شاہ ولی اللہؒ کا رسالہ ’’غایۃ الانصاف ‘‘ تالیف ، تاریخ اور تکمیل : پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی

by adbimiras
0 comment

اسلامی فقہ کے ارتقا ، مختلف مسالک کی تشکیل، فقہی اختلافات کی تحلیل اور اہلِ ایمان کو ایک نقطۂ اتحاد پر جمع کرنے کی کوشش پر مبنی شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ (ولادت ۴؍شوال ۱۱۱۴ھ؍۲۱؍فروری۱۷۰۳ء بروز بدھ ، قصبہ پھلت ، ضلع مظفر نگر یوپی۔ وفات ۲۹؍محرم ۱۱۷۶ھ؍۲۰ ؍اگست ۱۷۶۲ء بروز جمعہ دہلی ) کی یہ معرکہ آرا، نادر اور بے مثل کتاب ہے ۔ اب تک اس کی کئی طباعتیں منظر عام پر آچکی ہیں اور کم ازکم اردو میں اس کے کئی ترجمے بھی شائع ہوچکے ہیں۔

اس کی طباعتوں میں غالباً اولین طباعت مطبع صدیقی بریلی کی ہے جو ۱۳۰۷ھ ؍ ۱۸۹۰ء میں اہلِ علم کے سامنے آئی ۔ دوسری مطبع مجتبائی دہلی نے ایک سال بعد ۱۳۰۸ھ؍ ۱۸۹۱ء میں پیش کی ۔ اس کتاب کو غیرممالک میں بھی مقبولیت حاصل ہوئی ۔ چناںچہ  محی الدین خطیب نے ۱۹۶۰ء میں قاہرہ سے ، رشید احمد جالندھر ی نے ۱۹۷۱ء میں لاہور (پاکستان )سے اور عبدالفتاح ابو غدہ نے ۱۳۹۷ھ ؍۱۹۷۷ء میں بیروت سے مختصر حواشی و تعلیقات کے ساتھ شائع کیا۔ اردو تراجم میں محمد عبداللہ بلیاوی کا ترجمہ بعنوان ’’کشاف‘‘ ۱۸۸۶ء میں لکھنو سے شائع ہوا۔ دوسرا ترجمہ محمد عبدالشکور فاروقی کا ہے جو ’’وصاف‘‘  کے نام سے لکھنؤ سے ۱۹۱۰ء میں چھپا۔ تیسرا ترجمہ وتلخیص صدرالدین اصلاحی کے قلم سے ہے جو مرکزی مکتبہ دہلی نے ۱۹۷۳ء میں ’’اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ‘‘کے عنوان سے شائع کیا۔ اس سے قبل اس کا اولین ایڈیشن اسی ادارے کے تحت اسی عنوان سے ۱۹۵۲ء میں رامپورسے چھپا تھا۔

اس کتاب کے کم از کم پندرہ مخطوطات کا اب تک پتا چل چکا ہے ۔ امکان ہے کہ مزید خطی نسخے دوسرے کتاب خانوں میں موجود ہوں گے ۔ معلوم خطی نسخوں میں چھ خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ میں ہیں۔ پانچ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے کتب خانہ شبلی نعمانی میں محفوظ ہیں ۔ اور ایک ایک جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی ، شاہ ابو الخیر ؒ اکیڈمی دہلی ، مسلم یونیور سٹی علی گڑھ کے کتاب خانہ مولانا آزاد اور کلکتہ کے کتاب خانے (؟)میں موجود ہیں۔۱؎

یہ نہیں پتا چلتا کہ مذکورہ کتاب کی مندرجہ بالا طباعتیں کس کس خطی نسخے پر مبنی ہیں ؟ یہ طے ہے کہ وہ سب معلوم ودستیاب مخطوطات پر مشتمل نہیں ہیں۔ ایک طباعت نے دوسری طباعت کی راہ ہموار کی ہے اور محققین اور ناشرین نے مختلف مخطوطات کو جمع کر کے ان سے متون کا مقابلہ و مقارنہ کرکے صحیح اور معیاری متن کو مرتب اور طبع کرنے کی کوشش نہیں کی ہے ۔ کم از کم یہ بات اب تک معلوم و دستیاب طباعتِ آخریں کی حد تک ضرور صحیح ہے ۔ کیوں کہ ناشر گرامی ’’احمد راتب عرموش‘‘ نے وضاحت و ایمان داری سے اعتراف کیا ہے کہ اختلافِ نصوص کو دورکر نے کے لیے انھیں کوئی ایسا ’’مخطوطہ‘‘ نہیں مل سکا جو غرض پوری کرتا۔ ۲؎

متن کے اختلافات دوٗر کرنے اور صحیح متن کو معیاری انداز سے پیش کرنے کی بات تو دوٗر رہی، اس اہم تصنیف کا صحیح عنوان بھی نہیں رکھا جاسکا ۔ یہ ممکن ہے کہ اولین طباعت جس مخطوطہ پر مبنی ہواس میں اس کا نام’’الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف‘‘ ہی لکھا رہا ہو، جیسا کہ قرائن سے معلوم ہوتا ہے۔ جن مخطوطات کو حاصل کیا جا چکا ہے ان میں یہی عنوانِ کتاب ملتا ہے ۔ یہ پتا لگانا مشکل ہے کہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے جب اس کتاب کو ایک آزاد اور مستقل کتاب کی حیثیت سے مرتب فرمایاتو اس کا یہی عنوان رکھا تھا یا دوسرا جس کا حوالہ ان کی معروف تصنیف حجۃ اللہ البالغہ میں ملتا ہے ۔ شاہ صاحب یا ان کے معاصر کا تب کی ایسی کوئی تحریر ابھی تک نہیں مل سکی جو اس قضیہ کا فیصلہ کر سکے ۔

شاید یہی وجہ ہے کہ کتاب کی اولین طباعت میں جب اس کا عنوان ’’الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف‘‘ لکھا گیا تو بعد کی طباعتوں میں بھی سکۂ رائج الوقت کی مانند چل پڑا۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے البتہ اس کااصل نام کم ازکم تالیف کے اولین مرحلہ میں ’’غایۃ الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف ‘‘ رکھا تھا۔ اس عنوان کی صراحت انھوں نے اپنے قلم سے اپنی شاہ کار کتاب’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں کی ہے ۳؎

تمام دوسرے مخطوطات سے موازنہ کا معاملہ سرِ دست مشکل ہے کہ وہ ہمیں دستیاب نہیں ہیں، لیکن زبان ، بیان ، آہنگ اور مضاف ومضاف الیہ کی متوازن نسبت کی بنا پریہ واضح ہوتا ہے کہ حجۃ اللہ البالغہ میں ،جس کی حیثیت اس کتاب کے لیے مادر تصنیف کی ہے ،مذکورہ عنوانِ کتاب ہی زیادہ صحیح اور بہتر ہے ۔ مزید وضاحت اگر چہ مبتدیانہ وطالب علمانہ تحقیق کو رسوا کرنے کے مترادف ہے، لیکن بات واضح کرنے کی غرض سے ضروری معلوم ہوتی ہے ۔ عنوانِ کتاب کا آخری جزو ’’اسباب الاختلاف‘‘ مضاف ومضاف الیہ پر مبنی ہونے کے سبب تقاضا کرتا ہے کہ اولین جزو بھی مضاف و مضاف الیہ پر مبنی ہو،لہٰذا ’’غایۃ الانصاف ‘‘ بہتر اضافت ہے اور اسی کے ساتھ وہ دونوں اجزاء کے آہنگ کے پلّوں کو برابر کر دیتا ہے ۔ اور اسی کے ساتھ ان دونوں اجزاء ِ اصلیہ کے درمیان واقع ’’فی بیان‘‘ کا رابطہ کا جزو بھی پورے آہنگ میں آجاتا ہے ۔ اس تحقیقی موشگافی اور طالب علمانہ جزو نگاری کے پیچھے در اصل قرونِ وسطی کے مولفین کرام کا دلچسپ ، مسجّع و مقفیٰ اور موسیقی آمیز عناوینِ کتاب رکھنے کی قدیم و دل آویز روایت کا پشتہ لگاہوا ہے ۔ سیدھے سادے ایک لفظی یا دو لفظی عناوین یا تو مضاف ومضاف الیہ یا صفت و موصوف پر مشتمل ہوتے تھے، یا پھر اسی طرح تین اجزاء پر ۔ لہٰذا شاہ ولی اللہ دہلوی کی اس کتاب کا صحیح ، بہتر اور اصل عنوان’’غایۃ الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف‘‘ ہی معلو م ہوتا ہے ۔ کم از کم شاہ صاحب کی ’’مادرِ تصنیف ‘‘یہی کہتی ہے۔ سوائے اس کے کہ بعد میں مؤلف گرامی نے کسی وجہ سے ’’غایۃ‘‘ کو نظر انداز کر دیا ہو، جو بظاہر مستند نہیں لگتا ۔

شاہ ولی اللہ کی ’’مادرِ تصنیف ‘‘ کا ذکر اوپر باربار ہوا اور بالقصد و بالارادہ ہوا۔ اس کے پیچھے ایک خیال، ایک نظریہ او ر ایک زاویہ مستور ہے ۔ وہ بالعموم فکری مؤلفین یا طبع زار محققین کا طرّۂ امتیاز ہے ۔ فکرو نظر کی دنیا میں بالعموم یہ دیکھا گیا ہے کہ جو مفکر ین و محققین کسی ایک خاص فکر و تحقیق کو اپنے دماغ و قلب میں استوار و راسخ کر لیتے ہیں وہ ’’بنیادی فکرو نظر‘‘ ان کی تمام تالیفات وافکار میں ’’خون دل‘‘ کی مانند گردش کرتی رہتی ہے ، خواہ ان کے موضوعات بظاہر کتنے ہی مختلف ومتنوع ہوں۔ اسی بنیادی فکر کا اظہار جب کسی ’’بڑی کتاب ‘‘ میں ہوتا ہے تو وہ اس مصنف مؤلف کی علمیت و فکر کی ترجمان بن جاتی ہے ، ضخامت وعظمت کے علاوہ وہ متنوع ،مگر باہم دگر متحد موضوعات و مضامین پر مشتمل ہو تی ہے ۔ کبھی کبھی وہ بنیادی ، ترجمانِ فکر اور جامع حیثیات کتاب مختلف چھوٹے بڑے رسالوں اور کتابوں پر حاوی ہوتی ہے ، یا بعض اوقات اس کے ذیلی اور ضمنی مباحث پھیل کر مستقل بالذات مختلف تصانیف کا روپ دھار لیتے ہیں اور ’’کتاب عظیم‘‘ کے بعد ظہور کرتے ہیں ۔ فکرو تحقیق کی دنیا میں یہ ایک مسلّمہ قاعدہ اور پختہ حقیقت ہے کہ صاحبِ فکر و جستجو اور اہلِ نظر و آبرو مؤلفین و محققین کی بنیادی کتاب و تصنیف سے متعدد دوسری کتابیں برآمد ہوتی ہیں۔

’’حجۃ اللہ البالغہ ‘‘شاہ ولی اللہ دہلوی کی ایسی ہی ’’مادر تصنیف‘‘ ہے جس میں متعدد کتابوں کے مباحث سموئے ہی نہیں گئے ہیں، اس نے متعدد تصانیف و رسائل کو بھی جنم دیا ہے ۔ حجۃ اللہ البالغہ میں قرآن، تفسیر، علومِ قرآنی، حدیث و تشریحِ حدیث، فقہ، اصول و تعبیر فقہ، تصوف، افکارو مسائلِ تصوف، سماجی و معاشی امور و مباحث اور بعض دوسرے مضامین پر مشتمل مباحث نے بعد میں مستقل رسالوں اور کتابوں کی صورت اختیار کر لی۔ ان کی بنیادی فکر اور اصولی بحث تو ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں موجود تھی، مگر اس کی تفصیلات و جزئیات بعد کی تصانیف میں جلوہ گر ہوئیں ۔ دوسری کتابوں اور رسالوں پر بحث سے قطع نظر کہ وہ سر دست ہمارے موجودہ مطالعہ کے دائرہ عمل سے باہر ہے ’’غایۃ الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف‘‘ کے حوالے سے ’’حجت ‘‘ کی مادریت ، ماخذ ومنبع ہونے کی بحث پیش کی جارہی ہے ۔

’’غایۃ الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف‘‘  ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے بطنِ متن میں موجود و محفوظ ہے اور اس سے بعد میں نکلی ہے ۔ بعض اختلافات ِ فکر و مباحث اور جزئیات کی کمی بیشی کے ساتھ وہ تمام مطبوعہ نسخوں میں پائی جاتی ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب حجۃ کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے اور قسم اول کے سات مباحث کو ستّر ابواب پر مشتمل بتایا ہے ۔۴؎

اس قسم کے بنیادی مباحث کے ستّرابواب کے خاتمہ پر ایک’’ تتمہ ‘‘بھی موجود ہے،جو بقول مرتبِ گرامی چار ابواب پر مشتمل ہے ۔ مرتب گرامی نے حاشیہ میں اس وضاحت کے علاوہ یہ بھی لکھا ہے کہ یہ تتمہ مشتمل بر ابواب ِ اربعہ تا آغاز قسمِ دوم صرف ایک نسخہ میں ملا ہے اور انھوں نے نسخہ مذکورہ کے مطابق متن میں اس تتمہ کو باقی رکھا ہے، کیوں کہ اس کا مضمون کتاب کے مناسب ہے اور اس کے آخر میں مصنف کا کلام بھی یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ اصل کتاب میں باقی و ملحق رکھا جائے ۔ مرتب گرامی نے ایک مشہورِعوام بات یہ لکھ دی ہے کہ مصنف ؒ کو اس کتاب پر نظر ثانی کا موقع نہیں ملا تھا۔ اس کی وجہ نہیں لکھی ۔ ۵؎

متنِ حجۃ اللہ البالغہ پر مشتمل تینوں دستیاب طباعتیں ایک ہی کہانی سناتی ہیں کہ وہ ایک ہی کہانی کا ر کے قصہ پر مبنی ہیں۔ بقیہ بحث سے قطعِ نظر ، مرتب اول کا آخری تبصرہ کہ کتاب ’’حجۃ‘‘ پر شاہ ولی اللہ دہلوی کو نظرِ ثانی کا موقع نہیں ملا تھا، صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ حجۃ اللہ البالغہ شاہ صاحب کی اولین عظیم ترین تصنیف ہے جو حرمین شریفین سے واپسی کے فورا ً بعد انھوں نے ۱۱۴۲ھ؍۱۷۳۲ء میں لکھنی شروع کی اور تین سال کی مشقت کے بعد ۱۱۴۵ھ؍۱۷۳۵ء میں مکمل کرلی۔ شاہ صاحب اس کی تصنیف و تکمیل کے بعد کم و بیش ستائیس سال زندہ رہے اوراس کتاب کو سبقاً سبقاً پڑھاتے رہے ۔ لہذا نظرِ ثانی نہ کر سکنے کی بات بداہتاً غلط ہے ۔( یہ بھی پڑھیں اسرار جامعی: زندگی، موت سے بھی تلخ ملی – مالک اشتر )

حجۃ اللہ البالغہ کے مرتب اول کا یہ تبصرہ البتہ صحیح ہے کہ’’ تتمہ ‘‘ اصل کتاب کا مضمون، بالخصوص اس کے آخری مباحث یا مبحث سے پوری طرح لگا کھاتا ہے ۔ اس لیے وہ کتابِ جامع کے ایک نسخہ ہی میں سہی ،باقی و قائم رکھا گیا ہے ۔یہ ناسخ یا کاتب کا کارنامہ نہیں، بلکہ حضرت مؤلف گرامی کا فیصلہ معلوم ہوتا ہے ۔ تتمہ کے خاتمہ پر جو عبارت ہے اس میں یہ صراحت پائی جاتی ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں:’’اس مقام پر ہم نے کلام کو غایت درجہ طول دیا ہے،یہاں تک کہ ہم اس فن (کے دائرے) سے باہر چلے گئے جس میں ہم نے اس کتاب کو مرتب کیا ہے ۔ ہم نے ایسا بلا وجہ اور بلا سبب نہیں کیا ہے ۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں کسی وقت ایک میزان قائم کردی ہے جس کے ذریعہ ملتِ محمدیہ علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام میں واقع ہونے والے ہر اختلا ف کو میں جان لیتا ہوں۔ اور یہ بھی جان لیتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول (اکرم ﷺ) کے نزدیک کیا چیز حق ہے ۔ اس نے مجھے یہ قوت بھی بخشی ہے کہ اسے عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعہ اس طرح ثابت کروں کہ اس میں کوئی شبہ باقی رہے نہ کوئی اشکال ۔ لہٰذا میں نے ایک کتاب کی تالیف کا فیصلہ کر لیا جس کا نام ’’غایۃ الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف‘‘ رکھوں گا اور جس میں ان مطالب (مضامین) کا بیانِ شافی پیش اور واضح کروں گا ۔ اور اس میں شواہد ، امثال اور تفریعات (جزئیات) کا ذکر زیادہ کروں گا اور اس کے ساتھ ہر مقام پر افرط و تفریط کے درمیان اعتدال بھی قائم رکھوں گا اور کلام (وبحث) کے تمام اطراف (جوانب) اور مقصود ومرام کے تمام اصول کا احاطہ بھی کروں گا ۔ ابھی تک میں اس کے لیے فراغت نہیں پاسکا ۔  اگر چہ اختلاف کے سر چشمہ تک مباحثہ کو نہیں پہنچا سکا، تاہم اس نے مجھے یہ مہمیز ضرور دی کہ جو کچھ میسر ہو سکا اسی کو یہاں واضح اور بیان کرودں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاصرین کو ہمارے بیان کردہ مباحث سے جو شغف ہے اور ان میں جو اختلا ف اور ہمہ گیری پائی جاتی ہے اس کی بنا پر یہ مختصر بحث لکھ دی،کیوں کہ وہ اپنے اختلاف و جدال میں اس حد تک پہنچ گئے کہ وہ آیات اللہ میں ،جو ان پر تلاوت کی جاتی ہیں، ظلم و زیادتی کی کگار پر پہنچ گئے ہیں۔ ۶؎

حجۃ اللہ البالغہ کی قسم اول کے تتمہ کا مباحث میں اور بعد کے مرتبہ وشائع کردہ ’’غایۃ الانصاف‘‘ کے متن میں کیا کیا فرق اور کیسے کیسے اختلاف ہیں ان سے بحث کرنے سے قبل ایک اور متعلقہ مسئلہ سے بحث کرنے کی ضرورت ہے ۔ او روہ ہے ’’غایۃ الانصاف ‘‘ کے سنۂ تالیف کا مسئلہ ۔ اس پر زیادہ بحث یادلا ئل و براہین کا انبار لگانے یا شواہد پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ صرف یہ تنقیح کرنی کافی ہے کہ ’’غایۃ الانصاف‘‘ کا بنیادی متن ’’حجۃا للہ البالغہ‘‘ کی تسوید کے وقت ، بلکہ اس کے قسم اول کی تسوید کے زمانے میں مرتب ہوگیا تھا ۔ کتاب حجہ کے سنہ تالیف کی تعیین میں یہ بحث دلائل و شواہد سے طے پاچکی ہے کہ ’’مادر تصنیف‘‘ شاہ صاحب کے سفر حرمین شریفین معاً بعد لکھی جانی شروع ہوئی یعنی ۱۱۴۲ھ؍ ۱۷۳۲ء کے اواخر/وسط میں اور ۱۱۴۵ھ ؍۱۷۳۵ء کے وسط سے قبل ہی اس کی تکمیل ہو گئی ۔

لہٰذا ’’غایۃ الانصاف ‘‘ کا بنیادی متن،جو ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کی قسم اول کے اواخر میں شامل ہے، اسی سہ سالہ مدت میں لکھا گیا تھا، بلکہ اس مدت کے بھی وسط میں ۔ کیوں کہ مؤلف گرامی نے اس کے بعد حجۃ اللہ البالغہ کی دوسری قسم کی تالیف شروع کی ۔  ظاہر ہے کہ اس کے آغاز و تکمیل میں کچھ مدت ضرور لگی تھی ۔ اگر دونوں قسموں کی مدت تسوید برابر مان لی جائے جو از روئے انصاف صحیح معلوم ہوتی ہے تو ’’غایۃ الانصاف‘‘ کے بنیادی اولین متن کی تالیف ۱۱۳۴ھ ؍۱۷۴۴ء کے وسط کے قریب رہی ہوگی ۔ کہاجاسکتا ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی کی اس کتاب (غایۃ الانصاف )کا اولین متن اوائل ۱۱۳۴ھ؍ ۱۷۴۴ء میں مرتب ہواتھا۔

اس تصنیف نے کب مکمل و آزاداور خود مختار کتاب کا روپ دھارا ؟ اس کا جواب زیادہ مشکل نہیں ۔ تمام بنیادی مباحث کے دونوں میں مشترک بلکہ زبان و بیان کے اعتبار سے یکساں ہونے کی حقیقت یہ بتاتی ہے کہ مؤلف علام نے مادر تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغہ ‘‘ کی تکمیل کے معاً بعد اسے بھی مکمل کرلیا تھا۔ ایک امکان بہر حال یہ بھی ہے کہ شاہ صاحب نے حجۃ اللہ البالغہ کی قسمِ دوم کی تکمیل سے قبل ، یا اس کے دوران اضافے شامل کر دیے ہوں،کیوں کہ ان کے مباحث کمیت و کیفیت دونوں لحاظ سے زیادہ محنت ، وقت یا تلاش و تفحص کے طالب نہیں ہیں۔ بہر حال ’’غایۃ الانصاف ‘‘ کا بطور مستقل کتاب ورسالہ مکمل ہونے کا زمانہ زیادہ سے زیادہ ۱۱۴۵ھ ؍۱۷۳۵ء کا اوئل ہی معلوم ہوتا ہے۔

’’غایۃ الانصاف ‘‘کے اولین متن کی تسوید وتبییض اور کامل رسالہ کی صورت میں اس کی اشاعت نیز اسی دوران مادر تصنیف’’ حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کی تالیف و تکمیل ہمیں ایک اور مسئلہ سے دوچار کرتی ہیں ۔ اور وہ ہے ایک وقت یا ایک زمانے میں ایک سے زیادہ رسالوں ، کتابوں اور تحریروں کی تالیف وتصنیف اور ان کی اشاعت ۔ ساری عمر ایک یا دو تحریریں لکھنے والوں یا عام قارئین کی سمجھ میں یہ بات نہ آئے کہ بیک زمان ایک سے زیادہ رسالے، مضامین یا کتابیں تصنیف کیے جاسکتے ہیں تو حیرانی کی بات نہیں ۔ لیکن اہلِ فکر اور صاحبانِ تحقیق اور مؤلفینِ تصانیف خوب جانتے ہیں کہ بسا اوقات ایک سے زیادہ تصانیف و مقالات زیر تسوید و تصنیف آتے ہیں اور ان کی تکمیل و اشاعت یکے بعد دیگرے، معمولی زمانی فرق کے ساتھ ہوتی ہے ۔ یہ صرف علم ِ عالم ہی کی بات نہیں عارف کے تجربہ کی صداقت بھی ہے ۔ بقول شاہ ولی اللہ یہ زیرِ بحث مقالہ کے دائرے سے نکلنے والی بات ہے اور اس کا مقام ایک دوسرا مقالہ ہے ، تاہم مقطع میں سخن گسترانہ بات آپڑی ہے تو مختصرا شاہ ولی اللہ دہلوی کی بعض دوسری تصانیف سے اس کا حوالہ دیا جارہا ہے ۔ کامل ومدلل بحث پھر کی جائے گی ۔

شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کی تصنیفی سر گرمی اور تالیفی کار کردگی کا سلسلہ ان کے سفرِ حرمین شریفین سے کچھ مدت یا کچھ برس قبل شروع ہوچکا تھا اور مقدس سفر سے واپسی کے بعد وہ تیز سے تیز تر اور وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا ۔ ’’فتح الرحمن ‘‘ کا مقدمہ بتاتا ہے کہ اس کا آغاز سفر سے قبل ہوچکا تھا ،مگر ا س کی تکمیل میں وقفے آتے رہے ۔ تاآنکہ وہ ۱۰؍ذی الحجہ ۱۱۵۰ھ ؍۳۱؍مارچ ۱۷۳۸ء کو مکمل ہوا ۔ گویا اس کی تکمیل ۱۱۴۰ھ ؍۱۷۳۰ء اور ۱۱۵۰ھ ؍۱۷۳۸ء کی دہائی میں ہوئی ۔ اس دوران مؤلفِ گرامی کی چھوٹی بڑی متعدد کتابیں اور رسالے وجود میں آئے ۔ ان میں ’’حجۃ اللہ البالغہ ‘‘جیسی ضخیم تالیف بھی شامل تھی اور’’ اربعون حدیثاً‘‘جیسا مختصر رسالہ بھی۔ ’’شرح تراجم ابواب صحیح البخاری‘‘ اور ’’فیوض الحرمین‘‘ جیسے متوسط حجم کے کارنامے بھی۔ پھر ’’غایۃ الانصاف‘‘ تو’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کی زائیدہ بھی ہے۔ ایسی ہی اور بعض تصانیف ہیں جو مباحث حجۃ اللہ البالغہ کی توسیعات و اضافات ہی ہیں ۔ یہ ایک اور طویل بحث ہے جو ایک اور مقالے کی طالب ہے۔

حجۃ اللہ البالغہ میں شامل ’’غایۃ الانصاف‘‘ کا اولین وبنیادی متن اور کامل رسالہ کی صورت میں اس کی تالیف واشاعت دونوں کی ضخامت وحجم اور ان کے فرق پر ایک نظر ڈال لینی مناسب معلوم ہوتی ہے ۔ ان دونوں کی مختلف طباعتوں میں دونوں کی ضخامت الگ الگ نظر آتی ہے ۔ وجہ ظاہر ہے کہ ان کی طباعتیں مختلف سائز کی ہیں۔ حجۃ اللہ البالغہ کی طباعت ِ مکتبہ رشیدیہ میں یہ اولین متن بائیس صفحات (ص۱۴۰کے نصف سے ص ۱۶۱کے آخر تک)میں پھیلاہوا ہے ۔ یہی ضخامت مکتبہ سلفیہ کی طباعت میں ملتی ہے کہ وہ مکتبہ رشیدیہ کی طباعت کا عکس ہے ۔ لیکن سید سابق کے مرتبہ نسخۂ حجۃ اللہ البالغہ میں ’’غایۃ الانصاف‘‘ کا اولین متن پینتالیس صفحات (ص۲۹۶ کے وسط سے ص ۳۴۱ کے وسط تک) پر محیط ہے ۔ اولین دونوں طباعتوں میں صفحے بڑے ، سطریں زیادہ اور عبارت قریب قریب ہے اور بالعموم ان میں پیراگراف درمیانِ عبارت میں بہت کم ہیں۔ جب کہ سید سابق صاحب کی طباعت میں تقطیع تو وہی ہے، مگر موادِ طباعت کم وسیع، سطریں کم تر ہیں اور اس سے زیادہ سطروں کے درمیان جگہ زیادہ ہے اور پیراگراف بھی زیادہ ہیں۔

اس کے بالمقابل ’’غایۃا لانصاف‘‘کا کامل رسالہ ضخیم تر معلوم ہوتا ہے کہ اضافات پر بھی مشتمل ہے ۔ سب سے ضخیم عبد الفتاح ابو غدہ کا مرتبہ رسالہ ہے جو مقدمۂ مؤلف سمیت کل سو صفحات (ص۱۳تا ص۱۱۱)پر مشتمل ہے ۔ رسالہ کی تقطیع مختصر ترین ، کتابت کھلی ہونے کے علاوہ بہت سے پیرا گرافوں پر مبنی ہے ۔ بسا اوقات آیاتِ کریمہ ایک ہی جگہ سات آٹھ آئی ہیں تو سات آٹھ پیراگرافوں میں ہیں۔ اسی کے ساتھ مرتب گرامی نے بہت سے مقامات پر حواشی و تعلیقات دیے ہیں جو مختصر ترین ہونے کے علاوہ بعض بعض صفحات پر پورے پورے حاوی ہیں ۔ مزید اضافاتِ مؤلف بھی تو ہیں ۔ ابو غدہ کی طباعت میں بعد کے اضافوں کی ضخامت بہت زیادہ نہیں ہے ۔ دو ایک مقامات پر ایک آدھ سطر یا چار پانچ سطروں پر مشتمل دو تین پیراگرافوں کے اضافوں کے علاوہ سب سے بڑا اضافہ’’ باب حکایۃ حال الناس قبل المائۃ الرابعۃ ‘‘میں ہے۔ عنوان میں چار سطری وضاحتی اضافہ ہے، مگر سب سے بڑا اضافہ وہ ہے جو صفحہ ۶۹ سے شروع ہو تا اور صفحہ ۸۶ پر ختم ہوتاہے ۔ وہ لگ بھگ اٹھارہ صفحات پر محیط ہے۔ مجموعی طور سے ابو غدہ کی طباعت کے کل بیس صفحات (زیادہ سے زیادہ) بعد میں بڑھائے گئے ہیں، یعنی رسالہ کا خمس بعد میں نکالا گیا ۔

 

٭٭٭

حواشی و مراجع:

۱؎          محمد مشتاق تجاروی ، شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تصانیف کے مخطوطات (غیر مطبوعہ)

مملوکہ شاہ ولی اللہ دہلوی ریسرچ سیل ، ادارۂ علومِ اسلامیہ، مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ

۲؎          کلمۃ الناشر ، عبد الفتاح ابو غدہ ،طبع بیروت ۱۹۷۷ء،ص۶:’’… خاصۃ اننی لم اعثر علیٰ

مخطوط یفی ٔ بالغرض‘‘

۳؎         مرتبہ السید السابق، دار الکتب الحدیثہ ، قاہرہ ۵۳- ۱۹۵۲ء، ۱/۳۴۰، مکتبہ سلفیہ

لاہور، غیر مورخہ، ۱/۱۶۱، کتب خانہ رشیدیہ ، دہلی ۱۹۵۳ء، ۱/۱۶۱۔

۴؎         ’’القسم الاول فی … سبعۃ مباحث فی سبعین بابا‘‘ مکتبہ سلفیہ لاہور ، ۱/۱۱

۵؎         مکتبہ سلفیہ، ۱/۱۴۰ ، حاشیہ ۲، قاہرہ طباعت، ۱/۲۹۶، حاشیہ ۲، مکتبہ رشیدیہ، ۱/۱۴۰

۶؎          مکتبہ رشیدیہ ،۱/۱۶۱، مکتبہ سلفیہ ،۱/۱۶۱، قاہرہ ،۱/۳۴۱-۳۴۰

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

You may also like

Leave a Comment