شعرگوئی اظہارِ ذات بھی ہے اور احوالِ کائنات بھی۔ اظہارِ حیات بھی ہے اور رموزِ ممات بھی، وارداتِ عشق کا بیان بھی ہے اور سیاست و معاشرت کا بیان بھی، عشق حقیقی اور عشق مجازی کا خوبصورت اظہار بھی اور حالات کا سچا اورحقیقی آئینہ بھی ہے۔
شعر گوئی ایک ایسا فن ہے جس میں تمام فنون لطیفہ کی آمیزش پائی جاتی ہے۔ شاعری وہ گنجینہ فن ہے جو شاعر کے اکتسابی عمل سے زیادہ وجدانی کیفیت سے تعلق رکھتی ہے۔ شاعری اکتسابی قوت کے سہارے کی بھی جاتی ہے تو وہ اپنی اثر آفرینی اور فنی خصوصیات سے عاری رہتی ہے۔ اور جوشاعری وجدانی اور وہبی عمل سے معرض وجود میں آتی ہے وہ شعر گوئی کے تمام لطف ولذت کے ساتھ فنی خوبیوں اور شعری حسن سے معمور ہوتی ہے۔ چوں کہ وہبی اظہار میں شاعر کو شعر گوئی کی قوت اور قلم کو نور غیب سے عطا ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسی شاعری میں تاد یر زندہ رہنے کی قوت پیدا ہوجاتی ہے۔
یہاں اس مختصر تمہید کا مقصد ایک ایسے شاعر کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف کرنا ہے جسے دنیائے سخن میں طاہر تلہری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس سے قبل کہ اس شاعر کے متعلق مزید کچھ کہا جائے چند اشعار ملاحظہ کریں تاکہ اس کے انفراد اور امتیاز کا احساس پہلی نظر میں ہی ہوجائے۔
میں ہی آپ اپنی صدا ہوں میں ہی اپنی بازگشت
گونجتا ہوں کوہساروںمیں اذانوں کی طرح
٭٭٭
کسی دن ہم بھی ہوجائیں گے خاموش
ابھی تو سب میں ہنستے بولتے ہیں
٭٭٭
یہی بدلا ہوا چہرہ تو اب پہچان ہے اپنی
ہمارا اصل چہرہ کھوگیا آئینہ خانوں میں
٭٭٭
گھر کی ہمارے روشنی دیکھ کے کوئی خوش نہیں
جیسے چرا کے لائے ہوں شمع کسی کے گھر سے ہم
٭٭٭
سرِ مقتل بھی چپ رہنا مری توہین ہے طاہرؔ
زبان بولے نہ بولے پائوں کی زنجیر بولے گی
٭٭٭
ہمیں تو مرگِ مسلسل کا سامنا ہے یہاں
خدا کرے تمہیں اس شہر کی ہوا نہ لگے
٭٭٭
دردِ احساس کھو نہ جائے کہیں
عمر بھر کی یہی کمائی ہے
درج بالا اشعار کے باطن میں اگر ہم ڈوب کر دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ یہ اشعار کسی ایک کیفیت کے حامل نہیں ہیں۔ اور نہ ہی ان کا ایک رنگ ہے۔ ان میں احساسِ ذات بھی ہے اور کائنات بھی، دکھوں کا مداوا بھی ہے اور کرب کا اظہار بھی۔ طاہر تلہری کی شاعری کو سنجیدہ قاری کی تلاش ہے کیوںوہ جس قدر اپنی ذات میں سنجیدگی کا پیکر تھے اسی قدر ان کی شاعری بھی سنجیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم سنجیدگی سے ان کے اشعار کا مطالعہ کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ شعری اظہار میں روایتی انداز ِفکر اور اندازِ تخاطب کے قائل نہیں ہیں۔ ان کا شعری اظہار دو طرح کا ہے۔ ایک تو براہِ راست بیانیہ اظہار ہے۔ دوسرا وہ ہے جو علامات اور استعارات کے ذریعہ سے کیاگیا ہے۔ ان دونوں اظہار میں ان کی انفرادیت نمایاں ہے۔ اظہار اور جدت ِبیان کی کارفرمائی عیاں ہے۔
شاعری کے لیے یہ قطعی ضروری نہیں ہے کہ اسے استعاروں اور تشبیہات کے ذریعے ہی موثربنائی جائے۔ سلیس ، عام فہم زبان میں کہے گئے سہل ممتنع کے اشعار بھی بہت کار آمد ہوتے ہیں۔ اساتذہ کے یہاں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ یہاں یہ عرض کرنا ہے کہ طاہر تلہری کی شاعری میں وہ تمام رنگ نمایاں ہیں جن کا ذکر درج بالا سطور میں کیاگیا ہے۔ انھوں نے ایک مذہبی انسان ہونے کے ناطے اپنی شاعری کا رشتہ زندگی کے حقیقی احوال سے کبھی نہیں توڑا۔ ان کی شاعری ایک طرح سے ان کی زندگی کا عکس ہے جس میں شاعر پورے طور پر نمایاں ہوکر سامنے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاںزندگی کے ہر تلخ و شیریں احساس کو شاعری کا موضوع بنایاگیا ہے اور یہ سچ ہے کہ پائیدار اور مقبول عام و خاص شاعری وہی ہوتی ہے جس میں زندگی کے حقائق کو آئینہ کیا گیا ہو۔ وہ شاعری جو زندگی کے رنج و محن اور درد و غم کی ترجمان ہوتی ہے اسے ہی ایک طویل عرصے تک یاد رکھا جاتا ہے۔ طاہر تلہری کی ایک سب سے خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری میں زندگی کے ہر رنگ کو سمونے کی خوبصورت کوشش کی ہے اور بطورِ خاص سنجیدہ مسائل کو بہت ہی خوبصورت پیرائے میں فنی چابک دستی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ طاہر تلہری کے یہاں محض دلبستگیِ خاطر کے لیے اشعار نہیں کہے گئے ہیں۔ ہر شعر کی پشت پر ایک بامعنی فکر اور نصب العین کی جھلک صاف طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔ چند اشعار اور دیکھیںـ:
یہ ویران بستی یہ ٹوٹے مقابر
اگر پڑھ سکو تو فسانے بہت ہیں
٭٭٭
آئو اپنے دل کے زخموں سے کریں سورج طلوع
دوستو! تادیر امکانِ سحر کوئی نہیں
٭٭٭
ہائے یہ مجبوریِ حالات یہ جبرِ حیات
لٹ رہے ہیں اور چپ ہیں بے زبانوں کی طرح
٭٭٭
ہم کو بھی دہرائے گا طاہر زمانہ ایک دن
اگلے وقتوں کی پرانی داستانوں کی طرح
٭٭٭
اے خوشی تجھ سے پھر ملیں گے کبھی
ان دنوں غم سے آشنائی ہے
طاہر تلہری کے مذکورہ بالا اشعار کا اگر جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ انھوں نے نہ صرف شعر کی سادگی پر توجہ دی ہے بلکہ سلاست وروانی کے ساتھ پرکاری اور تازہ کاری کو بھی کام یابی کے ساتھ برتا ہے۔
طاہر تلہری مثبت فکر و عمل کے موحد شاعر ہیں یہی وہ سبب ہے کہ ان کے یہاں فکری ابتذال ، مایوسی اور بے اطمینانی نہیں پائی جاتی ہے۔ ان کے یہاں دور اندیشی اور حکمت ودانائی کا سراغ بڑی آسانی سے مل جاتا ہے۔ان کی شاعری کا ایک اور خاصہ یہ ہے کہ ان کے یہاں افسردگی اور شکست خوردگی کی بہ جائے رجائیت اور بلند حوصلگی کی کارفرمائی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ ان کے اشعار کے غائر مطالعہ کے بعد ان کے یہاں فکر وآگہی کے ساتھ جوش و جذبہ اور جنون وانبساط کی کیفیتوں کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ شاعری صرف لفظوں کی بازیگری کا نام نہیں ہے اورنہ ہی تراکیب کا کھیل ہے بلکہ اچھی شاعری کے لیے لفظوں کی بازیگری جتنی ضروری اور اہم ہے، تراکیب اور اسلوب ِبیان کی جتنی اہمیت ہے اتنی ہی اہمیت فکر و خیال اور جذبہ و جنون کی بھی ہوتی ہے۔ اگر شاعری تمام خصوصیات کے باوجود فکر کی بلندی، جذبے کی صداقت اور روح ِعصر کی اوصاف سے خالی ہوں تو شاعری کسی مصرف کی نہیں۔ نہ اس میں حظ ہوگا، نہ حقیقت ہوگی اور نہ شاعرانہ حسن و کیف ۔
طاہر تلہری کاکمال یہی ہے کہ انھوں نے ان تمام مذکورہ صفات کو پیش ِنظر رکھتے ہوئے شعر کہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی شاعری کا رنگ ہمیشہ تازہ اور دھنک رنگوں سا معلوم ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے کلاسیکی روایات اور قدروں سے کبھی یکسر انحراف نہیں کیا ہے۔ ان کے اس طرز ِعمل نے جہاں قاری کو شاعر کا مداح بنادیا ہے وہیں کلاسیکی رچائو نے ایک حلقہ کو متاثر بھی کیا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں:
یہ سوچ کر ہر شے کو اٹھالاتا ہوں گھر میں
ممکن ہے کسی میں ہو ترے ہاتھ کی خوشبو
٭٭٭
اشعار میں دونوں کو سمو دیتا ہوں طاہر
جدت کی مہک ہو کہ روایات کی خوشبو
٭٭٭
کون جانے کب کوئی مجھ کو بنا بیٹھے خدا
میری ہر تصویر کو کمرے کے باہر پھینک دے
٭٭٭
سحر ہوتی ہے طاہرؔاب تو جاگو
فضائو میں پرندے بولتے ہیں
٭٭٭
ہماری دست رس سے دور ہے سب کچھ تو کیا کیجیے
ہیں اشیائے ضروری اک سے اک بہتر دکانوں میں
محولہ بالا اشعار کو پڑھ کر واضح طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ طاہر تلہری جس قدر فن پر قدرت رکھتے ہیں اسی قدر وہ عصری آگہی اور روح عصر کو اپنی گرفت میں لینے میں کام یاب ہیں۔ وہ جدیدیت کے زمانے کے شاعر ہیں۔ انھوں نے جدیدیت کے رجحان سے متاثر ہوکر اشعار کہنے والے بہت سے شعرا ء کو دیکھا ہے اور بعد میں ان کا حشر بھی دیکھا۔ اس رجحان نے داخلیت اور خود شناسی کے نام پر شاعری کو معمہ اور چیستاں بنایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس زمانے میں ہمارے قارئین کا ایک بہت بڑا طبقہ جدیدیت کی شاعری سے نالاں ہوکردور ہوگیا۔ لیکن ایک خوش آئندہ بات یہ تھی کہ اس عہد میں چند اور یجنل شعرا بھی موجود تھے جنھوں نے وقت کی تیز آندھی میں بھی خود کو بکھرنے نہیں دیا اور اخیر تک اپنی ڈگر پر قائم رہے۔ انھوں نے ترسیل کو اہمیت دی اور قاری کو خود سے دور نہیں جانے دیا۔ طاہر تلہری کا شمار انہیں شعرا ء میں ہوتا ہے، جنھوں نے ہمیشہ شعری تقاضوں کا پاس و لحاظ رکھا ہے۔ اگر زمانے کے تغیر وتبدل کے ساتھ کچھ جدت آئی بھی تو روایت کی خوشبو کے ساتھ۔ یہی سبب ہے کہ طاہر تلہری کو آپ جہاں سے پڑھیے آپ کو اندازہ ہوگا کہ وہ یکساں طور پر جدت اور روایت سے استفادہ کر تے ہوئے اپنے موقف کے اظہار میں کام یاب ہیں۔
مختصر یہ کہ طاہر تلہری اپنے عہد کے ایک ایسے اہم اور معتبر شاعر ہیں جنھوں نے تمام شور وشغب سے دور اور ہر طرح کی ستائش کی تمنا اور صلے کی پروا کیے بغیر صحت مند اور بامعنی شاعری کی طرف توجہ کی اور ایسے عمدہ اشعار کہے کہ آج بھی انہیں اردو شاعری کا قاری فراموش نہیں کرسکتا۔ ان کی شاعری کے مطالعے سے ایک اور بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ وہ سادگی پسند ہیں، لیکن اس سادگی میں پرکاری اور شاعرانہ حسن کو وہ کبھی فراموش نہیں کرتے۔ ان کے یہاں اکثر مقامات پر تلخی اور درشتگی کا بھی احساس ہوتا ہے۔ وہ ہماری زوال آمادہ تہذیب اور صالح انسانی قدروں کو پامال ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے۔ اس لیے ان کے لہجے میں یہ تلخی آئی ہے، جو کہ فطری ہے۔ لیکن اس کے باوجود مایوسی اور کلبیت کے شکار نہیں۔ ان کے اشعار پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ وہ نئی صبح کی بشارت بھی ہیں اور تاریکی میں امید وبیم کی کرن بھی۔ ہمیں امید ہے کہ طاہر تلہری اور ان کی شاعری کے ساتھ آنے والے وقتوں میں انصاف ہوگا۔ اور اردو کے ارباب حل و عقد اور اہل ذوق حضرات ان کی شاعرانہ عظمت کا بڑے پیمانے پر اعتراف کریں گے۔ اور یہی اعتراف ان کی شاعری کو اصل خراج ہوگا۔
ڈاکٹر خان محمد رضوان
Mob: 9810862283
Email:afeefrizwan@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

