ضلع بجنور جس علاقے میں واقع ہے اس کا آٹھویں صدی عیسوی سے کٹیہرؔ ]’’کٹیہرین راجپوتوں‘‘ کی نسبت سے[ نام ہونے کا پتہ چلتا ہے جو اٹھارہویں صدی عیسوی کے وسط سے روہیل کھنڈؔ ]’’روہیلہ پٹھانوں‘‘ کی نسبت سے[ کہلانے لگا۔ برٹش دورِ حکومت میں روہیل کھنڈ کو "United Provinces of Agra & Oudh (U.P) میں ضم کردیا گیا۔
دورِ اکبری [1605.1555] میں یہ ضلع سرکار (ضلع) سبنھلؔ کا ایک حصہ ہوا کرتا تھا۔ دورِ شاہجہانی [1657.1626]میں ’’کٹیہرین‘‘ سردار، راجہ رامؔ سُکھ نے بغاوت کی جس کا 1636 میں قلع قمع سنبھلؔ کے صوبیدار، رستم خاں فیروزؔ جنگ نے کیا اور مرادؔآباد شہر وجود میں آیا ]تفصیلات کے لئے احقر کی کتاب ’’تذکرۂ گنج ہائے گراں مایہ‘‘ (جلد اوّل) ملاحظہ فرمائیں[۔
]1817برٹش دورِ حکومت[ میں شمالی مرادؔآباد کے لئے پہلا کلکٹر مقرر کیا گیا۔ جس کا ہیڈ کوارٹر قصبہ نگینہؔ رکھا گیا ۔لیکن نگینہؔ کی Drainage تسلّی بخش نہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی 1824 میں) قصبہ بجنورؔ ہیڈ کوارٹر کردیا گیا۔ تبھی سے کلکٹر کا ہیڈ کوارٹر بجنورؔ اور اس کی نسبت سے ضلع کا نام بجنورؔ ہے۔
بجنورؔ ضلع یو۔پی ]آزادی کے بعد سے ’’یونائیٹیڈ پرونسیز آف آگرہ اینڈ اودھ‘‘ کا نام بدل کر اتّر پردیش کردیا گیا ہے لیکن دونوں کا مخفف ایک ہی، یعنی یو۔پی ہے[کے شمال۔مغربی اضلاع میں سے، دریائے گنگاؔ کے بائیں کنارے پر واقع ایک نہایت ہی سرسبز و شاداب اور قدرتی وسائل سے مالامال ضلع ہے۔ یہاں کی مٹّی نہایت ہی زرخیز (زراعت و شجرکاری/باغبانی، دونوں کے لحاظ سے) اور آب و ہوا بہت صحت بخش ہے۔ ہر فصل میں کھیت دل کھول کر غلّہ اگلتے ہیں۔ چہار جانب پھلدار (بالخصوص آم اور امرود) باغات کا لامتناہی سلسلہ آنکھوں کو فرحت بخشتا ہے۔ کچھ علاقوں میں خودرو قیمتی جڑی بوٹیاں بھی وافر مقدار میں اگتی ہیںحالانکہ اب چپّہ چپّہ پر کاشت کیے جانے، چکبندی ہوجانے اور کیمیاوی کھاد کے استعمال کی وجہ سے ان میں بتدریج کمی واقع ہوتی جارہی ہے۔
کھیتوں اور باغات کو سیراب کرنے کے لئے پورے ضلع میں سرکاری ٹیوب ویلوں کا ایک جال سا بچھا ہے۔ ان کے علاوہ دو قدیم نہری نظام ]’’نگینہ نہری نظام‘‘ اور ’’نہٹور نہری نظام‘‘[ بھی موجود ہیں۔ اب مزید دو جدید نہری نظاموں]’’ایسٹرن گنگا کینال سسٹم‘‘ (ہردوارؔ کے پاس، دریائے گنگاؔ کے بائیں کنارے سے نکلنے والا) اور ’’مدھیہ گنگا کینال سسٹم‘‘ (اسٹیج II) (بجنورؔ کے پاس، دریائے گنگاؔ کے بائیں کنارے نکلنے والا سسٹم)[ کا بھی قیام عمل میں آگیا ہے۔
مذکورہ قدیم نہری نظام کی تفصیلات بہت دلچسپ ہیں۔1824 میں شمالی علاقے کو آبپاشی کی سہولت بہم پہنچانے کی غرض سے کلکٹر نے ایک منصوبہ گورنر جنرل کو ارسال کیا۔ گورنر جنرل نے منصوبہ کا جائزہ لینے کے لئے1831میں اس کو سُپرنٹینڈینٹ ’’بریلی کینالس‘‘ بریلیؔ کو بھیج دیا۔ اس پر1836میں ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی گئی جس کے تحت کھوؔ ندی پر، قصبہ قادرآباد کے قریب ایک وِیَر (Weir) بنانے کا منصوبہ تجویز کیا گیا۔1638میں اس منصوبہ کو حکومت سے منظوری حاصل ہوگئی اور پھر1640میں محض 57843 روپیہ لاگت سے ’’نگینہ نہری نظام‘‘ (ایک weir اور ۲۰ء۳۹ کلومیٹر لمبی نہریں) کی تعمیر مکمل ہوگئی اور اسی سال سے نہری پانی کاشتکاروں کو مہیا کرایا جانے لگا۔ یہ نہایت ہی دلچسپ ہے کہ شروع میں یہ نظام سپرنٹینڈینٹ ’’بریلی کینالس‘‘ بریلیؔ کے تحت ایک اورسیر (Overseer) کے چارج میں رہا ۔لیکن1845 میں اس کو کلکٹر بجنور کی تحویل میں دے دیا گیا۔ جس نے تحصیلدار نگینہ اور دھامپورؔ کی مدد سے اس نظام کو چلایا۔ اس نظام کے تحت، مذکورہ weir کی مدد سے کھوؔندی کا پانی ایک ’’فیڈر نہر‘‘ کے ذریعہ سُکھرو ندی میں ڈالا جاتا ہے۔ جس مقام پر کھوندی کا یہ پانی سُکھروندی میں آتا ہے، وہاں اس کے نیچے کی جانب، سُکھروؔندی پر بھی ایک weir تعمیر کیا ہوا ہے۔ جس کی مدد سے یہ پانی سُکھروؔ ندی کے داہنے کنارے سے ایک ’’سپلائی نہر‘‘ کے ذریعہ پِلکھناؔ نالے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ موضع جوگی رمپورہ کے پاس اس نالے پر ایک ’’کراس ریگولیٹر‘‘ بنا ہوا ہے جس کی مدد سے بالآخر یہ پانی ’’نگینہ مین کینال‘‘ میں آجاتا ہے۔
مذکورہ ’’نگینہ نہری نظام‘‘ کے بعد 1849.50میں ’’نہٹور نہری نظام‘‘ کی تجویز پیش کی گئی۔ اس کی منظوری کے بعد 1850میں12123روپیہ کُل لاگت سے یہ نہری نظام بھی مکمل ہوگیا۔ اس کے تحت قصبہ نہٹورؔ کے پاس، گانگن ندی پر ایک ’’بیراج‘‘ (Barrage) اور ساڑھے تیرہ کلومیٹر لمبی نہروں کی تعمیر کا کام کیا گیا۔ اس نہری نظام سے متعلق ’’بیراج‘‘ کی حالت اب نہایت تشویش ناک ہے۔ 1994 میں احقر کی پہل پر اس ضمن میں سرکاری سطح پر سینئر انجینئرس کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے کافی غوروخوض کے بعد اس کو ناقابلِ استعمال قرار دے دیا۔ اگر وقت رہتے اس رپورٹ پر عمل نہ کیا گیا تو کبھی بھی، کوئی بھی اچانک سنگین حادثہ پیش آسکتا ہے جس سے جان و مال، دونوں طرح کا نقصان ہوسکتا ہے۔
علاقے میں مذکورہ نہری نظاموں کے علاوہ کئی چھوٹی بڑی ندیاں بھی رواں دواں ہیں جن میں سے دریائے گنگا، دریائے رام گنگا، کھوندی، مالن ندی اور گانگن ندی قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ دریائے گنگا پر (قصبہ بجنور کے پاس)، ’’گنگا بیراج‘‘؛ دریائے رام گنگا پر ’’رام گنگا بیراج‘‘ اور کھوندی پر (قصبہ شیرکوٹ کے پاس) ’’کھوبیراج‘‘ واقع ہیں۔ ’’کالا گڑھ ڈیم‘‘ بھی اس (ضلع) کی سرحد پر واقع ہے۔ ان سب کے علاوہ علاقے کے اندرونی حصے میں کافی کچھ تالاب واقع ہیں۔ چنانچہ ندیوں، Reservoirs اور تالابوں میں پانی کی موجودگی؛ باغات میں پھلوں اور کھیتوں میں غلّے کی فراوانی کے سبب پیڑوں پر گھونسلے بنا کر ان میں انڈے دینے اور بسیرا کرنے والے، پانی میں اور اس کے کنارے رہ کر اپنی خوراک تلاش کرنے والے؛ غرضیکہ سبھی قسم کے پرندوں کے لئے یہ علاقہ جنّت سے کچھ کم نہیں ہے۔ فضا میں ہمہ وقت رنگ برنگے، قسم قسم کے پرندے قطاردر قطار اڑتے اور نغمہ خواں رہتے ہیں۔ ]تفصیلات کے لئے احقر کی کتاب ’’تذکرۂ گنج ہائے گراں مایہ‘‘ (جلد دوئم) ملاحظہ فرمائیں[۔
میرے ایک سرسری اندازہ کے مطابق یہ علاقہ زیرِ زمیں معدنیات سے بھی مالامال ہے جن کا ابھی تک سرکاری سطح پر کوئی تجزیہ/تجربہ نہیں کیا گیا ہے۔ میں نے خود قادرآباد کے نزد، کھوندی کے ریت میں سے لوگوں کو سونے کے ذرّات تلاشتے دیکھا ہے۔
مذکورہ قدرتی وسائل کے علاوہ یہ علاقہ تاریخی اعتبار سے بھی تینوں فرقوں (بودھ، ہندو اور مسلم) کے لئے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ آج بھی سلطان الشہداء سید سالار مسعودؔغازیؒ کی یاد میں ضلع کے مختلف مقامات ]نگینہ، نجیب آباد، کرتپور، منڈاور، دھامپور، نہٹور، شیرکوٹ اور افضل گڑھؔ وغیرہ قصبات[ پر (تاریخ مقررہ کو) بہت جوش و خروش سے ’’نیزے‘‘ کے نام سے ’’گنگا۔جمنی‘‘ تہذیب کے علمبردار عوامی میلوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ ]تفصیلات احقر کی کتاب ’’سلطان الشہدا‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں[۔
742ھ (1341) میں مشہور عرب سیّاح، ابن بطوطہ کا اس ضلع سے گزر ہوا۔ اس نے اپنے سفرنامے میں علاقے کو سیراب کرنے والے ایک دریا، رام گنگا کا واضح الفاظ میں ذکر کیا ہے۔
801ھ (1398) میں دلّی کو تہ و بالا کرنے کے بعد امیر تیمور اسی علاقے سے دریائے گنگاؔ کے کنارے کنارے ہردوارہوتا ہوا اپنے وطن واپس لوٹا تھا۔ ضلع کے تقریباً ہر قصبے میں مسلم حکمرانوں ]’’دلّی سلطنت‘‘ اور ’’مغل دورِ حکومت‘‘[کی بنوائی ہوئی مساجد موجود ہیں جن سے علاقے میں ان کی دلچسپی کا عندیہ ملتا ہے۔
مہاراجہ بھرت جن کے نام پر اس ملک کا نام بھارت ورش ہوا، کی والدہ شکنتلا اسی ضلع کی حدود میں پیدا ہوئی تھیں۔ اسی ضلع کے پرگنہ باشٹہ میں ایک قدیم مندر (سیتابانی کے مقام پر) سیتاجی کی یادگار ہے جہاں سیتاجی کا آگ سے purification (اگنی پریکچھا)ہوا تھا۔ کالی داس نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’شکنتلا‘‘ میں جس مالنیؔ ندی کا ذکر کیا ہے وہ اسی ضلع سے رواں دواں دریائے مالنؔ ہے۔ دریائے گنگا کے کھادر میں واقع موضع ٹیپ کے نواح میں راجہ کشن واسودیو اور اس کے بعد کُشان راجائوں کے زمانے ]۶۰۶ ق م تا ۶۴۷ ق م[ کے سکّے بھی علاقے میں پائے جاچکے ہیں۔ راجہ ہرش وردھن کے عہدِ حکومت606]تا [648میں چینی سیّاح، ہیوان سانگ ہندوستان آیا۔ اس نے موٹوپولو کے نام سے جس جگہ کا ذکر کیا ہے وہ اسی ضلع میں قصبہ منڈاور ہے (قدیم مخطوطات میں اس کو موتی نگر بھی تحریر کیا گیا ہے)۔
مہاتما گوتم بدھ کے دور کی یادگاریں، کتبے اور کندہ تختیاں وغیرہ بھی ضلع کی حدود میں، قصبہ نجیب آباد کے نزد واقع موضع موردھج کے قلعہ کے قریب سے کھدائی کے وقت دستیاب ہوئیں جو لکھنؤ کے عجائب گھر میں محفوظ ہیں۔ وہیں 35فٹ بلند اور 308فٹ محیط کا ایک ٹیلہ بھی کھدائی کے وقت نکلا جو یقینا ’’استوپا‘‘ رہا ہے۔
قصبہ کرتپورؔ سے ملحق موضع شہاب پورارتن میں کھدائی کے وقت زمانۂ قدیم کے کچھ زیورات نکل چکے ہیں جن کا محکمۂ آثارِ قدیمہ جائزہ لے چکا ہے۔ اس سے پہلے قصبہ باشٹہ کے اطراف میں بھی کھیتوں سے مغل دور کے سکّے برآمد ہوچکے ہیں۔
قصبہ بجنور کے جنوب میں، تقریباً ۱۴ کلومیٹر فاصلے سے، ’’بجنور۔گجرولہ‘‘ شاہراہ پر اور دریائے گنگا کے بائیں کنارے پر ’’مہابھارت‘‘ دور کا ایک موضع، بِدُرکُٹی واقع ہے جو مہاتما بِدُر کا جائے مسکن رہا ہے۔ بِدُرجی ’’مہابھارت‘‘ دور کے ایک مشہور عالم اور رِشی ہوئے ہیں۔ جب کرشن جی کوروئوں اور پانڈوئوں کے درمیان ایک مصالحت کنندہ کی حیثیت سے ہستناپور ]بِدُرکُٹی کے ٹھیک سامنے، دریائے گنگاکے دائیں کنارے پر واقع قدیم آبادی ہے۔ تفصیلات احقر کی کتاب ’’سلطان الشہداء‘‘ اور ’’سید عبداؔلرحمن بن فضل اللہ‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں[تشریف لائے تھے تو وہ ہستناپور نہ ٹھہر کر وِدُرجی کے پاس وِدُرکُٹی رکے تھے۔اس طرح سے اس علاقے کا پرانی تہذیب سے گہرا تعلق رہا ہے۔
دنیا میں کتنی ہی تہذیبیں آئیں اور صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں۔ آج اُن کے باقیات ہمارے لئے عبرت گاہ بنے ہوئے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے اپنے اسلاف کو بھلا دیا؛ اپنے تشخص کو مٹا دیا؛ اپنی زبان، اپنی تہذیب، اپنی ثقافت اور اپنے تمدّن کو فراموش کردیا؛ اس کو تاریخ نے کبھی معاف نہیں کیا۔ اس کے برعکس جس قوم نے بادِ مخالف کے باوجود اپنا دیا جلائے رکھا اور موجِ حوادث کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے اپنے زندہ رہنے کا احساس دلائے رکھا، وہی قوم سرخ رو ہوئی اور تاریخ کی کسوٹی پر پوری اترتے ہوئے زندہ قوموں کی صفوں میں گردانی گئی۔
کسی بھی قوم کا شاندار ماضی، اس کا تہذیبی و ثقافتی سرمایہ اس کی تاریخ کا ایک روشن باب ہوا کرتا ہے۔ جب تک وہ باب اس کی تاریخ کا ایک حصہ بنا رہتا ہے، اس قوم کو بقائے دوام حاصل رہتا ہے۔
ہماری ’’گنگاجمنی‘‘ تہذیب، بنا لحاظ مذہب و ملّت اردو زبان میں محفوظ ہے۔ اس لئے اس گراں بہا سرمائے کی حفاظت کرنا، اس سے کماحقہٗ واقف ہونا ہمارا ایک طرح سے دینی و قومی فرض بن جاتا ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ کل ہم پر اپنے اسلاف کی تاریخ، اپنی تہذیب، اپنی وراثت اور اپنے تشخص کو فراموش کرنے کا جرم عائد نہ ہوجائے اور ہم دوسروں کے لئے عبرت نہ بن جائیں۔ اس قومی ادائیگی کا تقاضہ یہ ہے کہ دینی و ادبی شخصیات کے کارناموں اور ان کی سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے اور نئی نسل کو ان کی روایات و خدمات اور ان کے اقدامات و امتیازات سے روشناس کرایا جائے۔ فی زمانہ اس ہردل عزیز اور شیریں زبان کے لئے عوامی بیداری کی اشد ضرورت ہے کیونکہ بنا عوام کے تعاون کے کوئی بھی زبان زیادہ عرصے تک زندہ نہیں رکھی جاسکتی۔ جہاں تک اس ملک میں آزادی کے بعد اس کے فروغ، اس کی بقاکے لئے سرکاری سطح پر کی جانے والی کوششوں کا معاملہ ہے، تو اس کا اندازہ مندرجہ ذیل ایک سچے واقع کی روشنی میں لگایا جاسکتا ہے۔
پہلے ٹیوشن کا رواج نہیں تھا۔ منشی صاحبان بنا کسی اجرت کے بچوں کو اپنے گھر پر پڑھایا کرتے تھے، البتہ مار ضرور لگاتے اور بیگار بھی خوب لیتے تھے۔ ہماری بستی (موضع حبیب والا) میں منشی تجمل حسین صاحب فاروقی کے گھر بھی کافی بچے رات کو پڑھنے آیا کرتے تھے۔ منشی صاحب مرحوم و مغفور نے بستی کی پائوںدھوئی ندی کے کنارے امرودوں کا ایک باغ لگوایا۔ پیڑوں کی آبیاری وہ بذریعہ بینہگی بچوں سے کرانے لگے۔ بیچارے بچوں کے کندھوں میں ٹھیٹیں پڑنے لگیں۔ اس آفتِ ناگہانی سے چھٹکار اپانے کے لئے بچوں نے باہم صلاح و مشورہ کیا اور پھر غضنفر علی نامی ایک شریر و ذہین بچے ]غضنفر علی جو بعد میں منشی غضنفرعلی کہلائے، احقر کے تائے ہوتے تھے۔ موصوف وحشی تخلص سے معیاری اشعار کہتے اور صاحبِ دیوان شاعر ہوئے[ کی تجویز پر کمربستہ ہوگئے۔ چند دنوں بعد ہی پیڑ سوکھنے لگے۔ منشی جی فکرمند ہوئے۔ ایک دن انھوں نے ایک پیڑ کی آڑ میں چھپ کردیکھا تو منظر عجیب نظر آیا۔ بچے پہلے پیڑ کے تھاؤلے میں پانی ڈالتے اور پھر سب مل کر اس پیڑ کو خوب ہلاتے۔ اسی دن سے منشی جی نے ان بچوں کی چھٹی کردی۔
وقت کا پہیّا تیزی سے گھوم رہا ہے۔ وہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ چنانچہ وقت کی پکار ہے کہ سرکار محض پر تکیہ نہ کرکے ہم ایک تحریک کی شکل میں خوابِ خرگوش سے بیدار ہوں اور اردو کی بقا کی ذمہ داری خود اپنے کاندھوں پر اٹھائیں۔
یہ ایک المیہ ہے کہ یو۔پی کے مغربی اضلاع (رامپور، مرادآباد، بجنور، سہارنپور، میرٹھ اور مظفرنگر وغیرہ) بالخصوص بجنور ضلع کے شہداء، صوفیا، علما، فضلا نیز دانشوروں ]ادبی شخصیات، اطبّاء، سفارتکار، تاریخ و سیاست و قانون داں اور ماہرِ ریاضیات وغیرہ[ کے تذکرے مستند کتب میں نہیں ملتے، اگر کسی ایک/دو کے ملتے بھی ہیں تو وہ بہت مختصر سے ہوتے ہیں اور پوری طرح سے ان کی عظمت کا احاطہ نہیں کرتے۔ میرے خیال سے اس کی مندرجہ ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں:۔
یہاں کے صاحبِ علم و فن بزرگوں نے ازخود گمنامی کی چادر اوڑھے رکھی اور شہرت کو وبالِ جان سمجھ کر ’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ کے مقولے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے، درویشانہ زندگی بسر کر اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔
ملک کے والیانِ ریاست (مسلم و غیرمسلم، دونوں)، خاص کر حیدرآباد اور بھوپال نے صاحبِ علم و فضل حضرات کی دل کھول کر پذیرائی کی جس سے یہاں کی لائقِ تذکرہ شخصیتیں اُس جانب کھنچی چلی گئیں اور وہاں کے علمی خزانے کی زینت بن گئیں اور یہ علاقہ ان کی شہرت سے محروم ہوکر رہ گیا۔
1947 میں نقلِ مکانی کا جو سیلاب آیا اُس سے یہ علاقہ نسبتاً زیادہ متاثر ہوا۔ پہلے مرحلہ بطور محض تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ اِس پلاننگ کے ساتھ سرحد کے اُس پار چلا گیا کہ پہلے وہ (وہاں) گنجائش پیدا کرلے اور یہاں بزرگ اپنی املاک ٹھکانے لگا دیں لیکن اچانک رحمتِ حق جوش میں آیا اور یہاں والوں کے واسطے یہاں کے حالات بھی سازگار ہوگئے جس سے نقلِ مکانی کا سیلاب قدرے تھم سا گیا اور جو جہاں تھا وہ وہیں کا ہوکر رہ گیا۔ وقت گزرتا گیا اور کچھ عرصے بعد یہاں کے بزرگ اللہ کو پیارے ہوگئے اور وہاں کے نوجوان پیری کی دہلیز پر دستک دینے لگے اور انھیں اپنی نئی نسل کے تشخص کی فکر دامن گیر ہوئی۔ چنانچہ جب بھی انھوں نے اِدھر کا رُخ کیا (عزیز و اقارب سے ملنے کے لئے) واپسی پر وہ اپنے ساتھ یہاں سے مخطوطوں کی شکل میں علمی خزانے لے گئے اور یہاں کی نسل (جو ان کے خورد تھے) انھیں انکار نہ کرسکی۔ اس طرح سے یہاں کا علمی خزانہ خالی ہوگیا اور اہلیانِ خطّہ اپنے سرمایے سے نابلد ہوکر رہ گئے۔ علاوہ ازیں برصغیر کی تقسیم سے Brain drain بھی ہوا۔
دیگر علاقوں کے اربابِ تذکرہ نے اس علاقے کو نظرانداز کرتے ہوئے تنگ نظری، جانبداری اور ناانصافی سے کام لیا؛ حالانکہ اس علاقے کے چپّہ چپّہ پر بھی عظیم و مایہ ناز ہستیوں کے مقابر، مزارات، خانقاہیں اور نقوشِ قدم موجود ہیں۔ بقول میر تقی میر ؎
چپّہ چپّہ پہ ہیں یاں گوہرِ یکتا تہِ خاک!
دفن ہوگا نہ کہیں اتنا خزانہ ہرگز!!
مجھے نہیں معلوم کہ میرؔ نے مذکورہ شعر کس علاقے کی نسبت سے کہا تھا، میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ اس کا اطلاق اس سرزمین پر بھی ہوتا ہے جہاں جلیل القدر ہستیوں اور گراں مایہ افراد کی ایک طویل کہکشاں ہے۔ اگر ان کی تفصیلات جمع کی جائیں تو دفتر کے دفتر درکار ہوں گے۔ دعوے کی تائید بطور محض چند کا مختصر سا تعارف کرادینا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔
قدوۃالمشائخ حضرت شیخ حبیبؔاللّٰہؒ = میزبانِ رسول اللہﷺ، سیدنا حضرت ابوایوبؔ انصاریؒ کی اولاد سے؛ حضرت مجددؔالف ثانیؒ کے ہمعصر؛ سید سلطانؔبہرائچیؒ کے فرزند، سید مصطفیؔؒ کے خلیفۂ اوّل اور اپنے وقت کے قطبؔ ہوئے ہیں۔ مزار شریف قصبہ چاندؔپور سے ملحق سرائے شیخ حبیبؔ میں مرجعِ خلائق ہے۔1592 میں آپ نے مذکورہ موضع، سرائے شیخ حبیبؔ اور 1613میں موضع حبیبؔ والا آباد کئے۔
جس طرح سے شہزادہ سلیمؔ، شیخ سلیمؔ چشتیؒ کی دعائوں سے پیدا ہوا، اسی طرح آپ کی دعائوں سے شیخ عبدالرحمنؔ (الملقب بہ ’’افضل خاں‘‘) بن شیخ ابوالفضلؔ بن شیخ مبارکؔ ناگوری کے گھر پشوتنؔ پیدا ہوا۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ شیخ مبارکؔ ناگوری کے گھر کی مستورات کو چشتیہ سلسلے میں بیعت کرانا رہا۔
آپ1554میں موضع آنٹ(تحصیل مسرکھ، ضلع سیتاپور) میں پیدا ہوئے تھے۔ پرورش اعظمپور (اُس وقت ضلع مرادآباد) میں بندگی شیخ حسین چشتیؒ (بابا فریدالدین گنج شکرؒ کی اولاد سے اور مجذوب۔سالک بزرگ) کے زیرِ نگرانی ہوئی اور وصال سرائے شیخ حبیب میں ۱۶۳۴ء میں ہوا۔
مجاہدِ ملّت مولانا محمد حفظ الرحمن = اصل نام معزالدین تھا۔ مشہور حفظ الرحمن کے نام سے ہوئے۔ قصبہ سیوہارہ میں پیدا ہوئے۔ آپ زبردست عالم، فقیہہ، مفکّر، دانشور، شعلہ بیان مقرر اور تحریکِ آزادی کے مقتدر نیز بے باک رہنما تھے۔ آپ میں حب الوطنی اور ملّتِ اسلامیہ کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ آپ کی ہر دلعزیزی کا یہ عالم تھا کہ آزادی کے بعد سے تادمِ مرگ (۱۹۶۲ء) مسلسل ممبر پارلیمنٹ رہے۔
آپ ’’ندوۃالمصنفّین‘‘ کے بانی اور اس کے رفیقِ اعلیٰ تھے۔ جہاں کہیں بھی مسلم کش فساد ہوتا آپ بے دھڑک اور بنا تاخیر وہاں پہنچ جاتے تھے۔ متعدد کتب تصنیف کیں۔
قاضی ظہور الحسن ناظم = قصبہ سیوہارہ میں پیدا ہوئے۔ اردو اور فارسی، دونوں زبانوں کے مشہور صاحبِ دیوان شاعر تھے۔ بزمِ ادب نے ’’امیر الشعراء، قادر الکلام‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ اخترؔ دہلوی (تلمذ غالبؔ)، ساحلؔ دہلوی (جانشین داغؔ)، نواب صامت جنگ جلیلؔ (جانشین امیرؔ مینائی)، نواب عزیز یار جنگ عزیزؔ حیدرآبادی (جانشین داغؔ) نے آپ کے کمالِ سخن کو سراہا۔
سید سراج الحسن ترمذی، مولانا عبدالستار خواہش، مولانا ابوالخیر مودودی دہلوی اور قاضی عبدالغفار برق (تلمذ داغ) نے آپ پر مضامین لکھے۔ محمد اسحاق ماہرؔ نے آپ پر ایک کتاب تصنیف کی۔ آپ نے تقریباً ۸۰ کتابیں تصنیف کیں جن میں سے تقریباً50شائع ہوئیں۔ تاریخ گوئی میں تو آپ کو یدِ طولیٰ حاصل تھا۔
آپ چشتیہ، نیازیہ، فخریہ، نقشبندیہ، سہروردیہ سلاسل میں صاحبِ مجاز بھی تھے۔ ۸۵ سال کی عمر میں1963میں انتقال ہوا۔
مولانا ریاست علی ظفرؔ بجنوری = آپ قدوۃ المشائخ حضرت شیخ حبیبؔاللہ کی اولاد سے، موضع حبیبؔوالا کے ساکن، از حد ذہین، جیّد عالمِ دین، مدبّر و مفکّر، کہنہ مشق شاعر، ’’دارالعلوم‘‘ دیوبند اور ’’مدرسۃ البنات‘‘ دیوبند کے ترانوں کے خالق اور خداداد صلاحیتوں کے مالک نیز ایک عرصے سے ’’دارالعلوم‘‘ دیوبند میں استاذِ حدیث ہیں۔
آپ نے حضرت مولانا سید فخرالدینؒ کے دامن سے مسلسل تیرہ سالوں تک وابستہ رہ کر ان کی علمی مجالس سے استفادہ کیا اور ان کے درسی افادات کو ’’ایضاح البخاری‘‘ کے نام سے مرتب کیا جس کی چار جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔
1984میں آپ ’’دارالعلوم‘‘ دیوبندؔ کی ’’مجلسِ تعلیمی‘‘ کے ناظم رہے اور قابلِ قدر اصطلاحات نافذ کرتے ہوئے مختلف دفتری علوم میں آسانیاں اور استواری پیدا کیں، امتحان داخلہ تحریری طور پر منظم کیا، امتحان ششماہی کو سالانہ کی طرح باقاعدہ مستحکم کیا اور تمام امتحانات میں امیدواروں کے نام کے بجائے کوڈ سسٹم رائج کیا۔
1987 میں ’’شیخ الہند اکیڈمی‘‘ کا نگراں مقرر ہونے پر آپ نے ’’شوریٰ کی شرعی حیثیت‘‘ کے نام سے ایک گراںقدر کتاب تالیف فرمائی۔ اس کے علاوہ بھی متعدد معیاری نیز علمی کتب تصنیف فرمائیں۔
آپ عارضی طور سے ’’دارالعلوم‘‘ دیوبند کے مہتمم کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ ظفرؔ تخلص سے طبع آزمائی فرماتے اور معیاری اشعار کہتے ہیں۔ کئی دیوان شائع ہوچکے ہیں۔
حکیم سید علیؔ کوثر چاند پوریؒ = بھوپال کے محکمۂ طبابت میں بحیثیت ’’افسرالاطباء‘‘ ملازم رہے۔ وہاں سے سبکدوش ہوجانے کے بعد ’’ہمدرد نرسنگ ہوم‘‘ دہلی میں بحیثیت میڈیکل آفیسر خدمات انجام دیں۔
آپ نے تقریباً ۳۱ ناول، طب پر تقریباً ۹، بچوں کے لئے تقریباً ۱۵، طنز و مزاح پر5اور دیگر موضوعات پر تقریباً6(کل ملا کر تقریباً 66) کتابیں تصنیف کیں۔
آپ قصبہ چاندپورؔ کے رہنے والے تھے۔ 1991میں دہلیؔ وفات پائی۔
قاضی حسنؔ مصطفیٰؒ (عبدالصمد صارمؔ) = 1918 میں سیوہارہؔ میں پیدا ہوئے اور 2003 میں پاکستان انتقال ہوا۔
’’دارالعلوم‘‘ دیوبندسے فراغت حاصل کرنے کے بعد ’’پنجاب یونیورسٹی‘‘ سے فاضل، منشی فاضل اور زبدۃ الحکماء کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ’’جامعۃالازہر‘‘ مصر سے سندِ فضیلت حاصل کی اور ’’جامعہ مصریہ‘‘ میں بھی زیر تعلیم رہے۔
عربی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں طبع آزمائی فرماتے اور فی البدیہہ اشعار کہتے تھے۔ بے خودؔ دہلوی، سائلؔ دہلوی اور فصاحت جنگ جلیلؔ سے اصلاحِ سخن لی۔
[7] قاضی عبدالخالق (نہالؔ سیوہاروی) = 1890میں قصبہ سیوہارہ میں پیدا ہوئے اور 1952میں کراچیؔ وفات پائی۔
پاکستان میں ’’امام الشعراء‘‘ کے خطاب سے نوازے گئے۔ آپ کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
جو موت سے نہ کھیلے اسے زندگی نہ کہہ
جو بجلیوں کی زد میں نہیں، آشیاں نہیں
آپ نواب سائل دہلوی (جانشین داغ) کے شاگرد و داماد تھے۔ سائل نے اپنی مثنوی، ’’قران الاخوین‘‘ میں آپ کی بہت تعریف کی ہے۔آپ کے کئی مجموعۂ کلام شائع ہوئے۔
[8] ڈاکٹر محمد محمددالحق انصاریؒ = قدوۃ المشائخ حضرت شیخ حبیبؔ اللہؒ کی اولاد سے، موضع حبیب والا کے ساکن اور فارسی زبان میں ’’پی۔ایچ۔ڈی‘‘، ’’ڈی۔لٹ‘‘ تھے۔ شاہ ایران کے معتمدِ خاص اور ’’تہران یونیورسٹی‘‘ میں فارسی کے پروفیسر و ’’ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ‘‘ رہے۔ 1997 میں کراچی انتقال ہوا۔
[9] مولوی عبدالبصیر عتیقی آزادؔ = قاضی خاندان قصبہ سیوہارہ سے، فاضلِ دیوبند، فاضلِ حدیث مدینہ منورہ، مولوی فاضل ’’الٰہ آباد یونیورسٹی‘‘ تھے۔ عربی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں آزادؔ تخلص سے طبع آزمائی فرماتے تھے۔ عبدالرحمن بجنوری کے بعد، ’’مشیرِ تعلیمات‘‘ حیدرآباد رہے۔تصنیفات کی تعداد ایک درجن کے قریب ہے۔ ’’تذکرۂ سخنورانِ دکن‘‘ میں آپ کا تذکرہ ہے۔ ۱۹۴۱ء میں لکھنؤ میں انتقال ہوا۔
[10] ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری = 1885میں قاضی خاندان قصبہ سیوہارہؔ میں پیدا ہوئے۔ ’’مسلم یونیورسٹی‘‘ علی گڑھ سے ایم۔اے؛ ایل۔ایل۔بی کی ڈگریاں حاصل کرکے لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور جرمن میں رہ کر پی۔ایچ۔ڈی کی۔ جرمن زبان میں ’’فقہ اسلام‘‘ پر مقالہ لکھا اور قسطنطنیہ کا سفر کیا۔ ریاست بھوپال میں ’’مشیر تعلیمات‘‘ رہے۔
آپ ڈاکٹر شعیبؔ قریشی (ایڈیٹر ’’کامریڈ‘‘)، ڈاکٹر انصاریؔ اور علامہ اقبالؔ کے ہمعصر نیز کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں سے مذکورہ کے علاوہ ایک ’’محاسنِ کلامِ غالبؔ‘‘ بھی ہے جو ان کی مشہور تصنیف ہے۔ اردو میں چند نظمیں بھی لکھیں۔ دو مجموعے شائع ہوئے۔ 1918 میں انتقال ہوا۔
]۱۱[ پروفیسر ریاض الاسلامؔ = 1920میں قاضی خاندان سیوہارہ میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں والدہ کے پیار سے اور دس سال کی عمر میں والد کے سائے سے محروم ہوگئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ’’مسلم یونیورسٹی‘‘ علی گڑھؔ سے ایم۔اے (تاریخ) میں ٹاپ کیا اور سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ بعد ازاں ’’کیمبرج یونیورسٹی‘‘ سے پی۔ایچ۔ڈی کی۔ اس کے بعد ’’مسلم یونیورسٹی‘‘ علی گڑھ اور ’’پنجاب یونیورسٹی‘‘، ’’دہلی یونیورسٹی‘‘ میں تاریخ کے لکچرر رہے۔1947 میں پاکستان چلے گئے جہاں ’’کراچی یونیورسٹی‘‘ میں تاریخ کے پروفیسر ہوئے۔ کئی کتابوں کے مصنف تھے۔
[12] مولوی محی الدین ذکاءؔ = قاضی خاندان، قصبہ سیوہارہ میں پیدا ہوئے۔ مشہور عالم و فاضل، ریاضی و تاریخ کے استادِ کامل تھے۔ ’’دہلی کالج‘‘ دہلی میں تعلیم پائی تھی۔ مولانا مملوک علی و مولانا صہبائی کے شاگرد نیز مولانا ذکااللہ، ڈپٹی نذیراحمد، حضرت مولانا قاسم اور مولانا رشیداحمد کے ہم سبق رہے۔استاد ذوقؔ کے شاگرد تھے۔ 1898میں وفات پائی۔
[13] الحاج منظورؔ علی فاروقی (المعروف بہ تمناؔ بجنوری) = آپ شاہ عبدالغفورؔ اعظم پوریؒ کی اولاد سے اور موضع حبیبؔوالا کے رہنے والے تھے۔ تاریخی نام’’مظاہر الاسلام ‘‘تھا، یعنی آپ 1309ھ 1891 میں حبیب والا میں پیدا ہوئے۔ 26اور 27ویں روزے کی درمیانی شب میں 23؍ستمبر 1976کو علی گڑھؔ جہاں آپ ’’مسلم یونیورسٹی‘‘ میں ملازم رہے، انتقال ہوا۔
آپ ایک بلند پایہ مفکر، مستند و معیاری صاحبِ دیوان شاعر تھے۔ پہلے گریاں اور بعد ازاں تمنا تخلص سے اردو اور فارسی میں طبع آزمائی کی۔ زودگوئی، تضمین اور تاریخ گوئی میں آپ کو ملکہ حاصل تھا۔ ہمہ وقت آپ کی رہائش گاہ پر دانشورانِ علی گڑھ کی نشست جمی رہتی تھی اور چائے و پان کا دور چلتا رہتا تھا۔ریاضت کا یہ عالم تھا کہ جب سے ہوش سنبھالا کوئی نماز قضا نہیں ہوئی۔ رمضان شریف میں پندرہ اور عام دنوں میں دس سپارے تلاوت کرنا آپ کا معمول تھا۔
[14] مولوی محمد یٰسین غریق = محکمۂ نہر (پنجاب) میں ڈپٹی کلکٹر رہے۔ ترن تارن میں مدفون ہیں۔ متبحر فاضل مولانا غلام حسین سیوہاروی اور شوق دہلوی کے شاگردِ رشید تھے۔ ایک مطبوعہ دیوان جس میں اردو فارسی کا کلام ہے اور دو ضخیم دیوان پرانی وضع موٹے کاغذ پر لکھے ہوئے یادگار چھوڑے ہیں۔
[15] پیرزادہ قاسمؔ = اصل نام محی الدین احمد (عرف قاسمؔرضا) ہے۔ والد کا نام الحاج شاہ ضیاءؔالدین احمد1968 کراچی) اور دادا کا نام شیخ ریاض الدین احمد بسملؔ (1926حبیب والا) تھا۔جناب ریاض الدین بسمل موضع حبیب والا کے رہنے والے اور صاحبِ دیوان شاعر تھے۔ کافی ذہین، لائق و فائق شخص تھے۔ ریاست کشنؔگڑھ (راجستھان) میں تحصیلدار رہے۔ 1923میں خلافت تحریک سے وابستہ ہوجانے کے سبب ملازمت چھوڑ کر واپس وطن (حبیب والا) تشریف لے آئے تھے۔
شاہ ضیاءؔالدین احمد، مولانا حکیم حافظ عبدالقدیرؔ قمر العارفین دہلویؒ (اولاد بابا فریدؔالدین گنج شکرؒ) کے خلفاء میں سے اور صاحبِ اجازت تھے۔ خلافت تحریک سے وابستگی کے سبب آپ نے ملازمت ترک کرکے صحافت سے ناطہ جوڑ لیا تھا۔ 1923میں مولانا آزادؔ کے اخبار ’’الہلال‘‘ سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں ’’الجمعیۃ‘‘، ’’الخلیل‘‘، ’’پیغام‘‘، ’’چنگاری‘‘ وغیرہ میں مضامین لکھنے لگے تھے۔1940میں مسٹر محمد علی جناح اور نواب زادہ لیاقت علی خاں کی تحریک پر مسلم لیگ میں شامل ہوگئے او1945سے مسلم لیگ کی پبلی کیشن سے متعلق رہے۔ بعد ازاں انگریزی روزنامہ ’’ڈان‘‘ اور مسلم لیگ کے دفتر سے نکلنے والے اردو اخبار ’’منشور‘‘ سے بھی کسی نہ کسی طور وابستہ ہوگئے۔ پہلے تو آپ نے پاکستان جانے سے انکار کردیا تھا لیکن جب دہلی میں قتل و غارت گری کی آندھی چلی تو بالآخر اکتوبر 1947میں کراچیؔ نقلِ مکانی کرگئے جہاں ’’ڈان‘‘ اخبار کی جانب سے Mueis Mansion میں آپ کے قیام کا انتظام کیا گیا۔ مارچ1966 میں آپ پر زبردست فالج کا حملہ ہوا اور ۲۲؍دسمبر بروز اتوار (یکم شوال المکرم) 1968 کو بعد نماز عید آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔
آپ (پیرزادہ قاسمؔ) ۸؍فروری (۱۰؍محرم الحرام) 1360ھ(1960) جمعہ۔ہفتہ کی درمیانی شب کو بارہ بجے پیدا ہوئے۔ عالمی شہرت یافتہ شاعر، محقق اور دانشور ہیں۔ کئی اعزازات سے نوازے جاچکے ہیں۔ ’’پرووائس چانسلر‘‘ اور ’’چانسلر‘‘، ’’کراچی یونیورسٹی‘‘ بھی رہے۔
علامہ شیخ عبدؔالحمیدؒ ]شیخ حبیبؔاللہؒ کے فرزندِ اکبر، موضع حبیب والا کے معاون۔ بانی، جیّد عالم، چشتیہ و قادریہ و طیفوریہ سلاسل سے صاحب اجازت بزرگ اور صاحبِ تصانیف تھے[،
منشی فضل حسینؒ محزوںؔ ]شیخ حبیب اللہؒ کی اولاد سے، حبیب والا کے ساکن، داغؔدہلوی کے شاگردِ خاص اور کہنہ مشق و صاحبِ دیوان شاعر تھے (آپ کا ایک دیوان بے نقطے کے اشعار پر مشتمل تھا)[ الحاج مولانا ضیاءؔالدینؒ قاسمی ]جیّد عالمِ دین، بہترین مقرر اور حبیب والا کے ساکن تھے لیکن بعد میں علی گڑھ کی سکونت اختیارکرلی تھی۔ عربی بہت روانی سے بولتے تھے۔ ہندوستان سے سب سے پہلی جو تبلیغی جماعت سعودی عرب گئی اس کے لئے آپ ہی کو امیرِ جماعت منتخب کیا گیا تھا۔ سیوری (ضلع ویربھوم، مغربی بنگال) میں واقع مدرسہ ’’ضیاء الاسلام‘‘ آپ ہی کے نام پر اور آپ کا قائم کردہ ہے جس طرح سے آسمان پر لاتُعد ستاروں کی ایک کہکشاں جلوہ گر ہے اور اس میں موجود روشن ستاروں کا شمار کرنا محال ہے، اسی طرح سے اس ضلع سے متعلق بھی دینی و روحانی، ملّی اور ادبی شخصیات کی ایک عظیم کہکشاں ہے۔ وقت کی کمیابی کے سبب ان میں سے محض چند کا ہی مختصر سا تعارف پیش کیا گیا۔ مزید چند کے اسماء اس طرح سے ہیں قائم چاندپوری، پروفیسر خورشیدالاسلام (سیوہارہ)، قرۃالعینؔحیدر (نہٹور)، سجّاد حیدر یلدرمؔ (نہٹور)، ڈپٹی نذیر احمد (بجنور)، تاجور نجیب آبادی، اخترؔالایمان، رفعت سروشؔ (نگینہ)، صدیقہ بیگم سیوہاروی، اطہر پرویز (سیوہارہ)، ہلالؔسیوہاروی، نشترؔخانقاہی (بجنور)، پروفیسر ظفر احمدنظامی (شیرکوٹ)، مولانا مرغوب الرحمن (بجنور)، مولانا سلطانؔ الحق قاسمی (حبیب والا)، مولانا محمد جمیل عامرؔ قاسمی (حبیب والا)، مختارؔ احمد (حبیب والا)، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، حسن عثمان قاضیؔ (سیوہارہ)، حکیم سید منصور علیؔ (حبیب والا)، ڈاکٹر شمیمؔاحمد (نگینہ۔لکھنؤ) وغیرہ وغیرہ۔
سرسیداحمد خاںؒ (بانیٔ ’’مسلم یونیورسٹی‘‘ علی گڑھ) کے نام سے آج کون ذی علم واقف نہیں۔ ان کی عظمت، ان کی مدبّرانہ صلاحیت و قیادت کو مخالفین نے بھی تسلیم کیا ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے فخر ہے کہ ان کے عزم کی تخم ریزی اسی سرزمین سے ہوئی تھی۔ خدا کرے کہ آج کا مذاکرہ علاقے میں ایک نئے دور کا آغاز کرے؛ جس شجر کی آج تخم ریزی ہو اس پر جلد نئی کونپلیں پھونٹیں، نئی شاخیں نکلیں، نئی کلیاں چٹخیں، خوش رنگ پھول کھلیں اور شیریں پھل آئیں؛ وہ جلد نشوونما پاکر ادبی دنیا پر سایہ فگن ہوئے (آمین، ثم آمین)۔
جناب شیخ نگینوی اور ان کے رفقائے کار نے آج پہل کرکے تشنہ لب اہلیان خطّہ کو آبِ حیات فراہم کردیا ہے۔ موجودہ حالات میں ان کی یہ کاوش لائقِ صد داد و تحسین اور قابلِ ستائش ہے، ساتھ ہی دوسروں کے لئے قابلِ تقلید بھی۔ بقول فناؔنظامی کانپوری مرحوم ؎
راہبر راہ مسافر کو دکھا دیتا ہے
وہی منزل پہ بھی پہنچائے، ضروری تو نہیں
راہ دکھائی جاچکی ہے۔ اب اہلیانِ خطّہ کا کام ہے کہ منزل تک پہنچنے کا کام وہ خود انجام دیں۔
بھول نہ جانا کہیں تم مجھے اپنا کہہ کے!
رہ نہ جائے مری امید کا سورج گہہ کے!!
09759318584
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

