نذیر احمد کا ناول ایامیٰ اور نو آبادیاتی جدیدیت – پروفیسر ناصر عباس نیرّ

by adbimiras
0 comment

نذیر احمد کا ناول ایامیٰ بھی ایک "شریف مسلمان گھر انے” کی کہانی پر مشتمل ہے،لیکن یہ کہانی گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں ۔ ہر گھر داخلی خود مختاری چاہتاہے مگر بیرونی مداخلت سے محفوظ نہیں رہ سکتا ،اس لیے نجی کہانیاں بھی سماجی کہانیاں بن جاتی ہیں۔ خواجہ آزاد اور ہادی بیگم کی ایک بیٹی آزادی ہے اور چند بیٹے ہیں (جن کی تعداد نہیں بتائی گئی اور نہ انھیں کہانی میں کوئی کردار تفویض کیا گیا ہے )۔ ” آزادی نہ صرف اکیلی بیٹی تھی، بلکہ اکیلی پوتی ، اکیلی نواسی، اکیلی بھانجی ، اکیلی بھتیجی "۔پورے خاندان میں واحد لڑکی ہونے کے سبب ، وہ سب کو عزیز تھی اور اس کی فکر بھی سب کو زیادہ تھی ۔آزادی کے ماں باپ میں سواے رشتہ مناکحت کے کچھ مشترک نہیں تھا۔آزادی کے باپ نے مشن کالج سے اوسط درجے کی انگریزی تعلیم پائی تھی،اس کے باوجود وہ اس کا قائل تھا کہ انگریزوں کی عمل داری میں ملک نے نمایاں ترقی کی ہے۔ وہ یہ کہتے نہیں تھکتا کہ ریل ،تار، ڈاک ، انگریزی مدرسے، شفاخانے اور امن ،ہندوستان کی ترقی کی علامت ہیں۔وہ پورے ناول میں انگریزی حکومت اور اس کی برکتوں کی تشہیر اور دفاع اپنا اخلاقی فرض سمجھ کر کرتا ہے،یعنی اس دفاع سےاسے جو بھی فائدہ ملتا ہے، وہ اپنی اصل میں نفسیاتی ہے، معاشی نہیں ۔ جب کہ ہادی بیگم مولویوں کے خاندان سے تھی اور اپنے مذہبی خیالات میں سخت گیر تھی۔ یوں آزادی کی تربیت، بہ قول نذیر احمد دو مخالف قوتوں کی کشمکش میں ہوئی۔حقیقت یہ ہے کہ نذیر احمد ، آزادی کے کردار کی مدد سے محض مسلم اشراف گھرانوں کی بیوہ عورتو ں کے دوبارہ شادی کا مسئلہ ہی نہیں پیش کرتے ،اگرا یسا کرتے تو یہ ایک معمولی سا قصہ ہوتا ،بلکہ وہ نو آبادیاتی ہندوستان میں مسلم قومی شناخت، تہذیبی کش مکش ،نئی نسل کی نفسی الجھنوں اورشخصی آزادی کے پیچیدہ تصورات کو بھی ناول کی ہیئت میں اس خیال سے پیش کرتے ہیں کہ یہ ہیئت پیچیدہ تہذیبی اور نفسی مسائل کی ترجمانی کے لیے موزوں ترین صنف ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں کیا ہر ادیب تحریر کو گھربناتا ہے؟ – پروفیسر ناصر عباس نیر )

آزادی کی ذہنی تشکیل جن دو مخالف قوتوں کی کشمکش میں ہوئی، انھیں” نو آبادیاتی جدیدیت” اور ” جنگ آزادی کے بعد تشکیل پانے والی مذہبیت ” کا نام دیا جانا چاہیے۔اسے جدیدیت ومذہب کی عمومی کشمکش سمجھنا گمراہ کن ہوگا۔ ناول میں کہیں بھی جدیدیت کو ایک بشر مرکز فلسفے ، بشر مرکز فلسفے کو سب اشیا کی تفہیم وتعبیر کے واحد پیمانے اور ایک مسلسل تشکیک کی حامل فکر کے طور پر مذہب کے مقابل نہیں لایا گیا۔ناول میں کئی مقامات پر جنگ آزادی سے پہلے کے مولویوں کے علم وکردار کی تعریف کی گئی ہے ،جیسے مولوی اسمعیٰل اور مولوی اسحاق جنھوں نے ہجرت کی تو ان کا کتب خانہ ان کی بیٹیوں کو ملا مگر بہ قول نذیر احمد ” یہ غد ر کیا ہواتھا ،مولویوں کے حصے کی قیامت تھی ۔بہتیرے مرکھپ گئے ، بہتیرے جلا وطن ہوگئے ۔ خال خال بچے تو وہ سرکاریں جن کے گھر سے مولویوں کی پرورش ہوتی تھی ،باقی نہ رہیں۔ مولوی لگے دربدر بھیک مانگنے "۔(ناول میں مولویوں کے دربدر بھیک مانگنے کو جس طنزیہ انداز میں تکرار سے پیش کیا گیا ہے، اس کے پیچھے خود نذیر احمد کی مجروح انا کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔پنجابی کٹڑے کی مسجد میں تعلیم کے زمانے میں انھیں گھر گھر جاکر کھانا لانے کے باعث اپنی انا کو مجروح کرنا پڑتاتھا۔ بچپن کے جذباتی شدت کے حامل تجربات اکثر دنیا کو سمجھنے کی ہمیں بنیاد فراہم کرتے ہیں)۔خواجہ آزاد اور ہادی بیگم میں جھگڑ ا انھی مولویوں کے باب میں ہے ۔جنگ آزادی کے بعد کےمولویوں کا مذہب کو حلوے مانڈے اور بھیک ، چندے تک محدود کرنا ، خواجہ آزاد کو بہت کھلتا ہے اور اسی بات پر ہادی بیگم سے طویل بحثیں کرتا ہے۔خواجہ آزاد کو مولویوں سے ایک شکایت اور بھی ہے کہ انگریزوں سے مسلمانوں کی عام نفرت کا باعث یہی مولوی ہیں۔ "یہ عام نفرت ، عام وحشت ، عام اجنبیت جو مسلمانوں کو انگریزوں سے ہے—-اس کا ماخذ کیا ہے —بے شک یہ خیال مولویوں سے پیدا ہوکر عام مسلمانوں میں پھیلا”۔ انگریزی استعمار کے خلاف اوّلین مزاحمتی آوازیں نہ صرف مذہبی حلقے کی طرف سے آئیں بلکہ ان کی مزاحمتی منطق بھی مذہبی تھی ۔ اس کے جواب ہی میں سرسید اور ان کے ساتھیوں نے مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان مذہبی یگانگت کے پہلوؤں پر لکھا ۔ مقصد واضح تھا : اہل مذہب نے انگریز ی استعمار کے خلاف مذہبی منطق استعمال کی تھی۔ سرسید اور ان کے ساتھیوں نے بھی مذہبی منطق کے ذریعے انگریزی استعمار کو جواز فراہم کرنے کی سعی کی۔دونوں صورتوں میں مذہب سے استدلا ل کیا گیا اور سماجی ،سیاسی ، تہذیبی ،یہاں تک کہ ادبی منطقے میں مذہب کو مستقل جگہ ملتی چلی گئی ۔(یہ بھی پڑھیں "ایڈورڈ سعید, دانشوری, آفاقیت اور قومیت "- پروفیسر ناصر عباس نیّر)

ایامیٰ میں بھی اہل کتاب سے مسلمانوں کے گریز کرنے پر تنقید کی گئی ہے۔ خواجہ آزاد کہتے ہیں کہ ” انگریز تو اہل کتاب ہیں ۔خد انے کئی جگہ قرآن میں ان کی مدح کی ہے—اور اہل کتاب ہونے سے قطع نظر ان کی عملداری میں امن اور آرام اور انصاف اور رعایا پروری اس قدر ہے کہ ہندوستان کو ایسا اطمینان کبھی نصیب ہو ا نہیں "۔ایک اوراہم بات یہ بھی ہے کہ جہاں اہل کتاب کے حق میں لکھا گیا ہے ،وہیں ہندوؤں اور مسلمانوں میں مذہبی تفاوت اور ہندوستانی مسلمانوں کے رسم ورواج میں ہندوؤں کے طور طریقوں کے شامل ہوجانے کا محاسبہ بھی کیا گیا ہے۔انگریزی راج کی برکتوں کی تحسین ، اہل کتاب اور پادری کے مثالی گھرانے کی تعریف ، مولویوں کے بھیک مانگنے، مولویوں کی انگریزوں کی مخالفت اورہندوؤں کے کافرانہ طور طریقوں پر تنقید ،یہ سب نوآبادیاتی جدیدیت کی منطق سے ماخوذ ہیں۔ یہ منطق بہ یک وقت مذہبی ودنیوی اصطلاحوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ کہیں انگریزی استعمار یا سامراج کا لفظ استعمال نہیں کرتی؛ ہر جگہ انگریزی سرکار کہہ اسے کہہ کر پکارتی ہے اور اسے ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار امن و ترقی لانے کا موجب سمجھتی ہے۔ دوسری طرف انگریزوں کو اہل کتاب قرا ر دیا جاتا ہےتاکہ ان کے حق حکمرانی کے لیے مذہبی جواز تلاش کیا جاسکے۔ نو آبادیاتی جدیدیت کی مدد سے جہاں انگریز وں کے معاشی استحصال ،ثقافتی سامراجیت، تشدد اورسماجی ڈھانچے کی بدترین شکست وریخت کے خلاف واقعی وحشت ونفرت پیدا ہونی چاہیے وہاں مذہبی رواداری کا التباس پیدا کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ اور یہی منطق ہندوؤں کو اپنا مذہبی قومی حریف قرار دے کر ،ان سے سماجی ،ثقافتی،مذہبی اور ذہنی فاصلہ اختیار کرنے کی دلیل گھڑتی ہے۔یہ نوآبادیاتی جدیدیت کا کرشمہ ہے کہ آج بھی برطانوی /یورپی سامراجیت کے خلاف جذبات نہ ہونے کے برابر ہیں مگر مسلمان اور ہندو دونوں آج بھی ایک دوسرے کو اپنا بد ترین حریف سمجھتے ہیں اور اپنے اپنے قومی سیاسی بیانیوں کی بنیاد ایک دوسرے کوحتمی "غیر” سمجھنے پر رکھتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کی موجودہ باہمی دشمنی کی تاریخ کا آغاز نو آبادیاتی عہداور نو آبادیاتی جدیدیت کی منطق کے تحت ہی سے ہوتا ہے۔

ناصر عباس نیرّ

(ایامیٰ پر تازہ مضمون سے اقتباس)

 

نوٹ: یہ مضمون پروفیسر ناصر عباس نیر صاحبکے فیس بک پیج سے لیا گیا ہے۔ ہم ان کے بے حد مشکور ہیں۔

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment