جوش کا نام آتے ہی ’’شاعر انقلاب‘‘ اور ’’یادوں کی برات‘‘ یہ دو چیزیں ذہن میں ابھرتی ہیں۔ اگر اختصار سے کام لیا جائے تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ چوں کہ ایک طرف ان کی شعری کائنات میں جوش و ولولہ، شوکت و طنطنہ ہے، اس لیے انہیں شاعر انقلاب کہا گیا۔ دوسری طرف ’’یادوں کی برات‘‘ ان کی زندگی کے نشیب و فراز اور سچ اور جھوٹ کا کچا چٹھا ہے۔ یہ دونوں مذکورہ چیزیں جوش سے اسی لیے منسوب ہیں۔ یہاں ’’یادوں کی برات‘‘ سے دو اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں:
(۱) شخصیت شناسی بھی بڑی جان لیوا چیز ہوتی ہے اور سالہا سال کی بے تکلف ہم نشینی کے بعد بھی اس کا شرمیلا پن کم نہیں ہوتا… مجھ سے اگر آپ یہ پوچھیں کہ تو اپنے آپ کو بھی جاننے کی طرح جانتا ہے؟ تو میں یہ جواب دوں گا کہ ہر چند بچپن سے لے کر پیرانہ سالی تک میں علی الاتصال و بہر دقیقہ اپنے ساتھ رہا ہوں، لیکن قطعیت کے ساتھ یہ کہہ نہیں سکتا کہ درحقیقت میں ہوں کیا:
ہمارے حال کو دنیا بھلا کیا جان سکتی ہے
بسااوقات جب ہم خود غلط اندازہ کرتے ہیں
(ص:۱۹۹)
(۲)’’ جی ہاں میں نے عیاشی کی ہے، جی بھر کر۔ لیکن عشق بازی کی ہے جی سے گزر کر۔ عیاشی نے میرے جسم کی کھیتیاں لہلہائیں۔ عاشقی نے میرے ذہن کی کلیاں چٹکائیں۔ عیاشی نے لذت حواس سے دوچار کیا۔ عاشقی نے نشاط شعور سے سرشار کیا۔ عیاشی نے گردن کو نقرئی بانہوں سے اجالا۔ عاشقی نے گردن میں قوس و قزح کا زرّیں ہار ڈالا۔‘‘ (ص:۶۴۰)
جوش کا ذہنی میلان اور افتاد طبع دونوں سمجھ سکتے ہیں۔ جوش پوری زندگی گزار کر، وہ بھی علی الاتصال بہردقیقہ، یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ کون ہیں۔ مگر جوش صاحب کو یہ اندازہ نہیں ہوگا کہ وہ جس قطعیت کے ساتھ خود کو جاننا چاہتے تھے وہ عرفان ذات کی منزل ہے۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ جو لذت حواس اور جسم کی کھیتیاں لہلہانے کی غرض سے عشق اور عیاشی کرے اسے اپنا عرفان کیسے حاصل ہوسکتا ہے؟ بات سطحی عشق کی ہے۔ ذوق بازارو ہے، خواہ خوبصورت اور ریشمی لفظوں کے پیرہن ہی میں کیوں نہ پیش کیا جائے۔ ورنہ خود کو پالینا تو انسانی عمل کی معراج ہے: من عرف نفسہ فقد عرف ربّہ۔
اسے میر تقی میر نے کہا:
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں ہی دور تھا
یہ وہی چیز (خودی) ہے جس کے گرد شاعر مشرق علامہ اقبال کی فکر اور شاعری گردش کرتی ہے۔ مان لیا جائے کہ جوش سطحی شاہد باز تھے مگر مشرقی تہذیبی قدروں کے پیش نظر اپنے نرے تجربات کا یوں کھلا اظہار ضروری نہ تھا۔ یہ جرأت کی بات بھی ہوسکتی ہے۔ آئیے جوش کے چند اشعار دیکھیں:
جھومتی جب کبھی اٹھتی ہے گھٹا قبلے سے
اپنی بیتی ہوئی راتوں کا خیال آتا ہے
لیلائے شب تار ہے یا حور سحر ہے
جس حال میں ہوں، حسن مرے پیش نظر ہے
پروفیسر شکیل الرحمن لکھتے ہیں:
’’جوش نے حسن کو ایک مثبت اثر تصور کیا ہے جو جبلت کی پیداوار ہے، حسن سے انبساط حاصل ہوتا ہے تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ یہ خدا ہے ’خالق ہے‘ حسن خدا ہے اور خدا حسن‘ ہر شے میں اسی کی تصویر نظر آتی ہے۔‘‘ (آج کل، جوش نمبر، اپریل ۹۵ء ص:۶۴)
اب ذرا غور کریں کہ شکیل الرحمن صاحب نے جس متصوفانہ تصور حسن کا ذکر یہاں کیا ہے، کیا اس کا اطلاق جوش جیسے ڈیڑھ درجن عشق فرمانے والے شاعر پر ہوسکتا ہے؟ اس کے ذیل میں یہ ذکر کرنا کہ حسن سے انبساط اس لیے حاصل ہوتا ہے کہ حسن خدا ہے اور خدا حسن یعنی اللہ جمیل و یحب الجمال۔ پھر یہ کہنا کہ ہر شے میں اسی کی تصویر نظر آتی ہے، درست نہیں کیوں کہ یہ خالصتاً تصوف کا مسئلہ ہے جو جوش کی حد فکر سے باہر ہے۔ یہ بات بھی مطالعے سے سمجھ میں آتی ہے کہ مذہبی اور سماجی قدریں جوش کی زندگی میں لغو کے مترادف تھیں۔ اب اسے کیا کہیں گے، کہ انہوں خود لکھا ہے:
’’میرے باپ نے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی مجھ کو ’’وہ‘‘ (مخنث) بنا دینے میں۔ میرے باپ کی یہ تمنا پوری نہیں ہوئی اور قدرت کی حکمت و غیرت نے یہ بات کسی طرح بھی گوارا نہیں فرمائی کہ میں شاعر کے بجائے مولانا بخش اللہ بن کر رہ جاؤں۔ مطرب کو چھوڑ کر مؤذن سے دل لگاؤں۔ مکھڑے کے تلوں سے نظر پھیر کر تسبیحوں کے دانے گھماؤں۔ صہبا کے شیشوں سے قرابت کا رشتہ کاٹ کر استنجوں کے ڈھیلوں سے اپنا شجرۂ نسب ملاؤں، شراب کے پیمانوں میں تیرنے کے بدلے وضو کے بدھنوں میں غوطے کھاؤں اور کالی زلفوں کی چھانوں سے بھاگ کر سفید داڑھیوں کی چلچلاتی دھوپ میں جاکر بیٹھ جاؤں۔‘‘ (یادوں کی برات)
جملوں میں عجیب ربط ہے مگر ہذیاں سرائی بھی اسی کا نام ہے۔ مذہبی رواداری کا فقدان تو قابل گرفت نہیں مگر اس طرح مذہبی اقدار کی پامالی افسوس ناک ضرور ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کٹّر دہریہ شاعر بھی ایسی مربوط ہذیاں سرائی کرسکتا ہے۔ ناکامی اور انفعالیت اگر ان کی شاعری میں نہیں تو تعجب نہیں۔ یاس اور غم میں ٹسوے بہانا جناب جوش کا کام نہیں۔ اگر ان کی شاعری میں آہ و فغاں اور سوز و گداز نہیں تو اس کے اسباب میں انہوں نے ایک سبب یہ بھی بتایا ہے کہ ان کے اٹھارہ بڑے عشقوں میں سے سترہ عشق ایسے رہے تھے جن کا محبوبوں کی طرف سے بھرپور جواب دیاگیا۔ اس کا اظہار انہوں نے پروفیسر احتشام حسین کو لکھے ایک خط میں کیا تھا جو ان کی کتاب ’’ذوق ادب اور شعور‘‘ میں موجود ہے۔ اس طرح کے بیانات سے اور ’’یادوں کی برات‘‘ کے صفحات سے جوش کی شخصیت کا جو روپ ہمارے سامنے آتا ہے وہ ایک طنطنہ دار اور شوخ و شنگ عاشق کا روپ ہے، جس کی ذہنی ساخت میں آزاد خیالی اور سماجی قیود نیز مذہبی عوامل کی بندشوں سے بے فکری ظاہر ہوتی ہے۔ استنجوں کے ڈھیلوں، تسبیح کے دانوں اور وضو کے بدھنوں سے اپنا رشتہ جوڑنا کار عبث تو سمجھتے ہی ہیں ساتھ ہی اس ڈگر پر چلنا ’’وہ‘‘ یعنی ’’مخنث‘‘ بننے کے مترادف تصور کرتے ہیں۔ ان کا نظریۂ خودی اقبال کی طرح نہیں کہ اعلان کرتے پھریں:
خودی کا سرنہاں لا الہ الا اللہ
خودی کا تیغ فساں لا الہ الا اللہ
اور نہ ہی جہانِ عشق و محبت میں وہ میر تقی میر کی طرح منہ لٹکائے کوبہ کو بھٹکنے کے قائل۔ اشعار دیکھئے ؎
گیا تھا اس کی گلی سو پھر نہ پلٹا میرؔ
میں میرؔ میرؔ کر اس کو بہت پکار رہا
جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مرگئے
اکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مرگئے
جوش کے یہاں دراصل ’’عشق‘‘ کا مفہوم ’’عیاشی‘‘ ہے۔ میر بیچارے عشق کو ’’عشق‘‘ سمجھتے ہیں بلکہ کہیں کہیں ’’عبادت‘‘ کے برابر بھی تصور کرتے ہیں۔ شاید اسی لیے میر زندگی بھر گھل گھل کر پگھلتے رہے اور جوش اٹھارہ میں سے ۱۷ (سترہ) معشوقوں کی نقرئی بانہوں کے ہالے میں محصور رہے۔ جسم کی کھیتیاں لہلہاتی رہیں اور نشاط شعور سے سرشار ہوتے رہے۔ ( یہ بھی پڑھیں ہند اسلامی تہذیب و ثقافت اور فاروقی کا ناول ’کئی چاند تھے سرآسماں‘ – نورین علی حق )
میرا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ جوش کی شخصیت مجروح کی جائے۔ میں نے جو کچھ بھی کہا ہے اس کا جواز جوش کی شعری اور نثری تحریروں میں موجود ہے۔ چند خطوط بھی اس نقطۂ نظر کی غمازی کرتے ہیں۔ مگر ان منفی رویوں کے باوجود جوش کی فطرت کا عقدہ کھلتا نہیں۔ انہوں نے جس طرح اسلامی عقائد اور عوامل کا مذاق اڑایا ہے اس سے لگتا ہے کہ ان کے دل پر مہر سی لگ گئی تھی۔ مگر جب کبھی وہ اللہ کی آیات و صفات کا ذکرکرتے ہیں تو ایک بار پھر اپنے نقطۂ نظر پر غور کرنا پڑتاہے۔ یہ حصہ دیکھئے:
یہ سب ایک ہی اصل کے ہیں جہات
حجابات، آیات، اسماء، صفات
یہ تابندہ شبنم، یہ رقصندہ آب
یہ گل ریز گلشن، یہ گلگوں سحاب
یہ اعلان و اظہار و کشف و ظہور
یہ درّاج و طاؤس و مرغ و طیور
خیابان و بستان و کوہ و کمر
یہ لولو و مرجان و لعل و گہر
قوالی اور عرس بھی اسلامی تہذیب کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ جب کہ اسلامی زندگی میں اور رسول اللہﷺ یا صحابہ کرام کے زمانے میں ان باتوں کا گزر نہیں۔ جوش کو بھی یقین ہے کہ اس سے وحدانیت مجروح ہوتی ہے اور ربوبیت کا چہرہ مسخ ہوتا ہے۔ جوش نے کاری ضرب لگائی ہے قوم کے ٹھیکہ داروں کی اس روش پر۔ ان کی نظم ’’کافر نعمت مسلماں‘‘ (شعلہ و شبنم سے ماخوذ) سے چند مصرعے پیش کئے جاتے ہیں:
آج کتراتا ہوا وحدانیت کی راہ سے
یہ مرادیں مانگتا ہے کون غیراللہ سے
جھومتا ہے کون قوالوں کے ہر اک بول پر
کون یہ عرسوں میں پہروں ناچتا ہے ڈھول پر
مومن و مسلم کا بخشا تھا تمہیں اس نے خطاب
شیعہ و سنی کا نازل کرلیا تم نے عذاب
بندگی اصنام کی ٹھہرائی تھی اس نے حرام
اور تم ہر مقبرے کو جھک کے کرتے ہو سلام
اس کے علاوہ جوش ماتم حسین کرنے والوں کو بھی متنبہ کرتے ہیں جہاں سیاسی رنگ میں شور و شین دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کی نظم ’’اے مومنان لکھنؤ‘‘ سے یہ دو مصرعے:
منبر سبط نبیؐ پر اور سیاسی شور و شین
مجھ سے آنکھیں تو ملاؤ سوگواران حسینؑ
’’امام باڑہ‘‘ آج بھی سیاحوں کی تفریح گاہ ہے۔ بلکہ آج تولال قلعہ کے ساتھ ساتھ دلی کی جامع مسجد بھی ناپاک غیرملکی سیاحوں خواہ مرد ہوں یا عورت، سب کے لیے سیرگاہ بن گئی ہے۔ جوشؔ امام باڑوں کی حرمت کو پامال ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ محرم کی آٹھویں اور نویں کو چراغاں کیا جانا اور بڑے پیمانے پر امام باڑے میں اہتمام کیا جانا اور صاحب لوگوں کے لیے ہی اس کا مختص کیا جانا، ایک عبرت ناک پہلو ہے۔ جوش کی نظم ’’متولیان وقف حسین آباد سے خطاب‘‘ سے یہ حصہ ملاحظہ کیجئے:
مشعلوں میں جس جگہ خونِ شہیداں کا ہو رنگ
سیر کرنے کو بلائے جائیں واں اہل فرنگ
یہ تملق، یہ خوشامد، یہ زبوں اندیشیاں
غم کدہ مسلم کا ہو نصرانیوں کا بوستاں
داغ ہائے دل میں کھولا جائے میخانہ کا باب
قہقہے ہوں آنسوؤں کی انجمن میں باریاب
بام شیون پر کھلے موج تبسم کا علم
خون کے قطروں پہ اور ارباب عشرت کے قدم
کشتی صہبا چلے اہل وفا کے خون میں
آخری ہچکی بھری جائے گریموفون میں
جوش کے دل میں کہیں نہ کہیں اسلامی تہذیب اور ثقافت نیز سچی وحدانیت کی تصویر چھپی تھی جو ابھر کر نہ آسکی۔ وہ رسول اللہؐ سے عقیدت بھی رکھتے ہیں:
اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزم کافری
رعشۂ خوف بن گیا رقصِ بتانِ آذری
تعجب ہے اللہ کے آیات و صفات کا شمار کرنے کے بعد بھی وہ کہتے ہیں:
مگر اے خداوند رب جلیل
ملی مجھ کو اب تک نہ کوئی دلیل
کہ ہو جس سے آئینہ راز صفات
کہ ثابت ہو جس سے تری پاک ذات
اور آگے بڑھیں تو ہم پھر وہیں چلے آتے ہیں جہاں سے جوش کے ذہنی میلان کا ذکر شروع ہوا تھا۔ عجیب طرح کی کشمکش موجود ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ جوش پوری زندگی تذبذب اور کشمکش کے دائرے سے باہر نہیں آسکے تو بے جا نہ ہوگا۔ کبھی وحدانیت اور رسالت کا اقرار ہے تو کبھی کھلم کھلا انکار۔ جسے لوگ جوش کی انقلابیت کہتے ہیں دراصل اس آدمی کی ذہنی تہذیب کا المیہ ہے کہ جگنو کبھی اس ڈال پر چمکتا ہے تو کبھی اُس ڈال پر۔ جوش پھر وہیں آجاتے ہیں جہاں سے چلے تھے:
یقین بن کے جب تک نہ آئے گا تو
تو اے وہم دیرینۂ اہل ہٗو
رہِ کفر کی خاک چھانے گا جوش
نہ مانا ہے تجھ کو نہ مانے گا جوش
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

