دنیا کے تمام انسان کن حالات سے دوچار ہے اس سے سبھی بخوبی واقف ہیں- ‘کرونا’ نامی وبا نے تمام انسانوں پر رقت طاری کردی ہے- اس وبا کی شناخت دسمبر2019 میں ہوئی اسی لیے اس کا نام covid 19 رکھا گیا- عالمی ادارہ صحت(WHO) نے 11 مارچ 2020 کو اسے ایک وبائی مرض قرار دیا –
ایک سال قبل اس مرض نے ایسا قہر برپا کیا جو آج تک نہیں تھما- دن بہ دن حالات بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں- شرح اموات میں اس قدر اضافہ ہو گیا ہے کہ مردوں کو جلانے اور دفنانے کے لیے شمشان اور قبرستان میں جگہ میسر نہیں – ہندوستان میں تو اس وبا کا قہر عروج پر ہے-
حیرت ہوتی ہے اس بات پر کہ اس وبا نے تباہی مچائی ہوئی ہیں, لوگ اپنے عزیزوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دم توڑتا ہوا دیکھ رہے ہیں ,اس کے باوجود کئی لوگوں کے نزدیک "کرونا ہے یا نہیں ہے! یہ موضوع زیر بحث بنا ہوا ہے-
اور یہں وجہ ہے کہ ایسے لوگ حد درجہ قسم کی بے احتیاطی کررہے ہیں اور جواز یہ پیش کررہےہیں کہ ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے ,کچھ نہیں ہوتا, وغیرہ وغیرہ – چند افراد کا یہ رویہ ان کے ساتھ دوسروں کو بھی پریشانی میں مبتلا کرنے کا باعث بن رہا ہے- بے شک اللہ رب العالمین پر توکل ہونا چاہئے لیکن ساتھ کوشیشیں بھی ہو – بنا کسی تدبیر کے محض اللہ پر توکل کیے بیٹھنا, یا اپنی تدبیریں کرکے اسی پر اکتفا کرنا یہ دونوں ہی رویے ٹھیک نہیں اسی لیے انسان کو چاہئے کہ وہ درمیان کا راستہ اختیار کرے-
اللہ پر توکل اپنی احتیاط اور تدابیر کے ساتھ کریں-اسی سے کسی بھی معاملہ میں انسان کامیابی کی امید کرسکتا ہے -مسلمانوں کے لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے آپ اپنی تمام کوشیشیں بھی کرتے اور اللہ رب العالمین پر توکل بھی کرتے- جب کبھی آپ کو کوئی مشکل درپیش ہوتی تو آپ سب سے پہلے دو رکعت نماز ادا کرتے اللہ کے حضور گریہ وزاری کرتے اور پھر تدبیروں و علاج کی طرف دوڑ لگاتے-
لہذا، اس سخت ترین دور میں وہی طریقہ اپنا نا چاہیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنایا کرتے تھے-
کیونکہ ایسے وقت میں بہت ضرورت ہے کہ عوام اپنی ذمہ داری سمجھے اور اس وبا سے تحفظ کے لیے اللہ پر توکل کے ساتھ ایک ذمہ دارانہ رول پلے کریں-
صفائی کااہتمام :
"صفائی نصف ایمان ہے-” مندرجہ بالا حدیث سے صفائی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کے اندر صفائی ستھرائی ہونا کتنا ضروری ہے-اور مذہب اسلام میں اس کی بہت تاکید ہے- یوں تو ہمیشہ ہی انسان کو پاک وصاف رہنا چاہئے لیکن موجودہ وقت میں اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے – لہذا اپنے جسم کی اپنے آس پاس کی صفائی کا بہت ذیادہ اہتمام کیا جائے-
اپنے ہاتھوں کو صابن سے بار بار دھویا جائے- سینیٹائزر کا استعمال کیا جائے – ہر وقت باوضو رہنے کی کوشش کی جائے –
احتیاط کا رویہ اپنایا جائے :
احتیاط دونوں حالتوں میں کرنا ضروری ہے .
1 مرض ہونے سے پہلے
2 مرض ہوجانے کے بعد
1- مرض ہونے سے پہلے احتیاطیں :
باہر سے لائی ہوئی اشیا مثلاً دودھ کا پیکٹ , فوڈ پیکٹ وغیرہ کو اچھی طرح دھو کر استعمال کیا جائے- خرید و فروخت کرنے والوں سے یا کسی سے بھی پیسوں کا لین دین ہو تو ہاتھوں کو اچھی طرح سینیٹائز کیا جائے-
باہر سے آنے کے بعد ہاتھ منہ اچھی طرح دھوجائے ممکن ہوتو وضو ہی کرلیا جائے – معوملی سردی زکام بھی محسوس ہو تو فوراً سادے گرم پانی کی بھاپ لی جائے اور گرم پانی پیا جائے –
2- مرض ہونے کے بعد احتاطیں: مرض کی تشخیص ہونے پر مریض کو فوراً تمام افراد خانہ سے الگ ہوجانا چاہیے مریض کے استمال کی چیزیں اور کھانے کے برتن وغیرہ کو علیحدہ کردینا چاہئے – مریض کو ہر بار واش روم استعمال کرنے کے بعد پانی کو خوب بہانا چاہیے – دوائیوں کے ساتھ دن بھر میں دن دفعہ گرم پانی پینا چاہئے- جس کمرہ میں مریض ہے اس کمرہ کی تمام چیزوں پر اسپرے کا چھڑکاؤ کرنا چاہیے اور فرش پر ڈیٹول کا پوچھا لگوانا چاہیے- وقتاً فوقتاً ڈاکٹر کی صلاح لینی چاہئے –
سوشل ڈسٹنس و ماسک : اگر باہر جانے کی شدید ضرورت آن پڑے تو سوشل ڈسٹنس کا مکمل طور سے خیال رکھنا چاہئے اورماسک لازمی طور سے لگانا چاہیے – (یہ بھی پڑھیں ايام معدودات (گنتی کے چند دن) – حنا خان)
انتظامیہ و صحت عامہ کی ہدایات پر عمل آوری :
اس وبا سے بچاؤ کے لیے انتظامیہ و صحت عامہ کا عملہ جو ہدایت دیں اس پر سنجیدگی سے عمل کرنا چائیے-
افواہیں پھیلانے سے پرہیز :
ایسے دور میں جہاں ہر وقت ہی خوف وہراس کا ماحول ہے عوام بنا تصدیق کیے کسی بھی افواہ کو نہ پھیلائیں –
اللہ کے حضور توبہ و استغفار : ذمہ داری میں یہ بھی شامل ہے کہ اللہ کے حضور خوب توبہ و استغفار کریں اور تمام عالم اسلام کے لیے خوب خوب دعائیں مانگیں- عوام کو چاہیے کہ وہ مندرجہ بالا اصولوں پر عمل کرکے اس وبا سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کریں یقیناً ان کی یہ کوشیشیں خود ان کے لیے , ان کے عزیزوں, پڑوسیوں غرض سماج میں رہ رہے ہر شخص کے لیے سود مند ثابت ہوگی – انشا اللہ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

