میرٹھ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں آن لائن’’مناظمہ‘‘ کا انعقاد
میرٹھ/ 15جنوری 2022ء
میرٹھ کئی معنوں میں اپنی عالم گیر شناخت رکھتا ہے۔خصوصاً اردو ادب کے تعلق سے میرٹھ کو جہا نگیر شہرت حا صل ہے۔ اسمٰعیل میرٹھی جہاں اپنے اردو قاعدے کے حوالے سے پو ری دنیا میں جانے پہچا نے جاتے ہیں وہیں نظم کے تعلق سے نظیر اکبر آ بادی کے بعد سب سے بڑے نام کے طور پر تسلیم کیا جانے وا لا نام مولانا اسماعیل میرٹھی کا ہی ہے۔ انجمن پنجاب، لاہور کے مناظموں سے بھی قبل اسمٰعیل میرٹھی نے اپنی نظم نگاری سے اردو نظم کے احیاء میں جو کردار ادا کیا وہ نا قابل فرا موش ہے۔یہ الفاظ تھے سابق صدر شعبۂ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی اور معروف شاعرو ادیب پروفیسر خالد محمود کے جو شعبۂ اردو ،چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی ،میرٹھ اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن (آیوسا) کے زیر اہتمام ’’مناظمہ‘‘ پروگرام کے تحت بطور صدر اپنی تقریر میں آن لائن ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں بہت کم ایسے اردو شعبے ہیں جہاں ایسے منفرد ادبی سرگرمیاں ہو رہی ہیں ۔میں فخر محسوس کرتا ہو ں کہ پروفیسر اسلم جمشیدپوری جیسے شاگرد پر جواپنے اساتذہ اور یونیورسٹی کا نام دور دور تک پہنچا رہے ہیں۔میں پروفیسر اسلم جمشید پوری کے ساتھ ساتھ پورے شعبے اردو کو مبارک باد پیش کرتا ہوںجنہوں نے اپنے شعبے کا نام پوری دنیا میں روشن کیا ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاں میرٹھ کے مشہور شاعرنذیر میرٹھی نے اپنی مشہور نظم ’’جگنو ‘‘پیش کی ڈاکٹرشہاب ظفر اعظمی نے اپنی مترنم آواز میں نعت پاک پیش کی ۔اس ادب نما پروگرام کی سر پرستی معروف ادیب عارف نقوی ، جرمنی نے فرمائی مہمان خصوصی کے بطورعالمی شہرت یافتہ پروفیسر مہتاب حیدر نقوی نے آن لائن شرکت کی۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے جب کہ شکریے کی رسم ڈاکٹر شاداب علیم نے ادا کی۔
استقبالیہ کلمات اداکرتے ہوئے پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد نظم کی روایت کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کو ادبی پلیٹ فارم پر لانا ہے۔اسمٰعیل میرٹھی ،قلق میرٹھی، رنج میرٹھی،کے بعد، افسر میرٹھی، ساغر نظامی، روش صدیقی، حفیظ میرٹھی، بشیر بدر، فاروق بخشی اور موجودہ دور میں بھی سید اطہرالدین اطہر،اسرار احمد اسرار ،ڈاکٹر پاپولر میرٹھی اور ادنیٰ عشق آبادی وغیرہ نے اردو شعرو ادب میں اپنی منفر شنا خت قائم کی اور مناظمے کی خوبصورت روایت کو برقرار رکھا ہے۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر مہتاب حیدر نقوی نے کہا کہ مجھے بے حد خوشی ہو تی ہے کہ میرٹھ یو نیورسٹی کا شعبۂ اردو مختلف ادبی پروگراموں کا انعقاد کر کے جہاںادب کے چاہنے والوں کی تشنگی کو دور کرتا ہے وہیں ایسے سبھی پروگراموں سے طلبہ و طالبات کو بھی بڑے پیمانے پر فیض یاب ہونے کا موقع ملتا ہے۔
شرکاء میں ڈاکٹر سرور ساجد (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)، ڈاکٹر قمر سرور صاحبہ(مہاراشٹرا) ، ڈاکٹر پرویز شہریار(دہلی)، ڈاکٹر فرقان سردھنوی، ڈاکٹر اسلم الہ آبادی(الہ آباد) اور محترم نذیر میرٹھی نے اپنی نظمیں پیش کیں۔
اس مو قع پر عامر نذیر ڈار، سید ہ مریم الٰہی ، وارث وارثی، عبدالواحد، دلکش، فیضان ظفر، محمد شمشادوغیرہ موجود رہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

