— ماں ایک نور ہے جس کی روشنی سے ساری تاریکیاں دور ہوجاتی ہیں۔
— ماں ایک جگنو ہے جس کی چمک سے کائنات منور ہوجاتی ہے۔
— ماں ایک پھول ہے جو رہتی دنیا تک ساری کائنات کو مہکاتی رہے گی۔
— ماں ایک گیت ہے جسے بچہ گنگناتا رہتا ہے۔
— ماں قدرت کا ایک ایسا عطیہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔
— ماں ایک آہٹ ہے جس کے احساس سے ہی بچے کا چہرہ کھل اٹھتا ہے
— ماں ایک دعا ہے جس کی برکت مشکل راستوں کو بھی روشن کردیتی سے
دنیا میں کسی بھی مذہب کا ماننے والا یا کسی بھی زبان کا جاننے والا ماں کی عظمت کا منکر نہیں ہوسکتا۔ ہمارے ہندوستان میں تو ماں کو تقدس اور وفا کی دیوی کہا جاتا ہے۔ اسی لیے 9 مئی کو ماں کی عظمت اور عطوفت کو خراج پیش کرنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں ہر سال جوش و خروش کے ساتھ یوم مادر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ عالمی طورپر یوم مادر کی کوئی ایک متعین تاریخ نہیں ہے، پھر بھی یہ دن الگ الگ ملکوں میں الگ الگ تاریخوں میں منایا جاتا ہے۔ کچھ ممالک میں مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے تو کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جہاں یہ دن جنوری، مارچ، اکتوبر یا نومبر کے مہینے میں مناتے ہیں۔
ایک قول کے مطابق اس دن کے منانے کا آغاز قدیم یونان سے ہوا، جہاں یونانی دیوتاؤں کی ایک ماں تھی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مدر ڈے کا آغاز ایک امریکی کارکن انا جاریوس سے ہوتا ہے۔ انا جاریوس کو اپنی ماں سے بے حد لگاؤ تھا۔ جاریوس اپنی والدہ کے ساتھ رہتی تھی اور اس نے کبھی شادی نہیں کی۔ ماں کے انتقال کے بعد، انا نے ماں سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لیے مدرز ڈے کا آغاز کیا۔ تب سے، ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو مدرز ڈے منایا جاتا ہے۔
مختلف ممالک و اقوام کے پاس یوم مادر کو منانے کے اپنے اپنے طریقے ہیں۔ کچھ ممالک میں اگر یوم مادر کے موقع پر ماں کی عزت نہیں کی جاتی ہے تو یہ جرم سمجھا جاتا ہے۔ کچھ ممالک میں اسے یہ ایک چھوٹے سے مشہور تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔
ماں کو عربی زبان میں ’اُم‘ کہتے ہیں۔ یہ لفظ قرآن مجید میں 84 جگہوں پر آیا ہے، اسی ’ اُم‘ کی جمع ’امہات‘ ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں گیارہ مرتبہ آیا ہے۔ دیگر زبانوں میں ماں کو اماں، امی، ممی، مما، ماما، ماتا، مائی وغیرہ سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ماں کے بطن سے ہی بچے کی تخلیق ہوتی ہے۔ پیدائش کے بعد بچے کی پہلی خوراک ماں کا دودھ ہوتا ہے ۔ بچے کی پرورش میں ماں اپنے سارے عیش و آرام کو بھول جاتی ہے۔اگر کبھی بچے کو کوئی تکلیف ہو تو ماں بچے کی خاطر پوری پوری رات جاگتی رہتی ہے۔ اگر کبھی بچہ بستر پر پیشاب کردے تو ماں فوراً ہی اسے بدل کر یا سکھا کر بچے کو سلاتی ہے کہ کہیں اس سے بچے کو سردی نہ لگ جائے۔ بچے کی ایک آہٹ پر ماں فوراً حرکت میں آجاتی ہے اور اس کی مانگوں کو پورا کرتی ہے۔ بچہ جب بولنے کی عمر کو پہنچتا ہے تو سب سے پہلے اس کی زبان پر لفظ ’ماں‘ ہی ہوتا ہے گویا ماں کی گود بچے کی تعلیم کا پہلا مکتب ہے جو اسے چلنے پھرنے سے لے کر تعلیم و تربیت تک میں اپنا مثبت کردار نبھاتی ہے۔ماں بچے پر کبھی غصہ نہیںکرتی ہے۔ بچہ غلطیاں کرتا رہتا ہے اور ماں اسے بھولتی رہتی ہے۔ بیٹا ماں پر لاکھ ظلم و ستم کرے پھر بھی ماں ہمیشہ اپنے بچے کو دعائیں دیتی ہے، ’بددعا‘ کا کوئی لفظ تو کبھی ماں کی زبان پر بھول کر بھی نہیں آتا۔
ماں کی عظمت اورفضیلت کا ذکر دنیا کی تمام زبانوں میں موجود ہے۔ ماں کی تشریح علما، فضلا اور فلسفیوں و شاعروں نے اپنے اپنے طریقے سے کی ہے۔ ہمارے یہاں بھی ماں کی عظمت اور اس کے بلند درجات پر نثر اور نظم دونوں اصناف میں بیش بہا سرمایہ موجود ہے۔ ماں پر کہی گئی غزلوں کے ذریعے جن شعرا نے اپنی الگ پہچان بنائی، ان میں منور رانا کے علاوہ افتخار عارف، قیصر الجعفری، عباس تابش، سراج فیصل خان،تنویر سپرا، نظیر باقری، انجم سلیمی، سبط علی صبا، احمد سلمان، محمد علی ساحل، اسلم کولسری، عرفان صدیقی، اجمل اجملی، سید ضمیر جعفری، نواز دیوبندی، اقبال اشہر، راشد اعظمی، یوسف رامپوری وغیرہ کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ اس تعلق سے پیش ہیں کچھ اشعار ؎
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
(منور رانا)
دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے
(افتخار عارف)
ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
(عباس تابش)
گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں
مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں
(قیصرالجعفری)
کتابوں سے نکل کر تتلیاں غزلیں سناتی ہیں
ٹفن رکھتی ہے میری ماں تو بستہ مسکراتا ہے
(سراج فیصل خان)
اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے
(تنویر سپرا)
اس لیے چل نہ سکا کوئی بھی خنجر مجھ پر
میری شہ رگ پہ مری ماں کی دعا رکھی تھی
(نظیر باقری)
جنت کی کنجی ہے میری مٹھی میں
اپنی ماں کے پیر دباتا رہتا ہوں
(نواز دیوبندی)
مدتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل
مدتوں بعد ہمیں نیند سہانی آئی
(اقبال اشہر)
گر سکوں چاہتے ہو اے یوسف
ماں کے قدموں میں اپنا سر رکھیے
(یوسف رامپوری)
ماں کی عظمت کے تعلق سے علامہ اقبال کی نظم ’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘ کون بھول سکتا ہے۔علامہ اقبال کی یہ نظم ہر خاص و عام کے ذہن میں آج بھی تازہ ہے۔ علامہ اقبال کے علاوہ علی سردار جعفری، پیام اعظمی، رضا سرسوی، پروفیسر قمر رئیس، ندا فاضلی، وفا اعظمی، حقانی القاسمی، خالد بن سہیل وغیرہ نے بہترین نظمیں لکھی ہیں۔ مشہور شاعر ندا فاضلی نے ماں کے حوالے سے ایک بے حد جذباتی اور حقیقت پر مبنی نظم لکھی تھی۔پیش ہے وہ نظم:
بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹی چٹنی جیسی ماں
یاد آتی ہے! چوکا باسن چمٹا پھکنی جیسی ماں
بانس کی کھری کھاٹ کے اوپر ہر آہٹ پر کان دھرے
آدھی سوئی آدھی جاگی تھکی دوپہری جیسی ماں
چڑیوں کی چہکار میں گونجے رادھا موہن علی علی
مرغے کی آواز سے بجتی گھر کی کنڈی جیسی ماں
بیوی بیٹی بہن پڑوسن تھوڑی تھوڑی سی سب میں
دن بھر اک رسی کے اوپر چلتی نٹنی جیسی ماں
بانٹ کے اپنا چہرہ ماتھا آنکھیں جانے کہاں گئی
پھٹے پرانے اک البم میں چنچل لڑکی جیسی ماں
ماں کی عزت اوراحترام میں کچھ شاعروں نے گیت بھی لکھے ہیں، جن میںآرزو لکھنوی، ندا فاضلی، طاہر فراز وغیرہ کے نام لیے جاسکتے ہیں۔طاہر فراز مشاعروں کے مقبول شاعر ہیں جو اپنی بہترین شاعری اور ترنم کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ طاہر فرازکا ایک گیت ’مائی‘ بہت مشہورا ہوا تھا۔ گیت کے چند بند آپ بھی ملاحظہ کریں:
عنبر کی یہ اونچائی دھرتی کی یہ گہرائی، تیرے من میں ہے سمائی
مائی، او مائی
تیرا من امرت کا پیالہ، یہی کعبہ یہی شوالہ،تیری ماتاجیون دائی
مائی، او مائی!
جاڑے کی ٹھنڈی راتوں میںجب دیر سے میں گھر آؤں
ہلکی سی دستک پر اپنی تجھے جاگتا ہوا میں پاؤں
سردی سے ٹھٹھرتی جائے، ٹھنڈا بستراپنائے، مجھے دے گرم رضائی
مائی، او مائی!
شاعری کے علاوہ نثر میں بھی ماں کی عظمت پر عمدہ نمونے ملتے ہیں۔ اس ضمن میں سلمی کنول، بختیار ثاقب، قدرت اللہ شہاب، حکیم محمد طارق محمود، حنیف عبدالمجید، حقانی القاسمی، غلام حسن قادری، نایاب حسن وغیرہ کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ حقانی القاسمی نے اپنی کتاب ’ادب کولاژ‘ میں ’ماں—تحرک اور توانائی کا جمالیاتی استعارہ‘ کے نام سے ایک مضمون تحریر کیا ہے جس میں انھوں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آج کائنات میں جو نور اور روشنی ہے وہ ماں کی بدولت ہے۔کائنات میں اگر ’ماں‘ کا وجود نہ ہوتا تو شاید یہ کائنات بے نور ہوتی۔ اس تعلق سے یہ اقتباس ضرور پڑھیں:
’’دنیا کی سب سے خوبصورت نظم ’ماں‘ ہے۔
ماں ہی جمالیات کی معراج ہے اور سرچشمہ بھی۔ جمالیات کی ساری کرنیں،شعاعیں، لہریں ماں سے ہی منسوب ہیں۔ زندگی اور کائنات کی ساری کیفیتیں ماں کے وجود سے ہی ہیں۔ ماں نہ ہو تو زندگی بے رس، بے رنگ اور بے کیف ہوجاتی ہے اور یہی ایک ایسا وجودی عنصر ہے جس سے انسانی کائنات میں رنگ، نور اور روشنی ہے۔‘‘ (ادب کولاژ: حقانی القاسمی، عرشیہ پبلی کیشنز، نئی دہلی،2014، ص 198)
قرآن و حدیث میں بھی ماں کی بہت عظمت بیان کی گئی ہے۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ ’’ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے‘‘ آپؐ نے ماں کے درجے کو اس قدر اعلیٰ مقام کا حامل بتایا ہے کہ ماں کی اطاعت و فرماں برداری سے جنت کے راستے آسان ہوجاتے ہیں۔
اس تعلق سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ حقِ خدمت ماں کا زیادہ ہے اور اطاعت کا حکم بجا لانا باپ کا زیادہ ہے۔ نیچے دی گئیں چند احادیث سے آپ کو ماں کی فضیلت کا اندازہ ہوجائے گا:
.1 ایک آدمی رسول خدا کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ماں باپ میں سے کون زیادہ حقدار ہے جس کے ساتھ میں نیک سلوک کروں؟ تو آپ نے فرمایا : تیری ماں۔ اس نے دوبارہ پوچھا کہ ماں کے بعد؟ تو آپ ؐ نے جواب دیا تیری ماں۔ اس نے پھر پوچھا اس کے بعد؟ پھر بھی آپ ؐ نے جواب دیا کہ تیری ماں۔ اس نے وہی سوال پھر دوہرایا تو آپؐ نے فرمایا تیرا والد۔ (بخاری، مسلم، نوری، محدث، مرزا حسین، مستدرک الوسائل، ومستنبط المسائل، ج15، ص 181)
.2 اسی طرح ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آیا اور والدین سے نیکی کرنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرو، اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرو، اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرو۔ اپنے باپ کے ساتھ نیکی کرو، اپنے باپ کے ساتھ نیکی کرو، اپنے باپ کے ساتھ نیکی کرو، رسول اللہ نے باپ سے پہلے ماں کا ذکر کیا۔ (خوانساری، جمال الدین محمد، شرح غرر الحکم، ودرر الکلم، تہران، دانشگاہ تہران، 1373ج)
ایک صحابی نے نبی کریم ؐ سے پوچھا:کیا میںبھی جہاد میں شریک ہوجاؤں ؟ نبی کریم ؐ نے دریافت فرمایا کہ تمھارے ماں باپ موجود ہیں؟ انھوں نے کہا کہ جی ہاں موجود ہیں۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ پھر انہی میں جہاد کرو(یعنی ان کی خدمت کرو)(صحیح بخاری)۔
امام طبرانی نے اس حدیث پاک کو نقل کیا ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طَاعَۃ اللّٰہ فِی طَاعَۃ لوالد مَعصِیۃ اللّٰہ فِی مَعصِیۃِ الوَالد’’والد کی اطاعت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ والدین کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔‘‘
حدیثیں اور بھی ہیں لیکن یہاں ان کی گنجائش نہیں۔
بچو! آپ آئے دن اخبارات میں پڑھتے ہوں گے یا ٹیلی ویژن وغیرہ پر دیکھتے ہوں گے کہ فلاں بچے نے اپنی ماں کے ساتھ زیادتی کی ہے، اس کی ماں کئی دنوں سے بھوکی ہے، اس کو گھر سے نکال دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ والدین جب بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کی خدمت بچوں پر مزید بڑھ جاتی ہے۔ لیکن معاملہ اس کے الٹا ہے۔ کئی بار اس طرح کے واقعات دیکھنے میںا ٓتے ہیں کہ بیٹا اپنے بچوں کے ساتھ الگ رہتا ہے اور بوڑھے ماں باپ کو الگ رکھتا ہے۔ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ ان کی زندگی بڑی تکلیف میں گزرتی ہے۔ آپ اس طرح کی زیادتیوں سے بچیں ورنہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ماں کی ناراضگی کا انجام بہت برا ہوگا۔ (یہ بھی پڑھیں پریم چند کے چند افسانوں کا سماجی تجزیہ – فائقہ خالد)
پیارے بچو! کچھ سال پہلے دہلی میں ایک واقعہ پیش آیا تھا کہ بوڑھی ماں اکیلے گھر میں رہتی تھی، باپ کا انتقال ہوچکا تھا۔ بیٹا عیش و آرام سے امریکہ میں زندگی گزار رہا تھا۔اچانک ایک دن بیٹا دہلی آیا اور ماں سے کہنے لگا کہ ماں یہاں آپ اکیلے کیوں رہتی ہیں، گھر بیچ دیتے ہیں اور آپ ہمارے ساتھ چل کر امریکہ میں رہیں۔ ماں نے بچے کا حکم مانتے ہوئے گھر بیچ دیا۔ بیٹا ماں کو لے کر ایئرپورٹ گیا اور ماں سے کہا آپ یہیں انتظار کیجیے میں ابھی آتا ہوں۔ بیٹا پھر کبھی واپس نہ آیا، ماں انتظار کرتی رہ گئی ہے۔ آخرکار ماں اداس قدموں سے واپس اپنے اسی پرانے مکان میںا ٓئی جس کو اس نے کسی کے ہاتھ بیچ دیا تھا۔ خریدنے والے اچھے لوگ تھے، انھوں نے اس بوڑھی عورت کو اس گھر میں رہنے کے لیے جگہ دے دی۔ بچو! یہ بہت عبرتناک واقعہ ہے۔آپ اس واقعے سے سبق حاصل کیجیے اور یہ وعدہ کیجیے کہ ہم کبھی اپنے والدین کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں کریں گے!
مجھے امید ہے کہ اس مختصر سے مضمون سے ماں کی عظمت و وقعت کا اندازہ آپ کو ضرور ہوگیا ہوگا۔ ماں کو یاد کرنے کا کوئی ایک دن خاص نہیں ہے۔سال کے بارہ مہینے اور 365 دن ماں سے منسوب ہیں، ہمارا ہر ایک دن ماں کا ہے، ماں کے بغیر کسی دن کا وجود بھی نہیں ہے۔ ہمیں ہر حال میں ماں کی اطاعت و فرماں برداری کرنی چاہیے۔ وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو اپنی ماں کے سائے میں زندگی گزارتے ہیں، لیکن دنیا میں بہت سارے لوگ ایسے بھی مل جائیں گے جن کی مائیں بچپن میں ہی ساتھ چھوڑ گئی ہیں۔ والدین خاص طور پر ماں ہمارے لیے جنت کا راستہ ہے۔ والدین کی فرماں برداری اور اطاعت سے جہاں آپ کے لیے جنت کا راستہ آسان ہوگا وہیں دوسری طرف دنیا میں بھی ان شاء اللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی!
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

