خدا بخش لائبریری پٹنہ – حقانی القاسمی

by adbimiras
0 comment

کتاب کلچر کے زوال کے اس صنعتی عہد میں کتب خانہ اور خاص طور پر خدا بخش لائبریری کا ذکر اس لئے بھی ضروری ہے کہ انہی کتب خانوں نے مطالعہ کے ذوق جذبہ اور جنون کو زندہ رکھا ہے۔ورنہ کتاب اور قاری کے درمیان فاصلہ نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ اس ڈجیٹل ایج (Digital Age)میں کتابوں کی معنویت مجروح ہوتی جا رہی ہے۔انٹر نیٹ، ای میڈیا اور ای بکس کی وجہ سے مطبوعہ مواد سے آنکھوں کا رشتہ کم ہوتا جا رہا ہے، جوکہ مہذب دنیا کے لئے نہایت تشویش ناک اور خطرے کی بات ہے۔اس کی وجہ سے ذہن کی سطح پر زوال کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں اور ذہنی ارتقاء کی راہیں مسدود ہوتی جا رہی ہیں۔جبکہ کتابوں کے مطالعہ سے نہ صرف نفسیاتی طور پر انسان صحت مند رہتا ہے بلکہ جسمانی طور پر بھی اس کے فوائد کسی سے مخفی نہیں۔مطالعہ کے ذوق کاانحطاط گمبھیر صورتحال کو جنم دے سکتا ہے، اس زوال کے عروج کو روکنے کے لئے لفظوں سے اپنا رشتہ جوڑنا ہی پڑے گا کہ یہی الفاظ ذہن اور ضمیر کو روشنی عطا کرتے ہیں اور لفظوں سے ہی افکار کی نئی دنیا روشن ہوتی ہے اور ذہنی آفاق کو نئی وسعتیں ملتی ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ الفاظ ہی زندہ رہیں گے اور ان کی زندگی کا بڑا ذریعہ ہمارے کتب خانے ہیں۔

خدا بخش لائبریری کی تاسیس میں بھی شائد یہی جذبہ موجزن تھا اور اسی جذبہ کی روشنی نے اسے شہرت،عزت اور آفاقیت عطا کی ہے۔یہ صرف نادرونایاب مخطوطات ومطبوعات کا مرکز نہیں بلکہ ہماری تہذیبی اقدار کا مظہر بھی ہے اور تہذیبی شناخت کاایک اہم حوالہ بھی۔اس کا شمار صرف ہندوستان کی بڑی لائبریریوں میں نہیں ہوتابلکہ عالمی سطح پر اسے کچھ امتیازات بھی حاصل ہیں۔یہی وہ کتب خانہ ہے جہاں تاریخ خاندان تیموریہ کا نادرونایاب نسخہ ہے جو دنیا کی کسی اور لائبریری یا میوزیم میں نہیں ہے اور یہیں 1611میں لکھا گیا جہانگیر نامہ ہے جس پر اور نگزیب کے صاحب زادہ کے دستخط ان کی شاہی مہر کے ساتھ ثبت ہیں۔دیوان ہمایوں کاواحد نسخہ صرف اسی کتب خانہ کی رونق ہے۔ان کے علاوہ دیوان حافظ کا وہ نسخہ بھی ہے جس کے حاشیہ پر شہنشاہ ہمایوں کی ایک تحریر ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران میں قیام کے دوران اسی دیوان سے ہمایوں فال نکالا کر تے تھے۔ ’پادشاہ نامہ‘ کا ایک نسخہ بھی ہے جس پر کنگ جارج پنجم کے دستخط ہیں۔ عہد عباسی کے مشہور خطاط یاقوت مستعصمی کی خطاطی سے مزین قرآن کریم کا نسخہ ہے۔ جس پر667ہجری مرقوم ہے۔ ہرن کی کھال پر خط کوفی میں تین آیتیں ہیں جو شاید دورصحابہ کی ہیں۔مصحفی کے آٹھوں دواوین کے واحد نسخے کے علاوہ بعض ممتاز افراد کی اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی کتابیں بھی اس لائبریری کی ثروت میں اضافہ کرتی ہیں۔ داراشکوہ کی تصنیف ’سفینۃ الاولیاء اور جامی کی سلسلۃ الذہب بخط مصنف اس لائبریری میں موجود ہیں۔ نادر ونایاب مخطوطات کے اس ذخیرہ میں بہت سی ایسی بیش قیمت کتابیں ہیں جن سے علوم وفنون کی نئی تحقیق میں مدد مل سکتی ہے اور نئے نظریئے سامنے آ سکتے ہیں۔ایسی کتابوں میں الزہراوی کی کتاب التصریف جو کہ جراحت پر ایک مستند کتاب ہے اور کتاب الحشیش قابل ذکر ہیں۔

عالمی سطح پر خدابخش لائبریری کی عظمت اور معنویت مسلم ہے۔ دنیا کی عظیم ترین لائبریروں میں نیویارک پبلک لائبریری، سینٹ پیٹربرگ کی رشین نیشنل لائبریری، لندن کی برٹش لائبریری، پیرس کی Bibliotheque national de France،میڈرڈ میں نیشنل لائبریری آف اسپین، واشنگٹن میں لائبریری آف کانگریس اور دیگرلائبریریاں ہیں جن میں ہمارے تاریخی و ادبی ثقافتی آثار محفوظ ہیں۔ گوکہ دنیا کاایک بڑا علمی ذخیرہ نذرآتش یاغرق آب کردیاگیا پھر بھی کتابوں کی ایک بڑی کائنات ہے۔ بغداد، غرناطہ، قسطنطنیہ اوراسکندریہ میں بڑے بڑے کتب خانے رہے ہیں۔ خدابخش لائبریری پٹنہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جہاں نادراورنایاب کتابوں کااتنا عمدہ اور قیمتی ذخیرہ ہے کہ جو بھی اس لائبریری کی زیارت کے لیے آتا ہے، پرانی کتابوں میں بسی ہوئی خوشبو اسے اس قدر متاثر کرتی ہے کہ وہ مسحور ومدہوش ہوجاتاہے۔ علوم ومعارف کے اتنے اہم ذخیرے کو دیکھ کر لارڈلٹن، لارڈارون، لارڈمنٹو، لارڈریڈنگ، سی وی رمن، جی سی بوس جیسی اہم شخصیتوں کا حیرت زدہ ہونا حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔اس لائبریری میں اتنا قیمتی ذخیرہ ہے کہ برٹش میوزیم نے اس کے عوض غیرمعمولی رقم کی پیشکش کی مگر خدا بخش کے جذبے نے اس پیشکش کو یکسر مسترد کردیا۔ انہوں نے صاف کہا کہ ”مجھ غریب آدمی کو یہ شاہی پیشکش منظور نہیں۔“یہ لائبریری اتنی اہم ہے کہ ایڈنبرگ کے ممتاز مستشرقV.C.Scott O’ Connor نے خدا بخش لائبریری کو دنیا میں مسلم لٹریچر کا سب سے عمدہ ذخیرہ قرار دیا۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:

"The Patna Oriental Public Library is one of the finest collections on Moslim literature in the world.”

1925 میں مہاتماگاندھی نے اس لائبریری کو دیکھ کر مسرت کااظہار کیاتھا اور جواہرلال نہرو نے 1953 میں جب اس لائبریری کا دورہ کیا تو انہیں خوشگوار حیرت ہوئی۔ اسی طرح Lord Mountbatten جو پہلے گورنر جنرل تھے انہوں نے لائبریری کو دیکھ کر نہایت ہی معنی خیز جملہ کہاتھا۔

"A unique collection of which this great country may justly be proud.”

ٹیگور نے 2دسمبر1913 کو یہ لکھاکہ ”میں نے خدابخش لائبریری میں روشنی کے سمندر میں کھلے کنول میں چھپے شہد کا ذائقہ محسوس کیا۔“اس طرح یہ لائبریری نہ صرف اپنی عظمت کے اعتبار سے منفرد ہے اور یہاں نایاب کتابوں کاعمدہ ذخیرہ ہی نہیں بلکہ مغل راجپوت، ترکی اور ایرانی مصوری کے نایاب نمونے بھی ہیں۔ ایسی پینٹنگس اور منی ایچرس ہیں جو ہندو دیوتاؤں کے ہیں اور وہ صرف اسی لائبریری میں ہیں۔ نایاب کتاب تاریخ خاندان تیموریہ میں 133اوریجنل  تصویریں ہیں جو ایرانی فنکار عبدالصمد کے شاگردوں کی بنائی ہوئی ہیں۔ پادشاہ نامہ میں 12تصویریں ہیں۔ اس کتب خانے میں قدیم مصوری اور خطاطی کے نمونے یقینی طورپر اس عہد کے اسلوب اور طرزحیات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ صرف نمونے ہی نہیں بلکہ اس عہد کے طرز احساس کے عکاس بھی ہیں۔

خدابخش لائبریری میں عربی، فارسی، اردو، ترکی، پشتو، سنسکرت اورہندی میں تقریباً21,125 مخطوطے ہیں جب کہ مطبوعہ کتابوں کی تعداد تقریباً 250,00ہوگی جوعربی،فارسی، اردو، ہندی، پنجابی، انگلش، فرانسیسی، جرمن، روسی اورجاپانی زبانوں میں ہیں۔ آج اس کتب خانے کاشمار ہندوستان کی اہم لائبریریوں میں ہوتاہے جب کہ آغاز میں صرف 1400 مخطوطات تھے، جو خدا بخش کے والد مولوی محمدبخش نے بڑی محنت سے جمع کی تھیں۔

خدابخش لائبریری دراصل خدابخش خاں کے جذبے اورجنون کامظہر ہے جنہوں نے اپنے والد کی وصیت کے مطابق ذخیرہ کتب میں توسیع کے لیے مقدور بھر کوشش کی اور ان کی کوشش رنگ لائی۔ انہوں نے کتابوں کو جمع کرنے کے لیے اپنا سارا سرمایہ خرچ کیااور اس کے لیے باضابطہ ایک شخص کو مامور کیا جس نے مصر، شام، دمشق، بیروت، ایران اور عرب سے قیمتی مخطوطے حاصل کیے۔ اس شخص کانام محمد مکی تھا۔ خدابخش خاں نے اپنے والد کے خواب میں رنگ بھرنے کے لیے کسی قسم کی دشواریوں کی پرواہ نہیں کی۔ عزم محکم، یقیں پیہم اور وسیع تر وژن نے ان کی مشکل راہوں کو آسان کردیا۔ خدابخش خان نے اپنا سارا کچھ کتابوں پر خرچ کیا۔ یہاں تک کہ انہیں اپنے علاج کے لیے قرض لینا پڑا اور حکومت بنگال نے قرض کی ادائیگی کے لیے 8000 کی خطیررقم عطاکی۔ ان کے والد کے خوابوں کاتاج محل خدابخش لائبریری کی شکل میں مرجع خلائق ہے۔ جس کی بنیادخدابخش کے والد نے کتب خانہ محمدیہ کے نام سے ڈالی تھی۔ 1888میں خدابخش خاں نے لائبریری کے لیے دومنزلہ عمارت بنوائی جس پر 80,000کی لاگت آئی۔

اس لائبریری کاباضابطہ آغاز29اکتوبر1891 میں سرچارلس ایلیٹ(Sir Charles Elliot)گورنرآف بنگال نے کیا۔ لائبریری کانام لائبریری کے ٹرسٹی حکومت بنگال کے ٹرسٹ ڈیڈ (Trust Deed)کے مطابق بانکی پور اورینٹل لائبریری رکھا گیا۔26دسمبر 1969 میں حکومت ہند نے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت اسے قومی اہمیت کاادارہ تسلیم کیااوراس کے انتظام وانصرام اور ترقی و توسیع کے لیے فنڈفراہمی کی ذمہ داری بھی لی۔

خدابخش لائبریری اب تحقیقی ادارے میں تبدیل ہوچکاہے جہاں مختلف موضوعات پر تحقیق کاسلسلہ جاری ہے۔لائبریری کی فہرست بھی تیار کی جاتی رہی ہے۔ فہرست سازی کاکام 1904 میں گورنر لارڈ کرزن کے ایماپر مشہور دانشور سرڈینسن راس (Edward Dennison Ross)کی زیرنگرانی شروع ہوا اور کیٹلاگ اوراشاریے کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ ڈاکٹرعظیم الدین احمد نے 34جلدوں میں Catalogue of Arabic and Persian Menuscripts in the oriental public libraryکے نام سے مرتب کی۔ اس کے علاوہ مفتاح الکنوز کے نام سے 3جلدوں میں عبدالحمید ایڈورڈ ڈینی سن راس نے فہرست تیار کی۔ جس کی تیسری جلد سیداطہر شیر کی مرتب کردہ ہے۔ عابدامام زیدی نے بھی خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری کی فہرست مخطوطات اردومرتب کی۔ زیڈ اے ڈیسائی نے یہاں کے عربی اور فارسی مخطوطات کی فہرست تیار کی اورایم ذاکر حسین نے تین جلدوں میں وضاحتی فہرست ترتیب دی۔ اس طرح خدابخش لائبریری کے مخطوطات اور مطبوعات کی وضاحتی فہرست نہ صرف اسکالرز اور محققین کے لیے مشعل راہ ہے بلکہ اس کے ذریعے کسی بھی موضوع کی نئی جہتوں کی جستجو میں بھی مدد ملتی ہے۔

خدابخش لائبریری کا ایک تحقیقی جرنل ’خدابخش جرنل‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ یہ مجلہ کثیر لسانی ہے۔ مشرقی اسلامی مطالعات اورتاریخ وتہذیب پر مرکوز اس جرنل میں نہایت وقیع عالمانہ اور دانشورانہ مضامین شائع ہوتے ہیں۔ یہ جرنل 1977سے شائع ہورہاہے۔ جرنل کے علاوہ مخطوطات کی تدوین، ترتیب اور اشاعت کا بھی اہتمام خدابخش لائبریری نے کیاہے۔ اس لائبریری نے اب تک جو کتابیں شائع کی ہیں، موضوعی اعتبارسے ان میں جدت اور ندرت ہے۔ خاص طورپر قدیم تذکرے اوران کی تلخیصات کی اشاعت نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ ان تذکروں سے ادب کی ایک مبسوط تاریخ کی ترتیب و تدوین میں مدد ملتی ہے اور مختلف عہد کے تخلیقی مزاج و منہاج کاپتہ چلتاہے۔ علمی ادبی تحقیق کو بھی ان کتابوں سے بہت سی جہتیں ملی ہیں اورتحقیق کی نئی راہیں بھی کھلی ہیں۔ مختلف موضوعات اور اصناف پر محیط کتابوں میں ہندوستانی تاریخ اور تہذیب سے متعلق کتابیں بھی شامل ہیں۔ یہ ہندوستانی تاریخ اور تہذیب کی نئی سمتوں کاتعین کرتی ہیں اور تاریخ وتہذیب کی نئی تفہیم اور تعبیر کی صورتیں بھی پیدا کرتی ہیں۔ یہ موضوعات فی نفسہ بھی اہم ہیں اور کچھ محققین کے ذہن رسانے بھی ان موضوعات کو معنویت عطاکی ہے۔ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور تاریخ کے حوالے سے بھی کچھ کتابیں خدابخش لائبریری نے شائع کی ہیں جو دوقوموں کے درمیان درآئی غلط فہمیوں کاازالہ کرتی ہیں اور مسخ شدہ حقائق کو نئی صورتوں میں پیش کرتی ہیں۔ تعصب زدہ تاریخ نے جس نظریاتی شدت اورفکری فسطائیت کو جنم دیاہے، اس تاریخ کی تنسیخ کاعمل بھی ضروری ہے ورنہ جھوٹ کو سچ میں تبدیل ہوتے زیادہ دیر نہیں لگتی اور پھر اس سچ کو جھوٹ ثابت کرنے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔ 1857 کی مثال سامنے ہے جہاں ایک سچ صدیوں سے کراہ رہاہے مگر وہ ایک ایسے خزینے میں مدفون میں ہے جو شاید سرکاری تحویل میں ہے وہ اگر سامنے آجائے تو تاریخی منطق تبدیل بھی ہوسکتی ہے اور تحریک آزادی کے تعلق سے ایک بالکل چونکانے والا نظریہ بھی سامنے آسکتاہے۔ مگر کچھ مخصوص ذہن وفکر کے لوگ صحیح حقائق کو منظر عام پر لانے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں کہ اس کی وجہ سے ان کی فکری اور نظری منطق کا مغالطہ لوگوں پر آشکار ہوجائے گا۔ علمی سطح پر یہ جو روش کچھ مخصوص ذہن و فکر رکھنے والوں کی وجہ سے پنپ رہی ہے اس کی بیخ کنی نہایت ضروری ہے۔ خدابخش لائبریری کے توسیعی خطبات اور ادبی علمی تقریبات کا موضوع بھی یہی مسائل ومباحث ہوتے ہیں جو یقینا ملک اور سماج کو ایک نئی مثبت اور صحت مند فکر، احساس یا نئے جذبے سے روشناس کراتے ہیں۔

خدابخش لائبریری صرف ہندوستانی محققین کے لیے اہم مرکز نہیں ہے بلکہ غیرملکی محققین بھی اس کتب خانے سے استفادہ کرتے ہیں۔ تحقیق کے سفر میں خدابخش لائبریری کی کتابیں نہ صرف ان کی معاون ومددگار ہوتی ہیں بلکہ ذہن کو نئی جہتوں اور زاویوں سے روشناس بھی کرتی ہیں۔

خدابخش لائبریری میں عربی، فارسی تحقیقات کاسلسلہ بھی جاری ہے اوراس کے تحت فیلوشپ بھی دی جاتی ہے، اسلامی اور مشرقی مطالعات اور تاریخی تناظرات سے متعلق تحقیق کا جوجذبہ ہے یقینا قابل رشک ہے مگر خدابخش لائبریری جیسے بڑے اداروں کواب اپنی تحقیق کامنہج بدلنا چاہئے اور (Jacques Paul) کی طرح (Mign Graeca)اور (Migne Latina)جیسی 379جلدوں پر محیط  انسائیکلوپیڈیا ترتیب دینی چاہئے جو جامع الفنون ہو۔

خدابخش لائبریری کی یہ خوش بختی رہی ہے کہ اس کے سلسلہ ملازمت سے وابستہ بہت سی مشہور شخصیات رہی ہیں مولانامسعود عالم ندوی جیسی شخصیت بھی اس لائبریری سے وابستہ رہی ہے جن کے علمی تبحر کا اعتراف زمانہ کرتا ہے۔ ایک نابغہ روزگار شخصیت جنہیں عربی زبان پر گہرا عبورتھا اور جن کی تصنیفات محمدبن عبدالوہاب ایک مظلوم اور بدنام مصلح، ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک، مولاناعبیداللہ سندھی کے افکاروخیالات پر ایک نظر، اشتراکیت اوراسلام حوالہ جاتی حیثیت رکھتی ہیں۔ عربی زبان کے محقق مولانامسعودعالم ندوی اوگانوی1937 میں خدابخش لائبریری سے وابستہ ہوئے کیٹلاگس کی ترتیب میں تحقیق کی عمدہ مثال قائم کی۔ اسی طرح اس لائبریری سے پروفیسرعبدالرشید جیسی شخصیت کی وابستگی ریفرینس اسسٹنٹ کی حیثیت سے رہی ہے جو عربی زبان کے محقق اور پٹنہ یونیورسٹی کے صدر شعبہ عربی کے حیثیت سے معروف وممتاز ہیں۔ دیوبند کے فیض یافتہ پروفیسرعبدالرشید نے طبقات الشافعیہ کی تدوین کی۔ ملک کے موقر مجلات میں ان کے شائع شدہ مقالات ان کی مطالعاتی وسعت اور لسانی قدرت کاثبوت ہیں۔

اس لائبریری کو ہمیشہ بے لوث اور مخلص ڈائریکٹر ملے ہیں۔ اس لائبریری کے ڈائرکٹر عابد رضابیدار جیسے دانشور رہے ہیں جن کازمانہ خدابخش لائبریری کا عہد زریں ہے۔ ان کے پاس ایک وژن تھا اور منفرد سوچ تھی اوران کا طریقہ کار سب سے الگ تھا۔ ان کے دور میں لائبریری کی شہرت وعظمت میں غیرمعمولی اضافہ بھی ہوا اورلائبریری عام توجہ کامرکز بھی بنی۔ لائبریری کی تحقیقی سرگرمیوں میں نئی جان آئی اور سچ مچ قومی اورعالمی سطح پر خدابخش لائبریری کو جو شناخت میسر ہے، وہ عابدرضا بیدار کی پیہم جدوجہداور کوششوں کا ثمرہ ہے۔ گوکہ وہ بعض افراد کی شرپسندی کاشکار بھی ہوئے اور انہیں دائرہ اسلام سے خارج بھی کیاگیااور یہ معاملہ اخبارات میں اچھالاگیا شاید مئی1992 میں ایس ایم محسن کی کتاب کی تقریب میں انہوں نے کفر کی نئی تشریح پر زوردیاتھا اور ہندوؤں کو زمرہئ کفارسے نکالنے کی درخواست کی تھی۔ اسی عالمانہ سوال پر انہیں کافر قرار دے دیاگیابہرحال عابدرضابیدار کی علمی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ وہ ایک بلندپایہ دانشور، محقق ہیں اوران کی خدمات کااعتراف زمانہ کرے گا۔ ان کے علاوہ خدابخش لائبریری پٹنہ کے ڈائرکٹر میں حبیب الرحمن چغانی اور ڈاکٹرضیاء الدین انصاری جیسی شخصیتیں بھی رہیں جو علمی دنیا میں تعارف کی محتاج نہیں۔ خدابخش لائبریری کے موجودہ ڈائریکٹرڈاکٹرامتیازاحمد تاریخ میں استناد کادرجہ رکھتے ہیں انہوں نے عبدالرحیم خانخاناں پرنہایت وقیع کام کیاہے۔ پٹنہ یونیورسٹی سے تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے ڈاکٹر امتیاز احمد نے متنازعہ فلم ”جودھااکبر“ کے بارے میں بھی اپنی تاریخی بصیرت اور علمیت کاثبوت دیااوران کے حوالے سے انگریزی اخبارات میں جودھا اکبر کے بارے میں بہت ساری تفصیلات سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ جودھابائی اکبر کی بیگم نہیں تھی۔ ابوالفضل کے اکبرنامہ، عبدالقادر بدایونی کے منتخب التواریخ اور نظام الدین بخشی کے طبقات اکبری میں اس کاذکر نہیں ہے۔ امتیازاحمدکاکہناہے کہ انیسویں صدی میں جودھا کانام اس وقت سامنے آیا جب کرنل ٹوڈنے اپنی کتاب Annals and Antiquity of Rajasthan میں اس کا ذکر کیا ۔ (یہ بھی پڑھیں بہادر شاہ ظفر کے فنی امتیازات – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض)

خدابخش لائبریری کے ان ڈائریکٹرز کے امتیازات ان کے کارناموں سے روشن ہیں۔ ان کے تحقیقی مقالات ان کے مطالعے کی وسعت اور وژن کی ہمہ جہتی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان اہل نظر نے علم و ادب کی تازہ بستیاں آباد کی ہیں اور اس کے لیے کسی مزید ثبوت کی ضرورت نہیں۔ خود ان کے کارنامے بولتے ہیں۔خدابخش لائبریری کی توسیع میں ان کی خدمات سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے خدابخش لائبریری کے سرمائے کانہ صرف تحفظ کیا بلکہ تحفظ کی نئی صورتیں اور شکلیں بھی تلاش کیں۔ چنانچہ اس لائبریری کاامتیاز یہ بھی ہے کہ یہاں ہاتھ سے لکھے مسودوں کو افادہئ عام کے لیے Computerized کمپیوٹرائیزڈ کیاگیاجو دراصل جواہرلال نہرو کے ان جملوں کی تعبیر ہے جس میں انہوں نے یہ کہاتھا کہ ان مخطوطات کوجدید ترین تکنیک سے ری پروڈیوس کیاجائے تاکہ دوسرے لوگ بھی اسے دیکھ سکیں اوراستفادہ کرسکیں۔

خدابخش لائبریری مسلسل ارتقا کی راہ پر گامزن ہے۔ فروری2003 میں نیشنل مشن فارمینو اسکرپٹس کاآغاز ہواتواس کے لیے ایک نوڈل ایجنسی کے طورپر خدابخش لائبریری کاانتخاب کیاگیا۔ اس کے تحت اسے MRCاورMCCکی ذمے داریاں دی گئیں۔

خدابخش لائبریری کی شہرت اور مقبولیت کے کئی حوالے ہیں۔ نادرونایاب کتابیں، تصاویر اورمطبوعہ کتابوں کی کثیرتعداد اور ان سب کے پیچھے بس ایک جذبہ تھاکہ اچھی اور عمدہ کتابوں کا ایک ذخیرہ دنیا کو عطا کریں۔ حیرت ہوتی ہے کہ خدابخش خاں نے کتنی نیک نیتی کے ساتھ اس کام کاآغاز کیاتھا کہ آج خدابخش لائبریری شہرہ آفاق حیثیت کی حامل ہے اور پوری دنیا کے محققین اس لائبریری سے استفادہ کرنے پر مجبور ہیں۔خدابخش  خاں کے جذبہ وجنون کو سلام کرناچاہئے جنہوں نے اپنی ساری سرگرمیوں کو لائبریری میں محدود کردیاتھا۔ ان کے ذہن میں بس ایک ہی خواب تھا ایک کتب خانے کا قیام جس سے سبھی استفادہ کریں۔

اپنے ذہن میں پاکیزہ خواب سجا کر دنیا کو ’تخیل کی توانائی‘ اور علم کی طاقت عطا کرنے والے خدابخش کا تعلق ضلع سیوان کے ایک گاؤں اوکھی سے تھاان کے والد محمدبخش پٹنہ کے مشہور وکیل تھے جنہیں نادر کتابیں جمع کرنے کا جنون کی حدتک شوق تھا۔ وہ آمدنی کا ایک بڑا حصہ کتابیں خریدنے پر صرف کرتے تھے۔ 2اگست1842 میں خدابخش خاں کا جنم ہوا۔ 1859 میں انہوں نے پٹنہ ہائی اسکول سے میٹرک کاامتحان پاس کیا اورپھر پٹنہ یونیورسٹی سے وکالت کی تعلیم حاصل کی اور پیش کار کی حیثیت سے پیشہ ورانہ زندگی کاآغاز کیا۔ 1877 میں وہ پٹنہ میونسپل کارپوریشن کے پہلے وائس چیئرمین بنے۔ سرکاری وکیل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔1891 میں انہیں خان بہادر کاخطاب ملا اور1903 میں سی آئی بی C.I.B.کے خطاب سے سرفراز ہوئے۔ 1895 میں حیدرآباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے تقرری ہوئی جہاں تقریباًتین سال تک رہے اور پھر پٹنہ واپس آکر وکالت کاآغاز کیا مگر بیمار پڑنے کی وجہ سے ان کی مصروفیات محدود ہوگئیں۔ ان پر فالج کاحملہ ہوا۔ اور3اگست1908 میں 66سال کی عمر میں انتقال فرماگئے اور لائبریری کے احاطے میں ہی سپردخاک ہوئے۔

ان کی خدمات کو یاد رکھنے کے لیے خدابخش لائبریری نے خدابخش ایوارڈ کے سلسلے کا بھی آغاز کیاہے۔ جس کے تحت علوم وادبیات کے مختلف میدانوں میں امتیازی کارنامہ انجام دینے والوں کی خدمات کا اعتراف کیاجاتاہے۔ چنانچہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کے سلسلے میں ڈاکٹربی این پانڈے اور سبھدرا جوشی، فارسی زبان وادب میں پروفیسرنذیراحمد، پروفیسر امیرحسن عابدی، عربی زبان وادب میں پروفیسر عبدالحلیم ندوی جیسی ہستیوں کو خدابخش ایوارڈ عطاکیے گئے۔ ہندوستانی تاریخ اور ثقافت کے میدان میں بین الاقوامی شہرت کے حامل ممتازمورخ پروفیسر عرفان حبیب خدابخش ایوارڈ سے سرفراز کیے گئے تووہیں صوفی ازم میں نمایاں خدمات انجام دینے کے لیے پروفیسر جگتار سنگھ گریوال کا انتخاب کیاگیا۔ ایوارڈ کایہ سلسلہ یقینی طورپر قابل تحسین ہے کہ اس کے ذریعہ نہ صرف خدمات کااعتراف ہوتاہے بلکہ کام کرنے کے جذبے کو بھی تحریک ملتی ہے۔

خدابخش لائبریری کی عظمتوں کااعتراف زمانے کوہے۔ اہل دانش و بینش نے بھی خدابخش لائبریری کی خدمات کے اعتراف میں بخل سے کام نہیں لیااور اس کتب خانے کی عظمت و اہمیت کے حوالے سے مضامین لکھے۔ پروفیسرسیدنجیب اشرف ندوی نے مجلہ معارف اعظم گڑھ (مارچ1923) میں کتاب خانہ مشرقی پٹنہ کے عنوان سے مضمون لکھا اور Vincet نے An Eastern Library کے نام سے ایک کتاب لکھی جس کا اردو ترجمہ مبارزالدین رفعت نے ایک مشرقی کتب خانہ کے نام سے کیا۔ یہ کتاب انجمن ترقی اردو علی گڑھ سے 1950میں شائع ہوئی۔ ان کے علاوہ J.I.Hasler نے دی مسلم ورلڈ میں The Oriental Library Bankipur کے عنوان سے مضمون لکھا۔ یہ مضامین خدابخش لائبریری کی عظمت کا ثبوت بھی ہیں اوراس بات کااشارہ بھی کہ ہندوستان میں بہت کم کتب خانے ایسے ہیں جہاں اتنا عمدہ اور قیمتی ذخیرہ اور نسخہائے خطی ہیں۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment