حافظ کرناٹکی بحیثیت رباعی گو – ڈاکٹر سیفی سرونجی

by adbimiras
0 comment

رباعی ایک مشکل فن ہے ، یہی وجہ ہے کہ اردو شاعری میں رباعی کہنے والے بہت کم ہیں ، اس لئے کہ آسان راستوں پر چلنا چاہتے ہیں اور بحر سے عاری نظمیں ، آزاد غزلیں اور ہائیکو جیسی دیگر اصناف کے شاعروں کی قطار لگی ہے ، رباعی چونکہ اردو شاعری کی بہت اہم صنف ہے ، دوسرے یہ کہ رباعی کے چار مصرعوں میں وہ سب کچھ کہنا پڑتا ہے جو کہ ایک مکمل نظم یا غزل کے ایک شعر میں ہوتا ہے اور پھر چوتھے مصرعے کو بڑی اہمیت حاصل ہے ،ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہمارے مدھیہ پردیش کے مشہور شاعرایڈیٹر کاروان ادب کوثر صدیقی نے تین مصرعوں کی رباعی ایجاد کر لی ، بہر حال رباعی کے فن میں جہاں ایک طرف ناوک حمزہ پوری ، اصغر ویلوری ، نور محمد یاس ، کوثر صدیقی جیسے کئی شعراء کے علاوہ ایک نمایاں نام حافظ کرناٹکی صاحب کا ہے ، یوں تو حافظ کرناٹکی ادب اطفال کے بے تاج بادشاہ کہے جاتے ہیں ، انھوں نے بچوں سے متعلق درجنوں کتابیں لکھی ہیں ، جو بے حد مقبول ہیں ، سیاجی ، سماجی ، ادبی خدمات میں پیش پیش رہنے والے حافظ کرناٹکی کا بچوں کے تئیں جذبہ بہت کم شاعروں میں دیکھنے کو ملتا ہے ، جہاں وہ ایک طرف نظم ونثر میں درجنوں کتابیں لکھ چکے ہیں ، وہیں دوسری طرف کرناٹک اردو اکیڈمی کے چیئر مین کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ، ان کی یہ خدمات تو اپنی جگہ ہیں لیکن بحیثیت شاعر وہ اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں ، اردو شاعری کی مختلف اصناف کے علاوہ فن رباعی میں بھی انہیں کمال حاصل ہے ، ہم ان کی رباعیات کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ حافظ کرناٹکی نے اپنی رباعیات میں علم وفن کے وہ جوہر دکھائے ہیں کہ ان کی رباعیاں ذہن ودل پر نقش ہوجاتی ہیں   ؎

بے داد پہ بھی داد لئے جاتا ہے

پانی کی طرح خون پئے جاتا ہے

اس دور کا انساں تو حافظ صاحب

شیطان کو شرمندہ کئے جاتا ہے

 

اﷲ سے جو لوگ ڈرا کرتے ہیں

دنیا میں وہ بے خوف جیا کرتے ہیں

اور اس سے جو ڈرتے نہیں وہ لوگ اک دن

خود اپنے ہی سائے سے مرا کرتے ہیں

 

طاقت سے صداقت کو دبایا نہ گیا

قطرے میں سمندر کو چھپایا نہ گیا

سچ بولنے والوں کو اذیت تو ہوئی

سچائی کو سولی پہ چڑھایا نہ گیا

 

خاموشی بھی کہرام مچا دیتی ہے

اک چپ سی زبانوں پہ لگا دیتی ہے

شاعر کا قلم اس کی زباں ہے حافظ

تحریر خود اس کی یہ بتا دیتی ہے

دولت کے نتیجے بھی برے ہوتے ہیں

نیند آئے تو سپنے بھی برے ہوتے ہیں

گھر بنتا ہے بازار سے بدتر حافظ ؔ

اس حال میں بچے بھی برے ہوتے ہیں

 

ہر خیر کا ہر شر کا صلہ پاؤ گے

محشر میں جزا او ر سزا پاؤ گے

بوؤ گے یہاں بیج وہاں پاؤ گے

کی تم نے بھلائی تو بھلا پاؤ گے

رباعی میں ہمیشہ اصلاحی ،اخلاقی پہلوؤں پر زور دیا جاتا ہے ، اگر ہم حافظ کرناٹکی کی تمام رباعیات کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے اپنی تمام تر رباعیات میں حسن اخلاق ، پیارو محبت ، وطن پرستی اور انسانی قدروں کو اجاگر کیا ہے ، اوپر پیش کی گئی رباعیات میں دیکھیے کس طرح ایک شاعر کا دل انسانیت کی پائمالی پر خون کے آنسو بہاتا ہے ، فرماتے ہیں کہ آج کے انسان نے شیطان کو بھی شرمندہ کر دیا ہے کہ وہی انسان جسے خدا نے امن ومحبت کا پیکر بنا کر بھیجا ہے ، آج انسانی خون کو پانی کی طرح بہا رہا ہے ، قرآن اور حدیث کی روشنی میں جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں ، وہ کسی سے نہیں ڈرتے ، جو دوسرے سے ڈرتے ہیں گویا وہ اپنے سائے کے ہی ڈر سے مر جاتے ہیں ، آگے فرماتے ہیں کہ طاقت سے سچائی کو دبایا نہیں جاسکتا ، نہ سچائی کو ختم کیا جاسکتا ہے ، سچ بولنے والا ہمیشہ بے خوف رہتا ہے ، اسی طرح دوسری رباعیات میں حافظ کرناٹکی صاحب کہتے ہیں کہ دولت کے نتیجے برے ہوتے ہیں کہ دولت انسان کی نیند تک اڑا دیتی ہے ، یہی نہیں دولت کی فراوانی سے اولاد بھی غلط راستوں پر چلتی ہے اور اس کے نتائج بھی برے ہوتے ہیں ۔ دولت کی ہوس انسان کو شیطان بنا دیتی ہے اس لئے ہر اچھے او ر برے کام کا صلہ انسان کو محشر میں ضرور ملے گا ، جو یہاں بوئے گا وہی پھل وہاں کاٹے گا ، اس طرح حافظ کرناٹکی نے رباعیات میں محبت کا جو درس دیا ہے ، وہ ان کی شخصیت کا اظہار بھی ہے ، اس لئے کہ حافظ کرناٹکی خود ایک دیندار ، حافظ قرآن اور انسانیت کے علم بردار ہیں ، ان کی پوری شاعری رسول کے عشق اور اسلامی نظریات ، انسانی ہمدردی اور پیار ومحبت کے جذبات سے لبریز ہے ، ذکر نبی ؐ ہو یا بچوں سے متعلق ان کی نظمیں غزلیں ہو ں یا کہ ان کی رباعیات ہوں ، ہر صنف میں ہی تمام خصوصیات جا بجا دکھائی دیں گی ۔ چند رباعیاں اور دیکھئے   ؎

ہم غیب کے ہاتھوں سے رسد لیتے ہیں

توحید پرستی کی سند لیتے ہیں

سجدہ نہیں کرتے کبھی غیر اﷲ کو

اﷲ سے مشکل میں مد د لیتے ہیں

 

جو رزق خداوندی کو سمجھے گا اساس

محسوس اسے ہوگی نہ بھوک اور نہ پیاس

قسمت ہی جو بھر جائے تو پھر کیسی طلب

ہر وقت شکم سیر رہے گا احساس

 

اسلام کا دروازہ ہے اول کلمہ

توحید کا شیرازہ ہے اول کلمہ

ایماں کی مہک مانگتی سانسوں کے لئے

جنت کا گل تازہ ہے اول کلمہ

ان رباعیات کو پڑھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حافظ کرناٹکی نے اپنی رباعیات میں قاری کے لئے ایمان تازہ کرنے والی دلوں میں محبت پیدا کرنے والی ، اﷲ اور اس کے رسول سے عشق اور اسلام پر جان دینے والی تمام باتوں ، ہدایتوں کو قرآن وحدیث کی روشنی میں پیش کیا ہے ، بے شک جس سے خدا خوش ہوتا ہے اسی کو ہدایت ملتی ہے کہ وہ اﷲ اور اس کے رسول کی محبت میں سرشار ہوکر ایسی رباعیات ایسی شاعری کر سکے ، وہ بھی اتنی تعداد میں ہزاروں اشعار پر مشتمل ہمارے نبی ؐ جیسی منظوم سیرت پاک یہ خدا ہی لکھوا سکتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ شاعری ان پر نازل ہوئی ہو۔ حال ہی میں حافظ کرناٹکی کو ساہتیہ اکادمی ادبِ اطفال ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے لئے انھیں ڈھیروں مبارکباد ۔

٭٭٭

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment