Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقید

اردو میں تدوین متن کی روایت – نثار علی بھٹی

by adbimiras مئی 6, 2021
by adbimiras مئی 6, 2021 0 comment

اردو مین متن کی روایت زیادہ پرانی نہیں ہے۔بیسویں صدی میں اردو میں تدوینی روایت کا آغا ز ہوتا ہے۔قدیم و جدید متون کے مرتب کرنے کے کام کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔مدونہ متون کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہمیں آگاہی حاصل ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات اور متنوع خصوصیات  کے حامل متون کو مدون کرنے کا کام ہوا ہے۔مدونہ کام ہر دو ممالک پاکستان و بھارت میں ہوا ہے۔متون کے مدون کرنے کا کام مختلف شہروں میں مختلف اداروں کے زیر اثر مختلف مراکز کے تحت کیا گیا ہے۔ان مراکز کو سہولیات  کے اعتبار سے متنوع حدود و امتیازات کے ساتھ دیکھا جا سکتاہے۔سہولیات کے اختلاف،وسائل و ذرائع میں فرق اور طرز فکر میں نیرنگی کے باعث  ان مراکز کی الگ الگ خصوصیات اور طرز کار کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ان مراکز سے وابستہ مدونین کے طریقہ ہائے کار  میں یکسانیت نظر آتی ہے۔طرز فکر،طرز کار اور طرز پیشکش میں یکسانیت ہونے کی وجہ سے ان کو الگ سکول آف تھاٹ کے طور پر پہچانا جا سکتا ہے۔علماء و مدونین نے ان مراکز کے الگ طرز فکر اور طریق ہائے کار کی وجہ سے اسے بیان کرنے کےلیے مختلف اصطلاحات کا استعمال کیا ہے۔یہ وضع کرد ہ اصطلاحات تو مختلف نظر آتی ہیں مگر ان کا مفہوم و مطلب ایک ہی ہے۔تدوین کی روایت کے بیان کے لیے الگ سکول آف تھاٹ کو ڈاکٹر وحید قریشی ” دبستان ” کا لفظ استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ڈاکٹر تبشم کاشمیری اسے مراکز کا نام دیتے ہیں۔حمید عظیم آبادی بھی اسے دبستان کے لفط سے ممیز کرتے ہیں۔  (یہ بھی پڑھیں ثقافت اور تہذیب کےمفاہیم کا معنوی وصوری جائزہ – نثار علی بھٹی )

تدون متن کی روایت کا باقاعدہ آغاز لاہور سے ہوتاہے۔اردو تدوین کی روایت لاہور سے دکن،دہلی ،رام پور،لکھنو،پٹنہ بمبئی، علی گڑھ سے ہوتی ہوئی کراچی تک سفر کرتی ہے۔لاہور کی تدوینی روایت میں اورنٹیئل کالج پنجاب یورنیورسٹی لاہور ،مجلس ترقی ادب لاہور اور متفرق مدونین جن کا تعلق ان اداروں سے نہ تھا مگر ان کا مدونہ کام موجو ہے اور وقعت و قدر کا حامل بھی ہے،اس روایت کے تحت نظر آتا ہے۔دبستان لاہور اورنٹیئل کالج پنجاب یورنیورسٹی لاہور کے تحت حافظ محمود شیرانی،ڈاکٹر وحید قریشی،ڈاکٹر سید عبداللہ،ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار،ڈاکٹر ناصر حسن زیدی،ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی، ڈاکٹر عبادت بریلوی،ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا،ڈاکٹر تبسم کاشمیری،ڈاکٹر تحسین فراقی،ڈاکٹر اورنگ زیب عالمگیر، ڈاکٹر محمد فخر الحق نوری کے نام نظر آتے ہیں۔لاہور کو سیاسی،معاشرتی اور علمی و ادبی حوالے سے ہمیشہ پہچان حاصل رہی ہے۔لاہور کے دبستان کی بنیادی خصوصیت خیال و اسلوب کی توانائی،جدت اور ہر جدت کو قبول کرنے کی صلاحیت ہے اور یہ محض ادب میں نہیں زندگی میں بھی جاری و ساری ہے۔

انجمن پنجاب لاہور،رومانوی تحریک،ترقی پسند تحریک،حلقہ ارباب ذوق ،علامہ محمد اقبال کے تصورات شعریات نظم و نثر،زبان و اسلوب،طرز فکر ،جدیدیت و وجودیت کے مباحث،اخبارات ،رسائل و جرائد کا اجرا،لاہور کے دبستان کی ان خصائص کی بنا پر ہمیشہ الگ  شناخت رہی ہے۔اگر دبستان لاہور کا جائزہ لیا جائے تو محنت و دیانت کا عنصر،تحقیق کے علمی معیارات،لسانیات کے ساتھ باہم ملاب،تدوینی نسخوں کا تعارف،مصنف کے حالات زندگی،تصانیف کا بیان،اختلاف نسخ،حواشی و تعلیقات  پر خصوصی توجہ دی گئ ہے۔اورنٹیئل کالج لاہور کے اساتذہ نے تدوینی اصولوں کے اوضاع میں بہت کام کیا اور ایسے اصول بنائے جس سے تدوینی عمل میں آسانی بھی رہے اور کام کا معیار بھی بلند ہو۔معیارات تدوین کے وضع کرنے کے بعد تدوینی روایت میں عملی حصہ بھی لیا۔یہ وضع کردہ معیارات و اصول آج بھی نشان منزل ہیں۔مجلس ترقی ادب لاہور نے مرتب و مدونہ نسخوں کے تعارف کے ساتھ تجزیہ بھی ملتا ہے۔گویا تحقیق عملی کے ساتھ تنقیدی معیارات کو بنیاد بناتے ہوئے نسخہ جات کے اصل و مکمل ہونے اور معیاری ہونےپر رائے پیش کی گئی۔                                                               حافظ محمود شیرانی نے قدرت اللہ قاسم کے تذکرے کو مرتب کر کے تدوینی عمل کا آغاز کیا۔مجموعہ نغز کو دو جلدوں میں مرتب کر کے جامعہ پنجاب لاہور سے 1933 ء میں شائع کیا۔دیباچہ میں مخطوطہ کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔تدوینی طریق کار کی وضاحت کی۔اختلاف نسخ پر بات کی۔”کمال لذت” کی ترکیب سے مادہ تاریخ کہا۔”خالق باری” کو 1944 ء میں انجمن ترقی اردو دہلی سے شائع کیا گیا۔خالق باری کے اصل نام حفظ اللسان اور اس کے مصنف کی بحث نظر ملتی ہے۔آپ نے بتایا خالق باری کے مصنف امیر خسرو نہیں ہیں بلکہ ضیا ءالدین خسرو ہیں۔اس کے سال تصنیف 10321 ھ کا تعین کیا۔اس کا مادہ تاریخ "نصف آخر” سے بر آمد ہوتا ہے۔ مقدمہ شعرو شاعری، مثنویات میر حسن،تذکرہ ہمیشہ بہار ،دیوان جہاں دار کو ڈاکٹر وحید قریشی نے مرتب کیا۔حیدر بخش حیدری کے گل مغفرت کو  ڈاکٹر ناصر حسن زیدی نے مرتب کیا۔فسانہء مبتلا ،کلیات نظم حالی،جواہر حالی،ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کے کلام کے مرتب ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی ہیں۔کلیات میر،شکنتلا،ہفت گلشن، دیوان حیدری،دیوان مبتلا ،تذکرہ گلشن ہند،مراثی جراءت اور نکات الشعرا کو ڈاکٹر عبادت بریلوی نے مرتب کیا۔کلیات مجید امجد، کلیات حفیظ جالندھری،نثر اکبر آبادی،کلیات داغ،کلیات عدم،کلیات داغ اور نظر نامہ محمود نظامی کو ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا نے مرتب کیا۔آب حیات اور رام بابو سکسینہ کی تاریخ ادب اردو مترجم محمد حسن عسکری کو ڈاکٹر تبسم کاشمیری نے مرتب کیا۔نم راشد کے خطوط بنام اعجاز حسین بٹالوی اور سہیل احمد خان اور جدید فارسی شاعری کو ڈاکٹر فخرالحق نوری نے مرتب کیا۔کلیات میر سوز کے مرتب ڈاکٹر زاہد منیر عامر ہیں۔یہ مدونہ کام اورنٹییل کالج لاہورسے ہوا۔

دبستان لاہور مجلس ترقی ادب کے تحت سید امتیاز علی تاج،خلیل الرحمن داؤدی،کلب علی خان فائق،ڈاکٹر محمد شمس الدین صدیقی،ڈاکٹر اقتدار حسین،ڈاکٹر محمد شمس الدین صدیقی،شیخ محمد اسماعیل پانی پتی،ڈاکٹر محمد باقر،ڈاکٹر گوہر نوشاہی، عشرت رحمانی،سید مرتضی حسین فاضل لکھنوی،سید عابد علی عابد،ممتاز منگلوری،ریاض احمد،شفقت رضوی،قیوم نظر،ڈاکٹر میمونہ بیگم انصاری،ڈاکٹر ظہر فتح پوری،احمد رضا،یونس جاوید،آغا سہیل،ڈاکٹر محمد اسلم قریشی، ڈاکٹر انعام الحق کوثر،سہد وقار عظیم ڈاکٹر نورالحسن نقوی اور حمید احمد خان شامل ہیں۔آرام، ظریف،رونق، کریم الدین ، حباب،حافظ عبداللہ  کے ڈرامے سید امتیاز علی تاج نے مرتب کیے ہیں۔مذہب عشق نہال چند لاہوری،دیوان میر درد،سروش سخن  فخرالدین حسین سخن،بہارستان ناز حکیم فصیح الدین رنج،تذکر ہ گلستان سخن،مجموعہ نثر غالب، کلیات انشا کو خلیل الرحمن داؤدی نے مرتب کیا ہے۔آرائش محفل،کلیات شیفتہ،مہتاب داغ،کلیات مومن،کلیات نظام،کلیات سالک،کلیات نسیم ،تذکرہ گلشن بے خار،کلیات میر،یادگار داغ کو کلب علی خان فائق نے مرتب کیا ہے۔مقالات سر سید اور کلیات نثر حالی کو شیخ محمد اسماعیل پانی پتی نے مرتب کیا۔بے تال پچیسی،یادگار چشتی، پدما وت کو ڈاکٹر گوہر نوشاہی نے مرتب کیا ۔دیوان صبا میر وزیر علی صبا لکھنوی کے مرتب سید عابد علی عابد ہیں۔آغا حسن امانت کے واسوخت کے مرتب قیوم نظر ہیں۔کلیات ناسخ کو یونس جاوید نے مرتب کیا۔انتخاب غزلیات خسرو کے مرتب وزیرالحسن عابد ی ہیں۔کلیات مصحفی کے مرتب داکٹر نورالحسن نقوی ہیں۔

اورنٹیئل کالج لاہور اور مجلس ترقی ادب کے علاوہ  غلام رسول مہر نے خطوط غالب اور دیوان غالب کو مرتب کیا۔دیوان ولی اور اردو کلیات غالب کو ڈاکٹر محمد خان اشرف نے مرتب کیا۔دیوان ولی اللہ محب کو ڈاکٹر شگفتہ زکریا نے مرتب کیا۔

اس دبستان کی بنیادی خصوصیت جدت پسندی ہے۔ڈاکٹر محمد عظمت رباب لکھتے ہیں

"لاہور شعر و ادب کا مرکز رہا ہے۔رسائل و جرائد کے اجرا اور فروغ میں بھی دبستان لاہور کا نمایاں کردار رہا ہے۔اس دبستان کی نمایاں خصوصیت  یہ ہے کہ اس میں جدید تقاضوں اور تحریکوں کو جذب کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔اس لیے یہ دبستان جدت پسندی کی خصوصیت رکھتا ہے۔”

دبستان لاہور کے تحت شاعری،نثر،ڈرامہ،مذہبی تصانیف،تذکرے،داستان اور مکاتیب و مقالات کو مرتب کیا گیا۔املا کی خصوصیات اور رسم الخط کے بارے بھی تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔کاسیکی متون کو مدون کرنے کا کام مجلس ترقی ادب نے بہت کیا اور ابھی بھی جاری ہے۔دبستان لاہور میں تدوین و تحقیق کے ساتھ تنقیدی آرا کا بیان بھی ملتاہے۔ مجلس ترقی ادب کے تحت مرتبہ کتب کے مقدمات عموما مرتب کے علاوہ کسی دوسری شخصیت نے لکھے ہیں۔اس روایت کو سائنسی انداز میں پیش کیا گیا۔ (یہ بھی پڑھیں تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی بھٹی )

کراچی کے دبستان کا طریق اور طرز کار مغرب سے مشابہت رکھتا ہے۔کراچی کا ادبی اثاثہ انگریزی طریق کا مظہر ہے۔قیام پاکستان کے ساتھ ہی ہندوستان سے اردو زبان بولنے والوں نے کراچی کی طرف رخ کیا۔ایک تو اس علاقے تک رسائی آسان تھی۔دوسرا دارالخلافہ ہونے کی وجہ سےکراچی کی اہمیت مسلمہ تھی۔اورنگ آباد سے انجمن ترقی اردو کا دفتر بھی کراچی ہی  میں قائم کیا گیا۔مولوی عبدالحق نے کراچی ہی میں اس ادارے کی بنیاد رکھی اور تدوین کی روایت کو مزید زرخیز کیا۔آل انڈیا محمڈ ن ایجوکیشنل کانفرنس کے لٹریری سیکشن کو ” انجمن ترقی اردو” کا جب نام دیا گیا تو شبلی نعمانی اس کے سیکرٹری منتخب ہوئے۔بعد ازاں مولانا حبیب خان شیروانی،مولوی عزیز مرزا بھی اس کے سیکرٹری رہے۔انجمن کے مقاصد درج ذیل تھے

1۔اردو زبان میں پیدا شدہ خرابیوں کو رفع کرنا ،جسے اصلاح زبان کا نام دیا گیا۔

2۔اردو زبان کو رواج دینے کی کوشش کرنا

3۔قدیم کلام کی حفاظت کرنا اور اسے جدید طریقے کو بروئے کار لانا

4۔علمی کتب کی اشاعت اور اصطلاحات کی لغت کو ترتیب دینا

5۔اردو کی تدریسی کتابوں کی جانچ کرنا اور خرابی کی صورت حکومت سے اصلاح احوال کا مطالبہ کرنا

6۔قدیم وجدید کتب کا ایک کتب خانہ کا قیام عمل میں لانا

7۔مالی بہتری کی صورت میں رسالہ کا اجرا کرنا

ان مقاصد کے تحت انجمن کے ادارے نے کام کرنا شروع کیا اور جنوری 1921 میں ” اردو” کے  نام سے رسالہ بھی جاری کیا گیا۔بعد میں "ہماری زبان” ،”معلومات سائنس”،”فرہنگ پیشہ اصطلاحات وراں”،” تاریخ و سیاسیات”  اور ” معاشیات ” کا بھی اجرا کیا گیا۔مولوی عبدالحق 28 جنوری 1949 ء کو بمبئی سے کراچی تشریف لائے۔انجمن کے تحت اردو کالج کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔بابائے اردو مولوی عبد الحق کے انجمن ترقی اردو  کراچی سے تعلقات نشیب و فراز کا شکار رہے۔

"شہاب الدین ثاقب لکھتے ہیں پاکستان میں بھی انجمن ترقی اردو نشیب و فراز کے مختلف مراحل سے گزری لیکن اس نے اپنا کام جاری رکھا۔پاکستان میں مولوی صاحب کی خاطر خواہ قدر نہیں ہوئی۔اردو تحریک کو وہ اپنی مرضی سے چلانا چاہتے تھے۔انجمن کے ملازموں کو خود مقرر کرنا چاہتے تھاور مسودات کے انتخاب میں دخیل تھے لیکن یہ باتیں انجمن کو پسند نہ تھیں”

ایوب خان کے دور میں بابائے اردو مولوی عبدالحق کو انجمن ترقی اردو پاکستان کا چیئرمین بنا دیا گیا۔اردو یونیورسٹی کے قیام کا خواب آپ کی زندگی میں پورا نہ ہوا اور 16 اگست 1961 ء کو انتقال کر گئے۔انجمن ترقی اردو نےمخطوطات کی اشاعت کی طرف خاص توجہ دی۔

تذکرہ خوش معرکہ زیبااور کلیات یگانہ کو مشفق خواجہ نےمرتب کیا۔دیوان حسن شوقی،دیوان نصرتی اور کدم پدم راؤ کو ڈاکٹر جمیل جالبی نے مرتب کیا۔مثنوی نوسرہار اور سنگھا سن بتیسی سمیت مختلف مخطوطات کو افسر صدیقی امروہوی نے مرتب کیا۔ارمغان گوگل پرشاد اورقمر زمانی بیگم کو ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے مرتب کیا۔پھول نامہ اور خاور نامہ کے مرتب شیخ چاند ابن حسین ہیں۔دیوان تراب اور قصہ رنگین گفتار کو ڈاکٹر سلطانہ بخش نےمرتب کیا۔گلشن ہمیشہ بہار کو ڈاکٹر اسلم فرخی نے مرتب کیا۔جنگ نامہ آصف ا لدولہ کو ایوب قادری،دیوان فغاں کو سید صباح الدین عبدالرحمن،مسدس رنگین کو تحسین سرور  نے مرتب کیا۔دبستان کراچی میں تدوینی عمل کے وقت آخر پر فرہنگ کو بھی دیا گیا۔دبستان کراچی کے مدونین لسانی مباحث کو خاصی اہمیت دیتے تھے۔بعض نسخوں کے تعارف تو نہیں لیکن لسانی بحثیں ملتی ہیں۔اس دبستان کے تحت وحید نسخوں کو بھی مرتب کیا گیا۔

دبستان پٹنہ کی روایت کے اہم مدونین میں سے قاضی عبدالودود،کلیم الدین احمد،سید شاہ عطا الرحمن عطا کاکوی،حمید عظیم آبادی،سید عاشق حسین وصل لکھنوی،حبیب الرحمن چغانی کے نام شمار میں ہیں۔دیوان جوشش،دیوان رضا عظیم آبادی،دیوان نوازش اور قاطع  برہان کو قاضی عبدالودود نے مرتب کیا۔دیوان جہاں بینی نرائن جہاں،تذکرہ شورش،تذکرہ عشقی،کلیات شاد کو کلیم الدین احمد نے مرتب کیا۔طبقات الشعرائے ہند،تذکرہ مسرت افزا،دیوان خواجہ امین الدین عظیم آبادی کے مرتب سید شاہ عطاء الرحمن کاکوی ہیں۔مئے خانہ الہام یعنی دیوان شاد،شہیدان رضا یعنی مراثی جلد اول ،دوم،سروش ہستی،فروغ ہستی  اور لمعات شاد کو حمید عظیم آبادی نے مرتب کیا۔

قاضی عبدالودو کے متعین کردہ اصولوں کی پاسداری کی گئی۔حوالوں کے بیان میں محتاط بیانی اس دبستان کی خاص صفت رہا۔متون کی موضوعاتی اور لسانی خصوصیات کو مقدمے میں درج کر کے امثال سے توضیح دی۔اس دبستان کے تحت زیادہ تر پٹنہ کے مصنفین کے کام کو ہی مدون کیا گیا۔اس دبستان کے مدونین اسے دبستان بہا ر بھی کہتے تھے۔

جب راجہ کمایوں نے داؤد خان کو روہیلوں کی مدد سے کٹھیر پر حملہ کے لیے بھیجا تو اسے شکست ہوئی۔راجہ کمایوں نے داؤد خان کو قید کرکے اس کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیے۔روہیلوں نے بعد میں داؤد خان کے پوتے علی محمد خان کو اپنا سردار منتخب کیا اور یہی علی محمد خان روہیل کھنڈ کے بانی اور ریاست رام پور کے مورث اعلی ہیں۔نواب محمد علی خان،نواب غلام محمد خان،نواب محمد سعید خان،نواب یوسف علی خان فردوس،نواب کلب علی خان،نواب مشتاق علی خان عرش،نواب حامد علی خان جنت مکان،نواب رضا علی خان خلد اللہ یکے بعد دیگر ے اس ریاست کے حکمران ہوئے۔ڈاکٹر عظمت رباب لکھتے ہیں:

"1947 ء تک ریاست رام پور کسی نہ کسی شکل میں قائم رہی۔تقسیم کے بعد یہ ہندوستان میں شامل ہوئی اور الگ شہر و ضلع کے طور پر مشہور ہوئی۔نوابان رام پور کی علم و ادب کی سرپرستی،رضا لائبریری رام پور،میرزا غالب کا تعلق،فضل حق خیر آبادی،امیر مینائی،میر غلام علی عشرت،قائم چاند پوری،قدرت اللہ شوق،غلام ہمدانی مصحفی،ضیاء الدین عبرت اس تہذیبی مرکز کے حوالے ہیں۔یکم جولائی 1949 ء کو رام پور کی ریاست کو جمہوریہ بھارت میں ضم کر دیا گیا۔

مکاتیب غالب،انتخاب غالب،نادرات شاہی،سلک گوہر ،رانی کیتکی کی کہانی،محاورات بیگمات ،دیوان غالب نسخہ عرشی،دستور الفصاحت،فرہنگ غالب ،وقائع عالم شاہی کو امتیاز علی خان عرشی نے مرتب کیا۔مثنوی تصویر محبت،قائم چاند پوری،متاع فقیر کے مرتب عابد رضا بیدار ہیں۔اکبر علی خان عرشی زادہ نے دیوان غالب بخط غالب کو مرتب کیا۔

دبستان رام پور کے تحت مرتب ہونے والے نسخوں کا بنیادی موضوع غالبیات رہا۔اس دبستان کے تحت کلاسیکی متون کی تدوین عمل میں آئی۔اس دبستان کے مدونین عربی و فارسی پر مہارت رکھتے تھے۔اس دبستان میں حواشی کو ماخذ کے لیے استعمال کیا گیا۔اختلاف نسخ کا اندارج حواشی میں کیا گیا۔اگرچہ عابد رضا بیدار کا تدوینی کام اس دبستان کے اصولوں سے قدرے انحراف کرتا دکھائی دیتا ہے۔

دہلی شعر و ادب کا مرکز رہا ہے۔اپنی ثقافت اور روایت کی وجہ سے شاعری پر زیادہ کام ہوا۔کلاسیکی اور وسطی دور کے متون کو مرتب کیا گیا۔انجمن ترقی اردو ہند نئی دہلی اور دہلی یونیورسٹی نے اس سلسہ میں اہم خدمات سر انجام دی ہیں۔دبستان دہلی کے اہم مدونین میں مالک رام،رشید حسن خان،ڈاکٹر تنویر احمد علوی،نثار احمد فاروقی،ڈاکٹر خلیق انجم،محمد اکبر الدین صدیقی،ڈاکٹر خواجہ احمد فاروقی،ڈاکٹر فضل حق کامل قریشی،گوپی چند نارنگ،ڈاکٹر اسما سعیدی،مرزا فرحت اللہ بیگ،شامل ہیں۔

خطوط غالب،گل رعنا،دیوان غالب،خطبا ت آزاد،تذکرہ مولابا ابوالکلام آزاد غبار خاطر کو مالک رام نے مرتب کیا۔مالک  رام کا موضو ع غالبیات اور مولانا ابوالکلام  آزاد ہے۔مقدمات میں نسخے کا تعارف اورخصوصیات کو درج کیا ہے۔مالک رام تفصیلی حواشی درج کرتے ہیں فسانہ عجائب ،باغ وبہار،گلزار نسیم،سحر البیان،مثنویات شوق،زٹل نامہ کو رشید حسن خان نے مرتب کیا۔ رشید حسن خان نے فیص احمد فیض کی شاعری کی زبان و بیان کی خامیوں او ر ناہمواریوں پر کئی مضامین لکھے ہیں۔متن ،صحت متن،منشائے مصنف اور تحقیق کے ساتھ تنقید کے عناصر کو یکجا کر کے مدونہ کام تکمیل تک پہنچایا ۔حوالے اور ماخذ میں احتیاط کے قائل ہیں۔ان کے نزدیک تمام ممکنہ نسخوں تک رسائی لازمی ہے۔مقدمے میں مصنف کے تعارف کو مختصر بیان کرنے کے قائل ہیں۔ان کے نزدیک مصنف کی کسی سوانحی کتاب کا حوالہ کافی ہے۔مقدمے میں نسخوں کا تعارف تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔کلیات ذوق کلیات شاہ نصیر کو ڈاکٹر تنویر احمد علوی نے مرتب کیا۔تنویر احمد علوی کا موضوع ذوق اور شاہ نصیر ہیں۔کلیات ذوق کےمقدمے میں آزاد کے تصرفات  کی نشاندہی کی ہے۔تذکرہ طبقات الشعرا اور کلیات مصحفی کو نثار احمد فاروقی نے مرتب کیا۔ڈاکٹر خلیق انجم نے غالب کی نادر تحریریں،مرزا مظہر جان جاناں کے خطوط،آثار الصنادید،اور غالب کے خطوط کو پانچ جلدوں میں مرتب کیا۔کربل کتھا،عمدہ منتخبہ،گنج خوبی،دیوان  بقا اکبر آبادی کے مرتب خواجہ احمد فاروقی ہیں۔معراج العاشقین کو گوپی چند نارنگ نے مرتب کیا۔دیوان نظیر اکبر آبادی اور دیوان یقین کو مرزا فرحت اللہ بیگ نے مرتب کیا۔

دبستان دہلی کی منفرد خصوصیات میں سے غالب کے خطوط کی تدوین،مشہور داستانوں اور مثنویوں کو سائنسی انداز میں مدون کرنا ہے۔اس دبستان کے مدونین کے مقدمات میں تحقیق مباحث زیادہ اور تنقیدی مباحث کم ملیں گے۔نسخوں کے حوالہ اور تعارف میں احتیاط برتی جاتی ہے۔نسخوں مخففات بھی درج کیے جاتے ہیں۔تقابلی مطالعہ کو اختیار کیا گیا۔طرز تدوین کو مقدمے میں واضح کر دیا جاتا ہے۔حواشی میں اختلاف نسخ ،تلفظ اور املا کے مسائل کا بیان ملتا ہے۔فرہنگیں بھی دی جاتی ہیں۔

دبستان لکھنو میں نثری و شعری متون کو مرتب کیا گیا ہے۔اس دبستان کے اہم ناموں میں مسعود حسن رضوی ادیب، عبدالباری آسی، سید اظہر مسعود رضوی،داکٹر محمود الہی،شاہ عبدالسلام،نورالحسن ہاشمی،مرزا جعفر علی نشتر لکھنوی، ڈاکٹر اکبر حیدری کاشمیری،ڈاکٹر سید سلیمان حسین کے نام مذکور ہیں۔

ڈاکٹر مسعود حسن رضوی ادیب نے مجالس رنگین،دیوان فائز،تذکر ہ نادر،گلشن سخن ،اندر سبھا کو مرتب کیا۔مسعود حسن رضوی ادیب کی حیثیب نقاد،محقق اور ماہر لسانیات کی ہے۔آپ نے اہم اور نایاب متون کی تدوین کی۔مقدمات میں نسخوں کا تفصیلی تعارف درج نہیں کرتے  صرف تعداد کا ذکر کرتے ہیں اور بعض کے اختلاف نسخ بھی درج نہیں کرتے۔ان کے متون زمانی اور موضوعاتی حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔ان متون کی تاریخی حیثیت کےپیش نظر بہت وقیع ہیں۔دیوان درد،کلیات میر،کلیات نظیر اکبر آبادی کو عبدالباری آسی نے مرتب کیا۔میر کی مثنوی دریائے عشق کے مرتب سید اظہر مسعود رضوی ہیں۔اردو کے پہلے ناول خط تقدیر ،مولوی کریم الدین کے مرتب ڈاکٹر محمود الہی ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے گلستان بے خزاں،تذکرہ نکات الشعرا،تذکرہ شورش کو بھی مرتب کیا۔کلیات شوق کو شاہ عبدالسلام نے مرتب کیا۔رانی کیتکی کی کہانی کو ڈاکٹر سید سلیمان نے بھی مرتب کیا ہے۔کلیات ولی،نوطرز مرصع،کلیات حسرت دہلوی،بکٹ کہانی کو ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی نے مرتب کیا۔اپ کی پہچان نقاد،محقق اور مدون کی ہے۔مقدمات میں نسخوں کا تعارف اور متن کی خصوصیات کا تعین کرتے ہیں۔تاریخی حوالہ سے مصنف اور متن کی اہمیت اور پس منظر کا بیان بھی ملتا ہے۔

دبستان اعظم گڑھ میں تدوین کے حوالے سے اہم نام مولانا سید سلیمان ندوی کا ہے۔۔”الہلال ” میں مولانا ابو الکلام آزاد کے ساتھ کام کیا۔مولانا سید سلیمان ندوی مولانا شبلی نعمانی کی سوانح ” حیات شبلی ” کے مرتب ہیں۔آپ نے "کلیات شبلی” کوبھی مرتب کیا۔

دبستان لکھنو اور اعظم گڑھ کی تدوینی خصوصیات کا اگر تعین کیا جائے تو ان مدونین کے مقدموں میں تفصیل سے موضوع متن اور لسانی جائزے پیش کیے گئے ہیں۔متون کے متعد د نسخہ جات کی مدد سے مرتب کیا گیا۔

دبستان علی گڑھ میں کلاسیکی شاعری متون کی تدوین کی گئی ہے۔نثری متون کی تدوین کم ہے۔کلاسیکی متون کی حفاظت اور متون کے مستند نسخوں کی فراہمی میں دبستان علی گڑھ نے اہم کام سر انجام دیا۔اس دبستان کے اہم مدونین میں حبیب الرحمن خان شیروانی،جلیل احمد قدوائی،ڈاکٹر محمد حسن،ضیا احمد،ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو،ڈاکٹر مسعود حسین خان،ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی،خورشید الاسلام،ڈاکٹر انصار اللہ شامل ہیں۔

تذکرہ شعرائے اردو اور نکات الشعرا کو حبیب الرحمن خان شیروانی نے مرتب کیا۔گلشن ہند،تذکرہ آزردہ اور دیوان حضورشیخ غلام یحیی حضور کو ڈاکٹر مختار الدین آرزو نےمرتب کیا۔تدوین میں ان کا ایک اور اہم کام کربل کتھا کی دریافت ہےجو انھوں نے جرمن کتب خانے سے دریافت کیا۔اس کی اشاعت اولین خواجہ احمد فاروقی کے حصہ میں آئی لیکن اولین دریافت آزردہ کی ہے ہے۔دیوان قائم کے مرتب خورشید الاسلام ہیں۔تذکرہ قطعہ منتخبہ کو ڈاکٹر انصاراللہ نے مرتب کیا۔ڈاکٹر محمد حسن نے کلیات سودا اور دیوان آبرو کو مرتب کیا ۔محمد حسن نےمقدمہ میں سودا کے کلام کو تاریخی ترتیب سے جدول کی صورت پیش کیا۔گویا ارتقائی جائزہ لیا گیا ہے۔شاہ نجم الدین مبارک آبرو کے دیوان کو چھے نسخہ جات کی مدد سے مرتب کیا۔قصہ مہر افروز و دلبر کو ڈاکٹر مسعود حسین خان نے مرتب کیا۔اس کو وحید نسخہ سے مرتب کیا گیا۔مقدمے میں مصنف کے نام کے مباحث کے تاریخی حوالے ملتے ہیں۔اس مدونہ کتب کی لسانی خصوصیات کا بیان بھی ملتا ہے۔ڈاکٹر نذیر احمد نے نورس جو کہ ابراہیم عادل شاہ ثانی کی موسیقی کی کتاب ہے کو مرتب کیا۔ابراہیم عادل شاہ ثانی "جگت گرو” کے نام سے مشہور تھے۔مقدمے میں گیتوں اور راگنیوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔دکنی لسانی اصولوں کے بیان کے بعد نورس کی لسانی خصوصیات کا تعین کیا گیا ہے۔متن کے بعد گیتوں کے تراجم کی اندراج کی بدولت جدید دور کا قاری بھی لذت آشنا ہو سکتا ہے۔نو مخظوطوں کی مدد سے اس کا متن مرتب کیا گیا۔متن کے لیے تین نسخوں کو بنیادی حوالہ بنا یاجو ابراہیم عادل شاہ کے دور میں تحریر ہوئے تھے۔گیتوں کی ترتیب  منشائے مصنف کے مطابق ہے۔دیوان درد اور کلیات فانی کوڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی نے مرتب کیا۔فہرست میں کلام کی خصوصیات کا ذکر کیا گیا ۔فانی کے مطبوعہ نسخوں کی مدد سے کلیات کی ترتیب کی گئی ہے۔مقدمے میں فانی کی حیات،شخصیت اور تصور غم پر مبحث درج ہے۔فانی اور میر کے غم  کی مماثلت اور اختلافات کو امثال سے واضح کیا ہے۔دیوان شاکر ناجی کی مرتبہ ڈاکٹر افتخار بیگم صدیقی ہیں۔

دبستان علی گڑھ کی تدوینی خصوصیات کا اگر اجمالی جائزہ پیش کیا جائے تو کچھ یوں ہو گا۔کلاسیکی متون کی تدوین کو اہمیت دی گئی ہے۔متون کی تدوین میں متعدد نسخہ جات کی مدد سے درست متن تک رسائی کرتے ہیں۔وحید نسخے پر متن کی بنیاد کی کمزوری کی بدولت شاذ ہی اسے اہمیت دی۔نسخوں کا تعارف اور خصوصیات کا تعین کرتےہیں ۔لسانی مباحث کا بیان بھی ملتا ہے۔

دبستان الہ آباد میں مرزا محمد عسکری جو کہ کلام انشا کےمرتب ہیں کا نام اہم ہے۔اس کے علاوہ سید محمد مبین نقوی الہ آبادی جنھوں نے جان صاحب کی تاریخ ریختی مع دیوان مرتب کیا کا نام اہم ہے۔دبستان بمبئی میں کالی داش گپتا رضا،اور عبدالزاق قریشی کے نام قابل مذکورہیں۔کالی داس گپتا رضا نے کلیات چکبست،پنج آہنگ میں مکاتیب غالب،دیوان غالب کامل،تاریخی ترتیب کے ساتھ،جوش ملسیانی مع انتخاب کے مرتب ہیں۔دیوان عزلت جو کہ سید عبدالولی عزلت سورتی کا ہے ،اسے مرتب کیا۔

اس تدوینی روایت سے تاریخی مغالطے فرو کرنے میں مدد ملی۔معلومات کا ایک انبوہ کثیر ہاتھ آیا۔تحقیق کے لیے اہم اور صحیح متون کی دستیابی ممکن ہوئی۔لسانی مباحث نے لسانی علم کو تقویت دی۔فرہنگوں کی مد د سے ایک عام قاری کی جڑت بھی شعر اور شاعری سے ہوئی۔نئے تنقیدی تصورات اور مختلف نقطہ ہائے نگاہ سامنے آئے۔تدوینی روایت کی بدولت کئی مخطوطات کی ایک سے زیادہ بار تدوین کی بدولت حرکی عمل میں وسعت پیدا ہوئی۔جدید دور کے مدونین کو اصول اور متعین پیمانے ہاتھ آئے جس کی بدولت ان کے کام میں آسانی پیدا ہوئی۔

کتابیات۔

1۔ڈاکٹر گیان چند،تحقیق کا فن،اسلام آباد،مقتدرہ قومی زبان،2003

2۔ڈاکٹر تنویر احمد علوی،اصول تحقیق و ترتیب متن،لاہور،سنگت پبلشرز،2003

3۔ڈاکٹر خلہق انجم،متنی تنقید،کراچی،انجمن ترقی ارد و پاکستان،2006

4۔ڈاکٹر عظمت رباب،اردو تدوین متن کے دبستان،سنگ میل پیلی کیشنز لاہور،لاہور،2016

5۔ڈاکٹر عظمت رباب،اردو تدوین متن کی روایت،سنگ میل پبلی کیشنز لاہور،لاہور،2017

6۔ڈاکٹر عظمت ربا،اردو تدوین متن کے علمبردار،سنگ میل پبلی کیشنز لاہور،لاہور،2016

 

نثار علی بھٹی

ایس ایس اای اردو

گورنمنٹ ہائی سکول کوہلیاں

nisarbhati786@gmail.com

0302-6791505

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

نثار علی بھٹی
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
آ کہ پھر لوٹ چلیں ہم – اکملؔ نذیر
اگلی پوسٹ
وبا سے تحفظ کے لیے ذمہ دارانہ رویہ – حنا خان

یہ بھی پڑھیں

کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس...

مئی 5, 2026

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

رولاں بارتھ،غالب  اور شمس الرحمان فاروقی – ڈاکٹر...

فروری 25, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں