مجلہ "عالمی اردو ادب” برصغیر میں شائع ہونے والا اردو کا واحد حوالہ جاتی مجلہ ہے۔رسالے کے مدیر اور ‘اکادمی اردو زبان و ادب دہلی’ کے ڈائریکٹر جناب محمد یوسف رضا نے بتایا کہ دسمبر 2019 میں اس کا 48 واں شمارہ ڈاکٹر ستیہ پال آنند نمبر آنا تھا جو کہ 27 اگست 2019 کو اس کے مدیر اور بانی نند کشور وکرم کے اچانک انتقال کے باعث جاری نہیں ہوسکا تھا ۔تقریباً دو سال کے عرصے کے بعد "عالمی اردو ادب” کا اگلا شمارہ( متوقع )اکتوبر۔ نومبر 2021 میں محمد یوسف رضا کی ادارت میں شائع ہونے جارہا ہے جو کہ "ڈاکٹر ستیہ پال آنند” پر خصوصی شمارہ ہوگا۔اس سے قبل اس رسالے کے کئ خصوصی شمارے شائع ہوچکے ہیں جن میں سنیما صدی نمبر، حبیب جالب نمبر، احمد ندیم قاسمی نمبر، علی سردار جعفری نمبر، دیویندرستیارتھی نمبر، اشفاق احمد نمبر، کشمیری لال ذاکر نمبر اور مشتاق احمد یوسفی نمبر کافی مقبول ہوئے۔
یوسف رضا نے آگے بتایا کہ اس رسالے کے سر پرست جامعہ ملیہ اسلامیہ نئ دہلی کے شعبہ اردو کے پروفیسر کوثر مظہری ہیں۔ مجلس مشاورت میں ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی بہار، جناب حقانی القاسمی صاحب دہلی، ڈاکٹر شاہ عالم (استاد شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئ دہلی)،ڈاکٹر مرزا شفیق حسین شفق لکھنؤ، وکاس دت،جوہی بالی، رتو بالی (فرزند و دختران نند کشور وکرم) شامل ہیں ۔غالباً یہ اردو کا پہلا مجلہ ہے جس میں ادیبوں کی تخلیقات حروف تہجی کے لحاظ سے شائع کی جاتی ہیں تاکہ کسی کو مضامین کی ترتیب پر اعتراض یا شکایت نہ ہو۔اس مجلے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں حتی الوسع ہر مضمون کے آخر میں اس کا حوالہ دیا جاتا ہے۔یہ مجلہ 1985 سے پابندی کے ساتھ سال میں دو مرتبہ شائع ہوتا آرہا ہے۔اس مجلے کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ اس میں عام اردو رسائل کی طرح غالب، میر، مومن، داغ، حالی، اقبال، پریم چند وغیرہ پر مضامین شائع نہیں کیے جاتے۔کیونکہ اس کا سب سے بڑا مقصد صرف موجودہ دور کے اردو ادب، اس کے مسائل اور اس کے ادباء و شعرا سے متعلق معلومات فراہم کرنا ہے۔اس رسالے میں معروف و غیر معروف ادبی شخصیات پر "وفیات ” کا سلسلہ شروع کیا گیا جو اتنا مقبول ہوا کہ اس کی تقلید کرتے ہوئے ہندوپاک کے کئ رسائل نے اس سلسلے کی شروعات کی اور ہرسال اخبارات و رسائل میں سال بھر میں وفات پانے والے حضرات سے متعلق مضامین شائع ہونے لگے۔ برصغیر میں وفیات کا سلسلہ شروع کرنے کا شرف غالباً "عالمی اردو ادب” کو ہی حاصل ہے۔یہ رسالہ ہندوستان کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی پڑھاجاتا ہے۔اردو میں کتابوں کی تعداد کا اندازہ لگانے کا کوئی طریقہ نہیں ۔اس رسالے میں گزشتہ سال کتابوں کے بارے میں معلومات بہم پہنچانے کے لیے کتابیات کا سلسلہ بھی مرحوم نند کشور وکرم نے شروع کیا تاکہ اردو کی حال ہی میں شائع کتابوں سے متعلق قارئین کو کچھ معلامات حاصل ہو سکیں۔ اس میں گذشتہ مہینوں میں انتقال کرنے والے ادباء و شعرا پر مختصر خصوصی گوشے شائع کیے جاتے ہیں۔


3 comments
ماشاءاللہ۔
امید ہے کہ جناب محمد یوسف رضا کی ادارات میں یہ پرچہ اپنی شاندار روایات کو برقرار رکھے گا۔
یوسف رضا صاحب جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیوسٹی کے سنجیدہ اور ادب شناس اسکالر ہیں،مجھے پوری اُمید ہے وہ اس ذمےداری کو بخوبی انجام دیں گے۔
بہت بہت مبارکباد یوسف، خوشی ہوئی دیکھ کر کہ یہ بڑی اور اہم ذمہ داری آپ کے سپرد کی گئی۔ یقیناً آپ اسے بخوبی نبھائیں گے۔ نند کشور وکرم صاحب نے عمر کے آخری حصے میں بھی بڑی جانفشانی سے کام کیا ہے، ان کے مجلہ کو جاری رکھنے کایہ فیصلہ ایک اچھا قدم ہے۔