تحریر کو گھر بنانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ دنیاکو کتاب سمجھا جائے؛دنیا کو کتاب کی طرح پڑھا جائے ،اوردنیا کے ساتھ ایک ایسا تعلق استوار کیا جائے جو آدمی کاکتاب کے ساتھ ہوتا ہے؛کتاب کے ساتھ تعلق ملکیت کا نہیں ،شراکت کا ہوتا ہے؛آپ کتاب پر قابض نہیں ہوتے ،اس میں،اور اس کے ساتھ Live کرتے ہیں۔
تحریر کو گھر بنانا،ایک طرح سے ’پڑھنے اور لکھنے ‘ پر مراقبہ کرنا ہے،اور تمام سوالوں کے جواب،اور ہر طرح کا تحفظ،ہر طرح کی امان، پڑھنے اور لکھنے کے عمل کے دوران میں تلاش کرنی ہے۔لائبریری میں بیٹھ کر کتابوں میں ڈوب کر دنیا جہان کو بھول جانا،’تحریر ‘ کو گھر بنانے کی خارجی تمثیل تھی۔میراجی پنجاب پبلک لائبریری (قائم شدہ ۱۸۸۴ء)اور دیال سنگھ لائبریری(قائم شدہ ۱۹۰۸ء) میں وقت گزارتے تھے۔
تحریر کو گھر بنانے سے میراجی کی شخصیت میں جو نئی باتیں پیدا ہوئیں، ان میں دو خاص طور پر اہم ہیں۔ ایک کو انھوں نے جزئیات بینی کہا ہے۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر نہ صرف کتابیں پڑھیں ،بلکہ انھیں نہایت غورسے پڑھا،اس طرح انھوں نے ہر شے کی تمام جزئیات کو سمجھنے کی حتی المقدور کوشش کی۔صرف تحریر ہی میں کسی شے کو تمام ممکنہ جزئیات کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے۔نیز جزئیات بینی سے انھیں مطالعے کی لذت اور علم کی روشنی دونوں ملیں، اور جسمانی زندگی ان کی نظر میں غیر اہم ہوگئی۔ انھوں نے جسم کواذیت نہیں پہنچائی، صرف اسے نظر انداز کیا، لیکن جسم کو نظرا نداز کرنے سے،اس کا تکلیف میں مبتلا ہونا یقینی تھا ۔ دوسری نئی بات یہ پیدا ہوئی کہ ان کے یہاں غیر معمولی نظم وضبط پیدا ہوا۔ میراجی کے ذہن میں کوئی انتشار نہیں تھا۔ اس کا ثبوت ان کی نثری تحریریں ہیں ،ان کے خطوط میں لکھے گئے منصوبے ،اور حلقہ ارباب ِ ذوق لاہور اور دہلی کو منظم اداروں میں بدلنے کی کوششیں ہیں۔ سب سے بڑھ کر ان کے نثری مضامین ہیں۔ جزئیات بینی سے ان کے یہاں ذہنی دیانت داری پیدا ہوئی۔ وہ ہر موضوع کو اس کی ممکنہ تفصیل کے ساتھ اور ضروری منطقی ترتیب کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ویسے کسی آدمی کی دیانت اور سچ بولنے کی جانچ کرنی ہو تو اس کی تحریریں دیکھنی چاہییں۔ اگر وہ کسی موضوع پر بحث ،ا س کی تفہیم کی بساط بھر کوشش ، اس کے حق و مخالفت کے دلائل،اس کی پیش کش کے موزوں طریقے کے سلسلے میں ڈنڈی نہیں مارتا تووہ دیانت دار ہے۔جو آدمی اپنی ذہنی دنیا میں دیانت دار نہیں،اس کا حقیقی دنیا میں دیانت ہونا بھی مشکوک رہتا ہے۔گویا ہم کَہ سکتے ہیں کہ لکھنا ،ایک ایسی صورتِ حال ہے ،جس میں کیے گئے اعمال اور فیصلے اخلاقی مضمرات رکھتے ہیں،کم ازکم اس شخص کے لیے۔ میراجی دونوں لحاظ سے دیانت دار تھے۔ (یہ بھی پڑھیں کیاکسی نظریے کوموت جیسے الفاظ دیے جا سکتے ہیں؟ – پروفیسر ناصر عباس نیر )
بعض لوگ کَہ سکتے ہیں کہ ہر ادیب ’تحریر‘ کو اپنا گھر بناتا ہے،ا س میں میراجی کا کیا اختصاص؟ عرض ہے کہ کاش سب ادیب ایسا کرتے یا کر پاتے !اکثر لکھنے والے تحریر کے ذریعے’ تلافی ‘کرتے ہیں،یا اسے ’ذریعہ‘بناتے ہیں،گھر نہیں۔جب کوئی لکھنے والا،تحریر کو محض شہرت واہمیت کی خاطر اختیار کرتا ہے ،یا جب وہ بنے بنائے خیالات پیش کرتاہے،ان کی تکرار کرتاہے،یا مخصوص طرح کے خیالات کی توثیق کرتاہے،تو وہ تحریر کے ذریعے اپنی کسی کمی کی تلافی کررہا ہوتا ہے ،یا اسے ذریعہ بنارہا ہوتا ہے۔میراجی نے جب تحریر کو گھر بنایادراصل اس یقین سے گھر جیسی مانوسیت اختیار کی کہ: علم اور تخلیق کی دنیا انسانی ساختہ ہے،یعنی سیکولرہے۔میراجی نے تحریر کے گھر میں رہ کر اور تحریر کو Liveکرکے ،یعنی تحریر کے اندر سے یہ گیان حاصل کیا کہ تحریر جس ’دنیا‘ کو اپنا موضوع بناتی ہے،اور جس’ ڈھنگ ‘سے موضوع بناتی ہے، دونوں بشری ، مادی، ،نفسی اور تاریخی ہیں۔ہر خیال اور اس کے اسلوب ِ اظہار کی جڑیں انسا ن کی مادی ،نفسی اور تاریخی دنیا میں ہیں۔انسان تحریر کے اندر رہنے بسنے سے انسانوں کی مساعی کی کامیابیوں، ناکامیوں، نارسائیوں،مضحکہ خیزیوں سے روشنا س ہوتا ہے۔چوں کہ یہ انسانی مساعی ہیں،اس لیے ان کی کوئی ٹھوس ،ناقابل ِ تغیر ،اٹل بنیاد نہیں۔ تحریر کی دنیا عارضی ہے، تجربے وتناظر کی پابند ہے،اور ہر وقت تبدیلی کے لیے تیار۔ تحریر کے گھر میں آدمی ایک سطح پر تنہا ہوتاہے،اور دوسری سطح پر ان سب انسانوں سے وابستہ ہوتا ہے ،جن کی مساعی کا وہ مطالعہ کرتا ہے۔یہ ایک انوکھا پیراڈاکس ہے۔تحریر کی دنیا بتاتی ہے کہ ہماری دنیا کی بنیاد مادی و حسی ہے، مگر خود تحریر کی دنیامادی نہیں ،وہ ذہنی ہے ،تخیلی ہے، مسلسل خلق ہوتے رہنے کی خصوصیت رکھتی ہے؛اس بنا پر تحریر کی اپنی دنیا بعض دیوتائی اور مابعد الطبیعیاتی خصوصیات کی حامل ہے۔تحریر کی دنیا میں رہنے والا،ایک طرح سے مسلسل تناؤمیں گرفتار رہتا ہے۔دنیا کی اساس کو مادی سمجھنے سے وہ دنیوی وحسی لذتوں کی طرف میلان کو برا نہیں سمجھتا ،مگر ساتھ ہی محسوس کرتا ہے کہ یہ لذتیں اسے تحریر سے بے گھر کرسکتی ہیں۔ یوں یہ تناؤ اسے ایک اہم ترین وجودی ،اور ایک اخلاقی سوال سے بھی دوچار کرتا ہے۔ حقیقی دنیا سے جلاوطنی کے بعدتحریر سے جلاوطن ہونا کہاں تک صائب ہے،وجودی اور اخلاقی دونوں حوالے سے؟یہ تناؤ اس کے تخلیقی عمل کے لیے اہم محرک کا کام دے سکتا ہے،اگر وہ اس تناؤ کو شدت سے ،اور دیانت سے محسوس کرے۔ (یہ بھی پڑھیں ادب میں فحاشی کا مسئلہ -پروفیسر ناصر عباس نیر
("اس کو اک شخص سمجھنا تو مناسب ہی نہیں "(2017)سے اقتباس)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

