بحر ہستی میں صحبت احباب یوں ہے جیسے بروئے آب حباب گردش آسماں میں ہم کیا ہیں پر کاہے میانۂ گرداب بادۂ…
غزل
-
-
اس رنگ سے جو زرد زبوں زار ہیں ہم لوگ دل کے مرض عشق سے بیمار ہیں ہم لوگ کیا اپنے تئیں…
-
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا بے وفا کہنے کی شکایت ہے تو بھی وعدہ وفا نہیں…
-
دل جاتے ہیں دل حالات جب کروٹ بدلتے ہیں محبت کے تصور بھی نئے سانچوں میں ڈھلتے ہیں تبسم جب کسی کا…
-
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے یہ روشنی کے…
-
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا عہد جوانی رو…
-
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے حسرت نے لا رکھا تری…
-
کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں…
-
دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا ساغر کو رنگ بادہ نے پر نور کر دیا مانوس ہو چلا تھا تسلی…
-
بقدر پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا اگر نہ ہو یہ فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا…

