نعت کے لغوی معنیٰ تعریف و توصیف، ثنا، مدح کے ہیں لیکن اصطلاح ِاَدب میں نعت اس نظم کو کہتے ہیں جس میں حضور اکرم ﷺکی تعریف کی جاتی ہے۔ نعت گوئی کی تاریخ اتنی ہی پُرانی ہے جتنا کہ اسلام پرانا ہے۔ نعت گوئی کا آغاز یوں تو عربی زبان میں ہوا لیکن عربی کے اثرات سے فارسی ،ترکی، اُردو اور پنجابی میں بھی نعت گوئی کی روایت ملتی ہے۔عہد نبوی میں بھی سیّدنا حسّان بن ثابت ؓاور کعب بن زُہیر ، اورعہد ما بعد میں حضرت بوصیریؒعربی زبان کے مشہور و معروف نعت گو شعراء ہوئے ہیں۔ فارسی میں بھی خاقانیؔ، شیروانیؔ، نظامیؔ گنجوی ، عرفیؔ، جامیؔاور سعدیؔ شیرازی وغیرہ نے فن نعت گوئی کو بامِ عروج پر پہنچایا۔اُردو ادب کی تاریخ شاہد ہے کہ اُردو شاعری کا آغاز احکاماتِ ربّانی اور پیغامات محمدی ؐ کی تبلیغ کے ساتھ ہوا اور انسانی زندگی کا ہر بلند اور ستھرا رُخ نعت کے ذریعہ سے بھی بنایا اور سنوارا جاتا رہا ہے۔
صنف ِ نعت بہت عظیم موضوع ہے۔اس کا سلسلہ ایک طرف عبد سے تو دوسری طرف معبود سے ملتا ہے۔شاعر کے پائے فکر میں ذرا سی لغزش آئی تو اس کا ڈانڈا اُلوہیت سے مل سکتا ہے۔ جو گناہِ عظیم ہے اور اگر کچھ کمی اور تنقیص رہ جائے تو پھر ایمان کی خیر نہیں۔اس کے لئے قرآن اور پیغامات نبویؐ پر دسترس ہونا بے حد لازمی ہے۔اس کے متعلق مولانا احمد رضا خاں کا خیال ملاحظہ ہو :
’’حقیقتاً نعت شریف لکھنا بہت مشکل کام ہے۔جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں ۔اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے اگر شاعر بڑھتا ہے تو اُلوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہو جاتی ہے۔ (مولانا احمد رضاخاں بریلوی)
درج بالا اقتباس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نعت لکھنے والے کو دینی علوم پہ مکمل دسترس حاصل ہونی چاہئے۔ نہیں تو جو مقام ،رب کا ہے وہ اس کے رسول کو عطا کر دے گایا پھر اس میں اتنا تنقیص پیدا کردے کہ آپ ؐ کو مقام رسالت سے اور بھی نیچے کا درجہ دے دیگا۔
بیکل اُتساہی(اصل نام محمد شفیع علی خان ،۱۹۲۸ء سے ۳؍ دسمبر ۲۰۱۶ء) کی شخصیت اُردو دنیا میںکسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔انہوں نے تقریباً تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔لیکن جس صنف میں ان کو کافی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی وہ ان کی نعتیہ شاعری ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری اس وقت بام عروج پر پہنچی جب بیکلؔ جیل میں اپنی سزا کاٹ رہے تھے کہ ایک رات خواب میں ان کو ایک بزرگ کا دیدار ہوا اورانہوںنے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا’’تم خوش نصیب ہو ، تمہاری کامیابی قدم چومنے کے لئے بے قرار ہے، تم کو لیڈری کے علاوہ کچھ اور بھی ضروری کام کرنا ہے۔ وہ سامنے دیکھو۔‘‘ بیکل ؔنے جب سامنے کی طرف رُخ کیا تو ان کو سبز گنبد کے جلوے دکھائی پڑے ۔یہیں سے ان کی نعتیہ شاعری کا آغاز ہوا، اور یہ اسی آغاز کا انجام آج ہم لوگوں کے درمیان ان کی نعتیہ شاعری سامنے ہے۔
ان کے کئی نعتیہ مجموعے ان کی زندگی میں منظرِ عام پرآئے ۔جن میں’’ نورِ یزداں‘‘ِِ’’نغمٔہ بیکلؔ‘‘،’’ تحفٔہ بطحیٰ‘‘،’’توشئہ عقبیٰ‘‘،’’موج تسنیم‘‘،’’جامِ گل ‘‘،’’پیام رحمت‘‘اور ’’نور کی برکھا‘‘ قابلِ ذکر ہیں ۔ان کے علاوہ ان کی اور بھی کئی کتابیں ہیں۔ان کی نعتیہ شاعری سے ان کے منہج و مسلک کا بخوبی علم ہوتا ہے۔ساتھ ساتھ حضورِ پاک ؐ سے ان کی بے پناہ محبت کو بھی ان کے نعتیہ اشعار میں دیکھا جا سکتا ہے۔
وہ نعت گوئی کو اپنی خوش نصیبی اور اپنے رب کا خاص انعام سمجھتے تھے۔وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کی زبان ہمیشہ مدحت سرورکائنات سے تر رہے اور اسے ہی وہ اپنی آخرت کی نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے۔اُن کے یہ دوشعر ملاحظہ ہو ؎
کوئی ناز کرتا ہے شعر و سخن پر، کوئی مست ہے رونقِ انجمن پر
تجھے ناز ہے نعت گوئی پہ بیکلؔ، یہ بخشش کا سامان اپنی جگہ ہے
(یہ بھی پڑھیں کلیم عاجزؔ کی شاعرانہ مقبولیت کے اسباب – پروفیسر عبدُ البرکات )
اسی یقیں پہ لکھتا ہوں نعت پاکِ حضور
گناہ گار ہوں شاید نجات ہی ہو جائے
اوپر کے ان دونوں شعر سے واضح ہے کہ وہ اپنی نعت گوئی کے فن پر ناز کر نے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی آخروی نجات کا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں ۔اور کیوںنہ ہو آپ ؐ کا اِرشاد گرامی ہے کہ جو شخص جس سے محبت کرتا ہے قیامت کے دن اسی کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔ اگر بیکل ؔاُتساہی نبی آخر الزماں کی محبت میں سر شار تھے تو قیامت کے دن ان کی نجات کے لئے یہ چیز کافی ہوگی ۔چند اشعار بطور نمونہ کے پیش کر رہا ہوں ؎
تری ذات سب سے افضل ، ترا مرتبہ ہے عالی
تو ہی رحمتِ دو عالم ، تو ہی نعمتوں کا والی
ہوائے طیبہ کے مست جھونکے چلے کہ گلشن مہک رہا ہے
کہ نعت پڑھنے لگے عنادل ، کہ غنچہ غنچہ چٹک رہا ہے
تم زباں رکھ کے صحیح بول نہ پائے بیکلؔ
بے زبانوں سے نبیؐ کلمہ پڑھا لیتے ہیں
بیکل اتساہی نے الگ الگ موضوع پر شعر رقم کئے ہیں ۔جیسے نورِ مصطفی ، اختیاراتِ نبوی ؐ، قرآنی جملوں کا استعمال ، معراج النبی ؐ، حیات النبی ، شہر طیبہ میلاد نبی ؐ ،معجزات نبی، شفاعت وغیرہ کے موضوع پر انہوں نے بڑے کمال کے ساتھ اشعار نقل کئے چند نمونے مثال کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں ہیں جس سے میری بات مدلل اور محکم ہو جائے گی۔
قرآنی الفاظ کا استعمال :
جیساکہ قرآنی الفاظ کا استعمال اُردو نعت گوئی میں رواج رہا ہے۔ اسی روایت پر چلتے ہوئے بیکل ؔ اُتساہی نے قرآن کی آیات یا الفاظ کا استعمال کیا ہے۔یہ ان کی شاعرانہ عظمت کو بڑھاتا ہے۔ شعر دیکھئے ؎
وَالنَجم کے بَربَط کو بڑھ کر مضرابِ محبت نے چھیڑا
اک نغمہ رحمت گونج گیا اِنّا انْزلْنا جھوم اٹھا
وا القمر نے ماتھا چوم لیا ، وللّیل نے گیسو کھول دئے
والشمس نے غازے بکھرائے ، وہیں نوری شہانہ جھوم اُٹھا
لولاک لما کا راز کھلا ، قد جاء کم کا مفہوم ملا
تشریف لے آئے نورِ ازل ، کلمے کی تلاوت ہوتی ہے
معجزات نبوی ؐ :
اﷲ نے حلیمہ کے پیارے کا پائے ناز
رکھا جہاں پر موم سا پتھر پگھل گیا
معراج النبی ؐ :
ایسی گھڑی بھی آئی ہے عرشِ عظیم پر
اسرار قدس کا ہر اک پردہ ہٹا ملا
میلادالنبی ؐ :
نہیں ہے اگر آمنہ کا دلارا ، یہ قرآن نہیں یہ شریعت نہیں ہے
کہاں سے سجے گی یہ سیرت کی محفل ، اگر بزمِ ذکرِ ولادت نہیں ہے
سراپا نبی ﷺ کا :
وہ چہرے جس نے نظاروں کی آبرو رکھ لی
وہ زلف جس نے بہاروں کی آبرو رکھ لی
چاند سورج سبھی ماند پڑ جائیں گے ،
زلفِ اطہر جو رُخ پہ بکھر جائے گی
وہ سنواریں گے جب گیسوئے عنبریں ،
صبح کونین ہنس کے نکھر جائے گی
جیسا اُردو کے ممتاز شاعر حکیم مومن خاں مومنؔ نے اپنے تخلص کا استعمال اس انداز میں کیا ہے کہ کبھی کبھی قاری کو یہ دھوکا ہوتا ہے کہ یہ ان کا تخلص ہے یا شعر کا لازمی حصہ ۔ایک نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو ؎
واﷲ رے گمرہی بُت و بت خانہ چھوڑ کر
مومنؔ چلا ہے کعبے کو اک پارسا کے ساتھ
بیکل ؔ نے مقطع میں اپنے تخلص کو اس انداز میں استعمال کیا ہے کہ وہ شعر کا ہی جز ہو جا تا ہے الگ سے مقطع معلوم نہیں ہوتا۔ بیکلؔاتساہی نے اسی وجہ سے اپنے تخلص کا بھر پور فائدہ اٹھایا ہے۔ دو مثالیں پیش کی جاتی ہیں ؎
بیکلؔ ہوں غم عشق میں سر کارؐ تمہارے
ہو چشمِ کرم جس سے مری زیست سدھر جائے
اب تو میں ذکر شہ کونین میں بیکل ہوا
اب تو میرے واسطے راحت کی کوئی حد نہیں ہے
بیکل ؔاتساہی نے نعتیہ مخمس، مسدس، نعتیہ قطعات اور نعتیہ گیت بھی لکھ کر اپنی قاد الکلامی کا ثبوت دیا ہے۔ان کی نعتیہ اشعار میں ان کے مسلک کا بھر پور اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے مسلک سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کی قادر الکلامی اور انداز بیان کا کیا کہنا ۔ان کی نعتیہ شاعری میںفکر و فن و ادب کا حسین امتزاج موجود ہے ۔ ان کی یہی خصوصیت ان کو اپنے دور کے ممتاز نعت گوشعراء میں ممتاز حیثیت عطا کرتی ہے۔
Imamuddin Imam
(Student JNU, New Delhi)
Muzaffarpur
Bihar-India
Mob.- +91 62061 43783
imamuddin.muz@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

