ادب میں فحاشی کا مسئلہ -پروفیسر ناصر عباس نیر

by adbimiras
1 comment

دیگر بہت سے سماجی اور ثقافتی تصورات کی طرح فحاشی کی تعریف کرنا آسان نہیں۔ قصّہ یہ ہے کہ ثقافت کا ہر عمل اور تصور ’’اقدار سے لبریز‘‘ ہوتا ہے؛یعنی بلند و پست، کم ترو برتر،مفید و غیر مفید،افضل و اسفل کے ان تصورات میں لپٹاہوتا ہے جومنطقی کم ، رواجی اور اعتقادی زیادہ ہوتے ہیں۔چناں چہ فحاشی سمیت کسی بھی ثقافتی تصورکی ٹھیک ٹھیک تعریف مشکل ہے،تاہم اس پر ایک ایسی بحث ضرور کی جا سکتی ہے ،جو اس سے وابستہ اقدار کے سیاق میں کی گئی ہو۔ مبین مرزا نے یہی کوشش کی ہے۔اس قسم کی بحث مشکل تو ہے ہی،خاصی نازک بھی ہے۔چوں کہ تمام اقدار رواجی اور اعتقادی ہوتی ہیں،اور یہ ثقافت کی جڑوں میں اتری ہوتی ہیں، اس لیے ان کی روشنی میں فحاشی پر بحث ایک طرف بعض پختہ اعتقادات کے جائزے کی صورت اختیار کر جاتی ہے اور دوسری طرف ثقافت کے بنیادی ڈھانچے کو کھدیڑنے کے مترادف ہو جاتی ہے۔یہ بات اس بحث کو صرف مشکل بناتی ہے،جو چیز اسے نازک بناتی ہے وہ اور ہے: افضل و اسفل کے تصورات یعنی اقدار اپنی متعلقہ ثقافتوں میں اپنے محافظ خود پیدا کر لیتی ہیں ؛کبھی کوئی سماجی گروہ اور کبھی ریاست محافظ ہو سکتی ہے اور کبھی دونوں ۔ایک عجیب و غریب مگر بے حداہم بات یہ ہے کہ محافظ طبقہ اپنی سماجی شناخت ہی ان اقدار کی حفاظت کے عمل میں قائم کرنے لگتا ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ اس کا یہ عمل بے لوث نہیں ہوتا؛وہ اقدار کی محافظت کے صلے میں کئی طرح کے مفادات کی فصل کاٹتا ہے ۔لہٰذاکوئی محافظ طبقہ پسند نہیں کرتا کہ وہ جن اقدار کے تحفظ کو اپنا دین ایمان سمجھتا ہے، ان پر سوال قائم کیے جائیں۔ اسے اپنی شناخت اور اس سے وابستہ مفادات خطرے میں نظرآنے لگتے ہیں۔ چناں چہ ثقافتی اقدار پر مباحثہ ،بعض طبقات کو مشتعل کرتا ہے تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں جدیدنظم، خاموشی ، ہم وقتیت اور معروضہ تلازمہ – ڈاکٹر ناصر عباس نیّر)

فحاشی ایک ثقافتی تصور ہے۔چوں کہ ہر ثقافت میں افضل و اسفل کے معیارات الگ الگ ہوتے ہیں،اس لیے ہر ثقافت میں فحاشی کا مفہوم بھی جدا ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں متضادہوتا ہے۔کسی ثقافت میں ایک پورے خاندان کا ننگا ہونا ، فحش نہیں سمجھا جاتا تو کسی دوسری ثقافت میں محض سر (خاص طور پر عورت کے سر کا)کا ننگا ہو ناہی فحش قرار پا سکتا ہے۔لہٰذا بجا طورپر مبین مرزا نے مغرب اور مسلم معاشرے میں فحاشی کے مختلف تصورات پر روشنی ڈالی ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ ایک ثقافتی تصور کے طور پر فحاشی اب ہر ثقافت میں وجود رکھتی ہے،ان معاشروں میں بھی جہاں لوگ اپنے جسم کو عریاں رکھتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ ان کا فحاشی کا تصور ہم سے بہت مختلف ہے۔تاہم واضح رہے کہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔فحاشی کا تصور ثقافت کے ساتھ ہی پیدا نہیں ہو گیا تھا۔یہ ایک تاریخی تصور ہے جو بعض سماجی تبدیلیوں کے ساتھ اور ان کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے ۔قدیم انسانی ثقافتوں میں انسانی جنسی اعضا کو عریاں رکھنے یاکھلے عام جنسی اعمال سرانجام دینے کو فحش نہیں سمجھا جاتا تھا۔ڈاکٹر لیری فالس نے اپنی کتاب جب جنس مذہب تھا میں لکھا ہے کہ’’ بعض قدیم افریقی قبائل کو جب خاص خاص مواقع پر لباس پہننا پڑتا توان سے تقاضا کیا جاتا کہ وہ لباس پر مصنوعی جنسی اعضا لٹکائیں۔‘‘گویا ان کے لیے یہ تصور بھی محال تھا کہ انسانی جسم اپنا اظہار جنسی اعضا کے بغیر کر سکتا ہے۔ ان کے لیے نہ توجنسی اعضا کا نظارہ جنس کے شدید جذبے کو تحریک دینے کا باعث نہیں تھا اور نہ جنسی جذبہ خوف ناک اور گناہ سے آلودہ تھا ۔مگر جب امتناعات نے اخلاقی اور سماجی نظاموں کی صورت اختیار کی تو جنسی اعضا اور ان کے اخراج و تولید کے وظائف کے کھلے عام انجام دیے جانے یا ان کی تصویری و تحریری نمایندگی کو فحاشی قرار دیا جانے لگا۔اس کے باوجود یہ بات نزاعی رہی کہ کس درجہ کی نمایندگی فحش ہے؟
بہ ظاہر یہ چونکا دینے والی بات ہے کہ فحاشی کا تصور، ثقافت کے ٹھیک اسی مرکز میں موجود ہوتا ہے جواس کے بلند اخلاقی اور تہذیبی آدرش کا مقام بھی ہے۔یہ اتفاق نہیں کہ فحاشی سے ابتذال، رکاکت اور بے ہودگی کے جو تلازمات وابستہ ہوتے ہیں ،وہ دراصل خطرات ہیں جو کسی ثقافت کو اپنے ارفع اخلاقی آدرش کے حصول میں لاحق ہو سکتے ہیں۔قدیم معاشروں میں ٹوٹم اور ٹیبو کے تصورات ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔ٖفحاشی کے تصور میں کہیں نہ کہیں ٹیبو کا قدیم اساطیری تصور مضمر ہے؛خاص طور پر جنس کو ٹیبو سمجھنے کا تصور۔ رابرٹ سمتھ کی ٹیبو کے سلسلے میں درج ذیل توضیح،فحاشی کی تفہیم میں معاون ہو سکتی ہے:
مقدس اور آلودہ اشیا میں یہ بات مشترک ہے کہ دونوں آدمی پر یہ پابندی عائد کرتے ہیں کہ آدمی ان کے قریب نہ پھٹکے۔ان پابندیوں کو توڑنے میں مافوق الفطرت خطرات ہوتے ہیں۔دونوں میں فرق اس سے ظاہر نہیں ہوتا کہ ان کا روزمرہ زندگی سے کیا رشتہ ہے بلکہ اس میں کہ دونوں کا دیوتا سے کیا رشتہ ہے؟مقدس اشیا آدمی کے لیے نہیں،وہ دیوتاؤں سے متعلق ہیں۔ آلودگی سے احتراز کیا جاتا ہے کہ یہ دیوتاؤں کے لیے قابلِ نفرت ہے۔
لطف کی بات یہ ہے کہ دیوتاؤ ں سے وابستہ تقدس نے اشیا ومظاہرکی اعلیٰ و اسفل کی جو درجہ بندی قائم کی،وہ تمام معاشروں میں اس وقت سے موجود رہی ہے جس وقت سے ان میں طاقت کا کوئی نہ کوئی مرکز موجود رہا ہے۔بس دیوتا تبدیل ہوتے رہے ہیں۔حتیٰ کہ غیر مذہبی معاشروں (اگرچہ کوئی معاشرہ مکمل غیر مذہبی نہیں ہوتا)میں بھی طاقت کا ایک ایسا مرکز موجود ہوتا ہے،جو علویت و سفلیت میں امتیاز کرتا ہے۔ جدیدمعاشروں میں ریاست کا کردار عموماً دیوتا کا ہوتا ہے اور وہی یہ بات طے کرتی ہے کہ لوگوں کے لیے کیا جائز اور کیا ممنوع ہے۔اسی امتیاز کے ذریعے ریاست لوگوں پر غیر معمولی اختیار و قدرت حاصل کر لیتی ہے۔یہ خاصے اچنبھے کی بات ہے کہ دنیا بھر میں آج بھی ریاست فحاشی کے تعین کا اختیار رکھتی ہے۔
یہ ایک غور طلب بات ہے کہ فحاشی ایک ثقافتی تصور کے طور پرخاصی پرانی ہے ،مگر کیا وجہ ہے کہ جدید عہد ہی میں ایک مسئلہ بنی؟تصور اور مسئلے کا فرق پیشِ نظر رہے ۔قبل جدید عہد میں عریاں تصاویر،ننگے مجسمے ،کھلی ڈلی شاعری موجود تھی ،مگر انھیں فحش نہیں سمجھا گیا تھا۔مغرب میں روشن خیالی کے زمانے میں اور ہمارے یہاں نو آبادیاتی عہد میں انیسویں صدی کے اواخر میں فحاشی ایک مسئلہ بنی۔مبین مرزا نے کہا ہے کہ ہمارے یہاں جعفرزٹلی کے بعد بیسویں صدی کے تیسرے اورچوتھے دہے میں فحاشی ایک مسئلہ بنی،جو درست نہیں ۔فحاشی کا سوال ۱۸۵۷ء کے بعد پہلی مرتبہ اس وقت سامنے آیا،جب نصابی اور اخلاقی ضرورتوں کے تحت اردو اور فارسی کے کلاسیکی ادب کا جائزہ لیا جانے لگا اور نیا ادب پیدا کیا جانے لگا تھا۔ ۔۔ایک مسئلے کے طور پر فحاشی کا تعلق ’’ نمایندگی کی مختلف صورتوں‘‘یعنی آرٹ سے ہے۔ یہ ایک دل چسپ تاریخی واقعہ ہے کہ جب تک آرٹ ایک محدود باذوق اشرافیہ طبقے تک محدود رہا،اس میں عریانیت کے مظاہر کے باوجودان کے فحش ہونے کا مسئلہ سامنے نہ آیا؛عریاں کو فحش اورمبتذل قرار نہیں دیا گیامگر جوں ہی آرٹ تک ہر عام و خاص کو رسائی حاصل ہو ئی تو اس کے جزوی یا کلی طور پر فحش ہونے کا مسئلہ پیدا ہوا۔یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ نشر و اشاعت کے جدید ذرائع فحاشی کے مسئلے کی آفرینش کے ذمے دار ہیں،مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ان کی وجہ سے فحاشی کے مسئلے کو فروغ ملا ہے۔یہ اتفاق نہیں کہ ابتدا میں فحاشی کی جو وضاحت کی گئی وہ آرٹ کے نئے بلاروک ٹوک ترسیلی کردار کے تناظر ہی میں کی گئی۔ ۱۸۶۴ء میں برطانوی لارڈ جسٹس سر الیگزینڈر کوکبم نے فحاشی کی تعریف میں لکھا کہ ’’میرے خیال میں فحاشی کی آزمائش یہ ہے کہ آیا وہ مواد جس پر فحاشی کا الزام لگایا گیاہے،اس میں ان ذہنوں کو گمراہ اور بے راہ رو کر نے کا میلان ہے جو اس قسم کے غیر اخلاقی اثرات کی زد پر ہیں اور جن کے ہاتھ اس قسم کی تحریریں لگ سکتی ہیں۔ ‘‘آگے چل کر فحاشی کی جتنی تعریفیں ،قانون یا سماجی اخلاقیات کے محافظوں نے کیں ان میں آرٹ کی ہر کہ و مہ تک باآسانی رسائی ہی کو بنیاد بنایا گیا۔
انیسویں صدی کے اواخر میں نذیر احمد کے نصوح نے کلیم کا کتب خانہ جلانے کا فیصلہ جس بنیاد پر کیا ،اس کی تفہیم ہمیں فحاشی کے مسئلے کے پیدا ہونے کی اصل رمز سے آشنا کراتی ہے۔’’….کیا اردو کیا فارسی سب کی سب کچھ ایک ہی طرح کی تھیں۔جھوٹے قصے،بے ہودہ باتیں،فحش مطلب ،لچے مضمون،اخلاق سے بعید ،حیا سے دور…معنی ومطلب کے اعتبار سے ہر جلد سوختنی اور دریدنی تھی… آخر کار یہی رائے قرار پائی کہ ان کا جلا دینا ہی بہتر ہے۔‘‘اس آگ میں کلیاتِ آتش،دیوانِ شرر، فسانہء عجائب، قصہء گل بکاؤلی، آرائشِ محفل، مثنوی میر حسن، مضحکاتِ نعمت خان عالی،منتخب غزلیاتِ چرکین،ہزلیاتِ جعفر زٹلی،قصائد ہجویہ مرزارفیع سودا،دیوان جان صاحب،بہاردانش،اندرسبھا، دریائے لطافت،کلیاتِ رند اور نظیر اکبر آبادی کی کتابیں جل کر راکھ ہوتی ہیں۔اس کا ایک سبب تو خود نصوح اپنی بیوی فہمیدہ سے بیان کرتا ہے ،جب وہ اس لرزا دینے والے فعل کا سبب دریافت کرتی ہے: ’’جن کتابوں کو میں نے جلایا ، ان کے مضامین شرک اور کفر اور بے دینی اور بے حیائی اور فحش اور بدگوئی اور جھوٹ سے بھرے ہوئے تھے۔‘‘نیز ] گلستاں کی فہمیدہ کو تدریس کے دوران میں[بھلا تم کو یہ بھی یاد ہے کہ میں تمھارے سبق کے آگے سطروں کی سطروں پر سیاہی پھیر دیتا تھا…بڑی مشکل یہ تھی کہ میں ان واہی اور فحش باتوں کو تمھارے روبرو بیان نہیں کر سکتا تھا۔پھر یہ اس کتاب کا حال ہے جو پند واخلاق میں ہے اور تصنیف بھی ایسے بزرگ کی ہے کہ کوئی مسلمان کم تر ایسا نکلے گا کہ ان کا نام لے اور شروع میں حضرت اور آخر میں رحمتہ اللہ یا قدس سرہ العزیز نہ کہے۔‘‘
اردو اور فارسی کی کتابوں پر بے حیائی،فحاشی اور بد گوئی کا الزام لگانے اور پھر خود ہی ایک قاہرانہ فیصلہ سنانے کا دوسراسبب وہ نیا نظامِ اخلاق ہے جس کی تعلیم مقصود ہے اور جسے ماضی کے ادب کے لیے ایک مقیاس بنا لیا گیا ہے۔گویا یہاں ادب کو ایک تعلیمی مقصد کی نظر سے دیکھا گیا ہے جو اجتماعی زاویہء نظر کی حامل ہونے کی مدعی ہوتی مگر حقیقتاً فقط ایک طبقے یعنی نوخیزذہنوں کی قیادت کرنے کے نقطہ ء نظر کی علم برادار ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جس وقت ادب اور آرٹ کو اخلاق کی تعلیم کا وسیلہ خیال کیا جانے لگتاہے تو اسی وقت اس کے فحش ہونے کا مسئلہ سر اٹھانے لگتا ہے۔اسی حقیقت میں ایک گہری رمز یہ بھی چھپی ہے کہ ادب کو تعلیمِ اخلاق کا وسیلہ بناکر ریاست یا مقتدر سماجی ادارے نہ صرف اخلاق سازی کے لسانی و فکری وسائل پر اجارہ حاصل کر لیتے ہیں بلکہ لوگوں کی ذہنی دنیا پر حاکمانہ اقتدار بھی حاصل کر لیتے ہیں ۔یہ امتیاز کرنا دشوار ہوتا ہے کہ کہاں فحاشی ایک حقیقی اخلاقی تصور ہے اور کہاں مقتدر اداروں کی لوگوں کے ذہنوں پر اجارے کی ایک چال ہے ۔دوسری طرف ادب جب تک باذوق قارئین کی ایک خاص جماعت تک محدود رہتا ہے،اس کے مخربِ اخلاق ہونے کا کہیں سوال نہیں اٹھایا جاتا۔قارئینِ ادب کی مخصوص جماعت اخلاقی اقدار سے بے گانہ ہوتی ہے نہ ادب کی اثر اندازی کی صلاحیت سے بے خبر۔ اصل یہ ہے کہ وہ ادب اور اخلاق کے منطقوں کی جداگانہ سرحدوں میں یقین رکھتی ہے اور اسی بنا پر وہ ادب کے اثرکو اس کے منطقے کی سرحدوں ہی میں کارفرما دیکھتی ہے۔دوسری طرف جب ادب کو تعلیمی مقصد کے لیے بروے کار لایا جانے لگتا ہے تو ادب اور اخلاق کی جدا گانہ سرحدوں کا تصور فسخ کردیا جاتا ہے؛ ادب سے بنیادی مطالبہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اخلاق کی تعلیم کا وسیلہ بنے۔دوسرے لفظوں میں ادب کے جداگانہ جمالیاتی منطقے ہی کا سرے سے خاتمہ کر دیا جاتا ہے۔لہٰذا زبیر رضوی کا یہ کہنا بجا ہے کہ ’’ کل بھی اور آج بھی عریانی اور فحاشی کے نام پرادب اور فنون کے نمونوں کو دل آزار اور مخربِ اخلاق ہونے کے جرم میں عدالت سے سزا کا مطالبہ کرنے والے وہی لوگ تھے اور ہیں جو ادب اور فنون کی جمالیات سے قطعاً نا بلد ہیں۔‘‘چوں کہ اخلاقی تعلیم میں بنیادی زوران برائیوں کے انسداد پر ہے جن کا میلان عام انسانی فطرت میں موجود ہے یا جو حقیقی طور سماج میں دندناتی پھر رہی ہیں، اس لیے ادب میں ان برائیوں کا ذکر فقط اس صورت میں گوارا ہوتا ہے کہ ان کا انسداد ہوتا دکھایا گیا ہو،اس کے علاوہ برائی کے کسی بھی طرح کے بیان کو فحش سمجھا جاتا ہے۔برائی کے بیان کو برائی کے فروغ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
مبین مرزاکا بنیادی تھیسس یہ ہے کہ ’’ فحاشی کا تصور ہر معاشرے میں الگ ہوتا ہے اور اس کا تعین وہ ضابطۂ اخلاق کرتا ہے جسے اس معاشرے کی تہذیبی اقدار مرتب کرتی ہیں۔‘‘ اور ’’کسی قوم یا تہذیب کا نظامِ اقدار کس اصول کے تحت تشکیل پاتا ہے؟ یہ تشکیل پاتا ہے اس کے تصورِ حیات کے تحت ۔‘‘چناں چہ جب تصورِ حیات میں تبدیلی آتی ہے تو تہذیبی اقدار بھی بدلتی ہیں اوراس کے نتیجے میں فحاشی کا تصور بھی تغیر کی زد پر آتا ہے۔اپنے تھیسس کومزید واضح کرتے ہوئے مرزاصاحب کہتے ہیں کہ’’ ویسے تو ہمارے یہاں وہ نظامِ اقدار جو معاشرے کو اکائی کی صورت جوڑ کر رکھتا ہے اور اس کے نظامِ اقدار کو قائم اور مؤثر رکھتا ہے، وہ لگ بھگ ڈیڑھ صدی پہلے ٹوٹ گیا تھالیکن اس کے باوجود ہم نے بہت دنوں تک، اس نظامِ اقدار کو کسی نہ کسی درجے میں اپنے طرزِ احساس میں شامل رکھا‘‘لیکن اب ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جو مذہبی اور روایتی اخلاقیات سے نہ صرف عاری ہے بلکہ اسے مسترد بھی کرتی ہے ،لہٰذا اب فحاشی ہمارے لیے مسئلہ نہیں۔مرزا صاحب کا یہ تھیسس (جو بڑی حد تک عسکری،سلیم احمد،سراج منیر اور جمال پانی پتی کی فکر سے مستنیر ہوا ہے)بعض اہم تاریخی واقعات کو نظر انداز کرتا ہے۔مثلاً پہلا تو یہی کہ مرزا صاحب ۱۸۵۷ء سے پہلے کے جس ادب کو مذہبی اور روایتی اخلاقیات سے عبارت تصورِ کائنات کی پیداوار قرار دے رہے ہیں،۱۸۵۷ء کے بعد اسی پر فحاشی کا ڈسکورس قائم ہوا۔نصوح نے جن کتب کونذرِ آتش کیا تھا،ان میں وہ سب عناصر موجود ہیں،جنھیں ’’روایتی اخلاقیات ‘‘کاکوئی بھی علم بردار آج بھی فحش قرار دے گا اور انھیں داخلِ نصاب کرنے میں ہچکچائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کم از کم پاکستانیوں کی اکثریت مذہبی اور روایتی اخلاقیات سے عبارت تصورِ کائنات ہی کی حامل ہے ،اور اس اکثریت میں ہمارے دانش ور اور ادیب بھی خاصی تعداد میں شامل ہیں۔ہماری عمومی تنقیدی فکر میں ادیب کا تصورآج بھی آتھر گاڈ کے طور پر کیا جاتا ہے اور ادبی متن کے پروٹو ٹائپ کو مذہبی متن کے طور پر دیکھا جاتا ہے،جس کے معانی کی افزائش اورتعین میں مصنف کے منشا ہی کواقتداری حیثیت حاصل ہوتی ہے۔لہٰذا یہ رائے اختلافی ہے کہ اب ہم ایک غیر مذہبی تصورِ کائنات کے حامل ہوگئے ہیں۔ اگرمغرب کی طرح ہم بھی اس بشر مرکزتصورِ کائنات کے حامل ہوتے تو اس کو اپنی فکر کا راہ نما بنا کر حسی و عقلی ذارئع کی مدد سے انسانی علوم کی تخلیق کر رہے ہوتے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ انسانی علوم کی روایت میں گزشتہ چار صدیوں سے ہمارا حصّہ صفر ہے۔جہاں تک فحاشی کے مظاہر کے باوجود فحاشی پر سوالیہ نشان قائم نہ کرنے کا تعلق ہے تو دیکھنے والی بات یہ ہے کہ فحاشی کے مظاہر کہاں ہیں؟انٹر نیٹ اور کیبل ٹی وی پر ہیں(جن پر اس وقت بحث مطلوب نہیں)،ادب میں تو نہیں ہیں۔کیا معاصر ادب میں منٹو،عصمت،احمد علی،سجاد ظہیر کی طرح معاصر اخلاقیات کو چیلنج کرنے والے لوگ موجود ہیں؟آج کا پاکستانی اردو ادیب ،معاصرصورتِ حال پر یعنی پاکستانی اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کے کھیل ،جسے بنیاد پرستی اور طالبانائزیشن کا نام ملا ہے اور جس نے زندہ انسانوں اور آزاد انہ فکر پرخود کش حملوں کا لامتناہی سلسلہ پید اکیاہے،اس پر اس بے باکی سے لکھ رہا ہے جس کا مظاہر نو آبادیاتی دور میں ہمارے ادیبوں نے کیا؟ جن ادب پاروں پرفحاشی کے مقدمات قائم ہوئے،ان میں فقط رائج جنسی اخلاقیات کو چیلنج نہیں کیا گیا تھا،بلکہ سماجی طاقت پر کسی ایک یا زیادہ طبقات کی اجارہ داری کے تصور سے بھی انکار کیا گیا تھا۔آج ہم مجموعی طور پر ریاست کی نظر سے دنیا اور زندگی کو دیکھتے اور جیتے ہیں۔مطابقت پذیری بیش از بیش اور انحراف عنقا ہے۔
اصل یہ ہے کہ فحاشی ایک خاص تاریخی صورتِ حال ہی میں ایک مسئلے کے طور پر سامنے آتی ہے، اور اسی بنا پر اس میں وہ عناصر از خود ظہورکرتے ہیں جو اس تاریخی صورتِ حال کا لازمہ ہیں۔مثلاًاردو ادب میں فحاشی،ایک مسئلے کی صورت اس وقت رونما ہوئی جب برصغیر نو آبادیاتی استبداد کا شکار تھا۔استعماری حکم ران برصغیرکے باسیوں کوتہذیب و شائستگی سے عاری ،ان کی تاریخ کو ڈسپاٹک،زبانوں کو ورنیکلر یعنی غلاموں کی زبانیں،ادب کومبالغے سے لبریزاور غیر اخلاقی قصوں کی جاگیر قرار دے رہے تھے؛اور انھی اسباب سے اور ان کے انسداد کی ہمہ گیر کوششوں کے تحت یہاں شائستگی یعنی سولائزیشن کے فروغ کی مساعی کر رہے تھے۔لہٰذا ردو ادب میں فحاشی کی تشخیص اس استعماری استبداد نے کی جوبرصغیر کو تہذیب و شائستگی سے عاری قرار دے رہا تھا ،تا کہ وہ وکٹوریائی تہذیبی و اخلاقی تصورات کی یہاں ترویج کر سکے۔گویا ایک نیا نظامِ اخلاق متعارف کرایا گیا،جس کے علم بردار وہی لوگ تھے جو اردو ادب میں اصلاح کی تحریک چلارہے تھے،یعنی سر سید، محمد حسین آزاد، مولانا حالی،نذیر احمد ، ذکاء اللہ ، اور لطف کی بات یہ ہے کہ اردوادب میں فحاشی کے نو بہ نو مظاہر کی دریافت بھی انھی بزرگوں کا کارنامہ ہے۔اس تناظر میں ہمیں اس سوال کا جواب بھی مل جاتاہے کہ جن بزرگوں کی کتابوں پر فحاشی و بد گوئی کا الزام رکھ کر سپردِ آتش کیا گیا ،وہ اور ان کے پڑھنے والے کیوں ان کے فحش ہونے سے آگاہ نہیں تھے؟جواب بے حد سادہ ہے:ان کے لیے زندگی کے حقیقی مظاہر کی ادب میں ترجمانی خلافِ شائستگی نہیں تھی۔عطار کے لونڈے کا ذکر ہو یا ازاربند کا ،یہ سب زندگی کا حصہ تھا ۔تاہم وہ اس بات سے اچھی طرح آگاہ تھے کہ زندگی میں شامل سب کچھ،ایک درجے کا نہیں ہوتا۔ تذکروں میں جن اشعار کا انتخاب پیش کیا جاتا تھا،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان بزرگوں کی نظر میں اشعار میں کہی گئی سب باتیں ایک درجے کی نہیں ہیں؛کچھ اعلیٰ ،کچھ معمولی،کچھ سوقیانہ ہیں،مگر زندگی ان سب سے عبارت ہے۔
کلیم کے کتب خانے کا جلایا جانا،ہمیں نئے نظامِ اخلاق کے علم برداروں کی اس نفسیات اور حکمتِ عملی سے بھی آگاہ کرتا ہے،فحاشی کے انسداد کے ضمن میں جسے عموماً اختیار کیا جاتا ہے۔یہ نفسیات، طاقت کی ہے اور حکمتِ عملی ،طاقت کے اندھے استعمال کی ۔طاقت کے اندھے استعمال کا نشانہ متن اور مصنف دونوں بنتے ہیں ۔اندھی طاقت کا بہیمانہ استعمال ہر اس متن کو خاکسترکردینے یا ضبط کر لینے میں یقین رکھتا ہے جو فحاشی کے زمرے میں آتا ہے۔اسی طرح ان کے مصنفین کو جیل میں ڈالنے یا جلا وطنی پر مجبور کردیا جاتا ہے۔یہ طاقت ہمیشہ ادارہ جاتی ہوتی ہے :فحاشی کے ضمن میں مذہب اور ریاست اپنی اس طاقت کا بے رحمانہ استعمال کرتے ہیں جو بہ طور اد ارہ انھیں سماجی طور پر حا صل ہوتی ہے اور جس کے خلاف بغاوت کا مطلب پورے سماج سے ٹکر لینا ہوتا ہے۔
فحاشی کا مسئلہ ،بلاشبہ مذہبی اصلاح پسندوں اور ریاست کو طاقت کے اندھے استعمال کی غیر معمولی ترغیب دیتا ہے،مگراس کا یہ مطلب نہیں کہ اخلاقی اصلاح کے طوفانی جوش اور ریاستی جبر کو کسی ردّعمل کا سامنا نہیں ہوتا اور انھیں اپنی طاقت کے یک طرفہ استعمال کی کھلی چھٹی ملتی ہے ۔اصل یہ ہے کہ ادب کے خلاف فحاشی کی فردِ جرم،ادیبوں کے لیے ایک آزمائش تو ثابت ہوتی ہی ہے ، انھیں ادب کی نہاد اوراس کی روشنی میں ادب کے سماجی کردار پر از سرِ نو غور کا موقع بھی ملتا ہے۔ادب کی نہادِ حقیقی کی جستجو میں ،ادیبوں پر پہلا انکشاف یہ ہوتا ہے کہ ادب فحش نہیں ہوتا؛ادب میں وہ ترغیب موجود ہی نہیں ہوتی،جسے فحاشی کی بنیاد گردانا جاتا ہے۔انیسویں اور بیسویں صدی میں جن ادیبوں(بادلیئر،وولٹیئر، لارنس،منٹو،ارون دھتی رائے)پر فحش نگاری کے الزامات عائد ہوئے، کسی نے ادب کے فحش ہونے کو تسلیم نہیں کیا۔منٹو نے ’ٹھنڈا گوشت ‘ پر فحاشی کے مقدمے میں اپنا بیان جمع کرواتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ ادب ہر گز ہرگز فحش نہیں ہو سکتا۔افسانہ ’ٹھنڈا گوشت ‘ کو اگر ادب کے دائرے سے باہر کر دیا جائے تو ا س کے فحش ہونے نہ ہونے کا سوال پیدا ہو سکتا ہے۔‘‘یہ انکار ایک طرف ا س بات کے پر زور اثبات سے عبارت ہے کہ ادیب کوآزادی حاصل ہے ؛ وہ اس بات کو اپنی آزادی کے خلاف سمجھتاہے کہ کوئی دوسرا اس کی آزادی کے تصور اور آزادی کے حدود کا تعین کرے ،دوسری طرف اس امر کوباور کرانا مقصود ہے کہ ادب پر اخلاقی زاویہء نگاہ سے بحث کا مطلب ایک ایسے تناظرکو حاکمانہ مرتبہ دینا ہے جو ادب کی نہادِ حقیقی کے سلسلے میں ’’اندھا‘‘ ہے۔اندھا کیا جانے بسنت کی بہار!ادب پر بحث ادبی تناظر ہی میں روا ہے؛اخلاقی اور سماجی تناظر ادب کے سلسلے میں اندھا ہوتا ہے کہ وہ ادب کی تفہیم،ادب کی شرط پر نہیں،اپنے مطالبات کی روشنی میں کرنے پر بضد ہوتا ہے ۔چناں چہ فحاشی کا مسئلہ ایک سطح پر اخلاقی اقدارکے مقابلے میں ادبی اقدار کی خود مختاری کے تحفظ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔تاریخی طور پر ادیب کی آزادی کا یہ تصورانیسویں صدی کی جمال پسندی کی تحریک کا زائیدہ ہے جس نے ادب کو کسی بھی خارجی معیار سے جانچنے کی کسی بھی روش سے انکار کیا۔اس انکار کی بنیاد اس یقین پر تھی کہ ادب کی جمالیات ،انسان کی ایک ایسی عظیم یافت ہے ،جس کے آگے تمام دیگر سرگرمیاں ہیچ ہیں۔چناں چہ جمالیات ،ادب کو خود مختار بناتی ہے اور اس کی جانچ کاواحد پیمانہ خود ادب کو قرار دیتی ہے۔ مثلاً آسکروائلڈ کا مشہور قول ہے کہ ادب اچھا یا برا لکھا ہوا ہوتا ہے؛اخلاقی یا غیر اخلاقی نہیں ہوتا۔ دوسری طرف فحاشی کے بیانیے کی جہت اس کے یک سر بر عکس ہے:یہ بیانیہ اخلاقی قدر کو اپنے مرکز میں رکھتا اور جمالیاتی قدر کو حاشیے پر دھکیلتا ہے۔’’آرٹ اینڈاوبسینٹی‘‘ کے مصنف کرٹسن مے کے بہ قول ’’فحاشی سے متعلق محاکمہ نہ صرف اخلاقی مذمت سے وابستہ رہا ہے ،بلکہ یہ کسی بھی جمالیاتی قدر کے انکار کے مساوی رہا ہے۔ اس لیے فحاشی سے متعلق فیصلہ عموماًادب (یا عمل)کی اعلیٰ آرٹ کے مرتبے اور اخلاقی طور پر قابلِ قبول ہونے ،قانونی طور پر جائز ہونے اور فکری طور پر ارفع ہونے کے دائرے سے خارج کرنے کاتعین کرتا ہے۔ان منطقوں] اعلیٰ آرٹ، اخلاق، قانون،فکر[سے ادب کا اخراج اس امر کی توثیق کردیتا ہے وہ کہ ادب گھٹیا،ناشائستہ،غلیظ یا عر یاں و فحش ہے اور اسے سرکاری کلچر،شناخت اور تائید]سے محروم کرکے [حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے۔‘‘فحاشی کے نام پر ادب کو حاوی کلچرکی وضع کردہ شناختوں سے محروم کرنے کا عمل،اسے طاقت و مفادات کا کھیل بنا دیتا ہے۔اس بات کی ایک بدیہی شہادت تو یہ ہے کہ ریاست کے آئین میں فحاشی کو اوّل تو واضح ہی نہیں کیا جاتااور اگر تھوڑی بہت لفظ فحش پر روشنی ڈالی بھی جاتی ہے تو وہ بے حد غیر واضح ہوتی ہے ۔نو آبادیاتی عہد کی دفعہ ۲۹۲(جو آج بھی پاکستان اور بھارت کے آئین کا حصہ ہے) میں فقط فحش مواد کی ترسیل کا ذکر ہے ۔اس کی وجہ جو بھی ہو ،نتیجہ یہ ہے کہ کسی کتاب یا فن پارے کے فحش ہونے کا فیصلہ ایک جج کرتا ہے، جو ریاستی مشینری اور اس کی طاقت کا نمایندہ ہوتا ہے۔ اسے فحاشی کی تعریف وضع کرنے اور تشریح کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔لہٰذا یہ کہنا کچھ غلط نہیں کہ مقتدر طبقہ،خواہ وہ مذہبی اصلاح پسندوں پر مشتمل ہویا ریاست ہو، ادب کو ناشائستہ،گھٹیا اور بد نہاد قرار دے کر ادیب کی اس آزادی کو پابندِ سلاسل کرنا چاہتا ہے، جوطاقت،جبر، استحصال اور سماجی آلودگیوں کو طشت از بام کرتی یا اس کا امکان رکھتی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ زیادہ تر انھی ادیبوں اور فنکاروں پر فحاشی کے الزامات عائد ہوئے جنھوں نے بے باکانہ سماجی یا نفسیاتی حقیقت نگاری کی روایت میں تخلیقات پیش کیں اور ان میں اصلاح پسندوں کے دعووں کی قلعی کھولی گئی تھی یا ریاست کے نظریاتی جبر تلے سسکتے وجود کے زخموں سے پردہ ہٹایا گیا تھا۔اسے شاید ادب کا ایک اسرار ہی کہناچاہیے کہ ادیب اپنی آزادی ادب کی جمالیات پر ناقابلِ شکست ایقان سے اخذ کرتا ہے ،مگر اپنی آزادی کی حفاظت کے ضمن میں سماجی مقتدر سے متصادم ہوتا ہے۔ جمالیات اپنی خودمختاری کے دعوے میں سماجی و اخلاقی قیود سے بغاوت کرتی ہے مگر وہ کبھی ’’غیر سماجی‘‘ نہیں ہوتی ۔دل چسپ بات یہ بھی ہے کہ فحاشی کی زد پر آئے کسی متن میں بھی جنس بنیادی موضوع نہیں تھا(حالاں کہ جنس موضوع ہو سکتا ہے)؛ان میں جزوی طورپر،بنیادی موضوع کے تاثر کو واضح یا شدید بنانے کے لیے جنسی عمل کی کچھ تفصیل یا جنسی الفاظ در آئے تھے۔ یہ سب مبین مرزا کے مضمون سے بھی ظاہر ہے۔انھوں نے فحاشی کے الزام کی زد پر آئے ہوئے منٹو کے افسانوں کا نہایت عمدہ دفاع کیا ہے اور اپنے دفاع کی بنیاد فن کی جمالیات اور شعریات پر رکھی ہے۔اس طرح یہ باور کرایا ہے کہ ادب میں فحاشی اصلاً فنی معاملہ ہے۔میرے خیال میں مرزا صاحب کا منٹو ،سولزے نتسن،کنڈیرا کی تحریروں اور فلموں رام تیری گنگا میلی اور روٹس کا فحاشی کے تناظر میں تجزیہ خود انھی کے بنیادی تھیسس سے غیر ہم آہنگ ہے؛ اس لیے کہ یہ سب مصنفین اور فلمیں اس عہد سے تعلق رکھتے ہیں جوان کے تھیسس کے مطابق ’’مذہبی اور روایتی اخلاقیات ‘‘ سے عاری ہے۔
فحاشی کے مقدمات نے ،اس مسئلے کی نسبت سے اگر مذہبی اور سیاسی طاقت کے کھیل کی کچھ رمزیں منکشف کی ہیں توادب میں فحاشی کے بے حد پیچیدہ سوال کے کچھ موزوں جوابات فراہم کرنے کی طرف پیش رفت بھی ان میں ملتی ہے۔مثلاًادب پر فحاشی کے الزام کے جواب میں عام طور پر کہا گیا ہے کہ فحاشی کو مصنف کی نیت اور اس کے اثر کی روشنی میں طے کیا جانا چاہیے۔ منٹو نے اپنے افسانے ’دھواں‘کے دفاع میں لکھتے ہوئے واضح کیا کہ ’’ تحریر و تقریر میں ،شعر و شاعری میں ،سنگ سازی و صنم تراشی میں فحاشی تلاش کرنے کے لیے سب سے پہلے اس کی ترغیب ٹٹولنی چاہیے،اگر یہ ترغیب موجود ہے ،اگر اس کی نیت کا ایک شائبہ بھی نظر آرہا ہے تو وہ تحریر وہ تقریر،وہ شعر ،وہ بت قطعی طور پر فحش ہے۔‘‘ یہی اصول نیویارک ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج جان ایم وولسی نے جیمس جوائس کے شہرہ آفاق ناول ’یولی سس‘ پر فحاشی کے مقدمے کا فیصلہ لکھتے ہوئے پیشِ نظر رکھے تھے۔یولی سس ،جب ۱۹۱۸ء میں ’دی لٹل ریویو‘میں شایع ہونا شروع ہوا تھا تو اس پر فحش ہونے کا الزام عائد کیا جانے لگا تھا۔مزے کی بات یہ ہے کہ ایک آئرش ناول پر فحاشی کا الزام امریکا کی ایک تنظیم ’’ انجمن براے انسدادِ گناہ‘‘ نے لگایا اور امریکا میں اس کی اشاعت کے خلاف آواز اٹھائی۔۱۹۳۲ء تک یولی سس کو امریکا میں فحش قرار دیے جانے کی وجہ سے شایع نہیں کیا گیا۔۱۹۳۳ء میں اسے بالآخر وولسی کے فیصلے سے اشاعت کی اجازت ملی۔ میرا اندازہ ہے کہ خود منٹو نے اپنے دفاعی بیانات میں وولسی کے خیالات سے استفادہ کیا تھا۔یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس میں قانون سے زیادہ ، ناول کے فنی سیاق کی دریافت پر انحصار کیا گیا۔جج نے ریاست کے غیر مشروط نمایندے کے بجائے،ایک منصف مزاج نقاد کا منصب نبھایا۔اس فیصلے کا درج ذیل حصّہ ادب میں فحاشی کے الجھے ہوئے سوال کی کئی گرہیں کھولتا ہے اور فحاشی کے تعین کے معیارات پر خیال انگیزبحث کی بنیاد مہیا کرتا ہے۔
میں نے پورے یولی سس کا مطالعہ ایک مرتبہ،اور ان ٹکڑوں کا مطالعہ متعدد مرتبہ کیا ہے جن کے متعلق حکومت نے بہ طورِ خاص شکایت کی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کئی ہفتوں تک میری فرصت کے اوقات اس فیصلے پر غورو تامل کے لیے وقف رہے ہیں جس کا صادر کرنا میرا فرض ہے۔یولی سس ایسی کتاب نہیں جس کا پڑھنا یا سمجھنا آسان ہو،تاہم اس کے بارے میں کافی کچھ لکھا گیا ہے اور تجویز کیا جا سکتا ہے کہ اس کی تفہیم کے لیے ان کتابوں کی اچھی خاصی تعدا د کا مطالعہ کرنا چاہیے جو،اب [یولی سس] کی طفیلی بن چکی ہیں…ادبی دنیا میں یولی سس کی شہرت نے میرے لیے ممکن بنایا کہ میں اتنا وقت کہ میں خود کو اس منشا [کے تعین کے سلسلے میں] مطمئن کر سکوں جس کے تحت کتاب لکھی گئی،اس لیے کہ کسی بھی صورت میں جب کسی کتاب کے فحش ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ آیا جس نیت کے تحت کتاب لکھی گئی ،وہ عمومی زبان میں فحش نگاری (پورنو گرافی)ہے ،یعنی فحاشی پھیلانے کی نیت سے لکھی گئی۔اگر نتیجہ یہ ہے کہ کتاب فحش ہے تو تحقیق اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کتاب ضبط ہو جانی لازم ہے۔ لیکن یو لی سس میں ،اس کے غیر عمومی بے تکلفانہ اسلوب کے باوجود، حسی لذت پرستی کا حربہ دکھائی نہیں دیتا۔اس لیے میرا مؤقف ہے کہ یہ فحش نگاری پر مبنی نہیں ہے۔یولی سس لکھتے ہوئے جوائس نے ادبی صنف میں ایک نیا (اگرچہ نادر نہیں) تجربہ کرنے کی سعی کی۔وہ ڈبلن میں ۱۹۰۴ء میں مقیم نچلے متوسط طبقے کے اشخاص کا انتخاب کرتا ہے اور نہ صرف اس سب کی تصویر کشی کرتا ہے جو وہ اس سال کے اوائل جون میں ایک خاص دن کرتے ہیں،جب وہ اپنے معمول کے کا م پر شہر جاتے ہیں،بلکہ [جوائس] یہ بھی بیان کرتا ہے کہ ان میں سے اکثر اس دوران میں کیا سوچتے ہیں۔جوائس نے میرے نزدیک ایک حیرت انگیز کام یابی کے ساتھ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح شعور کے پردے پر ،[شعور کے ]دم بہ دم بدلتے سیر بینی تاثرات ،جیسے وہ کسی مصنوعی تختی پر [رونما ہورہے ]ہوں،کے ساتھ وہ سب موجود ہوتا ہے جو ہر آدمی کے حقیقی اشیا کے مشاہدے کے محیط میں آتا ہے،اورماضی کے تاثرات کے پراسرارپاتالی سایوں،عکسوں میں ہوتا ہے؛ان میں سے کچھ حالیہ اور کچھ تحت الشعور کی قلم رو سے اصولِ تلازمہ کے تحت باہر آتے ہیں۔ وہ دکھاتا ہے کہ کہ کس طرح ان میں سے ہر تاثر ان کرداروں کی زندگی اور روّیے کو متاثر کرتا ہے جنھیں وہ پیش کرتا ہے۔وہ جو کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے،وہ سینما فلم پر دوہرے یا ممکن ہو تو کثیر زاویوں سے روشنی پھینکنے کے عمل کے برعکس نہیں ہے،جو اگرچہ روشن پس منظر کے ساتھ واضح پیش منظر دیتا ہے،لیکن اپنے مختلف درجوں میں کہیں دھندلا اور بے مرکز ہوتا ہے۔میرا اندازہ ہے کہ وہ اثر جو صریحاًتصویری[گرافک]تیکنیک کا ٹھیک ٹھیک مرہونِ منت ہے ،اس کی لفظوں کے ذریعے ترسیل ہی اس ابہام کا بڑی حد تک باعث ہے جس سے یولی سس کا قاری دوچار ہوتا ہے۔اسی امر سے کتاب کے ایک اور پہلو کی وضاحت بھی ہوتی ہے،مجھے جس کو زیرِ غور لانا ہے؛یعنی جوائس کا اخلاص اور اس کی یہ ظاہر کرنے کی دیانت دارانہ کوشش کہ اس کے کرداروں کے ذہن ٹھیک کس طرح سوچتے ہیں۔اگر جوائس اس تیکنیک کو وضع کرنے میں دیانت دار نہ ہوتا جسے اس نے یولی سس میں اختیار کیا تو اس کا نتیجہ نفسیاتی طور پر گم راہ کن ہوتا اور اپنی منتخب تیکنیک سے عدم وفاداری کا مرتکب ہوتا۔یہ طرزِ عمل فنکارانہ نقطہء نظر سے نا قابلِ درگزر ہوتا۔
چوں کہ جوائس اپنی تیکنیک سے وفادار رہا ہے اور اس کے لازمی مضمرات سے اس نے جی نہیں چرایا،بلکہ دیانت داری کے ساتھ وہ سب کچھ مکمل طور پر بتانے کی کوشش کی ہے ،جو اس کے کردار سوچتے ہیں،ا س لیے وہ اس قدر درشت تنقید کا نشانہ بناہے اور اس کا مقصد اکثر غلط سمجھا گیا اور غلط پیش کیا گیا ہے۔اس کی اپنے مقصد کو اخلاص اور دیانت داری سے حاصل کرنے کی کوشش کا یہ تقاضا تھا کہ وہ اتفاقاًکچھ ایسے الفاظ استعمال کرے جو عموماًرکیک سمجھے جاتے ہیں اور یہی کوشش اسے اس طرف لے گئی ہے کہ بہت سوں کا خیال ہے کہ اس کے کرداروں کے خیالات میں جنس سے غیر معمولی رغبت ہے۔جن لفظوں کو رکیک قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ،وہ پرانے سیکسن الفاظ ہیں،جنھیں تقریباً تمام مرد جانتے ہیں اور میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ بہت سی عورتیں بھی جانتی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ وہ الفاظ ہیں جنھیں وہ طبقہ فطرتاً اورعادتاًاستعمال کرتا ہو گاجس کی جسمانی اور ذہنی زندگی کو جوائس نے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔جوائس کے کرداروں کے ذہن میں جنس کے موضوع کے بار بار ابھرنے کے سلسلے میں یہ ہمیشہ یاد رہے کہ ان کا محل وقوع کیلٹک ہے اور موسم بہار کا ہے۔جوائس کی تیکنیک سے کوئی حظ اٹھاتا ہے یا نہیں ،یہ ذوق کا مسئلہ ہے ،جس کے بارے میں اختلاف یا دلیل بے کار ہے،لیکن اس تیکنیک کو کسی دوسری تیکنیک کے معیار کے تابع کرنا ،مجھے لغو لگتا ہے۔بنا بریں میر ا مؤقف ہے کہ یولی سس ایک مخلصانہ اور دیانت دارانہ کتاب ہے اور میرا خیال ہے کہ اس پر کی جانی والی تنقیدات اس کے منطقی جواز سے مکمل طور پر ردّ ہو جاتی ہیں۔
یولی سس ایسی کتاب نہیں جس کا پڑھنا آسان ہو۔یہ کہیں آب و تاب کی حامل اور کہیں بے لطف ہے،کہیں قابلِ فہم اور کہیں مبہم ہے۔بہت سے مقامات پر مجھے کراہت انگیز لگی ہے لیکن…مجھے کچھ ایسا نہیں ملا جسے میں ’ رکاکت براے رکاکت‘ قرار دے سکوں۔جوائس اپنے قاری کے لیے جو تصویر بنانے کی کوشش کرتا ہے،کتاب کا ہر لفظ اس تصویر کی تفصیل کے لیے موزیک کے ایک ٹکڑے کا کردار رکھتا ہے۔اگر کوئی شخص اس مخلوق سے خود کو وابستہ نہیں کرنا چاہتا ،جسے جوائس نے پیش کیا ہے تو یہ اس کا اپنا انتخاب ہے ۔ایسی مخلوق سے بالواسطہ رابطے سے بچنے کے لیے کوئی شخص یولی سس نہیں پڑھنا چاہتاتو یہ بات قابلِ فہم ہے؛لیکن جب جوائس کی طرح کا لفظوں کا حقیقی فنکار، یورپی شہر کے نچلے متوسط طبقے کی تصویر کھینچنے کی کوشش کرتا ہے تو کیا امریکی عوام کے لیے یہ تصویر دیکھنا قانوناًناممکن ہو نا چاہیے؟اس سوال کا جواب دینے کے لیے محض یہ تلاش کرنا کافی نہیں کہ جوائس نے اس نیت سے یولی سس نہیں لکھا جسے عموماً فحش نگاری کی نیت کہا جاتا ہے۔مجھے اس کتاب پر ایک زیادہ معروضی معیار کا اطلاق کرنا ہو گا: اس کے لکھے جانے کی نیت کو بالاے طاق رکھ کر اس کے مجموعی نتیجے کی روشنی میں اس کے اثر کا تعین کرنا ہوگا….لفظ فحش کا معنی،جیسا کہ عدالتوں نے قانونی وضاحت کی ہے، یہ ہے کہ وہ[مواد]جو فحاشی کی جبلت کو مرتعش کرے یا جنسی طور پر ناخالص اور ہوس انگیز خیالات ابھارے۔آیا کوئی خاص کتاب اس قسم کی جبلت یا خیالات کو مشتعل کرتی ہے ،اس امر کا جائزہ عدالت کی رائے میں اس اثر کے حوالے سے لیا جاتا ہے جو وہ اوسط درجے کی جنسی جبلت کے افراد پر مرتب کرتی ہے۔ [یہاں وولسی اپنے دو دوستوں کو باری باری مدعو کرنے کے واقعے کا ذکر کرتا ہے،جو یولی سس کا مطالعہ کر چکے ہیں،ان سے ناول کے فحش ہونے نہ ہونے کی بابت رائے طلب کرتا ہے۔وولسی کے دونوں دوست اس بات سے نا واقف تھے کہ وولسی ان سے کیوں یہ سوال دریافت کررہا ہے۔]مجھے یہ جاننا دل چسپ لگا کہ ان دونوں نے میری رائے سے اتفاق کیا : یولی سس کو اوّل تا آخر ایک کتاب کی صورت میں پڑھنا جنسی خواہش یا ہوس انگیز خیالات کو تحریک نہیں دیتا،بلکہ اس کا کلی اثر ان پر ایک المیے کا تھا اور یہ مردوں اور عورتوں کی داخلی زندگی پر ایک بھرپور تبصرہ ہے … قانون نارمل انسانوں سے متعلق ہوتا ہے ۔یولی سس جیسی کتاب کے لیے فحاشی کی آزمائش کا یہی مناسب طریقہ ہے،جو بنی نوع انسان کے مشاہدے اور [اس کے] بیان کے لیے نیا ادبی طریقہ وضع کرنے کی مخلصانہ اور سنجیدہ کوشش ہے۔میں اس سے اچھی طرح واقف ہوں کہ یولی سس اپنے چند مناظر کی وجہ سے ایک طاقت ور گھونٹ ہے،جس کے بارے میں کچھ حساس مگر نارمل لوگوں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ لینا چاہیں گے کہ نہیں،لیکن طویل غور و فکر کے بعد میری جچی تلی رائے ہے کہ اگرچہ بہت سے مقامات پر یولی سس کا قاری پراثرکسی حد تک قے آور ہے،مگر کہیں بھی یہ شہوت خیزی کی طرف مائل نہیں۔
اس فیصلے میں اور فحاشی کے تقریباً تمام مقدمات میں فحاشی کے تعین کا سوال دو محوروں پر گردش کرتا ہے: مصنف کی نیت اور قاری پر اثر ۔دونوں محور فحاشی کے تعین کو حتمی طور پر طے کرنے میں اس قدر مدد نہیں دیتے جس قدر اسے متنوع موضوعی تعبیروں کی آماج گاہ بناتے ہیں۔مثلاًمنشاے مصنف ہی کو لیجیے۔فحاشی کے تعین میں اسے جس وثوق سے بنیاد بنایا جاتا ہے،اسے واضح کرنے کے سلسلے میں اتنی ہی پہلو تہی کی جاتی ہے۔یہ واضح کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ مصنف کی نیت سے مراد ،وہ سارا خاکہ اور بلیو پرنٹ ہے جس کے تحت کوئی فن پارہ لفظ،رنگ ،مٹی پتھرکی صورت اختیار کرتا ہے یا کسی فن پارے کی تخلیق سے پہلے کی وہ مجموعی نفسیاتی کیفیت ہے جو مصنف پر طاری ہوتی ہے ؟نیز کیا فن پارہ اپنی تکمیلی صورت میں اپنے مصنف کی قبل از تخلیق نفسیاتی کیفیت کا کامل مظہر ہوتا ہے ،یا اس سے انحراف بھی کرتا ہے اور یہ باور کراتا ہے کہ مصنف کی نیت سے مراد فن پارے کی تخلیق کے پیچیدہ عمل کا فقط پہلا اور بے حدمبہم مرحلہ ہے؟اگر ہم منشاے مصنف کا ایک واضح تصور کرنے میں کام یاب ہو بھی جائیں تو اگلی مشکل یہ ہوتی ہے کہ اس تک رسائی کا کیا ذریعہ ہے؟اصولاً تو معتبر ذریعہ خود مصنف کے اپنے فن پارے کے بارے میں بیانات ہیں،مگر یہ عام طور پر موجود نہیں ہوتے؛مصنفین اپنے ہر متن کی تخلیق کے منشا پرروشنی نہیں ڈالتے اور اگر کسی خط، مضمون یا انٹرویو میں اس بابت کچھ کہتے بھی ہیں تو وہ اس متن کا یا تو محرک ہوتا ہے یا پھر اس متن پر ایک عمومی تبصرہ۔ منٹو نے اپنے افسانوں: کالی شلوار، دھواں، بو،ٹھندا گوشت،اوپر نیچے درمیان پر مقدمات کے جواب میں ان کے منشاے تخلیق کا جو ذکر کیا ہے ،وہ ان افسانوں کی محض تشریح ہے،جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ افسانے فحاشی کی نیت سے نہیں لکھے گئے۔ لہٰذا منشاے مصنف تک رسائی کادوسرا اور نسبتاً قابلِ اعتماد ذریعہ خود وہ متن ہے،لیکن جب ہم کسی متن کا مطالعہ ،اس زاویے سے کرتے ہیں توجو کچھ ہمارے ہاتھ لگتا ہے،وہ اس متن کا موضوع، ہیئت، ،اسلوب اور تیکنیک ہے۔اس صورت میں مصنف کی نیت کو ،فن پارے کے جملہ عناصر کو یک جا کرنے والی قوت ہی قرار دیا جا سکتاہے۔جیسا کہ یولی سس کے سلسلے میں وولسی نے کیا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہمیں کسی فن پارے کی اس تہ نشین ساخت ہی کو گرفت میں لینا ہے جس نے اس فن پارے کے تمام اجزا کو یک جا کیا اور فن پارے کے مجموعی نظام میں ہر ایک کامقام اور کردارمتعین کیا ہے تو اسے مصنف کی نیت کا نام دینا کہاں مناسب ہے؟لہٰذ ا یہ بات تو واضح ہے کہ فحاشی کے سوال کا محور کسی فن پارے کی تہ نشین ساخت ہی ہے ۔آج تک جتنے بھی فن پاروں پر فحاشی کے الزامات لگائے گئے،وہ ان کے بعض حصوں پر تھے اور ان حصوں کو فن پارے کے کلی نظام سے کاٹ کر دیکھا گیا تھا۔
فن پارے کے اثر کی نسبت سے فحاشی کاسوال کہیں زیادہ ٹیڑھا ہے اور اس میں موضوعی تعبیروں کی کہیں بڑھ کر گنجائش ہے۔
اثر سے بڑھ کر کوئی چیز موضوعی نہیں۔اثر ،سادہ مفہوم میں وہ احساساتی کیفیت ہے جو خارج اور داخل کے نقطہ ء اتصال پر پیدا ہوتی ہے ۔زیرِ بحث موضوع کے حوالے سے دیکھیں تو اثرسے مراد احساس اور عمل کی تحریک دینے والاخیال ہے جو ادب پارے اور اس کی قرأت کے تال میل سے پیدا ہوتے ہیں۔اب ظاہر ہے کوئی قرأت خالی الذہن نہیں ہوتی ۔ ہرقرأت میں قاری کاداخلی و شخصی تناظرنہ صرف پوری قوت سے موجود ہوتا ہے بلکہ قرأت پر شدت سے اثر انداز بھی ہوتا ہے۔یہ کہنا تومشکل ہے کہ ہر قاری کے پاس ایک الگ شخصی تناظر ہے اور ہر ادب پارے کے اتنے ہی معانی اور اثرات ہیں جتنے اس کے قارئین ہیں۔فطرت ابھی اتنی فیاض نہیں ہوئی کہ وہ ہر آدمی کو دیکھنے اور سمجھنے کا ایک قطعی منفرد زاویہء نگاہ عطا کردیا کرے۔ دوسری طرف ہر شخص اس وسعتِ مطالعہ اور غور و تدبر کا عادی نہیں ہوتا ،جو ایک منفرد تناظر کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔اصل یہ ہے کہ’ شخصی تناظرات‘ کے مختلف گروہ ہوتے ہیں اور جنھیں قارئین ان سماجی طبقات سے لاشعوری طور پر جذب کرتے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی سماجی شناختیں قائم کرتے ہیں۔لہٰذا ایک سماج میں ادب و فن کی قرأت کے اتنے ہی ’’شخصی تناظرات‘‘ ہیں،جتنے اس سماج میں طبقات(معاشی،فکری، آئیڈیالوجیکل،نسلی،لسانی) ہیں۔اس وضاحت کی روشنی میں ہمیں اس سوال کا جواب مل سکتا ہے کہ آخر ایک ہی ادب پارہ ،ایک طبقے کے لیے جمالیاتی فضیلت کا حامل ہے اور دوسرے طبقے کے لیے،وہ اخلاقی طور پر اسفل ہے۔منٹو کے افسانہ’ ٹھنڈا گوشت ‘پر ۱۹۵۰ء فحاشی کے مقدمے میں گواہوں کے بیانات سے یہی حقیقت پوری طرح واضح ہوتی ہے۔کچھ نقادوں کے لیے ا س افسانے میں جنسی ترغیب تو دور کی بات ،اس کا اثر افسردگی اور پژمردگی کاہے ،جب کہ بعض کے لیے اس سے زیادہ گندہ مضمون کوئی اور نہیں۔سید عابد علی عابد نے اس افسانے کے بارے میں کہا تھا کہ ’’ یہ افسانہ میرے سب بچوں اور بچیوں نے پڑھا ہے….خاص آدمیوں سے جو کہ ادیب ہیں،ا س افسانے کے بارے میں میرا تبادلہ خیالات ہوا۔سب نے اس کو بہت سراہا۔‘‘ڈاکٹر سعیداللہ نے کہا کہ ’’ٹھنڈا گوشت پڑھنے کے بعد میں خود ٹھندا گوشت بن گیاہوں۔پژمردگی اور افسردگی،یہ تھا اس کا اثر۔یہ افسانہ شہوانی ہیجان ہر گز پیدا نہیں کرتا۔‘‘ صوفی غلام مصطفی تبسم کی رائے تھی کہ ’’ کوئی افسانہ یا ادب پارہ فحش نہیں ہو سکتا۔‘‘ جب کہ علامہ تاجور نجیب آبادی نے کہا کہ ’’ ٹھنڈا گوشت کسی مسجد یا کسی مجلس میں جماعتی حیثیت میں سننا پسند نہیں کیا جاسکتا۔اگر کوئی پڑھے تو اپنا سر سلامت لے کے نہ جاسکے۔چالیس سالہ ادبی زندگی میں ایسا ذلیل اور گندہ مضمون میری نظر سے نہیں گزرا۔‘‘ ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر کے مطابق ’’ میرے خیال میں جن لوگوں کا میلان بدکاری کی طرف ہے ،ان کے لیے اس مضمون میں جنسی ترغیب موجود ہے ۔جس شخص کی طبع میں میلان بد کاری نہ ہو ،ا سے اس مضمون سے جنسی کراہت ہوگی،جنسی ترغیب نہیں ہوگی۔ٹھنڈا گوشت کا مطلب مردہ لڑکی ہے ۔میں اس کہانی کو ایک عام جنسی کہانی سمجھتا ہوں۔یہ جنسی اخلاق خراب نہیں کرتی۔‘‘ یہ آرا ،جتنے منہ اتنی باتوں کے مصداق ہر گز نہیں۔اصلاً یہ دو ہی قسم کی آرا ہیں اور دو تناظرات کی زائیدہ ہیں جو باہم متصادم سمجھے گئے ہیں: ادبی اور اخلاقی۔لہٰذا اثر کے حوالے سے فحاشی کا سوال ہمیں خود بہ خود قرأت کے تناظر اور پھر سماجی شناختوں تک لے جاتا ہے۔
۱۹۹۷ء میں ارون دھتی رائے کے ناول ’گاڈ آف سمال تھنگس‘ پر کیرالہ کی عدالت میں سبو تھامس ایڈووکیٹ نے فحاشی کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ناول کے بنیادی تھیم کو نظر انداز کرتے ہوئے ،ایک خاص حصے کو فحش قرار دیا گیا ۔یہ حصّہ’ اینگلو انڈین‘ عیسائی خاندان کی امّو کوچما اور اچھوت ویلوتھا کی پرجوش محبت کے ’عریاں مناظر‘ پر مشتمل ہے۔استغاثے نے فقط’ اورل سیکس ‘پر مبنی عریاں مناظرکے مخربِ اخلاق ہونے پر اعتراض نہیں کیا ،(اور ناول کے اس حصے پر بھی انگلی نہیں رکھی جس میں ایک ننھے بچے سے جلق لگوانے کا وقوعہ بیان ہوا ہے جو انتہائی کرب ناک ہے)بلکہ یہ شکایت بھی کی کہ کیرالہ کی شامی عیسائی کمیونٹی (جس کا وہ خود ایک فرد ہے )کی دلآزاری بھی ہوئی ہے۔ایک اعلیٰ طبقے کی عورت کا ایک دلت سے معاشقہ، ان کی کمیونٹی کی توہین ہے۔وہ ایک ’‘ فحش منظر‘‘ کی قرأت اپنی سماجی شناخت کے تناظر سے ہٹ کر نہیں کر سکا۔دوسرے لفظوں میں جسے جنسی ترغیب کا نام دیا جاتا ہے ،وہ محض عورت اور مرد کے جسمانی تعلق سے متعلق نہیں ہوتی،بلکہ ان کی طبقاتی شناختوں کو متاثر کرنے کا میلان بھی رکھتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سبو تھامس اور علامہ تاجور کے اعتراضات میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔ایک کو اپنی اعلیٰ طبقاتی شناخت خطرے میں محسوس ہوئی اور دوسرے کو اپنی اعلیٰ مذہبی و اخلاقی شناخت پر زد پڑتی محسوس ہوئی۔ دونوں کی مذمت میں شدت ہے اوردونوں کے نزدیک ادب میں جنس کا ذکرخواہ کسی پیرائے میں ہو اور خواہ لازمی فنی ضرورت کے تحت ہو، وہ جنس کی ترغیب کے مساوی ہوتا ہے۔
اس سلسلے کی آخری بات !فحاشی کے مسئلے کے ساتھ اس گہرے نفسیاتی خوف کا لرزہ ہمیں بار بار محسوس ہوتا ہے جو قدیم زمانے سے جنس کا پیدا کردہ ہے۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

You may also like

1 comment

Leave a Comment