میرا جی کے گیتوں کارنگِ امتیاز – شبانہ پروین

by adbimiras
0 comment

اردو کی قدیم اصناف شاعری میں گیت انفرادیت کا حامل ہے۔ یہ وہ صنف سخن ہے جس میں موسیقی کو اساسی اہمیت حاصل ہے۔ اصطلاح میں گیت سے مراد وہ صنف شاعری ہے جس میں عورت کے جذبات و کیفیات کا نفیس اظہار موجود ہو۔ اردو گیتوں میں ہندی کے الفاظ نیز تلمیحات بہ کثرت ملتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کا ماخذ الاصل ہندی گیت ہی ہیں۔ اردو میں صنف گیت کو نمایاں حیثیت عطا کرنے والوں میں مضطر ؔخیرآبادی ، حسرتؔ موہانی، عظمتؔ اللہ خاں، آرزؔو لکھنئوی، حفیظ جالندھری اور میراجیؔ وغیرہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

میراجیؔ جدیدیت کے علمبردار ہیں۔ ان کی انفرادیت کا ضامن ان کا تخلیقی سرمایہ ہے۔ ان کی نظموں کی طرح ان کے گیت بھی ہیئت و اسلوب نیز معنیاتی ابعاد کے لحاظ سے نئی شعری فضا تشکیل کرتے ہیں۔ میراجیؔ کے گیتوں کے مجموعے ’’ میراجی کے گیت‘‘ (1943 ) اور ’’ گیت ہی گیت‘‘ (1944 ) ہیں۔ میراجیؔ کے گیتوں کے موضوعاتی و اسلوبیاتی مطالعہ سے قبل گیت سے متعلق ان کے خیالات ملاحظہ کریں۔ ۔

’’اضافی علم و ادب کے مطالعے سے ظاہر ہے کہ شعر کی اولین صنف گیت ہیں۔ زندگی کی کشمکش کا مقابلہ کرنے کے لئے اور اس مقابلے میں پنپنے کے بعد فراغت کی کیفیت سے مست ہونے کے لئے ابتدائی اکیلے انسان کو سنگت کی ضرورت تھی اور تنہائی کے لمحوں میں اس کی اپنی آواز اس کا ساتھ دیتی تھی، غاروں میں رات کی تنہائی کو دلآویز بناتی تھی، جنگل میں شکار کے وقت ڈر کو مٹاتی تھی اور ایک دکھائی نہ دینے والا سہارا بن کر لمبے سفر کی تکان دور کرتی تھی۔‘‘

(میراجی، میراجی کے گیت، مکتبہ اردو لاہور،1943 ،ص۔۹،۱۰)

گویا میراجی کے نزدیک گیت تنہائی کے کر ب کو کم کرنے نیز عارضی طور پر زندگی کے پیچ و خم سے فرار حاصل کرنے اور رومانی مسرت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

گیت کے روایتی طرز فکر کے زیر اثر میراجیؔ کے گیتوں میں بھی عورت کی نفسیاتی کیفیات کا عکس نمایاں ہے۔ یوں بھی میراجیؔ کو عورتوں کی نفسیات کا گہرا شعور حاصل تھا۔ انہوں نے اپنے اکثر گیتوں میں ہجر کی کیفیت اور برہاکی اگن کو دلکش پیرائے اظہار عطا کیا ہے۔

برکھا کے لاکھوں ہی تیر دل پر کس کو سہوں میں

چاروں اور جھومے ہریالی

چھائی گگن پہ گھٹا متوالی

چھاجوںبرسے نیر دل کی کس سے کہوں میں

رہ رہ آئیں پون جھکولے

ڈولے ڈولے نیا ڈولے

 

 

ٹھنڈ سے کانپے سریر اب تو چپ نہ رہوں میں

بادل گئے پریم ہنڈولے

دکھ کا بند ھن کوئی نہ کھولے

آجائو رن بیر! دکھڑا تم سے کہوں میں

(میراجی کے گیت )

بھیج بھیج سندیسے اپنے مجھے ستانے والے

جب تیرا سندیسہ آئے برہ اگن بھڑکائے

ساگر نینوں کا سوکھے من کا سوُتا بہہ جائے

بیتے سکھ سب یاد آجائیں دل چٹکی میں مسلیں

بے بس من کچھ کرنہ سکے اور تڑپ تڑپ رہ جائے

دل کو سکھ دینے والے دل کو تڑپانے والے

بھیج بھیج سندیسہ اپنے مجھے ستانے والے

(میراجی کے گیت )

میراجی ؔ نے داخلی احساسات کے ساتھ خارجی واردات کو بھی اپنے گیتوں میں سمویا ہے ۔ موضوعات کی سطح پر میراجیؔ کے گیت متنوع حیثیت کے حامل ہیں۔ ان میں عورتوں کے جذبات و احساسات کے ساتھ ہندوستانی فضا کا دلکش اظہار ملتا ہے۔ ہندوستانی تلمیحات اور موسموں کا ذکر بھی اکثر گیتوں میں ملتا ہے۔ جن میں ایک تحرک آمیز کیفیت موجود ہے جو قاری کے ذہن و دل کو مسرور کرتے ہیں۔ درج ذیل گیت منظر نگاری کا خوبصور ت جادو جگاتا ہے  ؎

کیسے کھلایہ رین جھروکا کسنے کنڈی  ڈالی

پھوٹ بہی آکاش کی گنگا چاند نے صورت دھولی

پھول یہ اوس کی بوندیں دیکھیں

جیسے جیسے جگمگ جگمگ جگنو چمکیں

ایسے لائی رُت دیوی بھر کر اپنی جھولی

قدرت کے حسین منظر کی سحر آفرینی کے ساتھ ساتھ ہندی دیومالا کے اثرات بھی ان کے گیتوں کی جاذبیت کو دوبالا کرتے ہیں۔ میراجی کو ہندو دھرم سے گہری نسبت رہی ہے۔ ان کی شاعری کے ایک بڑے حصے پرہندوستانی تہذیب کا عکس صاف جھلکتا ہے۔ ان کے گیتوں میں رادھا اور شام کی ادھوری محبت کی کیفیات کا بیان بھی ملتا ہے اور جمنا تٹ کی مدھرتان بھی سنائی دیتی ہے۔ ان گیتوں میں ہندو دیوتائوں سے عقیدت کے متعدد نظار ے موجود ہیَ ان کے ایک گیت میں ہندومذہب کی دیوی ’’ستیلا‘‘سے والہانہ عقیدت کا پہلو ملاحظہ کریں   ؎

جئے ستیل جئے ستیلا

تیرے درشن ہیں دکھ بھنجن            سکھ ہے تیری دیا کے کارن

جئے ستیل جئے ستیلا

تیرے درشن کو ہم آئے                دل میں پھول بھینٹ کے لائے

جئے ستیل جئے ستیلا

میراجیؔ کے گیت موضوع اور اسلوب دونوں اعتبار سے انفرادی شان رکھتے ہیں۔ ان کے گیتوں میں ہیئت کے نئے تجربے بھی ملتے ہیں اور فکر کا نیا زاویہ بھی۔ انہوں نے الفاظ کے دروبست اور مخصوص علامتوں اور استعاروں کے خوبصورت استعمال سے اپنے گیتوں کو مخصوص پیرایہ عطا کیا ہے  ؎

اندھی دنیا آدھی سادھو، اندھی دنیاآدھی

سوچ سمجھ کر جان لے مورکھ! بیٹھ لگا کے سمادھی

ہاتھ کو ہاتھ نہ سوجھے کسی کاچھایا گھور اندھیر

گیت بھون میں بیٹھے روئیں مل کر سب اپرادھی

پوری بات سنی نہ کسی نے، دل کی دل سے دپوری

گیان گیت کی تان منو ہر کیا پوری کیا آدھی

دھارتی چاند ستاروں سمان سبھی انجان پڑوسی

اپنے پرائے اور جگت کے، ہم نے بھی چپ سادھی

مذکورہ گیت کے مطالعہ سے اس امر کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ میراجیؔ کے گیت صرف جنسی تصور ، حسن پرستی اور مناظر فطرت کا حسین پیکر ہی نہیں بلکہ ان میں ایک سوچتا ہوا ذہن بھی سانس لے رہا ہے۔ میراجیؔ پر اکثر یہ الزم عائد کیا گیا ہے کہ ان کی نظموں اور گیتوں کا نمایاں پہلو جنس ہے۔اس میں دورائے نہیں کہ جنسی ناآسودگی کا بیان ان کے کلام و صف ِ خاص ہے لیکن ان میں لذت کوشی کا جذبہ نہیں بلکہ وہ اسے ایک صحت مندانہ فعال قرار دیتے ہیں۔میراجیؔ کے گیتوں میں عشق کی تپش کے ساتھ ساتھ سماجی شعور اور تہذیبی کشمکش کی لَے بھی موجود ہے۔ ان کے گیتوں کے چند ٹکڑے ملاحظہ کریں جو سماجی شعور کی دلیل پیش کرتے ہیں ہیں   ؎

جی    دہلاتی   آندھی    آئی

سارے جگت میں چھڑی لڑائی

پورب  پچھم   اندھیاری  ہے

کو ن ہے بھائی  کو ن  قصائی

کون ہے بھائی کون قصائی

اس   کی   کیا   پہچان

جیون رن بھومی کے سمان

محولہ بالا گیت اس حقیقت کا انکشاف کرتا ہے کہ میراجیؔ ایک حساس ذہن کے مالک تھے۔ وہ جس دور میں سانس لے رہے تھے وہ سیاسی افراتفری کا زمانہ تھا۔ پہلی عالمی جنگ کے زیر اثر ہر ملک میں انتشار اور ابتری کا ماحول تھا۔ میراجیؔ نے انسانیت سوز نظارے کی جیسی تصویر پیش کی ہے وہ ان کے اجتماعی شعور کی دلیل بھی پیش کرتا ہے۔ میراجیؔ کے گیتوں میں سماجی انتشار کے ساتھ فکر کی زیریں لہریں بھی موجزن ہیں۔ وہ فلسفہ حیات و کائنات کی معنیاتی وحدت کو کچھ اس طرح منکشف کرتے ہیں  ؎

جگ جیون ہے جھوٹی کہانی

جگ میں ہر شئے آنی  جانی

موہ  کا  جال  بچھا  ہے  ایسا

ان مٹ موت کو  پھندہ  جیسا

اس کے دھوکے سے کیسے نکلے

سوچ تھکے  یہ  لاکھوں  گیانی

جگ جیون ہے جھوٹی کہانی

زندگی فانی ہے لیکن اسے گزارنے کے لئے خواہشوں کا زندہ رہنا ضروری ہے۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری جنم لیتی ہے اور موت ہی اس ’موہ‘ کے جال سے نجات کا واحد ذریعہ ہے ۔ میراجیؔ نے زندگی کے فلسفے کی جیسی ترجمانی کی وہ قابلِ غور ہے ۔ ایک اور گیت میں وہ زندگی کو مداری سے تعبیر کرتے ہیں جو اپنے پٹارے سے نا گ نکال کر تماشائیوں کو محظوط کرتا ہے اور پھر پٹارہ بند کردیتا ہے گویا وہ زندگی کو بھی خوشی اور غم کا پٹارہ تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے اس حقیقت کی وضاحت بھی کی ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر ساتھ نبھانے کا دم بھرنے والے بھی برے وقت میں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے انسانی فطرت اور اس کی خود غرضی کو اپنے گیتوں کے توسط سے آئینہ دکھایا ہے  ؎

جیون ایک مداری پیارے کھول رہی ہے پٹاری

کبھی تو دکھ کا ناگ نکالے پل میں اسے چھپالے

کبھی ہنسائے کبھی رجھائے بین بجاکر سب کورجھائے

اس کی ریت انوکھی نیاری، جیون ایک مداری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے دل کہتا تھا مچل کر

رنگ لائیں گے ہم بھی ابل کر

دیکھ لی اب جیون کی بازی

سوچ رہا ہے ہاتھوں کی مل کر

ڈوبی   ناؤ  کو  کو ن   ابھارے                دھیان کی موج میں ایک ہیں سارے

تفکر کا یہ انداز کسی فلسفیانہ ذہن کی پیداوار معلوم ہوتا ہے۔ جو زندگی  کے اسرار و رموز سے گہری واقفیت رکھتا ہو۔ میراجیؔ واقعی جیون کے اس دھوکے کے گیانی ہیں اور کائنات کے کثیر الجہات پہلوئوں سے آشنا بھی۔ ان کے گیت میں سائنسی رجحان کی جھلک بھی ملتی ہے۔ انہوں نے پانی سے بھاپ ، بھاپ سے بادل اور بادل سے پھر بارش ہونے کے عمل یعنیEvaporation کے عمل کوجس عمدگی سے گیت کا قالب عطا کیا ہے یہ میراجیؔ کا ہی اعجاز ہے   ؎

دھارا ساگر میں مل جائے

سورج دھارا کو کلپائے

بادل بن کر پھر سے ابھرے

اُنچے پربت سے ٹکرائے

میراجی ؔ کے گیتوں کی نمایاں خصوصیت اس کی موسیقیت ہے۔ ان کے گیتوں کے مطالعہ سے یہ صاف ظاہر ہے کہ وہ مختلف راگوں او ر تالوں کا گہرا شعور رکھتے تھے۔ ان کے بیشتر گیت ایک خاص راگ میں لکھے گئے ہیں جو قاری کے ذہن کو مسرور کردیتے ہیں۔ میراجی ؔ خود اپنے گیتوں کے متعلق رقمطراز ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

’’کتابی ڈراموں کی طرح یہ گیت کتابی نہیں بلکہ گانے کے لئے ہیں اور اس وجہ سے فن شعر کے  کٹّر پرستاروں کو شاید ان میں بعض باتیں غیر مانوس معلوم ہوں لیکن موسیقی شعر سے کہیں بڑھ کر سخت اصولوں کی پابند ہوتے ہوئے بھی ایک بے ساختہ فن ہے۔‘‘

(میراجی ، میراجی کے گیت، مکتبہ اردو، لاہور، 1943 ، ص۔ 6 )

میراجی ؔ کے گیت سادگی اور سلاست کا عمدہ نمو نہ ہیں۔ انہوں نے ہندی الفاظ کے موزوں استعمال سے اپنے گیتوں میں ایک سماں باندھا ہے نیز خالص ہندوستانی فضا ان کے گیتوں کے تسلسل اور روانی کو مزید توانائی عطا کرتی ہے۔ بول چال کی زبان ، فکر کی ریزہ خیالی کے ساتھ موسیقیت کا دامن تھامے رہنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ میراجیؔ کی شخصیت اور جنس زدگی سے متعلق جتنے بھی مفروضے تیار کئے جائیں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کہ وہ ایک مجتہد فنکار ہیں اور ان کے گیت ، گیت نگاری کی نئی روایت کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment