by adbimiras
0 comment

 دکن کی چند ہستیاں(تنقیدی مضامین) /رؤ ف خیر – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی

اردو کے ادبی منظر نامے پر نظر دورائیے تو بہت ایسی شخصیتیں ہمارے سامنے ابھر کر آتی ہیں جن سے ہم یا تو واقف نہیں ہوتے یا واقف ہوتے ہیں تو ان پر علاقائیت کا لیبل لگا کر محدود کر دیتے ہیں اور ان کی تمام تر علمی و ادبی فتوحات پر نظر نہیں ڈالتے۔حالانکہ ان میں ایسی نابغۂ روزگار شخصیتیں موجود ہوتی ہیںجن کے تبحر علمی کا نہ صرف قائل ہونا پڑتا ہے بلکہ ان کے نظری مباحث، فکری مسائل اور فنی سطح پر ان کی شخصیت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔دکن کا علاقہ جو ہمیشہ سے علمی و ادبی میدان اور اردو زبان و ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے،اس علاقے کے تخلیق کار ، محققین و ناقدین اور شعرا کا گرانقدر سر مایہ ایسا ہے جس سے صرف نظر کرکے ہم اردو ادب کی تاریخ تو دور کی بات اردو ادب کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ہمارے ادب کی جڑیں وہیں سے پیوستہ ہیں۔بہمنی دور سے لے کر عادل شاہی دور تک اور اس کے بعد اردو شعرا و ادباء کی ایک کہکشاں سی رہی ہے جنھوں نے اردو ادب کی تمام شعری و نثری اصناف میں طبع آزمائی کر کے اردو زبان و ادب کی روایت کو آگے بڑھایا اور اسے نئے نئے موضوعات واسالیب سے سنوار کر  اس عہد کی تہذیبی و ثقافتی صورتحال کو نہ صرف واضح کیا بلکہ اس عہد کے امرا و رئوسا  کی دلچسپی اور زبان و ادب کے ذریعہ ان کی فتوحات کا کھلے دل سے اقرار بھی کیا۔جناب رئوف خیر صاحب نے’دکن کی چند ہستیاں‘ میں دکن کے چند نابغۂ روزگار شخصیات کا انتخاب کرکے ان کے علمی و ادبی فتوحات کا ذکر کیا ہے۔یہ ذکر کہیں تفصیل سے اور کہیں اجمال سے کام چلایا گیا ہے۔انھوں نے اس کتاب میں صرف انھیں ہستیوں کا انتخاب کیا ہے جو ادبی میدان میں اپنا لوہا منوا چکی ہیں۔اس کتاب میں دکن کے تمام شعرا کا ذکر کرنے کے بجائے صرف حیدر آباد تک ہی محدود رکھا ہے البتہ خراج عقیدت کے طور پر حیدر آباد کے علاوہ کرناٹک کے دو لوگوں کا ذکر کیا ہے۔کتاب کی خوبی یہ کہ مصنف نے اسے اپنے رنگ و آہنگ میں افہام و تفہیم کی کوشش کی ہے اور ایک نیا طرز اختیار کیا ہے جو دوسروں سے منفرد ہے۔کتاب لکھنے کا ایک جواز یہ بھی ہے کہ وہ قلندر صفات شخصیات جو اس دار فانی سے کوچ کر گئے ان کے نام اور کام کو زندہ رکھنے، لوگوں تک پہنچانے اور دنیا کو ان کے کارناموں سے روشناس کرانا ہے تاکہ دنیائے ادب میں ان کا ذکر بھی آجائے اور جو کچھ ان لوگوں نے ادبی اور علمی خدمات انجام دی ہیںان سب کا اعتراف بھی ہو جائے۔البتہ بہت سارے نام ایسے رہ گئے ہیں جن کو اس میں شامل کیا جانا چاہیے لیکن مصنف نے اس بات کا ذکر ’حرف خیر‘ میں کر دیا ہے کہجو نام چھوٹ گئے ہیں  ان پر کوئی اور لکھے۔ اس لیے رئوف خیر نے جتنا کام کیا ہے وہ آئندہ لکھنے والوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگا اور جو رہ گئے ہیںدوسرے ان کے نام اور کارناموں کو تلاش کرکے مزید کام کر سکتے ہیں۔اس کی گنجائش رؤف صاحب نے باقی رکھی ہے۔چونکہ یہ تنقیدی مضامین کی کتاب ہے  جس میں 32مضامین پیش کئے گیے ہیں۔تمام مضامین اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفر د اور معلوماتی ہیں ۔مضامین کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔خورشید احمد جامی فن اور شخصیت، کمانِ آبروئے خوباں کا بانکپن ہے غزل، سلیمان اریب، دکن کا انمول رتن شاذ تمکنت، حرف خوش تاب،ملک الشعرا اوج یعقوبی،اک سخنور اور۔۔۔، پیر خیری جناب سعدی، اقبال متین بحیثیت شاعر، کاغذ پہ آگہی، قلندر مزاج شاعر طالب رزاقی، ذکی بلگرامی، بے حلف ہو گیا غیاث متین، سخن کے پردے میں طالب خوند سری، رضا وصفی،مصحف اقبال توصیفی، ڈاکٹر محمد علی اثر،ڈاکٹر مقبول فاروقی، زلیخائے ادب کا یوسف بے نظیر، اثر غوری، آعظم راہی،اشتہاری گلی میں ادب کے ولی، نابغۂ روزگار ڈاکٹر دائود اشرف،ولی دکنی اردو غزل کا باوا آدم،سالار جنگ سوم کی مدح میں شہید کوسگوی کا غیر منقوط قصیدہ،آج کے منظر نامے میںنظم، حیدر آباد میں اردو شاعری کی پون صدی، حیدر آباد میں بچوں کا ادب، مجذوب دکنی ایثار سخن،انل ٹھکر کا بے باک ناول، زلیخائے ادب کا ابو یوسف وغیرہ ایسے مضامین ہیں جو اس کتاب کی زینت ہیں۔ان مضامین کے مطالعے سے رئوف خیر صاحب کی علمی و ادبی صلاحیت و لیاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔کتاب اچھی ہے امید ہے کہ علمی و ادبی حلقوں میں اس کی پذیرائی ہوگی۔

 

 

You may also like

Leave a Comment