تفسیر شاہی – پروفیسر کبیر احمد جائسی

by adbimiras
0 comment

 

تفسیر شاہی کے مختصر حرف آغاز میں اس تفسیر کے مصنف نے اپنا نام ابو الفتح الحسینی تحریر کیاہے اور اپنے والد، خانوادہ اور وطن کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی ہے ۔ ابو الفتح الحسینی کے نزدیک کلام پاک کی آیتوں کو چار نوع کی آیتوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ ایک نوع کی آیتیں تو وہ ہیں جن میں پیغمبر ﷺ،ائمہ’’معصومین‘‘ اور تمام ’’مومنین‘‘ ۱؎کی مدح وستائش کی گئی ہے ۔ دوسری نوع کی آیتیں وہ ہیں جن میں کفار منافقین اور تمام ’’…۲؎‘‘کے قبائح بیان ہو ئے ہیں ۔ تیسری نوع کی آیتیں مسائل اور احکام شرعیہ سے متعلق ہیں اور چوتھی نوع کی آیتوں میں ’’قصص و امثال لطیفۂ شریفہ‘‘ ہیں۔ ابو الفتح الحسینی نے اپنے مقدمہ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان سے پہلے بھی لوگوں نے مسائل واحکام شرعیہ سے متعلق آیتوں کو جمع کر کے ان کی مدد سے ’’ اصول خمسہ‘‘ کو مرتب انداز سے پیش کیا ہے، مگر چوں کہ ان کے پیش روئوں کی تصانیف عربی میں ہیں اور عام افراد ان سے استفادہ نہیں کر سکتے اس لیے وہ شاہ تہماسپ کے حکم سے ’’آیاتِ احکام ‘‘ کی فارسی زبان میں تفسیر لکھ رہے ہیں اور الفاظ و معانی کی تحقیق و تدقیق کر کے ان آیتوں کو اس طرح مرتب کر رہے ہیں کہ ہر شخص ان سے فائدہ اٹھا سکے۔ چوں کہ ابو الفتح الحسینی نے شاہ تہما سپ کے حکم پر یہ تفسیر لکھی ہے اس لیے انھوں نے اس کانام ’’تفسیر شاہی‘‘ رکھا ہے ۔

عام اردو خواں قاری اس بات سے ناواقف ہے کہ ’’ آیات الاحکام ‘‘سے مراد کس نوع کی تفسیر ہے اور اس کو کس انداز سے مرتب کیا جاتاہے، اس لیے ہم ذیل میں ’’تفسیر شاہی‘‘ کے انداز ترتیب کو بیان کر رہے ہیں ۔

ابوالفتح الحسینی نے ایک مختصر سے مقدمہ کے بعد ’’تفسیر شاہی‘‘ کی ابتدا ’’کتاب طہارت‘‘ سے کی ہے ۔ آغاز کلام میں ابو الفتح نے لفظ طہارت کے لغوی معنیٰ بیان کیے ہیں۔ بعد ازاں بارہ آیتوں کی تشریح وتعبیر کرتے ہوئے اپنے نقطہ ٔ نظر سے طہارت کے جملہ امورو مسائل پر مفصل اور پر معنیٰ بحث کی ہے ۔ ابو الفتح الحسینی نے جن بارہ آیتوں سے مدد لی وہ یہ ہیں۔ (۱) مائدہ ۶(۲)نساء ۴۳ (۳) البینۃ ۵(۴) واقعہ ۷۷تا ۷۹ (اصل کتاب میں صرف ۷۹درج ہے )(۵) توبہ ۱۰۸(اصل آیت کا نصف آخر حصہ )(۶)فرقان ۴۸ (۷) انفال ۱۱ (۸) بقرہ ۲۲۲ (۹) توبہ ۲۸ (۱۰) مائدہ ۹۰ (۱۱) مدثر۴۔۵ (۱۲) بقرہ ۱۲۴

کتاب الطہارۃ کے بعد صفحہ ۹۳ سے کتاب الصلوۃ ‘‘ کا آغاز ہو تا ہے ۔ اس میں بھی پہلے تو صلوٰۃ کے معنیٰ سے بحث کی گئی ہے ، بعد ازاں بقول ابو الفتح الحسینی:

’’آیاتی کہ متعلق است بہ نماز ہشت نوع است یکی آنکہ متعلق است بہ مطلق نماز و آن چہار آیت است ‘‘

[وہ آیتیں جو نماز سے متعلق ہیں آٹھ نو ع کی ہیں ، ان میں ایک قسم جو مطلق نماز سے متعلق ہے وہ چار آیتیں ہیں ]

وہ چار آیتیں یہ ہیں : (۱) نساء ۱۰۳ (۲) بقرہ ۱۳۸(۳) طٰہٰ ۱۳۲(۴) مومنون ۱  نوع دویم ’’(آیاتیست ) کہ دلالت می کند بر وجوب نماز ہایٔ پنج گانہ وتعیین اوقات ایشان وآن پنج آیت است ‘‘

[(دوسری نوع کی) وہ آیتیں ہیں جو پانچوں وقت کی نمازوں کے وجوب اور ان کے اوقات کی تعیین پر دلالت کرتی ہیں، ایسی آیتیں پانچ ہیں]

وہ پانچ آیتیں یہ ہیں (۱) بنی اسرائیل ۷۹(۲) ہود ۱۱۴ (۳) روم ۱۷ (۴)  طہٰ ۱۳۰ (۵) قٓ ۳۹۔

نوع سوم ’’ آیاتیست کہ متعلق است بہ قبلہ و آن ہفت آیت است ‘‘

[ وہ آیتیں جو قبلہ سے متعلق ہیں ،یہ سات ہیں ]

وہ سات آیتیں یہ ہیں:(۱) بقرہ ۱۴۲ ( اصل کتاب میں آیت کا نمبر ۱۴۳ درج ہے ) (۲) بقرہ ۱۴۳ (مفسر نے اس آیت کے پہلے ٹکڑے کو چھوڑ دیا ہے )  (۳)بقرہ ۱۴۴ (۴) بقرہ ۱۴۵ (۵) بقرہ ۱۴۹۔۱۵۰ (۶) بقرہ ۱۱۵ (اصل کتاب میں اس کو ۱۱۶ ویں آیت تحریرکیا گیا ہے ) (۷) مائدہ ۹۷

نوع چہارم ’’ آیاتیست کہ متعلق است بہ باقی مقدمات نماز مثل ستر عورت و مکان و اذان و آن دوازدہ آیت است ‘‘

[وہ آیتیں ہیںجو باقی مقدماتِ نماز ، مثلاً سترِ عورت، جگہ اور اذان سے متعلق ہیںاور وہ بارہ ہیں]

وہ بارہ آیتیں یہ ہیں (۱) اعراف۲۶ (۲) اعراف ۳۱ (اصل کتاب میں سورہ کا نام تو صحیح درج ہے مگر آیت کو ایک سو سولہویں آیت قرار دیا گیا ہے ، جو غلط ہے۔ آیتوں کے نمبر مفسر نے نہیں، میرزا ولی اللہ الاشراقی نے ڈالے ہیں) (۳) مائدہ ۳ (مفسر نے پوری آیت نہیں لی ہے، طویل آیت کا صرف ابتدائی ٹکڑا لیا ہے ) (۴)نحل ۵ (اصل کتاب میں سورۂ نحل کے ساتھ سورۂ انعام کا نام بھی درج ہے ، آیت کا نمبر پانچ ہی ہے۔ اصلاً مذکورہ آیت سورۂ نحل کی ہے، انعام کی نہیں (۵) نحل ۸۰ (۶)نحل ۸۲ (اصل کتاب میں نہ تو آیت صحیح شائع ہو ئی ہے اور نہ ہی نمبر، اصلاً مفسر نے آیت ۸۱ سے استشہاد کیا ہے) (۷)بقرہ ۱۱۴ (مفسر نے پوری آیت نقل نہیں کی ہے ) (۸) توبہ ۱۸ (مطبوعہ کتاب میں آیت ۱۹ شایع ہوا ہے ) (۹) اعراف ۲۹ (آیت کا صرف وسطی ٹکڑا مفسر نے درج کیا ہے (۱۰) یونس ۸۷ (۱۱) توبہ ۱۰۷۔ ۱۰۸(۱۲)مائدہ ۵۸

نوع پنجم :’’آیاتیست کہ متعلق است بہ مقارنات نماز و آن ہشت آیتست ‘‘

[ وہ آیتیں جو نماز سے جڑی چیزوں سے متعلق ہیں اور وہ آٹھ ہیں ]

وہ آٹھ آیتیں یہ ہیں ۔ (۱) بقرہ ۲۳۸ (مفسر نے وَقُوْمُوا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ ۔ سے استشہاد کیا ہے ، آیت کا شروع کا حصہ چھوڑدیا ہے (۲) بنی اسرائیل۱۱۱ (۳) ’’فَاقْرَوُا مَاتَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ‘‘مزمل ۲۰(یہ سورۂ مزمل کی طویل ترین آیت کے چند الفاظ ہیں ، مطبوعہ کتاب میں ان الفاظ کو دوسری آیت درج کیا گیا ہے جو صریحا ً غلط ہے ) (۴)  حج ۷۷ (۵) جن ۱۸ (۶) واقعہ ۹۶ (۷) بنی اسرائیل ۱۱۰ (بیچ کے ٹکڑے [وَلاَ تَجْہَرْ …… سَبِیْلاً] سے استشہاد کیا ہے (۸) احزاب ۵۶۔

نوع ششم: ’’آیاتیست کہ تعلق دارد بہ مستحبات نماز وآن پنج آیت است ‘‘

[وہ آیتیں ہیںجو مستحبات ِ نماز سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ پانچ ہیں]

وہ پانچ آیتیں یہ ہیں:(۱) بقرہ ۲۳۸ (آیت کا صرف یہ ٹکڑا ’’ وَقُوْمُوا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ  ‘‘  نقل کیاگیا ہے ۔ اسی ٹکڑے سے نوع پنجم میں بھی مفسر نے استشہاد کیا ہے ) (۲)کوثر ۲  (۳) مومنون ۱(اس آیت سے کتاب الصلوۃ کے نوع اول میں بھی حکم اخذ کیا گیا ہے ) (۴) نحل ۹۸ (۵) مزمل ۲تا۸

نوع ِ ہفتم:’’آیاتیست کہ متعلق است ببعض احکام متعلقہ بہ نماز وآن ہفت آیت است ‘‘

[وہ آیتیں ہیں جو نماز کے بعض احکام سے متعلق ہیں اور وہ سات آیتیں ہیں ]

وہ سات آیتیں یہ ہیں (۱) نساء ۸۶ (۲) انعام ۱۶۲ تا ۱۶۴ (۳) مائدہ ۵۵ (۴) طہٰ ۱۴۔۱۵ (۵)فرقان ۶۲ (۶) توبہ ۵ (۷) بقرہ ۲۱

نوع ہشتم:’’آیاتیست کہ متعلق اند بہ نماز ہایٔ واجب غیر از نماز ہایٔ پنج گانہ و باحکام لاحقہ بمطلق نماز واین یازدہ آیت است‘‘

[وہ آیتیں ہیں جو پانچوں وقتوں کی نماز کے علاوہ واجب نمازوں سے مربوط احکام سے متعلق ہیں۔ ایسی آیتیں گیارہ ہیں]

وہ گیارہ آیتیں یہ ہیں(۱)جمعہ ۹ (صرف اس ایک آیت کی تفسیر صفحہ ۲۱۷ سے ۲۳۲ تک سولہ صفحات پر محیط ہے ) (۲)جمعہ ۱۰ (۳) جمعہ ۱۱ (۴) کوثر ۲ (اس آیت سے نوع ششم میں بھی استدلال کیا گیاہے ) (۵)توبہ ۸۴ (۶) نساء ۱۰۱ (۷) نساء ۱۰۲(مطبوعہ کتاب میں اس کو ایک سو اکیسویں آیت قرار دیا گیا ہے) (۸) نساء ۱۰۳( اس آیت کو بھی ایک سو اکیس آیت لکھا گیا ہے ) (۹) بقرہ ۴۳ (۱۰) اعراف ۲۰۴ (۱۱) سجدہ ۱۵

اس’’ نوع ‘‘پر کتاب الصلوٰۃ کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد کتاب الصوم کا آغاز ہو تا ہے۔ کتاب الصوم میں ابو الفتح الحسینی نے جو کچھ تحریرکیا ہے ، وہ سورۂ بقرہ کی پانچ آیتوں : ۱۸۳ تا ۱۸۷ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ہے ۔ مطبوعہ کتاب میں کلام اللہ کو نقل کرنے میں سنگین غلطی ہوگئی ہے ۔ آیت کے آخری دو الفاظ ’’لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ ‘‘ ہیں جن کو’’ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ‘‘ شایع کر دیا گیا ہے جو سورہ بقرہ کی ۱۸۳ ویں آیت کے آخری الفاظ ہیں ۔ کتاب الصوم کی ابتدا میں کتاب الصلوٰ ۃ ہی کی طرح ابو الفتح الحسینی نے صوم کے لغوی معنیٰ سے بحث کی ہے، بعد ازاں ایک حدیثِ قدسی نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ’’ کل عمل ابن آدم لہ الا الصوم فانہ لی وانا اجزی بہ ‘‘ بعد ازاں انھوں نے اس کا سبب تحریر کیا ہے کہ انھوں نے ’’ کتاب الزکوٰۃ سے پہلے ’’کتاب الصوم کیوں لکھی ؟ ان کا کہنا یہ ہے :

’’در کثیری از آیات قرآنی بعد از ذکر صلوٰۃ ، صوم مذکور شدہ ‘‘

[ بہت سی قرآنی آیتوں میں نماز کے ذکر کے بعد روزہ کا ذکر ہوا ہے ]

نہ جانے کیوں ابو الفتح الحسینی نے ’’بہت سی ‘‘ آیتوں کے ہوتے ہوئے صرف پانچ آیتوں سے ہی استشہاد کیا ہے ۔

کتاب الصوم کے بعد کتاب الزکوٰۃ ہے جو صفحہ ۲۷۷ سے شروع ہوکر ۳۱۵ پر ختم ہوتی ہے ۔ اس ’’ کتاب ‘‘ میں بھی پہلے لفظ زکوٰۃ کے لغوی،بعد ازاں شرعی معنیٰ بتائے گئے ہیں۔ ان کے نزدیک اس لفظ کے لغوی معنی ’’پاک شدن است ‘‘ (پاک ہونا ہے) اور شرع میں اس کے معنیٰ وہ مقررہ صدقہ ہے جو اصلِ شرع سے ثابت ہے ۔اور ’’زکوٰۃِ شرعی پاک شدن مال است از حرام‘‘ (شرعی زکوٰۃ مال کا حرام سے پاک ہونا ہے ) ابوا لفتح الحسینی نے اس کتاب میں تین ’’مبحث‘‘تحریر کیے ہیں:

مبحث اول: ’’ در وجوب زکوٰۃ ومحل آن ودر او چہار آیت است ‘‘

[زکوٰۃ کے فرض ہونے اور محلِ زکوٰۃ (کے بارے میں ) اور اس میںچار آیتیں ہیں]

وہ چار آیتیں یہ ہیں (۱) بقرہ ۱۷۷ (۲) حم سجدہ ۷ (قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ سے وَاسْتَغْفِرُوْہُتک وَیْلُ لِّلْمُشْرِکِیْنَ کے الفاظ چھوڑدیے گئے ہیں ۔ اصلا ً یہ چھٹی آیت ہے، ساتویں نہیں) (۳) توبہ ۳۴ (یَاَ اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اِنَّ کَثِیْراً سے سَبِیْلِ اللّٰہ تک کا آیت کا ابتدائی حصہ چھوڑ دیا گیا ہے (۴) ذاریات ۱۹

مبحث دوم: ’’در گرفتن زکوٰۃ ورسانیدن آن بہ مستحق ودر آن شش آیت است ‘‘

[زکوٰۃ کو وصول کرنے اور اس کو مستحقوں تک پہونچانے کے بارے میں اور اس میں چھ آیتیں ہیں]

وہ چھ آیتیں یہ ہیں (۱) توبہ ۱۰۳ (۲) توبہ ۱۰۴ (۳) بقرہ ۲۶۷ (۴) روم ۳۹ (۵)توبہ ۶۰ (۶) بقرہ ۲۷۱

مبحث سوم: ’’ در احکام متعلق باخراج زکوٰۃ ودر آن شش آیت است‘‘

[زکوٰۃ کو خرچ کرنے کے احکام کے متعلق اوراس میںچھ آیتیں ہیں]

وہ آیتیں یہ ہیں (۱) بقرہ ۲۷۲( اصل کتاب میں اس آیت کو ۱۷۶ ویں آیت کہا گیا ہے جو گمراہ کن ہے۔ علاوہ برایں مفسر نے پوری آیت سے استشہاد نہیں کیا ہے، بلکہ آیت کا صرف آخری ٹکڑا ، جو’’وَمَا تُنْفِقُوا سے شروع ہوتا ہے ، تحریر کیا ہے ) (۲) بقرہ ۲۷۳ (۳) بقرہ ۲۱۵ (۴) بقرہ ۲۱۹ (مفسر نے آیت کے بیچ کے ٹکڑے ’’ یَسْئَلُونَکَ  مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ ‘‘ سے استشہاد کیا ہے )(۵) بقرہ ۲۶۴ (۶) اعلیٰ ۱۴۔ ۱۵

کتاب الزکوٰۃ کے بعد ابو الفتح  الحسینی نے ’’کتاب الخمس ‘‘کے عنوان سے چودہ صفحات (۳۱۵۔ ۳۲۸) کا ایک باب تحریر کیا ہے۔ لفظ خمس کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے صرف اتنا لکھنے پر اکتفاکیا ہے :

’’بدان کہ خمس در شرع عبارتست از حقی واجب شود درمال از برای بنی ہاشم و مراد را شرایط و احکام است کہ تفصیل آن در کتب اصحاب مسطور است ودریں کتاب سہ آیتست ‘‘

[ جان لو، شرع میں خمس اس حق سے عبارت ہے جو مال میں سے بنی ہاشم کے لیے (نکالنا ) واجب ہے ۔ اس کے لیے کچھ شرطیں اور احکام ہیں جن کی تفصیل اصحاب کی کتابوں میں تحریر ہے ۔ اس کتاب میں تین آیتیں ہیں]

وہ تین آیتیں یہ ہیں :(۱) انفال ۴۱ (۲) بنی اسرائیل ۲۶ (ابو الفتح الحسینی نے اس آیت کے آخری دو الفاظ ’’ وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِیْراً‘‘ سے استشہاد نہیں کیا ہے ) (۳)انفال ۱۔

کتاب الخمس کے بعد کتاب الحج کا عنوان سامنے آتا ہے اور اسی عنوان پر ’’آیات الاحکام ‘‘ یا تفسیر شاہی کی پہلی جلد ختم ہو جاتی ہے ۔ اس کتاب کے شروع میں انھوں نے حج کے بارے میں جو کچھ تحریر کیا ہے وہ تھوڑا سا طویل ہے ، مگر ان کی بات کو سمجھنے کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کو مکمل طور سے نقل کر دیا جائے، تاکہ ابو الفتح الحسینی کی مکمل بات ہمارے پیشِ نظر رہے ، وہ لکھتے ہیں :

’’بداں کہ حج در لغت قصد است ودر شرع قصدِ طوافِ بیت اللہ است باعبادات مخصوصہ در آن حدود ۔

وبعضی گفتہ اند مجموع عبادات مخصوصہ است ، در مشاعر مخصوصہ است وبرہر تقدیر ظاہر آن است کہ لفظ حج منقول شرعی است از قصد مطلق بہ قصد خاص یا بمقاصد مخصوصہ بہ مخصصِ شرعی ۔ بنا بر تعریف اول ومنقول شرعی بنا بر تعریف ثانی چنانکہ بعضی گمان بردہ اند زیرا کہ متبادر از حج در عرف شرع معنی ٔخاص است بخصوصہ بی آنکہ معنی ٔ عام بخاطر خطور کند واین تبادر اقویٰ امارات حقیقت شرعیہ است ، چنانکہ مختار محققان علماء اصو ل است اگر چہ تخصیص  بہتر است از نقل نزدِ ایشان۔

ومخفی نیست کہ حج از جملہ ارکان اسلام است و افضل آنہا از آن حیث کہ مشتمل است بر عباداتِ بدنیہ ومالیہ وتجرد از شہواتِ جسمانیہ وتوجہ بسوی خدای تعالیٰ ووجوب او از ضروریات دین است ومباحث او سہ نوع است ؛

نوع اول در وجوب اوست ودر او دو آیت است :

[ جان لو کہ حج ، لغت میں ارادہ کو کہتے ہیںاور شرع میں مخصوص عبادتوںکے ساتھ خانۂ کعبہ کے طواف کو ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ (حج)مخصوص عبادتوں کی جگہوں میںمخصوص عبادتوں کا مجموعہ ہے ۔ بہ ہر حال یہ ظاہر ہے کہ لفظ حج پہلی تعریف کے مطابق مطلق سے قصد خاص تک یا مخصوص مقاصد کے لیے شرعی تخصیص کے ساتھ (عمل پیرا ہونے کی) شرعی اصطلاح ہے اور دوسری تعریف کے مطابق منقول شرعی ہے جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے، کیوں کہ(لفظ) حج سے،بجائے اس کے کہ عام معنٰی دل میں پید اہوں ، عرف شرع میں یہ خاص معنی نکلتے ہیں اور اس معنیٰ کا پیدا ہونا شرعی حقیقت کی قوی ترین علامتوں کو تقویت دینے والا ہے، جیسا کہ علمائے اصول کے محققین نے اختیار کیا ہے، اگر چہ ان کے نزدیک ’’نقل ‘‘سے ’’تخصیص‘‘ بہتر ہے ۔

اور یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ حج جملہ ارکانِ اسلام میں سے ہے اور اُن (ارکا ن) میں اس حیثیت سے سب سے افضل ہے کہ بدنی اور مالی عبادتوں پر مشتمل ہے اور جسمانی شہوتوں سے علٰیحدگی (ہے) اور خدای تعالیٰ کی طرف توجہ۔ اور اس کا وجوب دین کی ضروریات میں سے ہے اور اس کے مباحث تین نوع کے ہیں :

پہلی’’ نوع‘‘ اس کے وجو ب میں ہے اور اس سلسلے میں دو آیتیں ہیں]

وہ دو آیتیں سورۂ آل عمران کی ہیں ۔ مفسر نے آیت ۹۶ اور ۹۷ کی تفسیر کرتے ہوئے اپنی بات کی وضاحت کی کوشش کی ہے۔

’’نوع دوم در افعال حج است واقسام او در بعض احکام او دردہ آیت است‘‘

[’’دوسری نوع‘‘ حج کے افعال اور اس کی قسموں ( کے بارے ) میں ہے ، اور اس کے بعض احکام دس آیتوں میں ہیں]

نوع دوم میں جن دس آیتوں کا حوالہ ہے وہ یہ ہیں ؛(۱) بقرہ ۱۹۶ (۲) بقرہ ۱۹۷ (۳) بقرہ ۱۹۸ (اصل کتاب میں آیت کا نمبر ۲۷۹ ہے، جو صریحا ً غلط ہے ) (۴)بقرہ ۱۹۹ (۵) بقرہ ۲۰۰۔ ۲۰۲ (۶) بقرہ ۱۲۵ (مطبوعہ کتاب میں آیت کا نمبر ۱۷۶ شایع ہواہے ) (۷) بقرہ ۱۵۸ (مطبوعہ کتاب میں ۱۵۹درج ہے ) (۸) حج ۳۶ (۹) فتح ۲۸ (۱۰) بقرہ ۲۰۳۔

’’نوع سیم در بعض احکام حج است وتوابع آن ودر او سیزدہ آیت است ‘‘

[تیسری قسم میں بعض احکام اور ان کے توابع ہیں اور اس سلسلے میں تیرہ آیتیں ہیں ]

اس نوع میں جن آیتوں کی تفسیر کی گئی ہے وہ یہ ہیں (۱) مائدہ ۹۴(۲) مائدہ ۹۵ (۳) مائدہ ۹۶ (۴) مائدہ ۹۷ (۵) مائدہ ۲ (وتعاونوا سے آخر آیت تک کے الفاظ کوچھوڑ دیا گیا ہے ) (۶) حج ۳۰ (۷) حج ۲۵ (۸) ۱۲۶ (۹) بقرہ ۱۲۷ (۱۰) بقرہ ۱۲۸

یہاں اس بات کی نشان دہی ضروری ہے کہ نوع سیم کے تحت مطبوعہ کتاب میں تیرہ آیتوں کی جگہ صرف دس آیتوں کی تفسیر ملتی ہے۔ہمارے لیے یہ کہنا دشوار ہے کہ کن تین آیتوں کی تفسیر شایع نہیں ہو سکی ہے ۔ بہ ہر حال اسی نوع سیم پر پہلی جلد کا اختتام ہوتا ہے ۔ اس جلد کا آخری فارسی جملہ یہ ہے :

’’ومخفی نماند کہ تعلق آیات اخیر کہ مذکور شد بہ احکام حج ظاہر نیست وتعلق آنہا بہ حج بہ اعتبار اشتمال آنہا ست بر ذکر بعض احوال حج و مواضع آن‘‘

[اور یہ بات پوشیدہ نہ رہے کہ اخیر کی جن آیتوں کا ذکر ہوا ہے ان کا تعلق حج کے احکام سے ظاہر نہیں ہے ۔ ان کا حج سے تعلق ان کے حج کے بعض احوال اور مقامات کے ذکر پر مشتمل ہونے کے اعتبار سے ہے ۔

اس کے بعد یہ عربی عبارت ہے :

’’قدتم بعون اللہ الجزء الاول من التفسیر الشاہی ویتلوہ الجزء الثانی من کتاب الجہاد‘ ‘

[اللہ کی مدد سے تفسیر شاہی کا پہلا جز مکمل ہوا ۔آگے کے جزو دوم کا آغاز کتاب الجہاد سے ہوگا )

کسی بھی قرینے سے یہ بات واضح نہ ہو سکی کہ جزو اول وثانی کی تقسیم مفسر نے کی تھی، یا مرتب نے کی ہے ۔اس تفسیر کا جزو ثانی اسی طول و عرض کے ۷۵۹ صفحات کے متن پر مشتمل ہے، جو جزو اول کے صفحات کا طول و عرض ہے۔ مزید برآں اس جزو میں بھی حاشیہ نگاری کا وہی انداز باقی رکھا گیا ہے جس کا ذکر جزو اول کا مطالعہ کرتے وقت کیا جاچکا ہے۔ غلط نامہ توضیح الآیات ، مصادر تصنیف اور امہاتِ مطالب تقریبا ً پینتیس صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں ، اس طرح اس جلد کو آٹھ سو صفحات کی جلد قرار دیا جاسکتا ہے۔ جزو ثانی کو ابو الفتح الحسینی نے جن’’ کتابوں‘‘ میں تقسیم کیا ہے ان کی تفصیل یہ ہے :

۱۔ کتاب الجہاد (ص ۱تا۱۰۰)۲۔ کتاب امر بہ معروف ونہی از منکر (ص ۱۰۱ تا ۱۰۶) ۳۔ کتاب المکاسب (ص ۱۰۷تا ۱۳۱)۴۔ کتاب البیع (ص ۱۳۲۔۱۵۰) ۵۔کتاب الدین وتوابعہ (ص ۱۵۱۔ ۱۷۱)۶۔ کتاب فیہ جملۃ من العقود (۱۷۲۔ ۱۹۵) ۷۔ کتاب الوصیۃ (۱۹۵۔ ۲۳۷) ۸۔ کتاب النذر والعہد والیمین (۲۳۸۔ ۲۶۰)۹۔ کتاب العتق (۲۶۱۔ ۲۶۶ ) ۱۰۔کتاب النکاح (ص ۲۶۷۔۴۱۲) ۱۱۔ کتاب الفراق (ص ۴۱۳۔ ۴۷۵) ۱۲۔ خلع ومبارات (ص۴۷۶۔ ۴۹۱) ۱۳۔ کتاب الظہار (۴۹۲۔ ۵۰۴)۱۴۔ کتاب الایلاء (ص ۵۰۵۔ ۵۱۰) ۱۵۔ کتاب اللعان (۵۱۱۔ ۵۱۸) ۱۶۔کتاب المطاعم والمشارب (ص ۵۱۹۔۵۲۲) ۱۷۔ در محرمات (۵۲۳۔ ۵۳۲) ۱۸۔درمباحات (ص ۵۳۳۔ ۵۶۴) ۱۹۔کتاب المیراث (ص ۵۶۵۔۶۵۰) ۲۰۔کتاب الحدود (ص ۶۵۲۔۶۶۵) ۲۱۔ حد القذف(ص ۶۶۶۔ ۶۷۲) ۲۲۔ حد السرقہ (۶۷۳ ۔۶۷۵) ۲۳۔ حد المحاربہ (۶۷۶۔ ۶۸۰ ۲۴۔ کتا ب الجنایات (۶۸۱۔ ۷۰۷) ۲۵۔ کتاب القضاء والشہادات (ص ۷۰۸ ۔۷۵۵)

تفسیر شاہی کا جزو ثانی ان پچیس ’’کتابوں ‘‘ پر مشتمل ہے جن کا مختصر ترین خاکہ درج ذیل ہیں:

جیسا کہ لکھا جا چکا ہے جزو ثانی کی ابتدا کتاب الجہاد سے ہوتی ہے ۔ قرآنی آیات سے استشہاد سے پہلے ابو الفتح الحسینی نے جہاد کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے وہ ان ہی کے الفاظ میں نقل کیا جارہا ہے :

’’بدان کہ جہاد در لغت مصدر است بمعنی مجاہدہ یعنی کارزار کردن در راہ خدای تعالیٰ ، جہد بفتح جیم یا ضم او بہ معنی طاقت و در شرع بذل نفس ومال است جہت تقویت باحکام اسلام وتمشیت ارکان ایمان و او از اعظم احکام اسلام است چنانکہ مروی است از رسول خدا ﷺ کہ گفت (فوق کل بربر حتی یقتل الرجل فی سبیل اللہ فلیس فوقہ) یعنی بالای ہر نیکو کاری ، نیکو کاریست کہ تاآنکہ کشتہ شود مرد در راہ خدای تعالیٰ پس نیست بالای کشتہ شدن او دررا خدای تعالیٰ بہ ہیچ نیکو کاری ۔

ومرویست از امیر المومنین کہ گفت (الجہادباب من ابواب الجنۃ فتحہ اللہ لاولیائہ)یعنی جہادد ریست از درہای بہشت کہ گشادہ است اورا خدای تعالیٰ جہت دوستان ِ خو د۔ودر این کتاب سہ مبحث است :

(مبحث ) اول در وجوب جہاد است ودرو دہ آیت است ‘‘

[جان لو کہ( لفظ )جہاد لغت میںمصدر ہے، بمعنی کوشش کرنا ۔ یعنی راہِ خدا میں جنگ کرنا ۔ جہد جیم پر زبر یا پیش کے ساتھ (کے معنی ہیں) طاقت اور شرع میں (جہد کے معنی ہیں ) نفس اور مال کے ذریعے اسلام کے احکام اور ایمان کے ارکان کو طاقت کے ذریعے تقویت دینے کی کوشش کرنا اور جہاد ، اسلام کے اعلیٰ احکام میں سے (ایک) ہے۔چناںچہ روایت میں آیا  ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تمام اچھے اعمال میں سب سے اعلیٰ عمل انسان کا اللہ کی راہ میں (جنگ کرتے ہوئے ) مارا جانا ہے ، لہٰذا انسان کا اللہ کی راہ میں مارے جانے سے بہتر کوئی اور عمل نہیں ہے۔

اور امیر المومنین  (حضرت علیؓ) سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کے لیے کھول رکھا ہے ۔ اس ’’کتاب‘‘ میںتین مبحث ہیں۔

پہلا جہاد کے وجوب کے بارے میں ہے اور اس میں دس آیتیں ہیں]

وہ دس آیتیں یہ ہیں (۱) بقرہ ۲۱۶ (۲) حج ۷۸ (۳) بقرہ ۱۹۰ (۴) بقرہ ۱۹۴ (۵) نساء ۷۵ (۶)نساء ۷۱ (۷)نساء ۷۴ (۸) توبہ ۱۲۰۔ ۱۲۱(۹) نساء ۹۵ (۱۰) توبہ ۹۱

مبحث دوم، در کیفیت قتال است ووقت او و بعض احکام او۔ در وپانزدہ آیت است‘‘

[دوسرا مبحث قتال کی کیفیت ، اس کے وقت اور بعض احکام کے بارے میں (ہے) اور اس میں پندرہ آیتیں ہیں]

وہ پندرہ آیتیں یہ ہیں :(۱) بقرہ ۲۱۶(۲) بقرہ ۱۹۱ (۳) توبہ ۱۲۳ (۴) انفال ۱۵ (۵)انفال ۶۵ (۶) تحریم ۹(۷) توبہ ۲۹ (۸) محمد ۴(۹) انفال ۶۷ (۱۰) انفال ۵۷ (۱۱)نساء ۹۴ (۱۲) انفال ۷ (۱۳) انفال ۶۱ (۱۴) ممتحنہ ۱۱(۱۵) ممتحنہ ۱۲

’’مبحث سوم ، در سائر اقسام جہاد است ودرو  ہفت آیت است ‘‘

]تیسرا مبحث ، جہاد کی تمام قسموں کے بارے میں ہے اور اس میں سات آیتیں ہیں ‘‘[

وہ سات آیتیں یہ ہیں (۱)حجرات۹ (۲) انفال ۶۰ (۳)  مائدہ ۵۴ (۴)مائدہ ۳۵ (۵) نحل ۱۲۵ (۶) نحل ۱۰۶ (۷) انفال ۳۸

اس کے بعد ابو الفتح الحسینی نے ’’کتاب امر بہ معروف ونہی از منکر ‘‘ کے عنوان سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس ’’کتاب‘‘کی خاص بات یہ ہے کہ ابو الفتح الحسینی نے امر کو ’’طلب فعل‘‘ اور ’’نہی کو‘‘ طلبِ عدمِ فعل‘‘ سے عبارت قرار دیتے ہوئے اس سلسلے میں خاصی مفصل بحث کی ہے اور اس میں’’فواید عظیمہ ‘‘اور ’’مثوبات کثیرہ‘‘ ہونے کی نشان دہی بھی کی ہے ۔ ابو الفتح الحسینی نے اس ’’کتاب‘‘میں سورۂ آل عمران کی ایک سو دسویں ، ایک سو چارویں اور سورۂ حج کی اکتالیسویں آیتوں سے استشہاد کیا ہے ۔

اس ’’کتاب ‘‘ کے بعد ’’کتاب المکاسب‘‘ کے عنوان سے چھبیس صفحات کی ایک بحث ملتی ہے۔ ابتدا میں ابو الفتح الحسینی نے مکاسب کے لغوی معنیٰ بیان کیے ہیں اور اپنی بات کی وضاحت کے لیے حدیثوں کے حوالے بھی دیے ہیں اور یہ واقعہ بھی نقل کیا ہے کہ حضرت دائود علیہ السلام کے واسطے اللہ تعالیٰ نے لوہے کو نرم کر دیا تھاکہ اس سے اپنی روزی حاصل کر سکیں، چناں چہ حضرت دائود علیہ السلام لوہے سے زرہیں بناتے اور ان کو فروخت کرتے۔ یہی ’’کسب‘‘اُن کا ذریعہ معاش تھا ۔ اس ’’کتاب‘‘ میںدو مبحث ہیں پہلا’’ صحتِ اکتساب‘‘ کے بیان میں ہے اور اس میں چھ آیتوں، یعنی حجر ۲۰ ، اعراف ۱۰، بقرہ ۱۶۸ ، طہٰ ۸۱، ق۹۔۱۱، اور تبارک الذی۱۵ سے استشہاد کیاگیاہے ۔ دوسرا مبحث ’’بعض اکتساب کے عدمِ صحت کے بیان میں‘‘ہے اس میں بھی چھ آیتوں،یعنی یوسف۵۵، مائدہ ۴۲، نور۳۳، مائدہ ۹۰،مائدہ ۹۱ اور نور ۶۰ سے استشہاد کیا گیا ہے ۔

اسلامی فقہ میں ’’بیع‘‘ایک اہم اور ناگزیر عنوان ہے ۔ چناںچہ ابو الفتح الحسینی نے ’’کتاب المکاسب‘‘کے بعد ’’کتاب البیع‘‘ترتیب دی ہے۔ اس ’’کتاب ‘‘ کی ابتدا میں انھوں نے تحریر کیا ہے :

’’این کتاب در احکام بیع است وبیع از اسماء اضداد است زیرا کہ مشترک است بیان فروختن و خریدن و ظاہر آن است کہ این جا مراد مایطلق علیہ ہذا الفظ است تا شامل شود ہر دومعنی را و (مع ہذا اخص )است از کسب و تکسب۔ درین کتاب  دہ آیت است‘‘

[یہ کتاب بیع کے احکام کے بارے میں ہے اور بیع اسماء اضداد میں سے ایک اسم ہے اس لیے کہ یہ (لفظ )خریدنے اور بیچنے (دونوں ) کے لیے مشترک ہے اور ظاہر یہ ہے کہ اس جگہ ا س سے مراد وہ عام مفہوم ہے جس پر اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے، تاکہ وہ ہر دو معنیٰ کا احاطہ کرے اور یہ لفظ کسب اور تکسب کے مقابلے میں زیادہ خاص ہے ۔ اس کتاب میں دس آیتیں ہیں]

وہ دس آیتیں یہ ہیں (۱) نساء ۲۹ (۲) بقرہ ۲۷۵ (۳) بقرہ ۲۷۸۔ ۲۷۹ (۴)آل عمران ۱۳۰(۵)المطففین۱۔۳ (۶) بقرہ ۲۶۷ (۷) اعراف ۱۹۹ (۸)ص ۲۳ (۹) یوسف ۸۸ (۱۰) نساء ۱۴۱

کتاب البیع کے بعد کتاب الدَین و توابعہ کے عنوان سے بائیس صفحات کا باب سامنے آتا ہے، جس کے آغاز میں ابو الفتح الحسینی نے اس ’’کتاب‘‘ کا تعارف ان الفاظ میں کرایاہے :

’’کتاب الدین وتوابعہ ، این کتاب در احکام دَین است وتوابع او ودین در لغت قرض گرفتن است ودر شرع عبارت است از معاملہ ای کہ یکی از عوضین در او مؤجل باشد وتوابع دین چند عقد است کہ مشتمل باشند بر او چنانکہ مذکور خواہد شدودر این کتاب یازدہ آیت است ‘‘

[یہ کتاب دَین (قرض) اور اس کے متعلقات کے بارے میں ہے لغت میں دین کے معنی قرض لینے کے ہیں جس میں دو (افراد) میں سے ایک کو بعد میں ادائیگی کرنی ہوتی ہے اور توابع دین چند معاملات ہیں جو قرض پر مشتمل ہوتے ہیںجن کا بیان بعد میں ہوگا ۔ اس کتاب میں گیارہ آیتیں ہیں]

وہ گیارہ آیتیں یہ ہیں (۱) بقرہ ۲۸۲ (۲) بقرہ ۲۸۰ (۳) بقرہ ۲۴۵ (۴)بقرہ ۲۸۳ (۵) یوسف ۷۲ (۶) نساء ۱۱۴ (۷) کہف ۱۹ (۸) پیشِ نظر اشاعت میں صرف یہی سات آیتیں ہیں ۔ معلوم نہیں یہ طباعت کی غلطی ہے یا اصل مسودوں سے آیتوں کے متن اور ان کی تفسیریں محو ہو چکی ہیں ۔

اس کے بعد تیئیس صفحہ کی ایک ’’کتاب‘‘سامنے آتی ہے جس کا عنوان مصنف نے ’’کتاب فیہ جملۃ من عدۃ من العقود وغیرہا ‘‘ رکھاہے۔ اس کتاب کا تعارف مصنف نے در ج ذیل دو جملوں میں کر دیا ہے

این کتاب در بیان بعضی عقود و احکام شرعیہ است مثل مضاربہ و شرکت وغیر آن۔ ودر این کتاب دوازدہ آیت است‘‘

[یہ کتاب بعض معاملات اور شرعی احکام، مثلاً مضاربت اور شرکت وغیرہ کے بیان میں ہے اور اس میں بارہ آیتیں ہیں]

جن بارہ آیتوں سے مصنف نے استشہاد کیا ہے وہ یہ ہیں (۱) مائدہ ۱ (۲)قصص ۲۶ (۳) انفال ۶۹ (۴) جمعہ ۹ (۵) یوسف ۶۲ (۶) نساء ۵۸ (۷) مائدہ ۲ (۸)یوسف ۱۷ (۹) بقرہ ۱۸۵ (۱۰) مائدہ۲ (۱۱) بقرہ ۱۹۴ (۱۲) الملک ۱۰

مضاربت و شرکت وغیرہ کے مسائل سے بحث کرنے کے بعد مصنف نے’’کتاب الوصیۃ ‘‘ کا باب قایم کیا ہے جو مطبوعہ کتا ب کے تینتالیس صفحات پر محیط ہے ۔ اس ’’کتاب‘‘ کا تعارف مصنف نے ان الفاظ میں کرایا ہے :

’’این کتاب در بیان وصیت است وآنچہ ملحق است باو، ووصیت در اصل لغت اسمیت بہ معنی وصل از وصایصی بہ معنی وصل یصل ودر شرع عبارت است از مالک گردانید ن کسی عینی را یا منفعتی را بعد از موت خود ووجہ تسمیہ آنست کہ وصیت شرعی مستلزم متصل گردانیدن تصرف بعد از موت است بتصرف قبل از موت ودرین کتاب دہ آیت است ‘‘

[ یہ کتاب وصیت اور اس کے ملحقات کے بارے میں ہے۔ اصلاً لغت میں (لفظ) وصیت اسم ہے جس کا مادہ وصا یصی ہے اور جس کے معنی صلہ رحمی کرنے کے ہیں اور شرع میں اپنی موت کے بعد کسی متعین چیز یا اس کی منفعت کا مالک بنانا ہے۔ اس (فعل )کو یہ نام(یعنی وصیت) دینے کی وجہ یہ ہے کہ شرعی وصیت کے لیے لازمی ہے کہ موت سے پہلے کے تصرف کو موت کے بعد تصرف سے ملا دیا جائے ۔ اس کتاب میں دس آیتیں ہیں ]

وہ دس آیتیں یہ ہیں (۱) بقرہ ۱۸۰ (۲) نساء ۱۲ (۳) بقرہ ۲۶۰ (۴) مائدہ ۱۰۶ (۵) نساء ۶ (۶) نساء ۲ (۷) نساء ۹( ۸) نساء ۵ (۹) نحل ۷۵ (۱۰) مزمل ۲۰

اس کے بعد ’’کتاب النذر والعہد والیمین ‘‘ ہے جو تیئیس صفحات پر مشتمل ہے ۔  اس ’’ کتاب‘‘ کا تعارف مصنف نے ان الفاظ میں کرایا ہے :

’’این کتاب در احکا م نذر و عہد یمین است و نذر در لغت واجب گردانیدن چیزیست بر خود ودر شرع واجب گردانیدن چیزیست بر خودبہ صیغۂ معینہ مثل لِلّٰہِ علیّ أن أفعل کذا وشروط معینہ مثل آنکہ متعلق او اطاعت باشد ونذر گاہی بی شرط واقع شد وآنرانذر تبرع گویند وگاہی باشرط باشد ۔

پس اگر شرط فعل واجب یا مندوب یا مباح باشد آنرا نذر فعل گویند واگر ترک حارم یا مکروہ باشد نذرزجر خوانند ودر غیر این صحیح نیست ۔

و انعقاد قسمین آخرین متفق علیہ است وانعقادِ قسم اول مختلف فیہ لیکن اصح انعقاد اوست چنانکہ معلو م شود

و عہد در لغت پیمان بستن است ودر شرع عہد بستن است بہ صیغہ معین مثل عاہدت اللہ ان افعل کذا و شروط معینہ مثل آن کہ متعلق او واجب باشد یا مندوب یا مباح۔

و براین قیاس است یمین ودر عرف بہ معنی سوگند است از یمین بہ معنی دستِ راست زیرا کہ دأب عرب چنان بودہ کہ در وقت سوگند خوردن دستِ راست خوردن (؟۔خود) بر دستِ راست یار خود می زدہ اند وسوگند می خوردہ اند ودر این کتاب ہشت آیت است ‘‘

[یہ کتاب نذر، عہد اور یمین (قَسم) کے احکام کے بارے میں ہے ۔ لغت میں نذر کسی چیز کو اپنے اوپر لازم کر لینے کے معنی میں ہے اور شرع میں کسی چیز کو مقررہ الفاظ اور معینہ شرطوں کے ساتھ اپنے اوپر لازم کرلینے کو کہتے ہیں ۔ مثلاً یہ کہے ’’اللہ کے لیے میں فلاں فلاں کام کروں‘‘ اور معینہ شرط یہ ہے کہ اس کا تعلق اطاعت (الٰہی )سے ہو ۔ نذر کبھی (کبھی) بے شرط کے واقع ہوتی ہے اور اس کو نذر تبرّع کہتے ہیں اور کبھی (کسی) شرط کے ساتھ واقع ہوتی ہے ۔

پس اگر شرط (کوئی )واجب، مستحب یا مباح فعل ہو تو اس کو نذر فعل کہیں گے اور اگر حرام یا مکروہ کو ترک کرنے سے متعلق ہو تو اس کو نذر زجر کہتے ہیں اور حرام ومکروہ کے علاوہ کسی اور چیز کی ’’نذرِ زجر‘‘ درست نہیں ہے۔

اور آخر الذکر قسموں کا انعقاد متفق علیہ ہے اور پہلی قسم کا انعقاد مختلف فیہ ، لیکن جیسا کہ معلوم ہے، صحیح تر یہ ہے کہ اس کا انعقاد ہوتا ہے۔

لغت میں عہد کے معنی پیمان کر نا ہے اور شرع میں متعین صیغہ اور مقررہ شرطوں کے ساتھ پیمان کرنا ۔ مثلاً یہ کہے کہ’’ میں نے اللہ سے عہد کیا کہ میں یہ کام کروں گا ‘‘ اور شرائط متعینہ یہ ہیں کہ عہد کا تعلق واجب یا مستحب یا مباح سے ہو۔

اور یمین بھی اسی طرح ہے جو عرفِ عام میں قسم کے معنی میں آتا ہے ۔ یہ ماخوذ ہے یمین بہ معنی سیدھے ہاتھ سے ۔ چوں کہ عربوں کی عادت تھی کہ قسم کھاتے وقت اپنا داہنا ہاتھ اپنے دوست کے داہنے ہاتھ پر مارتے اور قسم کھاتے تھے ۔ اس کتاب میں آٹھ آیتیں ہیں ]

وہ آیتیں یہ ہیں (۱) بقرہ ۲۷ (۲) دہر ۷ (۳) بنی اسرائیل ۲۴(۴) انعام ۵۲ (۵) نحل ۹۱  (۶) بقرہ ۲۳ (۷) بقرہ ۲۲۴ (۸) مائدہ ۸۹

اس کے بعد چھ صفحات کی ایک ’’کتاب‘‘کتاب العتق کے عنوان سے مصنف نے تحریر کی ہے۔ اس کی ابتدا مصنف نے ان الفاظ میں کی ہے :

’’این کتاب در بیان عتق است واو در عرف بہ معنی آزاد شدن است وسبب آزادی چند چیز است

(یکی )مباشرتِ سبب ، وآن اعتاق است بصیغۂ شرعیہ ، مثل انت حرّ لوجہ اللہ ومدبر گردانیدن وام ولد گردانیدن ومکاتب گردانیدن۔

(دوم)سرایت عتق از بعض بندہ بہ بعض دیگر او۔

(سوم) مِلک یعنی مالک شدن مرد یا زن پدر یا مادر یاجد یاجدۃ بی واسطہ یا بواسطہ را یا فرزند بیواسطہ یا بواسطہ را ومالک شدن مرد یکی از زنانی را کہ حرام مؤبدند برو نسباً یا رضاعاً ۔

(چہارم)عوارض مثل کور شدنِ بندہ ومجذوم شدن او وزمین گیر شدن او ومسلمان شدن بندۂ حربی در دار الحرب پیش از خواجہ۔

واز اسباب مذکور چیزی مذکور نیست در قرآن غیر از اعتاق صریح و کتابت و دریشان دو آیت است ‘‘

[یہ کتاب عتق کے بیان میں ہے ۔عرف عام میں (عتق کے ) معنیٰ آزاد ہونے کے ہیں اور آزادی کے اسباب چند امورہیں :

(اول) مباشرتِ سبب،یعنی آزادی کے اسباب میں سے کسی ایک کا براہ راست اختیار کرنا اور شرعی صیغہ سے آزادی دینا ہے مثلاً (یہ کہا جائے) اللہ کی خوشنودی کے لیے تم آزاد ہو (یعنی میں نے تم کو آزاد کیا)،یا اس کو مدبر بنایاجائے (یعنی یہ کہا جائے کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو ) یا کنیز کو ام ولد قرار دیا جائے (یعنی اس سے اولاد ہو جائے ) یا غلام کو مکاتب بنایا جائے (یعنی اس کی آزادی کے لیے کوئی رقم مقرر کردی جائے )

(دوم)کسی غلام کے جسم کے کسی حصے سے اس کے جسم کے دوسرے حصے کی جانب آزادی کاسرایت کر جانا ۔

(سوم) ملک، یعنی مرد یا عورت، باپ یاماں، دادا یا دادی کا بے واسطہ یا بواسطہ مالک ہونا، یا لڑکے کا بے واسطہ یا بواسطہ مالک ہو نا،اور کسی مرد کا کسی ایسی عورت کا مالک ہو نا جو نسب یا دودھ پلانے کے سبب اس کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہو۔

(چہارم)امراض مثلاً غلام کا اندھا ہونا ، اس کا جذامی ہونا (یا) اس کا مفلوج ہو نا اور دار الحرب میں اپنے آقاسے پہلے مسلمان ہونا ۔

قرآن میں آزادیٔ مطلق اور کتابت کے علاوہ ذکر شدہ اسباب میں سے کسی اور سبب کا ذکر نہیں ہوا ہے اور اس سلسلے میں دو آیتیں ہیں :

(۱) احزاب ۴۷ (۲) نور ۳۲]

کتاب العتق کے مختصر سے باب کے بعد ’’کتاب النکاح ‘‘ کے عنوان سے ایک طویل باب ہمارے سامنے آتا ہے جو مطبوعہ کتاب کے ایک سو سینتالیس صفحات پر محیط ہے ۔ یہ کتاب پانچ بحثوں پر مشتمل ہے ۔ پہلی بحث’’احکام و اقسام نکاح‘‘ سے متعلق ہے ۔ دوسری ان خواتین سے متعلق ہے جن سے نکاح جائز نہیں ۔ تیسری بحث کس بارے میں ہے مطبوعہ کتاب میں اس کی صراحت نہیں ملتی ۔ معلوم نہیں کہ مفسر نے اسی طرح یہ ’’کتاب‘‘ لکھی ہے یا مرتب سے ابتدائی جملہ یا جملے نقل کرنے سے رہ گئے ہیں ۔ اس ’’کتاب‘‘ کی ابتدا سورۂ نساء کی چوتھی آیت سے ہوتی ہے۔ چوتھی بحث نکاح کے ’’بعض احکام ‘‘ کے متعلق ہے ۔یہ بات سمجھ میں نہ آسکی کہ پہلی بحث میں ’’احکام نکاح‘‘پر بھر پور روشنی ڈالی جا چکی ہے،اب مزید ’’بعض احکام نکاح‘‘ کے بیان کی کیا ضرورت ہے ۔ اس بحث کو پہلی بحث ہی میں ضم کیا جا سکتا تھا ۔ پانچویں بحث پیغمبر ﷺ کے نکاح سے متعلق ہے ۔’’کتاب النکاح‘‘ کی ابتدا میں مفسر نے جو تعارفی عبارت لکھی ہے وہ یہ ہے :

’’این کتاب در بیان نکاح است و نکاح در لغت بمعنی وطی را بی واسطہ ودرو فضیلت بسیار است وافضل است از ترک نکاح از جہت روایت امام صادق از رسول خدا کہ فرمود ’’ما استفاد امرأ فایدۃ بعد الاسلام افضل من زوجۃ مسلمۃ تسرّہ اذا نظر الیہا و تطیعہ اذا أمرہا وتحفظہ اذا غاب عنہا فی نفسہا ومالہ ‘‘ یعنی اخذ نہ کردہ است مرد فائدہ بعد از مسلمانی کہ فاضل تر بودہ باشد از زن مومنی کہ خوشحال گرداند اورا ہر گاہ کہ نظر کند بسوی آن زن و فرمان برداری او کند ہر گاہ کاری فرماید اورا و محفاظت کند اورا در حق نفس خود و در حق مال ِ او ہر گاہ غائب شود از او ۔ واحادیث درین باب بسیار است ۔ ودرین کتاب پنج بحث است ‘‘

[یہ ’’کتاب‘‘ نکاح کے بیان میں ہے ۔لغت میں نکاح کے معنی جنسی ملاپ کے ہیں اور شرع میں اس کے معنیٰ وہ عقد ہے جس سے جنسی ملاپ کو بے واسطہ جائز قرار دیا جاتا ہے اور اس (عقد) میں بہت سی فضیلتیں ہیں اور نکاح کرنا ، نکاح نہ کرنے سے افضل ہے ۔ امام صادقؒ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا’’مسلمان ہونے کے بعد مرد کو اس مومنہ عورت سے بہتر کوئی اور فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے جس پر وہ جب بھی نظر ڈالے تو وہ (عورت) اس کو خوش کر دے اور جب بھی اسے کوئی حکم دے تو بجا لائے اور جب بھی مرد اس کے پاس موجود نہ ہو تو اس (یعنی مرد) کے لیے اپنے نفس اور اس کے مال کی حفاظت کرے ۔ اس سلسلے میں بہت سی حدیثیں ہیں۔ اس ’’کتاب‘‘میں پانچ بحثیں ہیں ]

’’مبحث اول در احکام و اقسام نکاح است ودرو شش آیت است ‘‘

[پہلی بحث نکاح کے احکام اور قسموں کے بارے میں ہے اور اس میں چھ آیتیں ہیں]

وہ چھ آیتیں یہ ہیں :(۱) نور ۳۲ (۲) نور ۳۳ (۳) نساء ۳ (۴)مومنون ۵-۷، معارج۲۹- ۳۱ (۵) نساء ۲۴ (۶)نساء ۲۵۔

’’مبحث دوم : در بیان جماعتی است از زنان کہ نکاحِ ایشان جائز نیست ودرو چہار آیت است ‘‘

[دوسری بحث ان عورتوں کے بارے میں ہے جن سے نکاح جائز نہیں ہے ۔ اور اس میں چار آیتیں ہیں]

وہ چار آیتیں یہ ہیں :(۱) نساء ۲۲ (۲) نساء ۲۳ (۳) نساء ۲۴ (۴) بقرہ ۲۲۰۔

مبحث سوم: جیسا کہ لکھا جا چکا ہے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کا ذیلی مو ضوع کیا ہے ۔ اس ’’کتاب ‘‘میں جن دس آیتوں سے استشہاد کیا گیا ہے وہ یہ ہیں (۱) نساء ۴ (۲) نساء ۲۰-۲۱ (۳) بقرہ ۲۳۶ (۴) بقرہ ۲۳۷ (۵)نساء ۳۴ (۶) نساء ۳۰ (۷)نساء۱۲۹ (۸) نساء ۱۲۸ (۹) طلاق ۷ (۱۰) طلاق ۸۔

’’مبحث چہارم: در بعض احکام متعلق بہ نکا ح است ودرو نیز دہ آیت است ‘‘

[مبحث چہارم نکاح کے بعض احکام کے بارے میں ہے اور اس میں بھی دس آیتیں ہیں]

وہ آیتیں یہ ہیں :(۱) نور ۳۱ (۲) نور۳۲ (۳) نور ۵۸ (۴) نور ۶۰ (۵) نور ۶۱ (۶) حجرات ۳ (۷) مدثر ۵ (۸) بقرہ ۲۲۲ (۹)بقرہ ۲۲۳ (۱۰) بقرہ ۲۳۴

’’مبحث پنجم : در احکام متعلقہ بنکاح ِ پیغمبر ﷺ درو  ہفت آیت است ‘‘

[مبحث پنجم: پیغمبر ﷺ کے نکاح سے متعلق ہے اور اس میں سات آیتیں ہیں]

وہ سات آیتیں یہ ہیں :(۱) احزاب ۲۸ (۲) احزاب ۳۱ (۳)احزاب ۵۳ (۴) احزاب ۵۰ (۵)احزاب ۵۱ (۶) احزاب ۵۲ (۷) احزاب ۳۷

درج بالا پانچ مباحث کے بعد مفسر نے ’’کتاب الفراق ‘‘ کے عنوان سے ایک باب تحریر کیا ہے جو چھ قسموں پر مشتمل ہے ۔ اس باب کی ابتد امیں مفسر نے یہ جملے تحریر کیے ہیں:

’’این کتاب در بیان چیز ہایست کہ باطل گرداند نکاح را و آنہا شش قسمند ۔ قسم اول طلاق است ودرو دہ آیت است ‘‘

[یہ کتاب ان چیزوں کے بار ے میں ہے جو نکاح کو باطل کر دیتی ہیں اور اس کی چھ قسمیں ہیں ۔ پہلی قسم طلاق ہے ، اس میں دس آیتیں ہیں ]

وہ دس آیتیں یہ ہیں (۱) طلاق ۱ (۲) طلاق ۲ (۳) بقرہ ۲۲۷ (۴) طلاق ۴ (۵)احزاب۴۹(۶)بقرہ۲۳۴(۷)بقرہ۲۲۹(۸)بقرہ۲۳۱ (۹) بقرہ ۲۳۱ (۱۰)بقرہ۴۳۲

’’قسم دوم ، خلع ومبارات است و خلع بضم خاء در شرع عبارت است از طلاق زوج زوجہ در عوض مالی از جانب زوجہ بسبب تنفر او از زوج واز خلع بفتح خاء بمعنی بیرون کردہ جامہ ومثل آن زیرا کہ زوجہ بمنزلۂ لباس است چنانکہ آیت (ھن لباس لکم) دال است بر آن پس وا گذاشتن او بمنزلۂ خلع باشد۔

ومبارات در لغت بیزار شدن دو کس است از یک دیگر ودر شرع طلاقیست کہ در عوض مالی باشد از جانب زوجہ مقدار آنچہ از زوج گرفتہ یا کم تراز آن بہ سبب تنفر ہر دو از یک دیگر ۔

وخلع ومبارات ہر دو طلاق باینند بقول مختار ، و صحیح نیست رجوع در ایشان مگر بعد از رجوع زوجہ از بذل مال وفرق میان ایشان از چند وجہ است

یکی آنکہ در خلع معتبر است کہ تنفر از جانب زوجہ باشد وبس، ومبارات ہر دو جانب

دوم آنکہ در مبارات معتبر است کہ مالی کہ زوجہ در عوض طلاق می دہد زیادہ نباشد از آنچہ از زوج گرفتہ است و در خلع جائز است کہ زیادہ باشدو در نفس تعریفین مذکورین اشارتست باین دو وجہ ۔

سوم آنکہ در مبارات لفظ طلاق شرط است باتفاق و در خلع خلافست و احوط آنست کہ اینجا نیز شرط باشد ودرین دو قسم دو آیت است ‘‘

[دوسری قسم خلع ومبارات کی ہے ۔ خُلع(خ پر پیش کے ساتھ )شرع میں اس طلا ق سے عبارت ہے جو شوہر بیوی کو اس کی جانب سے ملنے والے مال کے بدلے میں دے۔ اس کا سبب شوہر سے بیوی کا تنفر ہوتا ہے ۔ اور خَلع (خ پر زبر کے ساتھ) کے معنی کپڑے اتار دینے وغیرہ کے ہیں کیوں کہ بیوی لباس کے مثل ہے جیساکہ آیت (ہن لباس لکم) سے ثابت ہے اس لیے اس کو چھوڑ دینا لباس اتار دینے ہی کے مثل ہے ۔

اور لغت میں مبارات کے معنی دو لوگوں کے ایک دوسرے سے بیزار ہونے کے ہیں اور شرع میں (مبارات) وہ طلا ق ہے جو میاں بیوی کے ایک دوسرے سے نفرت کرنے کے سبب دی جائے ۔اس میں بیوی کی جانب سے مال اداکیا جاتا ہے ۔ خواہ اس کی مقدار اتنی ہی جو جتنی اسے شوہر سے ملی تھی یا اس سے کچھ کم۔

صحیح اور پسندیدہ قول کے مطابق خلع اور مبارات دونوں طلاق بائن ہیں اور ان سے رجوع کرنا درست نہیں ہے مگر (اس صورت میں کہ) بیوی مال خرچ کرنے سے رجوع کرلے (یعنی مال دینے سے انکار کر دے ) خلع اور مبارات کے درمیان چند وجہوں سے فرق ہے ۔ اول یہ کہ خلع میں اس کا لحاظ ہے کہ بیوی کی جانب سے (شوہرسے) تنفر ہو اور بس ۔ اور مباراۃ میں (تنفر) دونوں جانب سے ہوتاہے۔

دوم یہ کہ مبارات میں وہ مال جو بیوی طلا ق کے عوض شوہر کو دے وہ اس مال سے زیادہ نہ ہو جو شوہر سے اس نے پایا تھا اور خلع میں (یہ بات) جائز ہے کہ وہ مال شوہر سے پائے ہوئے مال سے زیادہ ہو ۔ خلع اور مبارات کی مذکورہ دونوں تعریفوں میں ان دونوں وجہوں کی جانب اشارہ موجود ہے ۔

سوم یہ کہ مبارات میں لفظ طلا ق متفقہ (طور پر )شرط ہے اور خلع میں لفظ طلاق کی شرط مختلف فیہ ہے ۔ زیاد ہ احتیاط پر مبنی قول یہ ہے کہ یہاں بھی لفظ طلاق کی شرط ہو ۔ ان دونوں قسموں کے بارے میں دو آیتیں ہیں ]

مفسر نے اس مقام پر سوہ بقرہ کی ۲۲۹ ویں اور سورہ نساء کی نصف انیسویں آیت سے استشہاد کیاہے ۔

اس کے بعد ابو الفتح الحسینی نے قسم سوم پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جو مطبوعہ تفسیر کے تیرہ صفحات پر محیط ہے ۔ ان کے اصل الفاظ یہ ہیں :

’’قسم سوم ظہار است واو در شرع عبارت است از آنکہ تشبیہ کند زوج پشت زوجۂ خود را با پشت مادر یا بہ یکی از آنکہ حرام مؤبداند بہ نسب یا رضاع مثل آنکہ بگوید (ظہرک کظہرک امی ) یعنی پشت تو مثل پشت مادر من است واشتقاق او از ظہر ظاہر است ودرین قسم چہار آیت است متصل باہم و آن قول خدای تعالیٰ است در اول سورۂ مجادلہ‘‘

[تیسری قسم ظِہار ہے ۔ ظہار شرع میںاس بات سے عبارت ہے کہ شوہر اپنی بیوی کی پیٹھ کو اپنی والدہ کی پیٹھ سے تشبیہ دے یا ان خواتین سے جو نسب یارضاعت کے رشتے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے حرام ہوں۔ مثلاً یہ کہے کہ تیری پیٹھ میری ماں کی پیٹھ کے مثل ہے اور لفظ ’’ظہار ‘‘ ظہر (بمعنی پیٹھ)سے مشتق ہے اور بالکل ظاہر ہے ۔ اس قسم میں چار آیتیں ہیں جو ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا وہ قول سورۂ مجادلہ کی ابتدا میں ہے ]

اس کے بعد ابو الفتح الحسینی نے سورۂ مجادلہ کی یکم تا چہارم آیتوں کی تفسیر لکھ کر اپنی بات کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مزید برآں انھوں نے سورۂ مجادلہ کی شان نزول بھی تحریر کی ہے ۔

ابو الفتح الحسینی نے طلاق کی چوتھی قسم ایلاء کو قرار دیا ہے اور اس بحث کو انھوں نے مطبوعہ کتاب کے چھ صفحوں میں سمیٹاہے ۔ پہلے انھوں نے ایلاء کی تعریف لکھی ہے ، بعد ازاں کلا م پاک کی آیات سے اپنی بات کا استشہاد کیا ہے ۔ان کے نزدیک ’’ایلاء ‘‘ یہ ہے :

’’قسم چہارم ایلاء است وایلاء در لغت بمعنی سوگند خوردن است و در شرع عبارت است از سوگند خوردن بر تر ک وطی زوجہ بر وجہ اطلاق یا بر وجہ تائید یا بروجہ تقیید بزیادہ چہار ماہ یا بچیزی کہ حاصل نہ شود مگر بعد از زیادہ از چہار ماہ بیقین یا بحسب ظاہر ۔ ودریں قسم دو آیت است متصل بہم و آن قول ِ او در سورۂ بقرہ‘‘

[چوتھی قسم ایلاء ہے ۔ لغت میں ایلاء کے معنیٰ قسم کھانے کے ہیں اور شرع میں ایلاء اس قسم سے عبارت ہے جو اپنی زوجہ سے جنسی ملاپ ترک کرنے کے لیے کھائی جائے، خواہ بغیر کسی قید کے،خواہ ہمیشہ کے لیے ، خواہ چار مہینے سے زیادہ کی مدت کے لیے۔ یا کسی ایسی چیز کی قسم کھائی جائے جو حاصل نہ ہو پائے مگر چار مہینے کے بعد، خواہ یقینا، خواہ ظاہری طور پر ۔ اور اس قسم کے بارے میں دو آیتیں ہیں جو ایک دوسرے سے متصل ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان سورۂ بقرہ میں ہے ۔ بقرہ ۲۲۶ اور ۲۲۷]

’’قسم پنجم لِعان است ولعان در لغت راندن ودور کردن است و در شرع عبارتست از نفرین کردنِ زوجین یک دیگر را بدوری از رحمت خدا ی تعالیٰ بصیغۂ معینۂ شرعیہ بسبب دشنام دادن زوج زوجۂ مدخولۂ خودرا برنا بشرط آنکہ منکوحہ بعقد دائم باشد نہ متعہ و مشہور نباشد بہ زنا ۔ یا بسبب نفی ٔزوج ولد زوج را کہ متولد شدہ باشد در فراش با شرائطِ لحوقِ ولد باو ،ودرین قسم چہار آیت است متصل باہم در سورۂ نور وآن قول اوست ، سورۂ نور آیت ۶ تا ۹‘‘

[پانچویں قسم لِعان ہے ۔ لغت میں لعان کے معنی بھگا دینا اور دوٗر کرنا ہے اور شرع میں میاں بیوی کا ایک دوسرے کے واسطے رحمتِ خدا وندی سے دوٗری کے لیے شریعت کے مقررہ الفاظ میں لعنت کرنا ہے۔ شوہر کی جانب سے اپنی مدخولہ بیوی پر زنا کا الزام لگانے کی وجہ سے بشرطیکہ بیوی منکوحۂ دائمی ہونہ کہ متاعی اور زنا کے لیے مشہور نہ ہو ۔ یا شوہر کی جانب سے بیوی کے اس بچے سے انکار کی وجہ سے جو اس کے بستر پر پیدا ہوا ہو اور اس کے ساتھ جس کے لحوق (نسب کے ثبوت) کی تمام شرائط بھی موجود ہوں اس سے انکار کرنا (لعان ہے ) اس قسم میں چارآیتیں ہیں جو ایک دوسرے سے متصل ہیں ۔ سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔ آیت ۶تا ۹]

’’قسم ششم : مرتد شدن زوج یا زوجہ است بقول مثل انکار یکی از ضروریات دین یا بفعل مثل سجدہ کردن نزد بت وبانداختن مصحف در نجات است ۔

واستدلال کردہ اند بر آنکہ ارتداد رافع نکاح است با آیات دالہ بر تحریم مسلمات بر مشرکین ومشرکات بر مسلمین ۔

وبقول او’’وَلاَ تُمْسِکُوا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ ‘‘ چنانکہ گذشت

و مخفی نہ ماند کہ حرام است و جائز نیست تکلیف مسلمانان بارتداد وکفر تا حرام شوند بریشان زنان ایشان یا ایشان بر شوہر ان خود چنانکہ مشہور است از بعض بد نفسانِ این زمان بنابر اغراضِ نفسانی ، نعوذ باللہ من شرورانفسنا من سیأت اعمالنا۔‘‘

[چھٹی قسم: اپنے قول یا فعل کے ذریعے شوہر یا بیوی کا مرتد ہو جانا ہے، مثلاً دین کی بنیادی باتوں میں سے کسی ایک کا انکار کرنا یا بت کو سجدہ کرنا یا کلام اللہ کو نجاست میں ڈال دینا اور اس بات پر کہ ارتداد نکاح کو ختم کرنے والا ہے، لوگوں نے کلام اللہ کی ان آیتوں سے استدلال کیا ہے جن میں مسلمان عورتوں کو مشرک مردوں پر اور مشرک عورتوں کو مسلمان مردوں پر حرام قرار دیاگیا ہے اور اللہ کے اس فرمان (اور نہ رکھواپنے قبضے میں ناموس کافرعورتوں کے ) سے بھی استدلال کیا گیا ہے جیساکہ گزر چکا ۔

یہ بات پوشیدہ نہ رہے کہ حرام ہے اور جائز نہیں ہے مسلمانوں کو کفر وارتداد کے ارتکاب پر مجبور کرنا،تاکہ ان کی بیویاں ان پر حرام ہو جائیں اور بیویوں کے شوہر بیویوں پر حرام ہو جائیں،جیساکہ اس زمانے کے بعض بد نفسوں کے سلسلے میں اپنی اغراض نفسانی کے بارے میں مشہور ہے ۔ ہم اپنے نفوس کے شرور اور اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ]

ابو الفتح الحسینی نے طلاق کو ان ہی چھ قسموں میں تقسیم کیا ہے اور ہر قسم سے متعلق آیتوں کی تفسیر سے اپنی بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔

(باقی)

٭٭٭

بہ شکریہ رسالہ تحقیقات اسلامی و ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب

You may also like

Leave a Comment