بہادر شاہ ظفر کے فنی امتیازات – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض

by adbimiras
0 comment

بابر نے 1526 میں پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی کو شکست دی۔ اور یہیں سے مغل حکومت کا دور شروع ہوا،اور یہ سلسلہ1857 میں بہادر شاہ ظفر کا انگریزوں کے ہاتھوں معزول ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو ا۔ قریب سوا تین سو سال پر مشتمل یہ حکومت، ہندوستانی تہذیب کے فروغ میں بڑا اہم رول ادا کیا۔بہادر شاہ ظفر کی شاعری اسی تہذیب کی جیتی جاگتی مثال ہے۔بہادر شاہ ظفر علم دوست انسان تھے۔ان کی پیدائش 1775میں لال قلعہ میں ہوئی،اور انکی ابتدائی تعلیم و تربیت قلعۂ معلی میں پورے اہتمام کے ساتھ ہوئی ۔انہوں نے مختلف علوم وفنون میں مہارت حاصل کی۔بہادر شاہ ظفر کی شخصیت اور شاعری پر تصوف کی گہری چھاپ ہے۔اور یہی وجہ ہے کی انہوں نے اپنی شاعری میں تصوف کو بھی موضوع سخن بنایا۔یوں تو انہوں نے بہت ساری صنف سخن میں طبع آزمائی کی۔لیکن ان کا فن ان کی غزلوں میں ہی کھل کر سامنے آتا ہے۔

بہادر شاہ ظفر کی شاعری کا زمانہ بہت طویل رہا۔اور یہی وجہ ہے کہ جس زمانے میں جو رنگ زیادہ مقبول رہا،وہ ان کے یہاں بھی ملتا ہے۔چونکہ بہادر شاہ ظفر ابتداء ہی سے شاعری کی طرف مائل ہوگئے تھے،اور آخری عمرتک یہ سلسلہ برابر چلتا رہا۔ان کے اشعار کی تعداد کئی ہزار پر مشتمل ہے۔شاہدیہی بنیادی وجہ تھی کی ان کی کچھ غزلیں ان کی حیات ہی میں بہت مقبول ہوئیں۔بہادر شاہ ظفر کا زمانہ شعر وسخن کا زمانہ رہا۔جہاں غالب اور ذوق جیسے اردو کے عظیم شاعر تھے۔بہادر شاہ ظفر کی یہ خوش بختی تھی کہ ان کو اتنے جلیل القدر شاعر بحیثیت استاد ملے۔ان کے پہلے استاد شاہ نصیر تھے،جو کہ ذوق کے بھی استاد تھے۔شاہ ظفر اپنے استاد شاہ نصیر اور ابراہیم ذوق سے بہت متاثر تھے۔ بہادر شاہ ظفر نے بہت سے استادان فن اور اہل سخن سے اصلاح لی،اور ان سے استفادہ بھی کیا۔ذوق کی وفات کے بعد مرزا غالب کو بہادر شاہ ظفرکی استادی کا شرف حاصل ہوا۔

بہادر شاہ ظفر کا زمانہ وہ تھا جب روز مرہ کی پابندی اور محاورہ بندی اہل سخن کی امتیازی خصوصیت سمجھی جاتی تھی۔ اہل سخن حضرات مشکل سے مشکل زمین میں شعر کہنا اپنی انفرادی شان سمجھتے تھے۔یہ وہ زمانہ تھا جب سنگلاخ زمینوں میں غزل کہنا اور مشکل سے مشکل قافیوں کا استعمال کرنا بڑے شاعر کی علامت بن چکی تھی۔ اس اعتبار سے بہادر شاہ ظفر کے پہلے استاد شاہ نصیر کو،اس کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔یہ وہ رنگ تھا جس سے اس دور کا قریب قریب ہر بڑا شاعر اپنے آپ کو الگ نہیں رکھ سکا۔چنانچہ بہادر شاہ ظفربھی اس سے خود کو الگ نہیں کر سکے۔اس ضمن میں انہوں نے جو فنکارانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔وہ قابل دید ہے۔چند اشعار ملاحظہ ہوںـ:

اکثر شراب کی موجیں بنیں شراب میں سانپ

خطّ شعاع سے پیدا ہو آفتاب میں سانپ

خیال زلف میں‘کل سو گئے جو شام سے‘ہم

تمام رات نظر آئے ہم کو خواب میں سانپ

مقام زلف ہے یوں‘اس د ل پریشاں میں

کہ جس طرح سے رہے خا نۂ خراب میں سانپ

(انتخاب کلیات ظفر۔ڈاکٹر عشرت جہاں ہاشمی۔ تاج پرنٹرس،نجف گڑھ روڈ،دہلی۔1998۔ ص45۔ 44)

شر اب میں سانپ،آفتاب میں سانپ وغیرہ جیسی مشکل زمین میں بہادر شاہ ظفرنے جس آسانی سے اشعار کہے ہیں،وہ انہیںکا خاصا ہو سکتا تھا۔اگر ان کی زمین سخن پر ایک نظر ڈالی جائے توایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہادر شاہ ظفر نے ایسی ایسی مشکل زمین میں غزل گوئی کی ہے،جیسے کہ ایک بہادر مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنا بچائو کر لیتا ہے اور بے خوف وخطر آگے کا راستہ ہموار کرتا چلا جاتا ہے۔بہادر شاہ ظفر نے سیہ ایسا سفیدا یسا،گل بدن ٹھنڈا،سنبھالا بگاڑا،متوالا اڑا،کفن کاڈھل گیا،غراتا ہوا،سب رنگ کھلا،شمشیر ہنوز،شراب کو آتش،مرغ چمن سنجوگ،تصویر آنکھ،رخ گل دھوکے،چمن کا بوٹا،ایاغ پتھر کا،خال لب ڈوبا ہوا،پیکر کی قطع،داغ پر داغ،رو برو تڑاق پراق،سرکش کے تیر،شراب کے اندر،ستم گر برداشت وغیرہ جیسی مشکل ترین ردیف میں شاعری کی ہے۔اور اس طرح کی مشکل زمین ان کے یہاں  (الف سے ی تک)بکھری پڑی ہیں۔

بہادر شاہ ظفر کی زندگی کو اگر تاریخی حوالے سے پڑھا جائے تو ان کی زندگی حادثات کی نذر رہی۔لیکن ان کی شاعری ان کی اصل زندگی سے کچھ دور ہے۔ اس کی ترجمانی ان کی شاعری میں کم ہی ملتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ان کی شاعری کا ایک بڑا اہم حصہ وہ ہے جو انہوں نے اپنے مزاج زندگی کو شعری سانچے میں ڈھالا ہے۔کیونکہ وہ ’’عیش امروز‘‘کے شاعر تھے۔انہیں حسن اور حسن پرستی سے بڑی گہری دلچسپی تھی۔چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

نہیں گل تن پہ‘عشق دلربا میں ‘پھول کرتے ہیں

تماشا ہم نے یہ رنج و بلامیں پھول کرتے ہیں

گرے ہیں خاک پر لخت جگر کب دست مژگاں سے

مری آنکھوں نے یہ جوش بکا میں پھول کرتے ہیں

لکھا‘حال دل صدپارہ جب میں نے تو کاغذ کو

اٹھا کر یار نے ‘دست جفا میں‘پھول کرتے ہیں

شفق کے دیکھ کرٹکڑے نشیمن ہم کو یہ سوجھا

یہ کس نے دامن چرخ دوتا میں پھول کرتے ہیں

(ایضاََ۔ص، 120-121)

درج بالااشعار پر ایک نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہادر شاہ ظفر نے استادانہ شاعری بھی کی ہے۔بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ان کے اشعار صرف استادانہ نہیں ہیں ،بلکہ ان میںجذبات و احساسات بھی ہیں۔چونکہ بہادر شاہ ظفر کی زندگی کا جو سب سے بڑا المیہ رہا،وہ یہ ہے کہ ان کے زمانے میں مغل حکومت کے اختیارات جو کچھ بھی بچے ہوئے تھے،وہ سب انگریزوں کی طرف سے سلب کر لیے گئے تھے۔ یہی وہ بنیادی وجہ بنی کہ ان کی شاعری میں جنس وجذبہ کی بھی جھلک ملتی ہے۔ڈاکٹر اسلم پرویز نے ان کی شاعری کے متعلق لکھا ہے :

’’ظفر کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی شاعری کا وہ ہندوستانی مغل مزاج ہے جو ذوق کے ذہن اور مزاج سے ذرا دور کی نسبت رکھتا تھا۔ظفر کے اس مزاج کے عناصر ترکیبی میں ان کا ماحول،وراثت،سرشت اور تقدیر سبھی شامل ہیں۔‘‘

(بہادر شاہ ظفر ۔اسلم پرویز ۔انجمن ترقی اردو(ہند)نئی دہلی 1986ء،ص،341) بہادر شاہ ظفر کی زندگی بے تکلف لمحوں اور بے حجابا بوس و کنار کی شدید خواہشات سے بھی گزرتی رہی۔ وہ ان لمحوں کا ذکر بھی اسی انداز میں کرتے رہے۔وہ جب اس مستی بھرے پل کا ذکر کرتے ہیں ،اور ان یادگار پلوںکی تصویر شاعری کے پیکر میں ڈھالتے ہیں تو ان کی زندگی اور ذہن پر پڑے بہت سے پردے ہٹ جاتے ہیں ۔اور وہ ایک بے تکلف اورحسن پرست انسان نظر آنے لگتے ہیں۔اس ضمن کے چند اشعار ملاحظہ ہوں :

چاندنی کی شوخیاں وہ تا سحر دیکھا کرے

اور ہم ان کا‘رخ اشک قمر دیکھا کرے

کچھ ہوئی تسکیں نہ تجھ بن اس دل حیران کو

گو‘تری تصویر ‘ہم آٹھو ں پہر دیکھا کرے

صبح اے گل رو تری آنکھوں کو چشم شوق سے

کیا فقط گلہائے نرگس‘بھر نظر‘دیکھا کئے

گرنہیں ہے ربط کچھ باہم ‘تو پھر محفل میں،شب

تم انہیں اور وہ تمہیں کیوں اے ظفر دیکھا کئے

(انتخاب کلیات ظفر ۔ڈاکٹر عشرت جہاں ہاشمی ۔ص،44)

بہادر شاہ ظفر خوشی ومسرت کے ساتھ زندگی گزارنے کے بارے میں سوچتے ہیں ۔اور جب اس موضوع کو شعری سانچے میں ڈھالتے ہیں تو ان کے یہاں ایک بڑی غیر معمولی خوش آہنگی ہوتی ہے۔اس طرح کے اشعار میں ہم ان کے پورے نکھار کو دیکھتے ہیں۔اس کڑی کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

کیا کیوں کیا رنگ اس گل کا اہاہاہااہاہاہا

ہوا رنگین چمن سارا‘اہاہاہا‘اہاہاہا

نمک چھڑکے ہے‘وہ کس کس مزے سے‘دل کے زخموںپر

مزے لیتا ہوں میں کیا کیا‘ا ہاہاہا‘اہاہاہا

میر صورت پرستی حق پرستی ہے‘کہوں میںکیا

کہ اس صورت میں ہے کیا کیا‘اہاہاہا‘اہاہاہا

(ایضاََ۔ص۔17)

بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں اگر ایک طرف ہمیں بے تکلفی ملتی ہے‘ تووہیںدوسری طرف بے محابا طرز اظہار اور دل کو خوش کر دینے والے تاثرات بھی ملتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جہا ں ہمیں ایک طرح کی معصومیت اور اپنے پن کا اظہارملتا ہے‘وہیں ردیف و قافیہ کے ذریعے جذبات واحساسات کا اظہار بھی ملتا ہے۔ان کے یہاں نزاکت خیال،حسن فکر اور شاعرانہ پیکر تراشی کے جو اچھے نمونے ملتے ہیں‘اس کی عمدہ مثال درج ذیل اشعار ہیں:

شدت گریہ سے ہے‘دیدئہ تر پر صدمہ

آہ سے دل پہ ہے نالہ سے جگر پر صدم

گرم نظارہ کوئی کیا ہو ترا مہر لقا

تابِ خورشید سے‘پہنچے ہے‘نظر پر صدمہ

بھنو‘جو ہلتی ہے تری‘آئے ہے ‘ظالم‘بھونچال

کہیں پہنچے ‘دل عاشق کے‘نہ گھر پر صدمہ

پہنے ‘ کیا ہار وہ پھولوں کا‘نزاکت کے سبب

سایہء زلف سے‘جب پہنچے ‘کمر پر‘ صدمہ

کیا کہیں ‘ہم سے‘یہاں وہ بھی نہیں ہو سکتا

ہے جدائی میں کسی کے‘جو ظفر پر صدمہ

(ایضاََ۔ص،149)

درج بالا اشعار کو اگر غور سے پڑھا جائے تو اس میں حسن ِ نزاکت کا ایک بڑا ہی خوبصورت شعر ہے۔جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ محبوب اتنا نازک ہے کہ اس سے زلف کے سایہ کا بوجھ نہیں سنبھلتاہے ‘تو وہ پھولوں کا بوجھ کیسے سنبھالے ۔بہادر شاہ ظفر نے اس غزل کے مقطع میں جذباتی شاعری کا بڑا ہی دلکش نمونہ پیش کیا ہے۔کیونکہ’’جدائی کاصدمہ‘‘اردو کے بہت  سے شعراء کے یہاں ملتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو شاعری ہجر و فراق کی شاعری ہے۔لیکن یہ شعر سادہ اور سلیس ہونے کے ساتھ ساتھ جذبات نگاری کی ایک اچھی مثال ہے ۔اس کے علاوہ ان کی شاعری میں درویشی‘تصوف‘مذہبی رجحان کے علاوہ اخلاقی پہلو بھی ملتے ہیں ۔

بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں فقر ودرویشی کی روایت کے علاوہ ان کے لب و لہجہ پر اس چیز کے نمایاں اثرات ملتے ہیں۔ان کی شاعری کی یہی وہ خصوصیت ہے جو اپنی طرف مبذول کراتی ہے۔اس کی مثال ان کی شاعری میں واضح طور پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔اس حوالے کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا

یا مرا تاج ‘گدایا نہ بنایا ہوتا

اپنا دیوانہ‘ بنایا ہوتا‘ تو نے

کیوں‘،خرد مند بنایا‘نہ بنایا ہوتا

دلِ صد چاک بنایا ‘تو بلا سے‘ لیکن

زلفِ مشکیں کا تری ‘شانہ بنایا ہوتا

صوفیوں کے ‘جو نہ تھا‘لائق صحبت تو مجھے‘

قابلِ جلسہء رندانہ ‘بنایا ہوتا

روز معمورئہ دنیا میں خرابی ہے ظفر

ایسی بستی کو توویرانہ بنایا ہوتا

(ایضاً۔ص،16۔15)

درج بالا اشعار کو بغور دیکھا جائے تو ان میں درویشانہ مزاج کی جھلک بھی ملتی ہے‘اور قریب قریب ہر شعر میں تصوف کی چاشنی بھی۔چونکہ بہادر شاہ ظفر کے زمانے میںصوفیانہ رجحان عام تھا ‘اور بہادر شاہ ظفر کو زمانے کے عام رجحان کے مطابق‘ان کا رجحان بھی تصوف کی طرف مائل ہو جانا چاہیے تھا۔لیکن ایسا ہوا نہیں ‘البتہ ان کی شاعری میں بعض جگہ اس طرح کے مضمون مل جاتے ہیں ،جس سے تصوف کی طرف ان کے ذہنی جھکاؤ کا اندازہ ہوتا ہے۔

بہادر شاہ ظفر کے اہم خصوص میںسے ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ انہوں نے بعض غزلیں یا اشعار ایسے بھی کہے ہیں ‘جوصرف اور صرف ہندوی ہیں ‘ان میں نا تو فارسی کی خوش ترکیبی ہے اور نہ ہی عربی لفظوں کی شمولیت کا کوئی اثر ۔اس طرح کی بھی شاعری اردو میں کی جا تی رہی ہے۔اور اس قسم کے اچھے نمونے بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں بھی ملتے ہیں۔اس طرح کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

یہ دنیا او گھٹ گھائی پک نہ بہت پھیلائو جی

اتنی ہی پھیلائو کہ جس کے سکھ سے دکھ نا پائو جی

اس دنیا کے جتنے دھندے سگرے گورکھ دھندے ہین

اونکے پھندے جا نہ پڑو تم انمین نہ من الجھائو جی

یہ منوا ہے مورکھ لو بھی سب ہی پر الجائے ہے

چاتر ہو تو اس مورکھ کو جیسے بنے سمجھا ئو جی

جس کارج کا ہوناکٹھن تم من مین اپنے جانتے ہو

اوسکی دیا سے سہج وہ سمجھو اتنا نا گھبرائو جی

(کلیات ظفر۔فرید بک ڈپو (پرائیویٹ)لمٹیڈ۔2005۔ص،514)

درج بالا اشعار کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہادر شاہ ظفر کو خدا نے اس اعتبار سے ایک ایسی نعمت سے نوازا ہے، جس کی توقع سبھی لوگ کرتے ہیں ‘پرنصیب کم ہی لوگوں کو ہوتا ہے۔انہوں نے قریب قریب تمام صنف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔انہوں نے قصیدہ‘قطعہ‘مخمس‘مسدس سب میںبڑی فنکارانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ان کی قصیدہ یا دوسری صنف میں کچھ کم حیثیت ہے‘البتہ غزل کے سامنے دیگر چیزیں کچھ دب سی گئی ہیں۔ لیکن اردو ادب میں جب جب ان اصناف کا ذکر ہوا ،یا ہوگا،تو بہادر شاہ کا نام بھی کامیاب ترین لوگوںمیں لیا جائے گا۔

بہادر شاہ ظفر کو اس دنیا سے رخصت ہوئے ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا ہے،لیکن ان کا شمار اردو کے چند اہم شعراء میں اسی طرح سے ہوتا ہے جس طرح سے ان کی حیات میں تھا۔ ان کی یہی ادبی کاوش تھی جس کی وجہ سے وہ شاعر کی حیثیت سے کبھی ہمارے درمیان سے گئے ہی نہیں۔ان کے ادبی کارنامے انہیں ہمیشہ کے لیے زندہ کر گئے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گاکہ اردو شاعری اور بہادر شاہ ظفر لازم وملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں ۔بہادر شاہ ظفر کا یہی وہ اثر ہے ،جو دنیا میںدیر پا باقی رہے گا۔کیونکہ بہادر شاہ ظفرکی فنکارانہ صلاحیت کا سبھی نے اعتراف کیا ہے،اور ان کے لیے یہی سب سے بڑا خراج تحسین ہے۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment