انسان اور معاشرہ کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے جہاں انسان اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے ایک بہترین نسل کو پروان چڑھاتا ہے اور پھر کئی خاندان کے اختلاط سے ایک صحت مند معاشرہ وجود میں آتا ہے لہذا معاشرے میں فروغ پا رہے اعمال کا انسان کی نفسیات پر گہرا اثر پڑتا ہے اور نفسیاتی زاویہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ انسان کو جس چیز سے روکا جائے تو وہ اس کے جلد حصول کے لئے بے چین نظر آتا ہے اور اس کے مثبت و منفی اثرات کو دیکھنے کے لئے تجسس میں پڑجاتا ہے۔
عائشہ یاسین صاحبہ انسان پر معاشرتی ماحول کے اثرات کے متعلق یوں رقم طراز ہیں :”انسان جس معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اس کی شخصیت پر اسی معاشرے کا رنگ غالب آجاتا ہے۔ اگر وہ ایسے معاشرے میں پروان چڑھتا ہے جہاں امن ہے، خوب صورتی ہے، بھائی چارہ ہے تو جو سلوک اس کے اردگرد کے لوگ اس کے ساتھ کرتے ہیں اصل میں وہ سلوک اس کے کردار اور نفسیات کا حصہ بن جاتا ہے اور اگر وہ آنکھ کھلتے ہی ایسے معاشرے کا حصہ بن جاتا ہے جہاں ایک دوسرے کی تذلیل ہوتی ہے۔ بات بے بات پر آواز اونچی اور لغو باتیں کی جاتی ہیں تو یقینا تشدد اور جبر اس کی طبیعت کا حصہ ہوں گے۔ وہ کہیں نہ کہیں امن کا متلاشی ہوگا اور اس تلاش میں وہ خود منتشر رہے گا”.
( معاشرتی نفسیات کی اصلاح، 13 January 2020, nawaiwaqt .com)
ملک میں لڑکیوں کی شادی سے متعلق نیا تبدیل شدہ قانون اسی طرح کے مسائل کی ایک کڑی ہے جہاں سماجی برائیاں عروج پر ہیں۔ جنسی تشدد کا تناسب روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ جنس پرست وحشی درندے اپنی بھوک مٹانے کی خاطر انسانیت سوز کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں تو دوسری جانب کم سن لڑکیاں بھی عشق و محبت کے فتنے میں مبتلا کہیں عصمت دری کی شکار ہو رہی ہیں تو کبھی اپنی جنسی تسکین کی خاطر اپنی عزت نفس مجروح کرنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتیں۔
اب ایسے ماحول میں نیا تبدیل شدہ قانون اگر ایک طرف تعلیم نسواں کے مزید مواقع بڑھانے میں معاون ثابت ہوتا ہے تو دوسری جانب جنسی برائیاں اور اس کے نتیجے میں اسقاط حمل کی صورت میں قتل و غارتگری کے واقعات میں اضافے کا بھی باعث بن سکتا ہے۔
اس قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر اپیکشہ ھاڈولے ہادیہ ای میگزین کی جانب سے منعقدہ گروپ ڈسکشن میں قانون کا منفی رخ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے : ٹیکنالوجی کی ترقی میں اضافے کی بنا پر سن بلوغت میں بھی کمی آئی ہے اور گزشتہ دور کے مقابلے میں لڑکیاں جلد بلوغت کی عمر کو پہنچ جاتی ہیں جس کے نتیجے میں جنسی خواہشات کی تکمیل میں بھی جلدی کرنا ان کی ضرورت بنتا جا رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کی مقبولیت کے نتیجے میں نفسیاتی طور پر جنسی خواہشات کا تناسب بھی بڑھتا جارہا ہے ۔ اب ایسے ماحول میں شادی کی عمر بڑھا کر 21 سال کردینا گویا سماج کو برائی کی طرف دعوت دینا ہے اگرچہ طبی اعتبار سے اس کا بہت زیادہ نقصان نہیں نظر آتا”.
اور اسی طرح اسماء زہرہ صاحبہ اس کا منفی رخ پیش کرتے ہوئے کہتی ہیں ” موجودہ دور میں ملک ہندوستان میں سب سے سنگین مسئلہ حقوق نسواں کے تحفظ کا ہے جو کہ ہندوستانی سماج میں شادی سے عبارت ہے خواہ وہ کسی بھی طبقے سے متعلق ہو جو اس قانون کے نفاذ کے نتیجے میں مزید پریشانی سے دوچار ہوگا جب کہ سماج، جہیز ، لڑکیوں کے اسقاط حمل اور زنا بالجبر کے واقعات سے جوجھ رہا ہو تو ایسے ماحول میں اس طرح کے قوانین کے نفاذ سے حقوق نسواں کی پامالی کے سوا کچھ نہ ہوگا جب کہ جدید تعلیمی ترقی کے نتیجے میں آج خواتین خود انحصاری اور تعلیم یافتہ زندگی بسر کرنے پر آمادہ نظر آ رہی ہیں”.
اسلامی تعلیمات کے مطابق سن بلوغت کے بعد بچوں کی شادی میں جلدی کرنی چاہیے مگر سروے کے مطابق ہندوستانی سماج کا ہر طبقہ کسی نہ کسی صورت میں جلد شادی کا خواہاں ہے اور بین الاقوامی قوانین اور معاشرتی ماحول کے مطابق بھی جلد شادی کے رجحانات دیکھنے کو ملتے ہیں تاکہ حقوق نسواں کا صحیح معنوں میں تحفظ ہوسکے مگر دور جدید میں خواندگی کی شرح میں اضافے کے باعث اس رجحان میں کچھ حد تک کمی آئی ہے اور لڑکیاں خود تعلیمی و عملی میدان میں قدم آگے بڑھانے کی خاطر جلد شادی سے گریز کرتی نظر آتی ہیں مگر بعض اوقات اس کے بھیانک نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اور جب کہ یہ قانون لاگو ہو چکا ہو کہ سن بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد بھی شادی کرکے جنسی تسکین حاصل کرنے میں رکاوٹیں کھڑی ہوں تو نفسیاتی طور پر انسان اسے اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے اس راہ میں پنجہ آزمائی کی کوشش کر سکتا ہے خواہ اس کے لئے خطرناک راہ ہی کیوں نہ اختیار کرنی پڑے۔
موجودہ معاشرتی ماحول کے تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ تبدیل شدہ قانون حقوق نسواں کے تحفظ نام پر عورتوں کے فطری اور آئینی حقوق یعنی حق خودارادیت کا استحصال ہے جہاں اسے اپنی مرضی کے مطابق زندگی کے ہمسفر کے انتخاب کا اختیار نہیں جبکہ اس عمر میں حق رائے دہی کا پورا اختیار حاصل ہے۔ اور یہی نہیں بلکہ یہ قانون ملک میں مزید وحشت وبربریت کا بازار گرم کرے گا جب انسان فطرت سے ہٹ کر زندگی گزارنے کی کوشش کرے گا تو جنسی ہوس کے شکار درندے کبھی زنا بالجبر کے مرتکب ہوں گے تو کبھی لڑکیوں کے ساتھ لہو و لعب کا ماحول گرم کرکے انہیں اپنے دام فریب میں لانے کی کوشش کریں گے تو بعض دفعہ لڑکیاں بھی اپنی جنسی تسکین کی خاطر اپنی عزت و حرمت کو پامال کرنے میں کوئی تامل نہیں کریں گی۔
اللہ ہمارے ملک میں امن و امان قائم کرے اور ہمیں اسلام کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔
ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ، اعظم گڑھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

