میں اور ڈگوں ٹی وی پر خبریں دیکھنے میں مصروف تھے ۔ بیوی کِچن میں کھانا تیار کر رہی تھی ۔ ہم دونوں کو ہی بہت زوروں کی بھوک لگ رہی تھی ۔لاک ڈاؤن میں بڑی مشکل سے جو کچھ مل پایا تھا میں بازار سے جا کر لے آیا تھا اور جلد بیوی سے کھانا بنانے کو کہا تھا ۔ وہ بھی جلدی جلدی کھانا بنا رہی تھی ، چونکہ ڈگوں نے بھی صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا ۔
ڈگوں ٹی۔ وی۔ دیکھتے ہوئے مجھ سے بار بار ایک ہی سوال کر رہا تھا کہ….
"پاپا آج ہر چینل پر بس ایک ہی جیسی خبریں کیوں آرہی ہیں۔۔۔؟
کرونا وائرس ۔۔۔کرونا وائرس۔۔۔اور
پاپا ٹی ۔وی پر یہ سب کس چیز کی بات کر رہیں ہیں ؟”
بے شمار لوگوں کی اموات کے سبب ۔۔۔بہت سے معصوم بچوں کے سر سے ان کے والدین کا شفقت بھرا سایا اُٹھ گیا تھا ۔جس سبب وہ بلک بلک کر رو رہے تھے ۔ان کو زار و قطار روتا دیکھ ڈگوں مجھ سے پھر سے سوال کرتا ہے ۔
"پاپا یہ بچّے بلک بلک کر کیوں رو رہے ہیں ۔۔ ۔؟۔
کیا ان کے قیمتی کھلونے چوری ہو گئے ہیں ؟ یا ان لوگوں کے اسکول بھی امتحان لئے بغیر ہی بند ہو گئے ہیں ؟”
یہ تو اچھی بات ہے !!!
آرام سے آن لائن پڑھائی کرسکتے ہیں ۔۔۔
میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے ہوا کیا ہے آخر پاپا۔۔۔؟”
میری عادت ہے کہ میں ڈگوں کے سب ہی سوالوں کا صحیح صحیح جواب دیتا ہوں پر بیٹے کے ذہن میں کچھ خرافاتی عمل یا بدگمانی نہ پیدا ہو جائے اس لئے اِس وقت میں نے چینل بدل کر اس کے ذہن کو دوسری طرف متوجہ کرتے ہوئے سمجھایا کہ….
"بیٹا ان کے یہاں سلینڈر ختم ہو گئے ہیں اس لئے یہ رو رہے ہیں-”
اتنے میں بیوی نے کِچن سے چلاتے ہوئے ایک زور دار آواز لگائی….
"ڈگوں کے پاپا ۔۔۔۔۔۔!!!
جلدی یہاں آئیے ۔۔۔”
میں ہڑبڑاتے ہوئے کِچن میں داخل ہوا اور کہا
"کیا ہوا ؟
"کیوں اتنی زور زور سے چلا رہی ہو ۔۔۔؟”
بیوی غصے میں آگ بگولہ تو تھی ہی میرا اتنا بے خلوص سا رویہ دیکھ کر اور جھنجھلا گئی اور کہا۔۔۔
"آپ دیکھ نہیں رہے ہو,
میرا سارا کام یوں ہی بکھرا پڑا ہوا ہے ، اور یہ گیس سلنڈر ختم ہو گیا ہے -”
بیوی نے پیشانی پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ۔
"اس سلینڈر کو بھی ابھی ختم ہونا تھا۔”
"اب ہم کیا کریں گے ۔۔۔؟ ”
گھر میں کوئی اور ذریعہ ہے نہیں ۔۔۔
اب میں کھانا کیسے بناؤں گی ۔۔؟؟
میرا ڈگوں صبح سے بھوکا ہے ۔۔”
بیوی نے مجھ پر کھسیاتے ہوئے کہا ۔
” آپ سے کتنی بار کہا ہے ۔گھر میں کم سے کم ایک بجلی والا چولہا لے آئے ۔پر آپ میری سنتے ہی کہاں ہو ۔؟
وقت پر کچھ کام کرتے نہیں ,اور جب پانی سر سے اوپر چلا جاتا ہے تو ,کوشش کرتے ہیں ۔”
میں نے ایک گہری اطمینان کی سانس لیتے ہوئے میز پر پڑے مٹر کے دانے منھ میں ڈالے اور بیوی سے کہا ۔
"اس میں اتنا پریشان ہونے کی بات کیا ہے ۔
"دوسرا سلینڈر ہے نہ ۔۔۔۔!!!
جب سرکاری یوجنا نکلی تھی میں نے دو سلینڈر بک کئے تھے ۔”
بیوی میری بات کاٹتے ہوئے کہتی ہے ۔
"آپ کو کچھ ہوش رہے تب نا ۔
سرکاری یوجنا میں ہمیں دو نہیں ایک ہی گیس سلینڈر ملا تھا ۔۔!!
ہمارے ملک میں, اور ہمارے گھر میں پچھلے دس سالوں میں کوئی بھی وعدہ پورا ہوا ہے کیا "۔؟
میری طرف دیکھتے ہوئے اس نے طنزیہ انداز میں کہا ۔
"یہ دوسرا سلینڈر تو میں نے اپنے میکے سے منگوایا تھا۔
اور وہ بھی اب ختم ہو چکا ہے ۔۔۔!
ہائے اللہ اب ہم کیا کریں گے ۔۔؟ ”
میں نے بیوی کی طرف گھورتے ہوئے منھ پر انگلی رکھ کر اس سے چپ رہنے کے لئے کہا
"پریشان مت ہوں میں کچھ کرتا ہو ۔”
اور اپنی جیب سے موبائل نکال کر اپنے ایک دوست کو فون لگایا ۔
"ہیلو ,
دوسری طرف سے بھی ہیلو سننے کے بعد میں نے اس سے کہا ۔
"ارے یار آج گیس ختم ہو گئی ہے ۔ تمہارے پاس کوئی سلینڈر پڑا ہے تو دیکھ لو ۔تمہاری بھابی بہت پریشان ہو رہی ہے ۔ ہاتھ پر ہاتھ کھ کر بیٹھی ہے ۔”
دوست نے ندامت کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا ۔
"ارے نہیں بھائی ہمارا بھی سلینڈر ختم ہو گیا ہے ۔”کافی دقّت ہو رہی ہے گیس کی ۔۔۔!!”
دوست نے ڈھارس باندھتے ہوئے کہا ۔۔
"ارے بھائی تم ہی نہیں پورا ملک پریشان ہے۔گیس کے لئے "۔
بیوی نے مجھے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا ۔
"کیا ہوا؟ ,مل گیا سلینڈر ۔۔۔؟”
بیوی کے بار بار پوچھے جانے والے سوالات سے تنگ آکر میں نے اسے غصے میں چلاتے ہوئے کہا ۔
"تم دو منٹ خاموش نہیں رہ سکتی ۔؟
دیکھ رہی ہو نہ کوشش کر رہا ہوں” ۔؟
بیوی سے میرا یہ لہجہ برداشت نہیں ہو سکا اور اس نے اپنی چپی تورڑتے ہوئے کہا ۔۔
"یہاں تو پتہ نہیں کب کیا ہو جائے ۔ایک طرف امید بندھاتے ہیں ۔اور دوسری طرف خود ہی سب امیدوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں ۔!!
مجھے خاموش کرانے سے کیا ہوگا ۔۔؟
وعدہ کرنا بہت آسان ہے ۔پر اس کی قیمت چکانا اتنا ہی مشکل ۔۔۔!!!!
ہم تو ,آپکی پاور اکسپریس کا انتظار کر رہے ہیں؟۔
کچھ کرنے کی بجائے ,اس پر آپ اور بھوکلا رہے ہیں ۔
اس ملک میں مردوں کا کچھ نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔!!
آپ سٹیشن پر چائے بیچ سکتے ہیں ۔!!
گھر چلانا بہت مشکل ہے ۔یہاں ہر روز چیزیں ختم ہوتی ہیں ۔
اور خود ان کا انتظام بھی کرنا ہوتا ہے ۔کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھلاتے "۔
میں بس اس کی کینچی کی طرح چل رہی زبان کو کو دیکھے جا رہا تھا۔ اور وہ بس کہے جا رہی تھی۔اپنے اوپر فخر کرتے ہوئے وہ اپنی بات پوری کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔
"اس کے لیے آپ ہم خواتین سے ہی سبق لے سکتے ہو۔۔۔!!!
ہم کس طرح گھر کو ایڈجسٹ کرکے رکھتی ہیں ۔
کوئی بھی چیز ختم ہونے سے پہلے ہم اس کا انتظام کر دیتے ہیں ۔
کبھی کسی چیز کی قیمت نہیں چکانی پڑتی "۔۔
اپنی ان قیمتی ارا سے نوازنے کے بعد اس نے مجھ سے کہا ۔
"اب آپ جلدی جاؤ سلینڈر کا انتظام کرو ۔۔۔”
بیوی کی باتوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ۔
میرا ذہن ٹی ۔وی پر دکھائی جانے والی خبروں سے بیوی کی باتوں کا تقابلی مقابلہ کرنے کے تیار ہوا کہ ۔
اس نے مجھے جھونجوڑتے ہوئے کہا ۔
"اب جاؤ جلدی اپنی غلطی سدھارو ۔۔۔!!!
میں ڈرتے ڈرتے بیوی کے اصرار پر باہر جانے کے لیے تیار ہو گیا ۔۔۔
ابھی گلی سے باہر بھی نہیں نکلا تھا کہ ۔
گلی کے موڑ پر ہی دو شخص آپس میں گفتگو کر رہے تھے ۔
"ارے پورے ملک میں حالا ت خراب ہیں کہئی بھی کچھ ٹھیک نہیں ہے "۔
جلد اگر سلینڈرز کا انتظام نہیں کیا گیا ہے ۔۔تو معلوم نہیں کیا ہوگا ۔؟ اس ملک کا ۔۔”
پولیس کے ڈنڈوں سے بچتے بچاتے ایک پرائیویٹ گیس سلینڈر کی دوکان پر پہنچا ۔
وہاں جاکر دیکھا کہ دوکان پر تالا لگا ہوا ہے ۔
ظاہر ہے لاک ڈاؤن جیسا ماحول تھا یہ تو ہونا ہی چاہئے تھا ۔ برابر میں ایک انگریزی دوائی کی دوکان کھولی ہوئی تھی ۔ دوکان پر دھوتی کرتا پہنے اور پیشانی پر بڑا سا ٹیکہ لگائے ہوئے ایک ضعیف سے شخص بیٹھے ہوئے تھے ۔میں نے اپنا ماسک اوپر چڑھاتے ہوئے ان سے پوچھا ۔
"چچا کیا یہاں سلینڈر مل سکتا ہے ۔؟
یہ سلینڈر والا کہاں گیا ہے؟ ۔
اور اپنی دوکان کب تک کھولے گا ۔
تو انھوں نے مجھے بہت ہی افسوس کے ساتھ بتایا کہ ۔
"بھائی صاحب کیا بتاؤں ۔۔۔!!
"ابھی کل ہی بے چارے کے پیتا جی گھر پر ہی آکسیجن نہ ملنے کے سبب گزر گئے ۔۔
اور یہ صدمہ اس کی ماتا جی برداشت نہیں کر پائی ۔ان کو گہرا صدمہ لگا ہے ۔
وہ ان ہی کو لے کر ہاسپٹل گیا ہے ۔”
میں ان کے منھ سے یہ بات سن کر ایک دم سناٹے میں آ گیا ۔
ہائے, پھر وہی سین ایسے تو میں پاگل ہو جاؤں گا ۔ مگر کیا کیا جا سکتا ہے ۔؟اور اس بے چارے پر کیا گزر رہی ہوگی ۔؟
یہ سوچ کر ذہن پر کچھ قابو پایا ۔
باپ کے جانے کا صدمہ ہی کچھ کم ہوتا ہے ۔؟
جو بے چارے کی ماں بھی زندگی اور موت سے جوجھ رہی ہے۔
میں اس وقت سمجھ سکتا تھا۔اس بے چارے شخص پر کیا گزر رہی ہوگی ۔؟
چونکہ مجھے خود صرف سن کر برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔
میں نا امید ہو کر وہاں سےلوٹنے لگا کہ۔
یکایک
اسی دوکان دار کی آواز سنائی دی وہ کہہ رہا تھا ۔
"ارے راجو کیسی طبیعت ہے بھابی جی کی؟۔”
میں نے پلٹ کر دیکھا ۔۔
گیس سلینڈر والا اپنی دوکان کا تالا کھول رہا ہے ۔اس نے اپنی دوکان کا تالا کھولتے ہوئے کہا ۔
"چاچا ,حالات بہت نازک ہے ۔اور ماتا جی سانس نہیں لے پا رہی ہیں ۔!چونکہ آکسیجن ہی نہیں مل پا رہا ہے ہاسپٹل میں ۔۔
ابھی ڈاکٹروں نے ۔یہ تین انجیکشن لانے کے لئے کہا ہے ۔جس میں سے ایک کی قیمت ہے 600روپیہ ہے ۔
دوسرا 1700 سا کا ہے ۔
۔اور چاچا ایک انجیکشن تو 2500 کا آئے گا "۔۔
دوکان دار نے حیرت زادہ ہوتے ہوئے کہا ۔
"ارے راجو تیرے پاس اتنا روپیہ کہاں سے آئے گا ۔۔؟ ”
راجو نے اداس من اور بھرائی ہوئی آواز میں ان کو جواب دیا۔
"چاچا کیا کروں ۔؟۔
روپے ماتا جی سے بڑھ کر نہیں ہے ۔
کچھ تو کرنا ہی ہوگا ۔۔!!!
میں یہ سب سلینڈر بیچ دوں گا ۔”۔۔
"اور چچا میں ہاسپٹل سے یہ سلینڈر بیچنے کے لئے ہی آیا ہوں ۔”
چچا میری طرف اشارہ کرتے ہوئے راجو سے کہتے ہیں کہ "ارے بیٹا یہ آدمی بھی گیس سلینڈر لینے کے لئے آیا ہے ۔۔۔”
یہ سنتے ہی راجو دوڑتا ہوا میرے پاس آیا ۔ اور ہاتھ جوڑکر مجھ سے کہا ۔۔
"بھائی صاحب آپ بھگوان کے لئے مجھ سے سلینڈر خرید لو ۔”۔
راجو یہ کہتے ہوئے میرے پیروں پر گر جاتا ہے ۔
"میری ماتا جی کی جان بچا لو بھائی صاحب ۔”
"پلیز بھائی صاحب آپ یہ سب سلینڈر خرید لو ۔”۔۔
میں نے اس کو اٹھاتے ہوئے کہا ۔۔
"ارے بھائی, میں آپ کا درد سمجھ سکتا ہوں۔
پر میں ان سب کی قیمت نہیں دے سکتا ۔؟۔
میری اتنی حثیت نہیں ۔!!”
میں نے اس کو ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا۔
"آپ پریشان نہ ہوں ۔۔
میں آپ کے سب سلینڈر بیچ سکتا ہوں پر کم قیمتوں پر ۔
اگر آپ راضی ہوں تو ۔؟”
میں نے اسے اندازے کے طور پر بتایا کہ ” 700پر سلینڈر میں سارے سلینڈر بک سکتے ہیں ۔
میری باتیں سن کر۔چچا نےکہا ۔
” ارے بھئی اتنے کم روپے میں کیا ہوگا ۔۔۔۔”؟۔
راجو نے اپنے آنسو پوچھتے ہوئے مجھ سے کہا ۔
ٹھیک ہے چچا ۔۔۔
"اتنے پیسے میں انجیکشن تو آہی جائے گے ۔۔”
وقت وقت کی قیمت ہے صاحب ۔آج ہماری کوئی قیمت نہیں۔۔
"سلینڈر کی قیمت ہے ۔” ۔
ختم شُد ۔۔۔۔۔

