عنوان چشتی کا زاویۂ تنقید – پروفیسر کوثر مظہری

by adbimiras
1 comment

عنوان چشتی کا نام اردو شعر و ادب میں محتاج تعارف نہیں۔ انہوں نے اس عالم آب و گل میں ہوش سنبھالنے کے بعد زندگی کی اب تک جتنی بہاریں دیکھی ہیں، کم و بیش اسی کے برابر ان کی ادبی و علمی، تصنیفی و تالیفی یاد گاریں ہیں۔ آج بھی ضعیف العمری کے باوجود ہمہ وقت علمی اور تصنیفی کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔

عنوان چشتی کے کارناموں میں شاعری کے علاوہ تحقیق و تنقید کے میدان میں کئی اہم آثار ہیں۔ کچھ لوگوں نے انہیں بنیادی طور پر عروض داں گردانا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ عروض کے نکتوں اور پیچیدگیوں کو وہ اچھی طرح سمجھتے اور سمجھاتے ہیں۔ مگر انہیں صرف عروض کے دائرے میں محصور نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے شاعری کی ہے، خاکے لکھے ہیں، دو ٹوک تبصرے اور بے لاگ تنقیدی و تحقیقی مضامین لکھے ہیں بلکہ میں انہیں بے لاگ اور سلجھی ہوئی تنقیدی وراثت میں اضافہ کرنے والے نقاد کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہوں۔ ان کی تنقید کسی شخصیت یا کسی بڑے منصب سے مرعوب نہیں ہوتی۔ ان کے نظریے اور موقف میں استقامت پائی جاتی ہے۔ مثلاً پروفیسر محمد مجیب کے ڈرامے ’’آزمائش‘‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے جہاں زبان کی سادگی، صفائی اور جذبے کے خلوص کے لیے تعریفی کلمات لکھتے ہیں اور ان کی فنی خوبیوں کی داد دیتے ہیں، وہیں تاریخی پس منظر کی قباحتوں کا ذکر کرتے ہوئے اسے ہدف تنقید بھی بناتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

’’حال کے مسائل سے بیزار ہوکر ماضی کے اندھے غاروں میں معتکف ہونا یقینا بری بات ہے۔ تاریخی ڈرامانگار کو اس بات کی قطعی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ زندہ لوگوں کو ماضی کے پرانے قبرستانوں میں لے جائے اور بجائے عبرت کے وحشت میں مبتلا کرے۔‘‘   (عکس و شخص، ۱۹۶۸ء ص:۲۲)

عنوان چشتی کے اس نظریے سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔ ماضی کے غاروں میں محض تاریکیاں ہی نہیں ہوتیں بلکہ لمعات نور بھی ہوتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو حالیؔ کا مسدس ’’مدو جزر اسلام‘‘ اور علامہ اقبال‘ کی شاعری میں بار بار ماضی کی طرف مراجعت بے مقصد و بے معنی ہوجائے گی۔ دوسری طرف یہ بھی کہ ’’ماضی کو محض ایک ’’تاریک غار‘‘ تصور کرکے مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایسا ہو تو ہمارا سارا کلاسکی ادبی سرمایہ ’’تاریک غار‘‘ کے زمرے میں آئے گا اور ظاہر ہے اس صورتِ حال میں نئی نسل منہ کے بل گرجائے گی کیوں کہ اس کے لیے توانائی وہیں سے آتی ہے۔ دراصل خوبی کی بات یہ ہے کہ عنوان چشتی اپنی تنقید پر مصلحت کوشی کا لبادہ نہیں چڑھاتے۔ تنقید ان کی نظر میں کیا ہے، اس کا اندازہ اس اقتباس سے کیجئے:

’’تنقید ایک فن اور ایک فلسفہ ہے۔ یہ خبر کے ساتھ نظر اور مسرت کے ساتھ بصیرت عطا کرتی ہے۔ تنقید کا ایک سرا تحقیق سے اور دوسرا تخلیق سے جڑا ہوا ہے… اس کے علاوہ تنقید کا مزاج بنیادی طور پر تجزیاتی ہے جو سونے پر سہاگہ کا کام کرتا ہے۔‘‘            (معنویت کی تلاش، ۱۹۸۳ء ص:۷)

عنوان چشتی کسی شعری فن پارے پر تنقید کرتے ہوئے اس کے لسانی، فنی اور عروضی خط و خال پر غور کرتے ہیں۔ پھر اس کی نفسیات اور زمانی و مکانی پس منظر کو زیر بحث لاتے ہیں۔ ان کے نزدیک تنقید ایک آزاد اور خود مکتفی فن ہے۔ عنوان چشتی کی تنقید سخت ہوتی ہے۔ وہ اس امر سے باخبر رہتے ہیں کہ دوران تنقید پیش کردہ اسباب و علل درست ہیں۔ ’’حرف برہنہ‘‘ میں انہوں نے دو نوعیت کے تبصرے لکھے ہیں۔ اس کتاب میں دس بڑے تبصرے ہیں جنہیں تنقیدی مضامین کے خانے میں رکھ سکتے ہیں۔  چودہ مختصر تبصرے ہیں۔ ان تنقیدی تبصروں میں انہوں نے نہ کسی کی بے جا تعریف کی ہے اور نہ کسی کو ہدف ملامت بنایا ہے بلکہ ہر جگہ پرخلوص جرأت مندی دیکھنے کو ملتی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ تنقید تلوار کی دھار پر چلنے کا فن ہے۔ غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ عنوان چشتی اس تلوار کی دھار پر چلنے کا فن جانتے ہیں اور بڑے آرام سے گزر جاتے ہیں۔ اخترالایمان کے مجموعہ کلام سروساماں کے حوالے سے ان کا گراں قدر تبصرہ ۳۳ صفحات پر مشتمل ہے۔  انہوں نے ’’سروساماں‘‘ کی نظموں کے محاسن و معائب پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔ پروفیسر مسعود حسین خان اس مضمون کے بارے میں لکھتے ہیں :

’’اخترالایمان کی شاعری کے بارے میں اس سے بہتر حرف برہنہ اور کہیں مشکل سے ملے گا۔‘‘                                                                                        (فلیپ، حرف برہنہ)

اس مضمون میں شکست ناروا اور حشو زوائد جیسے اسقام کی نشان دہی کی گئی ہے۔ شکست ناروا کے ذیل میں:

ہر ایک شاخ خزاں رسیدہ

کی پھیل کر رہ گئی ہیں بانہیں

سکوں کے دامن میں فکر امرو

زگر پڑی ہے نڈھال ہوکر

یہ غم کی لہریں جو ہر تمنا

سے کھیلتی ہیں مآل ہوکر

(ایک پر تو)

حشو و زواید کے ذیل میں:

میں نے دیکھا ہے سرشاخ پہ ہنگام بہار

(جنگ)

عنوان چشتی کے مطابق یہاں اس مصرع میں ’’پہ‘‘ زائد ہے اگر ’’پہ‘‘ رکھنا ہے تو ’’سر‘‘ بیکار ہے۔

حالاں کہ یہ چھوٹی لغزشیں ہیں مگر ایک بڑے شاعر کے یہاں یہ Blunder کے زمرے میں آسکتی ہیں۔ بشیر بدرؔ کے شعری مجموعے ’’آمد‘‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’جذبات‘‘ انسان کا بہت مقدس اور نجی سرمایہ ہے۔ بشرطیکہ وہ جذباتیت کے زہر سے عاری ہوں۔ منفی اور مریضانہ بھی نہ ہوں… محض جذباتی اور رومانی شاعری کبھی بڑی شاعری نہیں ہوتی۔ بشیر بدر کی شاعری کا المیہ یہ ہے کہ وہ اعلا اخلاقی، روحانی، تہذیبی اور سماجی افکار و اقدار سے یکسر خالی ہے۔ ایسی شاعری میں چٹخارہ تو ہوتا ہے مگر فکر کا عنصر نہیں ہوتا۔ تھوڑی سی لذت تو دے سکتی ہے، مگر بصیرت نہیں۔‘‘                                        (حرف برہنہ، ص: ۴۵)

یہ سچ ہے کہ سطحی شاعری چٹخارہ لے کر پڑھی جاتی ہے مگر اس کے اثرات دیرپا نہیں ہوتے۔ بلکہ اس طرح کے اشعار پڑھ کر مریضانہ فکر جنم لیتی ہے۔ اہل علم اور اہل ذوق کی محفلوں میں ایسی شاعری رسائی نہیں حاصل کرسکتی۔ بُری جذباتیت بری جدیدیت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اب ایسے اشعار کو آپ کیا کہیں گے؟

وہ نہیں ملی ہم کوہک’ بٹن‘ سرکتی جین

زپ کے دانت کھلتے ہی آنکھ سے گری چولی

(بشیربدر)

بکری میں  میں کرتی ہے

بکرا زور لگاتا ہے

(ساحل احمد)

رات کا انتظار کون کرے

آج کل دن میں کیا نہیں ہوتا

(بشیربدر)

ایسے سوقیانہ مضامین سے جدیدیوں کی شاعری بھری پڑی ہے۔ جدیدیوں نے فیشن پرستی کے زعم میں بے سروپا شاعری بہت کی۔ اچھے ذہن بھی منحرف ہوئے۔ پروفیسر عنوان چشتی مصور سبزواری کی کتاب ’’برگ آتش سوار‘‘ کا جائزہ لیتے ہوئے بہت سے فنی اور لسانی عیوب کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ایک مصرع:

’’وہم و گماں کے دائمی سرطان ڈنک اٹھائے‘

’’دائمی‘‘ کی ’’ی‘‘ ساقط ہے۔ اسی طرح عنوان چشتی نے ’’پاؤں‘‘ کا صحیح املا پانو بتایا ہے اور اس شعر میں ’’پاؤں‘‘ کا وزن اور املا غلط قرار دیا ہے:

تلوے تمام چاٹ گیا راستوں کا درد

پاؤں میں جانے کون سے صحرا کا ناپ تھا

جناب کمال احمد صدیقی نے ’’کتاب نما‘‘ نومبر ۸۶ میں اعتراض کرتے ہوئے لکھا تھا کہ پاؤں میں غنہ کے ساتھ بھی اور مدور ہوکر آواز جہاں ختم ہوتی ہے وہاں بھی غنہ ہے۔ پاؤں اور گاؤں کے فعل اور فعلن دونوں وزن درست ہیں۔ عنوان چشتی نے اپنی بات کی توثیق میں رشید حسن خان کے حوالے سے لکھا ہے کہ مؤلف نور نے جلد اول کے مقدمے میں بحث متروکات میں لکھا ہے کہ ’’پاؤں‘‘ بروزن فعلن متروک اور بروزن فع (فاع) مستعمل ہے:

یہ پینترے بھلے نہیں یہ چال چھوڑ دو

خلق خدا کو روندتے ہیں بانکپن کے پاؤں

یہاں ’’پاؤں‘‘ فعلن کی جگہ ’’پانو‘‘ یعنی فاع کے وزن پر آیا ہے۔ عنوان چشتی نے دو اشعار پیش کئے ہیں      ؎

جنوں پسند مجھے چھانو ہے ببولوں کی

عجب بہار ہے ان زرد زرد پھولوں کی

(ناسخ)

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھانو گھنی ہوتی ہے

ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

(حفیظ جون پوری)

غالب نے تو پوری غزل پانو کی ردیف کے ساتھ لکھی ہے۔ ایک شعر     ؎

اللہ رے ذوقِ دشت نوردی کے بعد مرگ

ہلتے ہیں خود بخود مرے، اندر کفن کے پانو

معلوم ہوا کہ ’’پاؤں‘‘ کا صحیح ’’املا‘‘، ’’پانو‘‘ ہی ہے اس لیے کہ غالب کی یہ غزل حروف تہجی کے لحاظ سے ’’و‘‘ کے خانے میں ہے۔

عنوان عشتی کے نزدیک تشریحی تنقید، تأثراتی تنقید، عمرانی تنقید وغیرہ سے زیادہ ہیئتی تنقید اہم ہے کیوں کہ اس کا سرا قدیم اردو تنقید سے ملتا ہے اور اس طرح کلاسکی تنقید کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ کلاسکی تنقید کے سلسلے میں وہ لکھتے ہیں:

’’کلاسکی تنقید کا ایک منفرد اور ممتاز مقام ہے۔ یہ اپنی جگہ خود مکتفی اور مکمل تنقیدی نظام ہے جو فن پارے کے لسانی، فنی اور عروضی پہلو کو صحت اور حسن کی ضمانت عطا کرتی ہے۔‘‘                                                                                                (اردو میں کلاسکی تنقید۔ مقدمہ)

عنوان چشتی کے سامنے فن پاروں کے لسانی، فنّی اور عروضی رموز و نکات روشن ہیں۔ ان کا ذہن صاف ہے، اس لیے ان کا زاویۂ نقد بھی صاف ہے۔ ان کی تنقید میں محض تأثر اور لفاظی نہیں بلکہ ان کے پاس اپنی تجزیاتی فکر ہے جس کی مدد سے وہ فن پاروں کے حسن و قبح کی چھان پھٹک کرتے ہیں۔ بعض دوسرے نقادوں کی طرح محض پیچیدہ خیالات اور مبہم عبارت آرائی سے قارئین کو الجھاتے نہیں۔ معنویت کی تلاش ہو یا اردو شاعری میں جدیدیت کی روایت، اردو شاعری میں ہیئت کے تجربے ہو یا تحقیق سے تنقید تک، عروضی و فنی مسائل ہو یا حرف برہنہ، تنقیدی پیرائے ہو یا اردو میں کلاسکی تنقید— ان  تمام تصانیف میں ایک طرح کی Clarity ملتی ہے۔ یہ وصف عملی تنقید کے ساتھ ساتھ صاف ذہن اور تنقید کے روشن پس منظر کے سبب پیدا ہوتا ہے۔ عنوان چشتی کا تنقیدی ذہن و شعور چوکنا اور بیدار ہے۔ ادبی فن پاروں کے داخلی اور خارجی پہلوؤں پر وہ گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کا تنقیدی عمل مغربی نقادوں اور مفکروں کے غیر ضروری بیانات سے گراں بار نہیں ہوتا۔ ان کا فطری ذوق اور وجدان تنقید کے رموز و نکات سے ہم آہنگ ہے۔ اُن کی تنقید کا سرا آج کی تنقید سے جڑ گیا ہے۔ ان کا تجزیاتی اور عملی تنقید کا نظریہ عمل موزوں ہے۔ اس نظریۂ عمل کے ذیل میں پروفیسر احتشام حسین کا یہ قول پیش نظر رکھا جاسکتا ہے:

’’عملی تنقید نظریات تنقید کا استعمال ہے۔ شعر و ادب کے نمونوں کو جانچنے کے لیے۔ یہ نظریہ شعر و ادب کے جانچنے اور پرکھنے ہی کے دوران پیدا ہوئے ہیں اور کہیں سے بن کر نہیں آئے ہیں۔ اس لئے تخلیق اور تنقید میں بہت زیادہ فرق مناسب نہیں ہے۔‘‘          (تنقید اور عملی تنقید)

عنوان عشتی کی عملی تنقید میں ایک اضافی پہلو بھی ہے۔ وہ اصلاح سخن کو بھی عملی تنقید کے زمرے میں رکھتے ہیں۔ اس کے ذیل میں ان کی دو کتابیں… ’’ابراحسنی اور اصلاح سخن‘‘ اور ’’اصلاح نامہ‘‘ پیش کی جاسکتی ہیں۔ ’’ابر احسنی اور اصلاح سخن‘‘ میں ابرؔ کے نظریۂ فن اور نظریۂ اصلاح سے بحث کی گئی ہے۔ اصلاح عمل سے الفاظ و تراکیب کا برمحل استعمال اور فن شاعری کے معائب و محاسن کا درک حاصل ہوتا ہے۔ ابر احسنی کے بقول:

’’مصلح شعر زبان کے نکات اور فن کے رموز کا معلم ہے۔‘‘    (اصلاح الاصلاح، ص:۱۱)

غالب جو ایک نابغہ روزگار اور ثقہ شاعر تھے، ان کا نظریہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ اپنے اس نظریہ اصلاح کا اظہار انہوں نے اپنے خطوط میں جابہ جا کیا ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے:

’’کلام کا حسن و قبح میری نظر میں رہتا ہے اور کلام میں اغلاط و اسقام کو دیکھتا ہوں تو رفع کردیتا ہوں۔‘‘                                                                                     (اردوئے معلی)

پروفیسر عنوان چشتی جب کسی ادبی فن پارے اور بالخصوص شعری فن پارے کا جائزہ لیتے ہیں تو اسی طرح کے نظریہ کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’مصلح شعر و محاسن شعر کا جائزہ لیتا ہے۔ محاسن کو باقی رکھ کر مزید محاسن پیدا کرنے کے لیے عیوب و اسقام پر نشتر زنی کرتا ہے اور انہیں فاسد مادّے کی طرح نکال باہر کرتا ہے۔‘‘

اور اسی لیے جب وہ ’’حرف برہنہ‘‘ میں اخترالایمان، بشیر بدر، مصور سبزواری، قیصر شمیم، فضا ابن فیضی، کرامت علی کرامت، من موہن تلخ، مظفر حنفی، ساجدہ زیدی اور راہی شہابی جیسے شعرا پر قلم اٹھاتے ہیں تو جس طرح گلزار کا مالی قینچی لیے غیرضروری شاخوں اور پتیوں کو کاٹتا اور کترتا جاتا ہے اسی طرح یہ بھی ان مذکورہ بالا شعرا کرام کی شاعری کے معائب و محاسن کو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کی طرح الگ کرتے چلے جاتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے قارئین کو نقاد کے اس عمل سے تکلیف پہنچتی ہے مگر غور کرنے پر جلد ہی مطلع صاف ہوجاتا ہے اور پھر قارئین بھی نقاد کے ہم آواز ہو جاتے ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں ابوالکلام قاسمی کا تنقیدی اختصاص – ڈاکٹر امام اعظم   )

گرچہ عنوان چشتی خیال اور فکر کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہیں مگر شاعری کو وہ ایک لسانی اظہار تصور کرتے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ وہ معانی کے محاسن پر ہیئت کے محاسن کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے یہ نہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ محض لفظوں اور ترکیبوں کے حسن کو فوقیت دیتے وقت معانی اور مواد کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ ان کے یہاں ایک طرح کی میانہ روی ہے۔ اس سے ہرگز یہ تصور نہیں ابھرتا کہ وہ ایک ہی سانس میں ’’ہاں‘‘ اور’’نہیں‘‘ کہہ دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے بلکہ ایک طرح کی قطعیت اور بیباکی ہے جس میں انتہا پسندی کی جگہ سبک خرامی ہے۔

عنوان چشتی شعری تجربہ کے سلسلے میں لکھتے ہیں:

’’شعری تجربہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک اس کا تجریدی، داخلی یا جمالیاتی، دوسرا اس کا غیر تجریدی، خارجی اور لسانیاتی۔ اچھی شاعری انہی دو پہلوؤں کے ایک دوسرے میں تحلیل ہونے سے وجود پذیر ہوتی ہے۔ زبان شعری تجربے کے اولین لمحہ سے نہ صرف وابستہ ہوتی ہے بلکہ اس کے بطن سے نمودار ہوتی ہے۔ اس لیے شعری زبان، تکنیک، اسلوب اور ہیئت کو محض خارجی قرار دینا صحیح نہیں۔‘‘                           (اردو شاعری میں ہیئت کے تجربے)

ہاں، مگر صرف لفظی شعبدہ بازی، شاعری نہیں ہوتی۔ کلیم الدین احمد الفاظ اور شاعری کے ربط کو یوں ظاہر کرتے ہیں:

’’الفاظ اور شاعری میں ایک ناگزیر ربط ہے۔ شاعری کی منزلیں طے کرنے کے لیے الفاظ کی رہبری کی ضرورت ہے۔ لیکن رہنما کو منزل مقصود سمجھ لینا کم عقلی کی دلیل ہے۔‘‘

آگے لکھتے ہیں:

’’معانی کی جستجو میں الفاظ سے بے اعتنائی کرنامنصب شاعری کے خلاف ہے۔‘‘

(سخن ہائے گفتنی، ۱۹۴۷ء ص:۳۹)

عنوان چشتی بھی زبان اور الفاظ کے ساتھ معنوی ربط کو روا رکھتے ہیں۔ ہیئت کی اہمیت اور غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے وہ فنون لطیفہ کی دوسری شاخوں کو بھی زیر بحث لاتے ہیں۔ ساتھ ہی صحائف، منطق اور فلسفے، میکانکی اور عضوی ہیئت، لسانی عمل، صوتی قوافی، معرا کا تصور، ہندی اصناف و اسالیب، پنگل، ہندی چھند، سانیٹ، آزاد نظم اور جاپانی ہیئتوں کا بالتفصیل جائزہ بھی لیتے ہیں۔ اپنے اس جائزے کے دوران وہ عملی تنقید سے کام لیتے ہیں جس سے فن پارے کی پیچیدہ گرہیں کھلتی جاتی ہیں۔ وہ محض الفاظ کی بازی گری پر نظر نہیں رکھتے بلکہ فن پارے کے لغوی معانی، استعاراتی معانی، علامتی مفاہیم، رموزی معانی، گویا ایک معنیاتی کائنات وضع کرتے ہیں۔ آل احمد سرور بھی ہیئتی تنقید کے سلسلے میں کچھ یہی رویہ اور نظریہ رکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں صرف موضوع کا اچھا ہونا کسی فن پارے کے خوبصورت ہونے کا ضامن نہیں ہوتا بلکہ ہیئت کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے جس طرح معنی کو لفظ سے الگ کوئی حیثیت نہیں دی جاسکتی اسی طرح موضوع اور ہیئت ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ شمس الرحمان فاروقی بھی یہی نظریہ سامنے رکھتے ہیں:

’’شعر کی زبان یا الفاظ اس کی ہیئت کا سب سے جاندار حصہ ہوتے ہیں۔ کیوں کہ الفاظ کا ردعمل سننے والے کے جذبات، احساسات اور تخیل پر ہوتا ہے جب کہ دوسرے عناصر کا فوری اثر صرف قوت سامعہ پر۔ شعر کا آہنگ زبان سے کم دیر پا اثر رکھتا ہے۔        (لفظ و معنی ۱۹۶۸، ص:۴۵)

عنوان چشتی کی تنقید شاعری کی تفہیم کے لیے اہم اور معاون ہے۔ گرچہ انہوں نے دوسری اصناف ادب کی تنقید بھی لکھی ہے، مگر نہ کے برابر۔ اُن کا سروکار شعری ادب سے زیادہ رہا ہے۔ انہوں نے شاعری کرتے وقت تنقیدی عوامل کو سامنے رکھا ہے اور تنقید شعر کے وقت شاعری کی لطافتوں اور رموز کو پیش نظر رکھا ہے۔ ان کی خوبی ہے کہ تنقید کرتے ہیں تو فن پارے کی تفہیم میں مدد ملتی ہے۔ میرے خیال میں تنقید کا جو منصب ہے، عنوان چشتی اس کے فرائض انجام دینے میں کامیاب ہیں۔ عروض دانی نے انہیں شعری فن پاروں کا منفرد نقاد اور نباض بنا دیا ہے۔ ان کی تنقید اردو شاعری کے لیے مشعل راہ کا کام کرتی رہے گی۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

 

You may also like

1 comment

Leave a Comment