Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

میرے نالوں کی گمشدہ آواز :  ایک توضیحی مطالعہ – ڈاکٹر مستفیض احد عارفی

by adbimiras دسمبر 13, 2021
by adbimiras دسمبر 13, 2021 0 comment

اردو ادب کی تاریخ میں آزادی سے قبل اور اس کے بعد کا فن پارہ اجتہادی اور انقلابی ہے۔ شدت، پیچیدگی اور انحراف کا معاملہ برق رفتاری سے ابھر کر آیا ہے ۔ اس کا زیادہ سے زیادہ اثر اگر کوئی صنف قبول کیا ہے تو وہ ناول ہے۔ ناول زندگی کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہے۔ کشادگی اور پھیلاؤ اس کا امتیاز ہے ۔ یہ دیگر اصناف کی طرح تنگ دامانی کی شکایت نہیں کرتا اور نہ ہی کائنات اور ذات کے داخلی و خارجی عوامل کو پیش کرنے میں بخیلی سے کام لیتا ہے بلکہ ناول ہر ایک نکتہ اور ہر ایک امور کو فیاضی اور خوش اسلوبی سے پیش کرتا ہے۔ ناول واحد ایک ایسی صنف ہے جس میں خلاؤں اور فضاؤں کی باتیں بالعموم نہیں ہوتی ،بلکہ زمین پر سانس لیتی ہوئی زندگی، شکست و ریخت کا مسئلہ اور مادی وسائل کی باتیں کی جاتی ہیں۔ زندگی زمینی حقائق سے آنکھیں چار کرنے کانام ہے اور آنکھیں چار کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ یہ تو ناول ہے کہ اس کی ہو بہو عکاسی کرنا اور اس سے آنکھیں چار کرنا اپنا ایمان سمجھتا ہے۔ ماورائی کیفیت اور اشاراتی پھسلن سے گریز ہی ناول کی شناخت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے وجود اور اپنی اہمیت کے لئے اسے ہمیشہ سنگھرش میں رہنا پڑا ہے۔ ناول میں ادبی قلا بازیاں اور سماجی تصور کی جو تخلیقی کیف گھلی ملتی ہے وہ کسی دوسرے صنف میں نہیں۔ ناول میں انفرادی شعور، اجتماعی شعور اور زندگی کے تضادات کا نکتہ اس انداز میں در آتا ہے کہ یہ سماج کا بہترین اظہاریہ تسلیم کیا جاچکا ہے ۔ مصروفیت کے اس بھاگم بھاگ میں اگر ناول پڑھا اور لکھا جاتا ہے تو یہ خوش آئند بات ہے ۔ ورنہ ناول کے اوپر ایک دور ایسا بھی آیا کہ ناول نگاری کرائسس کے دور سے گذرنے لگی تھی لیکن کرائسس کے ایوان کو توڑنے میں عبدالصمد ، غضنفر اور پیغام آفاقی وغیرہ لوگ اہم ثابت ہوئے۔ یہ لوگ اب بھی رکے رکے اور سہمے سہمے سے تھے لیکن جب ہلچل ہوئی تو پھر ہوتی چلی گئی۔ واضح رہے کہ مرزا ہادی رسوا سے پریم چند اور پھر تقسیم ہند کے زیر اثر لکھنے والوں کی کھیپ کے بعد ۱۹۷۰ء کے آس پا س یہ کرائسس پیدا ہوئی تھی۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ کرائسس کو توڑنے میں جو لوگ اہم ثابت ہوئے ان کا تعلق بہار سے ہی تھا اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے پہلے بہارمیں ناول نگاری نہیں ہوئی بلکہ سہیل عظیم آبادی، اختر اورینوی ، شین مظفرپوری اور ذکی انور نے بھی ناول لکھے اور رشیدۃ النساء کو تو پہلی خاتون ناول نگار ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس طرح بہار میں اردو ناول نگاری کی ایک اچھی روایت دیکھنے کوملتی ہے لیکن مذکورہ ناول نگاروں کے بعد حسین الحق، شموئل احمد، مشرف عالم ذوقی ، الیاس احمد گدی، شفق، کوثر مظہری، اچاریہ شوکت خلیل وغیرہ وغیرہ ناول نگار منظر عام پر آئے ۔ ان لوگوں سے آج بھی بہتر سے بہتر ناول نگاری کی توقع کی جارہی ہے۔ ان لوگوں نے نہ صرف بہار کے مسائل اور انسانی کرب کی چیختی آوازیں محسوس کیں بلکہ آئے دن رونما ہونے والے واقعات و حادثات اور برقیاتی ذہنوں کی نشاندہی بھی کی ہیں ساتھ ہی سیاسی اتھل پتھل اور فرقہ وارانہ فسادات کی پینٹنگ اس انداز سے کئے ہیں کہ اس میں بیرون بہار کا عکس نظر آتا ہے۔ چنانچہ محمد علیم اس فہرست کی ایک معتبر کڑی تسلیم کئے جاچکے ہیں۔

محمد علیم یوں تو افسانے، ڈرامے اور تراجم وغیرہ میں بھی شناخت رکھتے ہیں لیکن ناول نگاری سے ہی ان کی شہرت اور قدر و منزلت ہے۔ ’’میرے ناولوں کی گمشدہ آواز‘‘ محمدعلیم کا مقبول ناول ہے اس سے قبل’’جو اماں ملی تو کہاں ملی‘‘ سے محمد علیم بحیثیت ناول نگار اپنی شناخت متعین کراچکے تھے لیکن ۲۰۰۲ء میں جب ’’میرے نالوں کی گمشدہ آواز‘‘ منظر عام پر آیا تو ادب کا غافل طبقہ بھی محمد علیم کو ناول نگار کی حیثیت سے جاننے لگا۔

کہانی کا موضوع، بہار کے سیاسی مسائل، الیکشن کی سرگرمی اور معاشرے کا ٹوٹتا بکھڑتانظام سے عبارت ہے۔ یہ سارا منظر آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کی بے اعتدالی، کاہلی اور لاچاری کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اسے ہم تقسیم ہند کا المیہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایک طرف ملک کی اقتصادی حالت کمزور تھی تو دوسری طرف مذہب اور ذات پات کی لڑائی نے اسے اوربھی کھوکھلا کر رکھا تھا۔ بعد ازیں بابری مسجد کی شہادت اور رام جنم بھومی کا مسئلہ نہ صرف گجرات اور نواح گجرات سے منسلک تھا بلکہ پورے ہندوستان میں سیاسی جبر و قدر اور فرقہ وارانہ فسادات کے تناظر میں ابھر کر سامنے آیا تھا۔ ہندوستان کے سیاسی لیڈر شطرنج کے بکھڑے ہوئے مہروں کی طرح اپنی اپنی چالیں چل رہا تھا۔ اس کا واضح اثر بہار اور اس کے گرد ونواح نے بھی قبول کیا۔ پھر یہ کہ کانگریس کے وقت میں بھاگلپور یوں کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ آج بھی قیامت صغریٰ سے کم نہیں۔’’ میرے نالوں کی گمشدہ آواز ‘‘کا ملغوبہ تاریخ کے انہیں جبر سے پیدا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناول کا دائرہ وسیع ہوکر پورے ہندوستان پر منطبق ہوگیا ہے۔ اگر مدرسہ رحیم العلوم ، راجپور گاؤں، نیپال کی سرحد، گنیش پور کی سرحد، لال بگیا ندی وغیرہ وغیرہ مقامات اور لین دین کے مسئلے کو نکال دیا جائے تو یہ ناول پورے ہندوستان کا ترجمان ہوسکتا ہے لیکن جغرافیائی بندشیں ناول کا حسن ہوتی ہیں اسے ہم الگ نہیں کر سکتے ہیں۔ نیک محمد، نجم الدین ،  کریم الدین، رام نارائن، نذر الحسن، سمیع احمد اور جمیل جیسے لوگ بہار کے باہر بھی مل جائیں گے جو آئے دن سیاسی اتھل پتھل میں حصہ لیتے ہیں اور الیکشن کے موقع سے فعال نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ اپنا سب کچھ بیچ کر روٹی خریدتے ہیں اور پھر سیاست کی روٹیاں سیکنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں عوام کی آہ و فغاں اور ان کے نالوں کو کون سنتا ہے۔ چنانچہ محمد علیم بہار کے ایسے ہی لوگوں کی نقاب کشائی کرتے ہیں جو مسلم ووٹ کا استحصال ، ہندوؤں اور مسلمانوں میں آپسی رنجش اور وہابی سنی کی لڑائی کرانے میں اپنا رول ادا کرتے ہیں۔ عورتوں کی آزادی، ماں باپ کے فرائض، طلاق اور خاندانی نظام کے تعلق سے جو مسائل بہار میں پید اہوتے رہے ہیں اس کا واضح اثر ’’میرے نالوں کی گمشدہ آواز‘‘ہے۔ مولوی کی سادہ دلی، تنگ نظری اور قرآن و حدیث کی اندھی پیروی نے مسلمانوں کو وقت کے جبر میں قید کر رکھا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محمد علیم کا دل قوم کے درد سے لبریز ہے۔ ناول میں افسانہ ، آمنہ بیگم، شریفہ بیگم اور شبا کا کردار اپنی اپنی جگہ اہم ہے ۔ یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’افسانہ نے بر آمدے میں آکر جلتی لالٹین کی لو تیز کی، چٹائی بچھائی، ہینڈ پائپ سے پانی بھر کرلائی اور دستر خوان بچھاکر کھانا رکھ دیا پھر اپنی ماں کو پکارتے ہوئے بولی آجائو اماں ۔ آمنہ بیگم بیٹی کی آواز پر کمرے سے باہر نکل کر آگئی۔ ان کے لئے ساری دنیا تاریک تھی کیا اندر کیا باہر۔ کیا روشنی کیا تاریکی، سب کچھ ایک جیسا۔ ادھر روتے روتے ان کی آنکھوں کی رہی سہی روشنی بھی جاتی رہی تھیں۔ جب دونوں ماں بیٹی رات کے سناٹے میں کھانے کے لئے بیٹھی تو اس وقت سارا گائوں سورہا تھا اور۔ دونوں دو سایوں کی طرح  اندھیرے اور روشنی میں زندگی کے معنی تلاش کررہی تھیں۔‘‘

مذکورہ اقتباس نہ صرف ماں بیٹی کے جذبات سے لبریز نفسیاتی حقیقت کی عمدہ مثال ہے بلکہ بہار جیسے صوبہ میں پسماندگی، تنگ نظری اورلاعلمی کی بنیاد پر جو فضائیں ہموار ہوئیں اور اس کی زد میں جو مسئلے پیدا ہوئے اس کی بھی عمدہ مثال ہے۔ آج بھی بہار کے مختلف جگہوں پر اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ بہار میں لڑکیوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ شادی، جہیز اور طلاق کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آمنہ بیگم اندھیرے اور روشنی میں زندگی کے معنی تلاش کرتی ہیں۔ محمد علیم نے اسے ناول کے ذریعہ اس کی بنیادی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ بہار میں تعلیمی پسماندگی بے پناہ ہے۔ خاص کر مسلمانوں میں اور مسلمان لڑکیوں میں تو اس کا فیصد صفر کے برابر ہے۔ محمد علیم کا ذہنی شعور اس بات کی واضح غمازی کرتا ہے کہ ہندوستان پوری دنیا میں گائوں کا دیش ہے اور بہار پورے ہندوستان میں گائوں کا راجیہ ہے۔ اسی لئے بہار کا بیشتر طبقہ کھانا کھالینے اور کھیتوں میں مزدوری کرنے کو ہی زندگی کا اولین مقصد سمجھتے ہیں۔ پھر یہ کہ بہار کا بعض طبقہ ایسا بھی ہے جو حاکمانہ کردارکا حامل ہے۔ یہ لوگ بہت تھوڑے ہیں لیکن عقل سے بہت مضبوط ہیں۔ یہ جب جس کو چاہے انگلیوں پر نچاتے ہیں۔ آمنہ اور افسانہ کا معیار، ان کا گھریلو ماحول، میکے اور سسرال کی زندگی اور ان کی سماجی نفسیات پر تعلیمی پسماندگی کا لیبل ہے اس طرح کے لوگ کبھی بھی معاشی اعتبار سے مضبوط نہیں ہوسکتے۔ آرزوئوں اور تمنائوں سے باہر جھانکنا ان کا مقدر نہیں۔ یہ لوگ معاشی، سیاسی اور تعلیمی کرم فرمائوں کی بے توجہی کے شکار ہیں جو صرف اپنا گھر اور اپنا تن دیکھتے ہیں۔ اس طرح کے چھوٹے چھوٹے نکتے محمد علیم کی گرفت میںہیں جو آئے دن بہار میں اجتماعی مسائل کو ہوا دیتے ہیں۔ حقیقت میں نیک محمد کا گھرانہ یہاں کے کھردرے ماحول کی عریاں تصویر پیش کرتاہے جہاں سے نہ صرف الیکشن کی سرگرمی، فرقہ وارانہ فسادات اور مسلمانوں کی زبوں حالی کا پتہ چلتا ہے بلکہ ایک عام زندگی کی آسائش اور رہائش کا ادراک بھی ہوتا ہے۔ محمد علیم خاموش تماشائی کی طرح انگشت بدنداں ہیں کہ آخر اس سب کے باوجود کرم فرمائوں اور عہدے داروں کو احساس کیوں نہیں ہوتا۔ بار بار محمد علیم نے برہمنوں ، بھومیہاروں ، کلواروں اور راجپوت جیسے لوگوں کا تذکرہ سیاسی اور سماجی مسئلوں کے درمیان اس طرح کئے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے کہ دنیا آج بھی افسر شاہی کے چنگل میں ہے۔ لوگ جب جو چاہے کر واسکتے ہیں۔ سیاسی روٹی سینکنے والے ، بھرشٹاچار کی تبلیغ کرنے والے اور تھانیداروں کو کمزور کرنے والے انہیں لوگوں کی مدد سے اپنا الو سیدھا کرتے ہیں جو آئے دن مذہب اور ذات پات کے نام پر دنگا فساد کرواتے ہیں۔ کبھی مندروں کو نشانہ بناتے ہیں تو کبھی مسجدوں کو۔۔۔۔۔بہار کے سماجی مسئلوں میں تعلیمی پسماندگی ، غریبی، بے بسی اور مفلسی کو امتیاز حاصل ہے۔ یہاں کے لوگوں کو قدم قدم پر اپنی آرزوؤں اور تمنائوں کا خون بہانا پڑتا ہے۔ مثال کے طو ر پر یہ اقتباس دیکھئے:

’’وہ ہار مان کر ماں کے بے حد اصرار کے بعد غسل خانے چلی گئی۔ غسل خانہ میں تین طرف سے ٹاٹ کھڑی کر دی گئی تھی اور سامنے پٹی سے پردہ کردیا گیا تھا۔ ہینڈ پائپ سے پانی بھرو اور اندر لے جائو پھر چار پانچ اینٹ ڈال کر بنائی گئی فرش پر بیٹھ کر نہا لو۔ ‘‘

کردارنگاری کے تعلق سے محمد علیم کامیاب ہیں وہ اپنے کردار میں ڈوبتے اور ابھرتے رہتے ہیں خواہ وہ نسوانی کردار ہو یا مردانہ کردار یہی وجہ ہے کہ اس کا ناول ایک ایسے ذہن کی غمازی کرتا ہے جو سوچتا ہے ، تجزیہ کرتا ہے اور پھر آگے کی جانب قدم بڑھاتا ہے۔ یہ التزام فطری بھی ہے اور ذاتی بھی پھر یہ کہ امیروں اور بڑے بڑوں کی نقالی میں عوام اس قدر آگے ہوچکے ہیں کہ ان کا آنسو پوچھنے والا کوئی بھی نہیں ۔ اصل میں محمد علیم کو اس بات کا احساس ہے کہ بہار کے لوگ گائوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی نگاہیں چمکتی اور تبدیل ہوتی ہوئی دنیا سے خیرہ ہیں۔ یہ لوگ پگھلتے ہوئے برف کی طرح پل پل اور لمحہ لمحہ سیاسی سمندرمیں قلابازیاں کرتے ہیں اور جب کچھ بس نہیں چلتا تو خود کومختلف طبقوں ، بولیوں اور رسموں میں محبوس مذہب و مسلک اور تہذیب و ثقافت کا رونا روتے ہیں۔ بہاری لوگوں کی یہ عجیب وغریب مجبوری ہے جسے محمد علیم جیسا فنکار محسوس کرتے ہیں ۔ محمد علیم اپنے کردار کی تشکیل میں اصل سے غافل نہیں ہوتے ۔ یہی وجہ ہے کہ بہار کا وہ کردار بھی ’’میرے نالوں کی گمشدہ آواز‘‘ میں سانس لیتے ہیں جو آبادی کے لحاظ سے پچیس تیس فیصد ہیں۔ لیکن بے روز گاری اور بے یار و مددگار ی میں زندگی جئے جارہے ہیں۔ ان بے روزگاروں کا مداوا سرکاروں سے بھی نہیں ہوتا ایسے میں غیر سماجی لوگ ان کی پرورش کرتے ہیں اور اس کا استحصال کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف روز مرہ کی زندگی اثر انداز ہوتی ہے بلکہ شریف او ر معتبر لوگوں پر سے بھی عوام کا اعتبار اٹھتا چلا گیا ہے۔ بے روز گار لوگوںمیں کچھ لوگ پڑھے لکھے ہیں اور کچھ لوگ ان پڑھ ہیں۔ باقی کسی گروہ یا کسی سیاسی لیڈر کی چاپلوسی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مثلاً ذیل کے اقتباسات ملاحظہ کریں یہ لوگ پڑھے لکھے بے روزگار لوگوں کی فہرست میں ہیں:

’’ان تینوں نے گاؤں کے اس مشہور چوک کے کومٹتی ہوئی نام کو اپنے ادبی وقار کے لئے ایک بدنما داغ تصور کیا تھا اور کئی ناموں کی تجویز کے بعد مولانا محمد حسین احمد مدنی صاحب کے نام پر یہ نام تجویز کیا گیا تھا۔ تینوں ہی بے روزگار تھے لہٰذا تینوں نے ہی جیسے تیسے کچھ روپے جمع کرکے یہ بورڈ لگوایا تھا۔ ‘‘

’’ڈاکٹر اس وقت چادر اوڑھے اپنے کلینک میں بیٹھا ہوا تھا اور اس کے دو تین حواری باتوں میں مشغول تھے ان میں معین اور قاسم شامل تھے۔ قاسم ان کانیا کمپائونڈر تھا ۔ وہ محلے کا ہی رہنے والا تھا۔ مولوی تک کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بے کار تھا اور بال بچوں کے گذارے کے لئے بھی محتاج تھا۔‘‘

یہ سارے کردار محمدعلیم کے دیکھے بھالے ہیں۔ جو زندگی کے تضادات کو مہمیز کرتے ہیں۔ یہ تضادات سماج کے لئے رحمت بھی ہے اور زحمت بھی۔ محمد علیم اس بات کو مانتے ہیں کہ مسائل کے مدھم لو کو تیز کرنے میں جہاں سیاسی لیڈران اور بڑے بڑے افسران کا ہاتھ ہوتا ہے وہیں بے بس اور لاچار نوجوانوں کی جماعت اس میں شدت پیداکرتے ہیں۔ چنانچہ بہار میں جے پی آندولن کی گونج مشہور ہے۔ اس کی دھمک آج بھی سنائی دیتی ہے۔ بہر حال محمد علیم کردار نگاری کے عمل سے گذرتے ہوئے ان تضادات کو ’’ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی‘‘ کے تناظر میں تسلیم کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ناول کا نام بظاہر مبہم اور شاعرانہ طرز کا حامل ہوگیا ہے ۔ لیکن یہی طرز قاری کے لئے ایک طلسم ثابت ہوتا ہے جو ناول کو پڑھوانے کی بھرپور طاقت رکھتا ہے۔ بہر کیف محمد علیم موضوع کی مناسبت سے مسائل کو مجموعی رخ دیتے ہیں اور اردگرد کے فضول میں بہہ جانے سے گریز کرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے واقعات اور آپسی مطالبات جو ایک سماج کا اہم حصہ ہوتا ہے کو یکے بعد دیگرے ہار میں موتی کی طرح پیش کرتے ہیں اور یہی ناول کا اختصاص ہے۔

جزئیات نگاری میں محمد علیم کو مہارت حاصل ہے ۔ مہمان کی آؤ بھگت ، تہذیب و ثقافت، چولہا چکی، امور خانہ داری اور خرید و فروخت جیسے جیسے لایعنی نکتے بھی محمد علیم کی آنکھوںمیں جمے رہتے ہیں ۔ حد تو یہ کہ کھانا بناتے وقت چولہے کی دھواں سے اگر لڑکی کاکاجل گیلا ہوتا ہے تو اسے بھی محمد علیم محسوس کرتے ہیں ۔ ذرا تصور کیجئے کہ ان لایعنی نکتوں کے بغیر زندگی کس قدر بامعنی ہیں۔۔۔۔؟ بہار میں مسئلوں کی کمی نہیں ہے لیکن محمد علیم کو اس بات کا احساس شدت سے ہے کہ بہار میں مسئلے کی بنیاد چولہے چکی، امور خانہ داری اور گھر میں جوان لڑکیوں کی دستک سے ہے۔ جس کی گونج ایوانوں اور شاہراہوں پر بھی سنائی دیتی ہے۔ یہاں بمبئی ، میرٹھ اور سورت کی طرح نہ کوئی کارخانہ ہے اور نہ ہی دہلی ، کلکتہ ، بنارس اور لکھنو کی طرح کوئی یونیورسیٹی ۔ ایسے میں پسماندگی ، تنگ نظری، سیاسی الہر پن اور مزدور طبقے کے لوگ پیدا ہوتے ہیں تو پھر بہاریوں کو رونا نہیں چاہئے ۔ بلکہ اس کا مداوا کرنا چاہئے۔ محمد علیم نے اپنے نالوں کی گمشدہ آواز کی جستجو میں بہت دور نکل آتے ہیں۔ اس طرح ناول کے بعض مقام پر تشنگی کا احساس بھی ہوتا ہے لیکن اس کا مکھوٹہ اس قدر پیارا اور دلکش ہے کہ تشنگی کے اثرات کو بھی زائل کر دیتا ہے ۔ میرا ماننا ہے کہ اگر محمد علیم منظر کشی میں معتبر ہوتے تو پھر یہ ناول بہار کا امرائو جان ادا ثابت ہوتا۔

٭٭٭

Dr. Mustafiz Ahad Arfi

Assistant Professor

Department of Urdu

L.S.College, Muzaffarpur – 842001

Mob: 9955722260

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
جدید ادبی نسل: رجحانات و مسائل – پروفیسر کوثر مظہری
اگلی پوسٹ
غزل – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں