کیاکسی نظریے کوموت جیسے الفاظ دیے جا سکتے ہیں؟ – پروفیسر ناصر عباس نیر

by adbimiras
0 comment

اردو کے بعض نقادوں کی رائے ہے کہ مغرب میں تھیوری کا خاتمہ ہوگیا ہے،اور اردو میں تھیوری کی بحثیں بے وقت کی راگنی ہیں۔وہ اپنی رائے کے حق میں اور باتوں کے علاوہ ٹیری ایگلٹن کی ۲۰۰۳ء میں شایع ہونے والی کتاب تھیوری کے بعد (After Theory) کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔اکثر نے کتاب کے نام سے یہ اندازہ لگایا کہ اس میں ’بعد‘ کے لفظ کا مطلب خاتمہ اور موت ہے۔ کچھ نے تو اپنی تحریروں میں کتاب کا نام ہی تھیوری کی موت لکھا۔ تھیوری ہو یا کوئی اور نظریہ یا نظریات کا مجموعہ اس نے ایک دن تاریخ کا حصہ بننا ہوتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ تاریخ کا حصۃ بننے کا مطلب کیا ہے؟

تاریخ کا حصہ بننے کا مطلب اس کی موت نہیں ،بلکہ ایک ایسے ’مقام ‘ پر محفوظ ہونا ہے ،جہاں چیزیں ہستی کی ایک بنیادی حقیقت کا تجربہ کرتی ہیں: عارضی پن اور دوامیت ،اور ان دونوں سے تشکیل پانے والے تناقض کا۔ تاریخ میں محفوظ ہونے والی چیزیں بہ یک وقت باقی اور فالتو یعنی Redundantحالت میں ’موجود‘ ہوتی ہیں۔تاہم باقی اور فالتو ہونے کا تناسب ہر شے، نظریے ،علم ، کتاب وغیرہ کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ جیسے غالب کے سلسلے میں باقی کا عنصر زیادہ اور فالتو کا کم ہے ،جب کہ ذوق کے ضمن میں باقی کا عنصر معمولی اور فالتو کا عنصر زائد ہے۔ یہی رائے ہم آج فرائیڈی نفسیاتی تنقید اور کلاسیکی اشتراکی تنقید کے بارے میں دے سکتے ہیں،جن میں فالتو کا عنصر زیادہ اور باقی کا عنصر معمولی ہے۔

تھیوری ابھی تاریخ کا حصۃ نہیں بنی، لیکن یہ طے ہے کہ ایک دن بنے گی۔کب ؟ اس کا جواب ہم میں سے کسی کے پاس نہیں۔لیکن یہ ہم جانتے ہیں کہ کیسے بنے گی؟ جب ان تمام تعقلات کے متبادل پیش ہوں گے، جہاں سے تھیوری کا اکھوا پھوٹا ہے۔یعنی جب اس نظریے کا متبادل پیش ہوگا کہ حقیقت کا تصور کرنے ، اسے تشکیل دینے ،اس معرض اظہار لانے میں زبان کا کوئی کردار ہوتا ہے نہ زبان میں موجود کلامیوں اور بیانیوں کا۔ (یہ بھی پڑھیں ادب میں فحاشی کا مسئلہ -پروفیسر ناصر عباس نیر)

یہ سوال بہت کم اٹھایا گیا ہے کہ آیا کسی نظریے یا شعبہ علم کے لیے موت اور خاتمے جیسے الفاظ استعمال کیے جاسکتے ہیں؟ خود موت کا مفہوم ہر جگہ مکمل خاتمے کا نہیں۔ میر کا مشہور شعر ہے : مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے؍یعنی آگے چلیں گے دم لے کر؛گویا موت زندگی کے ایک سفر کا پڑا ؤ ہے، اس سفر کا خاتمہ نہیں۔یا اقبال کا یہ کہنا کہ :فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا؍ترے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے۔گویا وجود کا مرکز ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ البتہ مادیت پسند فکر موت کو مکمل خاتمہ سمجھتی ہے،جسم اور شعور دونوں کا۔موت سے خوف کا بڑا باعث اپنے شعور یا انا کے مکمل خاتمے کا یقین ہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نظریات کے سلسلے میں موت کا لفظ غیر موزوں ہے،اس لیے کہ ان کا مکمل خاتمہ کبھی نہیں ہوتا۔تمام نظریات تاریخ میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔تاریخ وجود میں آئی ہی اس لیے ہے کہ وہ انسانی شعور کی ہر طرح کی پیداوار کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کرے ۔تاریخ کو کمزور اور خطا پذ یر انسانی حافظے کا نتیجہ اور متبادل بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ بہ ہر کیف نظریات کے سلسلے میں موزوں و غیر موزوں ، متعلق و غیر متعلق، مفید و غیر مفید ،جواز و عدم جواز کے حامل، اہم یا غیر اہم ، قدیم و جدید جیسے الفاظ ہی مناسب ہیں۔ واضح رہے کہ یہ الفاظ بھی مطلق مفہوم میں استعمال نہیں کیے جاسکتے۔ یعنی کوئی نظریہ ایک وقت میں غیر موزوں سمجھا جاسکتا ہے ،لیکن کسی دوسرے وقت وہ مفید اور اہم بھی خیال کیا جاسکتاہے۔ یا صورتِ حال اس کے برعکس بھی ہوسکتی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں بودھی اور سنسکرت کے تنقیدی نظریات کو اردو میں اہمیت ملنا شروع ہوئی ہے جو ایک سے دوہزار برس پرانے ہیں۔

گزشتہ سطور میں ذکر ہوا کہ تاریخ میں چیزیں بہ یک وقت باقی اور’ فالتو حالت‘ میں موجود ہوتی ہیں، جس کا ٹھیک ٹھیک مطلب ہی یہ ہے کہ وہ مخصوص تاریخی صورت حال میں غیر مفید یا غیر متعلق ہیں،مگر کسی دوسری صورت حال میں وہ مفید اور متعلق ہو سکتی ہیں۔اسی بات میں اس سوال کا جواب بھی موجود ہے کہ ہر سماج میں نظریات کی قبولیت و عدم قبولیت اور ان پر بحث مباحثے کا وقت مختلف ہوسکتا ہے۔ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ خود سماج کبھی ایک وحدانی یا Monolithicنہیں ہوتا؛ایک سماج میں کئی طبقے اور طبقہ ہاے فکر ہوتے ہیں جو الگ الگ انداز میں سماج کے لیے ضروری و غیر ضروری نظریوں کی بحثیں اٹھا رہے ہوتے ہیں۔

نظریات کے سلسلے میں ایک اور بات بھی توجہ طلب ہے کہ دوسرے نظریات پر اثرا نداز ہونے کی ان کی صلاحیت ختم نہیں ہوتی،اور اس صلاحیت کا اظہار کئی طریقوں سے ہوتا ہے۔ ایک حد تک نظریات کے لیے زنجیر کا استعارہ مناسب ہے۔ افلاطون کو ارسطو نے رد کیا،ارسطو کے فلسفے پر ابن رشد نے اضافے کیے،ابن رشد کا اثر پورے یورپ پر پڑا اور فرانس میں فلسفیوں کا ابن رشدی گروہ وجود میں آیا۔ یہودی فلاسفہ میں موسیٰ نیربونی اور ابراہم ابن عذرا کے فلسفے پر ابن رشد کے اثرات مرتب ہوئے۔ اگلی صد یوں میں دیکھیں تو ہیگل کو کارل مارکس نے نئے سرے سے پڑھا۔ بیسویں صدی میں فرائیڈ کو ژاک لاکان نے از سر نو دریافت کیا۔ ایڈورڈ سعید نے گرامشی ،فوکو اور رے منڈ ولیمز کے نظریات کو شرق شناسی کے نظریے میں کھپایا۔ اردو میں محمد حسن عسکری نے یورپی نومسلم رینے گنوں کے نقد مغرب سے تشکیل پانے والے نظریات سے روایت کا تصور تشکیل دیا،اور وزیر آغا نے قدیم چینی ین اور یانگ کی ثنویت کو دو تہذیبوں کی آمیز ش و آویز ش کی تفہیم میں استعمال کیا ،اور پھر اس کی روشنی میں اردو شاعری کی شعریات (مزاج ) کو سمجھا۔شمس الرحمٰن فاروقی نے کلاسیکی غزل کی شعریات کا تصور ساختیات کی شعریات کے تصور کی مدد سے وضع کیا ہے۔ واضح رہے کہ انھوں نے کلاسیکی شعریا ت کو کلاسیکی مشرقی تنقید کی مدد سے واضح نہیں کیا ۔اسی طرح انھوں نے داستان کی شعریات کو بیانیات ( بذریعہ فرانسیسی ژرار ژینث ) کی روشنی میں واضح کیا ہے۔

اس کے علاوہ بھی نظریات ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ایک دوسرے میں جذب ہوکر، متصادم ہوکر، ایک دوسرے کو تحریک وتشویق دے کر۔ موجودہ زمانے میں بین العلومی مطالعات اس کی ایک اہم مثال ہیں۔لہٰذا نظریات کا سنجیدہ اور تنقیدی مطالعہ،خواہ وہ نظڑیات ہمارے لیے بہ ظاہر کتنے ہی غیر متعلق نظر آئیں، کبھی غیر مفید یا مضر نہیں ہوتا۔ دوسری طرف نظریات و علوم کا سرسری اور غیر تنقید ی مطالعہ۔، خواہ وہ بادی النظر میں ہمارے لیے کتنے ہی مفید ہوں، بالآخر مضر ثابت ہوتا ہے

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment