Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
گوشہ خواتین و اطفال

مناظر عاشق ہرگانوی اور بچوں کا جاسوسی ادب – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ

by adbimiras مئی 3, 2021
by adbimiras مئی 3, 2021 0 comment

مناظر عاشق ہرگانوی جیسی ہمہ جہت اور ہمہ پہلو شخصیت اردو ادب کے منظر نامے پر خال خال ہی نظر آتی ہے۔ان کے یہاں موضوعات کی بوقلمونی کا ایک رنگارنگ جہان دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ان کے مطالعے کی وسعت اور ان کا مشاہدہ اس امر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادب کی تقریباًتمام اصناف میں انہوں نے خامہ فرسائی کی ہے۔مناظر عاشق ہرگانوی اردو کے بسیار نویس ادیب ہیں۔ تخلیقی،تنقیدی اور تحقیقی ہر میدان میں انہوں نے طبع آزمائی کی ہے۔بچوں کے رسالے غنچہ،کلیاں، ٹافی، کھلونا،پیام تعلیم ،مسرت ہوں یا خواتین کے ماہنامے زیور،حریم،بانو ہوںیا عام قاری کے لئے شمع،شبستان، بیسویں صدی، ہما، ہدیٰ ہوں یا خالص ادبی رسائل و جرائد۔ہر جگہ ان کی تحریریں ذوق نظر کو سیراب کرنے کے لئے موجود رہتی ہیں۔ مناظر عاشق ہرگانوی کی ادبی نگارشات کے سلسلے میںڈاکٹر سید احمد قادری لکھتے ہیں:

’’فراق جیسے شاعر کی شاعری اور کلیم ا لدین احمد جیسے ناقد کی تنقید کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان سے بڑا ناقد کوئی ہو نہیں سکتا۔اردو کے پہلے اخبار کی تلاش و جستجو کرتے ہیں تو ان کے محقق ہونے کا پتہ چلتا ہے۔گاندھی جی کی سیاسی زندگی پر روشنی ڈالتے ہیں تو ان کے سیاسی شعور کی اتھاہ گہرائیوں کا اندازہ ہوتا ہے اور جب کرشن چندر، سیماب، اقبال، چکبست، مظہر امام، رضا نقوی واہی، ژاں پال سارتر، آرتھریلر،ماتری وغیرہ کی ادبی خدمات کا تجزیہ کرتے ہیں تو ان کے اندر چھپی ہوئی بے پناہ تنقیدی صلاحیتوں کا احساس ہوتا ہے۔ دنیا کی مختلف خواتین کا جب یہ تعارف پیش کرتے ہیں یا پھر لندن، پیرس، استنبول اور سنگاپور کے سلسلے میں مواد فراہم کرتے ہیں تو ان کے مطالعہ و مشاہدہ کی گہرائی و گیرائی کا پتہ چلتا ہے۔لکھنؤ، پٹنہ اور کشمیر ریڈیو سے جب یہ کوئی کہانی سناتے ہیں تو ان کے اندر کا بہترین افسانہ نگار سامنے آتا ہے اور جب سری نگر ٹیلی ویژن پر غزل پڑھتے نظر آتے ہیں تو ان کی شاعری پر لوگ جھوم جھوم اُٹھتے ہیں۔‘‘

(بحوالہ:’’مناظر عاشق ہرگانوی۔شخصیت‘‘ ، ص:۱۶۰)

گویا یہ ایک شخص نہیں بلکہ علم و ادب کا ایک بحر بیکراں ہے جس کی ہر موج نیا فسانہ سناتی نظر آتی ہے۔ہر لہر ایک نئے باب کا نیا عنوان ہوتی ہے۔ مناظر صاحب خود کہتے ہیں:

’’میں خواب کے کھیت بوتا ہوں اور تعبیر کی فصل کاٹتا ہوں۔‘‘

اب تک انہوں نے دو سو سے زائد فصلیں کاٹ لی ہیں ۔ان کے خوابوں کا سلسلہ یونہی دراز رہے تو مزید فصلیں کٹتی رہیں گی۔انہوں نے وجہ تخلیق یوں بیان کیا ہے:

’’میں شوق کے لئے نہیں لکھتا ۔اپنے باطن کی بے تاب اور ہمہ وقت سوچنے والی روح کی وجہ سے مجبور ہوکر لکھتا ہوں۔‘‘

میرا خیال ہے کہ ہر فنکار کے باطن میں ایک مضطرب روح ہوتی ہے لیکن کم لوگ ہیں جو اس اضطراب پر کان دھرتے ہیں اور روح کے سکون کا سامان کرتے ہیں۔ مناظر صاحب کے پیکر میں ایک مضطرب روح کے ساتھ ساتھ کبھی نہ تھکنے والا جسم، وقت کی قدر کرنے والا دماغ اور اپنے فکر و شعور سے دوسروں کو فیضیاب کرانے والا دل بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اردو ادب کے سرمایے میں دو سو سے زائد تصانیف کا ایک اہم اضافہ مناظر صاحب کا مرہون منت ہے۔

جس افکارومعیار سے مناظر صاحب ادبی و علمی موضوعات پر مضامین لکھتے ہیں ،اسی تناسب سے ان پر بھی لوگوں کے تاثرات آتے رہتے ہیں جس کے وہ حقدار بھی ہیں۔ میری یہ چند سطریں ان کی شخصیت یا فن کا احاطہ تو نہیں کر سکتیں لیکن ان کی تحریر کردہ جاسوسی کہانیاں (جو انہوں نے بچوں کے لئے تحریر کی ہیں لیکن سبھی عمر کے افراد ان سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں) پڑھ کر جو تاثرات میرے ذہن پر مرتسم ہوئے ،وہ بلا کم و کاست ضبط تحریر میں آگئے ہیں۔

بچوں کے ادب پربھی مناظر صاحب کی توجہ رہی ہے۔بچوں کا ادب تخلیق کرنا ایک مشکل کام ہے۔ادب اطفال میں بچوں کی نفسیات کے پیش نظر معصومیت،سادگی،سہل بیانی،پراسراریت سے مسرت کشید کرنا،چھوٹی چھوٹی معلومات ، اخلاقی نکتے، زندگی کی راہوں کو سہل کرنے والے اصول و ضوابط، کردارسازی کرنے والے واقعات اور ان سب کی پیشکش میں معصومانہ دلچسپی قائم رکھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔بچوں کے لئے لکھی جانے والی مناظر صاحب کی تحریروں کے مطالعے سے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اس کار گرانقدر کا خاطر خواہ حق ادا کیا ہے۔

ابتدائی دور میں مناظر صاحب نے ایک خیالی کردار ملا نابالغ کو اپنی جاسوسی کہانیوں کا ہیرو بنایا تھا ۔بچوں کی معصوم متجسس فطرت کے لحاظ سے یہ کردار تخلیق کیا گیا تھا۔ یعنی یہ ملا بھی ہے اور نابالغ بھی۔ بچہ بھی ہے اور بہادر جوان بھی۔ اپنی چالاکی اور معاملہ فہمی سے ہر قسم کے واقعات کی تہہ تک پہونچ جاتا ہے۔لوگوں کے مسائل بھی حل کرتا ہے اور پولس والوں کی مدد بھی کرتا ہے۔بعد ازاں، مناظر صاحب نے بدلتے ہوئے سماجی تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے خیالی کردار کی جگہ ایک جیتے جاگتے کردار کو جاسوسی کارناموں کا ہیرو بنایا۔ یہ کردار فیصل کا ہے ۔درپردہ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اکیسویں صدی کے بچے بڑے سیانے ہوچکے ہیں۔ وہ ملا بالغ جیسے تصوراتی نام کی بجائے فیصل جیسے نڈر،بہادر اور ذہین کردار کے جاسوسی کارناموں کو زیادہ پسند کریں گے۔ بچوں کی جاسوسی کہانیاں تخلیق کرنے کے پس پشت مناظر صاحب کا مقصد یہ رہا کہ آج کی رنگارنگ زندگی میں قتل و غارت گری، لوٹ مار، اغوا جیسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔بچوں کو بھی بارہا ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ بچے ایسے واقعات کے بارے میں نہ صرف جانیں بلکہ اپنے بچاؤ کے متعلق بھی پوری جانکاری رکھیں۔ جن ، بھوت، پری وغیرہ جیسے مافوق الفطری کرداروں کے حوالے سے وہ کہتے ہیں: (یہ بھی پڑھیں کلیم عاجزؔ کی شاعرانہ مقبولیت کے اسباب – پروفیسر عبدُ البرکات)

’’آج اکیسویں صدی میں جب ہر طرف سازشوں کا بازار گرم ہوتو ہر بچے کو شہزادہ اور ہر لڑکی کو پری بننا چاہئے۔کیونکہ جن، بھوت اور راکشش تو ہمارے آس پاس گھومتے رہتے ہیں۔ان سے اپنے آپ کو، گھر کو، محلے کو گاؤں ،شہر اور ملک کو بچانا ہے۔ مگر کیسے؟ صرف اپنے عمل سے۔‘‘

بچوں کو اس فعالیت اور عمل کا سبق پڑھانے کے لئے انہوں نے فیصل کا کردار تخلیق کیا ہے۔ایک عام لیکن ذی ہوش اور بیدار ذہن کا لڑکا جو اپنے ارد گرد رونما ہونے والے واقعات کا بہ نظر غائر مشاہدہ کرتا ہے اور حقیقی نتائج اخذ کرتا ہے۔اس کے بچپن کا ایک واقعہ ہے کہ اسکول میںروزانہ لنچ آور میں کلاس سے مختلف بچوں کی چھوٹی چھوٹی چیزیں مثلاً شارپنر، ربڑ،پنسل وغیرہ غائب ہوجایا کرتی تھیں۔اتفاق سے صرف فیصل ہی اس وقت کلاس میں موجود رہتا تھا۔نتیجتاً سبھی لڑکوں نے اسے ہی مجرم قرار دیا اور اس سے بات چیت بند کردی۔ فیصل نے کہاکہ وہ چور نہیں ہے لیکن چور کا پتہ لگاسکتا ہے۔اس نے مالی سے کدال منگواکر کلاس روم کے کونے میں بنے ہوئے ایک بل کو کھودنا شروع کیا۔دو فٹ بعد ہی اس بل سے ایک چوہا نکل کر بھاگا اور بچوں کی تمام گمشدہ چیزیں اس بل سے دستیاب ہو گئیں۔ اس واقعہ کے بعد بچوں نے فیصل کو جاسوس کا لقب دے دیا۔

کرکٹ میدان میں ہونے والے دوہرے قتل اور اسی سلسلے کے مزید دو قتل کا فیصل نے جس باریک بینی اور بالغ نظری سے سراغ لگایا ،وہ نہایت قابل تعریف ہے۔ مونا کلب اور آزاد لائبریری کی کرکٹ ٹیموں کے بیچ فائنل میچ تھا ۔کھیل تقریباً اختتام پر تھا اور ہارجیت کا فیصلہ ہونے کو تھا کہ اچانک میدان میں کئی دھماکے ہوئے اور میدان دھوئیں سے بھر گیا ۔میدان میں افراتفری مچ گئی۔ اسی دوران گولیاں چلنے کی بھی آواز آئی۔حالات قابو میں آنے کے بعد دو لاشیں منظر عام پر آئیں۔ایک کرکٹر افضل کی لاش تھی اور دوسرے کی شناخت بعد میں افضل کے دوست عنایت علی کے طور پر ہوئی۔پولس اپنے طور پر موقع کی کاروائی انجام دے رہی تھی۔دونوں لاشوں کا گہرا مشاہدہ کرنے کے بعد فیصل نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ قتل گولیوں سے نہیں ہوا ہے بلکہ کسی پرندے کے پنجے کے نشان ان کی موت کا سبب بنے ہیں۔ پھر تفتیش و انکشافات کا ایک دلچسپ سلسلہ ہے جس کے سہارے کہانی آگے بڑھتی ہے۔ غورطلب امر یہ ہے کہ یہ تمام سلسلے ماورائی یا خیالی نہیں ہیں بلکہ زمینی حقیقت کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ پلاٹ بہت چست و درست ہے۔ واقعات میں ایک تسلسل اور روانی ہے۔ مصنف نے بچوں کی متجسس فطرت کا پورا پورا خیال رکھا ہے۔جب یہ واضح ہوگیا کہ تمام قتل کا سبب گدھ ہے تو گدھ کے متعلق تفصیلی معلومات بہم پہنچائی گئی ہے۔ اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ خشک اور طویل معلومات سے بچے بور نہ ہوں۔ اس لئے تمام باتوں کو دو جزو میں اور الگ الگ کرداروں کے وسیلے سے بیان کیا گیا ہے۔کہانی کے آخر میں حقیقت سامنے آتی ہے کہ قاتل امتیاز کا ہاتھ افضل کے بلے سے زخمی ہوا تھا بلکہ کردیاگیا تھا۔ اسی المناک حادثہ کے نتیجے کے طور پر امتیاز نے گدھ کو تربیت دے کر اپنے دشمنوں سے انتقام لیا۔لیکن قانون کو ہاتھ میں لے کر اس نے کیسا انتقام لیاکہ بالآخر وہ بھی موت کی سزا کا مستحق ٹھہرا۔بچوں کے لئے اس کہانی میں جہاں واقعات کی نیرنگی ہے، سراغ رسانی کی باریکی ہے، معلومات کا خزانہ ہے،پُراسراریت کا اضطراب ہے، انکشافات کا لطف ہے وہیں یہ سبق بھی ہے کہ ہر حال میں قانون کی بالادستی قائم رکھنی چاہئے اور منتقم مزاج شخص بالآخر خود کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔

فیصل کا ایک اور کارنامہ ’’جنگل کی پہچان‘‘ بھی کافی دلچسپ ہے۔اس کہانی میں فیصل کا واسطہ جنگل کے ایک اسمگلر سے پڑتا ہے جو اس علاقے سے گذرنے والی مال گاڑی سے سرکاری املاک لوٹتا ہے۔اپنی ہوس پوری کرنے کے لئے وہ نہ صرف ملک کی معاشی حالت کو کمزور کررہا تھا بلکہ اس سلسلے میں مزاحم ہونے والے کسی بھی آدمی کی جان لے لینا اس کے لئے معمولی بات تھی۔عینی شاہدین کو قتل کراکر شناخت مٹانے کے غرض سے سر کاٹ کر دریابرد کردیتا تھا۔ لیکن ہر چیز کی انتہا ایک نئی ابتدا ہوتی ہے۔بورے میں کسی ہوئی ایک سرکٹی لاش پر فیصل کے ساتھی دانش کی نظر پڑی اور اس نے فیصل کو خبر دیدی۔پھر انسپکٹر حبیب کے ساتھ فیصل کی سراغ رسانی کا آغاز ہوگیا۔ حسب سابق اس کہانی میں بھی مصنف نے کوئی جادو کی چھڑی نہیں گھمائی ہے بلکہ واقعات کے تسلسل سے رفتہ رفتہ کہانی آگے بڑھتی ہے اور اسرار کے پردے چاک ہوتے جاتے ہیں۔ اور آخر میں یہ انکشاف ہوتا ہے کہ فاریسٹ آفیسر ہی اسمگلروں کا سردار تھا۔ اس نے اپنے منصب کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ جنگل میں رہ کر اس نے ایک خفیہ تہہ خانہ بنارکھا تھا جس میں وہ لوٹ کا مال رکھتا تھا۔ اس کے سرکاری و نجی کارندے جنگل کے اطراف میں گھومتے رہتے تھے  تاکہ کوئی باہری آدمی اس کے معمولات میں مخل نہ ہو۔ (یہ بھی پڑھیں قیدی:کرب ناک المیوں کی داستان – ڈاکٹر جمیل حیات )

فیصل کے گذشتہ کارناموں کی بہ نسبت اس کہانی میں زیادہ روانی اورارتقائی تسلسل ہے۔ پُراسراریت اور مہم جوئی کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔جنگل کی مناسبت سے چیتے کے شکار کی روداد بھی ہے جس میں بچوں کے لئے زبردست کشش ہے۔ فیصل کا ایک اورکارنامہ’’قتل کا کھیل‘‘ ہے۔یہ ایک عام سی کہانی ہے جس میں تقریب کا انعقاد کرکے قاتل کھیل کھیل میں اپنے دشمن کو ہدف بنا لیتا ہے۔ کہانی کی خاص بات یہ ہے کہ اسی تقریب میں قاتل گرفتار بھی ہوجاتا ہے اور قاتل بھی کون ؟ ایک لڑکی جو مقتول کی سالی ہے اور اس کی بلیک میلنگ کا شکار بھی ہے۔ یہ کہانی چونکہ ایک ہی نشست پر محیط ہے، اس لئے واقعات کی رفتار سست ہے۔البتہ واقعہ کی پیچیدگی ذہن کو متوجہ کرتی ہے۔ اس کہانی میں فیصل اور بریشہ کردار اور مکالمے کے اعتبار سے ابن صفی کے شہرہ آفاق کرداروں کرنل فریدی اور کیپٹن حمید سے قدرے مماثل نظر آتے ہیں۔

یہ زیادتی ہوگی کہ ملا نابالغ کے کارناموں پر نظر نہ ڈالی جائے۔ ملا نابالغ صرف نام کے اعتبار سے تصوراتی اور غیر حقیقی کردار لگتا ہے لیکن حرکت و عمل کے لحاظ سے جونیئر فیصل ہے۔ ملا نابالغ کے کارنامے بچوں کے رسالے میں شائع ہوتے تھے۔ بچوں کی دلچسپی کے مدنظر مناظر صاحب نے کردار کا نام ملا نابالغ رکھا ہوگا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مناظر صاحب کہانی کے کرداروں کے نام اپنے اردگرد سے اُٹھاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ملانابالغ کے کردار کی تخلیق کے وقت انہیں ایسا کوئی کردار اپنے آس پاس نظر نہ آیا ہو۔ جیسے فیصل،اس کا ساتھی دانش، اس کی سکریٹری بریشہ تینوں نام ان کے اپنے بچوں کے ہیں۔ ’’جنگل کی پہچان‘‘ میں ایک کردار فردوس رومی ہے جو مناظر صاحب کے حلقہ احباب میں شامل ہیں۔ فردوس رومی نے ’’مناظر عاشق ہرگانوی: شخصیت ‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی ترتیب دی ہے۔بہرکیف، ملا بالغ کے کارنامے مختصر اور نسبتاً کم پیچیدہ ہیں۔قتل کا معمہ،قاتل کون؟،اغوا، شیطانی عمل، کالی جرسی لال پھول وغیرہ کہانیوں میں بھی قتل و اغوا اور لوٹ مار کے واقعات ہیں جن کا سراغ ملا نابالغ اپنی بالغ نظری اور گہری سوجھ بوجھ سے لگالیتا ہے۔ ان کہانیوں میں ایک کمی کھٹکتی ہے کہ ملا نابالغ ہو یا فیصل، مصنف کی پیشکش سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں بچے ہیں یا کم عمر نوجوان ہیں۔لیکن جب وہ انسپکٹر سے بات کرتے ہیں یا دیگر کرداروں سے تفتیشی رویہ اپناتے ہیں تو مکالماتی نہج پر انسپکٹر کے ہمعصر نظر آتے ہیں۔ یہ ایک اچھی کہانی کی ایک بڑی خامی ہے۔ جبکہ ان کہانیوں کی مکالمہ نگاری بہت عمدہ ہے۔بلکہ بیشتر کہانیاں مکالموں کے ذریعہ ہی اپنے پلاٹ کو واضح کرتے ہوئے ارتقائی مدارج طے کرتی ہیں۔ زبان شستہ اور شگفتہ ہے۔ بھاری بھرکم الفاظ و تراکیب سے اجتناب کرنے کی شعوری کوشش ملتی ہے۔ مناظر صاحب نے بچوں کی نفسیات کا پوری طرح خیال رکھا ہے۔ وہ بچوں کو عام معلومات سے بہرہ ور کرنا چاہتے ہیںتو علمیت یا پند و نصائح کا گھونٹ پلانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اپنی بات کو سہل اور آسان زبان میں پیش کردیتے ہیں۔

مناظر صاحب نے مذکورہ جاسوسی کہانیاں بچوں کے لئے لکھی ہیں مگر سچی بات یہ ہے کہ ان کہانیوں میں ہر عمر کے  شائقین کے لئے تسکین ذوق کا سامان ہے۔ سسپنس کہانیاں انسانی دماغ کو متحرک اور فعال رکھتی ہیں اور ایسی کہانیاں تحریر کرنے کے لئے بھی متحرک اور فعال ذہن کی ضرورت ہے۔ مناظر صاحب کی ذہانت ،فطانت اور ادبی بصیرت ان کی مذکورہ جاسوسی کہانیوں میں جھلکتی ہے۔ نثرنگاری ہو یا شاعری، ہر جگہ ان کا ذوق جنوں ظاہرہوتا ہے۔نثر میں تنقید ہو یا تحقیق، افسانے ہوں یا بچوں کا ادب،ہر شعبے میں انہوں نے اپنی علمی استعداد کا مظاہرہ کیا ہے۔ شاعری میں نظم، آزاد نظم،غزل،آزاد غزل،ہائیکو،ماہیا گویاہر جگہ وہ دخیل ہیں۔ شاعری میں انہوں نے متعدد تکنیکی تجربے بھی کئے ہیں۔مناظر صاحب نے اتنا زیادہ لکھا اور اتنا خوب لکھا کہ اسے احاطہ کرنا چند صفحات میں ممکن نہیں ۔ ہمارے عہد میں تصنیفی اور تالیفی سرگرمیوں میں اتنا متحرک اور فعال ادیب کوئی دوسرا نہیں ہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

بچوں کا جاسوسی ادبمناظر عاشق ہرگانویوصیہ عرفانہ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
کلیم عاجزؔ کی شاعرانہ مقبولیت کے اسباب – پروفیسر عبدُ البرکات
اگلی پوسٹ
مولانا نور عالم خلیل الامینی کی رحلت: علم وقلم کا مہر درخشاں غروب ہوگیا -ڈاکٹر جسیم الدین

یہ بھی پڑھیں

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

ہندوستانی معاشرے میں دین کے نام پر خواتین...

جنوری 3, 2026

بچوں کو تعطیلات میں مشغول رکھنے اور شخصیت...

جولائی 9, 2024

ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم کردار’بیگم سمرو‘...

دسمبر 16, 2023

پروین شاکر کی شاعری میں تانیثی آواز اور...

دسمبر 5, 2023

بھارت میں ماحولیاتی تبدیلی: بحران کے” "تخفیف میں...

اکتوبر 20, 2023

چلو جنگل سے باتیں کرتے ہیں !! –...

جولائی 2, 2023

عالمی یوم خواتین اور خواتین کی قدر شناسی...

مارچ 7, 2023

مسلمانوں میں عورتوں کی تعلیم کا آغاز- حدیثہ...

جنوری 21, 2023

قومی یومِ اطفال اور قوم کے بچے – علی...

نومبر 15, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں