by adbimiras
0 comment

ادب وثقافت(ششماہی ریسرچ اردو ریفریڈجرنل-9)/مدیر:پروفیسر محمد ظفرالدین -مبصر: ڈاکٹر خان محمد رضوان

 

ایسا محسوس ہوتاہے کہ ٹکنالوجی کی ترقی نے کتابوں اور رسائل کی جگہ موبائیل،لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کو ہماری زندگی میں اس طرح شامل کردیا ہے کہ ہمیں رسائل وجرائد پڑھنے کا موقع نہیں ملتا ۔ کبھی کبھی احساس ہوتاہے کہ شاید اب لوگوں کا پڑھنے لکھنے سے رشتہ ہی کمزور ہوگیاہے جس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ رسائل وجرائد کا چلن ختم ساہوتا جارہا ہے۔ایسے مایوس کن ، حوصلہ شکن اور صبر آزماحالات میں اگر کوئی رسالہ  اشاعت کے مرحلے سے گزر کر قارئین کے ادبی ذوق کی تسکین کا سامان مہیا کرتا ہے تو خوش گوار حیرت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کی کام یابی کا سہرا اس کے قارئین کے سر جاتاہے کہ تھکادینے والی مصروفیت کے باوجود بھی انھوں نے اپنارشتہ لکھنے پڑھنے سے قائم رکھا۔ رسالہ کے مدیر بھی مبارک باد کا استحقاق رکھتے ہیں کہ انھوں نے اس کے مشمولات میں قارئین کی دلچسپیوں کو مرکز میں رکھا ہے۔

ماہانہ رسالوں سے قطع نظر سہ ماہی،ششماہی اور سالانہ رسائل کی تاریخ دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ اس نوعیت کے رسائل کم ہی شائع ہوتے رہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ فی زماننا اس طرح کے اہم رسائل منظر عام سے بالکل ہی غائب ہوتے جارہے ہیں ۔اس دگر گوں صورت حال میں اگر کچھ اس طرح کے جرائد منظر عام پر آرہے ہیں تو یہ واقعی اردو زبان وادب سے محبت کرنے والوں کی قدر دانی ہے۔ان معدودے چندرسائل میں شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی سے ڈاکٹر شہاب ظفر آعظمی صاحب کی ادارت میں’’اردو جرنل۹۔۱۰‘‘،شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ’’ارمغان ۔۸ ‘‘،دہلی یونیوسٹی سے عزیر احمد صاحب کی ادارت میں’’اردو جرنل‘‘اور شعبہ اردو ممبئی یونیورسٹی سے پروفیسر صاحب علی کی ادارت میں ’’اردو نامہ ‘‘قابل ذکر ہیں ۔بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ جرائد و رسائل اردو زبان و ادب کے معیار کو قائم رکھنے اوراسے فروغ دینے میں اپنا بیش قیمت تعاون پیش کر رہے ہیں۔کیوں کہ ان رسائل کے مدیران ذاتی دل چسپی کے ساتھ رسالہ نکال رہے ہیں ۔اور ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ رسالہ عمدہ اور معیاری مضامین  سے آراستہ ہو۔

ایسے ہی رسالوں میں ایک اہم نام ’’ادب وثقافت‘‘ کا ہے جوپابندی سے شائع ہورہا ہے۔ اس کی اب تک 9 شمارے منظر عام پر آچکے ہیں۔ یہ جرنل پروفیسر ظفرالدین صدر شعبہ ترجمہ ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ،حیدرآباد کی سربراہی میں پورے آب وتاب کے ساتھ شائع ہورہاہے۔جو نہ صرف پابندی وقت کے ساتھ شائع ہونے والے رسائل میں ممتاز ہے بلکہ مواد اور مشمولات کی وجہ سے بھی نمایاں ہے۔زیر مطالعہ ستمبر2019 کاشمارہ ہے۔اس رسالہ میں شامل دل چسپی کے چند مضامین کا ہی مطالعہ یہاں پیش کیا جائے گا۔جرنل میں شامل مضمون ’’جمیل مظہری کی شاعری میں فکری میلانات‘‘:پرفیسر بیگ احساس صاحب کا ہے ۔انہوں نے علامہ جمیل مظہری کو نظم کا شاعر گردانتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ ان کی دلچسپی نظم سے زیادہ تھی،گرچہ انہوں نے غزلیں بھی کافی تعداد میں کہی ہیں۔یہاںمجھے یہ کہنا ہے کہ جب علامہ جمیل مظہری نے نظم،غزل،مرثیہ،مثنوی اور قصیدے بھی یکساں طور پر کہے ہیں اور خوب کہے ہیں بس فرق کمیت کا ہے۔ایک مضمون’’قاضی عبدالستار اور ان کے تاریخی ناول‘‘:پروفیسر ابن کنول صاحب کا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قاضی عبدالستار فکشن کی دنیا کا ایک اہم اور معتبر و مستند نام ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ادبی چپقلش نے بہتوں کو جنہیں ادبی منظر نامہ پرسرخیوں میں ہونا تھا اور بڑا نام بن کر رہناتھا مگر تعصب کاشکار ہوکر منظر سے پس منظرمیں چلے گئے ۔وہیں کچھ لوگ جنہیں کچھ نہیں ہوناتھا وہ مقدر کا سکندر بنے اور سرخیوں رہے ہیں۔ باوجود اس کے قاضی صاحب اپنے بل بوتے پر ہمیشہ زندہ رہے اور یاد کیے گئے۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے مضمون نگارنے اس بات کا اعادہ کیاہے کہ داستان اورناول میں فرق کیا ہے؟ تو اس کے جواب میں بتایاگیا کہ’ داستان کے بہت سے واقعات وبیانات سچ ہوکر بھی جھوٹ لگتے ہیں اور ناول کے واقعات وبیانات جھوٹ ہوکر بھی سچ لگتے ہیں‘۔اسی کے ساتھ یہ بھی بتایا گیاہے کہ قاضی عبدالستار کس بنیاد پر منفرد اور کس وجہ سے علاحدہ شناخت رکھتے ہیں۔جس کی توضیح مضمون نگار نے تاریخی حقائق کے حوالے سے کی ہے۔اور قاضی صاحب کے چاروں ناولوں کے تاریخی انسلاک کوبے حدعمدگی سے واضح کیا ہے۔ مضمون نگار نے بتایاہے کہ صلاح الدین ایوبی اور خالد بن ولید اسلامی تاریخ کے وہ روشن کردار ہیں جنہوں نے اپنی پوری عمر میدان جنگ میں گزاری ۔اورداراشکوہ کاموضوع ہی اقتدار اور نظریات کے لیے دوبھائیوں کے درمیان جنگ ہے ۔ داراشکوہ اور اورنگ زیب کے درمیان ساموگڑھ کی جنگ ہی ناول کا اہم حصہ ہے۔اور ’غالبـ‘میں 1857ء کی جنگ آزادی کی جھلک نظرآتی ہے۔ اس طور پر یہ مضمون قاضی صاحب کے ناولوں کے حوالے سے نہ صرف اہم ہے بلکہ بے حد  معلوماتی اور مفید بھی ہے۔ اسی طرح ایک مضمون ’’حب الوطنی اور اردو افسانہ‘‘(آزادی کے بعد):پروفیسر اسلم جمشید پوری کا ہے۔ یہ مضمون اپنے موضوع کے اعتبار سے بے حد اہم ہے۔ مضمون نگار نے پہلی ہی سطر میں یہ کہہ کر اس کی اہمیت دوچند کردی ہے کہ اس موضوع کے تین اہم پہلو ہیں۔ایک اردو افسانہ ،دوسراحب الوطنی اور تیسرا آزادی کے بعد۔یہی وجہ ہے کہ مضمون نگار نے درجنوں فکشن رائٹرس کے حوالے بھی دیے ہیں جنہوں نے اپنے افسانوں میں حب الوطنی کے نغمے گائے ہیں اور جن جن طریقوں سے فکشن رائٹرس نے آزادای کی کوششیں کیں ان کابھی ذکر کیاگیا ہے۔ مضمون میں بہار ،یوپی،مہاراشٹرا ا ور کشمیر کے افسانہ نگاروں کے نام بھی گنائے ہیں اور ساتھ ہی  یہ بھی بتایا ہے کہ ان لوگوں نے کس طرح قلمی جہاد کیا اور ملک کو آزاد کرانے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔اس اعتبار سے یہ مضمون مفید اور لائق مطالعہ ہے۔ زیرنظر شمارے میں ایک مضمون بعنوان :’’شہر آشوب کا ارتقائی سفر ایک جائزہ‘‘:شامل ہے جو ڈاکٹر نوشاد عالم کا  ہے۔یہ مضمون انوکھا اور اچھوتا ان معنوں میں ہے کہ یہ صنف ہماری نظروں سے اکثر اوجھل رہتی ہے ۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس پر مضامین کم لکھے جاتے ہیں اور سمیناروں میں مقالے بھی کم ہی  پڑھے جاتے ہیں۔اور یہ بھی سچ ہے خال خال ہی شہر آشوب پر مضامین پڑھنے کو ملتے ہیں۔پورا مضمون معلوماتی اور پرمغز  ہے جسے مضمون نگار نے محنت اور لگن سے لکھا ہے ۔ مضمون نگار نے تفصیل سے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ شہرآشوب کیاہے؟ اور وہ کون سی خصوصیات ہیں جو شہر آشوب کو دیگر اصناف سخن سے منفرد بناتی ہیں؟اور یہ کہ شہر آشوب کی روایت اردو کے علاوہ کن دوسری زبانوں میں ملتی ہے؟مذکورہ مضمون میں یہ بھی بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ نئے دور کے شہر آشوب میں غالب رجحانات کیا ہیں ۔ مجموعی طور پر مضمون اپنی ندرت اور تازگی کی وجہ سے اہمیت کا حامل ہے۔

اس شمارے میں ایک اہم مضمون’’پروفیسر اختر اورینوی کا لسانیاتی سرمایہ ‘‘:محمد منہاج الدین کا ہے۔یہ مضمون صرف اس لیے اہم نہیں ہے کہ ایک محقق،دانشور اور ایک اہم ناقد کے تعلق سے ہے بلکہ اس لیے بھی وقیع ہے کہ اس میں اختر اورینوی کو لسانیات کے حوالے سے نہ صرف متعارف کرایاگیاہے بلکہ ان کی متحیر کن لسانی بصیرت کو دو ٹوک انداز میں پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔اور یہ بھی واضح کیا  گیاہے پروفیسر اختر اورینوی کا مطالعہ بے حد وسیع تھا۔ انہوں نے مختلف لسانی موضوعات پرمقالات قلم بند کیے ہیں۔باجود اس کے ان کا شمار لسانیات کے ماہرین میں نہیں ہوتا،جب کہ ان کی تحقیق کا مر کزہی اردوزبان و ادب ہے۔انہوں نے اردو لسانیات پر قابل قدراور گراں قدر مضامین اور مقالات لکھے ہیں جن سے ایک ماہرلسانیات کا عکس واضح طورپر ابھر تا ہے ۔مضمون نگار نے یہ واضح کرنے کی مستحسن کوشش کی ہے کہ ان کے مضامین اور مقالات کا لسانیاتی حوالے سے مطالعہ کیا جانا چاہیے اور ان کے ادبی سرمایہ پراز سرے نو تحقیق ہونی چاہیے ،تبھی یہ معلوم ہوسکے گا کہ وہ ماہر لسانیات تھے یا نہیں؟ منہاج الدین اس لیے قابل مبارک باد ہیں کہ وہ ابھی سلسلۂ تعلیم سے منسلک ہیں اور اپنی تحقیق کررہے ہیں لیکن ان کا تحقیقی اور تنقیدی شعور اس بات کا غماز ہے کہ وہ اچھی سرپرستی میں ہیں۔

میں ان اچھے مضامین کاانتخاب شائع کرنے کے لیے ادب و ثقافت کے مدیر محترم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور توقع کرتا ہوں کی اس طرح کے اور عمدہ مضامین وہ ہدیہ ناظرین کرتے رہیں گے۔

You may also like

Leave a Comment