متاع جنوں/ شاعر :جنوںؔ اشرفی – ڈاکٹر داؤد احمد
شاعری کی اصل بنیاد احساس فکر پر ہوتی ہے۔شاعر کا حسن لطیف اور فکر جمیل اسے اپنے گرد وپیش کے واقعات اور اس کے اپنے تجربات کو شعر کے قالب میں ڈھال کر پیش کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔شاعری دراصل تغزل ،رنگین بیانی اور قافیہ پیمائی کا نام نہیں ہوتی بلکہ شاعری شاعر کے وجدان ، اس کے احساسات و جذبات ، اس کے افکار و نظریات اور زمانے کی گردشوں اور اس میں پرورش پا رہی نئی امنگوں اور نئی آرزوؤں کا بیان ہوتی ہے۔ان نظریات کو ذہن میں رکھ کر شعرا کا مطالعہ کیا جائے تو جنوںؔ اشرفی کی شخصیت ایک ایسے شاعر کے روپ میں ابھر کر سامنے آتی ہے جس میں شاعر اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ موجود نظر آتا ہے۔جنوںؔ اشرفی کا شعری مجموعہ ’’ متاع جنوں‘‘ شعر و سخن کا ایک ایسا گلشن ہے جس میں ہر طرح کے تازہ پھول اپنی خوشبو سے قاری کے احساس کو مہکا جاتے ہیں۔
’’ متاع جنوں‘‘ جنوںؔ اشرفی کی غزلوں کا تیسرا مجموعہ ہے۔اس سے قبل ان کے دو مجموعے’’ شجر خزاں رسیدہ‘‘2006 میںاور’’ تشنہ لب سفر‘‘2017 میں منظر عام پر آچکے ہیں۔160صفحات پر مشتمل اس مجموعے میںکل 83 غزلیں،دو نظمیں اور کچھ متفرق اشعار بھی شامل ہیں۔تمام تر غزلیں 1970 کے بعدمحکمۂ دفاع میں دوران ملازمت کی ہیں،لہٰذا ان غزلوں میں کلاسکیت کے عنصر نمایاں ہیں۔اس کتاب میں جنوںؔ اشرفی نے جو غزلیں پیش کی ہیںوہ لفظی و معنوی ہر اعتبار سے بلند پایہ و بامعنی ہیں۔ زبان کی سلاست اور انداز بیان کی ندرت نے تو گویا ان کے کلام میں جان ڈال دی ہے۔ان کا شمار جدید دور کے ان شاعروں میں ہوتا ہے جو غیر شاعرانہ پیشے سے وابستہ ہونے کے باوجود فنی لوازم اور عصری رجحانات سے بخوبی واقف ہیں اور انھیں خوش سلیقگی سے برتنے کے ہنر میں مہارت رکھتے ہیں۔
جنوںؔ اشرفی اپنے شعری مجموعہ’’ متاع جنوں‘‘ کے ابتدائیہ ’’ تکلم‘‘ میں رقمطراز ہیں :
’’ مجھے اپنی شاعری پر کوئی دعویٰ نہیں، یہ میرا ذوق ہے، میری تنہائی کا رفیق۔عمر کی اس منزل سے گزر رہاہوں کہ جہاں نہ جنون شوق سلامت رہتا ہے اور نہ حوصلہ۔ ہوائے دشت میں ہر آواز گم ہو جاتی ہے ، پھر بھی شکر خدا ہے کہ خیال و فکر کی وادیوں کا راستہ اب بھی تنگ نہیں اور یہ حوصلہ باقی ہے کہ زندگی سے وابستہ فکر و فلسفہ کو آواز دیتے ہوئے جنون شوق میںکوئی کمی نہیں آئی‘‘۔ ( صفحہ۔12-13)
زیر تبصرہ شعری مجموعہ’’متاع جنوں‘‘ کے خالق جنوںؔ اشرفی صرف ذوق و شوق اور مشغلہ کے اعتبار سے ہی قلم کار نہیں بلکہ وہ فطری و طبعی طور پر بھی ایک پختہ شاعر ہیں۔ ان کے یہاں بھرتی کے اشعار نہیں بلکہ انھوں نے کچھ ایسے سلیقے و شعور کے ساتھ شعر کہے ہیں گویا بہت ہی خوبصورت نگینے ایک قیمتی زیور میں جڑ دیے گئے ہیں۔انھوں نے خود اپنے ذاتی ذوق و شوق اور غیر معمولی صلاحیت کی بنا پر دنیائے شعر و سخن میں نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔زبان و بیان ، اسلوب لب و لہجہ اور موضوع و مواد کے نقطۂ نظر سے یہ مجموعہ اہمیت کا حامل ہے ،اپنی فکر اور خیال کو انھوں نے فن سے جوڑنے کی پوری کوشش کی ہے، اس کوشش میں آپ موجودہ عہد ،حالات حاضرہ اور سماج کے بنتے بگڑتے معاملات کی چلتی پھرتی تصویریں دیکھ سکتے ہیں۔انھیں زبان و بیان پہ خاصی قدرت حاصل ہے ۔اپنے شعری ڈکشن اور لفظیات میں اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی کے لئے انھوں نے آسان عام فہم زبان اور چھوٹی چھوٹی بحروں کا انتخاب کیا ہے۔مثال کے طور پر کچھ اشعار ملاحظہ ہوں :
جلانا پھر بجھانا چاہتا ہے
بہانے کیا زمانہ چاہتا ہے
جلاکر ایک اک نخل تمنا
تحمل آزمانا چاہتا ہے
بھیانک رات میں ویراں دریچہ
نیا منظر بسانا چاہتا ہے
یہ دور عجب دور ہے ہر گام ہے خطرہ
لمحات لئے ہاتھ میں تلوار ملیں گے
کیوں جامۂ انسان میں ہے بوئے شرافت
کیچڑ سے ملوث سبھی کردار ملیں گے
پتھر کے بھی سینے میں نہاں برق و شرر ہیں
چھیڑو نہ انھیں یہ بھی شرر بار ملیں گے
جنوںؔ اشرفی کی شاعری میں عصری مسائل ،دور حاضر کے تقاضے ،بدلتی رتوں کے احساسات ،تیزی سے پل پل بدلتی اور انسانی عقل کو متحیر کر دینے والی دنیا کے تمام رموز و علائم اپنی آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔انھوں نے اپنی شاعری میں وقت کی کربناکیوں کو شعر کے قالب میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔جنوںؔ اشرفی کے کلام میں انسانی فطرت اور بشر کی طبیعت کی عکاسی کچھ اس طرح کی گئی ہے :
اب لوگ یہاں بر سر پیکار ملیں گے
خود آپ ہی ماحول سے بیزار ملیں گے
ہر سمت سسکتے ہوئے افکار ملیں گے
اخلاق سے گرتے ہوئے معیار ملیں گے
اے میری انا جاگ کہ جنگل ہے گھنیرا
حیوان یہاں چار سو خونخوار ملیں گے
سسکتی ہی رہی ہے ہر قدم پر آدمیت اب
اٹھی جاتی ہے گویا دارفانی سے شرافت اب
خدا جانے کہاں لے جائے گی مجھکو یہ وحشت اب
کسی عنواں نہیں لگتی ہے گلشن میں طبیعت اب
شکایت کیا کروں کس سے کروں حر ماں نصیبی کی
جدھر جاتا ہوں ہوتی ہے ادھر ہی میری ذلت اب
دنیا کی حقیقت اور اس کی بے ثباتی کا ذکر وہ کچھ اس طرح کرتے ہوئے نظر آتے ہیں :
چمن میں لالہ و گل کیا نہ اک غنچہ دہن اپنا
مگر کہنے کی باتیں ہیں کہ ہے سارا چمن اپنا
نہ جانے کس گھڑی ڈس لے شب غم کی یہ تاریکی
تعاقب میں تو بیٹھی ہے اٹھائے کب سے پھن اپنا
بہت ملتے ہیں تیرے شہر میں اب اجنبی چہرے
مگر ملتا نہیں ہے شہر میں اک ہم وطن اپنا
شاعر یوں تو نازک مزاج اور لطیف فکر و احساس کے حامل ہوا کرتے ہیں مگر یہ وصف جنوںؔ اشرفی کے یہاں کچھ زیادہ ہی ہے ،اس لئے ان کے یہاں نازک و لطیف پیرائے میں کہے گئے محبت آمیز اشعار بھی وافر تعداد میں نظر آتے ہیں۔مثلاً :
ہر رات کے آنچل میں حسیں صبح ڈھلے ہے
حسرت مری ایسی ہے کہ دن رات جلے ہے
روشن ہے محبت کا تو غمخانہ اسی سے
سینے میں تری یاد کا جو دیپ جلے ہے
اس طرح دکھائے گی سحر مجھ کو نظارا
جیسے کوئی دوشیزہ گلستاں میں چلے ہے
ماضی کے دریچے سے جب یاد تری آئی
کچھ دل کو ملی راحت کچھ غم کی گھٹا چھائی
یکجا نہ کہیں تجھکو میں نے تو کبھی دیکھا
کیسی ہے تری فطرت کیسی ہے تو ہر جائی
کیا رنج ہو کیا راحت ،ہے دخل مشیت کو
پرنم ہوئی آنکھیں بھی جب لب پہ ہنسی آئی
کوئی بھی فنکار جب اپنے فن کو منظر عام پر لانا چاہتا ہے تو اس کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام و خواص میں اپنی ایک شناخت قائم کر لے۔اس کے لئے فنکار مسلسل غور و فکر کے عمل سے گزرتا ہے۔جنوںؔ اشرفی بھی اس عمل سے گزر کر اپنے تجربات کا حاصل عام قارئین کے سامنے پیش کردیا ہے۔جنوںؔ اشرفی ایک پارسا انسان رہے ہیں مگر خیال و خواب کے بتوں سے انھوں نے کبھی بھی صرف نظر نہیں کیا ۔ ان کی شاعری ان کی ذہنی زندگی کی متحرک تصویروں کا نگار خانہ معلوم ہوتی ہے۔ ان کی شاعری میں نئی فکر،نئے تجربے اور نئے تجزیے کے گونا گوں نمونے ملتے ہیں۔
غزل کے علاوہ اس شعری مجموعے میں جنوںؔ اشرفی کی دو نظمیںبعنوان’’ تاثرات‘‘ اور’’مادر ہند تیری قسم‘‘ بھی شامل ہے۔ آج کی زندگی کے سرد و گرم اور تلخ و شیریں لمحوں کو گرفت میں لے کر شعری پیکر میں ڈھالنے کا ہنر جانتے ہیں۔’’ تاثرات‘‘ کے عنوان سے شامل نظم کا یہ بند ملاحظہ کریں :
ارزاں ہے ہر طرف یہاں انسان کا لہو
پھیلی ہے کو بکو یہاں حیوانیت کی بو
انسان کھو چکا ہے اب انسانیت کی خو
شادابی ٔ چمن کی ہے انساں کو جستجو
یارب نفس نفس ہے پریشان اب یہاں
دام ستم میں آگیا انسان اب یہاں
یہ کتاب اپنے اشعار کی خوبیوں اور غزلیات کی افادیت کی بنا پر اردو کے شعری اثاثے میں گرانقدر اضافہ ہے۔کتاب کا حسن ترتیب ،کمپوزنگ کی عمدہ سیٹنگ ،معیاری کاغذ ،دلکش ٹائٹل ،پختہ بائنڈنگ،بہترین طباعت جہاں جمالیاتی اعتبار سے دیکھنے والوں کو متاثر کرتی ہیں ،وہیں کلام کی خوبیاں قاری کے دل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔امید ہے کہ یہ کتاب اردو کے ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی اور با ذوق قارئین سے داد و تحسین حاصل کرے گی۔
سن اشاعت : 2019
ضخامت : 160 صفحات
قیمت : 300 روپے
ملنے کا پتہ : مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، اردو بازار، دہلی
تبصرہ نگار: ڈاکٹر داؤد احمد
اسسٹنٹ پرو فیسرشعبۂ اردو،
فخر الدین علی احمد گورنمنٹ پی جی کالج،محمودآباد،سیتاپور (یو۔پی)
Email: daudahmad786.gdc@gmail.com
Mob. 8423961475

