مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت – ڈاکٹر محمد بہلول

by adbimiras
0 comment

خالق ارض و سما نے انسان کو پیدا کر انھیں اس روئے زمین پر اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا صرف اس لیے کہ انھیں نطق و شعور ، قوت گویائی اور افہام و تفہیم کی استطاعت سے نوازا جو کسی دیگر مخلوقات میں سے کسی اور کو نصیب نہ ہو سکا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قوت گویائی یعنی زبان کی فہم و ادراک کی صلاحیت ہونا جو کہ آج تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ دنیائے فانی میں کتنی اقسام و انواع کی زبانیں بولی، سمجھی اور لکھی پڑھی جاتی ہیں۔ خالق دو جہاں نے حضرت ا نسان کوعقل و شعور دیا، بولنے، سمجھنے، لکھنے اور پڑھنے کے لیے مختلف علاقوں میں مختلف انسانی تجسس اور ضروریات زندگی کے بنا پر انھیں مختلف النوع علامتوں والی زبانیں بھی ملتی گئیںجن سے کہ انسانی معاشرت کی ارتقا ہوتی چلی گئی یہ صرف زبان کی ہی دین ہے کہ آج پوری عالم انسانیت ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔

انسانی سماج و زندگی میں ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے ذریعۂ افہام و تفہیم ان کی وہی زبان ہوتی ہے جسے وہ اپنی ولادت کے دن سے ہی بولنے اور سمجھنے لگتا ہے۔ ساتھ ہی زبانو ںکی افہام و تفہیم کے لیے تحریروں یعنی رسم الخط کا ایجاد ہوا اور خصوصی طرز پر حروف کا ایجاد کر کے حضرت انسان نے مختلف علاقوں ، ملکوں، ریاستوں میں اپنی زبان کو ایجاد کیا جس کو مادری زبان سے موسوم کیا جانے لگا یا کیا جاتا ہے۔

مادری زبان کی اہمیت اتنی ہی ہے جتنی جسم کے لیے روح کی اہمیت ہے ، انسانی جسم میں جب بھی کوئی تکلیف ہو انھیں فوراً اس کا احساس ہوتا ہے اور ان کی سمجھ میں یہ آتا ہے کہ پریشانی کیا ہے جس کے حل کی تلاش میں یک جٹ ہو جاتا ہے، ٹھیک اسی طرح انسانی زندگی میں مادری زبان کی بھی اہمیت اور معنویت ہے۔ روئے زمین پر خاص کر انسانی زندگی میں علم کی اہمیت و معنویت سے ہر کس و ناکس اچھی طرح واقف ہیں یہاں تفصیل کی ضرورت نہیں ہے کی حصولیابی میں جو آسانیاںاور سہولیات بذریعۂ مادری زبان ہوتی ہیں وہ بذریعہ دیگر زبان میں زیادہ مشکل اور دقت طلب ہوتی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ماں اپنے بچے کی پریشانی اور تکلیف کو جتنی آسانی اور سرعت سے سمجھ پاتی ہے وہ شاید دنیا کے ماہر نفسیات بھی نہیں سمجھ سکتے، بالکل ٹھیک اسی طرح بچہ بھی اپنی مادری زبان میں تعلیم کی حصولیابی کو محسوس کرتا ہے جن سے کہ ماہرین نفسیات اتفاق بھی کرتے ہیں جو کہ حقیقی امر کی غمازی کرتا ہے۔

ہم جس ملک میں رہتے ہیں یہاں مختلف قوم و مذاہب کے برادری رہتے ہیں وہ چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوںتقریباً سبھی کی اپنی علاقائی زبانیں ہیں ، بلکہ کچھ زبانیں تو ایسی ہیں جو کہ مکمل طور پر بولی پڑھی اور سمجھی جاتی ہیں مثال کے طور پرسنسکرت، ہندی، اردو، پنجابی، گجراتی، ملیالم، کنڑ، تمل ،سندھی، مراٹھی اور تلگو وغیرہ ایسی زبانیں ہیں جو اپنی تہذیبی اور ثقافتی معنویت کی حامل ہیں۔ تقریباً مذکورہ تمام اہل زبان کو اپنی مادری زبان میں ابتدائی سطح کی تعلیم دلانے میں حکومتی مراعات حاصل ہیں جو کہ قانونی اور آئینی جواز بھی رکھتا ہے۔زبان چاہے کوئی بھی کیوں نہ ہو ہر ایک زبان کی اپنی تہذیبی، ادبی، ثقافتی اور سماجی و تمدنی اہمیت و معنویت کی حامل ہوتی ہیں ۔ ہمارے ملک ہندوستان میں جتنی بھی زبانیں بولی، سمجھی اور پڑھی جاتی ہیں سبھی کی ایک علاحدہ شناخت ہے جو کہ مجموعی طور پر ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو عالمی سطح پر اعلی و ارفع مقام عطا کرتا ہے۔

مادری زبان میں تعلیم اس لیے بھی ضروری ہے کہ کسی بچہ کا ذہن بہ حسن و خوبی اساتذہ کے ذریعے دیے گئے ہدایات کو آسانی سے سمجھ لیتا ہے اور تمام موضوعات کو بغیر کسی گھٹن اور اکتاہٹ کے حل کرنے کے قابل بن جاتا ہے ۔مثال کے طور بچے کی ذہانت کا اندازہ ہم کارٹون نیٹ ورک پروگرام سے لگا سکتے ہیں، کارٹون پروگرام کے ذریعے بچہ جس آسانی سے کہانی کو سمجھ لیتا ہے شاید اتنی جلدی کوئی بڑا شخص بھی نہیں سمجھ سکتا ۔ یہ اس بات کی دلیل پیش کرتا ہے کہ معمولی سی ٹیڑھی ترچھی تصاویر کے ذریعے بتائے گئے کہانی اور قصے میں بچے کتنی دلچسپی لیتے ہیں ، ٹھیک اسی انداز میں اساتذہ طلبا وطالبات کو اپنی مادری زبان میں پڑھاتے ہیں تو وہ آسانی سے رو برو ساری چیزوں کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں عالمی یومِ مادری زبان، ذریعہ تعلیم اوررسم الخط – علی شاہد دلکش )

حال ہی میں ایک تجزیاتی مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ جو بچے دیہی علاقوں میں رہتے ہیں اور اپنی ماردی زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ بچے زیادہ سبقت حاصل کیے، بہ نسبت ان بچوں کے کہ جنھوں نے دیہی علاقوں میں ہی رہ کر انگریزی میڈیم سے تعلیم حاصل کی ۔ لیکن یہ واضح ہو کہ چونکہ انگریزی میڈیم کے زیادہ تر اسکول و مکاتیب نجی سرمایہ داروں کے ہیں جبکہ سرکاری سطح کے اسکولوں میں اتنی اچھی سہولیات میسر نہیں ہوتی ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ شہری اور دیہی علاقوں کے تناسب سے شہری علاقوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد جو کہ انگریزی میڈیم سے ہوتے ہیں ان کو سبقت حاصل ہوتا ہے ۔ لیکن چونکہ اساتذہ کے ساتھ ساتھ دیگر لوازمات تعلیم کافی اور بے حد سہولیات میسر ہوتے ہیں جو کہ سرکاری اسکولوں میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو مل پاتا ہے۔

(تجزیہ نگار: پروفیسر تمّلا راما کرشنا، شعبہ تلگو، حیدر آباد یونیورسٹی، انڈین ایکسپریس انگریزی بتاریخ 24فروری2015)

لیکن دوسری جانب آج کے تیز رفتار دور میں انگریزی کا بول بالا ہے اور زیادہ تر تعلیم و تدریس کا میڈیم انگریزی زبان میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔اگر ہم اس پر غور کریں تو ایک سوال ذہن میں ضرور آتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں انگریزی زبان ہر کس و نا کس کے دلوں پر راج کر رہی ہے اور اپنی چھاپ چھوڑے ہوئے ہے؟ در اصل اس کا جواب بھی یہی ہوگا کہ اہل انگریزی نے اپنی تمام تر کوششیں اور محنت وہ چاہے زندگی کا کوئی بھی گوشہ کیوں نہ ہو وہ انگریزی میں ہی کرتے ہیں ، چونکہ انگریزی زبان پوری عالمی سطح پر ایک کاروباری اور دفتری زبان بن گئی ہے اس سے ہم رو گردانی تو خیر نہیں کرسکتے ہیں لیکن کیا ہم اتنا بھی نہیں کرسکتے ہیں کہ ابتدائی و ثانوی سطح تک کی تعلیم اگر ہم اپنی مادری زبان میں حاصل کریں تو بھی ہماری اپنی زبانیں زندہ جاوید اور قائم و دائم تصور کی جائیںگی!

مادری زبان میں تعلیم و تدریس کی اہمیت کا اندازہ مشہور و معروف شاعر و ادیب جناب آنند نرائن ملا کے اس اقتباس سے کیا جا سکتا ہے:

’’ اردو میری مادری زبان ہے۔ میں مذہب بدل سکتا ہوں، مادری زبان نہیں۔‘‘

مادری زبان کو فروغ دینے میں ہمار اولین لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے ملاحظہ ہو انگریزی کا درج ذیل اقتباس:

"Family members play an important role as children’s ‘first teachers’ and research should explore the roles of informal and non-formal education and family interaction in promoting literacy, numeracy, and higher order cognitive skills using the mother tongue”

UNESCO (2008a). Mother Tongue Matters: Local Language as a Key to Effective Learning. Paris: UNESCO.

UNESCO (2008b). Mother tongue instruction in early childhood education: A selected bibliography. Paris: UNESCO.

ہماری حکومت بھی اس جانب خاص توجہ مرکوز کی ہوئی ہے کہ تمام اہل زبان کو انھیں اپنی مادری زبان میں کم از کم ابتدائی سطح تک کی تعلیم لازمی طور پر دلوائی جائے تاکہ بچوںکو اپنی زبان اور رسم خط کی جانکاری اور واقفیت حاصل ہو سکے، اس سے نہ صرف زبان کی بقا و تحفظ ہوگی بلکہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی عالمی شناخت میں چار چاند لگ سکے جس سے کہ ہندوستانی تہذیب و تمدن کی معنویت عالمی سطح پر اعلیٰ مقام کا حامل بن سکے۔

یوم مادری زبان زندہ باد

جے ہند

ڈاکٹرمحمد بہلول

492،پہلی منزل،

گلی بہار والی، چھتہ لال میاں،

دریاگنج، نئی دہلی ۔110002

موبائل : 9312955446

You may also like

Leave a Comment