کائنات کی ہر شئے خواہ جاندار ہو یا بے جان متحرک اور تغیر پذیر ہے۔یہی تحرک انسانی زندگی کا خاصہ ہے چونکہ ادب زندگی کا ایک ناگزیر شعبہ ہے ،جس میں انسانی زندگی کی اسی حرکت پذیری کے مختلف اور متنوع شیڈس دیکھے جا سکتے ہیں۔یہاں ادب سے میری مراد اردو ادب ہے جس کا دامن دیگر زبانوں کے ادب کے برعکس متفرق جواہر پاروں سے مالا مال ہے۔اردو ادب میں جہاں شاعری کی اہمیت و مقبولیت مسلم ہے وہیں اردو نثر کا بھی اپنا ایک خاص مقام ومرتبہ ہے ۔نثری ادب میں اردو فکشن اپنی دلکشی ہمہ گیریت ،وسعت اور تنوع کے اعتبار سے ہمیشہ ادبی حلقہ کی توجہ کا مرتکز رہا ہے۔خلط مبحث سے بچنے کے لیے بیشتر ناقدین اردو فکشن میںناول اور افسانہ کو ہی شامل فہرست رکھتے ہیں۔
اگر ہم اردو افسانہ کی ابتدااو ر تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ابتدا غالباً ۱۹۰۳ میں ہوئی اور ۲۰۰۳ میں یہ اپنی عمر کے سو سال مکمل کر چکا ہے اور مختلف پیچیدہ مراحل سے گزرتے ہوئے تا حال اس کا سفر پوری قوت سے جاری ہے ۔ اس ارتقائی سفر میں اردو افسانہ میں کئی اتار چڑھاؤ آئے ،باد مخالف سے دست و گریباں ہوتے ہوئے اس کی سمت و رفتار سست تو پڑی البتہ تھمی کہیں نہیں۔راشد الخیری ،سجاد حیدر یلدرم اور پریم چند وغیرہ کے خیالات اور قلم کا ساتھ دیتا ہوا یہ بتدریج آگے بڑھتا رہا۔ متعدد ادبی تحریکات اور رجحانات کی ہمنوائی بھی کی ۔لیکن کبھی بھی کسی ایک حلقۂ اثر میں مقید نہیں رہا۔ جب بھی کسی نظریہ یا رجحان نے اس کواپنے حصار میں جکڑنے کی کوشش کی یہ چھٹپٹا کر اس کی گرفت سے آزاد ہو گیا۔عرض مطلب یہ ہے کہ صنف افسانہ کافی وسعت ،ہمہ گیریت اور گہرائی و گیرائی کی حامل ہے۔بدلتے عہد کے ساتھ اس نے بھی بہت سی کروٹیں لیں،یہ تبدیلی کئی سطحوں پر قابل التفات ہے۔موضوع کے حوالے سے بھی، اسلوب اور طرز تحریر کے مطابق بھی، وقوعے اور تکنیک کی سطح پر بھی تنوع کی حامل ہے۔
ہر عہد کے اپنے کچھ لوازم اور اختصاص ہوتے ہیں جس کے نقوش اس عہد کی تخلیقات میں بخوبی دیکھے جاسکتے ہیں۔لہٰذا ہر عہد کے عصری رجحانات اور ادبی تحریکات کے زیر اثر اعلیٰ درجے کے افسانے وجود میں آئے۔ ابتدائی دور کے افسانوں کو دیکھا جائے تو اندازا ہوتا ہے کہ وہ اصلاح پسندی ،حب الوطنی اور رومانیت پرستی جیسے عناصر کے پابند نظر آتے ہیں۔ جن میں زندگی کا حسن پوری آب و تاب کے ساتھ کارفرماہے۔ اس کے کچھ عرصے بعد واقعیت نگاری اور حقیقت نگاری کا آغاز ہوتا ہے اور ۱۹۳۲ میں’ انگارے ‘ اپنی تمام تر شعلہ انگیزیوں اور جولانیوں کے ساتھ منظر عام پر آتا ہے ۔جس نے اردو افسانے کو ایک نئی فکر ،نئے وژن سے روشناس کرایا، وہیںدوسری طرف پریم چند ایک لازوال افسانہ ’کفن‘بطور شاہکار پیش کرتے ہیں۔ان دونوں اقدام سے افسانے کی ٹھہری ہوئی سطح ایک دم متحرک ہو اٹھتی ہے۔جو بعد کی نسل کے لئے ایک روشن مینارہ کا کام کرتی ہے ۔یہیں سے اردو افسانے کا وہ دور شروع ہوتا ہے جو(۱۹۳۶)’ عہد زریں‘ کہلاتا ہے۔اس عہد میں ترقی پسندوں نے افسانے کو اتنی وسعت دی کہ یہ دوسری زبانوں کے افسانوی ادب کے مقابل جا کھڑا ہوا۔ اس دور کا افسانہ سماج میں ہو رہی تبدیلیوں کا بہترین عکاس ہے۔ اس عہد کے ممتاز افسانہ نگاروں میں منٹو ، بیدی ، عصمت ،کرشن چندر، غلام عباس،قرۃ العین حیدر، بلونت سنگھ، اختر اورینوی، سہیل عظیم آبادی، دیویندر ستیارتھی اور احمد ندیم قاسمی وغیرہ کا نام لیاجا سکتا ہے۔اس دور کے افسانہ نگاروں کے یہاں فکری و فنی سطح پر بھی تنوع ملتا ہے اور موضوعات و اسلوب کے مختلف شیڈس اور تکنیک میں بھی تجربے دیکھے جا سکتے ہیں۔۱۹۴۷ تک آکر جب ملکی سطح پر تبدیلیاں رونما ہونے لگیں تو سماج ومعاشرہ اور انسانی زندگی میں تغیر کیونکر نہ ہوتا۔ لہٰذا تقسیم ہند ،فسادات اور ہجرت نے نہ صرف فرد واحد بلکہ پورے ہندوستانی سماج ،تہذیب و معاشرت اور انسانی اقدار کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا۔تقسیم کو اردو افسانے کا سب سے بڑے محرک اور اہم موضوع کے طور پر برتا گیا۔ہجرت کے کرب ، ناسٹلجیائی فکر ،تہذیب واقدارکا زوال،انسانیت کے فقدان، کرب ذات، شناخت کا مسئلہ، تہذیب کی بازیافت، جیسے مسائل پر اس عہد کے فنکاروں نے شعوری اور غیر شعوری سطح پر بے شمار افسانے صفحۂ ہستی پر منتقل کیے۔اس ضمن میں ممتاز شیریں کا کہنا ہے کہ:
’’ہمیں اپنے گرد وپیش کی زندگی میں ہر طرف فسادات کے بھیانک اثرات نظر آتے ہیں ۔فسادات نے زندگی کو تہ بالا کردیا تھا اس لیے فسادات نے ہمارے ادب پرصرف اثر ہی نہیں ڈالا بلکہ ادب پر اس طرح چھا گئے کہ عرصہ تک اور کسی موضوع پر شاذ ہی لکھا گیا۔‘‘
سانحۂ تقسیم ہند کے بعدمذکورہ مسائل ومصائب نے اظہار خیال کے لیے افسانے میں مختلف وسائل اور وجودی اسالیب کی اہمیت و ضرورت کوناگزیر قرار دے دیا۔اس دور میں قرۃالعین حیدر، انتظار حسین، عبد اللہ حسین ،قدرت اللہ شہاب اور حیات اللہ انصاری وغیرہ کے یہاں موضوعات اور اسالیب میں کافی تنوع ملتا ہے۔اس عہد میں افسانے کی کرافٹ ،ہیئت اور اظہار کی مختلف نوعیتوں اور تجربوں کے لئے راہیں ہموار ہونے لگیں۔ تمثیل، تشبیہ، استعارہ تجرید اور علامت وغیرہ کو افسانے کے فنی لوازم کے طور پر برتا جانے لگا۔۱۹۶۰ تک آتے آتے افسانہ نے بغاوت اور انقلاب کی جو مشعل جلائی تھی وہ سرد پڑنے لگی اور اب افسانہ ایسے دوراہے پرایستاد تھا جہاں سے نئے تخلیقی اذہان پس و پیش کی کیفیت سے دوچار ہونے لگے کہ اب افسانہ کون سی سمت اور کس رخ پر سفر کرے گا؟ تجربے اور تبدیلی کی نوعیتیں کیا ہوں گی؟ لہذا یہاں سے افسانے میں جدیدیت کا آغاز ہوتا ہے ۔جس میں افسانہ نگاروںکا نقطۂ ارتکاز اجتماعیت اور خارجی عوامل سے ہٹ کر ذاتی مسائل،داخلی کرب ، خوف ،دہشت ، تنہائی،بیگانگی، قدروں کی شکست و ریخت وغیرہ کے اظہار تک محدود ہو گیا۔ علامت ،تجریدیت ، شعور کی رو ،آزاد تلازمہ کو وسیلۂ بیان بنایا گیااور پلاٹ لیس ،تجریدی، بیانیہ سے عاری ،انٹی اسٹوری کہانیاں لکھی گئیں۔تجریدی افسانے کے حوالے سے ناقدین کا رویہ کہیں مذمّتی ہے تو کہیں توصیفی۔اس ضمن میںگوپی چند نارنگ رقم طراز ہیں ملاحظہ ہو:
’’ادھر نیا افسانہ جدید مغربی اور امریکی ادبی تحریکوں کا اثر قبول کر رہا ہے۔ Existentialismکے اثرات عام ہو رہے ہیں۔سارتر،کامیو،ولیم بروزلرائے جونز کیرو،ایسٹ لیک، ارلین، زیکوسکی اور سٹین لے برن کی تصانیف مقبول ہیں۔بغیر پلاٹ کی کہانی اور مجرد کہانی بھی لکھی جا رہی ہے۔اس سلسلے میںرام لعل ،بلراج مین رااور سریندر پرکاش کی کوششیں قابل ذکر ہیں۔‘‘
اس نئی اور علامتی کہانی کے پیروکارمیں قدیم و جدید دونوں ادیب شامل ہیں: انتظار حسین ،احمد ندیم قاسمی،جوگیندر پال، غیاث احمد گدی، بلراج مینرا، سریندر پرکاش ، خالدہ حسین ،انور سجاد، احمد ہمیش، کلام حیدری، رام لال ،اقبال مجید، اقبال متین،رتن سنگھ، جیلانی بانو،منیر احمد شیخ،غلام الثقلین، حسین الحق،شوکت حیات، عبد الصمد، سلام بن رزاق،سیدمحمد اشرف، رشید امجد، محمد منشایاد، انور خاں اور ان کے بعد کی نسل ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اردو افسانے کی ایک پوری کہکشاں منظم ہو گئی ۔
اس دور میں بے شمار افسانے لکھے گئے جن میںکچھ ہی بلند پایہ علامتی افسانے مرکز توجہ بن پائے ورنہ زیادہ ترمبہم ، غیر واضح متن اورباعث تکثیر پس پشت ڈال دیے گئے۔ جدیدیت کے اس دور میں افسانہ ہیئتی اور معنیاتی سطح پر قابل اہم تغیرات سے روشناس ہوا۔لیکن کچھ ہی عرصہ بعد اس کا المیاتی انجام ایسا سامنے آیا کہ تجربہ برائے تجربہ کی اندھی تقلید ،عجیب اور نادر استعاروں علامات اور فنطاسی نے قاری اور نئی کہانی کے ما بین ابعاد اور بیزاری پیدا کردی۔تجریدیت کے نام پر ایسے ایسے تجربے کیے گئے کہ افسانہ لاینحل معمہ بن کر رہ گیا۔اور کیوں نہیں بنتا ؟جب اس کی بنیادی ساخت کو ہی تورمروڑ کر پیش کیا جائے گا تو ایسا توہونا ہی تھا۔ تجریدیت اور جدیدیت کی اس شدت اور انتہا پسندی نے افسانے کی ترسیل اور تفہیم دونوں کو سخت گزند پہنچائی۔اس ضمن میں مجتبیٰ حسین جدیدت کی اس انتہا پسندی کی سخت مذمت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’پہلے تو کہانی میں سے کہانی کو نکالا،پھر کردار کو نکالا،منظر نگاری کو نکالا،نقطۂ عروج کونکالا،پھر ہوتے ہوتے قاری کو بھی نکال دیا۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ کہانی میں سے اتنی چیزوں کے نکل جانے کے بعد کہانی میں صرف افسانہ نگار باقی رہ جاتا ہے اور اس کے باقی رہنے کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ہم اس دن کے بھی منتظر ہیں جب کہانی میں سے کہانی کار بھی نکل جائے۔‘‘
(ماہنامہ ’روبی‘ دہلی مختصر کہانی نمبراپریل۔۱۹۷۸،ص ۷۷)
لہٰذاجب صورتحال اس قدر پیچیدہ اور افسانہ کی حالت ناگفتہ بہ ہو گئی تو، اسی عہد میں فکشن کے اہم ناقد پروفیسر گوپی چند نارنگ نے ایک مضمون بعنوان ’’نیا افسانہ :روایت سے انحراف اور مقلدین کے لیے لمحۂ فکریہ ‘‘لکھ کر اس افسانوی بحران اور نئی کہانی کے حوالے سے پھیلنے والی تخریب و تفریط کو نشان زد کیا۔چنانچہ ۷۰ کی دہائی سے نئے تخلیقی اذہان افسانے کی صحت مند قدروں کی طرف متوجہ ہوئے۔۷۰ اور ۸۰ اور بعد کے کہانی کاروں نے علامتیت اور تجریدیت کو تج کر حقیقت نگاری ، ترقی پسندی اور جدیدیت سبھی کے امتزاج سے مثبت عناصر اخذ کیے اور افسانے کے گم شدہ خدو خال بحال کرنے کی جانب اہم اقدام اٹھائے ۔ اب جو افسانے میں نیا بدلاؤ آیا اس میں فلسفہ بھی ہے اور حقیقت بھی، فن بھی ہے اور فکر بھی حتی کہ سماج اور فرد بھی سانس لیتا نظر آتا ہے۔۱۹۸۰ تک آتے آتے فسانہ ازسر نو اپنی گزشتہ روایات سے منسلک ہوگیا اور اس انسلاک نے ایک بار پھر قاری اور افسانے کے مابین ہم آہنگی اور استواری پیدا کر دی۔ پروفیسر عتیق اللہ کے مطابق:
’’افسانے کی صنف سیال ،بے حد حرکت پذیراور انتہائی اضافیت کی حامل ہے۔۔۔اسی لیے یہ صنف مسلسل جدلیت سے گزرتی رہی، کہانی بننے کا کوئی ایک طریقہ معیاری نہیں بن سکا۔ہر پانچ دس برسوں میں کسی ایک حاوی تجربے یا بہت سے نئے تجربات سے سابقہ پڑتا ہے۔اس قسم کے تجربات ہی فنی کشادگیوں اور فنی انبساط کی دلیل ہیں۔‘‘ (تعصبات ۔ ۲۲۰)
۸۰اور اس کے بعد افسانہ نگاروں کی جو نسل سامنے آئی اس میں نئے اور پرانے دونوںچہرے شامل ہیں۔ ۸۰ کے بعد جن کہانی کاروںنے اپنی شناخت قائم کر لی تھی ان میں مرزا حامد بیگ ، مشرف عالم ذوقی، عبد الصمد، شوکت حیات ،بیگ احساس، نور الحسنین، مشتاق احمد نوری، انجم عثمانی، خورشید حیات ،شموئل احمد ،نیر مسعود، ساجد رشید، ذکیہ مشہدی، معین الدین جینا بڑے، سید احمد قادری، ترنم ریاض، اقبال حسن آزاد، صادقہ نواب سحر،اسلم جمشید پوری، حمیدہ سالم ،پیغام آفاقی ،خالد جاوید،غزال ضیغم احمد صغیر ، مظہر سلیم فیاض وجیہہ وغیرہ یہاں میرامقصد فہرست سازی نہیںہر چند کہ یہ کوشش ضرور ہے کہ نئے ناموں کی شماری سے افسانے کے بدلتے مزاج ،نئے مباحث، تقاضوں اور تازہ کاری کا پتہ چل سکے۔۹۰ کی دہائی میں فن کاروں کی جو نسل ابھر کر سامنے آئی ان میں ایک نمائندہ نام صغیر رحمانی کا ہے۔جو وقتاََ فوقتاًمختلف ادبی رسائل و جرائد میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔
صغیررحمانی نے جس وقت افسانہ نگاری کا آغاز کیا اسے ما بعد جدیدیت کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اس عہد میں ۷۰ سے لے کر ۲۰۱۰ کے بیچ تقریباً چارنسلیں ہم آہنگ ہو کر افسانہ نویسی کی جانب مائل ہیں۔جو بیک وقت کئی ادوار کے مسائل کو عصر حاضر کے تناظر اور معنیات سے آمیز کرکے افسانے کو نئے مدارج اور نئے امکانات سے ہمکنار کرنے میں کوشاں ہیں۔ مابعد جدیدیت کے نقطئہ نظرسے اگر دیکھا جا ئے تو اس میں ہر سطح پربے شمار موضوعات ومسائل کو جانچا پرکھا جا رہا ہے۔جس میں ہر شئے اور حقیقت کی گہرائی و گیرائی ماپنے ،بنے بنائے مفروضوں کو رد کر کے ان کی تشکیل نو کی جانب توجہ مرتکز کی جا رہی ہے۔گزشتہ چار دہائیوں کے دورانیہ میں افسانہ بتدریج اپنے تعمیری و تشکیلی اور تخلیقی عناصر، فکری و فنی نکات،صنفی و ہئیتی ساخت او رعصری وجدلیاتی اختصاص کے ساتھ مستقل ارتقا پذیر ہے ۔نتیجتاً عصر موجودہ کاافسانہ اپنے کہانی پن اور افسانوی شعریات کے حوالے سے یکجا نظر آتا ہے اور کہانی کاراپنے اپنے منفرد لب و لہجہ، تیور، پیشکش اور تخلیقی قوتوںکے زور پرہرآن افسانے کی صنفی خصوصیات و امتیازات کو منکشف کرنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔جس کو بذریعہ ٔ ناقدین سمجھا بھی جا رہا ہے،سراہا بھی اور پرکھا بھی جا رہا ہے۔صغیر رحمانی نے بھی اپنے مشاہدے ،تجربے اور تخلیقی صلاحیت کی بنا پر ایک منفرد شناخت قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
صغیر رحمانی کی ولادت ۷؍جنوری ۱۹۶۹ میں صوبۂ بہار کے شہر آرہ (بھوجپور) میں ہوئی۔ان کا تعلق ایک مسلم متوسط خاندان سے ہے۔ والد کا نام عبد الرحمن اور والدہ کا زیت النساء ہے ۔ان کا اصل نام محمد صغیر عالم ہے اور قلمی نام صغیر رحمانی ۔انھوں نے ۱۹۸۴ میں ماڈل انسٹی ٹیوٹ اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔۱۹۸۹ میں آرہ کے ہی ایچ ڈی جین کالج سے بی۔کام کی ڈگری حاصل کی۔ابھی صغیر رحمانی کی عمر بیس برس ہی تھی کہ والد داغ مفارقت دے گئے اور جلد ہی گھر کی کل ذمہ داریاں ان کے سر آپڑیں۔والد کی وفات کے بعد صغیر رحمانی چند سال تک کلکتہ میں تلاش معاش کی دقتیں جھیلتے رہے ،بعد ازاں اپنے شہر آرہ واپس لوٹ آئے اور بھور نامی ایک غیر سرکاری سماجی ادارہ سے منسلک ہو گئے۔
صغیر رحمانی اردو اور ہندی دونوں پر یکساں عبور رکھتے ہیں۔انھوںنے ویسے تو پڑھنے لکھنے کا آغاز اردو ادب میں ہی کیااوراسی کے ذریعہ اپنی ایک منفرد پہچان بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ان کا شمار اردو کے ساتھ ہندی ادب کے اہم ساہتیہ کاروں میں بھی ہوتا ہے۔ہندی میں ان کی دو کتابیں اشاعت کے مراحل طے کر چکی ہیں۔جن میں ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ بعنوان ’پرانے گھر کا چاند‘(اشاعت ۲۰۰۰: دہلی) اور اس کے بعد ’آشیش ‘ (۲۰۰۱: دہلی )ان کا پہلا ناول شامل ہیں۔اردو میں صغیر رحمانی کی پہلی کہانی ’’خون بولتا ہے‘‘ دہلی کے اہم رسالے خاتون مشرق میں ۱۹۸۷ میں اشاعت سے ہمکنار ہوئی۔بعد ازاں ان کے افسانے ہندو پاک کے بیشتر موقر ومعروف رسائل میں شائع ہو چکے ہیں اور حلقۂ اردو میں داد تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ایک افسانوی مجموعہ ’’واپسی سے پہلے‘‘(۲۰۰۲)اردو میں اشاعت سے ہمکنار ہو چکا ہے۔اس مجموعہ کے بعض افسانوں نے اپنی منفرد بنت اور موضوع کے اعتبار سے ادبی حلقے میں صغیر رحمانی کی ایک خاص شناخت کا فریضہ انجام دیا۔ان کے افسانے بالخصوص ’واپسی سے پہلے‘ ،’ایک اور وہ‘، ’کائی‘، ’حبضی کی آدھی شلوار‘ ’شاہزادے کی پریم کہانی‘ اور چھو۔تی ۔تی ۔تی ۔تا‘ وغیرہ نئے احساس، تازہ کاری اور فنی اعتبار سے افسانے کے روایتی تصور سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔
اس دور میں لکھنے والوں کے یہاں موضوعات کی بے حد کثرت ہے۔کل کائنات ایک گلوبل ولیج(Global Village)کی شکل میں سمٹ کر سامنے آگئی ہے۔اس ولیج میں ہونے والے خلفشار ،انتشار،ظلم و بربریت ،زندگی کی بے ضابطگی وغیرہ سے آج کا انسان نبرد آزما ہے۔ لہٰذا نویں کی دہائی کے فن کاروں کے موضوعات کم و بیش یکساں ہی نظر آتے ہیں۔مثلاًسیاسی اتھل پتھل،آج کے نیتاؤں کاسماج پر جابرانہ تسلط، جھوٹ ،مکاری، رشتوں میں تناؤ،جنسیت اور جنسی بے راہ روی،خوف و دہشت گردی ،مذہبی و نسلی تعصبات،ماحول سے نا ہم آہنگی ،استحصال ،تنازعات ، علاقائی تعصب ،دبے کچلے اور پسماندہ اور دلت طبقے کا استحصال ،پچھڑے گاؤں اورپچھڑی ذاتوں کے مسائل ،اعلی طبقے کی ذہنی پستی، نفسیاتی الجھنیں،غیر انسانی رویے ،اخلاقی تصورات کی پامالی وغیرہ ایسے سیاہ حاشیے اور خوفناک منظر نامے ہیںجن سے کوئی بھی حساس ذہن اور انسانیت کا درد رکھنے والا فنکار پہلو نہیں بچا سکتا۔عہد موجود میں سائنس و ٹکنالوجی کی ایجاد و اختراع اور نئے نئے انکشافات ،انوکھے ذرائع ترسیل و ابلاغ نے ہمارے اذہان پرجو یلغار کی ہے اس سے سارا انسانی اور سماجی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ہر گزرتے شب و روز میں وقوع پذیر واقعات چشم زدن میں ہمارے رو برو آن کر ہمیں متحیر کر دیتے ہیں اور دل و دماغ کو دعوت غور فکر دیتے ہیں۔یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جو فنکاروں کی روح کو جھنجوڑ کر انھیں ایسے حالات کو اپنے اندر جذب کرکے صفحۂ ہستی پر منتقل کرنے کی اپیل کرتا ہے۔اس پس منظر میں باشعور اور سر گرم عمل فنکار ان موضوعات کو مختلف اظہار بیان اور اسلوب کے ساتھ اپناتے ہیں اور افسانے کو لامحدود امکانات سے روشناس کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔صغیر رحمانی کے ساتھ ساتھ ان کے چند معاصرین پر بھی ایک غائرانہ نظر ڈال لینی چاہئے تاکہ یہ سمجھنے میں آسانی ہو کہ صغیر رحمانی اپنے ہم عصروں سے کس طرح منفرد ہیں اور کہاں کہاں مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ ان کے معاصر کے حوالے سے احمد صغیر کا نام قابل ذکر ہے۔
احمد صغیر ایک اہم افسانہ نگار ہیں۔اب تک ان کے غالباً تین افسانوی مجموعے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔احمد صغیر نے بھی عصری حسّیت اور عصری آگہی کے حامل افسانے تخلیق کیے ہیں۔ان کے افسانے بنیادی طور پر ظلم و تشدد،استحصال اور نا انصافی کو منظر عام پر لاتے ہیں۔ترقی پسند سے وابستہ وہ ایک حقیقت پسند کہانی کار ہیں۔اس لیے ان کے یہاں طبقاتی کشمکش،خوف و دہشت،علاقائی تعصب،فرقہ واریت جیسے موضوعات زیادہ حاوی نظر آتے ہیں۔وہ ان تمام شر پسند عناصر کے عمق میں جاکر ان کی اصل وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔احمد صغیر زیادہ طول طویل افسانے نہیں لکھتے ،مختصر سہی لیکن معنی سے پر ہوتے ہیں ۔ان کے افسانوں میں’ منڈیر پر بیٹھا ہوا پرندہ‘ ،’سفر ابھی ختم نہیں ہوا‘، کرفیو کب ٹوٹے گا‘ اور’ جنگ جاری ہے‘ اہمیت کے حامل ہیں ۔ان کے ا فسانہ ’منڈیر پر بیٹھا پرندہ ‘میں پرندہ استعارہ ہے۔ ایک ایسے ماحول کا پروردہ استعارہ ہے جس میں خوف،دہشت، ذہنی کرب، انسانی بے بسی اور معاشرے کی بے حسی جیسے زہریلے مادے لوگوں کی رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگے ہیں۔اس میں ایک حساس انسان کے داخلی اضطراب اور انتہائی خوف کے عالم میں پنپنے والی نفسیات کو سامنے لایا گیا ہے ۔اس خوف و دہشت اور غیر محفوظ فضا نے لوگوں کے اذہان کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ذہنی بے چینی ،غیر یقینی کیفیت اورعدم تحفظ کا یہ پرندہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاکر کسی بھی انسان کو نفسیاتی طور پرانتشار کی کیفیت میں مبتلا کر سکتا ہے۔احمد صغیر کے افسانے ان حالات اور ان جیسے دوسرے موضوعات کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔
اسلم جمشید پوری جن کا تعلق جمشید پور سے ہے ۔اس کے گرد و نواح کے علاقوں سے اکثر کمیونسٹ رجحان سازوں کا تعلق رہا ہے۔لیکن اسلم جمشیدپوری کا وصف خاص یہ ہے کہ وہ ایسے کسی بھی نظریہ یا رجحان کے پابند نظر نہیں آتے’۔افق کی مسکراہٹ‘ اور کہانی محل اب تک ان کے دو افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ان کے افسانوں میں پریم چند کے اسلوب کا ہلکا سا شائبہ اور دیہی زندگی کا گہرا پرتو نظر آتا ہے۔ان کے نمائندہ افسانوں میں پینٹھ،دھوپ کا سایہ، شبراتی،وہم کے سایے، مشین کا پرزہ، یہ ہے دلّی میری جان اور لینڈرا وغیرہ کو شامل کیا جا سکتا ہے۔افسانہ لینڈرا کوان کی افسانہ نگاری کا سنگ میل قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ان کے یہاں بھی بیشتر موضوعات اپنے ہم عصروں کی طرح تنہائی،بے گانگی،انسانی سماج اور انسانی زندگی میں رونما ہونے والے بے شمار حقییقی مگر تلخ واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔افسانہ ’یہ ہے دلی میری جان ‘ میں دلی کے فقیروںکی غنڈہ گردی ،بے جا من مانی اور بد کرداری کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔جبکہ افسانہ ’مشین کا پرزہ ‘ میں ایسے غریب الوطن افراد کی زندگی اور احوال و مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے جو تلاش معاش اور بہتر زندگی کا خواب لیکر عرب ممالک جاتے ہیں۔وہان انھیں کن کن مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے بڑی مہارت سے اس کو ابھارا گیا ہے۔اسلم جمشیدپوری پہلے واقعات کا قریب سے مشاہدہ کرتے ہیں تب کہیں جاکر انھیں اپنی کہانیوں کا حصہ بناتے ہیں۔
گزشتہ دو تین دہائیوں میں خواتین فنکاروں کی مختلف عصری مسائل و موضوعات پر ایسی تحریریں سامنے آئی ہیں جنھوں نے فی الفور اردو قارئین کو اپنی جانب مائل کیا ہے۔ان کی تحریروں میں نئے ذائقے اور نئے احساس کا پتا چلتا ہے۔ صغیر رحمانی کے ہم عصروں میں غزال ضیغم کی قوی شناخت ان کے تانیثی رجحان کے سبب ہے۔ان کا ایک افسانوی مجموعہ ’ایک ٹکڑا دھوپ ‘ شائع ہو چکا ہے۔ان کے قابل شمار افسانوں میں بھولے بسرے لوگ،ایک ٹکڑا دھوپ اور سوریہ ونشی چندر ونشی وغیرہ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ جوان کے مخصوص اندازفکرکے عکاس ہیں۔ ان میں افسانہ سوریہ ونشی چندر ونشی بطور تانیثی رویے کی نمائندگی کے زیادہ توجہ کا حامل ہے۔لیکن کہیں کہیں راوی کے بے جا دخیل ہونے سے افسانوی بیان لڑکھڑا گیا ہے۔
اس ضمن میں ثروت خان کو امتیاز حاصل ہے ۔ان کا بھی ایک افسانوی مجموعہ ’ذروں کی حرارت‘ اشاعت پذیر ہو چکا ہے۔ ان کے افسانے اختصار نویسی کے حامل ہیں۔نسائی حسیت اور مسائل کی پیش کش پر کافی عبور حاصل ہے۔ ترشنا، میں مرد مار بھلی، حسن کا معیار وغیرہ ان کے قابل ذکر افسانے ہیں۔میں مرد مار بھلی کی کردار کیرتی جو کانسٹبل ہے جب وہ اپنی دوست سنبل کو اپنے شوہر کے ہاتھوں پٹتے دیکھتی ہے تو بڑی غضبناک ہوتی ہے اس کو دیکھ کر اس کے اپنے زخم ہرے ہو جاتے ہیںجب اس کا باپ بھی اسی طرح اس کی ماں کو پیٹا کرتا تھا۔’’پتی پرمیشور۔۔۔لاتیں۔۔۔گھونسے۔۔۔دہاڑتا باپ،بلکتی ماں ایک کونے میں اس کا ننھا وجود۔‘‘ لہٰذا کیرتی ایسے مردوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتی ہے اور اپنے عہدہ کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے ایسے مردوں پر اپنا قہر برسا کر انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرتی ہے۔
نگار عظیم بھی اسی دور کی ایک اہم افسانہ نگار ہیں۔یہ بھی اپنے ہم عصروں سے متاثر ہیں۔ان کے بیشتر افسانے نچلے متوسط طبقے کے مسائل کی ترجمانی کرتے ہیں۔انھوں نے جنسی موضوعات پر بھی چندقابل بحث افسانے تحریر کیے ہیں۔لیکن ان کے یہاں فنی طور پر کچھ جھول سا ہے،البتہ موضوعات میں تازہ کاری ہے۔رشتوں کی اہمیت و معنویت پر ان کے چند افسانے مثلاً گہن، کنفیشن، فرض ،زہدہ مقدس اور تکمیل توجہ کے حامل ہیں۔ایک عورت رشتوں کے تئیں کس قدر حساس ہو تی ہے اس کی خوبصورت مثال اور رشتوں کے بدلتے معیار ان مذکورہ افسانوں میں بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں۔
صغیر رحمانی کے خواتین ہم عصروں میں ایک نام ترنم ریاض کا بھی لیا جا سکتا ہے۔جو تانیثی ادب کی ایک معتبر آواز ہیںاور مردکی اجارہ داری کے خلاف احتجاجی رویہ اپناتی ہیں ۔ان کے یہاں ازدواجی زندگی کے ساتھ ساتھ رشتوں کی نازکی اور انسانی جذبات کا موثر بیان ملتا ہے۔ان کے افسانوں میں مہمان ، پوتھی پڑھی پڑھی،بجھائے نہ بنے، عکس، نا خدا اورشہر قاری کی توجہ کھینچتے ہیں۔ ان کی کہانی ’مہمان‘نچلے طبقے کے مسائل، ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات اور ان کی نفسیات اور مزاج کی نمائندگی کرتی ہے۔جبکہ افسانہ ’شہر‘ میںنئی شہری زندگی کی پیچیدگیاں ،مسائل اور فلیٹ کلچر کو اجاگر کیا ہے۔یہ کہانی ایک ماں اور اس کے دو چھوٹے بچوں کی انتہائی تکلیف دہ صورتحال کو پیش کرتی ہے۔کہانی کے شروع میں ہی بنا کسی جواز کے ماں کی موت ہو جاتی ہے اس کے بعد بچوں کی جو بے بسی کی حالت ہوتی ہے قابل رحم ہے۔ افسانہ ’ناخدا‘ میں عورت کی بے بسی،لاچاری اور کرب و گھٹن کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو عملی طور پر معرض تحریر میں لانے کی اس طرح کوشش کرتی ہیںکہ قاری کے ذہن و دل پر گہرے اثرات مرتسم ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر عظیم راہی کا افسانوی مجموعہ ’اگلی صدی کے موڑ پر ‘توجہ طلب ہے۔اس مجموعے کی بیشتر کہانیاں عصر حاضر میں پنپنے والے مسائل کی آئینہ داری کرتی ہیں۔وہ اپنے افسانوں میںسیدھا سادہ بیانیہ انداز اختیار کرتے ہیں۔موجودہ زندگی کی بھرپور عکاسی ان کے افسانوں میںجا بجا نظر آتی ہے۔ ان کے افسانے اپنے خاص اسلوب سے پہچانے جاتے ہیں۔
مظہر سلیم کا ایک افسانوی مجموعہ’اندر کا ایک آدمی‘ منظر عام پر آچکا ہے۔انھوں نے عصر حاضر میں نئی نسل کی زندگی کی عکاسی شہری زندگی کے تناظرمیں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔’اندر کا ایک آدمی‘ جس میں افسانے کا کردار کئی داخلی و خارجی کشمکشوں سے دوچار ہوتا ہے اور ’واگھ مارے نے خودکشی کیوں کی؟ یہ افسانہ فسادات کی روداد پر مشتمل ہے۔یہ دونوں ان کے قابل توجہ افسانے ہیں۔مظہر سلیم نفسیاتی اور علامتی کہانیوں پر کافی دسترس رکھتے ہیں۔ابراہیم اشک کے بقول وہ ہمیشہ ایک نئے موضوع کی تلاش میں رہتے ہیںاور کہانی لکھتے وقت اس موضوع کی اہمیت کو سمجھ کر برتتے اور قارئین کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔
نورالحسنین بھی ۸۰ کے بعد ابھرتا ہوا ایک اہم نام ہے۔’بازی گر‘ ’دستک ‘اور’ دوسرے کنارے تک‘ان کے معروف افسانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔افسانہ دوسرے کنارے تک میں امیری اور غریبی کی طبقاتی کشمکش کو ابھارا گیا ہے ۔جبکہ بازی گر میں موجودہ سیاسی ، سماجی اورمعاشرتی پس منظر کو موضوع بناکر اپنے خیالات کو تقویت عطا کی ہے۔ان کے علاوہ قاسم خورشید اسی دور کے کہانی کار ہیں ان کا افسانہ ’باگھ دادا‘علامتی انداز بیان کے اعتبار سے اہم ہے۔اس میں بھوک کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اور اس کے توسط سے معاشرے کی بے حسی اور زوال پر بڑے تیکھے انداز میں سوالیہ نشان قائم کیا ہے۔
صغیر رحمانی کے ہم نواؤں میں معین الدین عثمانی بھی اہم قلم کار ہیں۔ان کے دو مجموعے ’متحرک منظر کی فریم‘ اور ’نجات‘ اشاعت سے ہم کنار ہو چکے ہیں۔ان کے افسانوں کے موضوعات متوسط طبقے کے مسائل کے اطراف گردش کرتے ہیں۔ان کا ایک افسانہ ’آندھی‘ مارکیٹ ویلیو کو اجاگر کرتا ہے۔ایک گاؤں جو گاؤں ہی کی طرز کا ہوتا ہے لیکن کچھ عرصے بعد جب افسانے کا کردار گاؤں واپس جاتا ہے تو گاؤں کی پوری ہئیت اور منظرنامہ ہی بدل چکا ہوتا ہے۔اس ماحول میں اسے بے حد گھٹن کا احساس ہوتا ہے ،لہذا وہ اس ماحول سے اکتا کر واپس لوٹ آتا ہے۔نورالحسنین اپنے ایک مضمون میں معین الدین کے متعلق لکھتے ہیں:’ اگر فنکار کی آنکھ کھلی ہو اور احساس بیدار ہو تو اسے افسانوں کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکنے کی ضرورت نہیں۔‘‘یہ قول ان کے فن کو سمجھنے کے لیے کافی مدد گار ثابت ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے قرب و جوار میں رونما ہونے والے مسائل کو نہ صرف موضوع بناتے ہیں بلکہ فن کے قالب میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں۔
شاہد اختر بھی اس عہد کا ایک اہم نام ہے۔یہ بھی اپنے ہم عصروں کی طرح مختلف موضوعات کو اپناتے ہیں۔ان کے افسانوں میں ایسے موضوعات و مسائل بھی ہیں جن پر عموماًہر ایک کی نظر نہیں جاتی۔انھوں نے جنسی مسائل ،انسانی زندگی کی پیچیدگیوں اور انسانی نفسیات پر بڑے فنکارانہ انداز میں گرفت کی ہے۔
ویسے تو ۸۰ کے بعد منظر عام پر آنے والوں کی ایک پوری کھیپ کی کھیپ ہے ۔جن کو یہا ں احاطۂ تحریر میں لانا ذرا مشکل ہے ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک علیحدہ مضمون درکار ہے۔تاہم ان میں سے کچھ کے ناموں کا تذکرہ کرکے ان کی موجودگی کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔اول الذکر ناموں کے علاوہ بھی کئی افسانہ نگار ایسے ہیں جو عصری تقاضوں کے ساتھ اپنے زمانے کا ساتھ نبھانے میں اہم رول ادا کر رہے ہیں:مثلاً خورشید اکرم، معین الدین جینا بڑے، انجم عثمانی،اشتیاق سعید، شبیر احمد،رفیع حید انجم، حقانی القاسمی، نفیس بانو شمع ،محمود شیخ ،حنا روحی،قنبر علی، تبسم فاطمہ،قمرجہاں ، غیاث الرحمٰن،انیس اختر، مجتبیٰ انجم، وغیرہ کو شامل کیا جا سکتا ہے۔
لیکن صغیر رحمانی اپنے ہم عصروں سے قدرے مختلف ہیں۔ان کے یہاں اپنے معاصرین سے کچھ ہٹ کر اور کچھ ان سے مشترک سلگتے موضوعات سے سابقہ پڑتا ہے۔ انھوں نے ایک نئے اسلوب اور لب و لہجے کے ساتھ اس جہان فکشن میں قدم رکھا۔انھوں نے جو کچھ لکھا اور جب سے لکھا وہ نہ تو ہوائی قلعے ہیں اور نہ محض ذہنی اختراع ہے،بلکہ سماج کے ایسے کریہہ پہلو اور تلخ حقائق ہیں اور وہ غلاظت ہے جس کی بساندھ پر لوگ ناک تو بند کر سکتے ہیںاسے وہاں سے ہٹانے کی جرأت نہیں کر سکتے۔ صغیر رحمانی کے قلم میں جو نوکیلی دھار ،ذہن میں جو تلملا دینے والا خیال ہے جب یہ دونوں باہم ضم ہوتے ہیں تو ایسی ایسی سفاک سچائیاں اور دلدوز واقعات و حقائق بے نقاب ہوتے ہیں کہ انسانی ضمیر بھی چند ثانیوں کے لیے جھنجھنا اٹھتا ہے۔اپنے خیال کی تصدیق میں ان کی چند کہانیوں ’ بو‘ ، ’ کائی‘ ، ’ حبضی کی آدھی شلوار‘ ’ ناف کے نیچے وغیرہ کو پیش کرتی ہوں ۔
صغیر رحمانی کا افسانہ ’بو‘ نہ تو منٹو کی ’ بو‘کی سلسلہ وار کہانی ہے نہ بین المتونیت پر مبنی افسانہ ہے اور نہ ہی اس میں وہ بو ہے جو رندھیر کے حواسوں پر اس قدر چھا جاتی ہے کہ پھر کسی دوسری عورت کی بو کو وہ کبھی اپنی سانسوں میںنہیں سما سکا۔در اصل صغیر رحمانی نے اپنے افسانے بو میں سماج کی ایسی گندھ کو پیش کیا ہے جس میں گٹر سے بھی زیادہ تعفن اور سڑاند ہے۔یہ افسانہ احاطہ کرتا ہے ہندوستان کے اعلی اور ترقی یافتہ شہر ممبئی کی جھونپڑ پٹیّوں میں رہنے والے ان افراد کا جو شرفا اور اعلیٰ طبقہ کی عیاشیوں کا نتیجہ ہیں اور روزی روٹی کی تلاش میں سرگرداں ہیںاورگٹر کی بدبو دار فضا میں رہتے ہیں۔یہ گٹر ممبئی جیسے چم چم کرتے شہر کی ہائی سوسائٹی کی ایجاد ہیں۔ افسانہ کا کردار بلاّ بھگو کو بتاتا ہے’’ اسی گٹر کے سینے میں تو کالی راتوں کا کالا پن چھپتا ہے۔‘‘
بلاّ بھی ایسی ہی کسی کالی رات کا کالا پن ہے جسے اس کی موسی جس کے ساتھ وہ رہتا ہے اسی سڑے ہوئے گٹر کی کوکھ سے نکال کر لاتی ہے۔اس کا یقین ہے وہ کسی بڑے صاحب کی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔جو برقی روشنیوں میں عیاشیاں کرتے ہیں اور ان روشنیوں کے تاریک پہلوؤں کو رات کی تاریکی میں گٹر کی گندھ کے حوالے کر جاتے ہیں ۔بلاّ اسی بستی میں رہتا ہے جہاں صرف سڑاند ہی سڑاند ہے۔اس دلدوز انکشاف کے بعد بلاّ کے مضطرب دل کو چین آجاتا ہے ۔اس لئے کہ وہ آج اپنے آپ سے ملا تھا، یہی گٹر اسکا ٹھکانہ تھا وہ اسی تعفن کا حصہ تھا۔پل پر کھڑے ہو کر روشنیوں کو دیکھتے ہوئے انتہائی بے بسی کے ساتھ سوچتا ہے کہ وہ بھی تو انھیں روشنیوں کا حصہ ہے، لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ان روشنیوں میں اسکا اپنا حصہ کتنا ہے؟موسی کا حصہ کتنا ہے؟ جسے بڑھاپے میں حوالات میں بند ہونا پڑتا ہے اور بھگو کی شناسا جمنا کا کتنا حصہ ہے جو لال چوڑیوں کی لاج کے لیے اپنی عصمت و جان پر کھیل جاتی ہے۔کیاقصورتھاان کا اور ان جیسے افراد کا ؟انھیں کیوں زندگی کے لباس میں مستقل عذاب کی بھٹی میں جھونک دیا گیا؟ صغیر رحمانی نے اس افسانے کے ذریعہ حساس اذہان کو بیدار اور سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجوڑتے ہوئے ایسے سماجی و معاشرتی مسائل پر غوروخوض کی دعوت دی ہے۔ اس میں انھوں نے ممبئیا کلچر پر گہرا طنز کیا ہے۔وہ کہتے ہیں:
’’ شہر کی ایجاد یہ گٹر تھااور گٹر کی ایجاد ایسی بستیاں۔اگر گٹر نہ ہوتو ایسی بستیاں قطعی آباد نہ ہوں۔۔۔۔۔یہ مبہم مبہم سے چہرے والے لوگ نہ ہوں۔۔۔‘‘
اس افسانے میں انھوں نے ممبئی کی بول چال کی زبان اور وہاں کے کلچر کو بڑی عمدگی سے افسانے کے تارو پود میں برتا ہے۔اور ایسے افراد کی بابت بھی گفتگو کی ہے جو تلاش معاش کے لیے وہاں جاتے ہیں اور در در کی ٹھوکریں اور نامرادی ہی جن کا مقدر ٹھرتی ہے۔
ہمیں آئے دن اخبار و رسائل اور نیوز چینل پر مار کاٹ، قتل و غارت گری، دہشت گردی ،عصمت ریزی،اغوا وغیرہ کی سنسی خیز خبروں سے سابقہ پڑتا رہتا ہے۔لیکن زندگی سے متعلق یہ واقعات اور حادثات ہر کو ایک ہی طرح سے متاثر نہیں کرتے، اخبارکی سرخیاں پڑھ کر کسی کا ردعمل ایک حد تک تحیر آمیز ہو سکتا ہے لیکن صرف وقتی طور پر۔اسی طرح نیوز چینل پر پیش کردہ خبروں کو کافی حد تک سنسنی خیز بنا کر صبح سے شام تک دوہرایا جاتا ہے۔اس کا اثر بھی چند ثانیوں کے لیے ہوتا ہے جو کہ چینل بدلتے ہی زائل ہوجاتا ہے۔لیکن مذکورہ حوادث اور المیوں سے متعلق ایک حساس دل اور وہ بھی کسی ادیب کا کیا محسوس کرتا ہے؟ کس زاویہ سے وہ اس کو پیش کریگا؟ اگر یہ دیکھنا ہے تو منٹو کے مشہور زمانہ افسانے ’کھول دو‘ ’ ٹھنڈا گوشت‘ حیات اللہ انصاری کا ’لہو کے پھول‘بلراج مینرا کا’ریپ‘ شوکت حیات کا ’گنبد کے کبوتر‘ سید محمد اشرف کا ’ڈار سے بچھڑے ‘شموئل احمد کا ’سنگھاردان‘ وغیرہ کو جو مختلف موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ہر واقعہ اور حادثہ سے متعلق ان سب کا الگ الگ نظریہ اور اظہار بیان ہے۔جو دیدہ وروں کے لیے حقائق کو بے نقاب کرتے ہیں۔اسی طرح جب ہم صغیر رحمانی کا افسانہ’ کائی‘ پڑھتے ہیںتو بے ساختہ منٹو کا افسانہ’ ٹھنڈا گوشت ‘نگاہوں میں گھوم جاتاہے۔اس میںبٹوارہ اور فسادات کے دورانیہ میںہوش وحواس سے عاری اور انسانیت سے بے بہرہ کردار اپنی جنسی ہوس کو مٹانے کے لیے ایک مردہ عورت سے جنسی تعلق قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔نتیجتاً اس کی مردانہ قوت زائل ہو جاتی ہے۔لیکن صغیر رحمانی اسی طرح کے واقعہ کو ایک نئے ٹریٹ مینٹ اور اسلوب کے ساتھ برتتے ہیں۔
کائی میں دو کردار گو سائیں اور بھوپت جو انتہائی غلیظ ،سفاک اوروحشی صفت ہیں ایک مردہ گھر میں کئیر ٹیکر کا کام کرتے ہیں۔ لیکن لاش کو اس کے عزیز یا دعوے دار کے حوالے کرنے سے پہلے اس سے سودہ بازی کرتے ہیںاور تگڑی رقم وصول کرکے شراب و کباب میں اڑادیتے ہیں۔جب جب دنگے فساد برپا ہوتے ہیں تو ان کی لاٹری لگ جاتی ہے ۔گوسائیں ہمیشہ ہی بھگوان سے فسادات اور بلووں کی پرارتھنا کرتا ہے تاکہ اس کا دھندا کبھی ماند نہ پڑے۔لہٰذا جب بلوے اور گہما گہمی ٹھنڈی پڑ جاتی ہے اور لاشیں ایک ایک کرکے ختم ہونے لگتی ہیں صرف ایک عورت کی لاش باقی رہ جاتی ہے۔چنانچہ مختلف مذاہب پر مشتمل کچھ لوگوں کی ایک جماعت وہ لاش طلب کرنے آتی ہے ۔چونکہ وہ عورت ایک سوشل ورکر تھی اور اس دنگے میں لوگوں کی مدد کرتے ہوئے ماری گئی تھی یوں وہ اس کا معاوضہ دینے سے منع کر دیتے ہیں۔تو گوسائیں مارے جھلاہٹ اور جھنجھلاہٹ کے آدھی بوتل شراب یک بارگی چڑھاجاتا ہے اوراپنی رقم وصولنے کے لیے نشے کی حالت میںلاش کے ساتھ وحشیانہ فعل کرکے درندگی کی تمام حدیں پار کر جاتاہے ،لیکن جب لاش میں کوئی حرکت نہیں ہوتی تو کہتاہے:
’’یہ سالی ہلتی ڈلتی کیوں نہیں۔۔۔ایک دم لاش کے ماپھک پڑے لا ہے۔۔۔۔؟
لاش کا احساس ہوتے ہی اس کا نشہ ایک دم پارہ بن کر اڑجاتا ہے اور بد حواس ہو کر بے اختیاراپنے ساتھی بھوپت کی جانب دوڑتا ہے جو اپنی باری کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ گوسائیں اسے گالی دیتے ہوئے کہتا ہے:
’’توتو اپن سے بھی بڑا کمینہ نکلا رے۔۔۔۔چل ہٹ۔۔۔جا ۔۔۔لاش ان لوگوں کے حوالے کر دے۔۔۔‘‘
منٹو اور صغیر رحمانی دونوں کے یہاں ایک بڑافرق یہ ہے کہ منٹو اپنے کردارپر شیطانیت طاری کرکے اس کو جنسی عمل سے گزارتے ہیںاوراس کے اندر پوشیدہ انسانیت کو بیدارکرکے احساس جرم اور احساس ندامت پیدا کرتے ہیں۔جبکہ صغیر رحمانی نے گو سائیں کو باوجود نشے اور جنون کے لاش کے ساتھ شیطانی عمل کرنے سے باز رکھ کر یہ ثبوت مہیا کرنے کی کوشش کی ہے کہ ابھی انسانیت کا پوری طرح سے قتل عام نہیں ہوا۔اس طرح لاش کی بے حرمتی ہونے سے بچا لیتے ہیں۔صغیر رحمانی کے اس افسانے(کائی) کے دوران مطالعہ کلیم الدین احمد کے اس قول کی بازگشت سنائی دینے لگتی ہے کہ:
’’اچھے افسانہ کی پہچان یہ ہے کہ وہ ہیجان ،ایک گہرا تلاطم پیدا کرے اور حدّ ِ خیال تک پھیلی ہوئی موجویں ابھرتی اور ڈوبتی چلی جائیں۔‘‘
لہٰذا بلا تامل کہا جا سکتا ہے کہ صغیر رحمانی کا یہ افسانہ دل و دماغ میں ایسا ہی تلاطم اور ہیجان پیدا کرتا ہے کہ قاری کچھ لمحوں کے لیے ششدررہ جاتا ہے اور سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے اس دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں!!
آزادی کے بعد ہندوستان میں دنگے فسادات ،ہجرت ،دہشت گردی ،اقلیتوں کے مسائل وغیرہ کافی زور پکڑ گئے ۔اردو افسانہ بھی ان مسائل سے اچھوتا نہ رہ سکا۔صغیر رحمانی نے ۷۰ کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات،مذہب اور دھرم کے نام پر شعبدہ بازی ،ذات پرستی،نسلی تعصب اور عقائد کے نازک دھاگوں کو جلتے دیکھا ہے۔مسلک، مذہب کی آڑ میں ہورہے سیاسی ظلم و جبر اور اسی قسم کے دیگر مسائل پر انھوں نے قلم اٹھایا ہے۔زندگی کے ہر پہلو کو صغیر رحمانی نے گرفت میں لینے کی کوشش کی ہے اور حقیقت نگاری اور حقیقت سے آگہی و ادراک کے امتزاج سے اپنے فن کو جلا بخشی ہے۔’حبضی کی آدھی شلوار‘’ لیکن یہ‘ ’داڑھی‘ ’ناف کے نیچے‘ وغیرہ افسانے کچھ اسی طرح کے سیاسی شعور ،سماجی ماحول ،اقلیتوں کے مسائل کا زائیدہ ہیں۔
’حُبضی کی آدھی شلوار‘افسانہ قارئین کو لمحہ ٔ فکریہ دیتا ہے۔یہ افسانہ سن ۷۰ کی جنگ ،پاکستان کی سیاسی صورتحال اور سانحہ ٔ بنگلہ دیش کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔جب مشرقی و مغربی پاکستان یہ دو الگ الگ نام وہاں کی عوام کے ذہنوں میں گونج رہے تھے۔سماجی و سیاسی حیثیتوں اورقدروںکے سبب ایک ہی ملک کے افراد ایک دوسرے کے مقابل آن کھڑے ہوئے تھے۔ ان نازک حالات میں افسانے کا کردار بدروجو کہ بہار سے تعلق رکھتا ہے ایک بنگالی مسلمان لڑکی سے شادی کر لیتا ہے۔بدرو اور حبضی کا نکاح وہاں کے لوگوں کے مابین مزید مخاصمت اور منافرت کا شعلہ بھڑکا دیتا ہے۔پھر یہ شعلہ آگ کی اونچی اونچی لپٹوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔اور یہ آگ بجھائی جاتی ہے بنگلہ دیش کے جنم سے ۔اس تنازع ،خوں ریزی اور افراتفری کے ماحول میں جان ومال ،عزت و آبرو کا بڑا نقصان ہوتا ہے۔سیاسی پارٹیاں تو تھیں ہی ظالم و سفاک مگرجو محافظ اور مدافعت پر معمور تھے وہ بھی کم وحشی اور شیطان نہیں تھے۔اس جنگ میں جو ان کے ہاتھ آیا بجائے اس کو تحفظ دینے کے مزید عذاب اور کرب میں مبتلا کرکے بے یارو مددگار چھوڑدیتے ہیں۔اس آگ زنی میں جب حبضی اور بدرو بھی آگ کی چپیٹ میں آجاتے ہیں اوریہی مدافعتی دستہ جب ان دونوں کی مدد کو آتا ہے اس وقت کی تمام روداد بدرو کی زبانی ملاحظہ ہو:
’’میری آنکھوںکے سامنے ہی وہ سب تماشا ہوا تھا۔۔۔۔حبضی کی ملائم ریشمی شلوار نے بھک سے آگ پکڑ لی تھی،وہ مدد کے لیے چیخ پڑی تھی اور کئی بھاری بوٹوںکی آواز اس کی مدد کے لیے گونجی تھی اس کی ادھ جلی شلوار بچ گئی تھی مگر۔۔۔ان چار چار مسٹنڈوں نے ۔۔۔اور تیز گندھ سے اس کی ناک ہی نہیں روح بھی۔۔۔‘‘
انتہائی افسوس اور کرب کا مقام ہے کہ ایسے ہنگامی حالات میں جب کہ جان کے لالے پڑے ہوں انسان کس سے مدد طلب کرے؟ کس کو لائق اعتنا سمجھے؟یہ افسانہ ہمیں ایک بار پھر سن ۴۷ کے بٹوار،فسادات میں ہونے والے غیر انسانی افعال اور ظلم واستبداد کی یاد دلا دیتا ہے۔اس افسانہ میں حذف کی تکنیک کو بروئے کار لاتے ہوئے ۷۰ کی جنگ اور پاکستان کے سیاسی و سماجی حالات وغیرہ کی غیر ضروری تفصیلات سے گریز کرکے یہاں صغیر رحمانی نے کمال فنکاری کا مظاہرہ کیا ہے۔
صغیر رحمانی نے اردو فکشن کے ہم عصر رجحان کے تحت پسماندہ اقوام ،بے بس اور کمزور جماعت کے مسائل ،دلت اور اقلیتی طبقے کی نمائندگی بھی کی ہے ۔یہ مسائل دیگر فنکاروں کے یہاں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔شموئل احمد کا ’القمبوس کی گردن ‘، سید محمد اشرف کا ’آدمی‘ عبد الصمد کا ’انہونی ‘ غضنفر کا ’خالد کا ختنہ ‘ حسین الحق کا ’نیو کی اینٹ ‘ احمد صغیر کا ’مریادا اور پنڈو رقص ‘ مشرف عالم ذوقی کا ’بخاری کی نیپکن ‘اور صغیر رحمانی کا’ لیکن یہ ‘چھو۔تی۔ تی۔ تی۔ تا‘ اور ’ناف کے نیچے‘ قابل ذکر افسانے ہیں۔جو ناقدین افسانے کے موضوعات کے حوالے سے اس واہمہ کی زد میں ہیں کہ’’ اردو افسانہ بین الاقوامی مسائل سے بے نیاز ہے،اسے میڈیا کے رول کی خبر نہیں،انھیں علاقائی مسائل سے دلچسپی نہیں۔دلت اور پس ماندہ معاشرے پر نظر نہیں جاتی۔‘‘وغیرہ لگتا ہے مذکورہ افسانوں پر ان کی نظر نہیں پڑی ۔صغیر رحمانی کا معروف افسانہ ’’واپسی سے پہلے‘‘، ’’ایک اور وہ‘‘اور’’ مونا‘‘بین الاقوامی مسائل ،غیر ملکی فضا اور طرز معاشرت کو درشاتے ہیں۔
ناف کے نیچے افسانہ میںسماج کے دبے کچلے اور دلت طبقے کی زبوں حالی کوموضوع بنایا گیا ہے۔پس ماندہ طبقہ کس طرح اپنی گزر بسر کے لیے جدوجہد کرتا ہے،روزی روٹی کے لیے بڑے گھروں میں خدمت انجام دیتا ہے۔لیکن یہی طبقۂ اشرافیہ ،مذہبی ٹھیکیدار اور سیاسی رہنما کس کس انداز میں انکا استحصال کرتے ہیں۔صغیر رحمانی کے یہاں اس کا بڑا بے باک بیان ملتا ہے۔اس افسانے میں کہیں احتجاج ہے تو کہیں ان ناگفتہ بہ حالات سے سمجھوتہ۔جب یہ دبے کچلے افراد ظلم و نا انصافی کے خلاف احتجاج کرتے ہیں یا اپنے حقوق کے تئیں بیدار ہوتے ہیں وہیں ان کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔سماج کے مختلف طبقے الگ الگ سطحوں پر ان کا استحصال کرتے ہیں۔یہ لوگ کبھی سیاست کی بساط پر مہروں کا کام انجام دیتے ہیں،تو کبھی فسادات کی آندھیاں چلا کر ان کی بیخ کنی کی جاتی ہے۔کچھ ایسی ہی صورتحال ’ناف کے نیچے‘ افسانہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔جہاں ذات پرستی اور مذہبی تفریق پروان چڑھی ہوئی ہے۔افسانہ کا مرکزی کردار دلت طبقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ہمارے ملک کے سماجی نظام میں جو برہمن واد،ذاتی تعصب ،نسل پرستی اور دھرم واد کا جو Concept ہے اس میں کوئی کم ذات کسی اشراف کے سامنے نہ بیٹھ سکتا ہے،نہ سر اٹھا کر چل سکتا ہے اور نہ ہی ان کی عبادت گاہوں میں عبادت تو دور قدم بھی نہیں دھر سکتا۔معاشرہ میں ایسے طبقہ کو ’ناف کا نچلہ حصہ‘ تصور کیا جاتا ہے۔ مرکزی کردار کا باپ اپنے بیٹے کو یہی نصیحت کرکے جاتا ہے جو اتنی قدیم ہے کہ ان کے یہاں پشتینی نصیحت کا درجہ اختیار کر چکی ہے کہ:’’ہم ناف کے نیچے والے ہیں ناف کے اوپر والوں کی خوشنودی حاصل کرنا ہی ہمارا فرض ہے۔مجھ سے بھول ہوئی ۔تم ایسی بھول نہ کرنا، اپنی حد عبور نہ کرنا۔‘‘اس میںانسان کی انتہائی بے بسی و لاچاری اپنی تمام تر’کراہ ‘کے ساتھ موجزن ہے ۔ڈاکٹر سید احمد قادری کے مطابق:
صغیر رحمانی کے افسانوں کے عنوان بھی بڑے معنی خیز ہوتے ہیں جو قاری کو چونکانے کے ساتھ ساتھ فوری طوراس طرح متوجہ کرلیتے ہیںکہ قاری افسانہ پڑھنے پر مجبورہو جاتا ہے اور ان کے افسانوں کے بیانیہ طرز اظہار کی خوبی اس طرح اپنے ابتدائی جملوں سے ہی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے کہ دھیرے دھیرے قاری افسانے کی سحر میں کھوتا چلا جاتا ہے اور جب افسانہ ختم ہوتا ہے۔ تب وہ جہاں ایک جانب افسانہ کی سحر سے نکلتا تو ضرور ہے لیکن دوسری طرف فکر و احساس کی دنیا میں ڈوبتا چلا جاتا ہے ۔ ‘‘
گرچہ میرا اس مختصر جائزے کا نقطۂ ارتکاز صغیر رحمانی کے افسانوں سے متعلق ہے لیکن دلت موضوع پر گفتگوکے باعث جملۂ معترضہ کے طور پرہی صحیح، ان کے ناول کا تذکرہ بھی لا زمی قرار پاتا ہے کہ صغیر رحمانی نے دلت طبقہ ، اس کی نفسیات ،اس کے مسائل اوراس کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر ایک بھر پور ناول بھی لکھا ہے۔ناول ہے’’ تخم خوں‘‘جو حال ہی میں اشاعت پذیر ہوا ہے۔یہ ناول اپنے موضوع دلت ڈسکورس سے نئے ذائقے اور نئی عصری حسیت کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔تخم خوں کواس اعتبار سے اردو کا پہلا ناول ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے کہ یہ ہندوستان کے دیہی سماج میں ہونے والی تبدیلیوں،دلت ڈسکورس ،سامنت واد،برہمن واد اور نکسل موومنٹ کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ اس ناول کے حوالے سے بر سبیل تذکرہ اتنا عرض کرتی چلوں کہ دبے کچلے افراد اور دلت موضوع کو وہی فنکار پوری شدو مد کے ساتھ تخلیقیت کے جامے میں پیش کرسکتا ہے جس نے اس طبقہ کے مسائل ،طرز رہائش،کھان پان کا قریب سے مشاہدہ کیا ہو، ان کے درد کو اپنے خون جگر میں انڈیلا ہو،تو بلا خوف یہ کہا جا سکتا ہے کہ صغیر رحمانی نے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کے راستے محض اس لیے ناپے ہیں تاکہ دیہی کلچر،دلتوں کے مسائل و مشکلات ،بہار کی معاشرتی صورتحال کی تصویر زیادہ مؤثر طریقے سے کھینچ سکیں۔اپنے ناول تخم خوں کے ضمن میں مصنف صغیر رحمانی خود رقم طراز ہیں:
’’میرا موقف اس پر ہے ۔۔۔کہ ادب معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے، تو اس آئینے میں تو سب کچھ دکھنا چاہئے ۔تخم خوں ؛وہی آئینہ ہے ۔ جب آپ اس کے روبرو کھڑے ہوں گے تو آپ کو اس میں بہار کے دیہی سماج کا وہ چہرہ نظر آئے گا جو آپ نے ہم عصر اردو ادب میں شاید ہی (یہ میرا دعویٰ نہیں،یقین ہے) دیکھا ہو۔‘‘
اس ناول میں کئی اہم کرداروں سے سابقہ پڑتا ہے لیکن ناول کے مرکزی کردار ٹینگر اوراس کی بیوی بلایتی ہیں۔جو دلتوں کے چمار ٹولے سے تعلق رکھتے ہیں اور زمینداروں کے کھیتوں پر مزدوری کرتے ہیں ۔ٹینگر نامرد ہے دونوں میاں بیوی اولاد کے سکھ سے محروم ہیںبالخصوص بلایتی بچے کے لیے زیادہ چھٹپٹاتی ہے ۔ اولاد سے محرومی ایک عورت کے لیے انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔ خاص کر ایسی عورت کے لیے جو پورے گاؤں کی زچگی کراتی ہے اور ایسے موقعوں پر بلایتی گاؤں والوں کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے۔ ٹینگر کو اپنی نامردی کا ہمیشہ قلق رہتا ہے لیکن کبھی اپنے دکھ کا کھل کر اظہار نہیں کر پاتا جبکہ بلایتی بچے کے حوالے سے امید کی جوت جلائے رکھتی ہے۔ یہی امید اور ناامیدی کی کیفیت ناول میں بھی ملتی ہے ۔ناول کا بیشتر حصہ بچے کے لیے بلایتی کی جدو جہد کو محیط ہے۔ اپنی اس ازلی خواہش کی تکمیل کے لیے وہ ہر حد لانگھنے کو تیار ہے۔ لہذا بلایتی ایک جانے مانے گیانی اوجھا جی کے پاس جاتی ہے تاکہ وہ کوئی حل بتا سکیں،اوجھا جی اس سے کہتے ہیں ’’مرد کو ساتھ لے کر آ۔۔۔۔تیری سمسیا کا سمادھان ہو جائے گا۔‘‘تو وہ اپنے پتی ٹینگر رام کو ان کے پاس لے جاتی ہے۔وہ ان دونوں کو دیکھ کر جو کچھ کہتا ہے اور جو سمادھان بتاتا ہے وہ بلایتی کی زندگی کا المیہ بن جاتا ہے۔وہ کہتا ہے:
’’کھیت ہی خراب ہے،بیج انکھوا نہیں پا رہا ہے،کھیت کسی برہمن سے شدھ کرانا ہوگا۔‘‘
اس کی باتیں سن کربلایتی متحیر ہو جاتی ہے لیکن اپنی ممتا کی تسکین کے لیے وہ ہر اقدام اٹھانے کو تیار ہو جاتی ہے اور کسی ایسے برہمن کو تلاشنے لگتی ہے جو اس کے کھیت کو شدھ کردے۔اس کام کے لیے اسے پنڈت کانا تیواری زیادہ موزوں لگتے ہیں دو چار بار چکر لگانے کے بعد ایک دن وہ اپنی عرضداشت ان کے سامنے بیان کر دیتی ہے:
’’پنڈت جی میرا کھیت شدھ کر دیجئے۔۔۔۔۔اوجھا جی نے کہا تھا کسی بابھن سے۔۔۔۔
اس کی بات سن کر پنڈت جی تلملاتے ہوئے جواب دیتے ہیں:
’’ارے تو کیا چاہتی ہے، میں تیرا کھیت شدھ کروں؟میں تیرے ساتھ سمبھوگ کروں؟میں؟ایک براہمن؟ارے نیچ ذات کیوں میرا ستیاناش کرنے پر تلی ہے؟کیوںمیرے کل ونش کا ناش کرنے پر تلی ہے؟میں یہ نہیں کر سکتا،نہیں کر سکتا۔‘‘
ایک برہمن کی منت سماجت کرنا بلایتی کو ذرا بھی معیوب نہیں لگتا کہ وہ ایک غیر مرد کوناجائز تعلق استوار کرنے پر بضد ہے کیونکہ یہاں اس کا مقصد محض اپنی گود ہری کرنا ہے لیکن یہ بات لوگو ں کے اندھ وشواس اور ضعیف الاعتقادی کا مظہر ہے ۔ اسے تو وہی کرنا ہے جس کی اوجھا نے قید لگائی ہے۔اس سے ایک دوسرے پہلو پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ اوجھا جیسے ڈھونگیئے عوام کو گمراہ کرکے ان پر اپنی برتری کا رعب جھاڑتے ہیں اور خود کو عوام کی خوشیوں ،امیدوں اور محرومیوں کا ضامن سمجھنے لگتے ہیں۔کھیت کی شدھی کے لیے برہمن کی قید لگانے سے جو رعب و دبدبہ بلایتی اور اس جیسے اندھی تقلید کرنے والوں پر پڑا وہ اس بات سے کہ کسی بھی ذات کے مرد سے شدھی ہونی چاہئے، ہر گز نہیں پڑتا۔ آج ہمارا ملک صرف جسمانی غلامی کی بیڑیوں سے تو آزاد ہے لیکن ذہنی اور نفسیاتی طور پر یہاں کے لوگ آج بھی غلام ہیں،اندھ وشواسی ہیں۔کیوں؟ اس لیے کہ تعلیمی بیداری سے بے بہرہ ہیں۔
’تخم خوں‘ایک ایسا آئینہ ہے جس میں غریبوں،مزدوروں ،جاہل دیہاتیوں اور عوام الناس کی تصویریںاس قدر صاف اور خوف ناک ہیں کہ اس پرہلکی سے ہلکی نظر ڈالنے والا بھی دہل جائے۔ المناک وارداتوںاور ناقابل بیان کلفتوں سے لبالب بھری زندگی تقریباً ۳۵۱ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔یہ ناول کہیں قاری کو سسکنے پر مجبو ر کردیتا ہے تو کہیں زیر لب مسکرانے پر۔اس مسکراہٹ کا سبب ہے پنڈت کانا تیواری کے توتلے اور معذور بیٹے ’’من جی بابا‘‘ کی زبان سے مکمل توتلے الفاظ کا ادا ہونا جو ناول نگارکی تخلیقی صلاحیت اور زبان و بیان پر مکمل عبور کی واضح دلیل ہیں:
ــ’’آدہیآیاہوںلیتنتوتونہے؟تاہےآئیہے؟‘‘منجیبابانےسوالوںکیبوچھاڑکردی۔
’’ بابا ۔۔۔ میں بلایت۔۔۔۔‘‘وہ رک رک کر بول پائی۔
’’الے بلائتی تو ہے؟اتنی بلی ہودئی ؟ اتھا بول تیا تام ہے۔‘‘[ص۵۵]
صغیر رحمانی نے کردار نگاری، منظر نگاری اور جزئیات نگاری کے توسط سے ناول کی بنت میں جس نہج کی مہارت اور مشاقی کا مظاہرہ کیاہے اور مکالموں کی مددسے کرداروں کی سوچ اور فکر تک جس انداز سے ر سائی حاصل کی ہے یہ ان کے گہرے مشاہدہ اور تجربے کو ظاہر کرتا ہے ۔ایسامعلوم ہوتاہے کہ انہوں نے اپنے کردار تخلیق کرنے سے پہلے ان سے ملتے جلتے کرداروں کی زندگیوں ،ان کے مسائل کا بھرپور جائزہ لیا ہے تب جا کر ان کے ناول کے کردار وجود میں آئے ہیں۔ عبدالصمدصغیر رحمانی کو لکھے گئے ایک خط میں ناول’ تخم خوں‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے خیالات کا کچھ یوں اظہار کرتے ہیں:
’’مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ آپ نے جس معاشرہ کی تصویر کشی کی ہے اس کی اتنی صحیح عکاسی آپ کیسے کر سکے ہیں؟ان لوگوں کے رہن سہن،بولی چالی،کھانے پینے ،مزاج، ویوہار کی ایسی واقفیت آپ کیسے حاصل کر سکے ہیں؟۔۔۔۔۔آپ نے ناول میں اپنے کرداروں کی زبان ہی استعمال کی ہے جو ظاہر ہے بہت عام فہم نہیں ہے، پھر بھی پڑھنے والے کی دلچسپی اس میں برقرار رہتی ہے۔اس کی وجہ۔۔۔۔ کہ یہ ایک ایساا موضوع ہے جو زندہ و آئندہ ہے،ہمارے آس پاس کا ہے،ہم کسی نہ کسی صورت میں تقریباًروز ہی اس سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔اردو میں اس موضوع پر بہت پہلے لکھنا چاہئے تھا۔میں نے بھی’دھمک‘میں اس موضوع کوہاتھ لگایا تھا،مگر آپ نے جس عرق ریزی اور گہرائی سے اس کا مطالعہ کیا ہے،وہ صرف آپ کا ہی حصہ بن گیا ہے۔نہ صرف موضوع بلکہ کہانی کا اتار چڑھاؤاور کردار نگاری یاد رکھنے کی چیزیں ہیں۔مجھے خاص طور پر یہ بات بہت اچھی لگی کہ سب کچھ تباہ ہو جانے کے بعد بھی آپ نے مستقبل کی ایک روشن لکیر کو بچایا ۔میرا ہمیشہ سے یہ ایمان رہا ہے کہ ناول نگار یا افسانہ نگار کوگھٹا گھور تاریکی میں بھی ایک روشن لکیر کو بچا لینا چاہئے۔یہ ایک ناول نگار کا منصب ہے۔اس کی تحریر ایک خفیہ پیغام ضرور ہونا چاہئے ورنہ پھر لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ نے ایک ناول نگار کی حیثیت سے اپنے منصب کو خوب پہچانا ہے۔‘‘
اس ناول میں صوبۂ بہارکے معاشرتی نظام میں رائج توہم پرستی ،روایت پرستی اورغلط مذہبی رسوم کو منظر عام پر لایا گیا ہے۔ سماج کئی ذاتوں میں بٹا ہوا ہے ، برہمن ، کھشتریہ وغیرہ،اونچی ذات والے خود کو ناف کا اوپری حصہ یعنی سب سے افضل و برتر تصور کرتے ہیں جبکہ اپنے سے نیچی ذات کو ناف کے نچلے حصہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ ذات کی یہی تفریق ناول کی تھیم کو دو طبقاتی حصوں میں منقسم کرتی ہے ایک حصہ میں اعلیٰ و ادنی کے مابین پنپنے والے تضادات پر روشنی پڑتی ہے اور دوسرے حصہ میں بلایتی کی جدو جہد اور کشاکش سامنے آتی ہے۔ ایک فرقے کی نمائندگی پنڈت کانا تیواری ،پاٹھک جی کرتے ہیں دوسرے کی بلایتی۔ یہ لوگ ان پر اپنا دبدبہ قائم رکھنے کے لیے سبھی حربے استعمال کرتے ہیں ۔نچلی ذات والوں پر ظلم و جبر کرنا ،استحصال کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔اسی لیے پنڈت کانا تیواری کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتا جس سے اس کی بدنامی اور رتبے میں کمی واقع ہو۔
پنڈت ہونے کے ناتے برہمنوں کا رعب و دبدبہ باقی دلتوں اور شیڈیول کاسٹ کے لوگوں پر جمانے کے لیے سبھائیں کرتا ہے، لیکن دوسری جانب چوری چھپے حیوانوں کی ہڈیوں کا گھٹیا پیشہ کرتا ہے۔اور اس کاروبار کابے نامی لائسنس ٹینگر کے نام پر ایک شیڈیول کاسٹ افسر ہی سے ایشوکراتا ہے اوراپنے ذاتی مفاد کے لیے ٹینگر کی بیوی بلایتی کو استعمال کرتا ہے ۔اپنی غرض کے لیے یہ لوگ ہر طریقے کو جائز سمجھتے ہیں۔
ان کے اس استحصال کا صرف ایک ہی طبقہ ذمہ دار نہیں ہے دیکھا جائے تویہ لوگ خود بھی اپنے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، اس طرح کہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف احتجاج نہیں کرتے اور اپنی عزت و بے عزتی کی کوئی پروا نہیں، دوسرے کہ وہ خود ان کے ساتھ ایسے ناجائز کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں جس میں اپنا مفاد شامل ہو۔تبھی تو انجانے میں ٹینگر اپنی بیوی کو خود شاطر پنڈت کانا تیواری کے ساتھ بی ڈی او کی جنسی تکمیل کے لیے اس کے پاس چھوڑ کر آتا ہے۔وہ بیوی کے ساتھ ساتھ پنڈت کے ہاتھوں اپنا بھی استحصال کراتا ہے اس بات کا انکشاف اسے اس وقت ہوتا ہے جب گاؤں کے ہسپتال میں جانوروں کے معالجہ کے لیے جو ٹیکے اور دوائیاں آتی ہیں اور کانا تیواری اپنے منافع کی غرض سے ان میں ہیر پھیر کرکے ٹینگر کو جیل کی سلاخوںکے پیچھے بند کرادیتا ہے۔ تب ٹینگرساری صورتحال پر غور کرکے پنڈت کانا تیواری سے دریافت کرتا ہے ’’ہجور! آپ کے جانور کیوں نہیں مرے تھے ؟‘‘ اس سازش کے ظاہر ہوتے ہی سارے گاؤں میں برہمنوں اور پنڈتوں کے خلاف محاذ آرائی شروع ہوجاتی ہے۔چمار اور دلت اپنی غربت اور ناخواندگی کے باعث سب کچھ اپنی تقدیر کا لکھا سمجھ کر آگے بڑھنے سے گریز کرتے ہیں ۔ انھیں منظم کرنے کے لیے کمیونسٹ خاص کر نکسل وادی کمیونسٹ دن رات لگے رہتے ہیں ۔ جو بعد میں ایک سیاسی ایشو بن جاتا ہے ،جس کا ناول میں تفصیلی ذکر ہے۔
گاؤں کے حالات ناسازگار ہونے کے با وجود بلایتی پنڈت کانا تیواری کے گھر کام کرنا نہیں چھوڑتی ۔کیونکہ اس گھرسے اس کا کافی پرانا رشتہ ہے اور وہ رشتہ من جی باباسے ہے۔من جی بابا پنڈت کانا تیواری کی اکلوتی اولاد تھی۔ پیدائشی معذور۔چھ، سات سال قبل جب پنڈتائین کا انتقال ہوا تھا، وہ صرف نو سال کے تھے۔اس وقت بلایتی ہی تھی جس نے ان کا ہر اچھا برا کام کیا تھا۔پھر و ہ اپنی موسی کے یہاںشہر چلے گئے، بس چند دنوں کے لیے ہی بیچ بیچ میںگائوںکا چکر لگالیتے تھے۔اکثر جب بلایتی رات کی تاریکی میں پنڈت سے ملنے آتی تو من جی بابا سے اُس کی مڈبھیڑ ہوجاتی ۔بلایتی پنڈت کے گھر کے چکر صرف اپنی مراد پانے کے لیے ہی لگاتی تھی لیکن پنڈت اس کو ایک چال سمجھتاتھا۔جب بھی وہ کھیت شدھی کی بات کرتی پنڈت ہمیشہ اس کی تذلیل کرتا:
’’ارے نیچ ذات! اب میں تجھ سے کیا کہوں؟ تم لوگ تو سر پر چڑھ کر موتنے لگے ہو۔ اصل میں قصور تم لوگوں کا نہیں ہے۔ یہ سب ’لال جھنڈین‘ کروا رہا ہے۔ ان ہی سبوں نے تم لوگوں کو ہاتھی کے کان پر چڑھا رکھا ہے۔کسی کو کچھ سمجھ ہی نہیں رہے ہو تم لوگ۔ جو منہ میں آ رہا ہے، بول بک دے رہے ہو لیکن میں بھی کہہ رہا ہوں۔یہ ٹھیک نہیں ہے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ تو جس سازش کے تحت یہاں آ رہی ہے، اس میںمیں تجھے کبھی کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔ اب توجا یہاں سے ۔‘‘
اس ناول کا مرکزی حصہ یہی ہے کہ پنڈت اس وجہ سے بلایتی کو دھتکار دیتا ہے کہ ایک شودر کے ساتھ شہوانی عمل کرنے سے وہ حاملہ ہو سکتی ہے۔ ایسی حالت میں وہ ایک براہمن کنیا یا پتر کو جنم دیگی۔پھر اسکی شادی اپنی ہی ذات یعنی کہ کسی شودر سے کریگی۔ اس حالت میں اگر کنیا ہوئی تو ایک براہمن کنیا کا بھوگ ایک شودر کرے گا۔یہ براہمن واد کی انتہا ہے کہ وہ بلایتی کی التجا کو بھی رد کر دیتا ہے کہ وہ ایک چمائین ہے لیکن دوسری طرف یہ پنڈت اور برہمن دوغلی زندگی جیتے ہیں۔ منہ میں رام رام اور دلوں میں تعصب ، بھرشٹاچاراور لالچ جس کی عمدہ مثال ناول کا اثرانگیزکردار، پنڈت کانا تیواری ہے۔جو کسی نچلی ذات سے مس ہو جانے کو اپنا دھرم بھرشٹ ہونا سمجھتے ہیں ۔ کہانی میں ٹوسٹ تب آتا ہے جب اتفاقاََ ایک واقعے میں پنڈت کانا تیواری کا بیٹا من جی بابا بلایتی کے ساتھ زیادتی کر بیٹھتا ہے اور بلایتی حاملہ ہو جاتی ہے۔ جس کام کے لیے پنڈت آخری وقت تک منکر رہتاہے وہ اس کا بیٹا من جی بابا بلایتی کے ساتھ زور زبردستی کرکے انجام دے دیتا ہے۔اس طرح بلایتی کے کھیت کی شدھی بھی ہو جاتی ہے اور برسوں پرانی اس کی خواہش کی تکمیل بھی ۔پنڈت اسکا حمل گروانے کے لئے کون جتن نہیں کرتا کہ اس کے حمل میں پنڈت کی اپنی ہار صاف نظر آرہی تھی۔پنچایت انتخابات میں بلایتی کے مقابلے کسی طور جیت حاصل کر لینے پر پنڈت بڑے غرور سے کہتا ہے کہ ’’ مجھ سے ٹکرانے چلی تھی،پہاڑ سے ٹکرانے چلی تھی، ہم صرف جیتنے کے لئے ہیں، ہم صرف جیتتے ہیں۔۔ ۔‘‘ تب بلایتی کا یہ کہنا ۔۔۔’’ نہیں مالک، آپکی ہار تو میری کوکھ میں پل رہی ہے۔۔۔‘‘ ایک کھلا چیلینج ہے براہمن وادی اور منو وادی نظام پر اور بلایتی کا یہ چیلینج اس نظام کو پوری طرح سے ہلا کر رکھ دیتا ہے۔
پہلی نظر میں یہاں کچھ سوال ذہن میں کوندنے لگتے ہیں کہ اب جبکہ بلایتی کی دیرینہ آرزو کی تکمیل ہونے جا رہی ہے پنڈت کے معذوربیٹے کے توسط سے ہی صحیح، لیکن وہ اس معاملے کی تشہیرکرکے اس کو زنا بالجبر قرار دے کر تنازعہ کیوں کھڑا کرتی ہے ؟اسے تو اس بات کوپردۂ راز میں رکھنا چاہئے تھا۔ بلایتی کے بلاتکار کے بارے میں تنظیم کو کس نے مطلع کیا؟اس راز سے تو صرف بلایتی اور من جی بابا کے سوا کوئی واقف نہیں تھا؟ تو اسکا جواب یہ ہے کہ وہ اپنا کھیت شدھ کرانے پنڈت کے پاس جاتی تھی کہ یہ اسکی اپنی مرضی تھی لیکن من جی بابا نے جو کیا اس میں مرضی کا نہیں زبردستی کا دخل تھا اور ہمیں اثبات و نفی کے اس باریک فرق کو سمجھنا ہوگا۔ اسی طرح قاری ٹینگر کے کردار کو لیکر بھی کسی حد تک بھول بھلیا کا شکار ہو سکتا ہے کہ اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود کہ اس کی اپنی بیوی انتہائی اذیت میں ہے ،خود اپنا ہی چمار طبقہ چاروں طرف سے آفتوں اور مصیبتوں میں گھرا ہو اہے ۔ٹینگر تب بھی پنڈت کی غلامی کرتا رہتا ہے اس کی زیادتیوں اور ناقابل تلافی کرتوتوں کو جان بوجھ کر پوشیدہ رکھتا ہے۔ مزید برآں کہ نکسل واد تنظیموں سے بھی وابستہ رہتا ہے۔ حالانکہ کہ یہ دونوں ہی مرکزی کردار ہیں اور دلت طبقہ کے نمائندہ بھی۔اگر یہ لوگ اپنے اوپر ہونے والے مظالم اور جبر کے خلاف مظاہرہ کرتے ،سب کچھ اپنی تقدیر کا لکھا سمجھ کر اس پر اکتفا کرکے نہیں بیٹھ جاتے تو یوں ساری زندگی ذہنی عذاب اور جسمانی کلفتوں سے دوچار نہیں ہوتے ،لیکن چونکہ صغیر رحمانی نے دیہی سماج کی جیتی جاگتی تصویر کی عکاسی کی ہے تو ہمیں جان لینا چاہیے کہ آج بھی اس سماج میں ایسے کردار ہیں جو اپنے مالک کو اپنا خدا سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف جانا گناہ کبیرہ سے کم تصور نہیں کرتے۔پروفیسر ابو الکلام قاسمی کی ادارت میں شائع ہونے والے جریدے’’ امروز‘‘کو دئے گئے ایک انٹرویو کے ایک سوال کے جواب میں سید محمد اشرف صغیر رحمانی کے ناول’’ تخم خوں ‘‘کے موضوع ،پلاٹ اور کردارسے متعلق اظیار خیال کرتے ہیں کہ:
’’۲۰۱۶میں صغیر رحمانی کا ناول ’’تخم خوں‘‘شائع ہو ا ہے جو ایک ایسے موضوع پرہے جو اردو میں کم لکھا جاتا ہے۔۔۔۔صغیر رحمانی کے ناول تخم خوں میں بہار کے دلتوں کا ذکر جس انداز میں ہے اور وہاں احتجاج کا علم اٹھانے والے دیہات کے غریبوں کا جس انداز میں طویل بیانیے میں ذکر ہوا ہے وہ اس بات کی راہ روشن کرتا ہے کہ اردو فکشن بھی سمانتر کہانیوں کا جواب رکھتا ہے۔تھیم ،پلاٹ عام اردو داں طبقہ کے لیے نامانوس کردار اور ان کے نام،مقامی بولی اور بلاشبہ سینکڑوں اسمائے معرفہ کا فطری استعمال اور ناول کی ہیروئن ’بلایتی‘ کا کرداراسے ایک یادگار تخلیق بناتا ہے۔یادگار بھی اور مختلف بھی۔‘‘
ناول کے دوسرے کرداروں میں مانجھی کا کردار متاثر کرتاہے جو ابتدا تا آخر اپنے ارادوں کا پابند رہتا ہے اور اپنے ساتھیوں جئے چند رام اور سکھاڑی کے ساتھ مل کر تنظیم کے کام انجام دینے میں متحرک رہتا ہے۔ اگھورن کے کردار سے بھی صغیررحمانی نے بڑی حد تک انصاف کیا ہے ۔ وہ تشدد کے خلاف ہے اور نکسلی تحریک کے خلاف مظاہرہ کرتاہے ’’ کرانتی کرنے والے ۔۔۔۔؟ تم کب سے کرانتی کرنے والے ہوگئے ۔۔؟ کرانتی کا بیسوا کا نتھ ہے جسے کوئی بھی اتار لے ۔۔۔؟کاہے کھود سے منہ میاں مٹھو بنتے ہو۔۔۔؟ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔’’ کرانتی کرنے والے ۔کرانتی کاری۔۔۔کمریڈ۔۔۔اتنے سالوں میں ۔۔۔۔پچھلے لگ بھگ چالیس پینتالیس سالوں میں کھون کھرابا کے الاوا کوؤن سی کرانتی کردی ہے تم نے ۔۔۔؟کون سا بھلا کردیا ہے تم نے غریبوں کا ۔۔۔؟ ‘‘(ص۳۴۰)
یہ کلمات محض کلمات نہیں ہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہیں کہ ہندوستان میں نکسلی تحریک کے پوری طرح کامیاب نہ ہونے کے پیچھے بنیادی وجہ اس تحریک کا بے راہ روی کا شکار ہو جانا ہے۔ مجموعی طور پر یہ بات بلا تردید کہی جاسکتی ہے کہ ناول’تخم خوں‘ میں زندگی کے بے رحم پہلوؤں اور عصری تقاضوں کے بدلتے نظام کی پیش کش اور دلت سائیکی،اس طبقے میں آنے والی فکری تبدیلیوں کو پیش کرکے صغیر رحمانی نے دلت لفظیات اور ترقی پسند جمالیات کا از سرِ نو ترتیب کا جواز پیش کیا ہے۔زبان و بیان کے اعتبار سے بھی بہت صاف ،سلیس اور سلجھا ہوا ناول ہے ۔اسی لیے بہار ی معاشرہ کی بول چال ،رسم و رواج کے بے حد قریب ہو گیا ہے ۔صغیر رحمانی نے جس مسئلہ کو اٹھایا اور جس معاشرہ کے حسن و قبح کو وہ منظر عام پر لانا چاہتے تھے اس میں بڑی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔اپنے خیال کی تصدیق کے طور پر دیپک بدکی کا یہ قول نقل کرنا چاہوں گی جس کا اظہار انھوں نے اس ناول کے حوالے سے کیا ہے ملاحظہ ہو:
’’صغیر رحمانی نے ناول کو بہار کے سیاسی و سماجی تناظر میں پیش کیاہے اور بڑی دقیقہ شناسی سے نہ صرف موضوع بلکہ کرداروں اور واقعات کو بھی چن لیا ہے ۔بہار ایک ایسی جگہ ہے جہاں موسم ، قانون اور سیاست پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ۔کب کون کیسا رنگ اختیار کرلے کسی کو نہیںمعلوم ۔ ناول ’تخم خون ‘ اسی معاشرے کو آئینہ دکھانے کی کامیاب کوشش ہے۔ ناول ، ظاہر ہے ایک بہت بڑا کینواس ہوتا ہے جس میں اگر ناول نگار چستی اور مرکزیت پر دھیان نہ دے ، تو بیانیہ میں جھول پڑنے کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے ۔ اس حوالے سے ناول نگار کافی کامیاب رہے ہیں۔برہمن واد اور سامنت واد پر مبنی یہ ناول دلت ڈسکورس پر ایک اچھا اضافہ ہے حالانکہ بعض جگہ قنوطیت حاوی ہوچکی ہے ۔ ناول میں موجودہ دور کی جمہوریت ، افسر شاہی ، رشوت خوری، پولیس کی زیادتیوں اور تصویری تشہیر کو بڑی ہنر مندی سے بیان کیا گیا ہے ۔ ذات پات پر جوڑ توڑ ، غنڈہ گردی ، سرکاری عنانت و انفعالیت، اگڑوں کی حمایت اور پچھڑوں کی نظر اندازی ، ووٹ کی سیاست اورمیکانیت و خودکاری کے اثر پر بھی خوب روشنی ڈالی گئی ہے ۔ ناول کو پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ ہماری دیہاتی زندگی پریم چند کے زمانے سے زیادہ آگے نہیں بڑھی ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت بدیشی حکمراںتھے اور اب سودیشی ہیں ۔‘‘
چلیے اب ایک بار پھر ہم رخ کرتے ہیں صغیر رحمانی کے افسانوں کی جانب۔
صغیر رحمانی کاافسانہ’واپسی سے پہلے‘ جب شائع ہوا تو اس نے جلد ہی اردو داں حلقہ کو اپنی جانب متوجہ کر لیا،ان کے اسلوب اور افسانے کی کرافٹ نے ڈاکٹر محمد حسن کو بھی چونکا دیااور ڈاکٹر حسن صاحب رسالہ عصری ادب کے اداریہ میں یہ لکھنے پر مجبور ہوگئے کہ:
’’اس بارہمارا دامن نایاب تحفوں سے بھرا ہے۔خاص طور پر افسانے ایسے چنے گئے ہیں کہ اس سے قبل ’’عصری ادب ‘‘ کو شاید میسر ہوئے ہوں۔ان میںبھی سب سے نمایاں ہے ’’واپسی سے پہلے‘‘۔کسی طرح یقین نہیں آتا کہ روسؔ کی زندگی کے بارے میں ہی نہیں، وہاں کی عالمگیر معنویت رکھنے والے حالات پر ایسا بھر پور افسانہ ہندوستان میں لکھا جا سکتا ہے۔کیسا تازہ، کیسا خیال افروز۔۔۔ ‘‘
صغیر رحمانی کے افسانے بالخصوص ’چھو۔تی۔ تی۔ تی۔ تا‘ اور’ ناف کے نیچے ‘مذکورہ ناول میں پیش کردہ موضوع سے تعلق رکھتے ہیں۔۱۹۱۷ میں سرمایہ دارانہ نظام،بورژوا اور فیوڈل طبقہ کے خلاف روس میں آنے والے انقلاب عظیم نے ساری دنیا کے استحصالی طبقوں ، بڑے بڑے مفکروں،ادیبوں اور سماجی رہنماؤں کو متاثر کیا تھا۔’’واپسی سے پہلے‘‘ افسانے میں روس کے اسی اشتراکی نظام اور کمیونزم کے زوال کو موضوع بنایا گیا ہے۔افسانہ کا کرداردموع ترقی اور تبدیلی کی بجھتی مشعل کو روشن رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔اس افسانے میں پرانا اگرچہ برا نہ ہو، اسے نئے پر فوقیت دی گئی ہے۔بقول افسانے کی کردارالیوا:
’’جسے ہم پرانا کہتے ہیںاور جس کی بنیاد پر تبدیلی کی مانگ کرتے ہیں،برا بھی ہو ،ناکام بھی ہواور اس بات کو دموع سمجھتے ہوں گے اور ہم اور آپ بھی کہ اسے ناکام نہیں کہا جا سکتا۔‘‘
بعد ازاں الیوا نامی لڑکی بھی اس مشن میں اس کی ہمنوا بن جاتی ہے۔چونکہ تبدیلی کائنات کا فطری معمول ہے ،دموع اور اس کے ساتھی موجودہ نظام کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اوربنا کسی جارحانہ رد عمل کے تبدیلی کی مانگ کرتے ہیں۔ وہ بورژوا اور سرمایہ دارطبقے کی نئی استحصالی نوعیتوں اور قوتوں کو بے نقاب کرنے کے لیے آواز اٹھاتے ہیںاور تبدیلی سے متعلق کچھ لازمی امور پر سوالیہ نشان قائم کرکے پورے سماجی نظام کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔
’’۱۔بھوک سرمایہ داری کے بطن سے پیدا ہوتی ہے۔‘‘
’’۲۔اس فرسودہ نظام کی بنیاد آزاد مارکیٹ کے اندھے تقاضوں پر ٹکی ہے۔‘‘
’’۳۔کیا انسانی ارتقا محض ایک دھوکہ ہے؟‘‘
’’۴۔کیا دبے کچلے انسانوں کی تقدیر میں ایک رات کے بعد دوسری رات لکھی ہے؟‘‘
یہ ایسے سوال ہیں جو ہر اس ملک ،ہر اس سماج اور ہر اس نظام میں اٹھائے جاتے رہے ہیں اور اٹھائے جاتے رہیں گے جب جب طاقتور کمزورکو دباتا رہے گا۔اور یہ صرف سوال ہی نہیں ہیں بلکہ زندگی کا وہ کڑوا سچ ہے جسے پینے کی یا اس کا سامنا کرنے کی ہر کسی میں ہمت نہیں۔لیکن ہر ذی حس اور صاحب ضمیر کو بیدار ضرور کر سکتا ہے۔ لہٰذادموع ،الیوا اور اس کے ساتھی ان Aspectsکے ساتھ ایسی تبدیلی کی خواہش کرتے ہیں جس میں نئے سے پرانے نظام کی تجدید اس طرح ہو کہ ملک کی کھوئی ہوئی عظیم تاریخ وتہذیب زندہ ہو سکے اور آنے والا کل روشن و تسلی بخش ہو۔
جبکہ کہانی ’مونا‘ میں ایک طرف ازدواجی زندگی کے مسائل ،انسانی رشتوں کی شکست و ریخت پر روشنی ڈالی گئی ہے تو وہیں دوسری طرف کہانی کے مرکزی کردار مونا کے توسط سے ایسے انسانوں سے ہمدردی اور ترحم کا جذبہ پیدا کیا گیا ہے جن کو غیر تو دور اپنے بھی قابل ترس اور لائق ہمدردی نہیں سمجھتے۔یہ ہیں ہاتھ پاؤں سے معذور ،گلے سڑے کوڑھ کے وہ مریض جنھیں ان کے ہی عزیزوں نے وجود کے کسی ناکارہ حصہ کی مانند اپنی زندگی سے کاٹ کر پھینک دیا ہے۔ایسے قابل نفریں لوگوں کے لیے مونا اپنی محبت اور اپنی پوری زندگی وقف کر دیتی ہے۔ ان کی جسمانی کلفتوں اورزخموں پر مرہم رکھتی ہے ۔پوری لگن اور تن من دھن سے ان کی ماں بن کرخدمت انجام دیتی ہے۔وہ فرانس سے ہندوستان بھی محض اسی مقصد کے لیے روانہ ہوتی ہے جہاں ایسے افراد کی تعداد اور حالت دیگر ممالک کے بر عکس دگر گوں ہے۔
افسانہ ’جہاد‘ ،’لیکن یہ‘ اور ’داڑھی‘ وغیرہ خوف و دہشت گردی ،مذہبی تعصبات، مسلمانوں کے دینی و دنیاوی اصول و علوم کا زوال، ماحول سے نا ہم آہنگی ،تنازعات اور اسلام فوبیا جیسے عناصر کا احاطہ کرتے ہیں۔ہندو مسلم فسادات کے نتیجے میں ہندوستانی مسلمانوں کی تہذیبی اقدار روز بروز مختلف قسم کے مصائب و خطرات کا نشانہ بنتی جا رہی ہیں۔گزشتہ تمام موضوعات سے متعلق دیگر افسانہ نگاروں نے بھی خامہ فرسائی کی ہے۔اس ضمن میں طاہر انجم صدیقی کا ’ابلیس اعظم‘ایم مبین کا ’نئی صدی کا عذاب‘خورشید حیات کا ’انسانیت کے دشمن‘اور ارشد نیاز کا’یہ جہاد نہیں انتقام ہے‘افسانے قابل ذکر ہیں۔افسانہ ’جہاد ‘ ایک ایسے ضعیف الاعتقاد تبلیغی ملا کی کہانی ہے جس کے اندر اسلامی تعلیمات کی بُو باس ہے اور نہ سمجھ بوجھ ۔لیکن وہ اسلام اور مسلمانوںکی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا چاہتا ہے ۔بنا علم اورتعلیم کے نہ مسلمانوں میں بیداری لائی جا سکتی ہے اورنہ اسلام کی صحیح شناخت کرانا ممکن ہے اس سے تو مذہب کو نقصان ہی پہنچے گا۔شمس جیسے جہادی مبلغوں کے’’جہاد‘‘سے اسلام کی چھوی بجائے درست ہونے کے مزید خراب ہو جاتی ہے،اور ایسے ہی لائق نفریںکرداروں سے مل کر وہ فسادی طبقہ تشکیل پاتا ہے ،جوعام مسلموں کو داڑھی یا انکی ظاہری ہیئت کی بنا پر دہشت گرد بنا دیا جاتاہے۔ صغیر رحمانی نے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ جہاد کی باتیں کرکے تبلیغ اور جہاد کی ترغیب دینا ہی خدا کی خشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ انسانیت کی خدمات انجام دینا،ضرورت کے وقت کسی کی حاجت روائی کرنا بھی جہاد ہے۔ افسانہ کی قرأت کے دوران قاری بھاگلپور،میرٹھ، ممبئی،گجرات کے واقعات پر کڑھنے یاایران، عراق، افغانستان اور پاکستان کے لیے تڑپنے والے جہادی ملاسے ہمدردی رکھنے کے بجائے اس محنت کش درزی کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے جو ایک حادثے میں زخمی ہونے والے اپنے پڑوسی کو خون دینے نکل کھڑا ہوتا ہے ۔
اس افسانہ کے وسیلے سے صغیر رحمانی نے مسلمانوں کو اپنے تہذیبی اثاثے کو محفوظ کرنے ، خدمت خلق کی جانب مائل کرنے، باہم متحد ہونے ،اور عصری تقاضوں کے تئیں احساس بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔محمد حمید شاہد’جہاد‘ کے معنی و مفہوم کو آج کے تناظر میں پیش کرتے ہوئے صغیر رحمانی کے افسانے ’’جہاد ‘‘پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جس عہد میں ہم جی رہے ہیں اسے محض حواس باختگی کا زمانہ ہی نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں زندگی کے لطف اور اس کے اندر موجود تخلیقیت کو لذت اور افادیت سے بدل لیا گیا ہے ۔ جی صاف لفظوں میں کہوں تو یوں ہے کہ تخلیقی عمل جو انسانی زندگی کو ایک خاص لطف سے ہمکنار کرتا تھا وہ آج کے عہد کی بظاہر ترجیحات میں کہیں نہیں ہے۔ میڈیا کی مقبولت اور پھیلائو نے جس نمائشی اور لذیذ زندگی کومابعد جدیدیت والے جدید تر آدمی کے لیے نمونہ بنا دیا ہے، اس نے تہذیبی اور اقداری نظام میں دراڑیں ڈال دی ہیں ۔ ایسی دراڑیں۔۔۔۔ مثلا ًدیکھیے کہ ’’جہاد‘‘ ان دنوں تک کہ جب تک روس افغانستان میں پسپا نہیں ہو ا تھا، سامراجی قوتوں کا محبوب بیانیہ تھا ۔ بدلی ہوئی صورت حال میں، جہادی آدمی مردود ہو گیا ہے مگر اپنے رد کیے جانے تک اس آدمی نے اس مذہبی اصطلاح کے معنی تک بدل کر رکھ دیے ہیں ۔’’جہاد‘‘ نامی افسانے کا شمس ،دین کے جس تصور کی تبلیغ کر رہا ہے ، اس کی صورت بہت بگڑ چکی ہے، اب تو اس کی نسل بھی اس بگاڑ کا شکار بن رہی ہے ۔ اس کے مقابلے میںہمارے افسانہ نگار نے اس کردار کو اہمیت دی ہے جو اپنے بچوں کی پرورش اپنی محنت سے کمائے ہوئے رزق سے کرتاہے۔‘‘
افسانہ’’لیکن یہ‘ ‘دہشت گردی اور آتنک واد جیسے خوفناک رجحان پر مبنی ہے۔ طویل عرصہ سے ملک میں ہونے والے دنگوں ،دہشت گردانہ حملوں اور فسادات کے لیے اسلام اور مسلمانوں کو براہ راست ٹارگیٹ کیا جاتا رہا ہے۔معاملہ خواہ بھاگلپور، میرٹھ ، ممبئی ،یا گجرات فساد کا ہو،گودھرا یا اکشر دھام کا ہو،ورلڈٹریڈ سینٹر،سنسد بھون پر حملوں کا ہو،یا بابری مسجد کا انہدام ،جے پور، احمدآباد، کشمیر،یا غیر ملکی سطح پر اسرائیل ،فلسطین ،بغداد،پاکستان وغیرہ ہی کیوں نہ ہوں ان سب کے لیے مسلم قوم کو ہی نشانہ ٔ ہدف بنایا جاتا ہے ۔موجودہ صدی میں ایک اور نام کا اضافہ ہوا ہے وہ ہے ’دہشت گردی خاتمہ مہم‘ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ اس کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔لیکن اس کے پس پردہ کیا ہو رہا ہے غالباً اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں،ہر صاحب بصیرت اس سے ضرور واقف ہوگا۔ اس افسانہ میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ نئی نسل جو ان رموز اور سرّیت سے واقف نہیںانھیں کس طرح ان مہم کا شکار بنایا جارہا ہے۔میڈیا اور محکمہ ٔ پولس کے ذریعہ پھیلائی جانے والی دہشت کی جانب توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے ۔مصنف نے نئے اور معصوم اذہان میں اسلام کے حوالے سے پیدا ہونے والے استفہام اور الجھنوں کو دور کرنے کے لیے دعوت فکر دی ہے ۔افسانے کے کردار کریم بخش کے ذریعہ مذہب اسلام کی صحیح شناخت کو پیش کیا ہے ۔اور اس غلط فہمی کا ازالہ کرنے کی بھی سعی کی ہے جو اسلام کو آتنک واد کا دوسرا نام قرار دیتے ہیںاورکہتے ہیں:
’’اسلام وحشی ہے۔۔۔۔دراصل انسانیت کا دشمن۔۔۔جو بے گناہوں کا خون بہائے۔۔۔۔ جو نہتوں پر وار کرے۔۔۔جو چھپ کر گھات کرے۔۔۔ وہ اسلام نہیں ہو سکتا۔‘‘
صغیر رحمانی نے کمال فنکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لفظ’ اسلام ‘کے ذریعہ جو ایہام پیدا کیا ہے اس نے افسانے کو مزید پرکشش اور بامعنی بنا دیا ہے۔
افسانہ ’’داڑھی ‘‘ میں بھی اسی صورتحال کوبیان کیا گیا ہے کہ کس طرح مسلمانوں بالخصوص داڑھی والوں کے ذریعہ عوام میں خوف اور سراسیمگی پیدا کی جاتی ہے اور محض داڑھی کی بنا پر انھیں دہشت گرد بنا دیا جاتا ہے۔آج ہم مسلسل خوف ،ہراس،نفرت اور سراسیمگی کے سائے میں جی رہے ہیں،اس ہراس اور سراسیمگی نے انسانی اذہان اور قوتوں کو ماؤف کرکے رکھ دیا ہے۔اور اس میں سب سے بڑا رول ہے میڈیا کا۔میڈیا نے ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کر لی ہے ۔نشہ آور دواؤں کی طرح وہ ہمیں ایسی خبریں سنا کرسلانا چاہتے ہیں جن سے ذہنوں کوغور کرنے پر زحمت نہ دی جائے۔ اس میں سماج کی عام ذہنیت کو پیش کیا گیا ہے۔جس میں ہم خودکسی بھی ایسے شخص کو دہشت گرد سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔یہ افسانہ داڑھی یا دہشت گرد ی کوہی موضوع نہیں بناتا بلکہ یہ تو اس دہشت زدگی کو بے نقاب کرتا ہے جو ہمارے وجودمیں گھر کیے بیٹھی ہے ۔ ہمہ وقت ہم ایک عجب طرح کی بے چینی ، گھبراہٹ اور غیر یقینی سی کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں۔چپے چپے پر پولیس ناکے بندیاں ، تلاشی ، سونگھتے کتے ، بندوق سنبھالے فوجی جوان، چلتے چلتے کہیں بھی روک لیا جانا ،سامان کا کھلوایا جانااور ایک ایک چیز کو باریکی سے دیکھنا،جو انسان کی انا اور روح کو گھائل کر دینے کے لیے کافی ہیں۔
’’داڑھی‘‘ایک ایسی ہی علامت بن کر ہمارے سامنے آتی ہے جو دہشت گردی منافقت،تشدداور خوف جیسی مشترکہ کیفیات سے عبارت ہے۔اگر کوئی داڑھی والا شخص کسی راستے پر نکل جاتا ہے سفر کر رہا ہوتا ہے تو دوسرے مسافر اُسے مشتبہ و مشکوک نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں،اس سے بات کرنا یا اس کے قریب بیٹھنا تک معیوب سمجھتے ہیں۔ایسے لاتعلقی ظاہر کرتے ہیںکہ جس سے داڑھی والا خود کو مجرم تصور کرنے لگتا ہے جیسا کہ مذکورہ افسانے کا بیانیہ ہے۔کہانی ایک عورت اور آٹو ڈرائیور کے باہمی کلام سے آگے بڑھتی ہے۔عورت،عوام کی نمائندہ ہے۔وہ جب اسٹیشن پہنچتی ہے تو ہر کسی کے چہرے سے خوف اور وحشت عیاں ہوتی ہے۔ معلوم کرنے پر پتا چلتا ہے کہ کسی دوسرے شہر میں دہشت گردانہ حملہ ہواہے جس نے پورے ملک کو اپنے حصار میں لے لیا ہے اور اسی لیے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر تحفظی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔ اسی دورانیہ میں کہانی کا ایک کردار مشکوک ہو جاتا ہے، کیوں کہ اس کے چہرے پر داڑھی ہے۔ وہ منھ کیوں چھپاتا ہے ؟وہ ادھر ادھر دیکھتا کیوں ہے؟ وہ اٹھ کر کیوں گیاہے؟ عورت چوںکہ عوام کی نمائندہ ہے اسی لیے وہ بھی خوف زدہ ہے اور یہ کیفیت اس وقت تک طاری رہتی ہے جب تک وہ سفر ختم نہیں کر لیتی ۔ جس مشکوک شخص کی وجہ سے عورت کے دل میں وسوسے گھر کر لیتے ہیں،وہ فوراً ہی غائب ہوجاتا ہے گویا وہ بھی حالات سے خائف ہے۔اس وقت کہانی میںایک موڑ آتاہے ،عورت ٹرین سے اترتے ہی اللہ کا شکر ادا کرتی ہے کہانی ختم ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ کچھ بھی غلط نہیں ہوتاجیسا کہ سوچتی ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کس حد تک درست ہے ؟ ایسے ہی کئی سوال ہیں جو کہانی ختم ہونے کے بعد بھی ذہن کے پردے پر جلتے بجھتے رہتے ہیں ۔
اردو میںعرصہ سے جنس کو بطور موضوع برتا جاتا رہا ہے۔کبھی جنسی نا آسودگی وتشنگی، تو کبھی جنسی مسائل اور پیچیدگیوں نے ادبا کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔صغیر رحمانی کے یہاں بھی چند افسانے ایسے ہیں جن میں جنس کو محورتوجہ بنایا گیا ہے۔’’شاہ زادے کی پریم کہانی‘‘ اور ’’ایک اور وہ‘‘ افسانوں کی خالص پہچان جنسی عوامل سے ہی ہوتی ہے۔واضح رہے کہ ان کا مقصودیہاں جنسی تلذذ فراہم کرنا ہرگز نہیں،بلکہ انھوں نے انسانی زندگی میں جنس کی اہمیت و معنویت،نفسیاتی و جنسی پیچیدگیوںکو سلجھانے اورفرد کی داخلی زندگی کے مہیب گوشوں کوفنی بصیرت کے ساتھ بے نقاب کیا ہے۔
’شاہ زادے کی پریم کہانی ‘میں دو کرداروں عورت اور مرد کے متضاد رویوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔عورت جو مرد کی محبت میں سر تا پاؤں ڈوبی ہوئی ہے جبکہ مرد اس سے اتنا ہی بُعد اور بے رخی اختیار کرتا ہے۔عورت بے حد حسین اور پرکشش ہوتی ہے کوئی بھی مرد بآسانی اس پر نچھاور ہو سکتا تھا لیکن یہ مرد عورت کے بر عکس معمولی شکل و صورت کا ہے اپنی جسمانی ساخت کے اعتبار سے عورت کے لیے وہ جنسی اسرار اور لذتوںکامرکب تھا۔وہ اس سے روحانی محبت کرتی ہے لیکن اس کا خیال تھا کہ’’جسم کا سفر طے کیے بغیر روح کی منزل تک نہیں پہنچا جا سکتا۔‘‘ مگر یہ مرد اس کے لاکھ جتن اور ہزار کوششوں کے باوجود رتی برابر بھی نظر التفات نہیں کرتاوہ اس کے گریزپا رہنے کی وجہ نہیں سمجھ پاتی۔اس کی دل بستگی کے لیے شراب و شباب کی محفلیں آراستہ کرتی ہے ، اس کی اداسیوں کو رفع کرنے کے سامان مہیا کرتی ہے ۔لیکن اس کے سارے جتن ساری کوششیں خاک بسر ہو جاتی ہیں۔چنانچہ ایک روز دوران رقص ہیجانی کیفیت سے مغلوب ہوکر وہ اس کو زخمی کر دیتی ہے۔اگلے ہی پل میں وہ اپنی وحشتوں سے نکل کر جی جان سے اس کی خدمت کرتی ہے ۔مرد ٹھیک ہوتے ہی وہاں سے فرارہو جاتا ہے۔بہت تلاش کے بعد کہیں اس کا سراغ نہیں ملتا تو وہ تھک ہار کر ایک ہوٹل میں آکر کمرہ کرائے پر لیتی ہے اور ایک مرد کی فرمائش بھی کرتی ہے۔جب وہ اپنے کمرہ میں داخل ہونے والے مرد کو دیکھتی ہے توحیرت سرائے کا مجسمہ بن جاتی ہے،کیونکہ یہ وہی مرد تھا جس سے اس نے والہانہ محبت کی تھی اور جس کی تلاش میں سرگرداں تھی۔اور اب وہی مرد’’ بطورایک سیکس ورکر ‘‘ اس کے روبرو تھا۔
اب تک تو ہمارا معاشرہ ’طوائف ‘اور ’کال گرل‘ جیسے ٹرینڈ سے واقف تھااور اس میں باقاعدہ ملوث بھی ۔لیکن اب’’ سیکس ورکر‘‘کی اصطلاح بھی رائج ہو گئی ہے جسے آج کی نسل بطور پیشہ اختیار کر رہی ہے۔ اس افسانہ میں ایک’ سیکس ورکر ‘کی زندگی اور جنسی ضروریات کو فوکس کیا گیا ہے۔جس طرح ایک طوائف جو نہ کسی مرد سے عشق کرسکتی ہے نہ کسی کی رفیق حیات بن سکتی ہے اس کو صرف مردوں کا جی بہلانے کا ذریعہ تصور کیاجاتا ہے،ٹھیک ویسے ہی جنسی پیشہ ور مردکے لیے کسی عورت سے محبت یا رفاقت اس پر روزگار کا دائرہ تنگ کر سکتی ہے۔کیونکہ انھیںکسی بھی وقت طلب کر لیا جاتاہے۔اس لیے اپنے گاہکوں کو بھرپور جنسی تعاون دینے کے واسطے انھیں اپنی تمام جنسی قوتوں اور حرارتوں کو مجتمع کرکے رکھنا پڑتا ہے۔نیزتکثیر جنسی عمل کے تقاضوں سے بھی احتراز کرنا ہوتا ہے ۔مغربی ممالک میں جنسی عمل کو بڑھاوا دینے کے لیے’ لائیو شو‘، ’بلیو موویز ‘اور انگریزی اخباروں میں اشتہاری کالم آئے دن شائع ہوتے رہتے ہیں۔
افسانہ ’ایک اور وہ ‘ میں مغربی طرز معاشرت کی پروردہ اور دلدادہ ایک ایسی بے وفاعورت کی کہانی ہے جو اپنے شریک حیات کو چھوڑ کر غیر مرد وںسے جنسی تعلق استوارکرتی ہے۔ دراصل وہ نرگسیت کاشکار ہے،وہ اپنے حسین و گداز ،پر فریب اور جنسی لذتوں اور ارتعاشات سے بھر پور جسم کو ہی کل اثاثہ تصور کرتی ہے۔وہ خود کو نہارتی ہے سراہتی ہے اورکبھی بوڑھی نہیں ہونا چاہتی جوان رہ کر ایک ایک پل کو جینے کی خواہش رکھتی ہے۔اس خواہش کی تکمیل کے لئے وہ اپنا ایک علیحدہ معیار حسن قائم کرتی ہے اور ہر مرد سے بڑی خوش دلی سے ملتی ہے۔اس کے اس معیار حسن کی فہرست میں وہی لوگ داخل ہو پاتے ہیں جو کچھ خاص خصوصیات کے مالک ہوتے ہیں۔لیکن پاوش اس کا ہم سفر ہونے کے باوجود بھی اس کی اس فہرست میں جگہ نہیں پاتا، بس خاموش تماشائی اس کی تمام حرکات و عوامل کو دیکھتا اور اس کی بے رخی اور مستقل جنسی نا آسودگی کا عذاب سہتارہتا ہے۔ وہ جب بھی اس کے قریب ہونے کی کوشش کرتا عورت کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے بڑی سہولت سے اس کو ٹال دیتی ۔وہیں جب اس کا چہیتا مرد اس سے تنہائیوں میں ملتا ہے تو اس پر مکمل نثارہو جاتی۔ایک دن وہ اسی طرح کی خلوت میں اس سے ہم آغوش ہوتا ہے اور جنسی تلذذ سے ہمکنار کرتا ہے لیکن جب یہ سرشاری اپنی انتہا کو پہنچنے والی ہوتی ہے تو اسے کسی تیسرے کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور یہ تیسرا شخص اس کا شوہر پاوش ہوتا ہے جو بڑے تحمل اور انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فقط اتنا ہی کہتا ہے ’’دروازہ تو بند کر لیا ہوتا۔‘‘
اس افسانے میں صغیر رحمانی نے اس تلخ اور ان کہی حقیقت کی جانب توجہ مرتکز کرنے کی سعی کی ہے کہ جب بیوی کسی غیر مرد سے ہم آہنگ ہوتی ہے وہ اسی لمحہ اپنے شوہر کا قتل کر دیتی ہے ۔لیکن اس سچائی سے بھی انکار ممکن نہیںکہ خواہ اسے کتنا ہی آزادانہ ماحول اور جنسی آسائش کیوں نہ مہیا ہو جائے،دوران اختلاط جب تک وہ دروازہ بند کرکے اپنے شوہر سے مکمل دستبرداری کا اعلان نہیں کر دیتی جنسی آسودگی حاصل نہیں کر سکتی ۔
افسانہ ’پہلا گناہ‘میںایک ایسی عورت کی داستان حیات بیان کی گئی ہے جو بھاگلپور دنگے میں تنہا زندہ بچتی ہے اور قسمت کی ستم ظریفی کہ زندہ بچنے کا معاوضہ اسے اپنی آبرو نیلام کرکے چکانا پڑتاہے۔جو بعد میں ایک طوائف کے طور پر مشہور ہو گئی۔اپنے کوٹھے کی شان بان اور اسے آباد رکھنے کے لیے وہ چار بیٹیاں پیدا کرتی ہے۔وہ چاروں کی جبلت اور فطرت سے بخوبی واقف ہے۔لیکن پھر بھی چھوٹی بیٹی ثریا کی انوکھی طبیعت اسے ہر لمحہ پریشان رکھتی۔اس کی رسم نتھ اترائی ہے،خوشی کا سماں ہے۔ ایسے میںایک واقعہ پیش آتا ہے ایک پولیس والا اس لیے کوٹھے کی تلاشی لینے آتا ہے کہ کوئی شخص کسی لڑکی کے ساتھ زیادتی کرکے کوٹھے کی جانب ہی بھاگ کر آیا ہے۔باوجود تلاشی کے اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ادھر ساری رسوم کی ادائیگی کے بعد فیروز نامی ایک نوجوان کوٹھے پر آتا ہے کچھ پریشان اور گھبرایا ہوا سا۔ اسے ثریا کے پاس بھیج دیا جاتا ہے لیکن تھوڑی ہی دیر بعد وہی نوجوان چیختا چلاتا خون سے لت پت کمرہ سے برآمد ہوتا ہے ۔بعد میں انکشاف ہونے پر پتا چلتا ہے یہی وہ مجرم ہے جس نے ایک معصوم بچی کو اپنی حیوانیت کا شکار بنایا تھا۔اس جرم کی پاداش میں ثریا اپنی ماں کے سروتے سے اس کو شدید زخمی کردیتی ہے۔انتہائی غصہ اور متنفر لہجے میں کہتی ہے:
’’ تھوکنے کے لیے آخر چوک چوراہوں پر کوڑے دان کس لیے ہے۔جوجی کا پانی گرانے کے لیے اتنا ہی بے تاب تھا تو ہمارے پاس چلا آتا، اس بچی کے ساتھ یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔۔‘‘
یہاں صغیررحمانی نے برائی میں ایک اچھائی کا پہلو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔منٹو کی طرح انھوں نے بھی طوائف کے دل میں جذبۂ خیروہمدردی اور بشر دوستی کی عمدہ مثال پیش کی ہے۔
جب کہ ایک دوسرے افسانے’’چائمس‘‘میںصغیر رحمانی نے فرد سے فرد کے تخلیقی رشتے پر جو کہ فطری ہے روشنی ڈالی ہے اور یہ باور کرایا ہے کہ عورت جب تک ماں نہیں بنتی وہ ادھوری رہتی ہے ۔ یہاں نیطشے کا یہ قول گونجنے لگتا ہے کہ عورت میں سب کچھ ایک پہیلی ہے اور پہیلی کا راز ہے بچہ۔۔۔۔۔۔ اور بچہ کی خواہش اور اپنے وجود کی تکمیلیت کے لیے اوہ اپنی جان تک کی پروا نہیں کرتی۔ مذکورہ افسانے میں کیرتی سنہا ایک ایسا ہی کردار ہے۔جو مکمل ہونے کی خواہش رکھتی ہے اور اپنی پیاسی ممتا کے جذبے کی تکمیل اور اپنے ادھورے پن کو پورا کرنے کے لیے وہ ہر جوکھم اٹھانے کو تیار ہے ۔اور وہ ڈاکٹر کے اس لوجک کو بھی نہیں مانتی کہ ’’اس کے لیے پرگنینسی خطرناک ہے۔‘‘بہر حال کیرتی جیسے جیسے تخلیقیت کے عمل سے گزرتی ہے ویسے ویسے قاری کی دھڑکنیں بھی تیز ہوتی جاتی ہیں۔لیکن اس کے مکمل ہونے سے پہلے ہی اس تخلیق کو جو ابھی صرف چھ ماہ اور چند دنوں کا آدھا ادھورا لوتھڑا تھا ،کیرتی کے پیٹ سے باہر نکال لیا جاتا ہے۔اس نامکمل تخلیق نے کیرتی سنہا کو کتنا مکمل کیا؟ اس کی بے چین ممتا کو کس حد تک تسکین پہنچائی؟ قارئین اس افسانے کو پڑھ کر از خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔بہر حال یہ ایک عجیب و غریب کہانی ہے جسے مصنف نے خود تخلیقیت کے نشیب و فراز سے گزر کر تخلیق کیا ہے۔
عصر موجودہ میں جہاں زندگی کے دوسرے تمام مظاہر تغیرو تبدل سے ہمکنار ہوکر نئے سیاق و سباق مرتب کرتے ہیں وہیں انسانی زندگی میں بے شمار مسائل،روحانی اضطراب اوراندرونی خلش بھی بڑھتی جا رہی ہے۔انسانی رشتوں میں درار ،خونی رشتوں کا انہدام،اپنوں سے لاتعلقی اور بے زاری خاندانی اقدار و تہذیب کا زوال جیسی خرابیوں نے گھر کے کہنہ اور بزرگ افراد کے لیے بہت سی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔یہ سب موجودہ دور کی ترقیات کی دین ہے جس نے انسان کو Old age homes اور Generation Gap جیسی وبائیں دی ہیں۔’’مجھے بوڑھا ہونے سے بچاؤ‘‘ ،’’مر تو بابا‘‘اور ’’بوڑھے بھی تنگ کرتے ہیں‘‘ سے معنون افسانے مذکورہ مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔یہاں کے بوڑھوں کے لیے حکومت نے مفت علاج، ضعیف العمری پنشن، لاوارث بوڑھوں کے لیے لوجنگ وغیرہ کئی اسکیمیںجاری کی ہیں۔ ’مجھے بوڑھا ہونے سے بچاؤ‘ افسانے میں ایک بوڑھا آدمی اپنے ہی گھر میں احساس عدم تحفظ اورectfulness Neglکے کرب سے دوچار ہے۔آج انسان اتنا خود غرض ہوگیا ہے کہ وہ اپنے اجداد کو اتنی ہی دیر برداشت کرتا ہے جتنا اس سے مطلب ہے۔اس افسانے کے بوڑھے کردار کا بیٹا بھی اس سے مہینے کی پہلی تاریخ کو صرف اس لئے ملتا ہے تاکہ اپنے باپ کی پینشن وصول کر سکے۔
’’بابو جی ،آج پہلی تاریخ ہے نا۔۔۔۔آپ کی پینشن مل گئی ہو تو۔۔۔۔؟ ’’ہاں ہاں۔‘‘ بوڑھے نے اس کی بات پوری ہونے سے قبل ہی اپنے کوٹ کی جیب سے کچھ نئے نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیے تھے۔‘‘
صغیر رحمانی بوڑھے کردارکے وسیلے سے یہ انکشاف کرکے متحیر کردیتے ہیں کہ’’آپ کو تعجب نہیں ہوتا۔۔۔اب بوڑھے کہیں نظر نہیں آتے ؟۔۔۔۔تصور کیجئے کہ دنیا میں ایک بھی بوڑھا نہیں ہو، تب کیسا لگے گا؟مصنف نے ان کی بے بسی کا جو نقشہ کھینچا ہے روح کو منجمد کرنے کو کافی ہے۔آج کل بوڑھوں کی زندگی بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے جو بڑا تشویش ناک نقطہ ہے اوران کو اس زندگی سے روشناس کرانے والے اورکوئی نہیں ہم خودہیں۔
جب کہ افسانہ ’بوڑھے بھی تنگ کرتے ہیں‘کی کہانی شرما ولا کے اے، پی شرما ،ان کے دو بیٹوں، بہوؤں اور ایک پوتے سونو کے گرد بنی گئی ہے۔اس میں زیادہ توجہ اے پی شرما کو دی گئی ہے جو ایک معمر آدمی ہے اورملازمت سے سبکدوش ہو چکاہے ۔ لیکن ان میں زندگی جینے کی رمق باقی ہے اور وہ باقی ماندہ زندگی اپنی مرضی سے جینا چاہتے ہیں۔ہر لمحہ کو خوشگوار بنانے اور اور ہر لمحہ کو جینے کے لیے وہ مختلف Strategies اپناتے ہیںجو ان کی اولاد کو ایک نظر نہیں بھاتیں۔نوجوانوں کی طرح مارننگ واک ، ایوننگ واک ،احمد بھائی کی چائے کی دکان پر ماں بہن کی گالیاں دینے والوں کے ساتھ اکثر بیٹھنا ،اپنے گاؤں کے دوست گجادھر کے ساتھ دن بھر دھما چوکڑی کرنا اور رات رات بھر لوڈو کھیلتے ہوئے خوب ہلا گلا کرنا،کمپیوٹر پر نیٹ سرفنگ اور چیٹنگ ،ٹھٹھرتی سردی میں بنا کوٹ مفلر اور ہیٹ کے ٹہلنے نکل جانا اور بن موسم کے دہی بڑے کھانا ،بیٹے کے ٹوکنے پر ان کا سیدھا اور تیکھا جواب ہوتا:
’’دہی بڑوں کا کوئی موسم ہوتا ہے۔۔۔؟ذرا رکے تھے ڈیڈ ،پہلے کی طرح پرسکون لہجے میں بولے ’’دراصل یہاں تم دہی بڑا اور موسم کی بات نہیں کر رہے ،تم ان دونوں کے چشمہ سے میری عمر کو دیکھ رہے ہو ۔۔۔اکثر دیکھتے ہو۔۔۔۔اکثر لوگ دیکھتے ہیں ۔۔۔۔برخوردار ۔۔۔۔جیون کا پہیہ عمر سے نہیں من کی طاقت سے چلتا ہے ۔۔‘‘
آج کی نسل اپنے بوڑھوں اور بزرگوں کو کہاں اس طرح جینے دیتی ہے۔ان کی ایک ایک حرکت پر ٹوکا ٹاکی ،ذرا ذرا بات پر ان کا جھنجلا جاناروز کا وطیرہ ہے۔اس نئی ذہنیت کو بوڑھے بنا چوں چراں خاموش زندگی کی آخری سانسیں پوری کرتے،خر خر اور ہائے ہائے کرتے ہوئے ہی ان کے مزاج کو بھاتے ہیں۔پی کے شرما کی زندگی پر بھی ان کے بیٹے قید و بند لگانا چاہتے ہیں ان کی حرکات سے باز رکھنے کے لیے محلے کے دوسرے بوڑھوں کی مثال دیتے ہیں۔لیکن ایک دن اپنی چھوٹی چھوٹی چیزوں اور عادتوں سے تنگ کرنے والا یہ بوڑھا ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔افسانہ اپنے خاص رنگ و آہنگ اور اسلوب کے ساتھ شروع ہوتا ہے ۔اور بڑھتی ہوئی عمر سے پیداہونے والی انسان کی نفسیات اور اس کے مزاج کو گرفت میں لیتا ہوا اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ صغیر رحمانی چھوٹی سے چھوٹی جزئیات کو بھی نظر انداز نہیں ہونے دیتے یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے تلخ حقائق کو جوبڑی مشکل سے گرفت میں آتے ہیںبآسانی بیان کرنے پر قادر ہیں ۔
بڑے ہی سادہ اور عام فہم انداز میں یہ کہانیاں ان کے قدرت بیان ،تخلیقی صلاحیت اور سماجی حسیت کی مظہر ہیں۔ کہیں کہیںنادر اور عمدہ تشبیہات سے اپنے فکشن میں دلکشی اور نیا طرز احساس پیدا کیا ہے۔ان کے افسانوں سے چند تشبیہات ملاحظہ ہوں:
’’بال پیشانی سے دو حصوں میں بٹے ہوئے تھے اور ایک دوسرے سے الجھے ہوئے تھے، اس طرح جیسے کانٹوں کے بجائے کاٹھ کی تیلی پر سوئٹر بننا سیکھنے والی گاؤں کی نئی نئی کسی لڑکی نے اُون کو آپس میںالجھا دیا ہو۔ ‘‘ (مجھے بوڑھا ہونے سے بچاؤ)
’’سڑک کی اوٹ میں چمپئی دھوپ اس طرح شرمائی کھڑی تھی جیسے پہلی بار سسرال آئے بہنوئی سے شرمائی ہوئی سالی کواڑ سے لگی باتیں کرتی ہو۔‘‘ (ایضاً)
’’دھرتی کی کوکھ سے نوزائیدہ بچے جیسی ملائم،گلابی صبح دھیرے دھیرے پاؤں نکال رہی ہے۔‘‘ (چھوتی تی تی تا)
’’ایک تو آم کی کھٹائی سی سوکھی،پلپلی ان لڑکیوں میں خاطر خواہ دم نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔گال گلابی ر نگ کے پاؤڈر تھوپنے کے باوجود ادھڑے ہوئے پلستر سے جان پڑتے تھے۔‘‘
(پہلا گناہ)
’’وعظ بیان کرنے کے بعد ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتی ہے کہ نیک اعمال ، جنت، دوزخ اور نجات کا سارا فلسفہ اندھیرے کمرے کے کسی کونے میں منہ چھپا کر دبک جاتا ہے ۔‘‘ (ایضاً)
’’عزت و ناموس روئی کے گالوں کی طرح ہوا میں اڑ رہی تھی۔‘‘ (ایضاً)
’’وہ جائے نماز کی طرح بچھ جاتی تو وہ سجدے میںگر جاتا۔‘‘ (ایک اور وہ)
’’ان کی ابھری ہوئی جیبیں دیکھ کر بدرو کے منہ مین اس طرح پانی بھر آیا تھا جیسے اوپر کے دنوں میں املی یا اچار دیکھ کر کسی عورت کے منہ میں رال آجاتی ہے ۔ ‘‘
(حبضی کی آدھی شلوار )
’’اس کی نگاہ عورت کے جسم کی تنگ اور ناہموار گلیوں میں آوارہ کتّے کی طرح ہانپنے لگی۔ ‘‘ (ایضاً)
’’ایڈز کے مریض سی پیلی اور بیمار روشنی میں صاف کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔‘‘
(کائی)
’’وہ دونوں اسٹریچر کے ساتھ اس طرح چل رہے تھے جیسے ڈراور سے لاشیں نکل کر ڈیگ بھرنے لگی ہوں۔‘‘ (ایضاً)
’’گاما کا خیال آتے ہی گوسائیں کے ہونٹ پھڑکنے لگے اور گالیاں قے دست کی طرح باہر آنے لگیں۔‘‘ (ایضاً)
’’دلکش مناظر کے سینے پر پائوں پسارے فطرت پوری طرح راج کر رہی تھی ۔‘‘ (مونا)
ڈاکٹر اقبال واجد صغیر رحمانی کی تمثال نگاری ،استعاراتی انداز بیان اور حسی پیکر تراشی کو سراہتے ہوئے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیںجو ہمیں صغیر رحمانی کے فکشن کو سمجھنے میں کافی معاون ثابت ہوتا ہے:
’’’صغیر رحمانی کے یہاں وسیع تخلیقیت کے اسرار موجود ہیں اس لئے ان کی نثر میں رشیدر امجد کی طرح استعاراتی اظہار بھی پیدا ہوگیا ہے۔ یہ استعاراتی اظہار صغیر رحمانی کے افسانوں کی شناخت تو نہیں ہے مگریہ ہمیں اپنی موجودگی کا احساس تو ضرور دلاتا ہے۔ اور کہیں کہیں زبان کے شانہ بہ شانہ چلتا نظر آتا ہے۔اس استعاراتی اظہار میں ذوق و عمل کی ایسی ترتیب بھی نظر آجاتی ہے جو صغیر رحمانی کی تخلیقی دانائی کو چیلنج کرتی رہتی ہے۔ اس عمل میں صغیر رحمانی کے یہاں جو تنائو ہے وہ ہر زا ویے سے ان کے یہاں اجالے کا سبب ہے۔ ایسی صورت میں افسانوی عمل اور استعاراتی اظہار میں ایک قربت پیدا ہوجاتی ہے جو قابل دید ہے ۔۔۔۔۔۔صغیر رحمانی اپنے تخلیقی اورتمثالی پیکریت کی تلاش میں جس جستجو کی طرف گامزن ہیں وہ انہیں ایک ایسے سفر پر ڈال دیتی ہے جو اپنے آپ میں مکمل اور موثر ہے ۔ ایسے مکالموں کی تہِذیب میں کسی ارادے اور عمل سے پرے ایک توسیعی صورت حال سے خود بخود رشتہ قائم ہو جاتا ہے اور جو امور اس رویے میں رکاوٹ بنتے ہیں وہی اس جگہ اس تمثال کا بیانیہ بن جاتے ہیں۔‘‘
صغیر رحمانی کے فکشن کا اجمالی جائزہ لینے کے بعد بلا تشکیک و تردید یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ انھوں نے ان ہی مسائل و موضوعات پر قلم اٹھایا جنھوں نے ان کی حسیت کو بیدار کرکے اظہار خیال پر اکسایا ہے۔صغیر رحمانی ایک ہمدرداور بے چین طبیعت قصہ گو واقع ہوئے ہیں۔انھوں نے غالباً زندگی کے سبھی پہلوؤں کو واشگاف کرنے کی حددرجہ سعی کی ہے۔خواہ قومی مسائل ہوں یا بین الاقوامی، صوبہ ٔبہارکا دیہی معاشرہ اور پس ماندہ طبقہ ہو یا جھونپڑ پٹیوں اور تعفن سے بھری فضا میں سانس لینے والے افراد ، بوڑھے ہوں یا عورتیں،چاہے طبقہ ٔ اشرافیہ اور بدنام زمانہ افراد ہی کیوں نہ ہوںان کے فکشن میں ہر کوئی اپنی موجودگی کا احساس دلاتا نظر آتاہے۔ صغیر رحمانی کے افسانوں کے موضوعات چہار جانب پھیلے ہوئے ہیں ۔ وہ کسی سیدھی لکیر پر چلنا پسند نہیں کرتے بلکہ متنوع اورمتضاد موضوعات کو اکٹھا کرکے افسانے کے قالب میں دھالتے جاتے ہیں۔ موضوعات کے انتخاب میں ان کی یہی ہنر مندی ان کو خاص شناخت عطا کرتی ہے۔
بے شک کوئی بھی فنکار معاشرے کو بدل نہیں سکتا اور اس سے کسی انقلاب کی توقع رکھنا عبث ہے ۔ہاں اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک حساس اور باشعور فنکار ذہن کی سطحیت کو بدلنے اور روح کو بیدار کرنے ،معاشرہ میں پیدا شدہ برائیوں کو اجاگر کرنے اور انقلابی روح پیدا کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کرتا ہے۔اور یہ بات بلا تامل صغیر رحمانی کے متعلق کہی جا سکتی ہے کہ انھوں نے استحصال کے خارجی و داخلی عوامل کو اجاگر کرکے معاشرتی نظام میں تبدیلی کی اپیل کی ہے۔ان کی اکثر کہانیاں صوبۂ بہار اور اس کے قرب وجوار کی منہ بولتی تصویریں ہیں۔ وہ ایک حقیقت پسند فنکار ہیں انھوں نے اپنے مشاہدے اور تجربے کے انضمام سے اپنی کہانیاں کشید کی ہیں اس لیے ان کی کہانیوں میں زندگی کے کڑوے کسیلے حقائق کا برملا اظہار ملتا ہے۔
صغیر رحمانی کے فن سے متعلق ایک توجہ طلب بات یہ بھی ہے کہ انھوں نے جہاں جنسی عوامل یا کرداروں کی جنسی جبلت پر اظہار خیال کیا ہے وہاں کافی محتاط نظر آتے ہیں۔وہ ایسی لفظیات برتنے سے احتراز کرتے ہیں جو سطحی ہوں اور جن کے سبب افسانہ اپنی معنویت کھو دے۔’’ایک اور وہ‘‘ سے معنون افسانہ اس کی مثال ہے۔بعض جگہوں پر ان سے کوتاہیاں بھی سرزد ہوئی ہیںجو تقاضائے فطرت انسانی ہے۔کہیں کہیں پر بیانیہ تھوڑا بہت گڑبڑایا ہے لیکن ان کے اسلوب کی دلکشی اس کو سہارا دے دیتی ہے اور واقعہ کو منتشر ہونے سے بچا لیتی ہے۔کل ملا کر کہا جا سکتا ہے کہ اردو فکشن کی ترویج و ارتقامیں صغیر رحمانی کا نام ہمیشہ زندہ تابندہ رہے گا اور آئندہ نسلوں کے لیے متاثر کن ثابت ہوگا !!!
انجم پروین
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

