عالمی یومِ مادری زبان، ذریعہ تعلیم اوررسم الخط – علی شاہد دلکش

by adbimiras
1 comment

اشاروں کی زبان کو یونیورسل لینگویج کہا جاتا ہے۔ اس زبان کو سیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کسی بھی قوم کے لیے اظہارِ خیال و سوچ کا بہترین میڈیم اس کی مادری زبان ہی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر مادری زبان کی تہذیبی، تمدنی،ثقافتی اور لسانی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر سال 21/ فروری کو انٹرنیشنل مادر لینگویج ڈے منایا جاتا ہے۔ انٹرنیشنل مادر لنگویج ڈے کو عموماً عالمی یوم مادری زبان (بین الاقوامی یوم مادری زبان) کہا جاتا ہے۔ نسلِ نو کا معلوماتی تجسس کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں؟ یہ یوم کیوں منایا جاتا ہے؟ اس کی شروعات کب ہوئی؟ اسے پہلی بار کب منایا گیا؟ اس کی اہمیت و افادیت کیا ہیں؟ اس ضمن میں زیرنظر کارآگاہی ہے۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے UNESCO یونیسکو نے سب سے پہلے 17نومبر 1999 کو اس کی منادی کی تھی۔لہذا کثیر السانی، بہبانواد اور ثقافتی تنوع کے فروغ کی غرض سے سال 2000 کے فروری مہینے سے اب تک ہر21 فروری کو عالمی یومِ مادری زبان منایا جا رہا ہے۔ یہ اہم تاریخ 1952 کی یاد دہانی بھی کراتی ہے جب مختلف تعلیمی اداروں و جامعات کے طالب علموں (مثلاً ڈھاکہ یونیورسٹی،جگن ناتھ یونیوسٹی اور ڈھاکہ میڈیکل کالج کے اسٹوڈنٹس) نے نزد ڈھاکہ ہائی کورٹ اپنی مادری زبان بنگلہ کے لیے اپنے خون کی قربانیاں دیں۔ دراصل قیام پاکستان کے بعد جب اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا تو اس پر مشرقی پاکستان میں اکثریتی زبان (بنگلہ) بولنے والوں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا اور اردو کے ساتھ ساتھ بنگلہ بھاشا کو بھی قومی زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔21 فروری 1951 وہ دن ہے، جب پولیس نے احتجاجی طلبہ پر گولی چلائی، بعد میں 1956 میں بنگلہ بھاشا کو اردو کے ساتھ قومی زبان کا درجہ تو دے دیا گیا، لیکن طلبہ کے موثر احتجاج نے دنیا کو ایک اہم مسئلے کی طرف متوجہ کرلیا۔ نتیجتاً یونیسکو UNESCO نے نومبر 1999ء میں یہ فیصلہ کیا کہ 21 فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جائے، تاکہ وہ زبانیں جو معدومیت کے خطرے سے دوچارہونے کے کگار پر ہیں ان کی بقا و فروغ کی خاطر کام کیا جاسکے نیز حکومتوں کو زبانوں کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کیا جاسکے۔کسی بھی یوم / دن کو اہمیت دینے کی واحد وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس دن، جس مناسبت سے کوئی مخصوص یوم منایا جا رہا ہے اس کی تاریخی اہمیت کا اعتراف کیا جاسکے۔ بالخصوص جب زبان کے تعلق سے کسی خاص دن کو عالمی سطح پر قبولیت بخشی گئی ہو تو اس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اس زبان کے سمت و رفتار کا جائزہ لیا جائے اور اس کی ترقی و اشاعت کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کیا جائے۔یونیسکو ہر سال لسانی خاکہ جاری کرتا ہے اور اس میں یہ اعداد وشمار پیش کرتا ہے کہ کس زبان کے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔ بالخصوص مادری زبان کے حوالے سے یہ اشاریہ دیا جاتا رہا ہے کہ کون سی زبان روز بروز محدود ہوتی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ زبان کی زندگی کا انحصار اس کے بولنے اور لکھنے والوں پر ہے۔ کسی بھی زبان کی شناخت کا ضامن ا س کا رسم الخط ہے۔ مادری زبان کی تعریف اظہر من الشمس ہے مزید اس کی لسانی اور سائنٹفک اہمیت بھی مسلّم ہے۔ دنیا کے تمام عظیم دانشوروں اور سائنس دانوں نے مادری زبان کو انسان کے غوروفکر کا صحت مند وسیلۂ اظہار قرار دیا ہے اور اس لیے تمام ماہرینِ تعلیم نے بچوں کو بنیادی تعلیم مادری زبان کے ذریعے دینے کی وکالت کی ہے۔ نیز اس کی مثال بھی موجود ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی زبان مینڈرک چین جس کے بولنے والے تقریباً سوا ارب ہیں، وہا ں ثانوی درجے تک کی تعلیم صرف اور صرف چینی زبان میں ہی دی جاتی ہے۔ اسی طرح روس میں بھی ثانوی درجے تک کی تعلیم کا نظام صرف اور صرف روسی زبان میں ہے۔ فی زمانہ چین اور روس کے بعد جاپان ترقی کے دوڑ میں کہاں کھڑا ہے! یہ طشت از بام ہے۔جاپان میں بھی ثانوی درجے تک کی تعلیم جاپانی میں دی جاتی ہے۔ مگر افسوسناک صورتحا ل یہ ہے کہ برصغیر میں اب بھی انگریزی کی اجارہ داری قائم ہے اور ہمارا غلام ذہن انگریزی کو ہی ترقی کا سراغ سمجھتا ہے۔ جب کہ دنیا کے تمام ماہرین کا متفقہ خیال ہے کہ معصوم ذہن مشکل سے مشکل سوال کو اپنی مادری ز بان میں سمجھنے کی قوت زیادہ رکھتا ہے۔ اس لیے سرسید، علامہ اقبال،سید سلیمان ندوی، مولانا منت اللہ رحمانی وغیرہ کے خطبے موجود ہیں کہ انہوں نے مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے فوائد بتائے ہیں۔ اس سے پہلے راجا رام موہن رائے، بھارتیندو ہریش چندراور مہاتما گاندھی نے بھی مادری زبان میں بنیادی تعلیم دینے کی وکالت کی ہے۔یہاں اس حقیقت کا انکشاف بھی ضروری ہے کہ مہاتما گاندھی تمام عمر صرف اور صرف گجراتی میں ہی لکھتے تھے اور اس کے بعد دیگر زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوتا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزادنے تو مادری زبان کو ماں کے دودھ کے مترادف قرار دیا ہے اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر ذاکر حسین نے بھی مادری زبان میں تعلیم دینے کی وکالت کی ہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ ہمارا رادو معاشرہ ان دنوں ظاہری فیشن کا شکار ہوگیا ہے۔ وہ مشاعرہ، سمینار، مذاکرہ اور سرکاری اخراجات پر مبنی لسانی پروگرام کو ہی زبان کی ترقی سمجھتا ہے۔ جب کہ کسی بھی زبان کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب اس کی تعلیم مستحکم ہو اور اس زبان کے رسم الخط کا چلن عام ہو۔ مادری ایک پوری تہذیب، تمدّن، ثقافت، جذبات و احساسات کا حسین امتزاج ہوتی ہے۔ مادری زبان میں خیالات ومعلومات کی ترسیل اور ابلاغ ایک نیچرل اور آسان طریقہ ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کا عمل جو کہ سراسر انسانی ذہن میں تشکیل پاتا ہے، وہ بھی لاشعوری طور پر مادری زبان میں ہی پراسیس process  ہو رہا ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ انسان خواب بھی مادری زبان میں ہی دیکھتا ہے۔
انسانی ذہن اور تخلیقی عمل میں رابطے کا کام بھی غیر ارادی اور لاشعوری طور پر مادری زبان میں ہی انجام پا رہا ہوتا ہے۔ انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کا سب سے بہترین اظہار بھی مادری زبان میں ہی ممکن ہے۔ فی البدیہہ اظہار کے لیے بھی مادری زبان کا ہی سہارا لیا جاتا ہے۔ انسان جب رحمِ مادر میں ہوتا ہے، تو اس کا نظامِ سماعت کام کرنا شروع کردیتا ہے۔ جن آوازوں کو انسان سنتا ہے، اْن آوازوں میں انسانی ذہن کے اندر ماحول کا شعور اور گرامر / قواعد ترتیب پانا شروع ہوجاتے ہیں۔ فہم ِانسانی کا براہِ راست تعلّق بھی ذہن انسانی اور مادری زبان کے رابطے سے ہی ہوتا ہے۔ یہ ایک قدرتی امر ہے کہ فہمِ انسانی میں فراست، وسعت اور گہرائی صرف مادری زبان میں ہی ممکن ہے۔مختصراً سیکھنے و سکھانے کیلئے آسان ترین زبان، مادری زبان ہی ہے، اِس کے علاوہ کوئی دوسری زبان نہیں ہے۔ تخلیق اور ایجاد کا براہِ راست تعلّق بھی مادری زبان سے ہے۔ سائنسی اور فنّی علوم میں نفسِ مضمون، سائنسی تصوّرات کی فہم اور ترسیل و ابلاغ کے لئے بہترین ذریعہ ہے۔مادری زبان انسانی، شناخت، تشخص اور کردار سازی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ہر وہ زبان جس میں ادب/ لٹریچر تخلیق کپا سکتا ہو، ترسیل علم کے لیے بہترین مانی جاتی ہے جبکہ لٹریچر کا تعلّق بھی مادری زبان سے ہی ہوتا ہے۔ لہذا ماہرینِ تعلیم کی رائے میں ذریعہ تعلیم کے لئے مادری زبان سے بہتر کوئی زبان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقّی یافتہ دنیا میں زیادہ تر ممالک میں تعلیم مادری زبانوں میں دی جاتی ہے۔ چین میں چینی زبان، جاپان میں جاپانی زبان، جرمنی میں جرمن زبان، فرانس میں فرانسیسی زبان، انگلینڈ، امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا وغیرہ میں انگریزی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق بچوں کی ابتدائی تعلیم کے لیے سب سے موثّر زبان، مادری زبان ہے۔ مادری زبان میں تعلیم سے بچّوں کی تحقیقی اور تخلیقی صلا حیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔مادری زبان میں تعلیم دیئے جانے میں ایک آسانی یہ ہوتی ہے کہ بچّے کے پاس اپنی زبان کے علم کا ایک ذخیرہ پہلے سے موجود ہوتا ہے اس لییدورانِ تعلیم بوریت کی بجائے بچّہ خوشی محسوس کرتا ہے۔ مادری زبان میں تعلیم سے بچّوں کے ذہن پر کم بوجھ پڑتا ہے اور بچوں کے اسکول چھوڑ نے کی شرح میں بھی حیرت انگیز کمی دیکھنے میں آتی ہے۔مادر ی زبان میں تعلیم کے بارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ ”برسوں کی تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ جو بچے اپنی مادری زبان سے تعلیم کی ابتدا کر تے ہیں شروع سے ہی انکی کار کردگی بہتر ہوتی ہے۔انکی یہ اچھی کار کردگی مسلسل قائم رہتی ہے بہ نسبت ان بچوں کے جو اپنی تعلیم ایک نئی زبان سے شروع کرتے ہیں۔یو نیسکو نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ ترقّی پذیر ممالک کی شرح خواندگی میں کمی کی ایک بڑی وجہ مادری زبان میں تعلیم کا نہ ہونا ہے۔ ابتدائی تعلیم سے متعلق یونیسکو کی جاری کردہ پالیسی دستاویز میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ چھوٹے بچّوں کو ابتدائی 6سال تک مادری زبان میں تعلیم دی جانی چاہئے۔
ہماری مادری زبان اردو کے ساتھ المیہ ہے کہ اسے تعصبانہ برتاؤ بھی جھیلنا پڑ رہا ہے۔ افسوس! اسے ایک مخصوص دھرم کے عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ جب کہ اردو ایک تہذیب کا ایک نام ہے۔ یہ ثقافتی ورثہ ہے ہمارے بھارت کا۔ صوبہ بہار اور اتر پردیش میں اردو میڈیم سرکاری تعلیم گاہوں کے نام اردو رسم الخط کی بجائے صرف ہندی میں لکھے ہوتے ہیں۔ریلوے پلیٹ فارم کے ناموں سے اردو عنقا ہوتا جا رہا ہے۔ ٹھیک اسی طرح مختلف ریاستوں میں اردو ابتر حالات سے دوچارہے۔ اردو مشاعروں میں بینر اور پوسٹر بھی اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کے رسم الخط میں دیکھنے کو ملتے ہیں مگر اردو شعراء کو کوئی فرق نہیں پڑتا! حد تو یہ ہے! کہاب تو شعراء بھی اپنے کلام دوسری زبانوں کے رسم الخط میں لکھ کر لاتے ہیں۔ اردو کو سرکاری کام کاز اور دفتری حیثیت سے بعید رکھا جا رہا ہے۔ پھر بھی ہماری مادری زبان اردو اپنی چاشنی اور شیریں ہونے کی وجہ سے اپنے دم پر پھلتے پھولتے ہی جا رہی ہے۔

 

 علی شاہد دلکش،

کانکی نارہ، مغربی بنگال
alishahiddilkash@gmail.com

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

1 comment

مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت - ڈاکٹر محمد بہلول - Adbi Miras فروری 23, 2021 - 6:23 شام

[…] تحفظ مادری زبان […]

Reply

Leave a Comment