مولاناابوالکلام آزاد ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے ۔ادب و انشا پردازی اور صحافت وسیاست کے میدان میں مولانانے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں ۔صحافت کی بعض اولیات کاسہرا بھی مولانا آزادکے سر ہے ۔’’الہلال‘‘محض ایک اخبار نہیں بلکہ اظہار وافکار کی ایک نئی دنیا ہے ،جس نے خبرو نظر کے معیارو اصول طے کیے اور اس سے کہیں زیادہ شعور وآگہی کی ترتیب وتہذیب بھی کی ۔صحافت کی موجودہ دنیا اپنی تمام تر ترقیوں اور رعنائیوں کے باوجود اعتبار و یقین کی دنیا سے دور اور پروپیگنڈے سے قریب ہے ،وہ اپنے بنیادی امتیازات پر اصرار کرنے کے بجائے حیلوں اور حوالوں سے شناخت کے لیے کوشاں ہے ۔ہمارا معاشرہ انتشار و اضطراب کا شکار ہوچکا ہے ۔شعور و آگہی کا درس دینے والے خود بے راہ روی کا شکار ہوچکے ہیں ۔صحافت کا مقدس پیشہ اپنی حالت پر آپ ماتم کناں ہے ۔آج سے ایک صدی قبل جب اظہار و افکار پر عملاً تالے لگے ہوئے تھے مولانا ابو الکلام آزاد نے صحافت کے توسط سے اعتبار ویقین کی ایک نئی دنیا قائم کی اور اس تناظر میں ’الہلال‘ نے ہنگامی اور وقتی مضامین کے ساتھ ساتھ سنجیدہ اور علمی موضوعات کے فروغ کی روایت بھی قائم کی ۔اپنے پیش رو صحافیوں کی طرح جرآت و حق گوئی کو مولانا نے برقرار رکھا مگر ذاتی اور شخصی کردار کشی کو الہلال کے صفحات سے دور رکھا۔الہلال کا قاری بآسانی یہ سمجھ سکتا ہے کہ مولاناابوالکلام آزاد نے صحافت کے توسط سے اخلاق و تہذیب کی ایک دنیائے بسیط خلق کیا ۔
اردو صحافت کو سمت و رفتار اور معیار عطا کرنے والوں میں مولانا ابوالکلام کا نام سرفہرست ہے۔ ان کی شخصیت اور فکر و فن کے متعدد پہلو ہیں اور ہر پہلو اتنا پہلودار ہے کہ اسے بآسانی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ الہلال محض اخبار نہیں بلکہ صحافتی تاریخ کا صحیفہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مولانا آزاد نے صرف خبروں اور مضامین کے انتخاب تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ اس کی طباعت کا بھی بطور خاص لحاظ رکھا۔اس سلسلے میں ان کی فکر مندیوں اور عملی کوششوں نے الہلال او رالبلاغ کوجلال و جمال کا آئینہ دار بنادیاتھا۔
۱۳؍ جولائی ۱۹۱۲ء کو الہلال کا اجرا ہوا مگر اس سے بہت پہلے ۱۸۹۹ء سے ۱۹۱۲ء تک کا زمانہ دراصل مولانا آزاد کی صحافتی زندگی کی مشق کا زمانہ رہا ہے۔ ۱۸۹۹ء کے اواخر میں ’’نیرنگ عالم‘‘ کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا جو آٹھ شماروں تک جاری رہ سکا۔ اس کی حیثیت گل دستہ اشعار کی تھی۔ پہلا اخبارجو مولانا آزاد کی ادارت میں شائع ہوا اس کا نام ’’المصباح‘‘ تھا۔ یہ ۱۹۰۰ء کے اواخر کی بات ہے۔المصباح کے بند ہوجانے کے بعد’’ مخزن‘‘ میں کچھ مضامین مولانا کے شائع ہوئے۔ ۱۹۰۱ء میں مولانا آزاد کا تعلق ’’احسن الاخبار‘‘ سے قائم ہوا۔۱۹۰۲ء میں مولانا کو’’ خدنگ نظر‘‘ لکھنؤ کے حصۂ نثر کی ادارت ملی۔ اس دوران ملک کے متعدد اور اہم رسائل میں مولانا کے مضامین شائع ہونے لگے۔ ۲۰؍ نومبر ۱۹۰۳ء کو مولانا آزاد نے ’’لسان الصدق‘‘ کا اجرا کیا۔ لسان الصدق کی عمر زیادہ تو نہیں تھی مگر الطاف حسین حالی اورعلامہ شبلی نعمانی جیسے سربرآوردہ ادیبوں نے اس کی تعریف کی اور اس سے متاثر ہوئے۔اس کے بعد ’الندوہ‘ سے آپ منسلک ہوگئے۔ یہیں سے آپ کی شہرت اورمقبولیت میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ شیخ اکرام کے بقول :
’’وہ مضامین جنھوں نے مولانا ابوالکلام کو ادبی حیثیت سے نہیں بلکہ علمی اور مذہبی حیثیت سے پہلے پہل ملک کے سامنے پیش کیا وہ الندوہ ہی میں شائع ہوئے تھے۔‘‘
مولانا آزاد ۱۹۰۶ء میں امرتسر سے شائع ہونے والے اخبار ’’وکیل ‘‘کے ایڈیٹر مقرر ہوئے مگر یہ سلسلہ بھی بہت دنوں تک قائم نہیں رہ سکا۔ جولائی ۱۹۰۸ء میں انھو ںنے ’’وکیل‘‘ سے قطع تعلق کرلیا۔ اس کے بعد کلکتہ سے نکلنے والے اردو اخبار’’ دارالسلطنت ‘‘میں بطور ایڈیٹر کام کیا مگر یہ سلسلہ بھی بہت زیادہ دنوں تک نہیں چل سکا۔بالآخر مولانا آزاد کی علاحدگی کے ساتھ ہی یہ اخبار بھی بند ہوگیا۔
صحافت کے میدان میں مولاناابوالکلام آزاد کی ان ابتدائی کوششوں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ذہنی طور پر وہ صحافت کے لیے بالکل تیار تھے البتہ چوں کہ بہت سے اخبارات کی پالیسیاں مولانا کے فکری رویوں سے ہم آہنگ نہیں ہوسکیں اس لیے بہت دنوں تک ان کے ساتھ کام نہیں کرسکے۔ اس دوران یہ بھی ہوا کہ غلام ہندستان میں ہمارا کیا لائحہ عمل ہو۔ کس طرح انگریزوں کو یہاں سے ہٹایا جائے اور مسلم قوم کی حیثیت سے مسلمانوں کی کیا ذمہ داری ہے اور ان کے کیا مسائل ہیں؟ ان تمام امور پر مولانا آزاد کا ذہن بالکل واضح اور صاف تھا۔ مولانا آزاد نے صحافت کے ابتدائی مراحل میں ہی مختلف اخباروں میں کام کرکے جو تربیت حاصل کی تھی اس نے یہ بھی ان پر منکشف کیا کہ روزانہ کی خبروں پر اخبار نہیں چلایا جاسکتا بلکہ علمی و فکری مضامین کے ذریعہ قارئین کے ذہن و شعور میں واضح تبدیلی بھی لائی جاسکتی ہے او ران کے انداز فکر کو تعمیری اور مثبت بنایا جاسکتا ہے۔
مولانا آزاد پر یہ بات پور ی طرح واضح تھی کہ اخبارات ایک ایسی طاقت ہیں جو نہ صرف برطانوی سامراج کی چولیں ہلا دیںگے بلکہ مسلم قوم اور عام ہندستانی سماج کے ذہنی و فکری شعور کی تربیت بھی کریںگے اور عوام تک رسائی کا سب سے مضبوط اور مستحکم ذریعہ اخبار ہی ہیں اسی لیے مولانا آزاد نے صحافت کا میدان اختیار کیا۔ مولانا آزاد صحافت کو ایک مقدس مشن سے تعبیر کرتے ہیں۔ الہلال کے ایک شمارہ میں الہلال کی دعوت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’الہلال کی دعوت کا اصل اصول مسلمانوں کو ان کی زندگی کے ہر عمل اور ہر عقیدے میں اتباع کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کی طرف بلاتا ہے اور ان کی پولیٹکل پالیسی کے لیے بھی وہ اسی اصول کو پیش کرتا ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ مسلمانوں جس دن ان کی گمشدہ قرآنی روح پھر بیدار ہوجائے گی اس دن وہ پھر اپنے اندر ہر چیز پر کامل و اکمل پائیںگے۔ پس اصل کار اسلامی تعلیم کا احیا اور ایک صحیح دعوت کی تحریک ہے۔ بدبختی سے مسلمانوں کے پاس آج قرآن کی اصلی تعلیم حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ صدیوں کی تقلید اور استبداد فکری سیکڑوں پردے اصلی حقیقت پر ڈال دیے ہیں اور قرآن و سنت کی کوئی شاخ اس فتنہ تقلید کے مہلک اثر سے محفوظ نہیں… پس اگر توفیق الٰہی ساتھ دے دے تو الہلال مسلمانوں کو ایک ایسی دعوت کی طرف بلانا چاہتا ہے تو تعلیم قرآنی کی ایک خالص دعوت ہو اور جو قوم کے آگے اسلام کی حقیقی تعلیم کی راہ کھول دے۔‘‘ (ضمیمہ الہلال ۲۲؍ ستمبر ۱۹۱۲ء)
اس واضح مقصد کے بعد اب کسی اور وضاحت کی ضرورت نہیں کہ جو شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے نکلا ہو وہ نہ تو کسی سے خوف زدہ ہوسکتا ہے او رنہ کوئی اسے مرعوب کرسکتا ہے ۔ اخبار نویسوں کے عموماً جو حالات ہوتے اور وہ جس طرح قلم کا سودا کرتے ہیں اس پر نقد کرتے ہوئے مولانا نے لکھا ہے:
’’جو اخبار نویس رئیسوں کی فیاضیوں او رامیروں کے عطیوں کو قومی اعانت اور قومی عطیہ اور اسی طرح کے فرضی ناموں سے قبول کرلیے ہیں وہ بہ نسبت اس کے کہ اپنے ضمیر اور نور و ایمان کو بیچیں بہتر ہے کہ دریوزہ گری کی جھولی گلے میں ڈال کر اور قلندروں کی کشتی کی جگہ قلم دان لے کر رئیسوں کی ڈیوڑھیوں پر گشت لگائیں اور ہر گلی کوچہ ’کام ایڈیٹر کا‘ کی صدا لگا کر خود اپنے تئیں فروخت کرتے رہیں۔‘‘ (الہلال ۲۷؍ جولائی ۱۹۱۲ء)
مولانااپنی اس بات پرنہایت سختی کے ساتھ قائم رہے۔کبھی اس سے پیچھے نہیں ہٹے ۔جرآت اور اصول پسندی کا جو عملی مظاہرہ مولاناآزاد نے کیا ہے عام آدمی تو اس بارے میںسوچ بھی نہیں سکتا ۔’’الہلال‘‘ کا پہلا شمارہ دیکھ کر ایک مشہور صاحب ریاست نے چیک روانہ کیا تو مولانا آزاد نے نہ صرف اس چیک کو قبول نہیں کیا بلکہ یہاں تک لکھ دیا کہ :
’’ہم اس بازار میں سودائے نفع کے لیے نہیں بلکہ تلاش زیاں و نقصان میں آئے ہیں۔ صلہ و تحسین کے نہیں بلکہ نفرت و دشنام کے طلب گار ہیں۔ عیش کے پھول نہیں بلکہ خلش و اضطراب کے کانٹے ڈھونڈتے ہیں، دنیا کے زر و سیم کو قربان کرنے کے لیے نہیں بلکہ خود اپنے تئیں قربان کرنے کے لیے آئے ہیں۔‘‘
(الہلال ۲۷؍ جولائی ۱۹۱۲ء)
الہلال کا پہلا شمارہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۱۲ء کو شائع ہوا اور ۱۸؍ نومبر ۱۹۱۴ء تک جاری رہا۔ ایک برس بعد ۱۲؍ نومبر ۱۹۱۵ کو البلاغ کے نام سے نکلا اور ۳۱؍ مارچ ۱۹۱۶ء تک جاری رہا۔ گیارہ سال بعد ۱۰؍ جون ۱۹۲۷ء کو پھر الہلال کو نئی زندگی ملی اور اسی سال ۹؍ دسمبر ۱۹۲۷ء کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔
محمد عبدہ ، جمال الدین افغانی اور سرسید سے مولاناآزاد بہت زیادہ متاثر تھے۔انھوں نے عظیم اسلامی شخصیات میں جتنا ذکر جمال الدین افغانی کا کیا ہے اتنا کسی دوسرے کا نہیں کیا۔ان شخصیات کے افکار و خیالات اور کارناموں سے کون واقف نہیں۔ الہلال کا پہلا شمارہ ہی محمد عبدہ اور جمال الدین افغانی کی تصویروں کے ساتھ شائع ہوا۔
ہندستانی مسلمانوں کے مسائل اور یہاں کے عام معاملات و مسائل کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کے مسائل کو مولانا نے بہت زیادہ پیش کیا۔ الہلال میں مشرق وسطیٰ ،افریقہ میں مجاہدین کی جدوجہد اور بلقان جنگ کی خبریں تصویروں کے ساتھ نہایت اہتمام کے ساتھ شائع ہوتی تھیں۔ عیاں رہے کہ ُاس وقت تک کم از کم اردو میں اس طرح غیر ملکی خبروں کے چھاپنے کا اہتمام نہیں تھا۔
ملکی خبروں میں جہاں حالات حاضرہ پر تبصرہ اور رائیں ہوا کرتی تھیں وہیں مولانا آزاد نے بعض حالات و واقعات کی خبر نگاری تفتیشی انداز سے کی اور معاملہ کی تہہ تک جانے کی کوشش کی ۔ اس ضمن میں ندوۃ العلماء کے طلبا کی تاریخی بھوک ہڑتال کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔مولانا آزاد نے ملک کے موجودہ سیاسی زندگی کے عملی مسائل، مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا ذہنی و عملی انتشار اور مسلمانان ہند کی قومی و اجتماعی ذہنیت کی تعمیر و تشکیل اور اس کے اہم مباحث جیسے اہم عناوین کا احاطہ کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ الہلال کے قاری کو ان تحریروں کا انتظار رہتا تھا۔ مولانا آزاد کی صحافت اور ان کی صحافتی خدمات کا امتیاز یہی ہے کہ انھوں نے ایک شعوری صحافت کی داغ بیل ڈالی۔ ہنگامی موضوعات کے بجائے مستقل اور سنجیدہ مضامین کے ذریعہ قارئین کے ذہن و فکر کی تربیت کی اور علی الاعلان مذہبی تعلیمات کو پیش کیا اور یہ احساس دلایا کہ مسلمان ہونے پر ہمیں فخر کرنا چاہیے۔
۱۸؍ ستمبر ۱۹۱۳ء کو جب پریس ایکٹ کے تحت الہلال سے دو ہزار روپے کی زر ضمانت طلب کی گئی تو مولانا نے الہلال کے متعدد شماروں میں آزادی اظہار کے بار ے میں لکھا اور یہ واضح کیاکہ پریس کی آزادی کیا ہوتی ہے ۔مولانا کا آزادی اظہار کا یہ خیال رفتہ رفتہ انڈین پریس ایسوسی ایشن کی تاسیس میں تبدیل ہوگیااوربالآخر ۲؍ اکتوبر ۱۹۱۳ء کو دو بجے ایک جلسہ انڈین ایسوسی ایشن ہال کلکتہ میں سریندر بنرجی کی صدارت میں ہوا۔پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کے بقول’’ اس طرح ضمانت کا یہ واقعہ ایک روشن خیال ادارے کے قیام کا پس منظر بن ہوگیا‘‘۔( مولانا ابو الکلام آزاد فکر و فن ص:۱۰۸)
مولانا آزاد نے ’الہلال‘ کے ذریعہ ایک ایسی صحافت کی داغ بیل ڈالی جس میں جذباتیت کے بجائے شعور و وجدان کواولیت حاصل تھی۔ الہلال کے مشمولات کے ساتھ ساتھ اس کی ظاہری شکل و صورت پر بطور خاص توجہ دی ۔ الہلال کے قارئین کوپہلے ہی شمارہ سے اندازہ ہوگیا کہ الہلال ہر اعتبار سے ایک مکمل اخبار ہے۔ اب کون ہے جو اس وادی میں اپنی جان کا نذرانہ لے کر آئے ۔کسے تحفے عزیزنہیں۔ کون ہے جو ارباب اقتدار اور صاحبان ثروت کے اشاروں کو نظر انداز کردے۔ یہ مولانا کا ہی جگر تھا کہ انھوں نے کہا ’’ہم اس بازار میں سودائے نفع کے لیے نہیں بلکہ تلاش زیاں و نقصان کے لیے آئے ہیں۔‘‘ اور پوری عمر اپنے اسی نظریے پر قائم رہے۔چونکہ مولانانے اخبار نویسی خبروں کی ترسیل کے لیے نہیں اختیار کی تھی بلکہ وہ اس کے ذریعہ قرآنی پیغام بھی عام کرنا چاہتے تھے ۔انھوں نے واضح طور پر لکھا تھا کہ :
الہلال اپنے ہر خیال کو خواہ وہ کسی موضوع سے تعلق رکھتا ہو محض اسلامی اصولوں کے ماتحت ظاہر کرتا ہے اور کوئی آواز ایسی بلند نہیں کرتا جو اسلام کے قانون اور دستور العمل یعنی قرآن کریم سے ماخوذ نہ ہو ۔(الہلال یکم اکتوبر ۱۹۱۳)
پروفیسر ملک زادہ منظور احمد نے اسی تناظر میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ :
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ الہلال کی ابتدا سے لے کر رانچی کی نظر بندی تک مولانا نے بنیادی طور پر ہمیشہ خدا کانام لیا اور قرآن کی دعوت دی اور جب بھی کوئی بات کہی تو وحی الہی کی دائمی اور غیر متغیر تعینات اور حقائق کی بنیاد پر پیش کیا۔انھوں نے ہمیشہ اپنے سامنے ایک یقین رکھا اور اپنی دعوت کی بنیاد انسانی افکار کے بجائے دینی اعتقادات پر رکھی ۔انھوں نے مسلمانوں کی تعلیم کا بھی ذکر کیا سیاسی اصولوں اور تقلیدوں کی بھی دعوت دی ۔انسانوں کے بنائے ہوئے طریقوں اور حکمت عملیوں کی طرف بھی اشارے کیے مگر ان سب کی طرف ان کا زاویۂ نظر ہمیشہ قرآن اور اس کی تعلیمات سے مربوط رہا ۔( مولانا ابو الکلام آزاد فکر و فن ص:۱۱۴)
۱۹۱۲ء میں الہلال کا اجرا ہوا تھا۔جدوجہد آزادی ،برطانوی استعمار کے خلاف مورچہ بندی اور اظہار رائے کی آزادی کا جو کارنامہ پابندیوں کے زمانے میں الہلال نے انجام دیا انھیں ایک صدی بعد سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ الہلال اردوصحافت ہی نہیں بلکہ ہندستانی صحافت کاایک روشن باب ہے ۔نہ جانے کتنے مجاہدہین آزادی کی اس نے ذہنی تربیت کی اور آزادی کی تحریک کو سمت و رفتار دینے میںکلیدی کردار ادا کیا ۔اور اس عظیم قرآنی دعوت سے مسلمانوں کو مربوط بھی رکھا ۔اس لیے الہلال کو یاد کرنا،نئی نسل کواس سے متعارف کرانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
ڈاکٹرعمیر منظر
اسسٹنٹ پروفیسر
مولاناآزاد نیشنل اردویونی ورسٹی
لکھنؤ کیمپس
oomairmanzar@gmail.com
8004050865
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

