عصمت چغتائی: کھلے پنکھ والی افسانہ نگار – ڈاکٹرپرویز شہریار

by adbimiras
4 comments

عصمت چغتائی اپنے دور کی انتہائی ہنگامہ خیز افسانہ نگار رہی ہیں۔ ان کی سفاک حقیقت نگاری بالخصوص چہار دیواری کے اندر کی پردہ نشیں خواتین کی حیاتِ روز مرہ کی حقیقت بیانی سے عصمت نے اپنے قارئین کو ایک دم سے چونکا کے رکھ دیا تھا۔ یہ حقیقت نگاری اتنی تیز اور آنکھوں کو خیرہ کردینے والی تھی کہ ابتدا میں لوگوں کو غلط فہمی ہوئی کہ کوئی مرد ہے جو عورت کے نام سے عورتوں کے محرم مسائل پر ایسے فاش طریقے سے اور اتنے کھلم کھلے انداز میں لکھ رہا ہے۔ بعد میں قرہ العین حیدر ان کے اسی وصف کی وجہ سے انہیں لیڈی چنگیزخان کہا کرتی تھیں۔

بہرکیف، عصمت نے بہت جلدی ہی ادبی حلقوں میں اپنی ورود کا شدید احساس دلادیا تھا۔ انہوں نے عورتوں کے حالات ِزندگی، علی الخصوص متوسط طبقے کی پردہ نشیں مسلم خواتین کے حالات زندگی کے سبھی پہلوؤں پر افسانے لکھے ہیں۔ ان کی بے بسی، جہالت، لاچاری، بیماری، نفسیاتی اور جنسی مسائل پر کھل کر لکھا اور ان کا ماننا تھا کہ مرض کو چھپانے کے بجائے اس کا بروقت علاج ضروری ہے۔ اس نظریے کے تحت انھوں نے اپنے اردگرد کے ماحول میں جو بھی دیکھا اسے اپنے تخیل کی بنیاد پر بڑی فنکارانہ چابکدستی کے ساتھ مِن وعن سپرد قلم کردیا۔انھوں نے اپنے افسانے کے آرٹ کو فوٹوگرافی سے تشبیہہ دی ہے۔میرے خیال سے، وہ ایک آزاد پرندہ تھیں، ان کے پروں کو کترنے کی کوئی جرأت بھی نہیں کر سکتا تھا، انھوں نے معاشرتی جکڑبندیوں اور تہذیب کے فرسودہ بندھنوں کو خود اپنے شعورو ادراک کے ناخنوں سے کھولا تھا۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ وہ صحیح معنوں میں ایک کھلے پنکھ والی افسانہ نگار تھیں۔

سید احتشام حسین نے لکھا تھا کہ عصمت چغتائی موجودہ دور کی سب سے مقبول خاتون ادیب ہیں۔ اپنی پہلی ہی دوتین کہانیوں میں انہوں نے پڑھنے والوں کو چونکادیا اور سب نے اسے مان لیا کہ ادبی میدان میں ایک نئے فنکار کا ورود ہوا ہے، جس کے پاس کہنے کو کچھ نئی باتیں ہیں اور وہ انہیں دلچسپ طریقے سے پیش کرسکتا ہے۔ دراصل، عصمت نے جنسی حقیقت نگاری کو اپنا وسیلہ اظہار بنایا تھا اور گھریلو زندگی ان کا میدان تھا ۔یہی وجہ ہے کہ ادبی حلقوں میں عورتیں انہیں ’گھر کا بھیدی‘ کہا کرتی تھیں۔ (یہ بھی پڑھیں عنوان چشتی کا زاویۂ تنقید – پروفیسر کوثر مظہری )

پروفیسر آل احمد سرور نے عصمت چغتائی کا ذکر کرشن چندر کے بعد کیا ہے اور لکھا ہے کہ ’’چوٹیں‘‘ اور ’’ایک بات‘‘ اردو کے افسانوی ادب میں قابل قدر اضافہ کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان کی افسانہ نگاری کا تذکرہ کرتے ہوئے آل احمد سرور نے قدرے تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور وہ لکھتے ہیں کہ

’’عصمت نے ہندوستان کے متوسط طبقے اور مسلمانوں کے شریف خاندانوں کی بھول بھلیاں کو جس جرأت اور بے باکی سے بے نقاب کیا ہے۔ ان میں کوئی ان کا شریک نہیں۔ وہ ایک باغی ذہن، ایک شوخ عورت کی طاقت لسانی، ایک فنکار کی بے لاگ اور بے رحم نظر رکھتی ہے… انہوں نے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں، بوڑھی عورتوں، زن مرید شوہروں، جلتی بیویوں کی بڑی کامیاب مصوری کی ہے۔ ان کے یہاں ڈرامائی کیفیت، قصہ پن، کردار نگاری، مکالموں کی نفاست اور خوبصورتی نمایاں ہیں۔ مگر انہوں نے جو گھریلو بامحاورہ جاندار اور رچی ہوئی زبان استعمال کی ہے اس کی جدید افسانوی ادب میں کوئی اور نظیر نہیں… عصمت کے اسلوب میں ایک ایسا زور اور جوش ہے جو پڑھنے والے کو متاثر کئے بغیر نہیں رہتا۔ ان کی جگہ ہمارے افسانوی ادب میں محفوظ ہے۔‘‘

(اردو میں افسانہ نگاری، تنقیدی اشارے، ص:36 )

اکثر نقادوں نے عصمت چغتائی کی افسانہ نگاری کو بیش بہا اضافہ تسلیم کیا ہے۔ عصمت نے فرائد اور یونگ سے متاثر ہوکر جنسی حقیقت نگاری پر اپنی توجہ مرکوز کی۔ اس کے علاوہ ان کا اپنا منفرد اسلوب اور عورتوں کی محاوراتی زبان نے بہت جلد ہی انہیں اردو کے افسانوی ادب میں منفرد اور ممتاز مقام پر لاکھڑا کیا۔ رشید جہاں کے بعد عورتوں کی معاشرتی اور بالخصوص خانگی زندگی کا یہ پہلو اچھوتا رہ گیا تھا لیکن عصمت چغتائی نے ان موضوعات پر کثرت سے افسانے لکھے اور اس بات کا احساس دلایا کہ عورتوں پر مشتمل ہماری نصف آبادی کے کیا مسائل ہیں اور سیاسی، سماجی اور مذہبی ٹھیکیداروں کے دوہرے معیار زندگی اور مذہبی ریاکاری نے انہیں اپنے شکنجوں میں کس طرح جکڑ رکھا ہے جہاں ان کی محبوس اور گھٹن بھری زندگی کسمپرسی کی حالت زار سے دوچار اور برسرپیکار رہتی ہے۔ پروفیسر سید احتشام حسین نے عصمت کے اسلوب کی امتیازی اوصاف پر روشنی ڈالتے ہوئے قدرے صراحت سے لکھا ہے کہ

’’عصمت متوسط طبقے کے مسلمان گھرانوں کی زندگی کی اتنی واقفیت رکھتی ہیں کہ ان کے افسانے پڑھ کر اس طبقے کے خاندانوں کی اخلاقی، معاشی اور ذہنی زندگی آنکھوں کے سامنے ہے۔ ان کے قلم میں جادو اور ان کے اسلوب میں عجب طاقت ہے۔ اپنی ابتدائی کہانیوں میں کبھی کبھی انہوں نے بھی جنسیاتی زندگی کی مصوری کرتے ہوئے فحش نگاری کے سامنے سرجھکادیا ہے مگر ان کی حقیقت پسندی ان کی فحش نگاری پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ عورتوں کی بول چال، ان کا رہن سہن، ان کی خواہشوں اور تمناؤں کی عکاسی عصمت سے اچھا کوئی نہیں کرسکتا۔ ان کی بے خوفی حیرت انگیز ہے۔ مگر وہ اس سے سماج کے نیتاؤں اور ٹھیکیداروں کو چوٹ پہنچانے کا کام لیتی ہیں۔ وہ اول درجہ کی فنکار ہیں اور جو بھی ان کی کہانیاں پڑھے گا وہ ان کی ترقی پسندی اور انسان دوستی کو سراہے بغیر نہیں رہ سکے گا۔‘‘

(نثر کے نئے روپ، اردو ادب کی تنقیدی تاریخ، ص: 304 )

عصمت چغتائی کی بے باک حقیقت نگاری اور سفاک جراحی سے ان کے ابتدائی دور میں بعض نقادوں کو بدظنی بھی ہوئی۔ تاہم ان کے بعد کے افسانوں میں انسان دوستی اور معاشرتی اصلاحی قدروں کے پیش نظر انہیں ترقی پسند افسانہ نگار تسلیم کرلیا گیا ورنہ ان کے باغیانہ رویے اور آزاد خیالی کی وجہ سے انہیں بے راہ روی کا شکار تصور کیا جاتا تھا۔ پروفیسر محمد حسن اس پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ:

’’عصمت چغتائی جنسی زندگی کی بے راہ روی اور جنس لطیف کی پسماندگی کے خلاف احتجاج کے راستے سے ترقی پسندی تک پہنچیں۔ جنسی بے راہ روی کی یہ عکاسی سماجی بندشوں سے بغاوت اور آزاد خیالی کی خلش تھی لیکن دھیرے دھیرے یہ خلش اس تلاش میں تبدیل ہونے لگی کہ آخر انسانی شخصیت پرنت نئی بندیشں عاید کرنے والی اور آزاد خیالی پر قدغن لگانے والی طاقتیں کون سی ہیں؟ اور اسی راہ سے عصمت کو ترقی پسند تصورات تک رسائی حاصل ہوئی۔ عصمت نے انقلابی گھن گرج کو نہیں اپنایا مگر نچلے متوسط طبقے کے مسلم گھرانوں کی عورتوں کی گھٹی گھٹی کراہ کی خوبصورت عکاسی ان کے افسانوں میں ہوئی ہے اور یہ ترقی پسند افسانے کی نئی جہت تھی۔‘‘   (ترقی پسند افسانہ، اردو کا افسانوی ادب، بہار اردو اکادمی، سن اشاعت 1987 ، ص:36)

عصمت چغتائی کے یہاں سماجی معنویت اور اجتماعی بصیرت دونوں بدرجہ احسن موجود ہے۔انھیں پردہ نشیں عورتوں کی محاوراتی زبان پر دسترس حاصل تھا۔ قلم پر ان کی گرفت غیر معمولی طور پر مضبوط تھی۔ وہ اپنے موضوع سے ایک انسانی ہمدردی رکھتی ہیں۔ انہوں نے اپنے کرداروں کے ذریعہ اپنے گرد و پیش کی دنیا میں جو تعفن اور گندگی چھپائی جاتی تھی اسے یکلخت طشت ازبام کردیا جس کی وجہ سے ان کمزوریوں کا ازالہ ممکن ہوسکا۔ وہ اس نوع کی کمزوریاں طبقۂ نسواں میں زیادہ محسوس کررہی تھیں یہی سبب ہے کہ انہوں نے عورتوں کے موضوعات کو اپنے فن کا ہدف بنایا ہے۔

پروفیسر وہاب اشرفی نے اپنے مضمون ’’اردو افسانے–کل اور آج‘‘ میں عصمت کے فن کے محاسن کاتذکرہ کرتے ہوئے بجا طور پرلکھا ہے کہ

’’انداز بیان کے زور اور سماجی معنویت کی افسانہ نگار عصمت چغتائی سے کون واقف نہیں۔یہ گھر کی بھیدی ہیں اس لیے عورتوں کے اسرار ورموز سے پردہ اٹھانے میں بڑی چابک دستی دکھاتی ہیں… عصمت اڑوس پڑوس کے گھروں کے روزن میں جھانکنے تاکنے میں مصروف نظر آتی ہیں۔ عصمت کا فن سماج کی گندگی اور اس کا تعفن دکھانے کا فن ہے… عصمت کی مقصدیت ان کے فن پر اکثر غالب آجاتی ہے۔ ’لحاف‘ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں لیکن ان کا سخت گیر نقاد بھی ان کی زبان کے جادو اور ان کے طنز کی کاٹ کا منکر نہیں ہوسکتا۔ پھر اپنے موضوع سے ایک عام ہمدردی کا جذبہ جو ان کے یہاں پایا جاتا ہے اس کی مثال بھی کم ملتی ہے۔‘‘

(اردو کا افسانوی ادب، بہار اردو اکادمی، ص:92 )

عصمت چغتائی کے افکار ونظریات پررشیدجہاں کے اسلوب کے اثرات بہت گہرے تھے۔ 1938میں جب عصمت کی ملاقات رشید جہاں سے ہوئی تو ان کی کرشمائی شخصیت کا ایسا اثر ہوا کہ عصمت کے ہاتھ کے طوطے اڑگئے۔ انہیں محسوس ہوا جیسے مٹی سے بنی رشیدہ آپا کی شخصیت نے عصمت کے سنگ مرمر کے خیالستان کو پاش پاش کرکے رکھ دیا۔ اس کے بعد ہی سے ان کا قلب ماہیئت شروع ہوگیا۔ ان کے بندھے پنکھ کھل گئے اور قلم کی پرواز میں تیزی اور مشاہدات میں باریک بینی اتر آئی۔ اس کے بعد عصمت نے افسانہ نگاری میں جو گردوپیش کے ماحول کے ایک کے بعد ایک تجربے پیش کیے وہ مرد غلبہ سماج کی ریاکاری اور دہرے معیار زندگی کے ہوش اڑانے کا سامان ایک کے بعد دیگرے فراہم کرتے چلے گئے۔ رشید جہاں سے ملاقات کا کایا پلٹ کر دینے والا واقعہ خود عصمت کے الفاظ میں یہاں قارئین کی دلچسپی کے لیے منقول کیا جاتا ہے، آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:

’’زندگی کے اس دور میں مجھے ایک طوفانی ہستی سے ملنے کا موقع ملا جس کے وجود نے مجھے ہلاکر رکھ دیا۔ روشن آنکھوں اور مسکراتے شگفتہ چہرے والی رشیدہ آپا سے کون ایسا تھا کہ ایک دفعہ مل کر بھنانہ جائے… 38ء میں رشیدہ آپ انگاروں والی رشیدہ آپا بن چکی تھیں۔ اب ان کی سلگتی ہوئی باتیں پلے بھی پڑنے لگی تھیں اور پھر میرا وہ حسین ڈاکٹر ہیرو، شمعی انگلیاں، نارنگی کے شگوفے اور قرمزی لبادے چھو ہوگئے۔ مٹی سے بنی رشیدہ آپا نے سنگ مرمر کے سارے بت منہدم کردیے۔‘‘  (محولہ نئے افسانے کی گمشدہ جہت، علی احمد فاطمی، نیا افسانہ :مسائل اور میلانات، پروفیسر قمر رئیس، ص: 110 )

پروفیسر علی احمد فاطمی خواتین افسانہ نگاروں کے موضوعات کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

’’رشیدجہاں اور عصمت نے جو کچھ لکھا ہے وہ اس سے قبل کیا بعد کی خواتین بھی اس انداز سے لکھنے کی ہمت نہ کرسکیں۔ یہ دونوں ہی تحریک نسواں اور ترقی پسند تحریک سے وابستہ اور متاثر تھیں۔‘‘ انہوں نے ’’لحاف‘‘ میں مرد کی بے حسی کی طرف بھی توجہ اور فکر کی بات کہی ہے۔ آگے لکھتے ہیں–’عصمت کا پطرس کے لفظوں میں حوصلۂ مشاہدہ، دقت نظر اور جرأت بیان جس کی وجہ سے وہ گھر کے اندر کا ہی ماحول نہیں بلکہ لحاف کے اندر کا ماحول بھی پیش کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں محسوس کرتیں۔‘ قابل داد ہے۔‘‘

عصمت چغتائی کی اہمیت اور مقبولیت نے سید محمد عقیل جیسے ترقی پسند تنقیدنگار سے دادوتحسین حاصل کی ہے۔ وہ ان کی مقبولیت کے عوامل وعواقب میں ان کے فن پر گرفت، ان کی محاوراتی زبان اور حقیقت پر مبنی کردار کو مانتے ہیں لیکن وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ عورت کی معصومیت، شرم ولحاظ، کج فہمی اور پردہ نشینی عصمت کے افسانے میں مٹی کے گھرندوں کی طرح ٹوٹتے بکھرتے نظرآتے ہیں۔ حتیٰ کہ عصمت نہاں خانوں میں بھی قدم رکھتی نظر آتی ہے جو اس کے لیے شجرممنوعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ سید محمد عقیل نے عصمت کے شاہکار افسانہ ’’لحاف‘‘ کی معرکۃ الآرا کردار بیگم جان سے متعلق اظہارِ خیال ان الفاظ میں کیا ہے:

’’بیگم جان کی حرکتیں جو لحاف میں دکھائی گئی ہیں اسے ہم سرجری نہیں کہہ سکتے اور نہ کسی ادب عالیہ میں ایسی تصویروں کو جگہ مل سکتی ہے۔ افسانے یا ناول کا جہاں ایسا رخ ہوکہ اس سے تنفر کے بجائے خام شعور کے نوجوانوں کو ارتکاب جرم کا شوق پیدا ہو، وہ کسی طرح مفید نہیں ہوسکتا۔‘‘  (عصمت اور ان کے افسانے، اردو افسانے کی نئی تنقید، ص:275 )

لیکن پروفیسر سیدمحمد عقیل کے برخلاف پروفیسر آل احمد سرورنے ’’لحاف‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے اسے اردو ادب کے اچھے افسانوں میں شمار کیا ہے اور اس کے محاسن بیان کرتے ہوئے اپنے خیال کا اظہار ان الفاظ کے ذریعے کیا ہے:

’’عصمت نے ہندوستان کے متوسط طبقے اور مسلمانوں کے شریف خاندانوں کی بھول بھلیاں کو جس جرأت اور بے باکی سے بے نقاب کیا ہے ان میں کوئی ان کا شریک نہیں۔ وہ ایک باغی کا ذہن، ایک شوخ عورت کی طاقت لسانی، ایک فنکار کی بے لاگ اور بے رحم نظر رکھتی ہیں۔ وہ عورت ہیں مگر اس سے زیادہ ایک فنکار ہیں۔ ان کا ’لحاف‘ جو ادبی حلقوں میں بہت بدنام ہوا۔ اردو کے بڑے اچھے افسانوں میں سے ہے۔ اسے جو عریاں کہے اسے زندگی کو عریاں کہنا چاہیے۔‘‘

(اردو میں افسانہ نگاری، تنقیدی اشارے،ص :36 )

’’لحاف‘‘ اردو ادب کی تاریخ میں ایک ایسا متنازعہ فیہ افسانہ رہا ہے جس کی حمایت اور مخالفت میں رائے قائم کرنے والوں کی اپنی اپنی دلیلیں رہی ہیں۔ عزیز احمد، سردار جعفری، خلیل الرحمن اعظمی اور پطرس بخاری جیسے ذہین اور دوراندیش نقادوں نے بھی اسے مخرب الاخلاق اور گمراہ کن افسانے کے طور پر لیا اور انہیں خوف تھا کہ اس سے ترقی پسند ادب کو بھی مطعون قرار دیا جائے گا۔ لہٰذا عصمت کا یہ افسانہ ترقی پسند ادب کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ لیکن امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ اس کی مقبولیت میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ اس پر چلائے گئے مقدمے تضیع اوقات ثابت ہوئے۔ آج اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ساہتیہ اکادمی کے گولڈن جوبلی تقریب کے موقع پر بہت ہی کامیاب ڈرامے اسٹیج کیے گئے اور بیگم جان کے کردار کو جوشہرت ملی وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی معنویت آج بھی ماند نہیں پڑی ہے۔

پروفیسر صادق نے عصمت چغتائی کو رشید جہاں کا اصل پیروکار ٹھہرایاہے اور اس کی حمایت میں اپنا اظہارِ خیال ان الفاظ میں پیش کیا ہے :

’’عصمت چغتائی اس لحاظ سے رشیدجہاں کی پیروکار کہی جاسکتی ہیں کیونکہ انہوں نے بھی شمالی ہندوستان کے متوسط طبقے کے مسلمان گھرانوں کی زندگی کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ فرسودہ رسم ورواج اور اخلاقی اقدار کی کھل کر مخالفت کی اور اپنی تخلیقات میں عورتوں کے مسائل خصوصیت کے ساتھ پیش کیے۔‘‘   (نمائندہ ترقی پسند افسانہ نگار، ترقی پسند تحریک اور اردو افسانہ، ص:161 )

ترقی پسند افسانے کی توسیع اور تجدید میں عصمت کے موضوعات، اسلوب اور زبان وبیان نے ناقابل فراموش رول ادا کیا ہے۔ مرد غلبہ والے سماج میں عورت کو جس طرح سے نظرانداز کیاجاتا ہے۔ اس کی عصمت نے اپنے مختلف افسانوں میں خوب خبر لی ہے اور بلکہ اپنے شاہکار افسانہ ’’چوتھی کا جوڑا‘‘ میں انھوں نے بہت ہی تیز وترش لہجے اور  اپنے پر جوش اسلوب کے ساتھ تمام فنی لوازم کو غایت درجہ ذہانت اور ہنرمندی سے بروئے کار لاکر مردوں کی بے حسی کو بڑے سفاکانہ ڈھنگ سے بے نقاب کیا ہے۔ ’’چوتھی کا جوڑا‘‘ سے ماخوز چند سطور پر مشتمل یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

’’میراجی چاہا اس کا منہ نوچ لوں کمینے مٹی کے تودے۔ یہ سویٹر ان ہاتھوں نے بنا ہے جو جیتے جاگتے غلام ہیں۔ اس کے ایک ایک پھندے میں کسی نصیبوں جلی کے ارمانوں کی گرد نیں پھنسی ہوئی ہیں۔ یہ ان ہاتھوں کا بنا ہوا ہے جو پنگوڑے جُھلانے کو پیدا ہوئے تھے… ان کو تھام لوگدھے کہیں کے۔ یہ ہاتھ صبح سے شام تک سلائی کرتے ہیں، صابن اور سوڈے میں ڈبکیاں لگاتے ہیں، چولہے کی آنچ سہتے ہیں، تمہاری غلاظتیں دھوتے ہیں تاکہ تم اجلے چٹے بگلا بھگتی کا ڈھونگ رچائے رہو۔ محنت نے ان میں زخم ڈال دیے… انہیں کبھی کسی نے پیار سے نہیں تھاما۔‘‘         (چوتھی کا جوڑا)

دراصل، عصمت نے پہلی بار عورت کے مسائل کو احساس کی شدت کے ساتھ عورت ہی کے زاویۂ نگاہ سے پیش کیا تھا۔ انہوں نے متوسط طبقے کی پردہ نشیں مسلم خواتین کی تہذیبی اور گھریلو زندگی کے بعض موالغات کو اپنا موضوع بنایا، جس میں عورت کی شخصیت کا خمیر تیار ہوتا ہے۔ عنفوانِ شاب کے منازل سے گزرتی ہوئی لڑکیوں کے نفسیاتی پیچ وخم اور جنسی پیچیدگیوں کی ماہرانہ واقفیت کو انہوں نے پوری بے باکی اور دیانت داری کے ساتھ فن کا اعتبار بخشا ہے۔ مولانا صلاح الدین کی رائے آج بھی حق بجانب معلوم ہوتی ہے۔ ان کی تحریر سے ماخوزیہ عبارت ملاحظہ ہو:

’’یہ ہمارے ادب کی خوش قسمتی ہے کہ اسے صنف نازک میں سے ایک ایسی لکھنے والی میسر آئی جس نے نہ صرف اس روایتی بناوٹ، تکلف اور خوف کو یکسر دور کردیا جس نے اس طبقے کی روح کو دبا رکھا تھا بلکہ اپنی ظرف نگاہی اور حق پرستی سے ہمیں انسانی فطرت کی ان نازک اور لطیف ترین کیفیتوں سے آشنا ہونے میں مدد دی جن تک تیز سے تیز مرد صاحب قلم کی رسائی محال نظر آتی ہے۔‘‘   (محولہ پروفیسر صادق، نمائنہ ترقی پسند افسانہ نگار، ترقی پسند تحریک اور اردو افسانہ، ص:166)

عصمت چغتائی کے کئی افسانوی مجموعے، ڈرامے، خاکے اور ناول منظرعام پر آئے اور ان سے نہ صرف یہ کہ افسانوی ادب کا دامن کشادہ ہوا  بلکہ انھوں نے اردو کے قارئین اور ناقدین کو بھی سوتے سے جھنجھوڑ کے جگا دیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عصمت چغتائی صفِ اول کی فکشن نگار تھیں، البتہ ان کو سب سے زیادہ شہرت ان کے افسانوں سے ہی ملی۔لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ عصمت کے نمائندہ افسانوں میں ’’چوتھی کا جوڑا‘‘، ’’جڑیں‘‘، ’’ننھی کی نانی‘‘،’’بچھو پھوپھی‘‘، ’’لحاف‘‘، ’’ڈائن‘‘، ’’ساس‘‘، ’’بھول بھلیاں‘‘، ’’چھوئی موئی‘‘، ’’دوہاتھ‘‘، ’’گیندا‘‘، ’’کافر‘‘، ’’تل‘‘، ’’سونے کا انڈا‘‘ اور ’’پنکچر‘‘ وغیرہ ایسے افسانے ہیں، جنہیں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اورامتداد ِ زمانہ کے ساتھ بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔

ہر چند کہ عصمت کے افسانوں کے بین السطور میں موجود تانیثیت کی گونج کو محسوس کیا جا سکتا ہے، پھر بھی انھیں تانیثی تحریک کی علمبرداری کا کبھی زعم نہیں رہا۔البتہ وہ آزادی ٔ نسواں کی ابتدا سے ہی قائل تھیں۔وہ عورتوں کو غلام گردش سے باہر کھلی فضا میں پرواز کرتا ہوا دیکھنے کی ہمیشہ سے متمنی تھیں۔انھوں نے اس ضمن میں فرسودہ اور دقیانوسی روایات کے بے شمار بتوں کو شکست و ریخت کر کے زمیں بوس کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ہماری ماڈرن سوسائٹی میں انھیں iconoclast کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔وہ مذہبی ریا کاری کے خلاف تمام عمر آمادۂ پیکار رہیں۔ فرسودہ رسوم اور توہم پرستی کے خلاف بھی کمر بستہ رہیں۔

آخر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب تک ہمارے معاشرے سے جنسی استحصال اور صنفی تعصب کا خاتمہ نہیں ہوجاتا،تب تک ان کے افسانے کی معنویت بھی بر قرار رہے گی اوران کا بیباک اور سفاک اسلوب ہمیں اپنی طرف متوجہ بھی کرتا رہے گا۔

٭٭

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

You may also like

4 comments

Perwaiz Shaharyar اپریل 10, 2021 - 4:37 شام

ایڈمن کا تہہ دِل سے ممنون ہوں۔ سلامت رہیے شاداں و فرحاں رہیے۔a

Reply
Perwaiz Shaharyar اپریل 10, 2021 - 4:37 شام

ایڈمن کا تہہ دِل سے ممنون ہوں۔ سلامت رہیے شاداں و فرحاں رہیے۔

Reply
adbimiras اپریل 10, 2021 - 6:39 شام

شکریہ سر۔۔۔۔

Reply
نجمہ منصور اپریل 10, 2021 - 4:43 شام

بہت خوب زبردست پیشکش
بہت عمدہ مضمون ہے بھرپور اور مفصل

Reply

Leave a Comment