹ میں غالب اور مومن کی تدریس کا انتظام تھا۔ چھپے ہوئے نصاب میں فراق گورکھپوری کی پہلی غزل کے طور پر ناصر کاظمی کی مشہور غزل کا مصرعہ اس طرح تیرتا ہوا نظر آتا ہے: کچھ یادگارِ شہرِ ستم گر ہی لے چلیں۔ اکبر الہٰ آبادی کی نظم ’’جلوۂ دربار دہلی ‘‘سے’ دلی دربار‘ ہوگئی اور آٹھ دس برس میں اس میں اصلاح کی ضرورت کسی کو محسوس نہیں ہوئی۔

ایک یونی ورسٹی کے’ تحقیق ‘کے پرچے میں’’تحقیق و تنقید‘‘ نام کی اسلوب احمد انصاری کی لکھی ہوئی کتاب کا اندراج ہے، اگر کسی استاد نے یہ کتاب دیکھی ہوتی تو یہ معلوم ہوجاتا کہ اس نام کی اسلوب احمد انصاری نے کوئی کتاب نہیں پیش کی اور ’’تنقید و تخلیق‘‘ عنوان سے ان کی جو کتاب ہے ، وہ متفرق مضامین کا مجموعہ ہے جس کا تحقیق سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔ اسی تحقیق کے پرچے میں ریفرنس بُک میں ’’مقالاتِ شیرانی‘‘ کا نام بھی درج ہے۔ نصاب کے ماہرین نے اگر دور سے بھی اس کتاب کی صورت دیکھی ہوتی تو انھیں اندازہ ہوجاتا کہ آٹھ جلدوں پر مشتمل یہ کتاب وزن کے اعتبار سے بھی دس کیلو سے زیادہ کی ہے۔ ایک یونی ورسٹی کے نصاب میں’ تحریکات و رجحانات‘ کا مکمل پرچہ ہے مگر اس میں ایہام گوئی، اصلاح زبان، رومانیت، انجمن پنجاب، دہلی کالج جیسی کسی ادبی تحریک کو شامل کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ وہیں دبستانِ عظیم آباد کے لیے وقف پورے پرچے میں نَو مکمل کتابیں اور تین شعرا کا خصوصی اور انفرادی مطالعہ اور دبستانِ بہار کی تشکیل و تعمیر کے امور یکجا کردیے گئے ہیں۔ اب اگر تحریک کے پرچے میں چالیس گھنٹے لگیں گے تو دبستانِ عظیم آباد میں چار سو گھنٹے لگنے چاہییں۔ یہ عدم تناسب اس وجہ سے ہے کہ نصاب تیار کرتے ہوئے اس بات پر کسی ماہرِ تعلیم کی نظر ہی نہیں گئی کہ پڑھنے اور پڑھانے کے لیے مقررہ اوقات کیا ہیں اور ان میں ممکن حد تک استاد کتنا کام کرسکتا ہے؟

لسانیات کے حصے میں جو موضوعات متعین کیے گئے ہیں، اگر کسی کے پاس اختر اورینوی صاحب کے زمانے کا نصاب موجود ہو تو براہِ مہربانی دونوں کا موازنہ کرلیا جائے، شاید ہی کسی ایک نئے موضوع کا اس میں اضافہ ملے گا۔ اب ذرا موضوعات سنیں: لسانیات کی تعریف، دائرۂ کار اور دیگر علوم سے رشتہ، زبانوں کے خاندان، اردو کا خاندانِ السنہ(اس عنوان سے لسانیات کی دنیا کی شاید ہی کسی کتاب میں کوئی باب یا ذیلی عنوان مقرر ہوا ہو)، اردو زبان کی ابتدا کے مختلف نظریات، زبان کی ارادی اور غیر ارادی تشکیل، صوتی تغیر و تبدل، وضع اصطلاحات، سابقے اور لاحقے۔ لسانیات کا علم تمام شد۔ دنیا میں لسانیات کی تعلیم کہاں سے کہاں پہنچ گئی ، اردو میں بھی اب صرف محی الدین قادری زور کے دور کی کتابیں نہیں، سیکڑوں کارآمد کتابیں موجود ہیں مگر ہم ہیں کہ پچاس ساٹھ برس پہلے جن موضوعات کا تعین ابتدائی طور پر ہمارے اسلاف نے کیا تھا، انھی کے ارد گرد محض تن آسانی اور علمی سست روی کی وجہ سے چکر کاٹ رہے ہیں۔ ایک یونٹ کا نام بلاغت ہے اور ایک کا عروض ہے۔ عجیب حال ہے کہ سلیبس میں کہیں کتابوں کے نام کو یونٹ بنایا گیا تھا، اب یہاں موضوعات یا علوم کے نام طے کر دیے گئے ہیں۔ بلاغت یا عروض کے لیے ایک ایک یونٹ متعین کیا گیا ہے مگر اس میں کون کون سی باتیں طالب علم کے پیش نظر ہونی ہیں، اس کا کچھ بھی تعین نہیں ہے۔ عروض اور بلاغت کی جدید کتابیں ریفرنس کا حصہ نہیں ہیں،محض پرانی کتابوں پر انحصار ہے اور ایسی کتابیں بھی شامل ہیں جو کہیں دستیاب نہیں ہیں۔

عصری ادب کے پرچے میں ایک یونٹ میں تین ناول شامل ہیں اور اسی کے مقابلے میں ایک یونٹ میں چار کہانیاں۔ کوئی بتائے کہ ان میں مساوی وقت کیسے لگے گا؟ اسی پرچے میں تین ظریفانہ کتابیں اور چار نقادوں کا خصوصی مطالعہ بھی ایک یونٹ کے تحت ہے، ’بستے کا بوجھ‘ اور کسے ہی کہتے ہیں۔ دکن کے لیے خصوصی پرچے میں ’’قطب مشتری‘‘، ’’پھول بن‘‘، کدم رائو پدم راؤ‘‘، ’’گلشنِ عشق‘‘، ’’سب رس‘‘، ’’معراج العاشقین‘‘ کے ساتھ ہاشمی بیجاپوری، علی ابراہیم عادل شاہ شاہی، محمد قلی قطب شاہ اور سراج اورنگ آبادی جیسے شعرا ایک ساتھ شاملِ نصاب ہیں۔ عمومی تاریخی ارتقا اور لسانی خصوصیات الگ سے مطالعے کا حصہ ہیں۔ غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ معراج العاشقین کے ساتھ مصنف کا نام’ گیسو دراز‘ درج ہے۔ سوال یہ ہے کہ نصاب کے جن ماہرین نے اس کاغذ پر اپنے دستخط کیے، وہ سب اٹھارہویں صدی میں پیدا ہوئے لوگ نہیں تھے۔ کیا اس لاعلمی کی بنیاد پر دراز قامتی کا اعلان کرنے والے اصحاب عوام کی طرف سے کھلے عام سزا دیے جانے کے مستحق نہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہر سال ہماری یہ جہالت طلبا کے ذریعہ پھیلتی جارہی ہے اور ہم اپنے طلبا کو بہ تدریج کمزور اور ملک کے دوسرے اچھے طلبا کے مقابلے میں کم تر بنا کر زندگی کی دوڑ میں خود ہی انھیں پچھڑنے کے لیے مجبور کررہے ہیں۔

ہماری یونی ورسٹیوں کے اساتذہ میں ایک بڑا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو مشینی انداز سے اپنی زندگی گزارنے کے عادی ہوگئے ہیں جنھیں جدید اصطلاح میں ’’ٹن ٹو فائیو‘‘ کی روٹین والا کہتے ہیں۔ ان سے صرف یہ گزارش کی جائے کہ ان کے اساتذہ نے جو پڑھایا ،کم از کم اسے محفوظ رکھنے کی کوشش تو کرلیں۔ مگر بہار کی سطح پر ہر یونی ورسٹی میں پانچ دس ایسے ہونہار اور مشقت کرنے والے اساتذہ ضرور ہیں جنھیں خوابِ غفلت سے جھنجوڑ کر جگانے کی ضرورت ہے۔ سال میں ایک بار تو اپنی یونی ورسٹی کے نصاب کا تنقیدی جائزہ لیں اور بتائیں کہ کہاں کہاں نقص رہ گیا اور اس کی اصلاح ضابطے کے مطابق یا کم از کم تدریس میں کس طرح سے ممکن ہے۔ ہر استاد اپنی پوری زندگی میں ایک بار اپنی یونی ورسٹی کے نصابِ تعلیم کا جائزہ لے لے اور کم از کم اپنے طریقۂ تدریس کے روشن یا تاریک پہلوؤں پر ایک مضمون لکھ کر عوام کے سامنے لے آئے تو ہمارے ہزار مسائل اپنے آپ کم ہونے لگیں گے۔ ہمیں آسانی سے اس بات کا احساس ہوگا کہ ہم اوپر کی طرف نہیں جارہے ہیں بلکہ سلسلہ زوال کا ہے۔ ہم اپنی یونی ورسٹیوں کے نصاب یا طریقۂ تدریس یا اندازِ تحقیق کا موازنہ مرکزی یونی ورسٹیوں یا آج کے مشہور تعلیمی اداروں سے روز بہ روز کیوں نہیں کرتے؟ نصاب کی نقل ہی کرنی ہے تو علی گڑھ اور جے این یو یا یوجی سی کے نصاب کی طرف کیوں نہیں جھانکتے؟ روزانہ کی نئی ضرورتوں کے مطابق ہمارے نصاب میں کون سی چیز شامل ہوئی ہے؟ جہاں جہاں نصاب میں صحافت بہ طورِ موضوع درج ہے وہاں اب بھی اردو صحافت کی تاریخ اس کا حاوی حصہ ہے۔ جب کہ یہاں ویب جرنلزم اور بلاگ نے دنیا کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ طرح طرح کے مقابلہ جاتی امتحانات ہوتے ہیں۔ ان میں کلرک سے لے کر آئی۔اے۔ایس۔ افسر تک بنتے ہیں، کیا ہم دس بیس ایسے خصوصی پرچے نہیں قائم کرسکتے تھے؟ ترجمہ نگاری، کاروباری فیچر، وسائلِ عامہ کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں کا ادب، نئی نئی زبانوں کو سکھانے کے لیے اردو والوں کو راغب کرنے کے مقصد سے ڈپلوما اور سرٹیفیکٹ کورسس ، بُک پبلشنگ، کاپی رائٹنگ، کاپی ایڈیٹنگ جیسے ہزار کام ہیں جنھیں ہم شعبۂ اردو کے دائرے میں لاسکتے تھے۔

ہم نصابی سرگرمیوں میںکوتاہیاں

آزادی کے پہلے اور اس کے کچھ بعد کے زمانے میں ہماری یونی ورسٹیوں میں ایسے اساتذہ ہر جگہ نظر آتے تھے جن کی بنیادی حیثیت تخلیق کا رکی ہو تی تھی۔ کوئی شاعر تھا، کوئی افسانہ نگار، ناول نگار یا ڈراما نویس۔ اس کی وجہ سے ہمارے شعبوں میں تخلیق کاروں کا آنا جانا اور اس سے ہمارے طلبا کی مفت ادبی تربیت ہوتی تھی۔ آج یونی ورسٹی میں جس نے داخلہ لیا ، ایم۔اے۔ کے طالب علم، ریسرچ اسکالر سے لے کر صدر شعبۂ اردو تک؛ سب کے سب نقاد اور محقق ہیں؛ نام نہاد کیوں کہا جائے؟ وہ ایسے نقاد اور محقق ہیں جن کو خاص طور پر شعرا و ادبا سے دور کا رشتہ رکھنا ہوتا ہے۔ چھوٹی یا بڑی کوئی تقریب ہوگی تو اپنے شہر کے افسانہ نگار، ناول نگار اور شعرا جو یونی ورسٹی کے باہر کے ہیں، ان سے ارادتاً گریز کی ایک خوٗ ہوتی ہے۔ ہمارے طلبا کے لیے یہ عجیب و غریب مجبوری ہے کہ دوسرے تیسرے درجے کے ادبا و شعرا سے ان کا تعلق قائم کیا جاتا ہے اور وہ ایک نچلی سطح کے ادب کو دیکھنے سننے پر قانع ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہماری یونی ورسٹیوں کے ادبی اجتماعات طلبا کی ترغیب کا باعث نہیں ہوتے ۔ جس سے نئے شعرا و ادبا، افسانہ نگار اورناول نگار ہمارے اداروں سے نہیں نکل رہے۔ اس سے پہلے ہم نے عربی اور فارسی سے ان زبانوں کے ماہرین سے خود کو الگ کرکے ایک بڑا مسئلہ پیدا کردیا۔ آج سے چار دہائی قبل جو شخص اردو میں ایم۔اے۔ کرتا تھا، ساتھ ہی ساتھ فارسی میں بھی ڈگری لے لیتا تھا۔ اس بہانے دو چار دس فارسی شعرا و ادبا کے بارے میں اس کی واقفیت ہوجاتی تھی۔ مگر وہ سلسلہ بند ہوگیا۔ کچھ دنوں تک فارسی کا ایک پرچہ اردو کے نصاب میں ہوتا تھا۔ بی۔اے۔ میں بھی آدھا پرچہ رہتا تھا۔ وہ بھی رفتہ رفتہ ہٹادیا گیا۔ ان کی تخفیف کی وجہ یہ تھی کہ فارسی پڑھانے والے اساتذہ گھٹتے چلے گئے۔ حالاںکہ ان اساتذہ میں سے اب بھی ایسے بہت سے ہیں جن کے پاس دونوں زبانوں کی ڈگریاں ہیں۔ فارسی سے نابلد ہونے کی صورت میں پرانے ادب پر تحقیق کا دروازہ اپنے آپ بند ہوجاتا ہے۔ قدیم شاعری کی کون کہے، غالب اور اقبال کو لفظ بہ لفظ ایسے اساتذہ کیوںکر پڑھائیں گے؟ ان سب کا نقصان طلبا کو ہی اٹھانا پڑتا ہے، نہ وہ شعر کہنا سیکھتے ہیں اور نہ تحقیق کی بنیادیں استوار کرسکتے ہیں۔ وہ جائیں تو جائیں کہاں؟

سے می نار اور ورکشاپ: طلبہ کے لیے تربیت گاہ

آپ بہار کے کسی ایسے سے می نار میں چلے جائیں، جس میں طلبا یا ریسرچ اسکالرس کی ایک مخصوص تعداد اسٹیج پر اپنے مقالات پڑھنے کے لیے موجود ہو۔ ان محفلوں میں ہمارے اساتذۂ کرام کی صدارتی تقریریں سنیے اور سَر دُھنیے۔ خود زبان و بیان کی پچاس غلطیاں کریں گے مگروہ طلبا کو مائک پر تشریف لاکر ان کی پانچ دس غلطیوں کی نشان دہی کرکے ان کی گردن میں طوقِ ملامت ڈالیں گے۔ استاد نے اپنے کلاس روم میں بچوں کو اگر نہیں سکھایا تو سے می نار میں اسے آسمان سے کوئی فرشتہ آکر  سکھا دے گا کہ لفظ ’’اُسلوب‘‘ یا ’’اَسلوب‘‘ ہے یا ’’اِسلوب‘‘ ہے؟ گوشمالی کہاں استاد کی ہونی چاہیے کہ اس لفظ کی نادرست ادائیگی اسی استاد نے یا اس کے ہم پیشہ افراد نے کی تھی مگر برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر۔

آج کچّے پکّے سے می نار کی ریل پیل کا دور ہے۔معیار پسند اشخاص سوالات قائم کرتے ہیںکہ یہ علمی زوال کے پیمانے ہیں۔اکثر سے می ناروں میں سب سے بزرگ ،بڑے منصب پر فائز اور معتبر کہے جانے والے افراد صدارت کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ایک مختصر گوشوارہ تیار کیجیے تو عظیم آباد میں سال میں بیس پچیس صدارت کرنے والے اصحابِ قلم مل جائیں گے اور دلّی میں تو ایک سال میں سو اوردو سو صدارت فرمانے والے معززین نظر آجائیں گے۔ اب ایک طرح سے سے می نار کی صدارت پیشہ ہے۔ان میں سے سب سے زیادہ ہماری یونی ورسٹیوں کے بزرگ تر، سبک دوش اور نامور اساتذہ شامل ہوتے ہیں۔اب ان سے یہ دریافت کیجیے کہ ڈیڑھ سو سے می ناروںمیں آپ شریک ہوئے اور مسندِصدارت سے آپ نے خطاب فرمایا مگرچار سے می نارو ں میں بھی آپ نے کوئی نیا مقالہ لکھا ہوتا تویہ بات سمجھ میں آتی کہ آپ مذاکرۂ علمی میں شریک ہونا چاہتے ہیں اور ذاتی تحقیق سے آپ نے کچھ نئے علمی پہلو تلاش کیے ہیں۔معلوم ہو گا کہ ایک سال نہیں، پانچ برس گزر گئے اس دوران سیکڑوں صدارتی تقریریں ہوئیں،ہزاروں مقالوں پر مبلّغانہ نا صحانہ تنقیدات پیش ہوئیں مگر اپنا کسب ِعلم اللہ کی مہربانی سے بنجر ہی رہا۔سے می نار منعقد کرنے والے صرف صدارت کے لیے معاوضے کی رقم بند کر دیں تو یہ منصبی شہوانیت اپنے آپ بند ہو جائے گی اور خود لکھے پڑھے بغیر دوسرے کے کاموں کا شہ زوری کے ساتھ احتساب کرنے کا چلن بھی گھٹے گا۔

جب سے می نار میں بزرگ نسل نئے نئے مو ضوعات پر اپنے مقالے نہیں لکھیں گے تو سے می نار کے لیے غم یا خوشی جیسے بھی ہو ،کم تر دردجے کے افراد اور بہ ظاہر نا معتبر قرار دیے جا نے والے لوگ ہی مقا لے پیش کریں گے ۔سوال یہ ہے کہ کسی بھی موضوع پر آپ مقالے لکھنے کے لیے لائبریریوں کے چکر لگانے ہوں گے اور یکسوئی کے ساتھ غور و فکر کرنا ہو گا ۔اپنے نتائج کا اعلان بھی کر نا ہو گا پھر اس بات کا اندیشہ کوئی نو آموز بیچ میں سوال پوچھ دے گایا ہماری زبان و بیان کی ایسی گرفت کردے کہ ہماری آبرو خطرے میں پڑ سکتی ہے۔آپ نے چلتے پھرتے انداز میں اگر کا م کیا ہے تو کبھی بھی پریشانی پیدا ہو سکتی ہے۔اس لیے صدارت اور کلیدی خطبہ ہی وہ زرہ ہیں جہاں میں اپنی تساہلی اور بے علمی کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔ایسے میں سے می نا ر میں کمزور علم والوں کابول بالا لازم ہے۔اسی بھیڑ میں ہمارے نو عمر لکھنے والے بالخصوص یو نی ورسٹیوں کے  ریسرچ اسکالرس کی دوڑ دھوپ بڑھ گئی ہے اور ان کے مقالے سے می نا روں میں پڑھے جا رہے ہیں اور کتابوں کا حصّہ بن رہے ہیں۔بعض اساتذہ رشک میں مبتلا ہوتے ہیں کہ یہ چار دن کے بچے اتنا کچھ کیسے لکھ لیتے ہیں اور ان کی دھڑا دھڑ کتابیں کیسے آرہی ہیں۔معاملہ یہ ہے کہ نو عمر طالب علم اخبار یا کسی سوشل سائٹ پر متوقع سے می نارکے موضوع کو دیکھ کر بغیر بلائے اپنے طور پر مواد جمع کرنے اور پھر اس موضوع پر چند صفحات لکھنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔دس دن اور پندرہ دن دوڑتے بھاگتے انھیں کا م کی باتیں معلوم ہو جاتی ہیں اور وہ اپنے مقالے لکھ دیتے ہیں۔تب وہ دعوت نامہ حاصل کرنے کے لیے کوششیں شروع کر دیتے ہیں۔ہر جگہ تعلقات اور سفارش کی ضرورت نہیں ہوتی، جمہوری دور ہے ،آپ آن لائن رجسٹریشن فیس جمع کریں،اپنے مقالے کا خلاصہ بھیجیں،مکمل مقالہ بھی پیشگی روانہ کر دیں۔ممکن ہے، وہاں سے منظوری آجائے اور آپ کو بلا لیا جائے۔کہیں کہیں یہ بھی ہو تا ہے کہ سے می نا ر منعقد کرنے والے افراد بچوں سے گزارش کرتے ہیں کہ اپنے خرچ سے آپ چلے آئیں۔طالبِ علم اس پر بھی تیار ہے۔سو میں دو چار طالبِ علم وہاں پہنچ کر اپنا مقالہ زبان و بیان کی درستی،مواد کے استناد اور پیش کش کے معیار کے ساتھ پیش کرتا ہے تو وہاں دوسروں کی طرف سے تو داد ملتی ہے لیکن بعض اوقات یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس طالبِ علم کے اساتذہ ہی وہاںاس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔رہی زبان وبیان کی خامی تو رفتہ رفتہ یہ بچے ایک دن سیکھ ہی جائیں گے یا اگر ہوش مندی سے انھوں نے کام نہیں لیا تو اپنے بعض اساتذہ کی طرح روز بہ روز ذلیل وخوارہونے کے لیے مجبور ہوں گے مگر سے می ناروں کی معیار سازی کے نا م پر بزرگوں کو کھُلی چھوٹ ہو اور نو عمروں پر قدغن لگے،یہ انصاف کی بات نہیں۔سے می نار چاہے غیر معیاری ہوں مگرہماری یو نی ورسٹیوں کے کلاس روم سے بہر طور بہتر ہوں گے اور ان کے سہارے ہمارے طالب علموں کی علمی تربیت ہوجاتی ہے۔وہ ایک بڑے حلقے سے جڑتے ہیں اور کچھ نہ کچھ آگے ہی بڑھتے ہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سے می نار سرکاری ہوں یا غیر سرکاری ہمارے شعبے کے ہو ں یا باہر کے انھیں بہتر اور معیاری بنانے کی کوشش تو ہو نی ہی چاہیے۔مگر ان پر تنقید و تبصرہ کر کے اپنے نو نہالوں کو وہاں سرگرم رہنے سے روک کر ہم انھیں نقصان پہنچا سکتے ہیںاس میں فائدہ کسی کا نہیں۔ہمیں مستقبل کا استاد اور شہری تیار کرنا ہے تو اپنے بچوں کو میدان میں باتارنا ہی ہو گا۔کھلاڑی وہی کا میاب ہو تا ہے جو ہوم گراونڈ کے ساتھ ساتھ دوسروں کے میدانوں میں بھی کامیابی کا جھنڈا گاڑے۔ہمارے شعبۂ اردو کے اساتذہ کو اپنے بچوں اور اپنے رفقا کو ہوم گراونڈسے نکال کر میدانِ کارزار میں اترنے اور کامیاب ہو نے کے لیے باہری سے می نار اور ورکشاپ کے دروازے تک پہنچانا ہی چاہیے۔اس کے بغیر ہم نئی نسل کے چاند سورج نہیں تیار کر سکتے۔

اندھیرا کیسے چھٹے؟

اردو تدریس اور بہار میں اردو طلبہ بالخصوص یونی ورسٹیوں کے طالب علموں کے مسائل اور ان کے حل کے متعدد پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے ہمارے سامنے چند ایسے سوالات ابھرتے ہیں جن کے تشفی بخش جواب کے بغیر آنکھوں کے سامنے اندھیرے اجالے کا کھیل چلتا رہے گا۔ اساتذہ کی چشم پوشی یا سماج کی عدم توجہی سے اگر ہمارے طلبہ کی زندگی میں اردو تعلیم کا اجالا نہیں پہنچتا تو خاموش بیٹھنا یا اپنے آپ حالات بدلنے کے انتظار میں گزار دینا معقول بات نہیں ہے۔ اردو تدریس کی تاریخ کے بالاستیعاب مطالعے سے یہ بات واضح ہوچکی کہ گذشتہ ایک صدی میں بہار کی اردو تدریس نے مختلف کروٹیں لیں۔ ہر زمانے کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں اور وہ دور اپنے نئے سانچوں میں اپنے بُت تراشتا ہے۔ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے کہ تدریسِ اردو میں وسعت تو آئی ہے مگر معیار کے اعتبار سے گراوٹ کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا اثر ہماری یونی ورسٹیوں کے نونہالوں پر براہِ راست نظر آتا ہے۔ کم از کم اردو زبان و ادب کی حد تک ایم۔اے۔ پاس کرنے والے بچوں کی بڑی تعداد ادب کے بنیادی موضوعات میں کامل نہیں ہوتے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس قدر صلاحیت کے باوجود آزادانہ طور پر وہ اپنی زبان کی ترقی اور محافظت کے کام بہ مشکل کرسکتے ہیں۔ یہ بھی سچائی ہے کہ اس معیار کے بچوں کو بغیر تجربے کی بھٹی میں ڈالے ہوئے ہم ان سے بہترین خدمات نہیں لے سکتے۔ ہمارے ریسرچ اسکالرس کی تحقیق اور یونی ورسٹیوں میں ان کے ذریعے کی جارہی تدریس ؛ دونوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

تدریس میکانکی اور جامد نہیں ہوسکتی۔ اس لیے ہم اگر بہار کے نظامِ تعلیم میں کچھ بہتر کرنے کے خواہش مند ہیں تو ہمیں تدریس کے نئے ذرائع کا استعمال کرنا سیکھنا ہوگا۔ اردو کے بعض اساتذہ تقریر یا آبا و اجداد کے زمانے کے نوٹس کو املا کرانے سے دوچار قدم آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتے۔ اس سے ہمارا معیارِ تعلیم متاثر ہورہا ہے۔ استاد نے املا کرایا تو اسے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کے طالب علم درست لکھ رہے ہیں یا نہیں۔ الزام درالزام کے مقابلے حقیقت پر نظر ہونی چاہیے۔ بچوں کی کاپیوں کو جب اساتذہ سرخ اور سبز رنگ کی روشنائی والے قلم کے ساتھ دیکھنے کی کوشش کریں گے تو انھیں پتا چل سکے گا کہ ان کے طالب علم تحریر میں کس حد تک مضبوط یا کمزور ہیں۔ املا کرانے کا پرانا نظام دنیا میں ہمیشہ کارگر رہا ہے۔ کاپی دیکھنے کے بعد ہی استاد یہ طے کرسکتا ہے کہ اس کا طالب علم چاہے جس سطحِ تعلیم پر پہنچا ہوا ہو مگر اسے خوش خطی کی باضابطہ تعلیم یا تربیت دی جاسکتی ہے۔ یہ ایم۔اے۔ کے نصاب میں تو کہیں لکھا ہوا نہیں ملے گا مگر استاد وقت نکال کر بچے کو صاف ستھرا اور خوب صورت لکھنے کی مشق کراسکتا ہے۔ یہاں یہ سوال نہ اٹھائیے کہ استاد خوش خط ہو تبھی یہ کام ممکن ہوگا۔

اردو کی اعلا تعلیم کی معیار سازی کے لیے بہار کے موجودہ اساتذہ کو کمر باندھ کر میدان میں اترنا ہوگا۔ آج بہار کے اسکول کالجوں میں پڑھ کر نکلے ہوئے افراد سے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی، الہٰ آباد یونی ورسٹی، کلکتہ یونی ورسٹی، بنارس ہندو یونی ورسٹی، حیدرآباد یونی ورسٹی سے لے کر کشمیر تک کے تعلیمی نظام میں استحکام لانے کے لیے لوگ اپنا خونِ جگر صرف کرکے بہترین نتائج پیش کررہے ہیں۔ اردو کا بڑا سے بڑا ادارہ، بڑے رسائل و جرائدکے کارپرداز ، غرض کے قومی سطح پر اردو کے بیش تر کام اسی خطۂ عرض کے افراد بہ احسن انجام دے رہے ہیں۔ تو پھر ہمارے ہی دامن میں یہ اندھیرا کیوں ہے؟ یہ اندھیرا اس لیے ہے کہ ہم نے تھوڑی تساہلی اور کچھ فرض ناشناسی میں خود کو مبتلا کرلیا ہے۔ اگر اپنے دامن کی یہ گرد ہمارے اساتذۂ کرام جھاڑ دیں تو سب کچھ بدل سکتا ہے۔ تعلیم تو ایسا شعبہ ہے کہ جو آج بے علم ہے ، اس کی آنکھ کھل جائے اور وہ کوششیں کرنے لگے تو کل وہ عالم بن جائے گا۔ آج جس نے کوتاہیاں کی ہیں، وہ طے کرلے کہ اپنی اگلی زندگی بدل لے گا تو واقعتا اسی کے دم سے روشنی پھیلنے لگے گی۔ اس لیے گھٹا ٹوپ اندھیرے اور ہزار مایوسانہ احوال کے باوجود ہمیں اپنے طلبہ کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے رفقاے کار کی وہ نئی زندگی چاہیے جو ہر وقت اپنی صلاحیت اور اپنے کاموں سے پڑھنے پڑھانے کا نیا ماحول بنائیں گے ۔

قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہماری زبان طرح طرح کے فرائض ادا کررہی ہے۔ بہار کی خاک سے نکلے لوگ دنیا کے مختلف ملکوں میں اس زبان کے علم بردار ہیں اور ہمارے ادب میں ان کی نمایاں حیثیت ہے۔ اردو جھونپڑیوں، بوسیدہ الماریوں اور مرے کھپے لوگوں کی زبان نہیں ہے۔ اب یہ دنیا کی ترقی یافتہ زبان ہے اور اسی طرح نئی دنیا کے لوگ اسے اپنی آنکھوں میں بسا رہے ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ یہی ہے کہ تدریسی طور پر ہم جست لگانے میں کوتاہ ہورہے ہیں۔ سرسید کے زمانے کی نسل اپنے پچھلے لوگوں سے کس قدر بدلی ہوئی زندگی لے کر اپنی زبان کو آگے بڑھانے کے لیے نکلی تھی۔ خاکِ بہار سے اردو، فارسی، عربی پڑھ کر سید سلیمان ندوی گول میز کانفرنس تک پہنچتے ہیں۔ قاضی عبدالودود بیرسٹری چھوڑ کر ہماری زبان میں تحقیق کا کام آگے بڑھاتے ہیں۔ اختر اورینوی میڈیکل سائنسس کے اسیر نہ ہوئے اور بہار میں اردو تدریس کے سرخیل بن کر ابھرے۔ وہاب اشرفی یا آل احمد سرور انگریزی زبان کے استاد ہوجاتے تو شاید انھیں کوئی یاد بھی نہیں رکھتا مگر انھوںنے اس زبان کو چھوڑ کر اردو تدریس کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا اور جو خدمات کیں وہ ہمارے سامنے ہے۔ عالمی تقریبات میں جائیے تو ہماری زبان میں اب بھی ایسے ماہرین موجود ہیں جو مختلف عالمی زبانوں میں اردو کے مسائل و موضوعات پر اس انداز سے گفتگو کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جیسے انگریزی، ہندی یا فارسی ہی ان کی مادری زبان ہے۔ کہنا چاہیے اردو نے انھیں عالمی شہری بنایا۔

یہ بھی یاد رہے کہ اردو کی یہ جست مدرسوں کی بوسیدگی سے نکل کر نئی دنیا کی چمچماتی زندگی تک جو نظر آتی ہے، اس کے نئے شہری بہار سے آخر کون پیدا کریںگے؟ یہ ذمہ داری ہم جیسے اساتذہ کے کمزور نظر آنے والے کاندھوں پر ہے۔ چار دس کمزور کاندھے طے کرلیں کہ ہم مل کر اپنی ریاست، اپنی مادری زبان اور اپنی نئی نسل کو نئے عہد کے تقاضوں کے ساتھ روشن مستقبل کے سونپنے تک پیچھے نہ ہٹیںگے تو قسم خداے پاک کی دنیا کی کوئی طاقت ہمیں کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتی ہے۔ آج کا اندھیرا بے شک ہماری پیشانی پر بدنما داغ ہے مگر ہم اپنی مشقت اور ہوش مندی ، اپنی لگن اور جوش و جذبے سے ضرور کامیاب ہوںگے اور ایک دن بہار کی یونی ورسٹیوں سے نکلنے والے بچے صرف ہندستان نہیں دنیا بھر میں جہاں جہاں گنجائشیں ہوںگی ، اپنی مادری زبان کی بہ دولت وہ اپنے خوابوں کی نئی دنیا تلاش لیںگے۔ اردو پڑھ کر اردو زبان و ادب کے اعلا درجات تک تو وہ پہنچیں گے ہی ، ہمیں یقین ہے کہ وہ اپنی زبان کی وجہ سے دنیا کے دیگر علوم میں بھی مہارت حاصل کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ کامیابی ہم سب کا انتظار کر رہی ہے۔

 

DR SAFDAR IMAM QUADRI,

Head, Department of Urdu, College of Commerce, Arts & Science, Patna: 800020(Bihar)

Res: 202, Abu Plaza, NIT More, Ashok Rajpath,Patna-6(Bihar)

Email: safdarimamquadri@gmail.com  Mobile: 09430466321

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

 

صفدر امام قادری
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اُردو میں ادب اطفال کی موجودہ صورت حال عالمی ادب اطفال کے تناظر میں – امام الدین امامؔ
اگلی پوسٹ
شوکت حیات:اردو افسانے کا سنگِ میل – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (601)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (203)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (144)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,053)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (538)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (206)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (480)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,139)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (900)
    • خصوصی مضامین (127)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (229)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں