Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگ

کلیم عاجزؔ کی شاعرانہ مقبولیت کے اسباب – پروفیسر عبدُ البرکات

by adbimiras مئی 3, 2021
by adbimiras مئی 3, 2021 0 comment

اُردو کے مقبول شعرا میں کلیم عاجزؔ کا بھی شمار ہوتا ہے کیوںکہ عوام و خواص میں کلیم عاجزؔ کے بہتیرے اشعار قبولیت حاصل کرچکے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ بہت سے کلام کے معنی و مطالب، عوام کی فہم سے بالاتر ہوتے ہیں تاہم جب مطالعات، تجربات اور مشاہدات سے احساسات و جذبات ہم آہنگ ہوکر تخلیقی مراحل سے گزرتے ہوئے کلام کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں تو معنی و مطالب سے آشنائی کے بغیر کلام کی تفہیم ہوجاتی ہے اور واضح معاشرتی صداقت، سچے جذبات کی ترجمانی، غنائیت اور سہل طرزِ ادا کی تاثیر دل و دماغ پر مرتسم ہوجاتے ہیں۔ نتیجتاً عوام و خواص کو احساس ہوتا ہے کہ یہ بھی ہمارے دل میں ہے۔

کلیم عاجزؔ کی شاعری کی مقبولیت کا ایک سبب یہ ہے کہ انھوںنے اپنی شاعری کے مواد زندگی کے مسائل اور معاشرتی معاملات سے کشید کیا ہے۔ وہ گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کر تصورات کے گھوڑے نہیں دوڑاتے تھے اور نہ ہی دنیا سے بیگانہ تھے بلکہ حصولِ رزق کی مصروفیات میں ، گفتگو کے دوران، راستہ چلتے،ڈائننگ ٹیبل پر یعنی انفرادی و اجتماعی مشاغل کے دوران سوچتے سمجھتے اپنی شاعری کے موضوع بناتے۔ ان پر جو گزر رہی تھی جو تجربات ہورہے تھے، جو ان کے مشاہدے میں آرہے تھے ان کو فنی چابکدستی سے اپنے کلام میں پیکر بناتے۔ دراصل ان کے پاس اتنے وسائل بھی نہیں تھے کہ وہ ہر شے سے بے نیاز ہوکر چمن زاروں یا کسی آرام گاہ میں بیٹھ کر طبع آزمائی کرتے جو عام طور پر مفکرین کے لیے تصور کی جاتی ہے۔ اپنے متعلق کلیم عاجزؔ رقمطراز ہیں:

’’گھر چھوٹا، ایسی خلوت اور تنہائی کہاں نصیب! مراقبہ کی فرصت کہاں۔ دامن کوہ پر دسترس کہاں، جوئے آبِ شیر میسر کہاں، کسی وادیٔ پُرفضا تک گزر کہاں، جنگل، ویرانے ، صحرا تک جانے کا نظم، انتظام اور فراغت کہاں۔ تو سوچنے کے لیے ان کے علاوہ تمام جگہیں استعمال ہوتی ہیں۔ کلاس کے بعد وقفے میں بھی، راہ چلتے ہوئے سرجھکاکر بھی، چائے پیتے ہوئے ناشتہ دان کے قریب بھی، کھانا کھاتے ہوئے دسترخوان پر بھی، دوستوں سے باتیں کرتے ہوئے اور دوستوں کی باتیں سنتے ہوئے بھی اور اپنے تمام انفرادی اور اجتماعی مشاغل کے دوران بھی سوچنے کا، سمجھنے کا عمل جاری رہتا ہے۔‘‘  ۱؎

انھیں مذکورہ عوامل کی وجہ سے کلیم عاجزؔ کی شاعری میں زندگی کی حرارت اور سماج کی گرماہٹ محسوس کی جاتی ہے۔ اس صورتِ حال میں اثرپذیری لازمی ہے۔ شعریت کے ساتھ سوز و گداز اور دردمندی ان کی شاعری کا محور ہے جو اُن کے ہم عصروں ندافاضلی، بشیر بدر، شہریار، احمد فراز، وسیم بریلوی، منور رعنا، راحت اندوری، حسن کمال وغیرہ شعرا میں ان کو اہم مقام عطا کرتا ہے۔ کلیم عاجزؔ کے بھی بہت سارے اشعار علمی ادبی محفلوں سے لے کر سیاسی گلیاروں میں بھی حوالے کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ دراصل قدرت کے جلوے اور معاشرتی نظام کے چہرے پر ابھرنے والی سلوٹوں کے مشاہدہ کی اہلیت؛ قدرت کی ودیعت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ صفت کسبی نہیں وہبی ہوتی ہے جس سے پروازِ تخیل کو جِلا ملتی ہے اور تخیل سے متعلق مولانا الطاف حسین حالیؔ رقمطراز ہیں۔

’’سب سے مقدم اور ضروری چیز جوکہ شاعر کو غیرشاعر سے تمیز دیتی ہے، قوتِ متخیّلہ یا تخیّل ہے جس کو انگریزی میں امیجی نیشن کہتے ہیں۔ یہ قوت جس قدر شاعر میں اعلیٰ درجہ کی ہوگی اسی قدر اس کی شاعری اعلیٰ درجہ کی ہوگی اور جس قدر یہ ادنیٰ درجہ کی ہوگی اسی قدر اس کی شاعری ادنیٰ درجہ کی ہوگی۔ یہ وہ ملکہ ہے جس کو شاعر اپنی ماںکے پیٹ سے اپنے ساتھ لے کر نکلتا ہے اور وہ اکتساب سے حاصل نہیں ہوسکتا۔‘‘  ۲؎

کلیم عاجزؔ کی شاعرانہ مقبولیت کا دوسرا سبب یہ ہے کہ ان کو شاعری سے والہانہ لگاؤ تھا۔ ان کے شعری مجموعہ ’’جب فصلِ بہاراں آئی تھی‘‘ کے مقدمہ کے مطالعہ سے انکشاف ہوتا ہے کہ شاعری ان کے مزاج و طبع میں حلول کر گئی تھی۔ شاعری ان کی دلبر بھی تھی اور رہبر و غمگسار بھی۔ روپ، بہروپ، رنگ ڈھنگ، آہنگ سب کچھ شاعرانہ۔خلوت ہو یا جلوت، مزاج، وضع قطع، طرزِ ادا، سلیقہ، نفاست و شیفتگی سب جداگانہ۔ عام طور پر ایک شاعر کے لیے جیسا تصور ذہن میں اُبھرتا ہے کلیم عاجزؔ اس کا نمائندہ نظر آتے ہیں۔شاعری کی مجسم تصویر جس نے ان کو مشاعرہ پڑھتے دیکھا ہے، فخرکرتا ہے کہ میں نے کلیم عاجزؔ کو دیکھا ہے۔راقم بھی پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ایک ریفریشر کورس کے دوران ، ان سے سبق لینے کا شرف حاصل کیا ہے۔ بالکل وضع قطع، لباس و اطوار وہی جو اس مقولہ کے اُلٹ کہ وقت اور حالات آدمی کے اطوار بدل دیتے ہیں۔ میں نے جیسا سنا اورپڑھا تھا ویسا پایا۔ظاہر ہے اس طرح کی صفات کا ظہور اُس وقت ممکن ہے جب عادتیں طبیعت میں رچ بس جائیں اور شاعری کلیم عاجزؔ کی طبیعت میں رچ بس گئی تھی۔ وہ لکھتے ہیں:

’’شاعری بالکل میری ماں بن گئی ہے۔ اس کی آغوش میں مجھے ہفتِ اقلیم میں سے کسی چیز کی احتیاج نہیں رہتی۔ میں غنی سیر آسودہ ہوجاتا ہوں۔ سیراب و شگفتہ ہوجاتا ہوں۔ میری ماں کی بے قرار روح میری شاعری میں سماگئی ہے۔ آپ سمجھ  گئے؟شاعری سے میرا تعلق کیا ہے، کیسا ہے، کس نوعیت کاہے۔

خدا نے خدا کے دین نے، مذہب نے، جن جن کا احترام لازمی قرار دیا ہے اُن کے بعد کسی کا احترام میری نگاہ میں ہے تو وہ میری شاعری ہے۔ میری نگاہ میں میری شاعری کی بڑی اہمیت ہے، بڑی عظمت ہے۔جب میں کیفِ شاعری میں ہوتا ہوں تو دنیا کی ہرچیز ہیچ ہوجاتی ہے، ہر لذت فراموش ہوجاتی ہے، ہر نشہ اُترجاتا ہے اور شاعری کا نشہ چڑھ جاتا ہے۔‘‘  ۳؎

چند ایسے اشعار ملاحظہ فرمائیں جن سے ان کے شاعرانہ انہماک کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے    ؎

بات ایسی سادی جیسے ندی کا بہاؤ ہو

اور درد ایسا جیسے کلیجے میں گھاؤ ہو

 

یوں تو مشاعرے میں بہت کم ہی آؤ ہو

لیکن جب آؤ ہو تو قیامت اُٹھاؤ ہو

 

سنتا ہے جو تمھیں ، نہ سنے ہے کسی کو وہ

کیا جانے کیا سکھاؤ ہو تم کیا پڑھاؤ ہو

 

تم ہوگئے ہو میر تقی میرؔ کی طرح

آگ اپنے دل کی سب کے دلوں میں لگاؤ ہو

 

ہوبہو تو میری تصویر نظر آتی ہے

شاعری جا، بڑی اونچی تیری قسمت کردی

 

بزمِ غزل میں اِک نیا کیفِ کلام رکھ دیا

میں نے بدل کے بادہ و مینا و جام رکھ دیا

لذتِ عشق کے سوا ، دولتِ غم کے ماسوا

وقت نے ہم کو جو دیا ، کرکے سلام رکھ دیا

کلیم عاجزؔ کی شاعرانہ مقبولیت کی تیسری وجہ یہ ہے کہ ان کے کلام سے خواص سے عوام تک کو محظوظ و مستفیض ہونے کا اثاثہ موجود ہے۔وہ صداقت اور حق گوئی کی قوت سے کماحقہٗ واقف تھے، نیز سچائی سے گریز ان کی طبیعت کے منافی تھی لہٰذا سفاک واقعیت کو انھوںنے فنکاری سے نیا رنگ و آہنگ دیا جس سے خواص کی توجہ بھی ان کے کلام کی طرف مبذول ہوگئی۔ اس لیے ترقی پسند تحریک کے بانی و علمبردار ہوں یا جدیدیت کے ہم نوا؛شعریت، تاثیریت اور فنکارانہ لوازمات کے متلاشی ہوں یا علمیت اور افادی ادب کے پیروکار؛ ان سب کے ذوق کا سامان ان کے کلام میں موجود ہے۔ حقیقتاً اعلیٰ تعلیم یافتہ اور عمدہ شعری ذوق کے افراد ان کے کلام سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ انھوں نے ترقی پسند تحریک کے نظریات کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہوئے شاعرانہ مزاج و مذاق کو ملحوظ رکھا ہے کہ حقیقت کی تلخی کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ اشعار ملاحظہ کریں   ؎

رسن و دار نہیں اہلِ جنوں کی منزل

ہم مسافر ہیں بہت دور کے جانے والے

 

ایسی بہار آئی کہ اب کے بہار میں

سایہ نہیں کسی شجرِ سایہ دار میں

( یہ بھی پڑھیں کلیم عاجزؔ بحیثیت نظم نگار – پروفیسر ڈاکٹر محمد توقیر عالم)

کیا کیا نہ فصلِ گل کی تمنا خزاں میں تھی

کرتے ہیں اب خزاں کی تمنا بہار میں

 

ہیں ایک ہی چمن میں مگر فرق بہت ہے

ان کی بہار اور میری بہار اور

زمانہ جانتا ہے کس کا دامن چاک کتنا ہے

زمانہ خود ہی پردہ کھول دے گا ہم نہ کھولیں گے

کلیم عاجزؔ کے کلام عوام میں بھی بہت مقبول ہیں۔ دراصل ان کی شخصیت کی تشکیل میں متانت، شرافت، نفاست، صداقت، سلیقہ اور وضعداری کی اہم حصہ داری رہی ہے۔ قلب ونظر کی شفافیت ان کے ظاہر سے بھی عیاں ہوتی ہے اور کلام میں بھی نظر آتا ہے۔ان کے کلام میں پیچ و خم اور ژولیدہ خیالی کی جستجو مشکل ہے اس لیے اشعار کی تفہیم میں ترسیل کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں کلیم الدین احمد کی آراء ملاحظہ کریں۔

’’کلیم عاجزؔ کے شعروں کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ان کے شعروں میں ایک مخصوص سادگی ہے۔ ان کے الفاظ جانے پہچانے، ان کی ترکیبیں ایسی سیدھی سادی ہوتی ہیں کہ مفہوم فوراً ذہن نشیں ہوجاتا ہے۔ یہ نہیں کہ ان کے اشعار سطحی ہوتے ہیں بلکہ الفاظ اور ترکیبوں اور معانی کے درمیان کوئی پردہ نہیں بلکہ یوں کہیے کہ ان کے الفاظ ایسے شفاف ہیں کہ معانی کو ایک نگاہِ غلط انداز بھی پالیتی ہے۔ اکثر ان کے شعروں میں لفظوں کا ایک تو سطحی مفہوم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا مفہوم ہوتا ہے، دونوں بیک وقت سمجھ میں آجاتے ہیں۔‘‘  ۴؎

بلاشبہ کلیم عاجزؔ کے کلام میں معنوی تہہ داری ہے جس سے دو طرح کے مفہوم نکلتے ہیں۔ ایک کا تعلق قریبی معنی سے ہوتا ہے اور دوسرے کا بعیدی اور دونوں مفہوم قابلِ ستائش ہیں۔عوام خاص طور پر شعر کے قریبی معنی و مفہوم سے حظ و انبساط اُٹھاتے ہیں۔ ایک غزل کے چند اشعار جو خواص سے عوام تک بے حد مشہور ہیں جس میں ایک طرف حسن و شباب کے خمار سے سرشار دوشیزہ کا پیکر اُبھرتا ہے تو دوسری طرف سیاست کی منفی کارکردگی کی طرف ذہن مائل ہوتا ہے۔ اشعار ملاحظہ کریں  ؎

اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو

روز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہو

 

رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں

چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو

 

دن ایک ستم، ایک ستم رات کرو ہو

وہ دوست ہو، دشمن کو بھی مات کرو ہو

 

میری ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو

مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو

 

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

چند ایسے اشعار جو اپنی سادگی اور اثر آفرینی کی وجہ سے بے حد مقبول ہیں  ؎

اپنا تو کام ہے کہ جلاتے چلو چراغ

رستے میں خواہ دوست کہ دشمن کا گھر ملے

 

بات چاہے بے سلیقہ ہو کلیمؔ

بات کہنے کا سلیقہ چاہیے

 

کوئی بزم ہو کوئی انجمن یہ شعار اپنا قدیم ہے

جہاں روشنی کی کمی ملی، وہیں اک چراغ جلا دیا

 

اس قدر سوز کہاں اور کسی ساز میں

کون یہ نغمہ سرا میرؔ کے انداز میں ہے

کلیم عاجزؔ کے کلام کی مقبولیت کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ ان کی شاعری میں آپ بیتی شاعرانہ سوز و ساز بن کر اُبھرتی ہے۔ انھوں نے خوں ریز و خوفناک ماحول جو فرقہ وارانہ فساد سے پیدا ہوا تھا، نہ صرف دیکھا بلکہ اس سے ان کو سابقہ بھی پڑا تھا، ان کے شاعرانہ مزاج کو انوکھا نہج دیا۔کلیم عاجز نے اکتوبر ۱۹۴۶ء میں ہوئے خونی فساد جو پٹنہ سے قریب اپنے گاؤں ’تلہاڑا‘ میں دیکھا تھا اس کی تفصیلات اپنی خودنوشت اور اپنے شعری مجموعوں کے مقدموں جس کو مختلف عنوانات سے تحریر کیا گیا ہے، میں پیش کیا ہے۔ جس کو پڑھ کر آج بھی دل پر خوف طاری ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے ان کی شخصیت پر اس کے اثرات لازمی تھے کہ وہ ایک وہبی شاعر تھے۔لہٰذا اس کے شدید اثرات ان کی شخصیت پر مرتب ہوئے اور رقت، گداز اور سوز ان کی طبیعت پر غالب ہوگئی جو نمایاں طور پر ان کی شاعری میں دیکھی جاتی بلکہ ان کی انفرادی شناخت قائم کرتی ہے۔

بطور نمونہ کچھ اشعار دیکھیں   ؎

سلگنا اور شے ہے جل کے مرجانے سے کیا ہوگا

جو ہم سے ہو رہا ہے کام، پروانے سے کیا ہوگا

 

کلیجہ تھام لو، رودادِ غم ہم کو سنانے دو

تمھیں دکھا ہوا دل ہم دکھاتے ہیں دِکھانے دو

 

مت ہاتھ رکھ سلگتے کلیجے پہ ہم نشیں

یہ آگ دیکھنے میں بجھائی ہوئی سی ہے

 

ہم درد کے ماروں کو بھلانا نہیں ممکن

روکوگے خیالوں سے تو خوابوں میں ملیں گے

کلیم عاجز کی شاعرانہ مقبولیت کا پانچواں سبب ان کے لب ولہجہ اور آہنگ کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ان کو شاعری کا فطری ذوق تھا جس کو تعلیم و تعلم اور علمی و ادبی محفل نے جِلا بخشی۔ کلیم عاجز کو اپنی تہذیب ومٹی سے بے پناہ لگاؤ تھا۔ منفرد اور نیا اندازِ طرز جس میں بہار کے خلوص اور بھولے پن کی جھلک ملتی ہے اور ایسا آہنگ اُبھرتا ہے جس میں بہاری پن کی کھنک ہے اور یہی ان کی شعری انفرادیت ہے۔

حواشی:۔

(۱)      بحوالہ کلیاتِ کلیم عاجز، مرتب فاروق ارگلی، ص ۲۴۵، اشاعتِ اوّل ۲۰۱۷ء

(۲)     مقدمہ شعر و شاعری، الطاف حسین حالیؔ، ص ۴۵، ۱۹۶۰ء

(۳)     بحوالہ کلیاتِ کلیم عاجز، مرتب فاروق ارگلی، ص ۲۷۱

(۴)     بحوالہ کلیاتِ کلیم عاجز، مرتب فاروق ارگلی، ص ۶۲

 

Correspondence Address :-

Prof. Abdul Barkat

EqbalHasan Road,

P.O. M.I.T., Brahampura

Muzaffarpur-842003 (Bihar)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

عبد البرکاتکلیم عاجز
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
مناظر عاشق ہرگانوی اور بچوں کا جاسوسی ادب – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ

یہ بھی پڑھیں

مشاعرے کی افادیت – سید احتشام حسین

مئی 20, 2026

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (601)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (203)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (144)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,053)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (538)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (206)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (480)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,139)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (900)
    • خصوصی مضامین (127)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (229)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں