اردو شعر و ادب میں جدید (تر) نسل سے متعلق رجحانات و مسائل پر ’’افکار ملی‘‘ کے تازہ شمارہ فروری ۹۴ء میں عطا عابدی کا ایک مبسوط و مربوط مضمون نظر سے گزرا۔ اس میں زیادہ تر اقتباسات سے کام لیا گیا ہے۔ مضمون نگار نے نہایت ہی چالاکی اور دیدہ وری سے کام لے کر بین السطور میں اپنی باتیں کہہ دی ہیں۔ اس مضمون میں کئی اہم نکتے ابھر کر سامنے آئے ہیں جو دلچسپ بھی ہیں اور بے لاگ بحث کے متقاضی بھی۔
جمال اویسی کے بقول: ’’نئی نسل پر اثر تب ہو جب اسلاف کوئی بڑا کارنامہ چھوڑ جائیں۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘‘ جب آدمی کے اندر کسب فیض کی صلاحیت مردہ ہوجاتی ہے تب ایسے غیرمعقول تاثرات ذہن میں اُبھرتے ہیں۔ جناب والا نے ’’اسلاف‘‘ کی عہد بندی نہیں کی ہے، لہٰذا اس کے ذیل میں ملا وجہی، ولی، شاکر ناجی، قائم، آبرو… سودا، ذوق، آتش، غالب، ظفر، آزاد، حالی، شبلی، اقبال، جوش… اور بھی کئی دوسروں کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ قارئین واقف ہیں کہ ہر عہد میں غالب کے شعری کارنامہ کی اہمیت برقرار رہی ہے۔ آج بھی برمحل اشعار انہی اسلاف کے پیش کئے جاتے ہیں نہ کہ نئی نسل کے۔ ذہن میں جو سیمابی کیفیت اور انتشار ہے وہ اسے ’’غور و فکر‘‘ کے لیے کسی مقام پر ٹھہرنے نہیں دیتا، ورنہ غور کرنے کے مقام آتے ہی رہتے ہیں ؎
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
قاموس اور لفظیات کو سودا نے عروج بخشا، آتش، درد اور اصغر گونڈوی نے تصوف کی لو کو تیز کیا اور شاعر مشرق علامہ اقبال نے جذبۂ حب الوطنی سے چل کر تیغ خودی کو آبدار کیا جو امت مسلمہ اور ربوبیت و الوہیت کی تفسیر کہی جاسکتی ہے۔ کیا اقبال نے بھی کوئی کارنامہ نہیں چھوڑا اور ان کے یہاں بھی غور و فکر کے موضوعات کا فقدان ہے؟ اگر ایسی سوچ ہے تو اسے انتہا پسندی پر محمول کیا جاسکتا ہے۔ ان کے فارسی کلام کو چھوڑیے، کیا نئی نسل کے سامنے بانگ درا، ضرب کلیم، بال جبریل، ارمغان حجاز (اردو) کی حیثیت ’’ڈسٹ بن‘‘ سے آگے کچھ نہیں؟
شاعری سے ہٹ کر نثر کے میدان میں، مقالات و مضمون نگاری بلکہ خطوط نگاری کے میدان میں بھی اسلاف کا دفتر ہی وقیع و بسیط ہے۔ اب اگر کسی کو ’’غبار خاطر‘‘ اور ’’عود ہندی‘‘ میں دلچسپی نہ ہو تو اس کا کیا علاج ہے؟
حقانی القاسمی کا خیال ہے ’’بزرگ تر نسل شاید ’’بانجھ ادب‘‘ کی تخلیق میں مصروف ہے۔‘‘ اس جملے میں ابہام ہے۔ بزرگ تر نسل سے کسی کی نشاندہی نہیں ہوپا رہی ہے۔ آخر یہ بزرگ تر نسل کون سی نسل ہے؟ میں سمجھتا ہوں یہ ڈگری کی تقسیم توجیہ سے خالی ہے۔
شاہد عزیز رقم طراز ہیں: ’’یہ جدید تر نسل کیا ہے؟ اب تک کتنی نسلیں اردو ادب میں آچکی ہیں؟ ادب میں تو دور چلا کرتے ہیں‘‘ بے شک نسل سے کسی عہد کی شناخت نہیں کی جاسکتی۔ یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ علی سردار جعفری ترقی پسند دور کے شاعر و ادیب ہیں یا یہ کہ شمس الرحمن فاروقی جدیدیت کے علم بردار۔ مگر جب یہ نئی نسل بوڑھی ہوجائے گی اور اس وقت ایک دوسری نئی نسل تیار رہے گی تو کیا یہ کہا جائے گا کہ جمال اویسی نئی نسل کے شاعر و ادیب ہیں۔ کیا اس وقت کی نئی نسل منہ نہ چڑھائے گی؟ یہ سب لایعنی گفتگو ہے۔ آج جس نسل کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے، اس کا کہنا ہے کہ وہ کسی ’’ازم‘‘ تحریک سے واسطہ نہیں رکھتی ہے۔ یہ اچھی بات ہے۔ کھلا ذہن، کھلی سوچ، کھلا ادب۔ دراصل آج جس دور میں ہم ادب تخلیق کررہے ہیں اس کے زندہ و تابندہ ہونے کا جواز بھی یہی ہے۔
یہ اور بات ہے کہ واضح منشور نہیں ہے۔ وابستگی اور حد بندی سے متعلق جناب خلیل الرحمن اعظمی فرماتے ہیں:
’’نئی نسل‘‘ کی آواز جس طرح فضاؤں میں گونج رہی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ نامعلوم وابستگی اسے زندگی کے نامیاتی تسلسل سے الگ کردے اور وہ خلا میں بے جان ذروں کی طرح معلق رہ جائے۔ یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے کہ اس سائنسی عہد میں جو نسل شعر و ادب تخلیق کررہی ہے، اس کا ذہن وسیع کینوس کا حامل ہے نیز اس میں تجزیاتی مادہ بھی موجود ہے۔ اس نوعیت سے اس نسل میں ندرت فطری طور پر آگئی ہے۔‘‘
یہ بھی بحث طلب موضوع ہے کہ ندرت کس شعبہ زندگی میں پیدا ہوئی ہے۔ مظفر حنفی کا ایک شعر یاد آرہا ہے ؎
عظمت سے ہٹ کے ندرت وجدت کو ناپئے
ہم اور چیز، غالب و میر و فراق اور
جناب مظہر امام کے انٹرویو کا ایک اقتباس یوں ہے:
’’تیسری نسل (مراد ترقی پسند و جدیدیت کو رد کرنے والی نئی نسل سے ہے) کا نصب العین یا رویہ ابھی بہت واضح شکل میں سامنے نہیں آیا۔‘‘
میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ’’تیسری نسل‘‘ کی مہر ثبت کرنا بھی عجیب بات ہے۔ آخر ترقی پسندوں سے نسل شماری کی زحمت کیوں کی گئی ہے۔ ان لوگوں نے جنہوں نے اس سے قبل شعر و ادب میں کارہائے نمایاں انجام دیے، کیا ان کا تعلق کسی ادبی نسل سے تھا ہی نہیں، اور اگر تعلق تھا تو کس نسل سے تھا؟ اگر اسے تیسری نسل تسلیم کر بھی لیں تو کیا اس کے بعد عہد شناسی چوتھی، پانچویں… وغیرہ نسلوں سے ہوتی رہے گی؟ یہ طے کرنا کارمحال بھی ہے اور فعل عبث بھی۔
جناب ارشد عبدالحمید کا بیان بھی توجہ طلب ہے۔ مگر صرف اس اقتباس پر توجہ دلانا چاہتا ہوں:
’’یہ نسل ذات سے مخاطب ہے مگر خود کلامی اور مریضانہ ابہام یا تنہائی کے مرض کی شکار نہیں۔‘‘
ابہام تو اسی جملے میں پیدا ہوگیا ہے۔ آخر یہ نسل کس کی ’’ذات‘‘ سے مخاطب ہے؟ اللہ کی ذات سے؟ اپنی ذات سے؟ کس سے؟ اگر اللہ کی ذات سے مخاطب ہے تو اسے فلسفیانہ فکر کہیں گے اور اگر اپنی ذات سے مخاطب ہے تو یہی ’’خودکلامی‘‘ ہے۔ جہاں تک مریضانہ ابہام یا ابہام اور ذکر تنہائی کا سوال ہے، تو اس کی مثالیں بھی بھری پڑی ہیں۔
اس بات کو سب قبول کرتے ہیں کہ جدید تر نسل کے یہاں احساس کرب اور ذکر تنہائی خوب خوب ملتا ہے۔ ناامیدی اور بے وجودی، جنسی ناآسودگی اور رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ ان کی شاعری اور فکشن دونوں میں موجود ہے۔
ارشد عبدالحمید نے لکھا ہے:
’’تو اے ترقی پسندو! اور اے جدیدیو! جدید تر نسل کو اپنے اپنے پالے میں گھیرنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ نئی نسل خود اپنا ذہن، اپنا نظریہ اور اپنا ادبی رویہ رکھتی ہے اور اپنے فیصلے خود کرنے کی طرف گامزن ہے۔‘‘
یہ بھی مضحکہ خیز پہلو ہے۔ اس طرح مخاطب کرنا اور نعرہ لگانا عدم شعور کو واضح کرتا ہے۔ رات میں جب کوئی بچہ کسی تاریک گلی سے تنہا گزرتا ہے تو وہ اپنے اندر کے ڈر کو کم کرنے کے لیے کوئی گیت گاتا ہوا گزرتا ہے۔ شاید ارشد عبدالحمید پر بھی کسی انجانے خوف کا سایہ ہے۔ کون کس کو اپنے پالے میں گھیرنے کی کوشش کررہا ہے۔ نیا ذہن وہ رقیق مادہ ہے جس میں اپنی راہ بنا لینے کی صلاحیت موجود ہے۔ فزکس کا ایک مقولہ ہے کہ Water seeks its own level.
یہ کون نہیں سمجھتا ہے کہ نئی نسل اپنا ذہن، اپنا نظریہ اور ادبی رویہ رکھتی ہے۔ پھر مائک پر کھڑے ہوکر بہ بانگ دہل اعلان کرنے کی ضرورت کیوں آن پڑی؟ اس اعلان سے ترقی پسندوں کے ’’پروپیگنڈہ‘‘ کی بو آتی ہے۔ اسی مضمون میں جناب مظہر امام کا یہ قول غور طلب ہے:
’’ضروری نہیں ہے کہ ایک نسل کے ادیب ایک ہی انداز میں سوچیں اور لکھیں۔‘‘
یہ قول حقیقت اور صداقت پر مبنی ہے۔ ارشد عبدالحمید یہ بھی کہتے ہیں کہ نئی نسل اپنے فیصلے خود کرنے کی طرف گامزن ہے۔ یہ تو اپنے منہ میاں مٹھو بننے کے مصداق ہوا کہ خود لکھیں بھی اور خود ہی خیرو شر کا پہلو بھی تلاش کرلیں۔ واہ جی واہ! مان گئے!!
مذہبی فکر اور ادب کے رشتے پر اچھی باتیں سامنے آئی ہیں۔ اس تناظر میں پروفیسر طلحہ رضوی برق اور جناب طیب عثمانی ندوی کا نظریۂ شعر و ادب مثبت اور مفید ہے۔ اگر اسلام کو ادب سے اور ادب کو اسلام سے احتیاط کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جائے تو یقینا ادب نوع انسانی کے لیے ایک خوبصورت اور فطری ضابطۂ حیات کی تشکیل کرے گا۔ جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اس اقدام سے ادب دقیانوسیت کا شکار ہوجائے گا ان جیسے آزاد خیال ادیبوں اور شاعروں نے شعر و ادب کوہک بٹن، سرکتی جین، چولی، بیڈ شٹ پر بدحواسی کا بوسہ، پیالے کا پانی اور نہ جانے ایسی ہی کتنی عجیب و غریب اصطلاحوں کا گورکھ دھندہ سمجھ لیا ہے۔ مذہب کو ادب سے جوڑنے پر اگر دقیانوسیت پیدا ہوسکتی ہے تو میرے خیال میں مذہب سے دور ہوکر پھوہڑ پن کا مظاہرہ ہی ہوسکتا ہے۔ سماج اور معاشرے کی حقیقی تصویر پیش نہیں کی جاسکتی۔ ٹیگور نے مذہب سے الگ رہ کر نہیں بلکہ مذہب کے قریب رہ کر ہی اپنی فکر کو شعری جامہ پہنایا۔ کہیں دقیانوسیت کا گودام ہوا؟ دراصل اسلامی اور مذہبی عناصر کو شعریت بخشنا حوصلہ مرد ہیچ کارہ نہیں۔ ہنر مندی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس میں پروپیگنڈہ نہیں ہونا چاہیے۔ ورنہ شعریت و ادبیت زائل ہوجائے گی۔ کیا علامہ اقبال کی شاعری دقیانوسیت کی مثال ہے؟
نہ معلوم آزادی کا مطلب کیا تصور کیا جاتا ہے۔ مرکز اصل سے دوری انسان کو دربدری اور بے سروپائی کے سوا کچھ نہیں دے سکتی۔ فائیو اسٹار ہوٹل میں اگر کوئی بڑا شاعر یا ادیب بیٹھ کر چکن اڑاتا ہے اور ادب بھی تخلیق کرتا ہے تو اس ادب پارے میں ایک احساس کی کمی ضرور رہ جائے گی جو انسانیت کا مغز ہے۔ شراب کے نشے میں شعر اچھا تو کہا جاسکتا ہے مگر اس کی بو معاشرے میں تعفن بھی پھیلا سکتی ہے۔ چونکہ شاعر یا ادیب معاشرے کا ایک فرد ہوتا ہے۔ لہٰذا صالح معاشرے کی تشکیل میں اس کا بھی حصہ ہونا ضروری ہے۔
آج کی شاعری سے آج کی نسل کے نوجوان خورشید اکرم نالاں کیوں ہیں؟ ’’ان میں ایک بھی ایسا نہیں ہے جسے پڑھ کر دیر تک جھوما جاسکے‘‘ وہ حق بجانب ہیں۔ آخر یہ شاعری ہے کیا؟ کوئی علم کیمیا یا ریاضی کا فارمولا تو نہیں ہے نا! اس صنف لطیف میں کچھ تو لطافت اور جاذبیت ہو۔ یہ ریاضیہ شاعری کس کام کی؟ ادب اور ادیب کی صورت حال پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر عبدالمغنی شاکی ہیں کہ ادبی کتابوں کو پڑھنے والے کم سے کم ہوتے جارہے ہیں اور پسندیدہ مصنفین کی فہرست گھٹتی جارہی ہے۔ انہوں نے نئے تجربات مثلاً آزاد نظم اور نثری نظم کی طرف بڑھتے ہوئے رجحانات کو بھی مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ گو یہ قول بالکلیہ قابل قبول نہیں ہے تاہم اس میں کلام نہیں کہ کم علم اور نکات شاعری سے نابلد حضرات بھی ادھ کچری نثری اور آزاد نظم نگاری میں ہاتھ پاؤں مارنے لگے ہیں۔ اس غوطہ زنی میں ٹھیکری ہی ہاتھ آئے گی نہ کہ گوہر آبدار ۔
عشرت قادری نے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اردو والوں میں باہمی نزاعات بہت ہیں۔ جو جہاں مسند پر براجمان ہے ہلنے کا نام نہیں۔ ’’من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘ کو عملی جامہ پہنانے کی مشنری خوب کام کررہی ہے۔ نئے لکھنے والوں کو اس صورت حال میں یقینا مناسب جگہ نہیں مل پارہی ہے۔ البتہ جو مکھن لگانے میں ہوشیار ہیں یا ماہر ہیں ان کے لیے مطلع صاف ہے۔ سرکاری و غیر سرکاری اردو تنظیموں میں بقول رونق شہری، گرم پانی سے اردو کی آبیاری کا ڈھونگ کیا جارہا ہے۔ شاہد کلیم نے ایک اہم امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ آج کل انعامات، ادیب کی سیاسی حیثیت کا تعین کرتے ہیں نہ کہ ادبی معیار کا۔ مگر اس طرح کی بے ایمانی اور کج روی پر گرفت کی ضرورت ہے۔ زر خرید ادیبوں اور نقادوں کے چہروں سے نقلی پردے کو نوچ پھینکنے کی ضرورت ہے نہ کہ ’’نئی نسل‘‘ اور ’’ہماری نسل‘‘ کا نعرہ لگانے کی۔
اس دور میں اردو رسائل کے مدیروں کی حالت بہت خستہ ہے۔ انہیں صرف گنتی کے بڑے ناموں کو چھاپتے نہیں رہنا چاہیے۔ آخر نئے لکھنے والوں کو کب اور کہاں جگہ ملے گی؟ کچھ مدیران تو ایسے بھی ہیں جنہیں نہ شعری ادب کی پرکھ ہے نہ نثری ادب کی۔ اس لیے وہ بغیر پڑھے اور پرکھے بڑے ناموں کو شائع کیا کرتے ہیں۔ یہ تو وقت کی ستم ظریفی ہے کہ آج ایک بھی اردو ادبی رسالے کا مدیر سیماب، جوش، نیاز فتح پوری، قاضی عبدالودود، کلیم الدین احمد، محمود ایاز جیسا (الا ماشاء اللہ) نہیں۔ کیا یہ خلا پورا نہیں ہوگا؟ شاید نہیں۔ کیونکہ سسٹم ہی بدل چکا ہے۔ کچھ ایسے مدیر ہیں جو اپنے خریداروں کی تحریریں سال میں ضرور شائع کرتے رہتے ہیں۔ بہرحال یہ رونے کا وقت نہیں بلکہ کچھ کرتے رہنے کا ہے۔ ہر آدمی اپنی جگہ ادب کی خدمت خلوص سے کرتا رہے۔ نئی نسل کو اپنا نام اچھالنے کے بجائے خوبصورت کام اور آثارِ بیش بہا پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
(افکارِ ملی دہلی، اپریل ۹۴ء)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

