Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خصوصی مضامین

مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافتی خدمات ہفتہ وار’پیغام‘کے حوالے سے – ڈاکٹر نازیہ ممتاز

by adbimiras نومبر 11, 2021
by adbimiras نومبر 11, 2021 0 comment

مولانا ابولکلام آزاد غیر معمولی ذہن و دماغ کے حامل انسان تھے۔ان کی عمر بارہ ،تیرہ سال کی تھی جب انھوں نے ’’المصباح‘‘نامہ ماہنامہ جاری کیا۔گویا کہ مولانا آزاد کی صحافتی زندگی کا آغاز ابتدائی زمانے میں ہی ہو گیا تھا۔اور ان کی ابتدائی نثری تحریر اسی ماہنامہ میں شامل مضمون کو سمجھا جاتا ہے۔یہ رسالہ عید کے موقع پر نکلا تھا،لہذا اس میں مضامین کی نوعیت بھی اسی مناسبت سے تھی۔اس ماہنامہ سے ان کے شوق کا یقیناً اندازہ کیا جا سکتا ہے۔مولانا آزاد کی صحافتی زندگی کا آغاز اسی ماہنامہ سے ہوا،اور اس کی نکھری ہوئی صورت’’لسان الصدق‘‘میں نظر آتی ہے۔مولانا آزاد ایک ذمہ دار مدیر کی طرح زبان وادب کی خدمت کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی خدمت کا بھی جذبہ رکھتے تھے۔کہا جا سکتا ہے کہ ان کی صحافتی زندگی کاآغاز بیسویں صدی کی بالکل ابتدا میں ہوا،اور 1907 تک آتے آتے وہ کئی ماہنامہ رسالے اور اخبارات کی ادارت یا معاونین کے طور پر کام کرتے کرتے اس میدان میں منجھ گئے تھے۔لیکن ان کی شہرت  /13جولائی1912 کو ’’الہلال‘‘جیسا ہفتہ وار نکالنے سے ہوئی۔یہ ہفتہ وار کم مدت میں سارے ہندوستان کے اردو داں طبقہ میں مقبول ہو گیا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جیسی شہرت ومقبولیت’’الہلال‘‘کو ملی،ویسی اردو کے کسی شاید ہی کسی اخبار کو نصیب ہوئی ہوگی۔اس کی مقبولیت کی کی وجہ ہی سے انگریزوں نے اس کی ضمانت ضبط کر لی تھی۔بالآخر اسے بند ہونا پڑا۔لیکن مولانا آزاد ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھے،بلکہ اس سے ان کے ارادے اور بھی مضبوط ہو گئے۔لہذا/12نومبر 1915کو اسی کو دوسرے نام(البلاغ)کے نام سے دوبارہ شائع کیا۔ابھی چند ہی ماہ نکلا تھا کہ مارچ1916میں مولانا کو بنگال چھوڑ دینے کا حکم ہوا۔بہار کے علاوہ سارے صوبے نے اپنے یہاں داخلے پر پابندی عائدؤ کر دی تھی۔چنانچہ مولانا رانچی چلے گئے۔اور کچھ ہی مہینوں بعد انھیں نظر بند کر دیا گیا۔تقریباً تین سال بعد نظر بندی سے رہا کئے گئے ۔اور یہ زمانہ 1919کے بالکل آخر ی ایام تھے۔رہائی کے دو سال کے اندر ہی انھوں نے کانگریس کی رکنیت قبول کرنے کے ساتھ ساتھ ہفتہ وار ’’پیغام‘‘کو بھی جاری کیا۔یہ ہفتہ   وار’’پیغام‘‘/23ستمبر1921کوپہلی بار شائع ہوا۔

ہفتہ وار پیغام رپن لین،کلکتہ سے شائع ہوتا تھا۔اور اس کے صفحہ ٔ اول پرقرآن کی آیت کا یہ حصہ ’’ھذا بلاغ للناس‘‘لکھا ہوتا تھا۔اس کے اڈیٹر عبدالرزاق ملیح آبادی تھے۔مولانا ابوالکلام آزاد اس کے نگراں۔پہلے شمارے کے علاوہ کسی بھی شمارے میں ’’زیر نگرانی مولانا ابولکلام آزاد‘‘نہیں لکھا گیا۔ البتہ اس جگہ پر اگلے شمارے سے ’’اس میں مولانا ابوالکلام کی تحریرات بالالتزام شائع ہوتی رہیں گی‘‘ اور کچھ شمارے میں ’’اس میں‘‘ کے بجائے ’’جس میں‘‘ بھی لکھا ہوا ہے لیکن ’’زیر نگرانی‘‘ کہیں نہیں لکھا ہے۔پہلے شمارے کے علاوہ دوسرا شمارہ تیسرے اور چوتھے شمارے کے ساتھ 30ستمبر تا 14 اکتوبر 1921کو شائع ہوا۔ اس ہفتہ وار پیغام کو شائع کرنے کا مقصد جو ابو الکلام آزاد نے پہلے شمارے کے تیسرے اور چوتھے صفحے پر بیان کیا ہے وہ درج ذیل ہے:

1۔       اس رسالے کی اشاعت سے بالفعل صرف یہ مقصد ہے کہ موجودہ تحریک کے لیے تبلیغ و ہدایت کا ایک باقاعدہ سلسلہ قائم ہو جائے۔ پس اصل موضوع رسالہ کا یہی ہے۔ البتہ گاہ گاہ علمی و مذہبی مضامین کے لیے بھی گنجائش نکالی جائے گی۔ تفسیر قرآن کے بعض مناسب و مباحث حصے بھی شائع ہوتے رہیں گے۔

2۔      احباب کرام کو چاہیے کہ حالت سے زیادہ توقع نہ رکھیں۔ اور سر دست ان امیدوں کے ساتھ پیغام کو نہ دیکھیں جو الہلال کے لیے مخصوص تھیں۔ جس وقت تک موجودہ حالت جاری ہے ، میں صرف اتنا ہی کر سکتا ہوں کہ ہر نمبر کے لیے بقدر ضرورت کچھ نہ کچھ مواد مہیا کرتا ہوں۔

3۔      رسالہ میں مقالہ اور مختارات کے علاوہ اس استقنائ اور استفسارات کے ابواب بھی بالالتزام رہیں گے اور ان کے نیچے تمام ضروری سوالات کے جوابات درج ہوتے رہیں گے جو اس وقت خطوط کے ذریعہ مستفسرین تک ہی محدود رہتے ہیں۔

4۔      ہر تحریر کا ایک موضوع اور مقصد ہوتا ہے اور اس کا سلوب، اندازِ بیان اسی کے مطابق اختیار کیا جاتا ہے۔ اس رسالے کا مقصد صرف تبلیغ ہے، انشائ و ادب نہیں ہے۔ پس جس قدر مضامین نکلیں گے نہایت صاف سہل، اور آسان زبان میں ہوں گے۔ اس کے اوراق سے الہلال کے لٹریچر کی توقع صحیح نہ ہوگی۔

ان چند مقاصد کے پیش نظر یہ رسالہ جاری ہوا تھا۔ اس کے کل تیرہ شمارے منظر عام پر آئے تھے۔ 16 دسمبر 1921کو اس رسالے کا آخری شمارہ منظر عام پر آیا۔ اس کے بعد یہ بند ہو گیا۔ اس کے بند ہوجانے کے پیچھے جو دو بنیادی وجہیں سامنے آتی ہیں ان میں سے ایک 10دسمبر 1921کو مولانا ابوالکلام آزاد کی گرفتاری اور دوسرے مدیر پیغام ’’عبد الرزاق ملیح آبادی‘‘ کو دوسال کی سزا کا اعلان۔ ظاہر ہے جو دو اہم قوت اس رسالے کو اپنے دم پر نکال رہے تھے ، انھیں ہی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا تو اس کا بند ہو جانا ہی ممکن تھا۔اس رسالے میں ’’پیغام‘‘ عنوان کے تحت مولانا ابو الکلام آزاد کی تحریریں یقیناً ان کی ہمت کی واضح مثال تھیں۔ پہلے شمارے میں اس عنوان کے تحت انھوں نے اغراض و مقاصد کو بیان کیا تھا اور آخری شمارے میں مولانا ابو الکلام آزاد کے کاغذات سے جو تحریر دستیاب ہوئی تھی، اسے ’’پیغام‘‘ کے تحت اسی طرح شائع کر دیا گیا۔ اس تحریر کے ابتدائی چند جملے ملاحظہ ہوں:

’’آج 8دسمبر سنہ 1921کی صبح ہے، کل شام کو مجھے قابل وثوق ذرائع سے اطلاع مل گئی کہ گورنمنٹ بنگال نے ویسرائے کے مشورہ کے بعد میری اور مسٹر سی- آر- داس کی گرفتاری کا فیصلہ کر لیا ہے، میری نسبت گورنمنٹ بنگال کا ارداہ یہ ہے کہ اگر میں گیارہ تک کلکتہ سے باہر نہ گیا تو مجھے گرفتار کر لے گی، لیکن اگر میں بدایوں کے جلسۂ جمعیۃ العلمائ کے لیے چلا گیا تو اس کے سر سے بلا ٹل جائے گی۔ اور مسٹر داس گرفتار کر لیے جائیں گے۔ ‘‘               (پیغام، شمارہ نمبر 13، ص4)

درج بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انگر یز حکومت کو اس بات کا خدشہ تھا کہ مولانا ابو لکلام کو یا تو بنگال سے باہر کر دیا جائے یا پھر گرفتار کر لیا جائے۔دونوں ہی صورتوں میں اسے اپنی حکومت کی مضبوطی نظر آرہی تھی۔اور اسی کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا تھا ۔ با لآخر انگریز انھیں گرفتار کرنے میں تو کامیاب ہو گئے ،لیکن اس کا نجام اتنا سنگین بر آمد ہوگا ،اس اندازہ بھی انگریزوں نے نہیں کیا تھا۔کیونکہ انگریزوں نے جسے اپنی مضبوطی اور ہندوستانیوں کی کمزوری سمجھا تھا،وہ الٹا پڑ گیا۔اور ان کی مضبوطی ہی ان کی کمزوری بن گئی۔مولانا ابوالکلام نے آزادی ہند کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔اس جذبے کو کیا کہیں گے کہ انہیں یہ خبر مل چکی ہے کہ اب گرفتار کر لیا جائے گا۔ایسی حالت میں انھو ں نے جس ہمت کا مظاہرہ کیا اس کا اندازہ درج ذیل اقتبا س سے کیا جا سکتا ہے:

’’مسلمانوں میں خاص طور پر التجا کروں گا ،کہ اپنے اسلامی شرف کو یاد رکھیں ،اور آزمائش کی اس فیصلہ کن گھڑی میں اپنے تمام ہندوستانی بھائیوں سے آگے نکل جائیں ۔اگر وہ پیچھے رہے تو ان کا وجود چالیس کروڑ مسلمانان عالم کے لیے شرم و ذلت کا ایک دائمی حصہ ہوگا۔

میں مسلمانوں سے خاص طور پر دو باتیں اور بھی کروں گا،ایک یہ کہ اپنے ہندو بھائیوں کے ساتھ پوری طرح متفق رہیں ،اور اگر ان میں سے کسی ایک بھائی یا کسی ایک جماعت سے کوئی نادانی کی بات بھی ہو جائے تو اسے بخش دیں اور اپنی جانب سے کبھی کوئی ایسی بات نہ کریں ،جس سے اس مبارک اتفاق کو صد مہ پہنچے۔دوسری بات یہ ہے، کہ مہاتما گاندھی پر پو ری طرح اعتماد رکھیں اور جب تک وہ کوئی ایسی بات نہ چاہیں(اور وہ کبھی نہ چاہیں)جو اسلام کے خلاف ہے،اس وقت تک پوری سچائی اور مضبوطی کے ساتھ ان کے مشوروں پر کاربند رہیں ۔‘‘    (ایضاً۔ص5-8)

درج بالا اقتباس سے مولانا آزاد کی ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں سے جس درد اور یگانگت کا اظہار یہاں کیا گیا ہے اس سے زیادہ دردناک صورت حال تقسیم ملک کے وقت ہوئی تھی اور ان کا وہی درد جامع مسجد سے دی گئی تقریر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ پیغام سے پہلے مولانا آزاد نے جتنے بھی اخبارات ورسائل نکالے یا وابستہ رہے، اس وقت تک وہ سیاست سے واستبہ نہیں تھے۔ اس لیے اس کے ’’پیغام‘‘ کے مقاصد میں انھوں نے ذکر کیا تھا کہ اس میں البلاغ کا سا لٹریچر نہیں دیکھنے کو ملے گا۔ ظاہر ہے کہ البلاغ سے پیغام تک میں صورت بہت حد تک بدل چکی تھی۔ ویسے پیغام میں مولانا آزاد کی جو بھی تحریریں شامل ہیں ،اسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا آزاد نے ہندو مسلم اتحاد پر کس قدر زور دیا تھا۔ کیوں کہ اوپر دیے گئے اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے انھوں نے جو باتیں بطور خاص کہی تھیں، اس میں پہلی بات ہی یہ تھی کہ ’’اپنے ہندو بھائیوں سے پوری طرح متفق رہیں۔‘‘ اور دوسری بات ’’مہاتما گاندی کا پوری طرح اعتماد کریں۔‘‘ ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسا پیغام تھا جسے وقتی طور پر تو برتا گیا لیکن دھیرے دھیرے اتحاد و اتفاق کو سیاسی لوگوں نے جس طرح سے کمزور کیا ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اور یہ سلسلہ اتنا مضبوط ہو گیا ہے کہ بسا اوقات ایسا لگتا ہے کہ جسے مولانا آزاد نے ’’اپنے ہندو بھائیوں‘‘ سے خطاب کیا تھا، اب وہ بھائی نہ رہ کر دشمن کی سی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ہندو مسلم دونوں میں جس طرح سے نا اتفاقی پیدا ہوئی ہے ، اس صورت میں ایسے ہی نتیجے کی امید تھی۔ پیغام کے تعلق سے ابو سلمان شاہ جہاں پوری نے لکھا ہے:

’’پیغام اگر چہ بند ہوگیا اور شاید اس وقت اس کی بندش پر کسی نے افسوس نہ کیا ہو اور مورخ کی آنکھ سے اس کے غم میں کوئی آنسو نہ ٹپکا ہو لیکن آج اس کے مقصد اجرا اور مضامین پر نظر پڑتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک عظیم الشان صحیفہ تھا اور آج وہ قومی تاریخ کے ایک دور اور تحریک خلافت اور ترک موالات کے حوالے سے قومی و ملی تاریخ کا بہت بڑا ماخذ ہے۔ قومی تاریخ میں تین ماہ کی مدت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی لیکن کبھی ایک دن میں برسوں میں پھیلی ہوئی تاریخ پر بھاری ہوتا ہے۔ پیغام کے تین ماہ تو بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ تحریک خلافت اور ترک موالات نے ہماری تاریخ پر بڑے گہرے اور دور رس اثرات ڈالے۔ تحریک خلافت سے قومی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ اس دور کے تاریخ سازوں میں پیغام کا حصہ ہے۔‘‘

(مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافت، ابو سلمان شاہ جہاں پوری، ادارۂ تصنیف و تحقیق، پاکستان، 1989،ص159)

درج بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغام بظاہر تین مہینے تک ظاری روشنی دی،لیکن اس روشنی سے لوگ فائدہ اتھانے والے لوگ اب تک فائدہ اٹھارہے ہیں۔پیغام کے لئے مولانا آزاد نے جو اصول بنایا تھا اس پر وہ قائم بھی رہا۔کیونکہ ہر تحریر کا ایک موضوع اور مقصد ہوتا تھا۔اور اس کااسلوب اسی کے مطابق اختیار کیا جاتا تھا۔چونکہ اس رسالے کا مقصد صرف تبلیغ تھا،انشا اور ادب نہیں۔اور پیغام کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اڈیتر کے سامنے یہی اصول اہے ہوں گے۔کیونکہ اس کے مضامین صف اور سہل زبان میں ہی ہیں۔چونکہ مولانا آزاد دور اندیش تھے،اور وقت کے حالات پر ان کی گہتی نگاہ تھی،اس لئے وہ سمجھ گئے تھے کی موجودہ زمانے میں کون سی چیز اور کون سا اسلوب زیادہ مفید ہے۔اور پیغام اسی اصول کا ترجمان تھا۔پیغام صرف پیغام نہ تھا،بلکہ اس کے مضامین کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے اندر کس طرح کا مواد سمیٹے ہوئے ہے۔اور مولانا آزاد کا بے خوف کام کرنا ،اور اپنی جرأ ت کا مظاہرہ کرنا،پیغام میں شامل مولانا آزاد کے مضامین سے اندازہ ہوتاہے۔چند مہینے نکلنے والا یہ رسالہ ،تقریبا ایک صدی گزرنے کے پاس ہے،آج بھی اس کی اہمیت اور مولانا آزادکا بے خوف لکھنے کا انداز لوگوں کو اپنی جانب توجہ کرائے ہوئے ہے۔اور کسی بھی رسالے یا اخبار کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اپنا اثر دیر تک قائم رکھے۔مولانا آزاد کا یہ’’پیغام‘‘اس کی دلیل ہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

مولانا ابو الکلام آزادمولانا آزاد
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت اور شاعری – محمد وسیم
اگلی پوسٹ
مسلم نشاۃ ثانیہ کے عظیم قائد:ابولکلام آزاد (1888-1958)/ جناب کرمیندوشِشِر – ترجمہ: ڈاکٹر عبدالسمیع

یہ بھی پڑھیں

گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

جولائی 26, 2025

نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا...

فروری 1, 2025

لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو –...

جنوری 21, 2025

اردو کی زبوں حالی – ماریہ غزال

جنوری 18, 2025

مظفر فہمی “پر ایک طائرانہ نظر- ڈاکٹر منصور...

جنوری 6, 2025

دار المصنفین – ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

اکتوبر 8, 2024

دارالمصنفین کی مالیات کا مسئلہ : کیا کوئی...

اکتوبر 7, 2024

سچ، عدم تشدد اور مہاتما گاندھی – سید...

اکتوبر 3, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں