ہندوستانی معاشرہ میں گھر کے ماحول کا اثر اگر سب سے زیادہ کسی پر پڑتا ہے تو وہ گھر کی خواتین ہوتی ہیں کیوں کہ ان کا زیادہ تر وقت گھر کے اندر ہی گزرتا ہے خاص کر گھریلو عورتیں ۔گھر کا ماحول اگر پرسکون ہوتا ہے تو اس کے اثرات عورتوں کی زندگی پر مثبت پڑ تے ہیں اور اگر گھر کا ماحول کشیدہ ہوتا ہے تو اس کے منفی اثرات بھی سب سے زیادہ خواتین پر ہی پڑتا ہے ۔جہاں تک گھر کے ماحول کو خوشگوار ہونے کا سوال ہے اس میں بےشک گھر کا معاشی پہلو بہت نمایاں کردار ادا کرتا ہے ۔اگر معاشی طور پر کوئی بھی گھرانا مستحکم ہوتا ہے یا کم سے کم اتنی آمدنی ہو جاتی ہے کہ امور خانہ داری اور ضروریاتِ زندگی کا خرچ آرام سے پورا ہو جاتا ہےتب تو ٹھیک ہے ورنہ دھیرے دھیرے گھریلو زندگی مشکل ہونے لگتی ہے اور گھر میں ایک طرح سے تناؤ کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے جس کے برے اثرات عورتوں کی صحت اور ذہن پر پڑ تے ہیں ۔جس کی وجہ کر ایک نیا مسلہ صحت کا بھی اس سے جڑ جاتا ہے ۔پھر بیماری اور ڈاکٹر وں کا چکّر پریشانی میں مزید اضافہ کا سبب بن جاتا ہے ۔اس لئے معاشی پہلو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
ابھی کے جو حالات ہیں اس میں کورونا وباء کی وجہ کر بہت سارے لوگ بےروز گار ہو گئے ہیں ،عام طور سے چھوٹے کاروباری حضرات بھی پریشان ہیں گھر کے بجٹ پر مہنگا ئی کا بھی اثر ہے ۔کل ملا کر کہا جا سکتا ہے کہ ملک کی معیشت کا برا حال ہو گیا ہے ۔جس کے اثرات عام طور سے دکھائی دیتے ہیں ۔اور یہ حالات صرف ہمارے ملک کے نہیں ہیں بلکہ عالمی پیمانے پر بھی رونما ہو رہے ہیں۔جس کو ابھی معمو ل پر آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
جہاں تک گھر کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کا سوال ہے اس کی ذمہ داری ہمارے سماج میں مردوں پر عائد ہے اس لئے مرد حضرات اس کے لئے زیادہ جدوجہد بھی کرتے ہیں مگر سماج میں کچھ ایسی بیماری پیدا ہو گئی ہے کہ لوگ محنت اور مزدور ی کرنے والے طبقہ کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور اس کی سماج میں کوئی عزت نہیں حالانکہ وہ طبقہ بھی سماج میں عزت کا اتنا ہی حقدار ہے جتنا دوسرا طبقہ ۔سچ یہ ہے کہ عزت کو ہمیں دولت کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار کے بنیاد پر پرکھنا چاہئے ۔حق یہ ہے کہ عزت کا سماج میں وہ شخص زیادہ حقدار ہے جس کا کردار اچّھا ہو اور جس کے اندر انسانیت اور ہمدردی کا جذبہ ہو۔لیکن عام طور سے مشاہدے میں یہ آتا ہے کہ سماج میں لوگ اسی کی عزت زیادہ کرتے ہیں جس کے پاس مال ہوتا ہے۔یہ مال اس کے پاس کہاں سے آیا ؟حرام یا غلط طریقے سے آیا یا حلال اور صحیح جائز طریقے سے آیا اس پر لوگوں کی نظر نہیں رہتی ہے اور اگر رہتی بھی ہے تو بھی اپنے مفاد کے خاطر اس کے سامنے چاپلوسی کرتے ہیں ۔اکثر یہ دیکھنے اور سننے میں آیا ہے کہ ایک معمولی سی سرکاری نوکری کرنے والا بھی رشوت کی بنیاد پر کافی پیسہ بٹور لیتا ہے اور اس کی زندگی بڑے شاہانہ انداز میں گزرتی ہے ۔یا ایک چھوٹا موٹا آدمی بھی اِدھر اُدھر کر کے اچھا خاصا پیسے کما لیتا ہے اور لوگ اس کے آگے پیچھے کرنے لگتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج ہر کوئی مال و دولت کے پیچھے بھاگتا نظر آتا ہے۔ایک زمانہ وہ بھی تھا جب کئی پیشے سے لوگ صرف اس لئے جڑ تے تھے کہ اس کے ذریعہ سے سماج کی خدمت کرنا چاہتے تھے جس میں سب سے افضل صحت کا شعبہ تھا اور دوسرا میدان علم کا تھا مگر اب اس پیشے میں بھی اکثر لوگ پیسہ کمانے کے لئے آتے ہیں ۔وجہ وہی سماج کی بُری روش ہے۔ (یہ بھی پڑھیں بہار میں تین نئی یونیورسٹیوں کا قیام ایک اچھی پیش رفت – شیبا کوثر )
اس لئے ضروری یہ ہے کہ ہمیں اس روش کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنے معاشی حل کیلئے ہر وہ جائز طریقہ اپنائیں جس سے ہماری ضروریات زندگی کے لئے آمدنی کی صورت نکل سکے اس کے لئے کوئی بھی حلال اور جائز طریقہ اپنا نے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرنا چاہئے بلکہ محنت اور لگن سے اپنی صلاحیت کی بنیاد پر میدان کار زار میں اتر جانا چاہئے ۔اور کسی بھی کام میں شرم نہیں کرنا چاہئے ۔شرط یہ ہے کہ وہ راستہ جائز اور حق ہو ۔اور ساتھ ساتھ دل میں یہ یقین ہو کہ محنت کرنا اور اسباب تلاش کرنا ہمارا کام ہے دینے والا اللّه رب العزت کی پاک ذات ہے ۔اس لئے رزق کے لئے قرآن مجید کی اصل اصطلاح” فضل” ہے یعنی قرآن پاک جو تصور دیتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو جو کچھ ملتا ہے وہ اس کی محنت کا حاصل یا صلہ نہیں بلکہ فضلِ خداوندی ہے۔ قرآن کے نزدیک یہ قارو نیت ہے کہ انسان اس مغا لطے یا زعم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ جو دنیا وی ساز و سا ما ن یا مال ومتاع اسے حاصل ہے اس کا اپنا پیدا کردہ ہے گویا یہ میرے علم و فہم،میری ذہانت ،میری پلاننگ کا نتیجہ ہے ۔قرآن مجید اس کی نفی کرتا ہے اس کی تعلیما ت کے رو سے محنت انسان ضرور کرتا ہے مگر جو کچھ اس کو ملتا ہے وہ سراسر اللّه کا فضل ہے نہ کہ اس کی محنت کا حاصل ہے ۔اس فکر کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس سے یہ ثابت قدم رہے گا ۔اور جو بھی میسر ہوگا اس پر اللّه کا شکر ادا کرے گا ۔اور دل میں سکون نصیب ہوگا ۔ویسے بھی حدیث شریف میں محنت اور خود اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی بڑی عظمت و فضیلت وارد ہوئی ہے ۔مثلاً بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللّه علیہ وسلم فرماتے ہیں "اللّه نے کوئی نبی معبوث نہیں فرمایا جس نے اجرت پر بھیڑ یں نہ چر ا ئی ہوں ۔صحابہ ؓنےسوال کیا اے اللّه کے رسول ؐکیا آپ نے بھی یہ کام کیا ہے ؟اس کا جو جواب نبی اکرم صلی اللّه علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ ہم سب کے لئے بہت اہم ہے اللّه کے نبی صلی اللّه علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ” میں نے چند قرار بط کے عوض مکّہ کے لوگوں کے جانور چرا یا کرتا تھا ۔اس سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی جائز کام اور محنت مزدور ی کرنا ہر گز با عثِ ندامت یا موجبِِ شرم نہیں ہے ۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ آدمی اسراف سے بچے اور راہِ اعتدال اختیار کی جائے ۔بیجا خرچ ایک نہ ایک دن انسان کو یا تو غلط کام کرنے کی راہ پر لے جاتا ہے یا پھر انسان مالی پریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہے اس لئے ہمیں چاہئے کہ معیانہ روی اختیار کر یں ،جس میں ضروریاتِ زندگی بھی پوری ہو اور بیجا عیش پر ستی سے بھی انسان دور رہے ۔تبھی سماج میں ایک توازن بنا رہے گا۔ ورنہ ہم معاشی طور پر ہمیشہ تذبذب کے شیکار رہیں گے ۔
دوسری طرف گھر کی خواتین کو چاہئے کہ وہ معیا نہ روی اختیار کریں بے جا اور فضول خرچ سے بچیں گھر کے نظام میں سلیقگی لائیں گھر کے بجٹ آمدنی کے مطابق ترتیب دیں اور مردوں پر زیادہ مالی بوجھ نہ دیں ۔کفایت شعاری کے ہنر کو برو ئے کار لائیں ۔گھر کے ماحول کو کشیدگی سے بچائیں ۔آپس کے تکرار سے بچیں ۔اس کا اثر آپ کی آنے والی نسلوں پر بھی مثبت ہوگا ۔اور آنے والی نسلوں کیلئے بھی اس میں رہنمائی ہوگی ۔گھر کے خوشگوار ماحول کا اثر بچوں پر بھی بہت زیادہ ہوتا ہے اور عام طور سے بچے ماں سے زیادہ قربت رکھتے ہیں اس لئے اگر ہماری مائیں جن پر بچوں کے تربیت کی ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے وہ ذہنی اور جسمانی طور پر بہتر ہونگی تو بچوں پر بھی بہتر ڈھنگ سے اپنی صلاحیت لگا سکتی ہیں اور بچوں کا مستقبل سنوارنے میں اپنا کردار بہتر ڈھنگ سے نبھا سکتی ہیں ۔
مرد اور عورت زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔اگر دونوں میں توا زن بر قرار رہے گا تو زندگی کی گاڑی بھی آرام و سکون کے ساتھ چلےگی ورنہ زندگی کا سفر پیچدہ تر ہو جائے گا ۔اور زندگی تلخ ہو کر رہ جائے گی۔جس کا ہر لمحہ نئے نئے مسائل کو جنم دے گا ۔
(ختم شد )
شیبا کوثر
( برہ بترہ آرہ ، بہار )
sheebakausar35@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

