مولانا ابوالکلام آزاد کی ولادت 11 نومبر 1888 کو مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ ان کے والد مولانا خیرالدین کا ذاتی گھر خانہ کعبہ سے چند میٹر کی دوری پر تھا وہیں پر مولانا ابوالکلام آزاد کی ولادت باسعادت ہوئی۔ نام محی الدین، تاریخی نام فیروز الدین، کنیت ابوالکلام اور تخلص آزاد تھا۔ مولانا بڑے عالم، دانش ور، سیاست دان، صحافی، مجاہد آزادی، مفسر قرآن اور ماہرتعلیم تھے۔ انہوں نے تقریر وتحریر کے ذریعے مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی۔ ہندوستان کی آزادی میں ہر طرح کی قربانی پیش کی۔ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم بنائے گئے اور اپنی وفات تک اس عہدے پر برقرار رہے۔ ان کی وفات 22 فروری 1958 کو ہندوستان کی راجدھانی دہلی میں ہوئی۔ ان کی وفات کے 34 سال کے بعد حکومت ہند نے ان کی خدمات پر سب سے بڑے اعزاز ’’بھارت رتن‘‘ سے سرفراز کیا۔
انہوں نے اپنی تقریر وتحریر اور دانشورانہ قیادت کے ذریعے ایک خوابیدہ معاشرے میں زندگی کی تڑپ پیدا کی۔ ان کی علمی، عملی، صحافتی اور سیاسی کوششوں نے ہندوستانی قوم کو ایک نئی شاہراہ پر کھڑا کیا۔ نیاز فتحپوری مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’وہ اگر عربی شاعری کی طرف توجہ کرتے تو متنبی و بدیع الزماں ہوتے، اگر وہ محض دینی ومذہبی اصلاح کو اپنا شعار بنالیتے تو اُس عہد کے ابن تیمیہ ہوتے۔‘‘ 1؎
مولانا آزاد کی شخصیت پر مختصر روشنی ڈالنے کے بعد اب ان کی شاعری پر مختصراً نظر ڈالتے ہیں۔
مولانا آزاد دس گیارہ سال سے زیادہ کے نہیں ہوئے تھے کہ ان کے دل میں شعرگوئی کی طرف شوق پیدا ہوگیا۔ اس شوق کی تفصیل مولانا آزاد اس طرح بیان کرتے ہیں:
’’یہ عجیب بات ہے کہ درسیات کے باہر جس چیز سے میں سب سے پہلے آشناہوا، وہ شاعری تھی۔مجھے ٹھیک یاد نہیں پڑتاکہ پہلے پہل کیوں کر میں اس چیز سے واقف ہوا۔لیکن یہ اچھی طرح یاد ہے کہ زیادہ شوق اس کا مولانا عبدالواحد خاں سہسرامی نامی ایک شخص کی وجہ سے ہوا،جومولوی محمد فاروق چریاکوٹی کے ایک مستعد شاگر دتھے۔ اردوفارسی کا اچھا ذوق رکھتے تھے۔‘‘ 2؎
مولاناعبدالواحدخاں سہسرامی کلکتہ میںمنعقد ہونے والی شعری محفلوں میں پابندی سے شریک ہوتے تھے۔معاشی حالت اچھی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی بہن مولانا آزاد کے گھر میں ملازمہ تھیں۔ مولاناسہسرامی وقتاً فوقتاًاپنی بہن سے ملنے آتے تھے۔ جس کی وجہ سے مولانا آزاد کی شناسائی ان سے بڑھتی گئی ۔سہسرامی گو کہ عمر میں مولانا آزاد سے بڑے تھے،لیکن بات چیت سے نوعمرابوالکلام کی فطری استعداد کا اندازہ ہوگیاتھا۔انھیںدنوں(اواخر۔1898ئ) میں پٹنہ کے ایک رئیس بادشاہ میاں کے زیراہتمام کلکتہ میں شعری نشست کا انعقاد ہوا۔جس میں مولانا سہسرامی نے مصرع طرح پر اپنی غزل پیش کی تھی۔ جب مولانا آزاد سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے ان سے مشاعرے کی پوری روداداور اپناکلام سنایا۔ اس صحبت نے مولانا آزاد کے اندرشاعری سے دلچسپی کا مادہ پیدا کیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس دلچسپی میں اضافہ ہوتا گیا۔اس کا اندازہ جب مولاناسہسرامی کو ہوا تو وہ انھیںشعرائے سلف کا کلام یااپنا کلام سناتے،اس طرح کی صحبتوں کا ذکرکرتے ہوئے مولانانے لکھا ہے:
’’یہ پہلی منظم دلچسپی ہے، جو میرے حافظے میں شاعری کی نسبت پائی جاتی ہے۔ مجھ پر اس کا بہت اثرپڑا۔اور اب ان سے اس بارے میں صحبتیں رہنے لگیں۔اردوشعرائ کا وہ ذکر کرتے ، ان کے مقابلے اور معر کے اور لطائف سناتے۔ خاص خاص اشعار کے متعلق جو واقعات مشہور ہیں،ان کا ذکرکرتے، اور میری دلچسپی روز بہ روزبڑھنے لگی۔‘‘3؎
مولانا آزاد نے شاعری شروع کی توتخلص کا سوال سامنے آیا۔ مولاناسہسرامی کے مشورے سے ’’آزاد‘‘تخلص اختیار کیا۔ اس تخلص کو اختیارکرنے میں ان کے مزاج کی خود پسندی بھی ظاہرہوتی ہے۔ مولانا آزاد فرماتے ہیں:
’’گلدستوں میں غزلیں حروفِ تہجی کے اعتبار سے درج ہوتی تھیں۔اور’’الف‘‘والے تخلص کو یہ فوقیت حاصل ہوتی ہے کہ سب سے پہلی جگہ ملتی ہے۔‘‘4؎
آزاد تخلص اختیار کرنے کے سلسلے میںایک دوسری جگہ یہ توجیہ فرماتے ہیں کہ:
’’ دو تین سال تک میرے دل میں شدید بے چینی رہی اور میں اپنے شکوک کو دور کرنے کی آرزو میں تڑہتا رہا۔ کبھی کوئی کیفیت طاری ہوتی کبھی کو ئی اور بالآخر میں ایک منزل پر پہونچا جب کہ وہ تمام بندشیں ٹوٹ کر پارہ پارہ ہو گئیں، جو میرے خاندان اور خاندان کی فضامیں تربیت نے میرے ذہن پر لگائی تھیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں تمام رسمی اور مصنوعی رشتوں اور پابندیوں سے آزاد ہو گیا ہوں اور میں نے فیصلہ کیا کہ آگے قدم بڑھاؤں گا تو اسی راہ پر جو میں نے اپنے لئے انتخاب کی ہو۔ یہی وہ زمانہ تھا جب میں نے’’ آزاد ‘‘ کا عرف اختیار کیا، جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ میں روایتی اور موروثی عقائد کی قید سے آزاد ہوگیا ہوں۔ــ‘‘ 5؎
مولانا آزاد کی پہلی غزل’’ارمغان فرّخ‘‘(بمبئی)کے جنوری 1899 کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ وہ غزل 1898 کے اواخر میں کہی گئی تھی۔ شمارے میں اپنی پہلی غزل دیکھ کر مولانا آزاد کو جومسرت حاصل ہوئی تھی۔ اس کی خوشی سے بعد کی زندگی میں بھی وہ لطف اندوز ہو تے رہے۔
مولانا نے اپنے کلام پرکسی سے اصلاح نہیں لی۔ لیکن بعد میں انھیں استاد کی ضرورت محسوس ہوئی تو شروع میں دوغزلیں منشی امیر مینائی کی خدمت میں بغرضِ اصلاح بھیجیں، لیکن ان کی اصلاح سے مولانا آزاد کو اطمینان نہیں ہوا۔ اس کے بعد انھوں نے داغ دہلوی سے رجو ع کیا۔ لیکن شاگرد گی اور استاد ی کا یہ سلسلہ دیرپا ثابت نہیں ہوا۔اس کے بعد انھوں نے امداد حسین ظہور میرٹھی سے مشورہ لیا۔آخر میں ان کی نظرمولانا ظہیر احسن شوق نیموی پر پڑی، جو علم وفن کے لحاظ سے اپنے معاصرین پر فوقیت رکھتے تھے۔ ان کی اصلاح پر مولانا آزاد کو پوری طرح اطمینان حاصل ہوا۔اور جب تک وادیٔ شعروسخن میں رہے، انھیں سے اصلاح لیتے رہے۔
مولانا آزاد کی شاعرانہ زندگی کی مدت کل ملا کرتین چار برس ہوتی ہے۔ ان کے فارسی اوراردوکلام کو ڈاکٹر عبدالغفار شکیل نے ’’دیوانِ ابوالکلام آزاد‘‘ کے نام سے مرتب کرکے شائع کیا ہے۔
مولانا آزاد نے جتنی شاعری کی اس میں کوئی جِدّت نہیں تھی۔ اور نہ ہی اس میں انفرادیت کا کوئی رنگ وآہنگ نظر آتا ہے۔ مولانا آزاد کی شاعری کی مدت کم رہی اور محسوس ہوتا ہے کہ وہ بہت جلد’’آہ واہ‘‘ کی مصنوعی دنیا سے بیزارہوگئے اور شاعری کوترک کردیا۔
حواشی
1؎ مولانا ابوالکلام آزاد نمبر، ایوان اردو، دہلی، 2014-2015
2؎ آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی، مولانا ابوالکلام آزاد
3؎ ایضاً
4؎ ایضاً
5؎ ہماری آزادی، مترجم: محمد مجیب
6؎ ذکر آزاد، ملیح آبادی
محمد وسیم
ریسرچ اسکالر،شعبۂ اردو،
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
9711679814
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

