نظم میں خاموشی اور خالی جگہ نئے احساسات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں،لیکن کیسے ؟ یہ جاننا بھی ضروری ہے۔یہ تو بالکل سامنے کی بات ہے کہ نظم میں خاموشی ،لفظوں کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے۔مگر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ لفظ جو خاموشی کی ضد ہیں، وہ کیوں کر اپنی صوت و صدا کو سکوت کی تخلیق میں بروے کار لاتے ہیں؟کیا لفظوں کے اندر، ان کے بطون کی گہرائیوں میں کچھ خاموش منطقے ہوتے ہیں، جنھیں نظم دریافت کرتی ہے ، یا نظم کے جمالیاتی اصول سے لفظوں کی قلب ِماہیت ہوجاتی ہے ،اور ان کی صدا، سکوت میں بدل جاتی ہے؟یہ فلسفیانہ سوال ہوسکتے ہیں،مگر ہم انھیں نظم فہمی کے بنیادی سوال سمجھیں گے،تاکہ ہماری گفتگو صرف نظم پر مرکوز رہے۔
نظم میں خاموشی کے پیدا ہونے کا بنیادی محرک ،وہ جذبہ یا احساس ہے ،جسے نظم پیش کرنا چاہتی ہے۔(مبادا غلط فہمی پیدا ہو، یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ نظم میں خیال بھی پیش ہوتاہے،مگر نظم میں ظاہر ہونے والا کوئی خیال ایسا نہیں ہے ، جس کے ساتھ احساس وابستہ نہ ہو؛نظم میں’ محسوس کیا گیا خیال ‘ظاہر ہوتا ہے)۔ شاعر جذبہ و احساس کے لیے ’لسانی مساوی ‘(Linguistic Equivalent)تلاش کرتا ہے۔ واضح رہے کہ تلاش کایہ عمل ارادی نہیں ہوتا۔ہم جانتے ہیں کہ انسانی ذہن میں جذبہ واحساس اور اس کی لسانی نمائندگی کا عمل ایک ساتھ رونما ہوتا ہے ۔ایک حد تک یہ وہی عمل ہے ،جسے ژنگ نے ہم وقتیت (Synchronity)کانام دیا ہے ۔ ژنگ کو ہم وقتیت کا تصور ایک مریضہ کا علاج کرتے ہوئے سوجھا تھا۔ مریضہ کوایک رات خواب میں سنہری بھونرا دکھائی دیا۔ اگلے روزاسی مریضہ کی تحلیل نفسی کے سیشن میں ژنگ کے دفتر کی کھڑکی پر سنہری بھونرا ظاہر ہوا، حالاں کہ وہاں اس طرح کے بھونرے کا موجود ہونا محال تھا ۔یہ ایک نفسی، تصوری حالت کا مادی، حقیقی مساوی تھا ؛حالاں کہ دونوں کے درمیان کوئی علتی رشتہ نہیں تھا۔نظم کا احساس بھی ایک سنہری بھونرا ہے ،یہ جب اپنے لیے پیرایہ اظہار تلاش کرتا ہے تو اپنا ایک مادی مساوی وضع کرلیتاہے ۔دوسرے لفظوں میں جذبہ واحساس اور اس کے لسانی مساوی ،ایک ہی وقت میں ظاہر ہوتے ہیں۔اگر خواب میں یہ قوت ہے کہ وہ اپنا مادی مساوی خلق کرسکتا ہے تو نظم کے جذبہ و احساس میں بھی یہ طلسماتی قوت ہے کہ وہ اپنا لسانی مساوی وضع کرلیتی ہے ۔ حالاں کہ لفظ اور خیال، یا لفظ اور احساس میں کوئی علتی رشتہ نہیں؛ زبان کے تمام رشتے ثقافتی اور رواجی ہیں۔کسی غلط فہمی سے بچنے کے لیے یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ ہر خواب کا مادی مساوی ظاہر نہیں ہوتا، اسی طرح ہر نظم گو کا جذبہ اپنا’ حقیقی لسانی مساوی‘ وضع نہیں کرسکتا۔ جس طرح ہم وقتیت کے لیے گہری نفسی توانائی درکار ہے ، اسی طرح نظم کے لیے بھی گہرا، حقیقی، سچا،غیر معمولی جذبہ درکار ہے ۔
بایں ہمہ ژنگ کے ہم وقتیت اور نظم کے جذبے کے لسانی مساوی میں ایک نازک فرق ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔ ہم وقتیت میں تصور اور حقیقت ، کاملاًمساوی ہوسکتے ہیں،مگر نظم کے جذبے کا لسانی مساوی ہمیشہ ایک ممکنہ ،قریب ترین مساوی ہوتا ہے، کامل نہیں۔جذبہ واحساس، خیال و معنی اوران کے لیے ظاہر ہونے والے لفظوں میں ایک فاصلہ ، ایک نوع کی خاموشی، ایک طرح کی خالی جگہ موجود رہتی ہے؛ نیز احساس کی لسانی نمائندگی میں ،کسی شاعر کی بے مثال قادرالکلامی کے باوجود ایک طرح کی کمی اور خسارے کا احساس ضرور موجود ہوتا ہے؛زبان اور جذبے و خیال میں ایک نازک نوعیت کی غیریت کا احساس ایک عظیم شاعر بھی نہیں مٹا سکتا۔ (یہ بھی پڑھیں فراق کی تین نظمیں— تشریح و تعبیر – پروفیسر کوثر مظہری )
اسی مقام پر ہمیں ٹی ۔ایس ۔ایلیٹ کے معروضی تلازمے(Objective Correlative) کی اصطلاح بھی یاد آتی ہے۔ بہ قول ایلیٹ، معروضی تلازمہ’’ الفاظ کاوہ مجموعہ،کوئی صورتِ حال یا واقعات کا سلسلہ ہے ،جو کسی جذبے کے اظہار کا فارمولہ ہوتا ہے‘‘۔ گویا ایلیٹ یہ کہتے ہیں کہ کسی بھی جذبے کے اظہار کے لیے لفظ موجود ہیں، شاعر کا کام یہ ہے کہ وہ انھیں تلاش کرے۔(ایلیٹ نے یہ اصطلاح ،شیکسپیئر کے ڈرامے ہیملٹ کے سلسلے میں متعارف کروائی تھی ، اس لیے وہ الفاظ کے علاوہ ، واقعات اور صورتِ حال کا ذکرکرتے ہیں،مگر ہم یہاں صرف لفظ سے بحث کریں گے) ۔ دوسرے لفظوں میں زبان ،انسانی جذبات کے اظہار میں اس قدر عاجز نہیں ہے،جس قدر شاعر عجز کا شکار ہوسکتا ہے۔ لیکن کیا واقعی؟ایلیٹ کے معروضی تلازمے کے تصور کی کمزوری یہ ہے کہ اس میںجذبے کی عمومیت کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ ڈراما عمومی انسانی جذبوں کو پیش کرسکتا ہے ، مگر نظم نئے جذبوں کی تخلیق کرتی ہے۔ عمومی جذبے ،عام طور پر ہمیں ثقافتی رسوم میں ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ثقافتی رسوم میں عمومی جذبوں کے لیے ’الفاظ کا فارمولہ ‘ ہوسکتا ہے ،(جسے ہم ایک زیادہ مناسب لفظ علامت سے موسوم کرسکتے ہیں)،نظم کے لیے نہیں۔ لہٰذانظم کے جذبہ واحساس کے لیے ’لسانی مساوی‘ وضع کرنے پڑتے ہیں،اور ان کا کوئی فارمولہ نہیں ہوسکتا۔اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ محبت، نفرت، خوف، گریز، حسد، دکھ، مسرت، اطمینان، اضطراب، ترفع، اداسی، مایوسی،لاتعلقی، بے نیازی،غصے ، رنج وغیرہ کے لیے کچھ مخصوص ، فارمولہ قسم کے الفاظ کا مجموعہ موجود ہے ، تو اس کا مطلب نظم کے لیے کلیشے کی وکالت کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ جذبہ واحساس، خیال ومعنی: ایک وسیع ،بے کنار، غیر متعین، غیر متوقع دنیا ہے ،مگرہم یہ بات زبان کے بارے میں نہیں کہہ سکتے۔کچھ یہی بات غالب کے اس شعر میں کہی گئی ہے:
تقریر کا اس کی حال مت پوچھ
معنی ہیں بہت تو لفظ تھوڑے ہیں
غالب نے یہ نہیں بتایا کہ اگر تھوڑے لفظوں میںزیادہ معنی ہوں تو تقریر یا متن کا کیا حال ہوتا ہے؟تاہم اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تقریر یامتن میں خاموشی کے کچھ منطقے رونما ہوجاتے ہیں۔تھوڑے لفظ ،تھوڑے معنی ہی کو پیش کرسکتے ہیں، باقی معانی متن کی خاموشی میں وجود رکھتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ متن کی خاموشی بھی، زبان ہی کی مرہون منت ہوتی ہے،تاہم صرف اس زبان کی جو ابلاغ کی نہیں، آرٹ کی زبان ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ خاموشی خود زبان میں کہیں نہ کہیں ہوتی ہے ،مگر زبان کے فنکارانہ استعمال سے یہ خاموشی نہ صرف نمایاں ہوتی ہے،بلکہ اس کا مطلب و مفہوم بھی بدل جاتاہے۔
اصل یہ ہے کہ نئے ،غیر متوقع ، غیر محدوداحساس کے لیے ’لسانی مساوی‘ تلاش کرنے کے نتیجے میں ایک کش مکش جنم لیتی ہے؛ احساس اور لفظ میں کش مکش۔شاعر کے لیے احساس میں اپنائیت ہے، مگر زبان اس کے لیے غیر ہوتی ہے؛زبان اپنے ’غیر‘ کے کردار کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ اسی کشمکش ہی میں خاموشی جنم لیتی ہے۔ زبان پہلے سے موجود ہے؛ چوں کہ پہلے سے موجود ہے ،لہٰذایہ پہلے سے موجود یعنی پرانے اور دوسروں کے خیال و احساس کی ترجمانی کرتی ہے۔ ایک حقیقی شاعر پہلے سے موجود زندگی ، پہلے سے موجود احساسات و خیالات سے بے اطمینانی ہی کی وجہ سے شاعری تخلیق کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی نشاطیہ کیفیت بھی بے اطمینانی کی ایک لہر لیے ہوئے ہوتی ہے۔یہاں ہمیں شاعرانہ نشاطیہ کیفیت اور ایک شخص کی نشاطیہ کیفیت میں فرق کرنا چاہیے۔ ایک حقیقی شاعر کے پاس ایک گہری تشویش ہوتی ہے ۔شاعرانہ مافیہ ،لسانی مساوی کی تلاش کے دوران میں،زبان پر دباؤ ڈالتا ہے ،جس سے زبان جگہ جگہ سے پچک جاتی ہے۔اس پچکی ہوئی زبان کا دوسرا نام استعارہ ہے۔ نئے استعارے وضع کرنا ،زبان پر شاعرانہ مافیہ کے شدید دبائو کا نتیجہ ہے؛ جسے ہم لسانی مساوی کہہ رہے ہیں ، وہ استعارہ ہی ہے۔ہر نئے استعارے میں خاموشی کے منطقے (Zones) وجود میں آجاتے ہیں۔ حقیقت میں یہی وہ منطقے ہیں ،جہاں معنی ہی نہیں معنی سازی کے امکانات ہوتے ہیں،اور یہیںنظم کی نئی نئی تعبیرات کی راہ کھلتی ہے۔
("نظم کیسے پڑھیں”(مطبوعہ 2018ء) سے ایک اقتباس )
نوٹ: یہ مضمون ڈاکٹر ناصر عباس نیّر صاحب کے فیس بک سے لیا گیا ہے۔ ہم ان کے بے حد ممنون ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
10 مارچ 2021 کا پوسٹ کرده ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا مضمون "جدید نظم، خاموشی، ہم وقتیت اور معروضہ تلازمہ” بہت پسند آیا۔ میری طرف سے اُنھیں بہت مبارک باد پیش کر دیں،
جی سر۔۔۔۔