انسانی زندگی میں خوشی اور غم دو اہم پہلو ہیں ۔انسان ہمیشہ سے یہ چاہتا ہے کہ وہ غموں سے دور رہے اور خوشی کا ہالہ ہمیشہ اسکے اطراف رہے ۔لیکن یہ بات ہمیشہ ممکن نہیں ہوسکتی۔انسان کو ہنسنے والا جانور کہا گیا ہے ۔کیونکہ دوسرے جاندار اس کیفیت سے محروم ہوتے ہیں ۔بعض لوگ مسرّت کے اظہارکو دبا لیتے ہیں پھر بھی چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ضرور نمودار ہوجاتی ہے۔اس طرح کے لوگ یا تو خشک مزاج ہوتے ہیں یا پھر اپنے آپ پر سنجیدگی کا لبادہ ڈال لیتے ہیں۔
اردو ادب میں طنزومزاح کی روایت بہت قدیم ہے۔چنانچہ اردو کی سب سے پہلی داستان ’’سب رس‘‘میں مزاح کے ہلکے ہلکے اشارے نظر آتے ہیں ۔جیسے جیسے زمانہ گذرتا گیا اردو ادب میں طنزومزاح نے اپنی جگہ بنالی۔ادب کی کوئ صنف ایسی نہیں جس میں ادیبوں اور شاعروں نے طنز و مزاح کا استعمال نہ کیا ہو۔زندگی کے مسائل سے مقابلہ کرنے کے لئے طنز و مزاح ایک اہم ذریعہ ہے ۔انسان پر مسرت کی یلغار ہو تو اس کے چہرے کے تأثرات بدل جاتے ہیں ۔حلق سے سانس ایک خاص انداز میں خارج ہوتی ہے،بانچھیں کال جاتی ہیں ،دانت باہر نکل آتے ہیں ،اور جسم کے روم روم سے انبساط جھلکنے لگتا ہے،حلق سے نکلنے والی آواز کو ہم ہنسی کہتے ہیں ،یہ ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان میں پایا جاتا ہے ۔کلیم الدین احمد کے مطابق جو شخص ہنس نہیں سکتا اس کو انسان شمار نہیں کیا جا سکتا۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ہنسی عموماً تکمیل اور بے ڈھنگے پن کے احساس کا نتیجہ ہے۔جسے اسکا احساس نہیں ،عؤیعنی جسے ہنسی نہیں
اسےہم انسان شمار نہیں کریں گے، ہنسی بھی ایک انسانی خصوصیت ہے اور زندگی کی نا تمامی کا نتیجہ ہے۔‘‘
(سخن ہائے گفتنی، ص۳۱۶)
کلیم الدین احمد کا یہ خیال بالکل درست ہے کہ جو شخص ہنس نہیں سکتا وہ انسان کہلانے کے قابل نہیں ،یہاں ایک بات کہنا ضروری ہے کہ انہوں نے ہنسی کو عدم تکمیل اور بے ڈھنگے پن کے احساس کا نتیجہ قرار دیا ،ان کے مطابق انسا ن نا کامیوں اور عدم تکمیل کے احساس کے نتیجے میں بھی ہنسنے لگتا ہے ،اور اس طرح اپنی کمی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ایک حد تک اس بات کو تسلیم کیا جاسکتا ہے لیکن غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہنسی در اصل خوش دلی کی ہنسی نہیں بلکہ یہ کھسیانی ہنسی ہے جس میں ملال،شرمندگی،اور مایوسی محسوس کی جا سکتی ہے۔ادب انسانی زندگی کا مظہر ہے جس میں خواب بھی ہیں اور تخیل بھی،زندگی کی سچائ بھی ہے اور اپنے زمانے کی روح بھی اس میں موجودہوتی ہے۔ادب میں تہذیبی اور انسانی قدریں ،میراث،تجربے ،خیالات اور جذبات موجود ہوتے ہیں۔ہر زبان کے ادب میں مزاح ایک اہم مقام رکھتا ہے ،جب ہم کسی زبان میں موجود مزاحیہ ادب کا مطالعہ کرتے ہیںتو اس دور کے تمدّنی،معاشی،سیاسی،اور ثقافتی حالات سے بھی آگاہی حاصل کرتے ہیں۔مزاح نگار کا کمال یہ ہوبا چاہیےکہ وہ زندگی کے حقائق کو ہنسی ہنسی میں اس طرح پیش کردےکہ تہذیب اور شائستگی کے حدوں میں رہ کر حیات انسانی کے نازک پہلو سامنے آجائیں۔ڈاکٹر محمد حسن کا خیال ہےکہ:
’’مزاحیہ ادب صرف تبسّم ہی کی نہیں غور وفکر کی بھی دعوت دیتا ہے اس لئے اچھے مزاح کا رخ محض اعصاب کی طرف نہیں ہوتاپوری شخصیت کی طرف ہوتا ہے‘‘
(ماہنامہ شب خوں،الہ باد،جولائ ۱۹۶۶ء)
ڈاکٹر وزیر آغا کے مطابق :
’’مزاح نگار جس چیز پر ہنستا ہے اس سے محبّت کرتا ہے اور اسے اپنے سینے سے چمٹا لینا چاہتا ہے‘‘
(اردو ادب میں طنز و مزاح، ص ۷۳)
ادب کا تعلق انسانی زندگی کی مختلف جہتوں سے ہوتا ہے جس میں ایک جہت نشاط ومسّرت ہے ۔زندگی کے اسی پہلو کو جب ادیب پیش کرتا ہے تو اسکی تحریر میں ایک ایسی شگفتگی پیدا ہو جاتی ہے جسکا نتیجہ نشاط اور انبساط ہے۔طنزایک ایسا پیرایہ اظہار ہے جس میں نشتریت اور چبھن موجود ہوتی ہے،یہ نشتریت اور چبھن اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ادیب پر برہمی کا جذبہ طاری ہوتا ہے ،ڈاکٹر وزیر آغا کے مطابق
’’ طنز زندگی سے برہمی کا نتیجہ ہے اور اس میں اغلب عنصر نشتریت کا ہوتا ہے طنز نگار جس چیزپر ہنستا ہے اس سے نفرت کرتا ہے،اور اسے تبدیل کرنے کا خواہاں ہیں۔‘‘
(اردو ادب میں طنزومزاح، ص ۷۳)
اردو ادب کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو طنزومزاح میں ایک گہرا تعلق ہے ،اگرچہ دونوں الگ الگ نوعیت کے حامل ہیں ،مگر پھر بھی ایک دوسرے سے چولی دامن کا ساتھ ہے ،اور ایک دوسرے سے اس طرح گتھے ہوئے ہیں کہ کبھی کبھی ان میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔رشید احمد صدیقی کے مطابق ’’طنز کو ذاتی دشمنی اور تعصب سے دور رہنا چاہئے ‘‘ وہ لکھتے ہیں :
’’ بہترین طنز کی اساسی شرط یہ ہیکہ وہ ذاتی عناد و تعصب سے پاک اور ذہن و فکر کی بے لوث برہمی یا شگفتگی کا نتیجہ ہو۔ ‘‘
(طنزیات و مضحکات، ص۲۶)
لہٰذا اگر ہم کسی کے ادبی تخلیق پر طنز کرنا ہو تو سب سے پہلے اپنے آپ پر طنز کریں تاکہ ہمارا طنز ذاتی عناد و تعصب سے پاک ہو جائے اور ذہن وفکر با لکل ذاتی دشمنی سے مبرّا ہوجائے ،جیسا کہ ہم پہلے بتاب چکے ہیں کے مزاح کے اولین نقوش ہماری داستانوں میں ملتے ہیں ،لیکن ان داستانوں میں نوک جھونک ،طعن وتشنیع،اور فقرے بازی کے نمثنے ملتے ہیں ،فقرے بازی اور الھڑ پن کی مثالیں ’’فسانہ عجائب‘‘ میں ، اور’’ داستان امیر حمزہ اور بوستان خیال‘‘ میں عیاری کے واقعات کے علاوہ بعض عناصرخلاف فطرت ہونے کے باعث استہزائیہ ہنسی کو بیدار کرتے ہیں ،حیدر بخش حیدری کی ’’طوطا کہانی‘‘ سید انشاء کی’’ رانی کیتکی کی کہانی‘‘ اور مہجور کی کتاب ’’نورتن‘‘ میں ظریفانہ انداز ہے۔ رجب علی بیگ سرور نے ’’فسانہ عجائب ‘‘ میں کانپور کی برسات کا خوبصورت طنزیہ ومزاحیہ انداذ میں ذکر کیا ہے۔ معیاری ظرافت کی بنیاد غالب نے اپنے خطوط کے ذریعے رکھی،ظرافت غالب کے مزاج کا جز تھی جو انکے اشعار میں،گفتگو میں اور خطوط میں نظر آتی ہے۔انہوں نے مراسلے کو مکالمہ بنایا،بلکہ بول چال کی اس زبان کو مزاح کی چاشنی بھی عطا کی ۔وزیر آغا لکھتے ہیں : ( یہ بھی پڑھیں ما بعد نو آبا دیات :حدود ، تعارف ،اہمیت – امبرین کوثر )
’’ غالب کے بعد اردو نثر میں مزاح نگاری کا اگلا دور ’’اودھ پنج‘‘ سے شروع ہوتا ہے ،اور اگرچہ بقول چکبست ’’اودھ پنج‘‘ کے ظریفوں کی شوخ وطرار طبیعت کا رنگ غالب سے کہیں مختلف ہے۔اور انکے قلم سے پھبتیاں ایسی نکلتی ہیں جیسے کمان سے تیر لیکن اس وقت کی سوسائٹی کو مدّ نظر رکھ کر ’’اودھ پنج‘‘ کے علم برداروں کی نگارشات کا جائزہ لیا جائے تو ہم کہ سکتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی اس اخبار نے اردو زبان میں پہلی بار بھرپور طنزیہ اندازاختیار کیا ،اور ایک ایسے وقت میں جبکہ زندگی میں انقلاب انگیز تبدیلیاں پیدا ہورہی تھیں فضا کو اعتدال پر لانے کی کوشش کی ۔‘‘
(اردو ادب میں طنزومزاح، ص۱۸۸)
’’اودھ پنج‘‘اپنی نوعیت کا پہلا اخبار تھا جس نے طنزو مزاح کے نئے گرد دریافت کرکے اپنے دور کے رائج الوقت معیار کی بہترین ترجمانی کی ۔اردو ادب میں طنزو مزاح کی تاریخ میں ’’اودھ پنج‘‘ ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ریاض خیرآبادی نے گو رکھپور سے ’’اخبار فتنہ‘‘اور’’ عطر فتنہ‘‘ جاری کئے ،ان جرائد نے بھی طنزومزاح کی روایت کو مضبوط کیا۔مہدی افادی ایک اچھے انشا پرداز تھے ’’افادات مہدی‘‘ میں مزاح کم شگفتگی زیادہ نظر آتی ہے۔البتّہ انکے خطوط میں مزاح کا عنصر نمایاں ہیں ۔محفوظ علی بدایونی کی ظرافت میں شگفتگی اور نفاست کا امتزاج ہے۔سجّاد حیدر یلدرم کی شہرت ایک رومانی افسانہ نگار کی حیثت سے ہوئی ،لیکن انہوں نے ابتدا میں مزاحیہ مضامین بھی لکھے۔’’چڑیا چڑے کی کہانی، مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ، حکایت لیلیٰ مجنون، سفر بغداد، زیارت قاہرہ‘‘ وغیرہ۔ سلطان حیدرجوش نے’’الناظر‘‘ وغیرہ میں ایسے مضامین لکھے جو شگفتگی اور طنز کی وجہ سے کافی مقبول ہوئے۔ سلطان حیدر جوش مغربی طنزو مزاح کے لہجے کو اردو میں منتقل کربے کی کوشش کی ،اور اس میں پوری طرح نہ سہی بری حد تک کامیابی حاصل کی ۔خواجہ حسن نظامی کےانشائیوں اور کالموں میں بذلہ سنجی اور مزاح نگاری کے عمدہ نمونے ملتے ہیں ۔اپنے اخبار ’’منادی‘‘ میں بے شمار مضامین لکھے۔حسن نظامی کی ظرافت ا کبر اٖلہٰ بادی سے متأثرتھی۔’’چٹکیاں اور گدگدیاں ، اور شیخ چلی کی ڈائری ‘‘ انکی ظرافت کے مثالی نمونے ہیں ۔پریم چند بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں ،انکے ناولوں اور افسانوں میں طنز کی مہریں دیکھی جا سکتی ہیں ۔لیکن پریم چند کو مزاح یا طنزنگار نہیں کہا جا سکتا ۔ایک نام سجّاد علی انصاری کا آتا ہے۔جسے وزیر آعا نے تلخ اندیش قرار دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ سجّاد علی انصاری نے تلخ اندیشی کو رواج دیا۔ سجّاد علی انصاری اپنی تحریروں میں سنجیدگی قائم رکھتے ہوئے طنزوظرافت کو بخوبی پیش کیا،جو وسعت و فکر کا ذریعہ بنا ۔’’محشر خیال ‘‘انکی مشہور تصنیف ہے۔قاضی عبدالغفار کو باضابطہ مزاح نگار نہیں لیکن انکی تحریروں کے طنز کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ملّا رموزی اپنے ’’گلابی اردو‘‘کے لئے مشہور ہیں ۔انداز بیان اور اندازفکر دونوں لحاظ سے ’’گلابی اردو‘‘ ترتیب وبے ترتیبی کا ایسا امتزاج پیش کرتی ہے کہ جس سے ناظرین کے حسن مزاج کو تحریک ملتی ہے ۔مزاح بیدار کرنے کا یہ انداز ملّا رموزی سے مخصوص ہے۔رشید احمد صدیقی لکھتے ہی۔:
ملّا رموزی کی ’’گلابی اردو ‘‘ کےکالم ظلمت شکن کالم تھے ۔اسی لئے ہندوستان کےبڑے بڑے اخبارات میں شائع ہوکر قارئین اور سرکار کو حیران وپریشان کر دیتے تھے۔انگریزی کلچر نے ہندوستانی قوم کی اقدار پر جو ڈائرکٹ حملے شروع کئےتھے ملّا رموزی طنزیہ اور مزاحیہ گلابی لہجے میں ان کا مسلسل منہ توڑ جواب دیتے رہے ۔ انکا اسلوب نرالا تھا اور پر کشش،سیاسی مضحکات ان نرالے پن کا شکار تھے ۔ہزارہاکالم قلم بند کئے۔‘‘
(چنگاری ، کالم نگار نمبر ۱۹۸۴ء: ص۷۳)
مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے اخبار ’’الہلال‘‘ میں ایک کالم ’’افکار وحوادث‘‘رکھا، جس میں سنجیدہ طنز اور رمز کے بہترین نمونے ملتے ہیں۔مولانا ظفرعلی خان نے بھی اخبار ’’زمیندار ‘‘ میں اسی عنوان سے افکار وحوادث کالم شروع کیا جس میں غلام رسول مہر اور بعد میں عبدالمجید سالک نے فکاہی کالم لکھے۔شوکت تھانوی ممتاز مزاح نگار تھے ، شگفتہ صاف وشیریں زبان سے اپنی ایک منفرد جگہ بنائی ،شوکت تھانوی نے طنزومزاح کے تمام حربوں کو آزمایا ۔ےنہوں نے انشائیہ ، ناول ،افسانہ،خاکہ،ڈرامہ،وغیرہ کی ہیت میں طنز ومزاح کے کامیاب تجربے کئے ۔شوکت تھانوی کا مضمون ’’سودیسی ریل‘‘ بہت مقبول ہوا ۔آزادی سے قبل مرزا فرحت اللہ بیگ کا نام سر فہرست ہے
۔مرزا فرحت اللہ بیگ کا نمایاں وصف انکی ظرافت آمیز اسلوب ہے۔فرحت اللہ بیگ کا مشہور انشائیہ ’’ مردہ بدست زندہ‘‘اس خیال کی تائید کرتا ہے ۔انکی زبان صاف ستھری اور دلکش تھی۔
اردو ادب کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو آزادی سے قبل اور بعد بہت ایسے ادیب آئے جنہوں نے اردو ادب میں طنز ومزاح کا ایک حسین گلدستہ پیش کیا ۔’’ عبد العزیز فلک پیما‘‘ بھی صاحب اسلوب طنزو مزاح نگار تھے ،انکے پاس موضوعات کا تنوع تھا۔اس دور کا سب سے روشن نام سید احمد شاہ بخا ری پطرس کا ہے ۔پطرس ایک رجحان ساز مزاح نگار تھے ،پطرس نے خالص مزاح کا ایک معیار قائم کیا۔
پطرس کی مثال عا لمگیر ادب میں کم ہی مل سکتی ہے ۔ےنہوں نے ’’ پطرس کے مضامین‘‘ نامی کتاب میں صرف دس مضامین شامل کئے ،انہی دس مضامین نے پطرس کو تاریخ ادب کا زندہ جاوید نام بنا دیا۔آزادی کےبعد جو نام سامنے آتے ہیں وہ کرشن چندر کا ہے۔جنہوں نے ناول کے فارم میں مشہور طنزیہ ’’ایک گدہے کی سرگذشت‘‘لکھا۔ جو ماہنامہ دہلی میں قسط وار شائع ہوا تھا۔ایک نام ابراہیم جلیس کا بھی آتا ہے ۔
جن کا تعلق حیدر آباددکن سے تھا ،بعد میں وہ پاکستان چلے گئے،’’ چالیس کروڑ بھکاری، دو ملک ایک کہانی‘‘ان کی مشہور طنزیہ تحریرں ہیں۔
ابن انشاء نے طنز ومزاح میں دھیما اسلوب اختیار کرکے ایک نئے طرز کا اضافہ کیا۔مشفق خواجہ بنیادی طور پر محقق تھے لیکن انہوں نے خامہ بگوش کے نام سے جو کالم لکھے ان میں ےنہیں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی ،وہ طنزیہ پیرائے میں اظہار خیال کرتے تھے ۔
ایک اور درخشاں نام مشتاق احمد یوسفی کا ہے ،وہ مزاحیہ ادب کے ایک عہد ساز شخصیت تھے۔’’ چراغ تلے ، خاکم بدہن، زر گزشت اور آب گم‘‘ انکی بہترین مثالیں ہیں۔مشتاق احمد یوسفی ۴ ستمبر۱۹۲۳ کو ہندوستان کے شہر جے پور میں ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عبد الکریم خان یوسفی جے پور بلدیہ کے صدر نشین تھے۔ مشتاق احمد یوسفی نے راجپوتانہ میں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی اور بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں آگرہ یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم ۔اے۔ کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری لی۔ تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان سرحد پار کے شہر کراچی میں منتقل ہو گیا۔چراغ تلے ۱۹۶۱ء میں چھپی اور خاکم بدہن ۱۹۶۹ء میں، جب کہ زرگزشت۱۹۷۶ء میں اور ان تین کتابوں کے ذریعے انہوں نے شگفتہ نثر نگاری کا جو اعلی معیار قائم کیا اس کا نمونہ دور دور تک کہیں اور نظر نہیں آتا تھا۔ آبِ گم، جو ۱۹۹۰ میں چھپی ناول کی طرح مقبول ہوئی۔ یہ ایسی کتابیں تھیں جن کے وسیلے سے یوسفی صاحب اردو ادب کا ایک مستقل باب ہو چکے تھے۔مشتاق احمد یوسفی نے اپنی کتابوں میں بے شمار ایسے جملے کہے لکھے ہیں جو ضرب المثل بن گئےان کے چند اقوال درج ذیل ہیں:
ث بعض مردوں کو عشق ميں محض اس لیے صدمے اور ذلتيں اُٹھانی پڑتی ہيں کہ ”محبت اندھی ہوتی ہے” کا مطلب وہ يہ سمجھ بيٹھتے ہيں کہ شايد عورت بھی اندھی ہوتی ہے۔
ث مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔
ث وہ چچا سے پھوپا بنے اور پھوپا سے خسر الحذر۔
ث سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو جاتے ہیں۔
ث انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے۔
ث میرا تعلق تو اس بھولی بھالی نسل سے رہا ہے جو خلوصِ دل سےسمجھتی ہے کہ بچے بزرگوں کی دعا سے پیدا ہوتے ہیں۔
ث الحمد للہ بھری جوانی میں بھی ہمارا حال اور حلیہ ایسا نہیں رہا کہ کسی خاتون کے ایمان میں خلل واقع ہو۔
ایک نام احمد جمال پاشا کا ہے۔وہ خالص مزاح نگار تھےاحمد جمال پاشا کا اصل نام آغا محمد نزہت پاشا تھا لیکن ادبی دنیا میں احمد جمال پاشا کے نام سے مشہور ہوئے۔معروف مزاح نگار احمد جمال پاشا اپنی عملی زندگی میں ۱۹۶۰ء سے ۱۹۷۵ ء تک صحافت کے پیشے سے وابستہ رہے انہوں نے لکھنؤ کے مشہور مزاحیہ رسالہ ’’اودھ پنج‘‘ کو ۱۹۶۰ء میں دوبارہ جاری کیا۔۱۹۶۱ء سے ۱۹۷۵ء تک وہ روز نامہ قومی آواز لکھنؤ کے ادارتی شعبے سےمنسلک رہے ۔ اگست۱۹۷۶ء میں وہ بہار یونیورسٹی کے اسلامیہ کالج سیوان میں شعبہ اردو سے وابستہ ہو کر آخری وقت تک درس و تحقیق کے علمی اور ادبی کام انجام دیتے رہے ۔ سیوان میں ا نہوں نےپا شا اورینٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کیا تھا جس میں نادر مخطوطات و مطبوعات کا ایک بہت بڑا ذخیر آج بھی ان کی علم دوستی اور تحقیق سے غیر معمولی شغف کی شہادت فراہم کرنے کے لیے موجود ہے۔ لکھنؤ میں انہوں ’’پنچ پیشرز‘‘ کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ بھی قائم کیا تھا جس کے ذریعے متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
(بحوالہ: مضمون ’’یارِ طرحدار احمد جمال پاشا‘‘ از: کاظم علی خان، معلم اردو ، جنوری۱۹۸۸ء ، ص: ۱۰۸) انکے مشہور مضامین کا مجموعہ’’ انتخاب مضامین احمد جمال پاشا‘‘جسے عابد سہیل نے ۱۹۸۸ء میں ترتیب دیا۔ادب میں مار شل لا، شکّر کا چکّر، کتّے کا خط پطرس کے نام، وغیرہ شامل مضامین ہیں۔ اردو کے نامور ادیب پطرس بخاری کا ایک بہت ہی مشہور و مقبول انشائیہ’’ کتّے‘ہے۔ احمد جمال پاشا نے اس انشائیے کا جواب بعنوان ’’کتے کا خط پطرس کے نام ‘‘تحریر کیا تھا۔ ذیل میں ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔
’’مکرمی
کتّے ! پڑھنے والوں نے بلند آواز سے پڑھا اور اس خاکسار نے بغور سنا۔ اس دل آزار مضمون سے ہماری قوم میں کافی اشتعال پھیل چکا ہے۔ گزشتہ کئی راتوں ہم اپنی ’’رات کی نشست ‘‘میں اس پر کافی غور و خوض کر چکے ہیں۔
آپ نے ہمیں اس قابل بھی نہیں چھوڑا کہ اب ہم چار بھلے آدمیوں کے سامنے دم اٹھا کر چل سکیں۔ خوب! غالباً سگ نوازی اسی کا نام ہے۔ نہ ہوئے آپ ہمارے پاس ورنہ ضرور آپ کو کاٹ کھاتے۔ ہم گویا آپ کا دیا ہوا راتب کھاتے ہیں۔ سو سنئے نہ، اگر اس قسم کے مضامین ہم بھی باندھنا شروع کر دیں تو آپ کا کیا رہ جائے؟
مضمون میں گائے بکری سے ہمارا موازنہ کرتے وقت آپ یہ بھول گئے کہ اس خرافات پر کسی گائے کی نظر اگر بھولے سے بھی پڑ جاتی تو یہ کب کا دفتر را گاؤ خورد ہو چکا ہوتا۔
بندہ پرور! ہم آپ کی نظر میں برے سہی مگر ہماری قوم کی بہادری، وفا داری، اور جفا کشی تو ضرب المثل ہے۔ ان ہی خوبیوں نے ہم کو اشرف الحیوانات کے مرتبہ تک پہنچا دیا ہے۔ ایمان کی بات یہ ہے کہ ہماری اصلیت کو فرنگی پہچانے، ورنہ آپ حضرات نے ہمیشہ گھر کی مرغی دال برابر سمجھا اور دال کو بھی نظر انداز کر بیٹھے۔
اللہ اللہ کیسے کیسے بزرگ ہماری قوم نے پیدا کئے۔ خواجہ سگ پرست کے نام سے کون واقف نہیں۔ وہ ہمارے ہی ایک جلیل القدر بزرگ کی پرستش فرمایا کرتے تھے۔ خواجہ صاحب کا قول تھا کہ :
کتا دور کے بھائی سے اچھا ہوتا ہے۔”
مگر موصوف سامنے کے بھائی پر بھی دور کے کتے کو فوقیت دیتے تھے۔ حاتم طائی کی خدمت میں ہمارے ایک بزرگ ہر وقت حاضر رہتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ آخر میں حاتم طائی ان کی خدمت میں حاضر رہنے لگے تھے۔‘‘
(ماخوذ : مضامین احمد جمال پاشا، مرتبہ ، عابد سہیل ۱۹۸۸ء ص ۷۰)
اردو کے نامور ادیب پطرس بخاری کا ایک بہت ہی مشہور و مقبول انشائیہ "کتے” ہے۔ جو ریختہ پر یہاں پڑھا جا سکتا ہے اور یو-ٹیوب پر یہاں سنا ج
یوسف ناظم کا مزاح شائستہ اور لطف انگیز ہوتا تھا۔ان کے طنز کے نشتر کی دھار بہت تیز نہیں ہوتی چبھن قابل برداشت
ہوتی ہے۔طنزو مزاح کی تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ادب میں اسکی عمر بہت زیادہ نہیں ،لیکن جہاں تک اردو ادب میں طنزو مزاح کا تعلق ہے تو اسکے دھندلے نقوش ہماری اردو کی ابتدائی داستانوں سے ملنا شروع ہوجاتے ہیں اور اخبار’’اودھ پنج‘‘ جاری ہونے کے ساتھ ہی اردو میں طنزومزاح کی ایک نئے اور بھرپور دور کا آغاز ہو جاتا ہے ۔اس کے لکھنے والوں میں رتن ناتھ سر شار، سجّاد حسین، تربھون ناتھ ہجر،مرزا مچھو بیگ،ستم ظریف،جوالا پرساد برق، احمد علی شوق،منشی احمد علی کسمنڈوی،اور نواب سید محمد آزاد قابل ذکر ہیں ۔ بہر حال یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سید مصطفٰی کمال نے نومبر ۱۹۶۸ء میں ’’شگوفہ‘‘نام کا رسالہ جاری کیا ابتدا میں یہ ڈیڑھ ماہی رسالہ تھا جو سال بھر میں آٹھ پرچے شائع کرتا تھا۔طنزومزاح کی روایت کو آگے بڑھانے میں ’’شگوفہ‘‘نے اہم کارنامہ انجام دیا۔’’شگوفہ‘‘کو ابتدا سے بڑے لکھنے والوں کا تعاون حاصل رہا جن میں کرشن چندر،کنہیا لال کپور، فکر تونسوی،سلمیٰ صدیقی،وغیرہ شامل رہے۔ ’’شگوفہ‘‘نے کئی یادگار نمبر نکالے جو طنزومزاح کے نامور ادیبوں کی شخصیت پر تھے۔جیسے حیوان ظریف غالب نمبر، تخلص بھوپالی نمبر،بھارت چند کھنہ نمبر، سلیمان خطیب نمبر،نریندر لوتھر نمبر ،کنہیا لال کپور نمبر،ابراہیم جلیس نمبر، مجتبیٰ حسین نمبر ،رشید احمد صدیقی نمبر،یوسف ناظم نمبر وغیرہ۔آخر میں اکبر الہٰ بادی کے طنزو مزاح کی ظرافت جو کلام کی روح ہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہیکہ ظرافت دشمن کے لئے ایک حربہ ہے ۔درج ذیل اشعار طنز وظرافت کی بہترین مثال ہے۔
خدا کے فضل سے بیوی میاں دونوں مہذب ہیں ۔
حجاب ان کو نہیں آتا انہیں غصّہ نہیں آتا۔
اکبر دبے نہیں کسی سلطان کی فوج سے ۔
لیکن شہید ہوگئے بیگم کی نوج سے۔
میں بھی گریجوٹ ہوں تم بھی گریجوٹ۔
علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آکے لیٹ۔
ڈاکٹر عرفا ن رضا
شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی۔
MOB.NO 9891299930
iraza3819@gmail.com

