اُردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ سارے جہاں میں دُھوم ہماری زباں کی ہے
بزم ِ اُردو قطر (قائم شدہ ۔ اگست ۱۹۵۹)کا اہم فیصلہ
معروف ادب نواز شخصیت حسن عبد الکریم چوگلے سرپرست اعلی منتخب
کرونا جیسی وبا کے سبب طویل عرصے سے پروگراموں کا جو خلا تھا وہ یہاں پُر ہوتا ہوا نظر آیا ۔ قطر جیسے چھوٹے سے ملک میں جب اردو داں حضرات کی تعداد بڑھنے لگی تو آہستہ آہستہ اردو کا ماحول پیدا ہونا شروع ہوگیا ۔ اردو زبان ملک قطر کے مختلف حصوں میں بولی اور سنی جانے لگی۔ جب اس شیریں زبان کی مٹھاس نے یہاں کے ماحول کو اپنی مٹھاس سے اردو زبان کی شیرینی کا ذائقہ بخشا تو ارباب حل وعقد کو اس بات کی فکر دامن گیر ہوئی کہ اس ملک میں اردو زبان کا ایک ایسا درخت لگایا جائے جس کے سائے تلے وقتا فوقتا فروکش ہوا جائے۔ جس سے سماعتوں کو حلاوت وطراوت بھی ملتی رہے اور محبان اردو زبان آپس میں تبادلۂ خیال بھی کریں۔ لہذا اسی خوبصورت فکر اور سوچ کے ساتھ ہندوپاک کی چند عظیم شخصیات نے پیش قدمی کی اور ایک خوبصورت بزم اس مقصد کے تحت سجائی کہ یہ پابندی کے ساتھ سجتی رہے گی اور اپنی شمع سے واردان بزم کو روشن کرتی رہے گی۔اور آخر کار وہ دن آہی گیا اور ایک ادبی تنظیم کی مبارک اساس رکھی گئی۔ یہ تنظیم قطر کی پہلی اردوادبی تنظیم تھی جس کا سفر ۱۹۵۹ میں ’’بزمِ اربابِ سخن‘‘ کے نام شروع ہوا۔ چونکہ یہ اردو کی واحد تنظیم تھی جو قطر کے اردوداں طبقہ کی نمائندگی کرتی تھی لہذا رفقاء کی باہمی مشاورت سے یہ طے پایا کہ اسکا نام ’’بزمِ ارباب سخن ‘‘ کے بجائے کچھ اور رکھا جائے جس سے اس کی قطر اور بیرون قطر مکمل نمائندگی ہوسکے لہذا ۱۹ ؍اپریل ۱۹۷۹ میں اس کا نام بدل کر ’’بزمِ اُردو قطر‘‘رکھ دیاگیا۔
بزم نے اپنے نئے نام کے بینر تلے کامیابی کے ساتھ اپنا علمي و ادبی سفر شروع کردیااور اگست ۱۹۵۹ میں بزم نے قطر میں پہلا مشاعرہ (نعتیہ)منعقد کیا جو بہت کامیاب اور بہترین مشاعرہ رہا یوں بزم پابندی سے اپنی محفلوں کو آراستہ و پیراستہ کرتی رہی اور ترقی کے ساتھ محو سفر رہی۔ مشاعروں کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ایک عرصے بعد ’’بزم اردو قطر‘‘کے زیر اہتمام تقریب استقبالیہ و محفل شعر و سخن کا انعقاد ۲۲ اکتوبر بروز جمعہ ۲۰۲۱ء کو بمقام اسکل ڈیولپمنٹ سنٹر ، السلطہ الجدیدہ، دوحہ میں کیا گیا ۔ جس کی صدارت جناب حسن عبد الکریم چوگلے صاحب(سرپرست اعلیٰ بزم اردو قطر)نے کی ۔بطور مہمان خصوصی جناب عظیم عباس کسی مصروفیت کے سبب شرکت نہ کر سکے ۔مہمان اعزازی کی حیثیت سے جناب گوہر الطاف اور کمال بلیاوی صاحبان نے اسٹیج کو با رونق کیا ابتدائی نظامت بزم کے جنرل سکریٹری احمد اشفاق نے کی انہوں نے اپنی گفتگو میں ۱۹۸۰ میں جو بزم کے ذمہ داران تھے ان کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ قطر میں مشاعروں کی ابتدا بشیر احمد جعفری نے کی ، بزم اردو قطر کے بانی و سرپرست سید عبدا لقوی تھے اور ان کے معاونین آصف بر خیابوترابی،قاضی فراز احمد،صبا شیخانی ، بشیر صحرائی، کیف بٹالوی اور محمد ممتاز راشد کا نام ناقابل فراموش ہے اور اسی سلسلے کو آگے بڑھانے کی درخواست جناب حسن عبد الکریم چوگلے کی جسنے انہوں نے بخوشی قبول کیا۔
ان کے علاوہ دوحہ کی بیشتر تنظیموں کے ذمہ داران نے شرکت فرمائی جن میں بطور خاص ابراہیم خان کمال صاحب ،جناب شاہد خان،جناب شہاب الدین احمد ،جناب محفوظ عالم ،جناب جاوید احمد ، جناب ارشاد احمد ، جناب یونس ،جناب اریب اشفاق ،جناب لیاقت، جناب یاور حسین وغیرہ نے شرکت کرکے مشاعرے کی کامیابی کی منزلوں سے ہمکنار کیا۔
مشاعرے کا آغاز قطر کے وقت کے مطابق ۳۰:۸ بجے شب میں کیا گیا ، جسکی ابتدا قاری سیف الرحمن کی تلات کلام اللہ سے کیا گیا انھوں نے کرونائی وبا کے عرصے میں تین اہم ارکان کی رحلت کا ذکر کیا جن میں بزم کے سرپرست جناب صبیح احمد بخاری ( مرحوم) بھی شامل ہیںاورپروگرام میں شرکت کرنے والے تمام افراد کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ مشاعرے کے آغازمیں مہمان اعزازی کمال بلیاوی کی ایک کتاب کا رسم اجرا بھی کیا گیا ۔
مشاعرے کی باقاعدہ نظامت کے فرائض نائب سکریٹری راقم اعظمی نے انجام دیے اور اظہار تشکربزم کے صدر جناب اعجاز حیدر نے کیا۔شعری نشست میں کل ۱۹ شعراء نے اپنے کلام سنائے۔اس پروگرام کی خاص بات یہ تھی کہ کورونا کے سبب ایک عرصے سے جو خلا پیدا ہواتھا وہ آج پر ہوتا نظر آیا اور لوگ بڑے جوش و خروش سے ایک دوسرے مل کر پروگرام کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہونے پر خوشی کا اظہار کیا۔
کچھ مہینوں پہلے بزم کے روح رواں جناب (مرحوم) صبیح بخاری صاحب کی رحلت نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا تھا جسکا نعم البدل مل پانا آسان نہیں تھا ۔ لیکن بزم کو اللہ نے بہت جلدایک نعم البدل عطا فرما یا ، جودوحہ قطر کی ایک معروف سماجی شخصیت، اردو زبان و ادب سے بے پناہ محبت کرنے والے ،گفتگو کے دوران اپنے شعری شغف کا برملا اظہار کرنے والے، ان سب خوبیوں سے پرے ایک خوبصورت دل کے مالک جناب حسن عبد الکریم چوگلے صاحب نے بزم کے ذمہ داران کی درخواست پر بزم کی سر پرستی قبو ل کی۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ ہم ہر وقت تمام تنظیوں کے ساتھ ہیں اور ہمیں مل جل کراپنے اس کاروان کو آگے بڑھانا ہے اردو زبان کی ترقی میں جو ہو سکے گا ہم کرنے کے لیے تیار رہیں گے، مہمان اعزازی جناب گوہر الطاف نے اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور کمال احمد بلیاوی نے منتظمین کو کامیاب پروگرام کی مبارک باد دی۔
شعراء کے منتخب اشعار مندرجہ ذیل ہیں:
کمال بلیاوی
سکون چین زمانے میں اب بھی ممکن ہے
مگر یہ شرط ہے قانون بس خدا کا چلے
عتیق انظر
ہمارے عہد کا منظر عجب ہے
ندی برسات میں اتری ہوئی ہے
عزیز نبیل
وہ رات ایسی سخت اداسی کی رات تھی
جلتے چراغ خود کو بجھا کر چلے گئے
ندیم ماہر
دوستوں اور دشمنوں میں بنٹ گیا
ذہن پھر بھی سرحدوں میں بنٹ گیا
احمد اشفاق
وہ مری جرات کمیاب سے ناواقف ہے
ہاں وہی لوگ جو گرداب سے ناواف ہیں
منصور اعظمی
مسکراتے ہوئے ہونٹوں پہ نہ جاؤ منصور
درد چہرے پہ نہیں دل میں چھپا رکھا ہے
اعجاز حیدر
آپ کے طرز گفتگو کے طفیل
مجھ کو انداز بات کا مل جائے
سید فہیم الدین
کوئی کمنام سی شئے حاصلات عیب میں ہے
سو یہ جہان یقیں ہے علم غیب میں ہے
قیصر مسعود
اسے خبر ہے اکیلا ہوں میں اسی خاطر
وہ اپنا آپ مرے آس پاس چھوڑ جاتا ہے
ڈاکٹر ندیم ظفر جیلانی
سودائے بد تریں کا مقدر زبان ہے
تم کو ہی راس آئے سفر یہ نشیب کا
اشفاق دیشمکھ
تم احتجاج کو نہ فقط شور سمجھنا
لے ڈوبے گا تم کو ہمیں کمزور سمجھنا
اطہر اعظمی
ہوتے ہیں مستفیض یہاں ان سے خاص و عام
ہیں پاس وہ تو ہوگا نہ بزموں کا انہدام
روئیس ممتاز ۔؛ انہوں نے بہت ہی عمدہ نظم بعنوان ہندوستان پیش کی۔
زوار حسین زائر
یوں مرا ماضی مرے حال میں آجاتا ہے
درد رشتہ ہے خدو خال میں آجاتا ہے
راشد عالم راشد
میں نے جب بھی شکوہ غم کیا نہ سنا کہا چلو ٹھیک ہے
مرا غم بڑھا کے گھٹا دیا ترا شکریہ چلو ٹھیک ہے
راقم اعظمی
باز آجا ہمیں نظروں سے گرانے والے
ورنہ اوقار دکھا دیں گے زمانے والے
ارشد جمال اوراتفاق انمول نے بھی اپنے عمدہ اشعار سے نوازا۔
رپورٹ ؛ابو حمزہ اعظمی
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

