غالب کی شاعری میں طنز و مزاح – ڈاکٹر شیخ نگینوی

by adbimiras
0 comment

ہنسنا، ہنسانا انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ اس کے ذریعے تھوڑی دیر کے لئے غم دور ہو جاتا ہے اور انسان خوشی سے ہمکنار ہو جا تا ہے۔ ہنسنے ہنسانے کا یہ فن ادب کی اصطلاح میں مزاح کہلاتا ہے۔ مزاح کسی کمی، کسی بدصورتی پر خوش دلی سے ہنسنے کا نام ہے، اس میں غم و غصہ شامل نہیں ہوتا اور مسرت حاصل کرنے کے سوا اس کا کوئی اور مقصد بھی نہیں ہوتا۔ اس کے بر خلاف طنز با مقصد ہوتا ہے۔ طنز نگار کسی برائی کو اور زیادہ برُا بنا کر اس طرح پیش کرتا ہے کہ لوگ اس برائی سے نفرت کرنے لگیں اور اسے ختم کرنے کی کوشش کریں۔

مرزا سد اللہ خاں غالبؔ (1797-1869) کو اردو کا پہلا مزاح نگار مانا گیا ہے۔ اردو ادب میں انہوں نے جدید طنز و مزاح کی ابتداء کی ہے۔ ان کے طنز اور مزاحیہ خیالات نثر اور نظم دونوں میں ملتے ہیں۔ غالب فطرتاً ظریف انسان تھے ۔ان کے مزاج میں ظرافت اور شوخی کا عنصر بہت غالب تھا۔ اپنی ذاتی زندگی میں ،دوستوں کی محفلوں میں وہ اپنی باتوں سے لوگوں کو ہنساتے رہتے تھے۔ یہی ظرافت اور شوخی ان کے کلام میں بکثرت ملتی ہے۔ غالب کے مزاج میں ظرافت اس قدر تھی کہ اگر ان کو بجائے حیوان ناطق کے حیوان کہا جائے تو بجا ہوگا۔ حسن بیانی، حاضر جوابی اور بات میں بات پیدا کرنا ان کی خصوصیات میں سے تھے۔ غالبؔ کا ظرف بہت و سیع ہے ۔جہاں دوسرے کے جگر شق ہو جاتے ہیں وہاں غالبؔ صرف دھیرے سے مسکرا دیتے ہیں۔

ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں

جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر

غالبؔ کی ظرافت تبسم زیر لب کی ظرافت ہے۔ اس میں لطافت و بلندی ہے ،فرحت اور انبسا ط ہے، مسرت اور خوش دلی ہے لیکن تلخی یا کڑوا ہٹ ،تنقیص یا تنقید ،دل شکنی یا اذیت رسانی کا شائبہ تک نہیں ملتا۔

پلا دے اوک سے، ساقی !جو ہم سے نفرت ہے

پیالہ نہیں دیتا ، نہ دے، شراب تو دے

٭

اسدؔ خوشی سے مرے ہاتھ پانو پھول گئے

کہا جو اس نے، ذرا میرے پانو داب تو دے

غالب ؔکے طنز و مزاح کو گل افشانی گفتار اور دلفریبی رفتار کا نام تو دیا جا سکتا ہے لیکن ان کی ظرافت کو عریانی ابتدال یا استہزاء سے موسوم نہیں کیا جا سکتا ۔

مارا زمانہ نے، اسد اللہ خاں!تمہیں

وہ ولولے کہاں، وہ جوانی کدھر گئی

٭

رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے

دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے

غالبؔ کے طنز و مزاح کی مماثلت کے لئے شیکشپئر یا چاسرؔ یا کچھ حد تک ایڈیشن کا ذکر تو کیا جا سکتا ہے لیکن غالبؔ کی ظرافت کے سلسلے میں انشا ـؔء، سودؔا،جاندنؔ سویفٹ، برنارڈؔ شاہ کا نام نہیں لیا جا سکتا۔

جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو؟

اک تماشہ ہوا، گلا نہ ہوا

٭

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حق

آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟

غالبؔ سے پہلے کی شاعری صرف دل والوں کی دنیا تھی۔ غالب ؔنے اسے ذہن دیا۔ انہوں نے غزل میں نئے نئے مضامین اور نئے نئے موضوعات داخل کئے اور اس کے موضوعات کو بہت وسیع کیا۔

شوق ہر رنگ رقیب سرو ساماں نکلا

قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

٭

کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں یارب؟

سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی

جہاں تک غالبؔ کا تعلق ہے، ان کے کلام کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرزا نہ تو زندگی کو طنز کا نشانہ بناتے ہیں اور نہ ہی سماج کی دوسری باتوں کو، بلکہ بیشتر وہ خود اپنی ہی ذات کو طنز کا موضو ع بناتے ہیں۔

ہوگا کوئی ایسا بھی، کہ غالبؔ کو نہ جانے؟

شاعر تو وہ اچھا ہے، پہ بدنام بہت ہے

٭

غالبؔ برا نہ مان ، جو واعظ برا کہے

ایسا بھی کوئی ہے، کہ سب اچھا کہیں جسے؟

غالبؔ کا طنز ان کی ظرافت مزاج اور شوخی و طبع کا نتیجہ ہے۔  غالب ؔکے کلام میں شوخی، بے تکلّفی، شگفتگی ،بر جستگی بھی خوب ملتی ہے۔

عشق نے غالبؔ نکما کر دیا

ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

٭

کعبہ کس منہ سے جائو گے غالبؔ

شرم تم کو مگر نہیں آتی

غالبؔ مذہبی جذبات پر مزاحیہ طنز بھی کرتے اور کہتے ہیں۔

واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو

کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی

٭

جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں

ایسی جنت کا کیا کرے کوئی؟

نہ پوچھ اس کی حقیقت، حضور والا نے

مجھے جو بھیجی ہے بیسن کی روغنی روٹی

نہ کھاتے گیہوں، نکلتے نہ خلد سے باہر

جو کھاتے حضرتِ آدم یہ بیسنی روٹی

غالبؔ کی شاعری میں سلاست ،روانی، جدّت، بلند خیالی اور فلسفہ پایا جاتا ہے۔ فلسفیانہ انداز میں غالب ؔطنز کرتے ہیں۔

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت، لیکن

دل کے بہلانے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

٭

حیران ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کومیں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

٭

بہرا ہوں میں تو چائیے دونا التفات

سنتا نہیں میں بات مکرر کہے بغیر

غالبؔ کے اکثر اشعار کا ظاہر کچھ اور ہوتا ہے اور وہ کہنا کچھ اور چاہتے ہیں۔

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے

دشت کو دیکھ کر گھر یاد آیا

غالبؔ نے جگہ جگہ اپنی ویرانی، مفلسی، بدحالی اور شکستگی پر بھی بھر پور طنز کیا ہے۔ ان کا طنز طنزِ ملیح تو طنز ِ قبیح ہر گز نہیں ہے۔

اُگ رہا ہے درو دیوار پہ سبزہ غالبؔ

ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے

٭

رہئیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

پڑئیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار

اور اگر مر جائے تو نو حہ خواں کوئی نہ ہو

تشکیک، انکار، اختلافات اور استفسار غالبؔ کے طنز یہ اشعار کے موضوعات ہیں۔

جب میکدہ چھُٹا، تو پھراب کیا جگہ کی قید

مسجد ہو، مدرسہ ہو، کوئی خانقاہ ہو

غالبؔ نے اردو ادب کو ایک نئی بصیرت اور تازہ آگہی سے روشناس کرایا ہے۔ جنہوںنے ماورائیت کو مجروح کئے بغیر ارضیت کی ایک نئی روایت کو اردو غزل کی تاریخ میںشامل کر دیا۔

لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں

مانا کہ ایک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے

٭

حیف ! اس چار گرہ کپڑے کی قیمت غالبؔ

جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

غالب ؔکے طنز یہ اور مزاحیہ اشعار کو سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ مرزا غالب ؔکی شاعری میں جدید طنز و مزاح کے خیالات بھرپور ملتے ہیں۔ غالب ؔنے طنز و مزاح کے لئے وہ کام کئے ہیں ،جن سے بعد کے طنز و مزاح والوں کی راہ آسان ہو گئی ۔

غالبؔ کی شاعری میں طنز و مزاح کے نوع بہ نوع اسالیب جلوہ گرہیں ۔یعنی کہیں تو محض طنز ہے اور کہیں طنز و مزاح بیک و قت موجود ہیں اور کہیں جھنجلاہٹ وار مزاح ہے اور کہیں صرف مزاح ہے۔  غالب ؔسے پہلے اردو شاعری کے پاس جذبات تھے احساسات تھے، زبان و بیان کے کرشمے تھے ،لیکن وہ حسین و شوخ ذہانت نہ تھی جو پیکر الفاظ میں روح پھونک دیتی ہے۔ یہ مرزا ؔکا عطیہ ہے اور اس پر اردو جتنا بھی فخر کرے کم ہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment