ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
ملت مسلمانوں کا گروہ اپنے میل کے لوگ عرف عام میں یہ لفظ امت مسلمہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے چلیں اسی لفظ کے گرد اپنی بات کرتے ہیں ابتداء زمانہ سے ہی یہ ملت مختلف حادثات و مشکلات سے دوچار رہی پر ہمیشہ ایک نئی امید ایک نئے ارادے اور قوت سے جاگی اور چھا گئی پر اب جو موت مسلط ہوئی ہے اس پر اللہ جانے کتنا عرصہ بیت جائے گا اس کے جاگنے میں خیر جہاں ہر طرف الحاد بد دینیت شعائر اسلامی سے بے رخی بام عروج پر ہے وہیں گر ہم اپنے علاقے جس برصغیر کہتے ہیں کی بات کریں تو یہاں شاید اندھیرا زیادہ ہی ہیبت ناک اور تاریک تر ہے اب گر برصغیر سے آنکھیں پھیر لیں تو وادی کشمیر جو اپنی اسلامی علوم کی آبیاری شرافت پاکیزہ اخلاقیات کے سبب اور انسان دوستی امن اخوت کے لئے معروف تھی اب آہستہ آہستہ اپنی ڈگر سے بہک رہی ہے وہ جو اس قوم کا سرمایہ افتخار تھا بھائی چارہ ہمدردی کا کیا ہوا غیر کو چھوڑیں اپنی بات کرتے ہیں جو اللہ کے بندے اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں ان کا حال قابل دید ہے اسلام نے سکھایا تھا کسی کا گریبان پکڑ کر اسے عار نہ دلائیں ہم وہ ہیں کہ ہم نے تو چاک کردیا گریبان کو عفت عصمت کیا ہوئی سوچنے کی بات ہے یہ سب امتیازی اوصاف تھے کہاں گئے
اقبال رحمہ اللہ کے تین اشعار مجھے پسند آئے سوچا انہیں کے آس پاس چند باتیں کہہ دوں اس ملت سے جو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی روش پر جب سے نکلی ہے ذلت کے سوا اس کے ہاتھ کچھ آیا ہی نہیں
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا
اس ایک شعر کی تشریح گرچہ اصحاب فن نے مختلف کی ہوں گئیں پر میں سمجھا کہ اقبال امت مسلمہ کو سمجھا رہے ہیں کہ امت کا ہر فرد قابل رشک ہے ہمیں اپنے ہر صالح فرد کی عزت افزائی اور غیر صالح کو ترغیبی اور اصلاحی کاوشوں کے ذریعے جوڑے رکھنا چاہئے یک و تنہا آپسی عناد حسد و بغض عداوت کینہ پروری اس امت کو توڑ دے گئی اس کا اتحاد و اتفاق کا بلند اور عظیم نظریہ بکھر کر رہ جائے گا تو کیا سبب ہے کہ ہم ایسا سوچنے سے عاجز ہیں حضرت مولوی صاحب عام لوگوں سے متنفر عام لوگ حضرت سے خائف نوجوان نسل دونوں سے خائف علماء نما جاہل ایک دوسرے کو ذلیل کرنے میں محو اور ملت بنیادی عقائد و نظریات سے لاتعلق ہوتی جارہی ہے شاید آپ سمجھ گئے ہوں گئے تو بات یہ کہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا جب تک اسے رسوا نہ کیا جائے
تقدیرِ اُمَم کیا ہے، کوئی کہہ نہیں سکتا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارا
تقدیر امم یا تقدیر ملت کی بات کرنا ہمارے لئے ممکن ہی نہیں ہاں صاحب نظر ہو کوئی علم و عمل کا پیکر ہو کوئی اللہ کی بندگی اور حب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہو کوئی ملت کے لئے کسی کا دل تڑپ رہا ہو جس کی آنکھ نم ہوتی ہو جس کی آہ اس کی تنہائیوں میں ملت کے لئے بلند ہوتی ہو وہ بتا سکتا ہے کہ تقدیر امم کیا ہے اسے کیسے سنوارا اور بگاڑا جاتا ہے ملت کی عزت و افتخار کس چیز میں ہے اور رسوائی و ذلت کیسے اقوام کا مقدر ہوجاتی ہے ہم نے کب سمجھا یہ یا سعی کی سمجھنے کی شاید کبھی نہیں ہم وہ ہیں کہ جب توحید کا ہلکا سا علم ہوا تو توحید کی نشر و اشاعت کے لئے ہم نے ایسی کاوشیں کی کہ حب رسول ﷺ ہمارے دل سے نکل گیا اب کہاں وہ ادب کہ نبی ﷺ کا اسم گرامی زبان پر آیا نہیں کہ آنکھ بھر آئی وہ محبانہ تعلق اب کیا ہوا کیا اب بھی کوئی آنکھ روتی ہے شاید نہیں سبب کیا ہے یہی نا کہ ہم توحید اور حب رسول ﷺ میں توازن نہ رکھ سکے اور یوں ہم نے اپنے لئے رسوائیوں کا سامان خرید لیا ہے ہائے حسرت و یاس کے سوا کچھ ہاتھ آیا نہیں ہمارے
دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا
دنیا کی تمام اقوم آج حق و باطل کے ایسے سخت مقابلہ سے دوچار ہیں جہاں موت اجسام کی نہیں ہوتیں بلکہ افکار و نظریات کو بگاڑا جارہا ہے مختلف اقوام اپنے نظریات کا دفاع کرنے میں محو ہیں
ہر قوم اپنے نظریات افکار سماجی اور معاشرتی اقدار و روایات کے تحفظ و بقا کے لئے برسر پیکار ہے اس سلسلے میں دسیوں مثالیں موجود ہیں پر ایک امت مسلمہ ہے جس کے پاس تہذیب تمدن سماجیات معاشرت وہ کون سے افکار و نظریات ہیں جن پر اسے ھدایات میسر نہ ہوں اس ملت کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا اس کی شریعت نے پاس و لحاظ کیا حل بیان کیا اسے صفائی ستھرائی جیسے احکام بتائے جینے کا سلیقہ سیکھایا اس کی ابتداء اس لفظ اقراء سے کی پڑھو اور یہ پڑھنا صرف دنیاوی فائدہ کے لئے لازم نہ تھا بلکہ فی الدنیا حسنہ و فی الآخرتہ بتایا گیا تھا ہم کیا ہوے کہ ملت اسلامیہ تھکاوٹ سے چور بے دلی اور افکار و نظریات کے جہاں میں ایک ضعیف القوتہ قوم بن کر رہ گئی جس کی کوئی کل سیدھی نہیں رہی ہے کیا ہم نظریاتی طور کمزور ہوگئے ہیں نہیں ہرگز نہیں ہاں ہم نے اقراء کی تعبیر غلط کی ہم نے افکار کو سمجھا ہی نہیں ہم نے سماجی روایات کی طرف توجہ نہیں دی ہم نے معاشرتی مسائل کو اہمیت نہیں دی اس لئے ایسا ہوا ہم نے تو محمد عربی ﷺ کو امام مرشد رہبر قائد تو تسلیم کیا پر صرف مسجد کی حدود تک پر دنیاوی معاملات سماجیات معاشرت اور دنیاوی مسائل میں ان کی قیادت کو تسلیم نہیں کیا ہم نے اپنے اپنے انداز سے یہ مسائل حل کرنے کی سعی کی ہر شخص نے سماجی اقدار و روایات کا مذاق اڑایا اور ہم نے جدیدیت کا نام دیا اسے تو آئے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامو یہی سبب ہے کہ ہم مات کھا گئے ہیں دنیا کی اقوام کے سامنے ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہماری کوئی اوقات ہی نہیں ہمارے ہونے نہ ہونے کا کوئی خاص مسئلہ ہی نہیں کیوں ۔۔ اس کیوں کو ہم نے کبھی سمجھا ہی نہ چاہا بس سمجھانے کے زاویہ بناتے رہے اور یہ ۔۔ کیوں۔۔ اس قدر بگڑ گیا کہ الامان و الامان
بات وادی کشمیر کی پھر سے کرتے ہیں یہاں اسلامی نظریہ اس قدر وسیع اور پختہ تھا کہ بوڑھی خواتین تک آج سے تئیس پینتیس سال قبل پردے میں ہوا کرتی تھیں اب تو خیر سے ہمارے دل سے بے حیائی کا مادہ جیسے ختم ہوچکا ہو اور پردے کی اہمیت کو بھی بدل دیا یہ سوچ کر اس آج سے پہلے نماز روزہ کی طرف خاصی توجہ دی جاتی تھی پر اب تو اللہ ہی حافظ ہے آج سے پہلے حیاء و پاکیزہ مزاجی ہوتی تھی اب دیکھنے کو نگاہ ترستی ہے ہمیں باطل افکار و نظریات سے عناد ہوتا تھا پر اب باطل نظریات ہمارے معاشرے کا حصہ بن گئے ہیں
یوں ہم نے وہ سب آہستہ آہستہ کھو دیا جسے پانے کے لئے یا عام کرنے کے لئے ہمارے اسلاف کی زندگیوں کا آرام و خوشی کا شائبہ تک نہ حاصل ہوا بلکہ قدموں کے رستے زخم تھکاوٹ سے چور بدن وہ قریہ قریہ گئے ہماری ان صالحہ اسلاف سے کیا نسبت صرف باتوں کی حد تک ہے یہ جو ہم نے اپنے صالحہ اسلاف سے تعلق توڑ دیا ہے اسی کا ثمر ہے کہ سکوں دل کے ساتھ ساتھ ہماری تہذیب بھی برباد ہورہی ہے اور ہم ہیں کہ مست نیند میں خراٹے لئے جارہے ہیں یہی سے اقوام کی بربادی کا سفر نامسعود شروع ہوجاتا ہے اس بات کا گواہ قرآنی علوم کا وہ حصہ ہے جس میں سابقہ اقوام کی تباہی و بربادی کا تذکرہ کیا گیا ہے تو کیا سبب ہے کہ ہم سمجھتے ہی نہیں
آئے قوم
اب چند گزارشات اسی تحریر کے سلسلے میں کرنے کی جسارت کرتا ہوں
۱ ہم نے مجموعی طور اپنے سماج معاشرے تہذیب و ثقافت کو اسلامی کے ابلیسی قبضہ میں دینے کے لئے ہر برائی کی ترویج و اشاعت میں حصہ لیا اب ذرا غور کریں کہ کیا ایسی تہذیب و تمدن کے ساتھ اسے کوئی اسلامی کہئے گا یا جن اسلاف سے ہماری نسبت ہے کیا وہ ایسی تہذیبی ثقافتی پستی کو قبول کرتے شاید نہیں
۲ کوئی قوم تب تک فلاح و کامرانی کی راہ کا سفر طے نہیں کرسکتی جب تک وہ اپنے اسلاف سے جڑی ہوئی نہ رہے ایسی اقوام بربادی ہی ہوتی ہیں اسی چیز کے باقی رکھنے کے لئے قرآن کریم میں سابقہ انبیاء اور اقوام کا تذکرہ کیا گیا تاکہ انبیاء کرام کی اچھائیوں اور قوم کی غلطیوں سے اسباق لئے جائیں اور پاکیزہ منزلوں کا تعین کرنا آسان ہوجائے تو کیا ہم اس بارے کبھی سوچتے ہیں کہ شیخ حمزہ مخدومی شیخ العالم جیسے جلیل القدر بزرگان دیں بابا داؤد مشکاتی جیسے محدثین شیخ یعقوب جیسے اصحاب علم کو ہم نے کیوں یا تو فراموش کردیا یا ان کی پاکیزہ اوصاف سے متصف زندگیوں کو داغدار بنانے کی کوشش کی یا پھر غلو کردیا ان کے لئے تو یہ بھی سبب ہوا ہمارے تماشہ بننے کا
۳ آج سے پہلے ہمارے بڑے تو اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں بھی ہمسائیگی میں مقیم لوگوں کو لازمی شریک کیا کرتے تھے کیا ہوا کس نے نفرت و کدورت کے بیچ بو کر ہمارا آپسی بھائی چارہ برباد کردیا جو محبت اخوت ہمدردی کے لئے معروف تھے وہاں کیسے نفرت و کدورت نے اپنی جگہ مستحکم کرلی
۴ مساجد و خانقاہوں پر کسی کی اجارہ داری نہ تھی بلکہ یہ پوری امت کے لئے مقدس جگہیں ہوتی تھی تو کیا پوچھا جاسکتا ہے کہ ان پر قابضین لوگ کس قسم کے ہیں جنہوں نے انہیں بھانٹ لیا ہے آپس میں تو قوم کا کیا ہے قوم کس جگہ پھر متحد رہے گی اب تو خیر سے مبلغین کو روکا جاتا ہے اپنی مساجد اپنی خانقاہوں میں آنے سے تو ان مساجد ان خانقاہوں کی حیثیت کیا اسلامی ہے یہ سوچنا ہم سب کا فریضہ ہے
مساجد و خانقاہوں سے روکنے والے تو مسلمان نہیں ہوتے یہی سلف نے سمجھایا ہے اب جب اپنی اپنی فکر و نظر کی آبیاری کے لئے چار دیواری کو مساجد کا نام دے کر عبادت کی جاتی ہے کیا واقعی یہ مسجد کے حکم میں آتی بھی ہیں کہ جہاں اپنے مخالف فکر کی تذلیل و تحقیر کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا ہے یا مسخرہ پن اختیار کرکے مختلف علماء کا مذاق اڑایا جاتا ہے
۵ علماء کرام جو مختلف طبقہ ہائے فکر کے ہیں ان کے زیر تربیت وہ بدتمیز اور بے ہودہ واعظین جو بڑوں کا احترام کیا خاک کرتے بلکہ وہ تو اسلاف اور جید اصحاب علم کی تذلیل و تحقیر کو فریضہ منصبی سمجھتے ہیں کون ہیں یہ نمونے جن کے علمی میدان میں کوئی خاص پہچھان بھی نہیں بس ان کی ہفوات نے انہیں معروف خطیبوں کی صف میں لاکھڑا کردیا تو آئے قوم کیا تھوڑی سی فرصت ہے کہ اس طرف آپ کی توجہ ہو
باتیں ہزار ہیں شکوے لاکھوں ہیں پر کیا کیا سنائیں ہم اپنی اس لٹی قوم کو اس قوم کو جو اپنی فکر و نظریات کے ساتھ ساتھ بہت کچھ برباد کرگی ہے اور اسے اس بات کا ادراک بھی نہیں تو آئے میری قوم کیوں نہیں جاگ جاتی ہو آپ کیا نہیں ہوسکتا گر تجھ میں ہمت آجائے گر تجھ میں حقائق کا ادراک کرنے کا شعور آجائے بس آئے میری قوم میں دل سے تجھ پر صدقے ہونے کو آمادہ ہوں بس تو سنبھل جا اپنی برباد ہوتی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے لئے مستعد ہوجا اس نفرت و عداوت کے موسم میں محبت و اخوت کی شمع روشن کر دے
میری گزارشات پر تھوڑا سا ہی صحیح پر ایک بار سوچنا لازم
والسلام علیکم
الطاف جمیل شاہ آفاقی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

